|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
شاہنواز فاروقی
ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔ مغربی ذہن ہرچیز کو طاقت کے نقطہ نظر سےدیکھتا ہے، یہاں تک کہ محبت کو بھی۔ اس سےاندازہ کیا جاسکتا ہےکہ مغربی ذہن جنگ کو کتنا ہولناک بناسکتا ہے…. بالخصوص امریکی ذہن۔ اس ذہن کے زیراثر اخبار کی شہ سرخی میزائل اور خبر کا متن بارودی سرنگوں سےبھرا ہوا میدان بن سکتا ہے۔ اس کا تازہ ترین ثبوت 26 اکتوبر کےروزنامہ ڈان کراچی کےصفحہ اوّل پر شائع ہونےوالی خبر ہے۔ شہ سرخی کےساتھ شائع ہونے والی خبر بابا فرید گنج شکر کےمزار پر ہونے والے بم ھماکےسےمتعلق ہے۔ کہنے کو خبر ڈان کے رپورٹر نےفائل کی ہےلیکن خبر کی شہ سرخی اور متن پڑھ کر خیال آتا ہےکہ خبر امریکی فوج کےکسی سپاہی نےسپردِ قلم کی ہوگی۔ اس کا پہلا ثبوت خبر کی شہ سرخی ہے۔ خبر اہم تھی اور تمام اخبارات نے اسےصفحہ اوّل پر شائع کیا ،لیکن ڈان کےسوا کسی اخبار نےبھی اسےشہ سرخی کےساتھ شائع نہیں کیا۔ روزنامہ جنگ کراچی نےخبر کو پانچ کالمی سرخی کےساتھ شائع کیا۔ دی نیوز کراچی نے اسے تین کالمی سرخی کےساتھ رپورٹ کیا ہے۔ روزنامہ جسارت کراچی نےاسےچار کالمی سرخی کےلائق سمجھا۔ لیکن اس پر شہ سرخی صرف روزنامہ ڈان نےلگائی۔ حالانکہ انگریزی اخبارات بالخصوص ڈان اس طرح کی خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ اہم بات یہ ہےکہ ڈان خبر کو شہ سرخی کے ذریعے میزائل بنا کر نہیں رہ گیا، اس نے اپنے سنجیدہ مزاج کےبرعکس سرخی کےالفاظ بھی چیختے چنگھاڑتے منتخب کیے ہیں۔ ڈان کی شہ سرخی یہ تھی: “Yet another shrine comes under attack” اس سرخی کے ذریعے رپورٹر نے صرف واقعے کو رپورٹ نہیں کیا بلکہ اس نے اپنے قاری کو یاد دلایا ہےکہ مزارات پر مسلسل حملے ہورہےہیں اور بابا فرید کےمزار پر حملہ اسی سلسلےکی تازہ ترین کڑی ہے۔ تجزیہ کیا جائےتو اس سرخی میں زرد صحافت کرنے والےاخبارات کی طرح کی سنسنی خیزی ہے اور کسی انگریزی اخبار کیا قومی نوعیت کے اردو اخبار سے بھی اس طرح کی سنسنی خیزی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس طرح کی خبر تحریر کرنے کا اصولی اور کلاسیکل طریقہ یہ ہےکہ خبر کا ایک جامع ابتدائیہ لکھا جائےجس میں خبر کےتمام اہم پہلوئوں کا احاطہ ہوجائے، اور پھر متن میں ابتدایئے کی تفصیلات دےدی جائیں۔ ڈان میں اکثر خبریں اسی طرح تحریر ہوتی ہیں، مگر زیر بحث خبر اس طریقےسے نہیں لکھی گئی۔ خبر کا ابتدائیہ ختم ہوا تو رپورٹر نے اپنےقارئین کو یاد دلانا ضروری سمجھاکہ یہ گزشتہ چار ماہ میں ہونے والا اس نوعیت کا تیسرا اور 2007ء سے اب تک ہونے والا پانچواں واقعہ ہے۔ رپورٹر چاہتا تو یہاں بات ختم کرکے ابتدایئےکی تفصیلات بیان کرتا، مگر اُس نےاس کےبعد مزارات پر ہونے والےتینوں حملوں کی تفصیلات تحریر کرڈالیں۔ بلاشبہ خبر میں اس طرح کی تفصیلات دی جاتی ہیں مگر خبر کے آخر میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر ”مثلثِ معکوس“ یا Inverted Pyramid کےاصول پر تحریر کی جاتی ہے۔ یعنی خبر کی سب سے اہم بات سب سے پہلےتحریر کی جاتی ہےاور پھر اہمیت کےاعتبار سےدوسری باتیں۔ لیکن ملک کےسب سےبڑی، سب سےاہم، سب سےسنجیدہ اخبار کا رپورٹر یہ خبر فائل کرتےہوئےخبر تحریر کرنےکےاصول کو یکسر بھول گیا۔ اِس سلسلےمیں اُس کی ساری دلچسپی یہ نظرآئی کہ اس کےقارئین خبر کی ابتداء ہی سے یہ باور کرلیں کہ دھماکا یقینا طالبان نےکیا ہےجو خون آشام ہیں، درندےہیں، مزارات کےدشمن ہیں، ان پر جانے والوں کو کافر سمجھتےہیں۔ تو کیا طالبان نے بم دھماکےکی ذمےداری قبول کی ہے؟ اس حوالےسے ڈان کے رپورٹر نےجو کچھ لکھا ہےاسے پڑھ کر بیک وقت رویا بھی جاسکتا ہےاور ہنسا بھی جاسکتا ہے۔ ڈان کےرپورٹر نےلکھا ہے: “No one claimed responsibility for attack, but in the past Taliban militants have been blamed for such attacks.” (ترجمہ) ”کسی نےحملےکی ذمےداری قبول نہیں کی تاہم ماضی میں طالبان کےجنگجوئوں پر اس طرح کےحملوں کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔“ تجزیہ کیا جائےتو ڈان کےرپورٹر نےالزام کو ”امر واقع“ کےانداز میں رپورٹ کرڈالا۔ پاکستان میں رائےعامہ کےدرجنوں رہنما کہہ رہےہیں کہ پاکستان میں جتنے بم دھماکے ہورہےہیں ان میں امریکا اور اس کےادارےملوث ہیں، مگر ہم نےڈان کی کسی خبر میں آج تک یہ نہیں پڑھا کہ ماضی میں اس طرح کے واقعات کا الزام امریکا پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ویسےخالص خبر یا Hard news میں کہیں بھی الزامات کا ذکر نہیں ہوتا۔ خبر میں الزام کا حوالہ آتا بھی ہےتو الزام لگانےوالےکا نام ساتھ لکھا جاتا ہے۔ ایسا اس لیےکیا جاتا ہےکہ الزام کا الزام اخبار کےبجائےالزام لگانےوالےکے سر جائے۔ لیکن ڈان کے رپورٹر کو طالبان سے ایسی نفرت ہےکہ اس نےیہ بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا کہ ماضی میں طالبان پر بم دھماکےکرنےکا الزام کون عائد کرتا رہا ہے؟ اگر یہاں یہ فرض کرلیا جائےکہ رپورٹر کا اشارہ حکومت کی طرف ہوگا، تو حکومت کےالزامات کا یہ حال ہےکہ وزیر داخلہ رحمن ملک نےعبداللہ شاہ غازی کےمزار پر حملہ کرنےوالوں کےنام جاری کیےمگر ایک دن بعد ہی معلوم ہوگیا کہ دونوں خودکش بمبار ”زندہ “ ہیں۔ ڈان کے رپورٹر کو داد دینی چاہیےکہ اس نےخودساختہ مذہبی انتہا پسندوں یا طالبان کا تعاقب خبر کی آخری سطروں تک کیا۔ خبر کی آخری سطروں کا ترجمہ یہ ہے: ”کہا جاتا ہےکہ پاک پتن میں واقع (بابا فرید کا) مزار لاہور کے داتا دربار کےبعد ملک کا مقدس ترین مزار ہے۔“ یہاں سوال یہ ہےکہ ان سطروں میں ”داد کےقابل“ بات کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہےکہ خبر میں صوفیائےکرام کےمزارات کو Revered یعنی ”مقدس“ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بجائےخود قابلِ اعتراض بات نہیں لیکن ڈان اپنے سیکولر کردار کےباعث مسلمانوں کےقبلہ اوّل کو بھی مقدس قرار نہیں دیتا۔ وہ فلسطینیوں کی جدوجہد کو قومی، سیاسی اور سیکولر جدوجہد باور کراتا رہا ہے، لیکن طالبان کےخلاف عوامی جذبات کو ابھارنے کےلیے اسے صوفیائےکرام کے مزارات میں بھی ”تقدس“ نظر آنےلگا ہے۔ امریکا نےخلیج کی پہلی جنگ ذرائع ابلاغ کی مدد سےلڑی اور جیتی تھی۔ وہ افغانستان کےخلاف جارحیت میں بھی ذرائع ابلاغ کی مدد سےکامیاب ہونا چاہتا ہے۔ لیکن ان دونوں مثالوں کا فرق یہ ہےکہ خلیج کی پہلی جنگ امریکا نے اپنےذرائع ابلاغ کی مدد سےجیتی تھی لیکن افغانستان کی جنگ میں مقامی ”سیکولر مجاہدوں“ کا کردار اہم ہے۔ مالکان اور صحافیوں کی صورت میں یہ سیکولر مجاہد اخبارات اور جرائد میں موجود ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی چینلوں میں موجود ہیں۔ امریکا کی طرح اس کےسیکولر مجاہدوں کو بھی معلوم ہےکہ امریکا افغانستان سے شکست کھا کر نکلےگا تو تاریخ بدل کر رہ جائےگی، چنانچہ وہ ایک ایک خبر اور ایک ایک تجزیے پہ جان لڑا رہےہیں۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (06-11-10), یاسر عمران مرزا (06-11-10), موجو (07-11-10), مرزا عامر (07-11-10), رضی (06-11-10), شمشاد احمد (07-11-10), عبدالقدوس (06-11-10), عبداللہ حیدر (06-11-10) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
قبر پر مزار تعمیر کرنے کی حرمت سے قطع نظرغور طلب بات ہے کہ طالبان نے افغانستان پر پانچ سال بلاشرکت غیرے حکومت کی۔ وہ چاہتے تو وہاں کوئی مزار سلامت نہ رہتا، بالکل اسی طرح جیسے بامیان کے بتوں کو صفحہ ہستی سے مٹاتے ہوئے انہیں پوری دنیا مل کر بھی نہ روک سکی تھی اور اس وقت انہوں نے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کی تھی۔ انکے اقتدار کے پورے دور میں مزارات تباہ کرنے کا ایک بھی واقعہ نہیں ملتا۔ اب جبکہ وہ ایک ایسی لڑائی لڑ رہے ہیں جس میں اللہ کے بعد انہیں مسلمانوں کی مدد اور دعاؤں کی ضرورت ہے تو وہ کوئی ایسا کام کیوں کریں گے جس سے ان کے پرجوش حامی بھی ساتھ چھوڑنے لگیں؟ بہت گہری سازشیں ہو رہی ہیں۔ یہ اطلاعات بھی آ چکی ہیں کہ علماء کا لبادہ اوڑھے کچھ لوگوں کو دیوبندی بریلوی فساد کرانے کے لیے باقاعدہ بھرتی کر لیا گیا ہے۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 06-11-10 at 02:03 PM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (06-11-10), یاسر عمران مرزا (06-11-10), مرزا عامر (07-11-10), احمد بلال (06-11-10), شمشاد احمد (07-11-10), عبداللہ آدم (06-11-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
عبداللہ آدم
عبداللہ حیدر عمدہ، بہت ہی عمدہ، تجزیہ اور تجزیے پر تبصرہ اگر امریکہ کے پاس سیکولر مجاہد ہیں تو ہمارے پاس ان سیکولر مجاہدوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ جیسے مجاہد بھی موجود ہیں۔ جزاک اللہ خیر۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (06-11-10), مرزا عامر (07-11-10), احمد بلال (06-11-10), شمشاد احمد (07-11-10), عبداللہ آدم (06-11-10), عبداللہ حیدر (06-11-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہیں کواکب کچھ "دکھائے جاتے " ہیں کچھ
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (07-11-10), احمد بلال (06-11-10), شمشاد احمد (07-11-10), عبداللہ آدم (06-11-10), عبداللہ حیدر (06-11-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ثبوت تو کئی نہیں بس یاداشات ہیں۔۔۔۔ میڈیا سے متعلقہ ساتھی جانتے ہوں گے۔۔۔ اور تھوڑی سے محنت سے اخبارات سے یہ تصویر نکال بھی سکتے ہیں۔۔۔۔ قصہ یہ ہے کہ۔
