| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
مرے دل سے لے کر
ترے سنگِ دل تک گماں کی چٹاں اور حقیقت کی سل تک جو آنکھوں سے میری ترے کالے تل تک بُنا تھا محبت کی مکڑی نے جالا زمانے کے ہاتھوں نے وہ تارِ الفت یہاں سے وہاں تک سبھی نوچ ڈالا تو دونوں ہی دل اب رہا ہو چکے ہیں چٹان اور سل بھی جدا ہو چکے ہیں وہ آنکھیں وہ تل بھی فنا ہو چکے ہیں وہ چاہت نہ جانے کدھر کو گئی ہے وہ مکڑی بھی شاید کہیں کھو گئی ہے عظمی جون منقول
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, red, size, فنا, ہاتھوں, کالے, کدھر, گئی, وہاں, لے, چکے, چاہت, نظم, محبت, آنکھیں, تل, تارِ, جون, جانے, جدا, دونوں, دل, سل, سنگِ, شاید |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|