|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 500
کمائي: 2,425
شکریہ: 10
154 مراسلہ میں 254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کمال کے دُکھ کبھی ہجر کے دُکھ کبھی وصال کے دُکھ تونے بخشے مجھے کمال کے دُکھ میری عمرِِِِِ ِ رواں پہ بھاری ہیں وہ بن تمہارے ایک سال کے دُکھ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 60
کمائي: 285
شکریہ: 0
13 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[color=purple][b]
اجنبی سی راھوں کا اجنبی مسافر ایک مجھی سے پوچھ بیٹھا ھے رستہ بتا دو گے اجنبی سی راھوں کے اجنبی مسافر سن راستہ کوئی بھی ھو واسطہ کوئی بھی ھو منزلیں نھیں ملتی منزلیں تو دھوکہ ہیں منزلیں گر مل جائیں تو جستجو نہیں رھتی زندگی کو جینے کی آرزو نہیں رہتی سنو----- تم تو ازم والے ھو عَزم بھلا کاضبط رکھتے ھو بَلا تمھیں کچھ بھی نیہں ھو گا مگر دیکھو---- جسے تم چھوڑے جاتے ھو اسے تو ٹھیک سے شائد بچھڑنا بھی نہیں آتا سنو---- تم تو ازم والے ھو عَزم اسے مت چھوڑ کے جاؤ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 500
کمائي: 2,425
شکریہ: 10
154 مراسلہ میں 254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپکا بے حد شکریہ۔ ۔ ۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,229
شکریہ: 3,274
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کمال کے دُکھ کبھی ہجر کے دُکھ کبھی وصال کے دُکھ تونے بخشے مجھے کمال کے دُکھ میری عمرِِِِِ ِ رواں پہ بھاری ہیں وہ بن تمہارے ایک سال کے دُکھ عایشہ جی! اچھی کاوش ہے لیکن یہ اگر اس طرح ہو جائے تو کیا خیال ہے آپکا۔۔۔۔
کبھی ہجر، کبھی وصال کے دُکھ تُو نے بخشے مجھے کمال کے دُکھ میری عمرِ رواں پہ ہیں گراں تِرے بن ماہ و سال کے دُکھ
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 60
کمائي: 285
شکریہ: 0
13 مراسلہ میں 13 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوست ملتے ہیں یہاں دل کو دکھانے کے لیئے
انگلیاں رکھتے ہیں وہ ھم پہ اٹھانے کیلیئے کیا قصور ان کا یہ اک رسم چلی آئی ھے توہمتیں ھوتی ہیں دنیا میں لگانے کیلیئے ناخدا مان کے بیٹھے ہیں جن کی کشتی میں وہ ہمیں موجوں میں لے آئے تھے ڈوبانے کیلیئے وہ ھواؤں کی طرح رخ بدل لیتے ہیں ھم نصیبوں سے لڑے تھے جن کو پانے کیلیئے---!!!! |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت خوب جی
|
|
|
|