|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
میر ے مولا!
آج ذرا اس تپتے دن کو ٹھنڈا کر دے چھوٹا کر دے اِسے گھٹا دے بادل کے ٹکڑے سے کہہ کر بارش کردے بوندیں آئیں پوَن چلے اور سورج گزرے جلدی سے مغرب آجائے میرے مالک ! آج بھی اس نے میری خاطر مجھ کو پانے کی چاہت میں تیرا روزہ رکھا ہے۔ ۔ ۔
__________________
----------
![]() |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
میں جانتا ہوں کہ اب چھتوں پر
دئیے جلانے کی رسم باقی نہیں رہی ہے مگر تمہیں میری یاد آئے تو یاد رکھو۔ ۔ ۔ !!! تم اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کے چمکتے موتی نہ گرنے دینا بس اتنا کرنا کہ اپنی چھت پر مری محبت کی نظم گاکر مری رفاقت کو یاد کرکے دیا جلانا تم اپنی چھت پر کسی بھی کونے بیٹھ کر اک دیا جلانا۔ ۔ ۔ !!! |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
پھوٹ کر رونے لگے ہیں ، میں محبت اور تم ہم نے جونہی کر لیا محسوس منزل ہے قریب راستے کھونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم چاند کی کرنوں نے ہم کو اس طرح بوسہ دیا دیوتا ہونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم آج پھر محرومیوں کی داستانیں اوڑھ کر خاک میں سونے لگے ہیں میں ،محبت اور تم کھو گئے انداز بھی ، آواز بھی، الفاظ بھی خامشی ڈھونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کردو نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے اس قدر ٹوٹ کے چاہو، مجھے پاگل کردو تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کردو اس کے سائے میں مرے خواب دھک اُٹھیں گے میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر اس قدر برسو میری روح میں جل تھل کر دو جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے تھل کر دو تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجل کردو مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کردو اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے ایک احسان کرو اس کو مسلسل کردو مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کردو |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
باندھ لیں ہاتھ سینے پہ سجالیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو کبھی خواہش کی طرح دل میں بُلا لیں تم کو جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور اپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تم کو کیا عجب خواہشیں اُٹھتی ہیں ہمارے دل میں کر کے منا سا ہواؤں میں اُچھالیں تم کو اس قدر ٹوٹ کے تم پہ ہمیں پیار آتا ہے اپنی بانہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کتنی زلفیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر وہ جو نکلا نہیں تو بھٹکتے رہے ہیں مسافر کئی اور لٹتے رہے ہیں کئی قافلے چاند کو کیا خبر اس کو دعویٰ بہت میٹھے پن کو وصی چاندنی سے کہو اس کی کرنوں سے کتنے ہی گھر جل گئے چاند کو کیا خبر |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ کرتے ہیں
جو تو نہیں تو اجالے بھی سوگ کرتے ہیں نگر نگر میں وہ بکھرے ہیں ظلم کے منظر ہماری روح کے چھالے بھی سوگ کرتے ہیں اُسے کہو کہ ستم میں وہ کچھ کمی کردے کہ ظلم توڑنے والے بھی سوگ کرتے ہیں تم اپنے دکھ پہ اکیلے نہیں ہو افسردہ تمہارے چاہنے والے بھی سوگ کرتے ہیں |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھیگی آنکھوں والی لڑکی
میری طرف جب دیکھتی ہے تو من میں جل تھل کر جاتی ہے مجھ کو پاگل کرجاتی ہے |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
گنگناتے ہوئے جذبات کی آہٹ پاکر
روح میں جاگنے والی ہے کوئی سرگوشی آ کسی خوف میں اتریں کسی غم کو اوڑھیں کسی اُجڑے ہوئے لمحے میں سجائیں خود کو تھام کر ریشمی ہاتھوں میں ہوا کی چادر روح میں گھول لیں تاروں کا حسیں تاج محل جی میں آتا ہے لپٹ جائیں کسی چاند کے ساتھ بے یقینی کے سمندر کا کنارہ لے کر ہم نکل جائیں کسی خدشے کی انگلی تھامے تیری یادوں کے تلے درد کے سائے سائے گنگناتے ہوئے جذبات کی آہٹ پاکر روح میں جاگنے والی ہے کوئی سرگوشی |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
جب سے یہ پیغام ملا ہے
جاناں! تم آنے والی ہو موسم نے سارے گھر کی ترتیب بدل کر رکھ ڈالی ہے چوکھٹ پہ اک چاند بھی آکر بیٹھ گیا ہے کئی ستارے لاؤنج میں کب سے پڑے ہوئے ہیں کہتے ہیں کہ اس رستے سے تم گزرو گے ننھے منے کئی گلابوں کا کہنا ہے جتنے دن تم پاس رہو گے گھر کے ہر کونے میں آکر وہ مہکیں گے پھولوں نے مل کر سب کونے بانٹ لئے ہیں جگنوکب سے چھت پہ ، گھرکے ہر گوشے میں چمک رہے ہیں سورج اور بارش بھی کل سے سائبان پر ٹکے ہوئے ہیں دھیمے دھیمے چہک رہے ہیں شام تو کب سے کئی طرح کے موسم لیکر اس کمرے میں رُکی ہوئی ہے جس کمرے میں تم ٹھہرو گے تم آؤ گے تو یہ شام ہزاروں موسم سندر سندر سجی ہوئی آنکھوں کو دے کر کھو جائے گی پھر نہ کبھی واپس آئے گی اس سے پہلے کہ یہ شام بھی سارے موسم لے کر مجھ کو خالی کرکے کھو جائے تم آجاؤ ناں! آبھی جاؤ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
جب غم مری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا ، تو کہاں تھا
جب چاروں طرف درد کے دریا کا سماں تھا، تو کہاں تھا اب آیا ہے جب ڈھل گئے ہیں سبھی موسم، مرے ہمدم جب تیرے لئے مرا ہر احساس جواں تھا ، تو کہاں تھا اب صرف خموشی ہے مقدر کا ستارہ ، مرے یارا جب لب پہ فقط تیرا فقط تیرا بیاں تھا، تو کہاں تھا اب آیا ہے جب کام دکھا بھی گیا ساون، مرے ساجن جب چار سو میرے لئے خوشیوں کا سماں تھا، تو کہاں تھا |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو
تو ایک بھی شب نہ سو سکو گے کہ لاکھ چاہو نہ ہنس سکو گے ہزار چاہو نہ رو سکو گے کہ خواب کیا ہیں عذاب ہیں یہ مرے دکھوں کی کتاب ہیں یہ رفاقتیں ان میں چھوٹتی ہیں محبتیں ان میں روٹھتی ہیں پنپتی ہیں ان میں وحشتیں سی اذیتیں ان میں پھوٹتی ہیں انہی کے ڈر سے خزاں ہیں جذبے انہی سے شاخیں سی ٹوٹتی ہیں غموں کی بندش ہیں خواب میرے دکھوں کی بارش ہیں خواب میر ے ابل رہا ہے دکھوں کا لاوا رہین آتش ہیں خواب میرے خیال سارے جھلس گئے ہیں سلگتی خواہش ہیں خواب میرے اکھڑتی سانسیں ہیں زندگی کی لہو کی سازش ہیں خواب میرے جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو تو ایک شب بھی نہ سو سکو گے |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
جو اس کے سامنے میرا یہ حال آجائے
تو دکھ سے اور بھی ، اس پر جمال آجائے میرا خیال بھی گھنگرو پہن کے ناچے گا اگر خیال کو تیرا خیال آجائے ہر ایک شام نئے خواب اس پہ کاڑھیں گے ہمارے ہاتھ اگر تیری شال آجائے انہی دنوں وہ میرے ساتھ چائے پیتا تھا کہیں سے کاش میرا پچھلا سال آجائے میں اپنے غم کے خزانے کہاں چھپاؤں گا اگر کہیں سے کوئی اِند مال آجائے ہر ایک بار نئے ڈھنگ سے سجائیں تجھے ہمارے ہاتھ جو پھولوں کی ڈھال آجائے یہ ڈوبتا ہوا سورج ٹھہر نہ جائے وصی اگر وہ سامنے وقتِ زوال آجائے |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ذرا سا تو ٹھہراے دل ۔ ۔ ۔ !