نواز شریف کے دور میں جب شری واجپائی پاکستان کے دور پر تشریف لائے تو ان کی سیکورٹی کا بہترین انتظام کیا گیا۔۔۔ اور اس کی خبریں اور تفصیلات اخبارات میں بھی شائع ہوتی رہیں۔۔۔ جیسا کہ عموما ایسا ہوتا رہتا ہے۔۔۔ دوسرے کے دوران ایک انگریزی اخبار(نام ٹھیک سے یاد نہیں) نے واجپائی کے سفری راستے کی سیکورٹی پر معمور ایک پولیس کے سپاہی کی تصویر شائع کی۔ جو کہ ہاتھ میں بندوق لئے چاق و چوبند اپنا فرض منصبی ادا کر رہا تھا۔۔۔۔۔ اس تصویر میں دوچیزیں اہم تھیں۔۔۔۔۔ ایک تو اس پولیس والے کی بالش بھر لمبی داڑھی۔۔۔ دوسرا تصویر کے نیچے دیا گیا کیپشن۔۔۔۔۔ جس میں لکھا تھا کہ واجپائی کی سیکورٹی پر معمول داڑھی والے مسلحہ پولیس مین اس تصویر کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ اس تصویر کا خاکہ ذہن میں بنائیں تو سوچیں۔۔۔۔ آپ کے ذہن میں کیا سوال پیدا ہوگا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا۔۔۔۔۔ کہ کیا اخبار ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ واجپائی کی سیکورٹی جن داڑھی والوں سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔۔۔۔ کہیں وہ پاکستانی سیکورٹی ایجنسی میں ہی موجود نہ ہوں۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے جب ایک شخص نے خیر سے اتنی لمبی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ تو اس کی کچھ وابستگیاں بھی ہوں گی۔۔۔ اس کے کچھ نظریات بھی ہوں گے۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (07-11-10), مرزا عامر (07-11-10) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہو سكتا ہے ميرے ا حساسات غلط ہوں۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (07-11-10), عبداللہ آدم (07-11-10) |
![]() |
| Tags |
| color, comes, hard, فرض, کراچی, پاکستان, واقعات, وزیر, نفرت, نیوز, نظر, محبت, معلوم, آج, الزام, اردو, تحریر, جواب, خون, خودکش, خبر, طالبان, صحافیوں, صحافت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| Kali Siradas System کے تحت سیلف ڈیفینس سیکھیں! | shafresha | کھیل اور کھلاڑی | 1 | 16-06-11 12:43 PM |
| حامد کاظمی، سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری وزارت مذہبی امور کے اکاﺅنٹس منجمد، نام ای سی ایل میں شامل | گلاب خان | خبریں | 0 | 15-12-10 04:52 AM |
| سینیٹر سیمیں صدیقی سے مغفر حسین کی ملاقات | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 02-07-08 01:01 PM |
| الطاف حسین کی ہدایت پر متحدہ کے پارلیمنٹیرین پبلک سیکریٹریٹ میں عوا می شکا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 19-04-08 04:16 AM |
| اپوزیشن بد نظمی اور تقسیم در تقسیم کا شکار بینظیر اور نواز شر یف کے در میان گھنٹوں بات چیت، بے اعتماد ی ختم نہیں ہو ئی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-11-07 08:07 AM |