|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
مراسلات: 1,075
کمائي: 24,352
شکریہ: 698
613 مراسلہ میں 1,503 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نئے پھولوں پہ رنگیں تتلیاں جب مسکرائیں تو
گئے موسم کی یا د یں جب تمھارا دل جلا ئیں تو مجھے آواز دے لینا کسی ما نوس رستے پر کوئی جب تم صدا پاؤ میری یادوں کی اپنے گھر میں جب تھوڑی جگہ پاؤ مجھے آواز دے لینا گئے لمحوں میں میری قربتیں جب یاد آئیں تو کبھی راتوں میں میری آہٹیں تم کو ستا ئیں تو مجھے آواز دے لینا کہیں ایسا نہ ہو میری سما عت تھک کے سو جائے یہ میرا دل تمھارا تن کسی دوجے کا ہو جائے تمھیں پانے کی حسرت یونہی دل میں گھٹ کے مر جا ئے تمھیں احساس نہ ہو اور کوئی جاں سے گزر جائے تم اس سے پیشتر مجھ پہ میری جاناں کرم کرنا مجھے آواز دے لینا مجھے آواز دے لینا |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: K S A
مراسلات: 61
کمائي: 1,297
شکریہ: 167
29 مراسلہ میں 46 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تمھیں پانے کی حسرت یونہی دل میں گھٹ کے مر جا ئے
تمھیں احساس نہ ہو اور کوئی جاں سے گزر جائے تم اس سے پیشتر مجھ پہ میری جاناں کرم کرنا مجھے آواز دے لینا مجھے آواز دے لینا زبردست بہت خوب |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اک بار مجھے آواز تو دے
ترے لمس کی خوشبو پہنوں گا ترے درد کو ہار بناؤں گا اک بار مجھے آواز تو دے میں صدیوں پار سے آؤں گا ابھی کاغذ پر میں لکھتا ہوں بے صوت ہے میرا شہرِ سخن جب دھڑکن لفظ میں گونجے گی میں تب شاعر کہلاؤں گا |
|
|
|