|
|
#1 |
|
Junior Member
اجنبی
|
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا کیا ہے؟
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے؟ روشنی دن کی وہی، تاروں بھری رات وہی آج بھی ہم کو نظر آتی ہے ہر بات وہی آسماں بدلا ہے نہ بدلی یہ افسردہ زمیں ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدّت تو نہیں اگلے برسوں کی طرح ہونگے قرینے تیرے کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے؟ بے سبب دیتے ہیں کیوں لوگ مبارک بادیں سب نے کیا بھُول گئے وقت کی کڑوی یادیں؟ تُو نیا ہے تو دِکھا صبح نئی، شام نئی ورنہ اِن آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Junior Member
اجنبی
|
قتل کے سلسلے رُکتے ہی نہیں!!
اشک بہنوں کے جو بہتے ہیں وہ تمتے ہی نہیں بے گناہوں کے جو آہوں کا دُھواں اُٹھتا ہے آسماں تک کی بلندی کو نِگل سکتا ہے امن کا دائرہ پھر جنگ کی یلغار میں ڈھل سکتا ہے سالِ نو ہم تجھے خُوش بخت کہے کس مُنہ سے؟ ہم تو گزرے ہوئے حالات سے شرمندہ ہیں جانثاران ِ محبّت نے سجائے مقتل ہم مگر آج تلک زندہ ہیں؟ ذھن ِ تاریخ پے تازہ ہے ابھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سِتم کھولتے لاوے کیطرح جو گزشتہ غمِ ایّام نے بخشا تھا ہمیں ایسےمحسوس ہُوا! ظلمتِ وقت کی خاکِستر میں جیسے مہتاب کوئی ڈھوب گیا سو گئی شامِ غریباں کی رِدا اوڈھ کے سورج کی تھکن رو پڑی بادِ صبا جل گئے اہلِ محبّت کی مُحبّت کے خیال ہر طرف شام ہی شام دل میں کُہرام کے نام!!! |
|
|
|