| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
نہ وہ سِن ہے فرصتِ عشق کا ، نہ وہ دِن ہیں کشفِ جمال کے
مگر اب بھی دِل کو جواں رکھیں ، وہی شعبدے خدوخال کے یہ جو گَرد بادِ حیات ہے ، کوئی اِس کی زَد سے بچا نہیں مگر آج تک تیری یاد کو میں رکھوں سنبھال سنبھال کے میں امین و قدر شناس تھا ، مجھے سانس سانس کا پاس تھا یہ جبیں پہ ہیں جو لکھے ہوئے ، یہ حساب ہیں مہ و سال کے وہ کبھی شفق کا فَسوں کہیں ، کبھی گُل کہیں کبھی خوں کہیں کہ ہیں میری صبحِ عروج میں ابھی رنگ شمعِ زوال کے شبِ تار سے نہ ڈرا مجھے ، اے خُدا جمال دِکھا مجھے کہ تیرے ثبوت ہیں بیشتر ، تیری شانِ جاہ و جلال کے کوئی کوہکن ہو کہ قیس ہو ، کوئی مِیر ہو کہ ندیم ہو سبھی نام ایک ہی شخص کے ، سبھی پھول ایک ہی ڈال کے احمد ندیم قاسمی
__________________
![]() میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
میں امین و قدر شناس تھا ، مجھے سانس سانس کا پاس تھا
یہ جبیں پہ ہیں جو لکھے ہوئے ، یہ حساب ہیں مہ و سال کے بہت خوب
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
شکریہ جناب
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, magenta, کوئی, پہ, پھول, قیس, قاسمی, لکھے, نام, ندیم, آج, اِس, ابھی, بیشتر, ثبوت, جمال, حیات, حساب, خُدا, رنگ, زوال, سال, شخص, عروج, عشق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| فرصتِ نظا رگی - م م مغل | ابو کاشان | شعر و شاعری | 3 | 01-08-08 12:16 PM |