واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میگ کارنر > شمارہ




جمہوریت کےرِستے زخم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-02-11, 09:10 PM   #1
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 37
کمائي: 685
شکریہ: 3
8 مراسلہ میں 10 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جمہوریت کےرِستے زخم

جمہوریت کےرِستے زخم

ذوالفقار احمد خان


پاکستان کو آزاد ہوئے تریسٹھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ شروع دن سےہی پاکستان گھمبیر ملکی اور بین الاقوامی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ قومی سطح پر کوئی ٹھوس اور پائیدار منصوبہ بندی نہ ہونے اور حکومتوں کی نا اہلی کے باعث ان مسائل میں کمی کی بجائے روز افزوں خوفناک اضافہ ہو رہا ہے۔ دیگر مسائل کی اہمیت اپنی جگہ! لیکن میں جس مسئلے کو یہاں زیر بحث لانا چاہتا ہوں وہ میرے خیال سے نہایت اہم بھی ہے اور قابل غور و فکر بھی۔ کسی بھی ملک کا آئین اس ملک کے نظامِ حکومت اور اس کے شہریوں کی امنگوں اور خواہشات کا مظہر ہوتا ہے اور انکی شہری آزادیوں، ان کے بنیادی انسانی حقوق، انکے مذہبی عقائد، ان کی جانی اور مالی حفاظت اوراس ملک کی سالمیت کی ضمانت فراہم کرتا ہے عدالت عالیہ کو آئین کی ماں اس لئے کہا جاتا ہے کہ جیسے ماں (ایک خونخوار شیرنی کی طرح) اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے اسی طرح عدلیہ کے فرائض میں آئین کی حفاظت کا کردار اہم ترین ہوتا ہے کیونکہ آئین ہی ایک ایسی ڈوری ہوتی ہے جو ملک کے ہر مذہبی مسلک، ہر صوبے، ہر قومیت اور تمام مختلف زبانیں بولنے والوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیتی ہے۔ ایک آزاد عدلیہ کے بغیر آئین کی حیثیت ردّی کے ایک ٹکڑے سے بھی کم تر رہ جاتی ہے اسی لئے ججوں کی تعیناتی کے وقت اس امر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ انکی قابلیت، غیر جانبداری، حق پرستی، جراٗت اور شہرت ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہو کیونکہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کو ایک جمہوری نظامِ حکومت کے تین بنیادی ستون کہا جاتا ہے اور ان کے درمیان اختیارات میں توازن قائم رکھنے کیلئے ایک آزاد عدلیہ کا رول ناگزیر بن جاتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی عدلیہ نہ صرف پاکستان کے شہریوں کے بنیادی جمہوری اور انسانی حقوق کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ جب بھی پاکستان کے سول اور فوجی طالع آزماؤں نے ملک کے آئین کی دھجیاں بکھیریں، شہری آزادیاں سلب کیں اور انکے بنیادی انسانی حقوق پامال کئے تو ہمارے ججوں نے ہمارے آئین اور عوامی خواہشات کی بجائے غاصب اور ظالم حکمرانوں کا ساتھ دیا اور ایسے ایسے فیصلے دیئے جن سے نہ تو عوام کو انصاف مل سکا نہ ملک کے جمہوری اداروں کو استحکام نصیب ہو سکا اور نہ ہی ملک میں جمہوریت پنپ سکی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ایک پاکستان کے مساوی شہری ہونے کی بجائے مختلف صوبوں، زبانوں اور قومیتوںمیں تقسیم ہو کر آپس میں ہی ایک دوسرے کیخلاف صف آراء ہو گئے ۔ پھر وہی ہوا جو ہونا تھا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ 1971 کے مشرقی پاکستان کے سانحے میں ہمارے سیاستدانوں کی حماقتوں کیساتھ ساتھ ہماری عدلیہ کے غلط اور بے تُکے فیصلوں کا بھی ہاتھ تھا۔ آئین اور ملکی قوانین کی پابندی ہر شہری بشمول صدر مملکت اور وزیر اعظم پر لازم ہوتی ہے ۔اگر کوئی آئین اور قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرتا ہے تو اُس پر عدالت میں مقدمہ چلا کر جرم کی نوعیت کے مطابق مقرر کردہ سزا دی جاتی ہے جس کا اولین مقصد یہ ہوتا ہے کہ ریاست کا کوئی بھی شہری خود کو قانون سے بالا تر نہ سمجھے اور پوری ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم ہو۔ اس مقصد کے لئے ہر ملک میں چھوٹی بڑی عدالتیں قائم ہوتی ہیں جو مجرموں کوملکی آئین اور قانون کے مطابق قصور وار ٹھہرا کر سزا کا فیصلہ سنا تی ہیں۔ اگر ہم پاکستان کی تاریخ کا بنظر عمیق جائزہ لیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے ملک کے اربابِ بست وکشاد سر ِعام آئین اور قانون کو پائوں تلے روندتے چلے آئے ہیں۔ 1954 کی بات ہے جب گورنرجنرل ملک غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو ایسےوقت ختم کر دیا جبکہ اُنھیں پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی۔ اس طرح عوامی امنگوں اور خواہشات اور جمہوریت پر پہلا آمرانہ وار کیاگیا۔ گورنر جنرل کے اس غیر آئینی اقدام کو اُس اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیزالدین نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تو گورنر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے دیا گیا۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تو چیف جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں(جسٹس اے آر کارنیلیس کے سوا) تمام ججوں نے اپیل منظور کرتے ہوئے گورنر جنرل کے اسمبلی توڑنے کے فیصلے کو درست قرار دے دیا ۔وجہ یہ بتائی گئی کہ ملک میں ابھی کوئی آئین نہیں ہے اور تمام ملکی امور انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت چلائے جارہے ہیں اور اس ایکٹ کے تحت ملکہ برطانیہ کو اپنی صوابدید کے مطابق اسمبلی توڑنے کا اختیار حاصل ہے اور چونکہ گورنر جنرل ملکہ کا نمائندہ ہوتا ہے اس لئے اسے بھی یہ اختیار مل جاتا ہے۔ حالانکہ برطانیہ کی اپنی تاریخ میں 1341 ؁ءکے بعد کسی بادشاہ یا ملکہ نے کبھی بھی یہ اختیار استعمال کرنے کی جرأت نہیں کی تھی ۔پاکستان کے ایک سابق بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھتے ہیں کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران ان کا ایک جونیئر افسر ان کی اجازت کے بغیر لاہور عدالت عالیہ میں جایا کرتا تھا اور چیف جسٹس محمد منیر اور گورنر جنرل ملک غلام محمد کے درمیان مسلسل پیغام رسانی کے فرائض سر انجام دیا کرتا تھا۔ اسکے بعد اکتوبر 1958 میں ملکی حالات کچھ یوں تھے کہ 1956 کا آئین نافذ ہو چکا تھا اور اسکے تحت فروری 1959میں عام انتخابات کروانے کا اعلان بھی ہو چکا تھا اور اُمید بندھ چلی تھی کہ اب ملک کے تمام جمہوری اداروں کو اپنا اپنا آئینی کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا مگر اس دفعہ ایک فوجی جرنیل ایوب خان نے کچھ دیگر جرنیلوں کیساتھ سازش کرکے 7 اور 8 اکتوبر کی درمیانی شب آئین معطل کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور اقتدار پر قابض ہو گیا ۔فوجی جرنیلوں کے اس غیرآئینی اقدام کیخلاف اسمبلی کے ایک ممبر نے عدلیہ سے رجوع کیا ۔یہ مقدمہ دوسو کیس کے نام سے مشہور ہے ۔ اس دفعہ بھی جسٹس محمد منیر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس تھے اور اس دفعہ انہوں نے قانونِ ضرورت کا سہارا لیتے ہوئے مارشل لاء کو قانونی قرار دے دیا اور منطق یہ نکالی کہ ً ایک کامیاب فوجی بغاوت خود ہی اپنے قانونی ہونے کا جواز بن جایا کرتی ہے ۔ ملک کی سلامتی، صوبوں کے درمیان مخاصمت اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تیز کرنے اور جمہوری عمل کی جڑیں کاٹنے کیلئے جمہوری اداروں پر عدلیہ کا یہ دوسرا وار تھا۔ اس غیر آئینی فیصلے نے جنرل ایوب خان کی حکومت کو وقتی طور پر سہارا تو دے دیا مگر اس سے جو نقصان ملکی سلامتی کو ہوا اس کا ازالہ نا ممکن تھا ۔جسٹس منیر کو بھی اپنے غلط فیصلوں کا ہمیشہ احساس رہا اور 1960 میں انکی ریٹائرمنٹ کے بعد جب لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے انہیں ایک ظہرانہ دیا گیا تو وہاں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا فیصلہ دینے کا کیا فائدہ ہے جس پر عمل در آمد ممکن نہ ہو؟ سید حسین شہید سہروردی پاس ہی بیٹھے تھے انہوں نے فوراً کہا کہ مسٹر جسٹس منیر آپ چوری اور سینہ زوری کی باتیں مت کریں ۔عدلیہ کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد بھی کروائے کیونکہ یہ ذمہ داری انتظامیہ کی ہوا کرتی ہے عدلیہ کا فریضہ صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ملکی قانون اور آئین کے مطابق درست فیصلے کرے۔ جنرل ایوب کے بنائے ہوئے 1962 کے آئین کے مطابق صدر کی غیر موجودگی یا دستبرداری کی صورت میں قومی اسمبلی کا سپیکر خود بخود ملک کا قائم مقام صدر ہونا چاہیے تھا مگر مارچ 1969 میں جنرل ایوب خان کو برطرف کرکے ایک اور فوجی جرنیل یحییٰ خان 1962 کے آئین کو توڑ کر خود اقتدار پر قابض ہو گیا۔ اس غیر آئینی اقدام کیخلاف ملک غلام جیلانی مرحوم نے اپنی بیٹی عاصمہ جیلانی کے نام سے عدالت عالیہ میں ایک رٹ داخل کی کہ جنرل یحییٰ خان پر آئین سے غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا جایا جائے مگر عدلیہ نے اس کیس کو کئی سال دبائے رکھا ۔ یہاں تک کہ دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا اور مغربی پاکستان میں ذوالفقارعلی بھٹو اقتدار میں آ گئے۔ تب جا کر کہیں عدلیہ نے چیف جسٹس حمود الرحمان کی سربراہی میں فیصلہ دیا کہ جنرل یحییٰ خان غاصب تھا مگر کسی حکومت اور کسی عدلیہ کو جراتٔ نہ ہوئی کہ غاصب کیلئے موت کی سزا بھی تجویز کر سکے ۔اسکے بر عکس اگست 1980 میں اپنی موت تک جنرل یحییٰ خان بڑے مزے سے اپنے فوجی اور صدارتی لوازمات وصول کرتا رہا یہاں تک کہ اسکے مرنے پر اسے پورے فوجی اعزاز کے ساتھ 21 توپوں کی سلامی دے کر دفن کیا گیا۔
جولائی 1977 میں ایک اور فوجی جرنیل ضیاالحق نے 1973 کے آئین کو معطل کرکے ایک منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا اور بھٹو کو نظر بند کرکے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ان کی بیگم نصرت بھٹو نے جنرل ضیا کے اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کیخلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا ۔اس وقت جسٹس یعقوب علی چیف جسٹس تھے۔ جنرل ضیا کو معلوم تھا کہ وہ آئین کے پابند جج ہیں اور اسکے اقتدار پر غاصبانہ قبضے کو غیر آئینی قرار دے دینگے چنانچہ اس نے جسٹس یعقوب علی کو بر طرف کرکے انکی جگہ اپنے ایک قابلِ اعتماد اور پسندیدہ جج انوارالحق کو چیف جسٹس بنا دیا ۔ان کی عدالت نے جنرل ضیا کے مارشل لاء کو قانونی لبادہ پہنانے کیلئے ایک انوکھی منطق نکالی کہ ً حالات ایسے ہیں کہ یا تو ان نئے اور بدلے ہوئے حالات (یعنی مارشل لاء) کیساتھ سمجھوتہ کر لیا جائے۔ اور یا جج عدالتیں چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ چنانچہ عدالتیں چھوڑ کر اپنے گھر جانے کی بجائے انہوں نے ریاستی ضرورت (State Necessity) کا فارمولا دریافت کرتے ہوئے جنرل ضیا کے مارشل لاء کو قانونی قرار دے دیا اور کہا کہ ایسا کرنا ملک اور قوم کے عظیم تر مفاد میں تھا۔ اس کے دو ہی سال بعد اسی چیف جسٹس کی عدالت نے قتل کے ایک کمزور مقدمے میں فروری 1979 میں 3 کے مقابلے میں 4 ججوں کی اکثریت سے ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل خارج کر کے انکی سزائے موت بحال رکھی اور 4 اپریل 1979کو انہیں پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاالحق زندہ بھٹو سے انتہائی خوف زدہ تھے اور ہر قیمت پر انہیں راستے سے ہٹانا چاہتے تھے اور یہ کام انہوں نے عدلیہ سے کروایا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری عدلیہ کے اسی قسم کے فیصلوں نے پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مستحکم نہیں ہونے دیا اور جنرل ایوب خان کے زمانے سے ہی پاکستان میں کچھ جرنیل، کچھ بیوروکریٹس، کچھ فیوڈل لارڈز اور کچھ صنعتکار اپنے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر جمہوریت اور عوام کے نام سے پاکستان پر ایک ایسا شاطرانہ اور آمرانہ نظام حکومت مسلّط کرتے رہے جس میں پاکستان کے عوام کا دور دور تک کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔اسی لئے ملک میں کوئی ایسا معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکا جس میں انہیں بھی کوئی معاشی یا سماجی انصاف مل سکتا۔ مفاد پرستوں کا یہ ٹولہ ملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور کِک بیک کمیشنوں کی وجہ سے اس قدر طاقتور بن گیا کہ ہمارے بیشتر ججوں نے بھی ان کے دباؤ میں آکر یہی وطیرہ اختیار کر لیا۔
اکتوبر 1999 میں ایک اور جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے منتخب وزیر اعظم میاں نوز شریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تو اس وقت سعیدالزمان صدیقی پاکستان کے چیف جسٹس تھے جنوری 2000 میں انہیں پی سی او (Provisional Constitutional Order) یعنی پاکستان کے آئین کی بجائے فردِ واحد (جنرل پرویز مشرف) کی وفاداری کا حلف لینے کیلئے کہا گیا تو انہوں نے انکار کردیا ان پر دباؤ ڈالنے کیلئے جنرل مشرف نے اپنے مرکزی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد اور بریگیڈیر جاوید اشرف کو ان کے گھر بھیجا اور انکے ڈرانے دھمکانے کے باجود جب وہ پی سی او کے تحت حلف لینے سے مسلسل انکار کرتے رہے تو انہیں ان کے گھر میں نظر بند کرکے ان کی جگہ جسٹس ارشاد حسن خان کو چیف جسٹس بنا دیا گیا انہوں نے بھی جنرل مشرف کے مارشل لاء کو قانونی لبادہ پہنا دیا۔
پاکستان میں جب بھی آئین توڑا گیا یا معطل کیا گیا تو ہر دفعہ فوجی جنتا نے پی سی او کے ذریعے پاکستان کے آئین کی بجائے عدلیہ کے تمام ججوں کو اپنی وفاداری کیلئے نئے حلف نامے لینے پر مجبور کیا تاکہ انکے لگائے گئے مارشل لاء کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔ جن چند ججوں نے انکار کیا انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا جنرل مشرف کے دور میں 30 جون 2005 کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس مقرر کیا گیا کچھ عرصہ تک تو وہ انتظامیہ کے دباؤ کے بغیر اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے لیکن وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور میں جب انہوں نے 200 کروڑ سے زیادہ مالیت کی پاکستان سٹیل ملز کو 20 کروڑ میں فروخت کرنے کے فیصلے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اسے روک دیا تو یہیں سے انکی انتظامیہ کیساتھ ٹھن گئی ۔