واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث > صحیح المسلم




دنیا ( کے مال ) کے ذریعہ آزمائش کے متعلق اور ( انسان ) کیسے عمل کرے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-08-10, 09:20 AM   #1
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,202
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Lightbulb دنیا ( کے مال ) کے ذریعہ آزمائش کے متعلق اور ( انسان ) کیسے عمل کرے ؟

دنیا ( کے مال ) کے ذریعہ آزمائش کے متعلق اور ( انسان ) کیسے عمل کرے ؟

مختصر صحیح مسلم
دنیا سے بے رغبتی اور دل کو نرم کرنےوالی باتیں
باب : دنیا ( کے مال ) کے ذریعہ آزمائش کے متعلق اور ( انسان ) کیسے عمل کرے ؟
2083 : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل کے لوگوں میں تین آدمی تھے، ایک کوڑھی سفید داغ والا، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانا چاہا کہ تو ان کے پاس فرشتہ بھیجا۔ پس وہ سفید داغ والے کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ تجھے کون سی چیز بہت پیاری ہے؟ اس نے کہا کہ اچھا رنگ اچھی کھال اور مجھ سے یہ بیماری دور ہو جائے جس کے سبب سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ پس اس کی بدصورتی دور ہوگئی اور اس کو اچھا رنگ اور اچھی کھال دی گئی۔ فرشتے نے کہا کہ تجھے کون سا مال بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اونٹ یا گائے۔ ( راوی حدیث اسحاق بن عبداللہ کو شک ہے کہ اس نے اونٹ مانگا یا گائے لیکن سفید داغ والے یا گنجے نے ان میں سے ایک نے اونٹ کہا اور دوسرے نے گائے )۔ پس اس کو دس مہینے کی گابھن اونٹنی دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ تیرے واسطے اس میں برکت دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا پس کہا کہ تجھے کون سی چیز بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اچھے بال اور یہ بیماری جاتی رہے جس کے سبب سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ پھر اس نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کو اچھے بال ملے۔ فرشتے نے کہا کہ تجھے کون سا مال بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ گائے۔ پس اس کو گابھن گائے دے دی گئی۔ فرشتے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تیرے مال میں برکت دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ تجھے کون سی چیز بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ میں بینائی کر دے تو میں اس کے سبب سے لوگوں کو دیکھوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اس کو بینائی دے دی۔ فرشتے نے کہا کہ تجھے کون سا مال بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ بھیڑ بکری۔ تو اس کو گابھن بکری ملی۔ پھر ان دونوں ( اونٹنی اور گائے ) اور اس ( بکری ) نے بچے دئیے۔ پھر ہوتے ہوتے سفید داغ والے کے جنگل بھر اونٹ ہو گئے اور گنجے کے جنگل بھر گائے بیل ہو گئے اور اندھے کے جنگل بھر بکریاں ہو گئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدت کے بعد وہی فرشتہ سفید داغ والے کے پاس اس کی پہلی صورت اور شکل میں آیا، اور کہا کہ میں محتاج آدمی ہوں، سفر میں میرے تمام اسباب کٹ گئے ( یعنی تدبیریں جاتی رہیں اور مال اور اسباب نہ رہا )، پس آج میرے لئے اللہ کی مدد کے سوا اور اس کے بعد تیری مدد کے بغیر منزل پر پہنچنا ممکن نہیں ہے، میں تجھ سے اس کے نام پر جس نے تجھے ستھرا رنگ اور ستھری کھال دی اور مال اونٹ دئیے، ایک اونٹ مانگتا ہوں جو میرے سفر میں کام آئے۔ اس نے کہا کہ مجھ پر لوگوں کے بہت حق ہیں ( یعنی قرضدار ہوں یا گھربار کے خرچ سے زیادہ مال نہیں جو تجھے دوں )۔ پھر فرشتہ نے کہا کہ البتہ میں تجھے پہچانتا ہوں بھلا کیا تو محتاج کوڑھی نہ تھا؟ کہ لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے، پھر اللہ نے اپنے فضل سے تجھے یہ مال دیا۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے تو یہ مال اپنے باپ دادا سے پایا ہے جو کئی پشت سے نقل ہو کر آیا ہے۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھے ویسا ہی کر ڈالے جیسا تو پہلے تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی صورت اور شکل میں آیا اور اس سے ویسا ہی کہا جیسا سفید داغ والے سے کہا تھا اور اس نے بھی وہی جواب دیا جو سفید داغ والے نے دیا تھا۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھے ویسا ہی کر ڈالے جیسا تو تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتہ اندھے کے پاس اس کی پہلی شکل و صورت میں گیا، اور کہا کہ میں محتاج آدمی ہوں اور مسافر ہوں، میرے سفر میں میرے سب وسیلے اور تدبیریں کٹ گئیں، پس مجھے آج منزل پر اللہ کی مدد اور اس کے بعد تیری مدد کے بغیر پہنچنا مشکل ہے۔ پس میں تجھ سے اس اللہ کے نام پر، جس نے تجھے بینائی دی، ایک بکری مانگتا ہوں تاکہ وہ میرے سفر میں کام آئے۔ اس نے کہا کہ بیشک میں اندھا تھا تو اللہ نے مجھے ( بینائی والی ) آنکھ دی، تو ان بکریوں میں سے جتنی چاہو لے جاؤ اور جتنی چاہو چھوڑ جاؤ۔ اللہ کی قسم ! آج جو چیز تو اللہ کی راہ میں لے گا، میں تجھے مشکل میں نہ ڈالوں گا ( یعنی تیرا ہاتھ نہ پکڑوں گا )۔ پس فرشتے نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس رکھو، تم تینوں آدمی صرف آزمائے گئے تھے۔ پس تجھ سے تو اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناخوش ہوا۔
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (07-08-10), محمدعدنان (06-08-10), مرزا عامر (07-08-10)
پرانا 06-08-10, 12:14 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,193
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ شاہد بھائی
بہت شکریہ شئیر کرنے کا
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-08-10, 11:09 AM   #3
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,202
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عدنان مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ شاہد بھائی
بہت شکریہ شئیر کرنے کا


