| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کھلی آنکھ میں سپنا جھانکتا ہے
کھلی آنکھ میں سپنا جھانکتا ہے وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں مرا تن، مور بن کر ناچتا ہے مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے وہ میرے سب حوالے جانتا ہے میں اس کی دسترس میں ہوں، مگر وہ مجھے میری رضا سے مانگتا ہے کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا کہ میرے گھر کا کچّا راستہ ہے پروین شاکر
__________________
----------
![]() |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کیا کیا دکھ دل نے پائے
کیا کیا دکھ دل نے پائے ننھی سی خوشی کے بدلے ہاں کون سے غم نہ کھائے تھوڑی سی ہنسی کے بدلے زخموں کا کون شمار کرے یادوں کا کیسے حصار کرے اور جینا پھر سے عذاب کرے اس وقت کا کون حساب کرے وہ وقت جو تجھ بن بیت گیا ! پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی
کمالِ ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
رقص میں رات ہے دن کی طرح
رقص میں رات ہے دن کی طرح بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ میرے بستر کی ہر شکن کی طرح چاک ہے دامن قبائےِ بہار میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح بار ہا تیرا انتظار کیا اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے
شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے رنگ ہی غم کے نہیں، نقش بھی پیارے نکلے ایک موہوم تمّنا کے سہارے نکلے چاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے کوئی موسم ہو مگر شانِ خم و پیچ وہی رات کی طرح کوئی زُلف سنوارے نکلے رقص جن کا ہمیں ساحل سے بھگا لایا تھا وہ بھنور آنکھ تک آئے تو کنارے نکلے وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا عشق کے باب میں سب جُرم ہمارے نکلے عشق دریا ہے، جو تیرے وہ تہی دست رہے وہ جو ڈوبے تھے، کسی اور کنارے نکلے دھوپ کی رُت میں کوئی چھاؤں اُگاتا کیسے شاخ پھوٹی تھی کہ ہمسایوں میں آرے نکلے پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا
تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا بچھڑنے والوں میں اک میرا ہمسفر ہی نہ تھا برہنہ شاخوں کا جنگل گڑا تھا آنکھوں میں وہ رات تھی کہ کہیں چاند کا گزر ہی نہ تھا تمھارے شہر کی ہر چھاؤں مہرباں تھی مگر جہاں پہ دھوپ کھڑی تھی وہاں شجر ہی نہ تھا سمیٹ لیتی شکستہ گلاب کی خوشبو ہوا کے ہاتھ میں ایسا کوئی ہنر ہی نہ تھا میں اتنے سانپوں کو رستے میں دیکھ آئی تھی کہ ترے شہر میں پہنچی تو کوئی ڈر ہی نہ تھا کہاں سے آتی کرن زندگی کے زنداں میں وہ گھر ملا تھا مجھے جس میں کوئی در ہی نہ تھا بدن میں پھیل گیا شرخ بیل کی مانند وہ زخم سوکھتا کیا، جس کا چارہ گر ہی نہ تھا ہوا کے لائے ہوئے بیج پھر ہوا میں گئے کھلے تھے پھول کچھ ایسے کہ جن میں زر ہی نہ تھا قدم تو ریت پہ ساحل نے بھی رکھنے دیا بدن کو جکڑے ہوئے صرف اک بھنور ہی نہ تھا پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے قسمت میں میری، صلہ نہیں ہے بچھڑے تو حال نجانے کیا ہو جو شخص ابھی ملا نہیں ہے جینے کی تو آرزو ہی کب تھی مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے جو زیست کو معتبر بنا دے ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے خوشبو کا حساب ہو چکا ہے اور پھول ابھی کھلا نہیں ہے سرشاری رہبری میں دیکھا پیچھے میرا قافلہ نہیں ہے اک ٹھیس پہ دل کا پھوٹ بہنا چھونے میں تو آبلہ نہیں ہے ! پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی
وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی مہک میں چمپا، روپ میں چنبیلی ہوئی وہ سرد رات کی برکھا سے یوں نہ پیار کروں یہ رُت تو ہے میرے بچپن کے ساتھ کھیلی ہوئی زمیں پہ پاؤں نہیں پڑ رہے تکّبر سے نگار ِ غم کوئی دلہن نئی نویلی ہوئی وہ چاند بن کے میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا میں اس کے ہجر کی راتوں میں کب اکیلی ہوئی جو حرفِ سادہ کی صورت ہمیشہ لکھی گئی وہ لڑکی کس طرح تیرے لئے پہیلی ہوئی پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے
اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے گزر گئے ہیں بہت دن رفاقتِ شب میں اب عُمر ہوگئی چہرہ وہ چاند سا دیکھے مرے سکوت سے جس کو گِلے رہے کیا کیا بچھڑتے وقت ان آنکھوں کا بولنا دیکھے بس ایک ریت کا ذّرہ بچا تھا آنکھوں میں ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے تیرے سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے اُسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو جب آنکھ کھولے، پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے تجھے عزیز تھا اور میں نے اُسے جیت لیا مری طرف بھی تو اِک پل ترا خدا دیکھے پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
واہمہ
تمھارا کہنا ہے تم مجھے بے پناہ شّدت سے چاہتے ہو تمھاری چاہت وصال کی آخری حدوں تک مرے فقط میرے نام ہوگی مجھے یقین ہے مجھے یقین ہے، مگر قسم کھانے والے لڑکے ! تمھاری آنکھوں میں ایک تِل ہے ! پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا
یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا سرطان میرا ستارا کب تھا لازم تھا گزرنا زندگی سے بِن زہر پیئے گزارا کب تھا کچھ پل مگر اور دیکھ سکتے اشکوں کو مگر گوارا کب تھا ہم خود بھی جُدائی کا سبب تھے اُس کا ہی قصور سارا کب تھا اب اور کے ساتھ ہے تو کیا دکھ پہلے بھی وہ ہمارا کب تھا اِک نام پہ زخم کھل اٹھے تھے قاتل کی طرف اشارا کب تھا آئے ہو تو روشنی ہوئی ہے اس بام پہ کوئی تارا کب تھا دیکھا ہوا گھر تھا پر کسی نے دُلہن کی طرح سنوارا کب تھا پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
عکس خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی کانپ اُٹھتی ہوں یہی سوچ کہ تنہائی میں میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی جس طرح خواب میرے ہو گئے ریزہ ریزہ اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی کوئی آہٹ، کوئی آواز، کوئی چاپ نہیں دِل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اجنبی
کھوئی کھوئی آنکھیں بکھرے بال شکن آلود قبا لُٹا لُٹا انسان ! سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا لیکن کِسی جگہ مل جائے تو گبھرا کر مُڑ جاتا ہے اور پھر دور سے جاکر مجھ کو تکنے لگتا ہے کون ہے یہ پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
الوداعیہ
وہ جا چکا ہے مگر جدائی سے قبل کا ایک نرم لمحہ ٹھہر گیا ہے مِری ہتھیلی کی پشت پر زِندگی میں پہلی کا چاند بن کر ! پروین شاکر |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ایک دوست کے نام
ایک دوست کے نام لڑکی یہ لمحے بادل ہیں گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے ان کی لمس کو پیتی جا قطرہ قطرہ بھیگتی جا بھیگی جا جب تک ان میں نم ہے اور تیری اندر کی مٹی پیاس ہے مجھ سے پوچھ کہ بارش کو واپس آنے کا رستہ کبھی یاد نہ ہوا بال سوُکھانے کے موسم اَن پڑھ ہوتے ہیں ! پروین شاکر |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, ہمسفر, کرن, پھول, پیارے, پروین شاکر, لوگ, لڑکی, چاہت, نظر, بچپن, جیت, حال, خدا, دل, رات, راستہ, زیست, زندگی, ستارے, شہر, شام, شخص, غم, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ”ہماری سنگل ڈیکر نہیں چلتی، بھارتی ڈبل ڈیکر چلے گی“ | جاویداسد | خبریں | 2 | 18-10-10 07:22 PM |
| کامن ویلتھ گیمز پر ڈینگی وائرس کا حملہ ، متعدد کھلاڑی ہسپتال پہنچ گئے ، گیمز ویلج پر مچھروں کا قبضہ | جاویداسد | خبریں | 2 | 04-10-10 02:20 PM |
| جہازوں کی سائیڈ وینڈ لینڈینگ | وجی | دلچسپ اور عجیب | 2 | 05-02-09 03:20 PM |
| حکومت پریس کونسل آرڈیننس اور نیوز پیپرز رجسٹریشن آرڈیننس مین ترمیم پر آمادہ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 23-11-07 09:39 AM |
| قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے باوجود انڈین لیگ کھیلنے کا خواہشمند ہوں ،انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے سے انکار بھی نہیں کیا ہے ۔ شعیب اختر کا خصوصی | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 03-09-07 10:41 AM |