|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
کل رات مرا بیٹا مرے گھر
چہرے پہ منڈھے خاکی کپڑا بندوق اٹھائے آپہنچا نو عمری کی سرخی سے رچی اس کی آنکھیں میں جان گئی اور بچپن کے صندل سے منڈھا اس کا چہرہ پہچان گئی وہ آیا تھا خود اپنے گھر گھر کی چیزیں لے جانے کو کہی،ان کہی منوانے کو باتوں میں دودھ کی خوشبو تھی جو کچھ بی سینت کے رکھا تھا میں ساری چیزیں لے آئی اک لعل بدخشاں کی چڑیا سونے کا ہاتھی چھوٹا سا چاندی کی اک ننھی تختی ریشم کی پھول بھری ٹوپی اطلس کا نام لکھا جزدان جزدان میں لپٹا اک قرآن پر وہ کیسا دیوانہ تھا کچھ ’توڑ‘ گیا کچھ ’چھوڑ‘ گیا اور لے بھی گیا ہے وہ تو کیا لوھے کی بدصورت گاڑی پٹرول کی بو بھی آئے گی جس کے پہیے بھی ربر کے ہیں جو بات نہیں کر پائے گی بچہ پھر آخر بچہ ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کیسا, پہ, پہچان, پھول, لے, چھوٹا, نام, مرا, آیا, آنکھیں, اپنے, بھری, بیٹا, بچپن, جان, جانے, خود, خوشبو, دیوانہ, رکھا, رات, ساری, عمری, صندل |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|