|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
کل تنہائی میں بیٹھے ہوئے دو شعر ترتیب دیئے ہیں سوچا آپکی خدمت میں پیش کردوں:
کہاں سے مانگ کر لائے ہو یہ حسن بیاں جانہ
کچھ کو ہنسا جانا اور کچھ کو رلا جانا تیرے تبسم نے ہی ہم کو بہلایا ہے ورنہ جسم کو ہم نے زخموں سے سجایا ہے بہت سمجھایا ہے اس دل نادان کو مگر تیری چوٹ کھانے کا اس پر نشہ سا چھایا ہے۔
__________________
اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے آئیں اوروں کے لیے جینا سیکھیں Last edited by غلام مجتبی جان; 25-02-10 at 11:30 AM. |
|
|
|
| غلام مجتبی جان کا شکریہ ادا کیا گیا | عاشی (25-02-10) |
|
|
#2 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 25
کمائي: 732
شکریہ: 30
20 مراسلہ میں 67 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی شاعری ہے
واہ |
|
|
|
| عاشی کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام مجتبی جان (01-03-10) |
![]() |
| Tags |
| ہے۔, ہنسا, کہاں, کھانے, پیش, لائے, چھایا, نادان, نشہ, مانگ, آپکی, تنہائی, تبسم, ترتیب, جسم, حسن, خدمت, دیئے, دل, رلا, زخموں, سوچا, سجایا, شاعری, شعر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|