اس تحریر کو پڑھنے، پسند کرنے اور حوصلہ بڑھانے کا بے حد شکریہ
اللہ پاک ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق دے، آمین

میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-08-10, 12:07 PM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایسے فرشتے آج کل کیوں نہیں ملتے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-08-10), نورالدین (07-08-10), میاں شاہد (07-08-10)
پرانا 07-08-10, 01:17 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

وجہ وہی ہے
اسرائیلی روایات اور کہانیاں
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-08-10, 01:33 PM   #6
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,202
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
وجہ وہی ہے
اسرائیلی روایات اور کہانیاں
محترم!
آپ کن اسرائیلی روایات اور کہانیوں‌کا تذکرہ کر رہے ہیں؟




بٹن دباکے
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-08-10), نورالدین (07-08-10), عبداللہ حیدر (07-08-10)
پرانا 07-08-10, 02:19 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Question


یہ ایک اختلافی موضوع ہے کہ بنی اسرائیل کے واقعات ہمارے احادیث تک کیسے پہنچے

اقتباس:
اسرائیلیات : ان روایتوں کو کہتے ہیں جو اہلِ کتاب ، یعنی یہودیوں اور عیسائیوں سے ہم تک پہنچی ہیں۔
پہلے زمانے کے مفسرین کی عادت تھی کہ وہ کسی آیت کے ذیل میں ہر قسم کی وہ روایات لکھ دیتے تھے جو انہیں سند کے ساتھ پہنچتی تھیں۔ ان میں بہت سی روایتیں اسرائیلیات بھی ہوتی تھیں۔
اس لیے ان کی حقیقت سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔
فی الحال چند سوالات ۔ ۔

اللہ نے صرف ان تین ہی کو کیوں آزمائش کے لیے چنا ۔
اور اتنے غیبی طریقے سے ۔
کیا من و سلویٰ کے واقعات کافی نہيں تھے ۔

اقتباس:
پس اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانا چاہا کہ تو ان کے پاس فرشتہ بھیجا۔
یہ فرشتوں کا عام انسانوں سے کلام کرنا
اور ان کو بغیر کسی ظاہری اسباب کےعطا کرنا
اقتباس:
کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ پس اس کی بدصورتی دور ہوگئی اور اس کو اچھا رنگ اور اچھی کھال دی گئی
اقتباس:
پھر اس نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کو اچھے بال ملے
اقتباس:
ہ پھر فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اس کو بینائی دے دی۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-08-10), مرزا عامر (07-08-10)
پرانا 07-08-10, 07:56 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ کے فرمان ، قرآن حکیم سے بہتر مثالیں۔

اللہ تعالی آزماتے ہیں۔ دعا کیجئے کہ اللہ تعالی آزمائش میں نہ ڈالیں۔
2:155 وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں



