| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,350
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
گماں گزرتا ہے یہ شخض دوسرا ہے کوئی ہوا نےتوڑ کے پتہ زمیں پہ پھینکا ہے کہ شب کی جھیل میں پتھر گرا دیا ہے کوئی بٹا سکے ہیں پڑوسی کسی کا درد کبھی یہی بہت ہے کہ چہرے سے آشنا ہے کوئی درخت راہ بتائیں ہلا ہلا کر ہاتھ کہ قافلے سے مسافر بچھڑ گیا ہے کوئی چھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا چاند کسی کے ساتھ سمندر میں ڈوبتا ہے کوئی یہ آسمان سے ٹوٹا ہوا ستارہ ہے کہ دشتِ شب میں بھٹکتی ہوئی صدا ہے کوئی مکان اور نہیں ہےبدل گیا ہے مکیں افق وہ ہی ہے مگر چاند دوسرا ہے کوئی فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی شکیبؔ دیپ سے لہرا رہے ہیں پلکوں پر دیارِ چشم میں کیا آج رت جگا ہے کوئی |
|
|
|