اسکے بعد جب انہوں نے پانچ پانچ چھ چھ سالوں سے گمشدہ افراد کے وارثوں کی درخواستوں پر پوچھ گچھ شروع کی تو حکومت کی زیادتیوں کے بہت سے عقدے کھلنے شروع ہوگئے ۔جن سے معلوم ہوا کہ بغیرکسی قانونی کارروائی کے دو تین ہزار کے لگ بھگ بلوچستان اور دوسرے صوبوں سےگرفتار کئے جانیوالے یہ افراد یا تو حکومتی ایجنسیوں کی حراست میں ہیں یا پاکستان کے اندر امریکی خفیہ کیمپوں میں بے یارومددگار پڑے ہیں۔ ان میں سے 100 سے زائد افراد بازیاب بھی کروائے گئے مگر جب ان واقعات کی میڈیا میں تشہیر ہوئی تو پاکستانی اور امریکی حکومتوں کی بہت سبکی ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عدلیہ سے نکال کر کسی اور من پسند جج کو چیف جسٹس بنایا جائے۔
چنانچہ 7 مارچ 2007 کو انہیں چکلالہ کے آرمی ہاؤس میں طلب کیا گیا جہاں جنرل مشرف اورچار دوسرے باوردی جرنیلوں کی موجودگی میں انہیں ہراساں کیا گیا اور چند بیہودہ الزامات کی بنا پر ان سے زبردستی استعفیٰ لینے کی کوشش کی گئی مگر پانچ گھنٹوں کے مسلسل دباؤ کے باجود انکے انکار پر انہیں معطل کر دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقع تھا کہ ایک نہتا جج پانچ باوردی اور طاقتور جرنیلوں کے سامنے ڈٹ گیا ۔ان الزامات کو جب سپریم کورٹ میں لایا گیا تو وکلاء برادری کو بھی حوصلہ ملا اور کئی سینئروکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کی سربراہی میں جسٹس افتخار چوہدری کی طرف سے صفائی پیش کرنے کیلئے تیار ہو گئے اور اس کیساتھ ہی ملک بھر کے وکلاء عدلیہ کی آزادی کیلئے متحرک ہو گئے ۔جسٹس خلیل رمدے کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے 20 جولائی 2007 کو جسٹس افتخار کیخلاف تمام الزمات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں چیف جسٹس کے طور پر بحال کر دیا۔
انتظامیہ کے دباؤ کی پرواہ کئے بغیر ایک آزاد عدلیہ کے طور پر فیصلہ دینے کا یہ ایک بینظیر کارنامہ تھا ۔لیکن ہماری انتظامیہ کو کٹھ پتلی ججوں کے ذریعے اپنی من مانیاں کرنے کی لَت پڑ چکی تھی۔ چنانچہ جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایک مِنی مارشل لاء کے ذریعے پہلے تو آئین معطل کیا اور اسکے بعد جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے سوا سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو انکے اہل خانہ سمیت انکے گھروں میں نظر بند کر دیا اور ایک اور پی سی او کے ذریعے ملک بھر کے 60 سے بھی زیادہ ججوں کو فارغ کر دیا ۔پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ ایسی ڈھٹائی کیساتھ تھوک کے حساب سے اتنے سارے ججوں کو ایک ہی وقت میں نکالا گیا۔ ردِعمل کے طور پر عدلیہ کی آزادی اور جسٹس افتخار محمد چوہدری اور انکے ساتھیوں کی بحالی کیلئے پاکستان کے ایک لاکھ وکلاء کی جو تحریک مارچ 2007 کو شروع ہو چکی تھی اس میں اور بھی تیزی آئی ۔ملک کے ہر صوبے اور ہر ضلعے میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ شروع کیا، بھوک ہڑتالیں کیں، جلوس نکالے جن میں ان پر سخت لاٹھی چارج ہوئے، انکے خون بہے، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا مگر انکے عزم اور انکی تحریک میں کوئی کمزوری نہیں آئی اور ملک بھر کے سیاسی کارکن، سول سوسائٹی کے افراد، چھوٹے موٹے تاجر اور محنت کش افراد جو انتظامیہ کی ہر روز کی زیادتیوں سے تنگ آئے بیٹھے تھے وہ بھی وکلاء کی تحریک میں شامل ہوگئے۔ اس دوران انتخابات کا اعلان ہوا ۔پیپلز پارٹی کی محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی جسٹس افتخار محمد چورہدری کی بحالی کا وعدہ کیا ،مسلم لیگ(ن) کے میاں نواز شریف نے تو انتخابات میں حصہ ہی ایک نکتے پہ لیا کہ وہ جسٹس افتخار محمد چوہدری اور تمام معطل ججوں کو بحال کروائیں گے ۔انتخابات کے دوران بینظیر بھٹو کی شہادت کے باوجود پیپلز پارٹی کو ملک بھر میں سب سے زیادہ نشستیں ملیں۔ آصف علی زرداری ملک کے صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بن گئے۔ مسلم لیگ(ن) گو دوسرے نمبر پر رہی مگر پنجاب میں اسے زبردست کامیابی حاصل ہوئی جہاں اسکی حکومت بھی قائم ہوئی دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان کئی تحریری اور زبانی معاہدے ہوئے کہ افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججوں کو بحال کیا جائیگا مگر آزاد عدلیہ کے خوف کی ماری پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے وعدے وفا کرنے کی بجائے جنرل مشرف ہی کی امریکہ نواز پالیسیوں پر گامزن رہنے میں عافیت سمجھی۔
دوسری طرف پاکستان بھر کے وکلاء، سول سوسائٹی، مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف، جماعت اسلامی سمیت اور کئی جماعتوں کو غالباً اس حقیقت کا ادراک ہو چکا تھا کہ جب تک عدلیہ آزاد نہیں ہوگی ملک کے جمہوری ادارے مستحکم نہیں ہو سکیں گے، لوگوں کو انصاف نہیں مل سکے گا، ملک میں امن و امان قائم نہیں ہوسکے گا، ملکی ترقی کیلئے کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو سکے گی اور کوئی بھی سرمایہ کار خوف کے مارے پاکستان کا رُخ نہیں کرے گا، نہ ہی ملک سے غربت ختم ہوگی اور نہ ہی عوام کے کوئی مسائل حل ہو سکیں گے ۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جب حکومت پر وعدے کے مطابق عدلیہ کو بحال کر نے کےلئے دبائو ڈالا تو پنجاب میں اپنی حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ردِ عمل کے طور پر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف میدان میں اُترے ۔ گو کہ اس کے پیچھے جو رد ِعمل کار فرما تھا وہ پنجاب میں
حکومت کے جانے کا تھا۔ لیکن ان دونوں بھائیوں کے میدان میں اترتے ہی ججز بحالی کی تحریک میں نئی جان پڑ گئی۔
چنانچہ ۱۶ مارچ ۲۰۰۹ کی شام میاں برادران کی قیادت میں عوام کا ایک جم غفیر لاہور سے اسلام آباد کی طرف چلنا شروع ہوا۔ یہ جلوس ابھی گوجرانوالہ بھی نہ پہنچنے پایا تھا کہ اسلام آباد کے محلوں کے درودیوار ہل گئے ۔ اور صدر و وزیراعظم نے بادل نخواستہ ججز بحالی کا اعلان کر دیا۔ یوں ججز بحالی کی یہ تحریک اپنے منقی انجام کو پہنچی۔ جس میں باامر مجبوری میاں برداران کا سب سے بڑا ہاتھ تھا۔ اگر یہ دونوں بھائی پنجاب کی حکومت ٹوٹنے سے پہلے ججز بحالی کےلئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرتے تو اُنہیں قوم کے ہیرو کا مقام ملتا لیکن حیف صد حیف کہ جب بھی قومی مفاد کا کوئی کارنامہ سرانجام پاتا ہے تو اُس کے پیچھے ہمارے ان بڑوں کا کوئی نہ کوئی ذاتی مفاد چھپا ہوتا ہے۔ تا ہم ججز کی بحالی پاکستانی عوام کی امنگ تھی ، ایک خواب تھا جسے تعبیر ملی اور پاکستان میں ایک آزاد عدلیہ کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔
