19-04-10, 11:35 PM
|
#1
|
|
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسجد میں حلقہ باندھ کر بیٹھنا اور یوں ہی بیٹھنا
مسجد میں حلقہ باندھ کر بیٹھنا اور یوں ہی بیٹھنا
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، أن أبا مرة، مولى عقيل بن أبي طالب أخبره عن أبي واقد الليثي، قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فأقبل ثلاثة نفر، فأقبل اثنان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وذهب واحد، فأما أحدهما فرأى فرجة فجلس، وأما الآخر فجلس خلفهم، فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ألا أخبركم عن الثلاثة أما أحدهم فأوى إلى الله، فآواه الله، وأما الآخر فاستحيا، فاستحيا الله منه، وأما الآخر فأعرض، فأعرض الله عنه ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہ کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ کے واسطے سے کہ عقیل بن ابی طالب کے غلام ابومرہ نے انھیں خبر دی ابوواقد لیثی حارث بن عوف صحابی کے واسطہ سے ، انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ تین آدمی باہر سے آئے ۔ دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضری کی غرض سے آگے بڑھے لیکن تیسرا چلا گیا ۔ ان دو میں سے ایک نے درمیان میں خالی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گیا ۔ دوسرا شخص پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا تو واپس ہی جا رہا تھا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ان تینوں کے متعلق ایک بات نہ بتاؤں ۔ ایک شخص تو خدا کی طرف بڑھا اور خدا نے اسے جگہ دی ( یعنی پہلا شخص ) رہا دوسرا تو اس نے ( لوگوں میں گھسنے سے ) شرم کی ، اللہ نے بھی اس سے شرم کی ، تیسرے نے منہ پھیر لیا ۔ اس لیے اللہ نے بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا ۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com
ھارون اعظم کا بلاگ۔
|
|
|