کس کس کی مدد کی جائے؟ مدد کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مال کمایا جائے۔ نا کہ کسی فرشتے کا انتظار کیا جائے۔
2:177 لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلآئِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّآئِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُواْ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَـئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ
نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں

اللہ تعالی کی راہ میں اپنا مال خرچ کیجئے۔ اس طرح آپ کے مال میں اضافہ ہوگا۔ اللہ تعالی کی راہ میں مال دینے کے لئے سورۃ البقرۃ ، آیت177 دیکھئے۔
2:261 مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
جو لوگ اﷲ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں)، اور اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے، اور اﷲ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے
2:265 وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور جو لوگ اپنے مال اﷲ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے آپ کو (ایمان و اطاعت پر) مضبوط کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی سطح پر ہو اس پر زوردار بارش ہو تو وہ دوگنا پھل لائے، اور اگر اسے زوردار بارش نہ ملے تو (اسے) شبنم (یا ہلکی سی پھوار) بھی کافی ہو، اور اﷲ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے

کیا مانگنے والے کو آدھی بکریاں دے دی جائیں یعنی حق نہ ہوتے ہوئے بھی اس کو مال کھلا دیا جائے؟ یا پھر اس سے کوئی تجارت کی جائے؟ کوئی کام کروایا جائے یا کوئی مال ہاتھ بدلے۔
4:29 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے

ایسے ملاء جو اس قسم کی حکایتوں‌کی مدد سے لوگوں کے ذہن ہموار کرتے ہیں اور پھر ان معصوم لوگوں سے ان کی دولت مانگتے ہیں ، کیا وہ اچھے لوگ ہیں؟ کیا یہ اللہ کی راہ یعنی اس کے مذہب سے روکتے ہیں ؟
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
اے ایمان والو! یہ حقیقت ہے کہ بہت سے علما اور راہب ضرور کھاجاتے ہیں مال لوگوں کے ناجائز طریقہ سے اور (اس طرح) روکتے ہیں اللہ کی راہ سے۔ اور جو لوگ جمع کر کے رکھتے ہیں سونے اور چاندی کو اور نہیں خرچ کرتے اُسے اللہ کی راہ میں، سو خوشخبری دے دو اُنہیں دردناک عذاب کی،۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-08-10), نورالدین (07-08-10), مرزا عامر (07-08-10)
پرانا 08-08-10, 03:46 PM   #9
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,202
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں

یہ ایک اختلافی موضوع ہے کہ بنی اسرائیل کے واقعات ہمارے احادیث تک کیسے پہنچے


برادر عزیز
پہلی بات تو یہ ہے کہ اسرائیلی روایات وہ کہلاتی ہیں‌جن پر قرآن و حدیث کی مہر نہ ہو جن کی تصدیق کسی ذریعے سے نہ ہو مگر وہ تاریخ‌کی کتابوں‌میں‌ہمیں‌ملتی ہیں اور انکا تعلق بنی اسرائیل سے ہوتا ہے

لیکن جو بات قرآن و حدیث‌میں‌موجود ہو اسے اسرائیلی وروایات نہیں‌کہا جاتا
ورنہ تو اصحاب کہف کا قصہ اور حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ اور اسی طرح‌کے کئی واقعات کی تفصیل بھی اسرائیلی روایت کہلائیں‌گے

اگر اس نکتہ پر مجھے کوئی غلط فہمی ہورہی ہے تو اصحاب علم میری اصلاح‌کردیں شکریہ
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, کٹ, پہلی, پہلے, پسند, نفرت, نام, ممکن, آج, آدمی, آزمائش, اللہ, انسان, بے, جواب, جائے, حدیث, دی, دل, دنیا, سفر, شکل, عبداللہ, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
قران کریم طریقہء نماز کیسے تعلیم فرماتا ہے فاروق سرورخان اپکے کالم 74 25-05-12 10:16 PM
تبدیلی ناگزیر مگر کیا؟ کیسے اور کس کے ذریعے؟ گلاب خان خبریں 1 07-02-11 10:02 AM
تعلیمی بورڈ کا لوٹ مار کا نیا ذریعہ ۔ امتحانی فیس معاف۔۔ جاویداسد خبریں 0 07-08-10 09:47 PM
ورڈ پریس۔پی کے کےمتعلق ایک وضاحت درکار ہے؟ چاچا کمال اردو پریس (http://wordpress.pk) 3 24-01-09 12:48 PM
ایس۔ایس۔جی اور این۔ایس۔ایس۔جی پاکستانی کمانڈوز عرفان حیدر میرا پاکستان 0 06-02-08 03:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger