| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,350
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کل رات اُس کا چہرہ مجھے زرد سا لگا
اک آگ کا الاؤ تھا جو سرد سا لگا مجھ سے قدم ملاتا ہوا دھوپ میں چلا سایہ بھی آشنائے رہِ درد سا لگا اُس کے بھی پاؤں میں کوئی چکر ہے ان دنوں وہ بھی کچھ اپنی طرح جہاں گرد سا لگا کس دشتِ غم کی خاک اُسے چھاننی پڑی کیوں چودہویں کا چاند مجھے زرد سا لگا دیتے رہے ہیں دُکھ جو مجھے پیار کے عوض وہ بھی اُسی قبیل کا اک فرد سا لگا وہ شخص جس نے بارِ مسائل اُٹھا لیا اس شہر بے سکوں میں جوانمرد سا لگا میں بھی بہت اُداس تھا احمد گذشتہ روز اُس کا مزاج بھی مجھے کچھ سرد سا لگا |
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | فہیم نواز خان (09-01-08) |