ابھی کچھ کام باقی ہیں ابھی آنگن میں مجھ کو موتیے کے کچھ نئے پودے لگانے ہیں ابھی ان شوخ ہونٹوں کے کئی انداز ہیں جن کو مرے ہونٹوں پہ کھلنا ہے ابھی اس جسم نے مجھ سے بہت سی بات کرنی ہے ابھی اس دل کے جانے کتنے ہی غم ایسے ہیں جن کو مجھے اپنے بدن میں روح میں بھرنا ہے اس کے ساتھ جانے کتنے رستے ہیں اکٹھے جن پہ چلنا ہے ابھی کچھ ایسے وعدے ہیں کہ جن کو پورا کرنے کا کوئی برسوں سے لمحہ ہی میسر آ نہیں پایا ابھی وہ وقت آنا ہے ابھی وعدے نبھانے ہیں ابھی کچھ گیت ایسے ہیں کہ جن کی دھن بنانی ہے ادھوری سی کسی تصویر کی تکمیل کرنا ہے کئی کاغذ ہیں وہ جن پر مرے سائن ضروری ہیں ابھی کچھ باتیں ایسی ہیں کہ جو برسوں سے میرے ذہن میں تھیں سوچ رکھا تھا، اُسے اک دن بتاؤں گا بتانی ہیں ابھی کچھ قصے ایسے ہیں کہ جو اس کو سنانے ہیں کئی کوتاہیاں ایسی بھی ہیں جن پر ندامت ہے اُسے سب کچھ بتا کر بوجھ اس دل کا گھٹانا ہے ابھی کچھ دیر پہلے بس ذرا سی دیر پہلے ہی ذرا سی بات پر وہ مجھ سے روٹھا تھا ذرا سا تو ٹھہر اے دل ابھی اس کو منانا ہے ابھی ا س کو منانا ہے ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
یاد ہے تم کو۔ ۔ ۔ !
گھر کے پچھلے لان میں ہم تم شب بھر باتیں کرتے تھے جھگڑا ہوتا تو ہم لڑ کر چاند کو منصف کر لیتے تھے چاند سدا کا پاجی ہے چاہے کچھ ہو مگر ہمیشہ ایک ہی بات کیا کرتا تھا تیری Sideلیا کرتا تھا |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | ملک بھائی (17-05-09) |
![]() |
| Tags |
| پاگل, لڑکی, چاہت, مکمل, محبت, آج, تاج, تصویر, حل, حال, خبر, دیکھو, دل, روزہ, رات, زندگی, سال, ستارے, شام, شاعری, غم, صندل, صحراؤں, صدیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| وصی شاہ کی شاعری اور مصوری | مرزا محمد فاروق | شاعری اور مصوری | 4 | 16-05-09 02:41 PM |
| وصی شاہ | مرزا محمد فاروق | شاعری اور مصوری | 3 | 14-05-09 06:44 PM |
| جب بھی وہ شخص وصی مجھ سے خفا ہوجائے | محمدعدنان | میرے ہوکے رہو | 2 | 08-11-08 01:34 AM |
| وصی ظفر: وزارتِ قانون لے لی گئی | چاچا کمال | خبریں | 0 | 26-08-07 12:39 PM |
| فلک پہ چاند کے ہالے بھی سوگ۔۔۔۔۔۔وصی شاہ | محمدعدنان | شاعری اور مصوری | 2 | 02-08-07 09:34 PM |