| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,687
کمائي: 92,481
شکریہ: 5,499
5,166 مراسلہ میں 11,782 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تم جہاں بھی بیٹھ کہ جاتی ہو جس چیز کو ہاتھ لگاتی ہو میں وہیں پہ بیٹھا رہتا ہوں اس چیز کو چھوتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتی ہو تم جن سے ہنس کر ملتی ہو میں ان کو دوست بناتا ہوں تم جس رستے پر چلتی ہو میں اس سے آتا جاتا ہوں تم جن کو دیکھتی رہتی ہو وہ خواب سرہانے رکھتا ہوں میں تم سے ملنے جلنے کے کتنے کی بہانے رکھتا ہوں کچھ خواب سجا کر آنکھوں میں پلکوں سے موتی چنتا ہوں کوئی لمس اگر چھو جائے تو میں پہروں اس کو سوچتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتی ہو جن لوگوں میں تم رہتی ہو تم جن سے باتیں کرتی ہو جو تم کو اچھے لگتے ہیں وہ مجھ کو اچھے لگتے ہیں جس باغ میں صبح کو جاتی ہو جس سبزے پر تم چلتی ہو جو شاخ تمہیں چھو جاتی ہے جو خوشبو تم کو بھاتی ہے وہ اوس تمہارے چہرے پر جو قطرہ قطرہ گرتی ہے وہ تتلیاں چھوڑ کے پھولوں کو جو تم سے ملنے آتی ہیں ان سب کے نازک جذبوں میں میرے دل کی دھڑکن بستی ہے تم پاس رہو یا دور رہو نظروں کے سامنے رہتی ہو میں تم کو تکتا رہتا ہوں میں تم کو سوچتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتی ہو ہر موقع پر ہر منظر میں میں ساتھ تمہارے رہتا ہوں میں چشم تصور میں اکثر بس تم کو دیکھتا رہتا ہوں بس تم کو سوچتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتی ہو
__________________
بے مقصد زندگی تاریک مستقبل
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے wajee کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 30-09-09 | مرزا محمد فاروق | دستیاب نہیں | 50 |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 38,151
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,307
کمائي: 38,151
شکریہ: 245
1,036 مراسلہ میں 3,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 37
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,465
شکریہ: 22,159
4,088 مراسلہ میں 10,837 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس نظم کو خواتین کی جانب سے سیپ پیش کر چکی ہیں اچھی نظم ہے
سیپ کی نظم یہاں دیکھہ سکتے ہیں میں ایسی محبت کرتی ہوں اور ہم نے اس کا جواب بھی لکھا تھا وہ بھی ابھی حاضر کئیے دیتے ہیں Last edited by شاہ جی 90; 02-10-09 at 12:37 AM. |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام خان (24-02-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 37
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,465
شکریہ: 22,159
4,088 مراسلہ میں 10,837 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمارا جواب تھا
تم جس دن ہم سے بات کرو دیوانوں کی مانند پہروں پھر ہم خود سے باتیں کرتے ہیں تم جس رستے سے گزر چلو ہم دیر تلک اس رستے پر خاموش سے بیٹھے رہتے ہیں تم جس دن ہم سے روٹھہ چلو اس دن چاہے کوئی بات نہ ہو ہم رات گئے تک گلیوں میں گم سم سے پھرتے رہتے ہیں پھر چپکے سے رو دیتے ہیں تم دیکھہ لو میری آنکھوں میں کیا پیار نظر نہیں آتا ہے پاگل جو رہے تیری خاطر دیوانہ علی کہلاتا ہے میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتی ہو |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | عبداللہ آدم (01-03-11), غلام خان (24-02-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 611
