|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
محفل شعر و سخن یوں تو سجائی رات بھر بے سرے نغمے الاپے ہیر گائی رات بھر جب گئی بجلی اچانک سارے کام ٹھپ ہوئے گالیاں بکتا رہا جورو کا بھائی رات بھر مچھروں نے راگ بھیںبھیںکا سنایا جس گھڑی ساتھ ہم نے بھی دیا تالی بجائی رات بھر ایک پل بھی چین سے سانت نا دیا رات میں صحن میں ہم نے گھسیٹی چارپائی رات بھر شیخ جی بیٹھے رہے اپنی دکاں کو کھول کر ایک دیا روشن کیا اور کی کمائی رات بھر موم بتی کر کے روشن کام اپنے سب کیے خوں جلایا،دل جلایا،جاں جلائی رات بھر کروٹیں لیتے رہے ہم فجر کی ازان تک ماتم بجلی کیا اور دی دہائی رات بھر زندگی بے قیف اور بے رنگ محرم ہو گئی بلبلاتی رہی سارہ خدائی رات بھر (رفیع یوسفی محرم)
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھائی بہت خوب
لیکن متعلقہ سیکشن میں پوسٹ کیا کریں شکریہ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 620
کمائي: 11,259
شکریہ: 366
475 مراسلہ میں 1,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ ہے جناب ۔۔۔
|
|
|
|