گورنر جنرل ملک غلام محمد کے آمرانہ اقدام سے لے کر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پرشبخون مارنے تک پاکستان میں جمہوریت کو پے درپے چرکے لگتے رہے۔ اگر پاکستان کی عدلیہ آزاد ہوتی یا آئین اور قانون کی بالا دستی قائم ہوتی تو کسی کو آمرانہ اقدامات کی جراٗت نہ ہوتی۔ یا اگر کسی ایک پر آئین کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ چلا کر سزا دی جاتی تو آمریت کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملتا۔ لیکن ان چاروں جرنیلوں نے اقتدار میں آنے کے بعد عدالتوں سے اپنے غیر آئینی اقدام کو جائز قرار دلوایا اور خود کو ہر قسم کی قانونی گرفت سے آزاد کروا کر عدلیہ کو تابع فرمان بنا کر رکھا۔ اور اس کی آڑ میں مخا لفین کو ہراساں کرنے اور کھڈے لائین لگانے کے لئے آئین میں اپنی مرضی کی ترامیم کروائیں اور صرف یہیں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ذاتی مفاد کی راہ میں آنے والی ہر آئینی اور قانونی رکاوٹ میں ترمیم کر دی جاتی۔ یوں گزشتہ باسٹھ سالوں سے پاکستان میں آئین اور قانون کو وقفوں وقفوں سے لتاڑا جا رہا ہے۔ اور ایسا صرف جرنیلوں ہی نہیں کیا بلکہ سولین صدور ، وزرا ءاعظم اور اعلیٰ حکام بھی پیش پیش ہیں۔ عدالتیں حکومتوں کے دبائو میں آ کر بے بس ہو جاتی ہیں اور اُن کی مرضی کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔
ججز کی بحالی کے بعد گو کہ عدلیہ آزاد ہے لیکن حکومت وقت اپنی مرضی یا ذاتی مفاد کے خلاف ہونے والے فیصلوں پر نہ صرف عمل کرنے میں پس و پیش کا مظاہرہ کرتی ہے بلکہ عدلیہ کو آنکھیں دکھاتی ہے اور مختلف حیلوں بہانوں یا ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ مندرجہ بالا بحث سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ پاکستان میں جمہوری کلچر کے پروان چڑھنے میں سب سی بڑی رکاوٹ ہمارے سیاستدان اور جرنیل ہیں۔ جن کا ایجنڈا ملک کو صیحح سمت پر ڈالنے کی بجائے اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اور اس مقصد کےلئے وہ آئین و قانون کو پائوں تلے روندنے سے کبھی نہیں ہچکچاتے۔عوامی جلسوں میں سادہ لوح عوام کو جمہوریت کا راگ الاپ کر اپنا حمایتی اور ووٹر بنا لیتے ہیں لیکن بذات خود جمہوری اقدار کا احترام نہیں کرتے اور نہ ہی عوام کی جمہوری خطوں پر تربیت کی کوئی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً پاکستان میں جمہوریت پر سیاستدانوں اور جرنیلوں کے لگائے ہوئے گہرے زخموں سے خون مسلس رِس رہا ہے بلکہ جب بھی انہیں موقع ملتا ہے تو زخم خوردہ جمہوریت کے جسم میں پورے زور کے ساتھ چھرا گھونپ دیتے ہیں۔
ایڈیٹر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, کورٹ, پاکستانی, پسندیدہ, واقعات, وزیر, وزیراعظم, قدرت اللہ شہاب, نواز شریف, موت, منصوبہ, ممکن, ماں, مسائل, معلوم, معاشرہ, انتظامیہ, امریکہ, بے نظیر, بچوں, جرم, دریافت, ذوالفقار علی بھٹو, زرداری, صدارتی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
امتیاز صفدر وڑائچ کا ہوائی فائر نگ سے استقبال ،دوجیالے اسلحہ سمیت گرفتار جاویداسد خبریں 0 03-12-10 02:39 PM
جہاد مین نیت کی درستگی پیاسا جہاد 3 16-08-08 12:32 PM
اصلی جمہوریت کا مستقبل راجہ صاحب سیاست 2 10-04-08 12:41 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:47 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger