|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
تم میری آنکھ کے تیور نہ بُھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھو گے تو یاد آؤں گا ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے صفحئہ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح تم اگرخود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا سرد راتوں کے مہکتے ہوئے سناٹوں میں جب کسی پھول کو چومو گے تو یاد آؤں گا آج تو محفلِ یاراں پہ ہو مغرور بہت جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا اب تو یہ اشک میں ہونٹوں سے چرا لیتا ہوں ہاتھ سے خود انہیں پونچھو گے تو یاد آؤں گا شال پہنائے گا اب کون دسمبر میں تمہیں بارشوں میں کبھی بھیگو گے تو یاد آؤں گا حادثے آئیں گے جیون میں تو تم ہو کے نڈھال کسی دیوار کو تھامو گے یاد آؤں گا اس میں شامل ہے میرے بخت کی تاریکی بھی تم سیاہ رنگ جو پہنو گے تو یاد آؤں گا
__________________
![]() میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (12-08-11), محمد یاسرعلی (13-08-11) |
| کمائي نے سیفی خان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 12-08-11 | نیلم خان | جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا | 20 |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
شکریہ کا شکریہ
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, magenta, ہوتے, گی, پہ, پھول, یاراں, مہکتے, آنکھ, آئیں, انداز, اندر, اشک, بکھر, تمہیں, جیون, خوشبو, دکھ, دیکھو, دیوار, رنگ, زیست, سیاہ, شامل, طرح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|