|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,350
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(علی گڑھ 79۔197
آس بر آئی تھی پانی کی مگر روشن رہا خار و خس جلتے رہے ہر بام و در روشن رہا کتنی امیدوں کے لوباں خوشبوئیں دیتے رہے سرخ شعلوں سے جو گھر گھر رات پھر روشن رہا کیسی کیسی قدِّ آدم مشعلیں جلتی رہیں کیسی دیوالی تھی کل، سارا نگر روشن رہا اس کنارے سے بندھی سب کشتیاں جلتی رہیں اور یہ دریا کا کنارہ ، بے خبر، روشن تہا رات کیسا چاند اترا تھا مری انگنائی میں کوئی سایہ تک نہ تھا اور سارا گھر روشن رہا وہ مرا دارالاماں تھا یا تھا جانے کیا عبیدؔ کچھ تو صحرا کے پرے تھا، تا سحر روشن رہا
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (04-01-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوئی سایہ تک نہ تھا اور سارا گھر روشن رھا۔۔۔۔۔۔ واہ۔۔۔۔۔ ۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,350
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پسند کرنے کا شکریہ
|
|
|
|