|
|
#1 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 37
کمائي: 685
شکریہ: 3
8 مراسلہ میں 10 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یومِ پاکستان
سکوت بزم جہاں پارہ ہوگیا آخر کہ خاک فکرو نظر زیست کا شرار ہ بنی جلا کر رکھ دیا جس نے نشیمن افرنگ اک عزم تازہ ہوا اْستوار آج کے دن 23 مارچ کے تاریخی دن نے مسلمانوں کی قسمت بدل دی ۔ اس دن کا سورج ان کے لئے حیات نو کی نوید لے کر ابھرا اور انہیں زندہ اور عزت دار قوموں کی صف میں کھڑے ہونے کے قابل بنایا۔ اس دن کے پس پردہ انسانی عظمت و ہمت کی لازوال داستان اپنی تمام تر تابناکیوں کے ساتھ کون و مکاں کے افق پر تاحال تاباں و درخشاں اور تاریخ انسانی کا عظیم اور سنہری باب ہے۔ جس میں ہمارے آباء و اجداد کے پختہ ارادوں اور جدوجہد کی تکمیل اور قربانیوں کی تفصیل رقم ہے۔ انہی کارناموں کی بدولت آج کی نسل ایک آزاد ملک کی آزاد فضا میں سکون کا سانس لے رہی ہے۔ نسل نو کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اس آزادی اور سکون کا حصول کتنی جانی اور مالی قربانیوں کے بعد ممکن ہوا۔ اس کے لئے کتنی خون کی ندیاں بہائی گئیں۔ کتنی عزتوں کو پامال کیا گیا۔ کتنے لاکھ پروانوں کے خون سے پاکستان کی شمع روشن ہوئی۔ جس کے اْجالے میں آج ہم سب اپنی منزل اور نئے آفاق کی جانب گامزن ہیں۔ مسلمانان ہند ۲۳مارچ۱۹۴۰ ء کے مقام تک کیسے پہنچے ؟ یہ تاریخی معرکہ کیسے سر کیا؟ اس کے لئے ضروری ہے کہ اس واقعہ کا تاریخی پس منظر بیان کیا جائے۔ انگریزوں نے تجارتی مقاصد کے نام پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعہ ہندوستان میں اپنے قدم جمائے اور ۱۸۵۷ ء تک پورے برصغیر پر اپنا سیاسی تسلط قائم کر لیا اس طرح ہندوستان کو باضابطہ طور پر تاج برطانیہ کے ماتحت کر دیا گیا۔ بنگال میں نواب سراج الدولہ کی شکست اور ٹیپو سلطان کی شہادت میسو ر کی اسلامی ریاست کے خاتمے کا سبب بنی اور مسلمانوں کا ایک ہزار سالہ دور حکمرانی ختم کر دیا گیااور ان کی قسمت پر غلامی کی مہر ثبت ہوگئی۔ جب مسلمانوں کو بغاوت کا مْرتکب قرار دے کر من حیث القوم ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جانے لگا تو ایسے نازک موڑ پر سرسید احمد خان نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے خواب کی تعبیر کا بیڑہ اٹھایا انہوں نے 1857ء میں علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کو جدید علوم سے روشناس کرا کر ان کی عظمت اور خود اعتمادی کو بحال کیا۔ اس کے نتیجے میں 1906ء میں مسلم لیگ قائم ہوئی جب مسلم قائدین نے یہ محسوس کیا کہ ہندو اکثریت انہیں متحدہ ہندوستان میں باعزت زندگی گزارنے اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کو پروان چڑھنے نہیں دے گی تو بالآخر 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ جسے مولوی فضل الحق نے پیش کیا اور قائدآعظم کی سربراہی میں مسلم لیگ نے مسلمانان ہند کے لئے آزاد زندگی گزارنے کی جدوجہد کا ایک نیا راستہ کھول دیا۔ ایک روشن نصب العین سامنے آگیا۔ اس قرار داد نے ہندوؤں اور کانگرس کے ذہنوں میں ایک نئے اندیشے کا بیج بو دیا انہوں نے بوکھلا کر اس قرار داد کو شدت سے برا بھلا کہا۔ ہندوؤ ں اور کانگرس کی کاروائیوں کا سب سے پہلا نشانہ قائدآعظم بنے لیکن قائداعظم نے ان کی اس دشمنی کو کوئی اہمیت نہ دی بلکہ وہ بڑے وقار، اعتماد، حوصلے اور خوشی کے ساتھ منزل کے حصول کے لئے بڑھتے رہے ۔ آپ نے اپنے سیکرٹری ایم ایچ سید سے علامہ اقبال کے بارے میں کہا "گو آج اقبال ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن اگر آج وہ زندہ ہوتے تو یہ دیکھ کر یقینا خوش ہوتے کہ انہوں نے ہمارے بارے میں جو چاہا تھا وہ ہم نے کر دکھایا ہے " اس طرح جو سفر 1857ء میں ہندوستان کے مسلمانوں نے شروع کیا تھا وہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو قرار داد کی شکل میں منظور ہوا اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان بن گیا۔ 