|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عمر گزرے گی امتحان میں کیا داغ ہی دے گی مجھ کو دان میں کیا مری ہر بات بے اثر ہی رہی نَقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا خود کو جانا تھا جُدا زمانے سے آگیا تھا مرے گمان میں کیا اب تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خآندان میں کیا یوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (10-12-10), عبدالقدوس (10-12-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھ سے محبت کرنے والوں کے نام
کبھی شکستوں کے دکھ اٹھائے تو اس سے پوچھوں
وہ میری مانند ٹوٹ جائے تو اس سے پوچھوں اسے بھی کوئی ستارہ منزل سے دور کر دے اسے بھی راستہ نظر نہ آئے تو اس سے پوچھوں سفر میں وہ بھی کسی کڑے امتحان سے گزرے اسے بھی یوں کوئی آزمائے تو اس سے پوچھوں اسے محبت میں کونسا دکھ دیا ہے میں نے کبھی نظر سے نظر ملائے تو اس سے پوچھوں میری طرح دن چڑھے تلک وہ بھی سوئے سالک اسے بھی شب بھر نیند نہ آئے تو اس سے پوچھوں |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (10-12-10) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
خیریت تو ہے، آج بڑی شاعری ہو رہی ہے۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حالات حاضرہ
ہم کو سودا تھا ،سر کے مان میں تھے
پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے میرے کتنے ہی نام اور ہمنام میرے اور میرے ہی درمیان میں تھے میرا خود پر سے اعتماد اُٹھا کتنے وعدے میری اُٹھان میں تھے واہ ! اُن بستیوں کے سناٹے سب قصیدے ہماری شان میں تھے آسمانوں میں گر پڑے یعنی ہم زمین کی طرف اُڑان میں تھے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہوتا, کوئی, گی, گمان, گزرے, یوں, چین, نیند, نظر, محبت, آسمان, امتحان, اثر, بیان, بے, تکتا, جہان, دے, دان, رہتا, راستہ, زندگی, زمانے, شاعری, شخص |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|