کمائي: 8,784
شکریہ: 2,476
388 مراسلہ میں 921 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ جی بہت خوب
موفقیین انشاءاللہ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 611
کمائي: 8,784
شکریہ: 2,476
388 مراسلہ میں 921 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي
کتين ہي طاقت آزمائي کي رشک دشمن بہانہ تھا سچ ہے ميں نے ہي تم سے بے وفائي کي کيوں برا کہتے ہو بھلا نا صح مين نے حضرت سے کيا برائي کي دام عاشق ہے دل دہي نہ ستم دل کو چھينا تو دل رہائي کي گر نہ بگڑو تو کيا بگڑتا ہے مجھ ميں طاقت نہيں لڑائي کي گھر تو اس ماہ وش کا دور نہ تھا ليکن طالع نے نار سائي کي دل ہوا خوں خيال ناخن يار تو نے اچھي گرہ کشائي کي مومن آئو تمہيں بھي دکھلا دوں سير بت خانے ميں خدئي کي ........................................... ميں نے تم کو دل ديا، تم نے مجھے رسوا کيا ميں نے تم سے کي کيا، اور تم نے مجھے سے کيا کيا کشتہ ناز بتاں روز ازل سے ہوں مجھے جان کھونے کے لئے اللہ نے پيدا کيا روز کہتا تھا کہيں مرتا نہيں ہم مر گئے اب تو خوش ہو بے وفا تيرا ہي لے کہنا گيا سر سے شعلے اٹھتے ہيں آنکھوں سے دريا جاري ہے شمع سے يہ کس نے ذکر اس محفل آرا کا کيا کيا خجل ہوں اب علا ج بے قراري کيا کروں دھر ديا ہاتھ اس نے دل پر تو بھي دھڑکا کيا عرض ايماں سے ضد اس غارت گر ديں کو بڑھي تجھ سے اے مومن خدا سمجھے يہ تو نے کيا کيا ----------------------------------- جلتا ہوں ہجر شاہد و ياد شراب ميں شوق ثواب نے مجھے ڈال عذاب ميں کہتے ہيں تم کو ہوش نہيں اضطراب ميں سارے گلے تمام ہوئے اک جواب ميں رہتے ہيں جمع کوچہ جاناں ميں خاص و عام آباد ايک گھر ہے جہاں خراب ميں بد نام ميرے گر يہ رسوا سے ہو چکے اب عذر کيا رہا نگہ بے حجاب ميں ناکاميوں سے کامک رہا عمر بھر ہميں پري ميں ياس ہے جو ہوس تھي شباب ميں دونوں کا ايک حال ہے يہ مدعا ہو کاش وہ ہي خط اس نے بھيج ديا کيوں جواب ميں تقدير بھي بري مري تدبير بھي بري بگڑے وہ پر سش سبب اجتناب ميں کيا جلوے ياد آئے کہ اپني خبر نہيں بے بادہ مست ہوں ميں شب ماہ تاب ميں پيہم سجود پائے صنم پر دم و داع مومن خدا کو بھول گئے اضطراب ميں --------------------------------------------- ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلط اس مبحث صحيح کي تکرار ہے غلط کہنا پڑا درست کہ اتنا رہے لحاظ ہر چند وصل غير کا انکار ہے غلط کر تے ہيں مجھ سے دعوي الفت وہ کيا کريں کيونکر کہيں مقولہ اغيار ہے غلط يہ گرم جوشياں تري گو دل سے ہوں ولے تاثير نالہ ہائے شرر بار ہے غلط کرتے ہو مجھ سے راز کي باتين تم اس طرح گويا کہ قول محرم اسرار ہے غلط اٹھ جا کہا تلک کوئي باتيں اٹھائے گا نا صح تو خود غلط تري گفتار ہے غلط سچ تو يہ ہے کہ اس بت کافر کے دور ميں لاف و گزاف مومن ديندار ہے غلط --------------------------------------------- دل ميں اس شوخ کے جو راہ نہ کي ہم نے بھي جان دي پر آہ نہ کي تھا بہت شوق وصل تو نے تو کمي اے حسن تاب کاہ نہ کي ميں بھي کچھ خوش نہيں وفا کر کے تم نے اچھا کيا نباہ نہ کي محتسب يہ ستم غريبوں پر کبھي تنبيہ بادشاہ نہ کي گريہ و آہ بے اثر دونوں کس نے کشتي مري تباہ نہ کي تھا مقدر ميں اس سے کم ملنا کيوں ملاقات گاہ گاہ نہ کي ديکھ دشمن کو اٹھ گيا بے ديد ميرے احوال پر نگاہ نہ کي مومن اس ذہن بے خطا