13-03-10, 04:07 PM
|
#1
|
|
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟
باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟
حدثنا الحميدي عبد الله بن الزبير قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا يحيى بن سعيد الأنصاري قال: أخبرني محمد بن إبراهيم التيمي: أنه سمع علقمة بن وقاص الليثي يقول: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه علىالمنبر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرىء ما نوى، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها، أو إلى امرأة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه).
ترجمہ: ہم کو حمیدی نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے یہ حدیث محمد بن ابراھیم تیمی سے حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس حدیث کو علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا، ان کا بیان ہے کہ میںنے مسجد نبوی صلی اللٰہ علیہ وسلم میں منبر رسول صلی اللٰہ علیہ وسلم پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللٰہ عنہ کی زبان سے سنا، وہ فرمارہے تھے کہ میں نے جناب رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت (ترک وطن( دولت دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لئے ہوگی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔
صحیح بخاری، باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com
ھارون اعظم کا بلاگ۔
|
|
|