| شعر و شاعری شعر و شاعری |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,350
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خال ڈالیے ایسی اُڑان پر آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر کتنے ہی زخم ہیٕ مرے اک زخم میں چھپے کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیبؔ چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر |
|
|
|