13-03-10, 04:19 PM
|
#1
|
|
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ (حدیث 2(
باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ (حدیث 2(
- حدثنا عبد الله بن يوسف قال: أخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها: أن الحارث بن هشام رضي الله عنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، كيف يأتيك الوحي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أحيانا يأتيني مثل صلصلة الجرس، وهو أشده علي، فيفصم عني وقد وعيت عنه ما قال، وأحيانا يتمثل لي الملك رجلا، فيكلمني فأعي ما يقول).
قالت عائشة رضي الله عنها: ولقد رأيته ينزل عليه الوحي في اليوم الشديد البرد، فيفصم عنه وإن جبينه ليتفصد عرقا.
ترجمہ: ہم کو عبد اللٰہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، ان کو مالک نے ہشام بن عروہ کی روایت سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے نقل کی، انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللٰہ عنھا سے نقل کی۔ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے آنحضرت صلی اللٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ حضور آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گذرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تومیرے دل و دماغ پر (اس فرشتے( کے ذریعے نازل شدہ وحی محفوظ ہوجاتی ہے اوار کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللٰہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میںآنحضرت صلی اللٰہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com
ھارون اعظم کا بلاگ۔
|
|
|