پر حيف فکر آمرزش گناہ نہ کي ----------------------------------------- دکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيں کہو گے پھر بھي کہ ميں تجھ سا بد گمان نہيں ترے فراق ميں آرام ايک آن ہيں يہ ہم سمجھ چکے گر تو نہيں تو جان نہيں نہ پوچھو کچھ مرا احوال مري جاں مجھ سے يہ ديکھ لو کہ مجھے طاقت بيان نہيں يہ گل ہيں داغ جگر کے انہيںں سمجھ کر چھيڑ يہ باغ سينہ عاشك گلستان نہيں شب فراق ميں پہنچي نہ دل سے جان تلک کہيں اجل بھي تو مجھ سي ہي ناتوان نہيں وہ حال پوچھے ہے ميں چشم سرمگيں کو ديکھ يہ چپ ہوا ہوں کہ گويا مري زبان نہيں نکل کے دير سے مسجد ميں جا رہ اے مومن خدا کا گھر تو ہے تيرے اگر مکان نہيں ---------------------------------------- محشر ميں پاس کيوں دمِ فرياد آگيا رحم اس نے کب کيا تھا کہ اب ياد آگيا الجھا ہے پاؤں يار کا زلفِ دراز ميں لو آپ اپنے دام ميں صيّاد آگيا ناکاميوں ميں تم نے جو تشبيہ مجھ سے دي شيريں کو درد تلخيِ فرہاد آگيا ہم چارہ گر کو يوں ہي پہنائيں گے بيڑياں قابو ميں اپنے گر وہ پري زاد آگيا دل کو قلق ہے ترکِ محبت کے بعد بھي اب آسماں کو شيوہء بے داد آگيا وہ بدگماں ہوا جو کبھي شعر ميں مرے ذکرِ بتانِ خلخ و نوشاد آگيا تھے بے گناہ جراءتِ پابوس تھي ضرور کيا کرتے وہم خجلتِ جلاد آگيا جب ہوچکا يقيں کہ نہيں طاقتِ وصال دم ميں ہمارے وہ ستم ايجاد آگيا ذکرِ شراب و حور کلامِ خدا ميں ديکھ مومن ميں کيا کہوں مجھے کيا ياد آگيا -------------------------------------------- ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا مرنا ہي مقدر تھا ، وہ آتے تو کيا ہوتا ايک ايک ادا سو سو، ديتي ہے جواب اسکے کيونکر لبِ قاصد سے، پيغام ادا ہوتا اچھي ہے وفا مجھ سے، جلتے ہيں جليں دشمن تم آج ہُوا سمجھو، جو روزِ جزا ہوتا جنّت کي ہوس واعظ ، بے جا ہے کہ عاشق ہوں ہاں سير ميں جي لگتا، گر دل نہ لگا ہوتا اس تلخيِ حسرت پر، کيا چاشنيِ الفت کب ہم کو فلک ديتا، گر غم ميں مزا ہوتا تھے کوسنے يا گالي، طعنوں کا جواب آخر لب تک غمِ غير آتا، گر دل ميں بھرا ہوتا ہے صلح عدو بے خط، تھي جنگ غلط فہمي جيتا ہے تو آفت ہے، مرتا تو بلا ہوتا ہونا تھا وصال اک شب، قسمت ميں بلا سے گر تُو مجھ سے خفا ہوتا، ميں تجھ سے خفا ہوتا ہے بے خودي دايم، کيا شکوہ تغافل کا جب ميں نہ ہوا اپنا، کيونکر وہ مرا ہوتا اس بخت پہ کوشش سے، تھکنے کے سوا حاصل گر چار? غم کرتا، رنج اور سوا ہوتا اچھي مري بدنامي تھي يا تري رُسوائي گر چھوڑ نہ ديتا، ميں پامالِ جفا ہوتا ديوانے کے ہاتھ آيا کب بندِ قبا اُس کا ناخن جو نہ بڑھ جاتے، تو عقدہ يہ وا ہوتا ہم بندگئي بت سے ہوتے نہ کبھي کافر ہر جاے گر اے مومن موجود خدا ہوتا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, feature, magenta, گمان, پاگل, وش, نظر, موقع, محبت, مسجد, آج, انشاءاللہ, بھائی, جواب, خواتین, خدا, دوست, دل, رات, شاہ, علی, عشق, غزلیں, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میں ایسی محبت کرتی ہوں#2 | سیپ | شاعری اور مصوری | 46 | 25-01-11 09:06 PM |
| میں ایسی محبت کرتی ہوں#1 | سیپ | سیدہ ثوبیہ ناز | 11 | 09-10-09 11:50 AM |
| میں ایسی محبت کرتی ہوں#5 | سیپ | شاعری اور مصوری | 9 | 29-10-08 12:14 PM |
| میں ایسی محبت کرتی ہوں#4 | سیپ | شاعری اور مصوری | 4 | 14-10-08 04:06 PM |
| میں ایسی محبت کرتی ہوں#3 | سیپ | شاعری اور مصوری | 2 | 14-10-08 02:33 PM |