23 مارچ کا دن ہمیں اس عہد وپیمان کی یاد دلاتا ہے جسے ہمارے آباو اجداد نے اپنے قیمتی خون سے تحریر کیا۔ کہ یہاں اسلامی معاشرے کا قیام عمل میں لایا جائے گا ہم اس آزاد دھرتی کی مانگ کو اپنے خلوص و وفا اور چاہت کے جذبوں سے چار چاند لگائیں گے۔ آزادی کی نعمت اور عظمت کو پیش نظر رکھ کر اس کی تعمیر و ترقی اور تکمیل کے لئے اپنی جان ، مال اور وقت قربان کر دیں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو امن ، چین اور سکون نصیب ہوسکے۔ اس پاک سرزمین کی خوبصورت وادیاں، پھولوں اور پھلوں سے لبریز باغات اور لہلہاتے کھیت یْونہی سرسبز و شاداب رہیں گے یہ بلندو بالا پہاڑ، دلفریب نظارے، کانوں میں روح پرور موسیقی کا رس گھولتی آبشاریں ، یہ حد نظر تک پھیلے میدانوں کے خطے یوں ہی سلامت رہیں گے۔ ہماری روحوں اور ہمارے اسلاف نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس آزاد سر زمین پر گلشن اسلام کی آبیاری کریں گے اس پاک وطن کو تمام عالم میں اسلام کا مضبوط قلعہ بنائیں گے۔ 23 مارچ 1940ء کو شروع ہونے والی تحریک حریت ایک سیل رواں بن گئی جس سے علامہ اقبال کے خواب کو تعبیر ملی۔ قائدآعظم محمد علی جناح کی انقلاب پرورشخصیت اور ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان کو پیکر حقیقی میسر آیا۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا خاص فضل و انعام ہے اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ 14 اگست 1947ء کا آفتاب آزادی کی خوشخبری کے ساتھ طلوع ہوا۔ خطہء ارض پر ایک خوبصورت پاکستان وجود میں آگیا۔ لیکن یہ حصول آزادی ابھی حقیقی اسلامی نظریے کی تکمیل کا آغاز تھا۔ یہ تکمیل موجودہ باشعور نسل پر تاحال فرض ہے۔ 23 مارچ مسلمانوں کی مذہبی، معاشرتی اور تہذیبی آزادی کی جدوجہد اور تجدید عہد کا دن ہے جس کا مطلب ہے ہم آزاد وطن میں اپنی زندگیوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں گے آنے والی نسلوں اور تمام دنیا کو اس کے امن و سلامتی والے راستے سے متعارف کروائیں گے اس کے گرانقدر اصولوں کو اپنا کر دنیا کو امن و محبت کا گہوارہ بنائیں گے۔ تاکہ چارسْو اسلام کی سچی خوشبْو پھیل کر رہے۔ وطن کی آزادی کے بعد ہمیں ہرگز یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری حقیقی منزل اور نظریے کی تکمیل ہو گئی ہے بلکہ آج ہمیں اس بات کا عہد وپیمان کرنا ہے کہ ہم نے نظریہ اسلام کی تکمیل کے لئے پاکستان حاصل کیا تھا اور اﷲ تعالیٰ کے سچے دین اسلام کو عملی شکل میں یہاں نافذ کریں گے تاکہ 23 مارچ 1940ء کی تحریک حصول پاکستان تاریخ میں تکمیل پاکستان کے نام سے ثبت ہو جائے۔ انتخاب: زارا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, کالج, پاکستان, وفا, قائداعظم, قدم, چین, چاہت, نظر, موجودہ, ممکن, متعارف, محبت, آج, اسلامی, تاج, خون, خان, راستہ, زیست, زندگی, سفر, عہد, علی, عزت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| یوم آزادی مبارک۔۔میرا پاکستان میرے کیمرے کی آنکھ سے۔ | Farrukh | 14اگست | 0 | 15-08-10 12:53 AM |
| یومِ پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں | ھارون اعظم | میرا پاکستان | 14 | 29-03-10 10:31 PM |
| ’پاکستان دہشتگردی اور نیوکلئیر اسلحے کا چوراہا‘ | فیصل ناصر | عمومی بحث | 2 | 28-12-08 11:44 PM |
| آئی سی ایل: پاکستان الیون نے ورلڈ الیون کونو وکٹ سے ہرادیا | champion_pakistani | کرکٹ | 0 | 11-04-08 07:02 AM |