| طالب علموں کی بیٹھک حصول تعلیم کے بارے میں مشکلات اور اس بارے میں تجویز پر تحریریں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,350
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نوجوانوں کی صلاحیتیں نکھارنے والے نظام تعلیم کی ضرورت
ہفتہ 27/ذیقعدہ 1428ھ 8/دسمبر 2007ء پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پانچویں پوسٹ گریجویٹ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم میں ٹیلنٹ کی کمی ہے نہ محنت کی، صرف ہماری اجتماعی و انفرادی زندگیوں میں نظم و ضبط کا فقدان ہے اوراگراس کمزوری پر قابو پالیا جائے توکسی بھی شعبہ حیات میں پاکستانی نوجوانوں کے لئے قوموں کی برادری میں اپنا سر فخرسے بلند کرکے چلنا غیر ممکن نہیں اور نسٹ نے صرف 16سال کی مختصر سی مدت میں جو کسی بھی یونیورسٹی کے آگے بڑھنے اور عالمی معیار کی پیشہ ورانہ درسگاہ بننے کے لئے کوئی زیادہ وقت نہیں، دنیا کی پانچ سو بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہوکر اس کا ثبوت بھی فراہم کر دیا ہے۔ تاہم ایک قوم کی حیثیت سے ہم تعلیمی شعبوں میں وہ ترقی نہیں کرسکے جو ہمیں کرنی چاہئے تھی اوراسی وجہ سے آج ہم دنیا میں اپنا جائز مقام بنانے کے لئے تیز ترجدوجہد کررہے ہیں اور حکومت شدید مشکلات کے باوجود اعلیٰ تعلیم کی تمام ضروریات پوری کررہی ہے اسی تعلق میں انہوں نے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء پر زور دیا کہ نسٹ نے انہیں ٹھوس تعلیم اور متعلقہ شعبوں کے لئے تربیت فراہم کر دی ہے اور اب یہ ان کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تعلیمی بنیاد کی بدولت آگے بڑھیں اور ایسی پیشہ ورانہ مہارت حاصل کریں جو نہ صرف ان کے اپنے علمی وقار کو چار چاند لگانے کاموجب بنے بلکہ قوم و ملک کی عزت و عظمت میں بھی اضافے کا سبب ہو۔ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے وطن عزیز کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کی جس طرح تحسین کی ہے اس قدر افزائی سے انہیں یقینا حوصلہ ملے گا اوروہ اپنی توانائیوں کو زیادہ مربوط اور منضبط طریقے سے صرف کرنے کی طرف راغب ہوں گے۔ امر واقع یہ ہے کہ ملک کی نسل نو میں ذہانت وفطانت کی کوئی کمی نہیں اور اس سے تعلق رکھنے والے افراد محض اس وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ انہیں نظم و ضبط کی زنجیر میں پرو کر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے تربیت دینے کا کوئی موثر بندوبست موجود نہیں۔ قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں درکار افرادی قوت کو ہنرمندی سے آراستہ کرنے کے لئے ابتدائی سطح سے لے کر آخری درجے تک لے جانے کے لئے جس مربوط تعلیمی نظام کی ہمیں ضرورت ہے اس کی طرف ساٹھ سال گزر جانے کے باوجود ہم نے کوئی قابل ذکر پیش قدمی نہیں کی اور اکثر و بیشتر تعلیمی اصلاح کے نام پر یہاں ایسے ایسے تجربات کئے گئے کہ ہم اس میدان میں ترقی کی بجائے تنزل کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ملک میں کئی عشروں سے جاری سیاسی کشمکش مضبوط اور مستحکم جمہوری اداروں کے قیام میں ہماری ناکامی اس صورتحال کو جنم دینے کی ذمہ دار ہے اس تجزیئے کی صداقت سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا لیکن اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہئے کہ اگر تمام تر اکھاڑ پچھاڑ اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود ملک کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا کر پاکستان کو ایک مسلمہ ایٹمی قوت بنایاجا سکتاہے تو نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے تسلسل سے کام کرکے بھی یقینااس میں ایسی حیرت آفریں اور معجزنی ترقی کی جا سکتی تھی جو قومی سطح پر ہمارے لئے باعث فخر اور دوسروں کے لئے قابل تقلید ہوتی، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ہم نے اب تک اپنے تعلیمی نظام کو بازیچہ اطفال بنایا ہوا ہے ۔ اردو میڈیم اور انگلش میڈیم کی تفریق سے ایک ایسا طبقاتی نظام تعلیم وجود میں آگیا ہے جو ہماری قومی ضروریات کو پورا کرتا ہے نہ بین الاقوامی سطح پر ہی ہمارے لئے سود مند ثابت ہو رہا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ سرکاری تعلیمی اداروں اور جدید نجی درسگاہوں کے اخراجات برداشت نہ کرسکنے والے غریب طلباء کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے دینی مدرسوں کارخ کرنے پر مجبور ہے۔ یہ مدرسے غیر سرکاری سطح پر لاکھوں غریب بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے جو جدوجہد کر رہے ہیں اس کی اہمیت اورافادیت سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں لیکن اس کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ ان مدرسوں میں اپنی تعلیمی سرگرمیاں مکمل کرنے والے بیشتر طلباء قومی معیشت کے پیداواری عمل میں اپنا کردار موثر طور پرادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے اوران میں سے کچھ گروہی تعصبات کا شکار ہو کر متشددانہ رویوں اور انتہا پسندی اختیار کرنے کی جانب بھی حائل ہو جاتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے عنان اقتدر سنبھالنے کے فوراً بعد اس امر کا احساس کر لیا تھا کہ جب تک ہم سائنسی علوم میں تیزرفتار ترقی نہیں کریں گے اس وقت تک ہماری سوچ میں کوئی انقلابی تبدیلی آئے گی نہ ہم ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے قابل ہوسکیں گے اپنی اس فکر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے سائنسی علوم کوفروغ دینے اوربالخصوص ملک کو آئی ٹی کے شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ و ہم روش بنانے کے لئے جو غیر معمولی اقدامات کئے انہی کا یہ نتیجہ ہے کہ پاکستان کی تین یونیورسٹیاں نسٹ، کراچی یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی دنیا کی پانچ سو بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہوگئی ہیں اور سو بہترین طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرونی ممالک کی نامی گرامی یونیورسٹیوں میں بھجوایا جا رہا ہے تاکہ وہ وہاں سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک میں قائم ہونے والی نئی یونیورسٹیوں میں طلباء کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم دے سکیں اگرچہ ہماری بڑھتی ہوئی ملکی ضروریات کے پس منظر میں یہ تعداد بہت کم ہے لیکن اگر یہ سلسلہ پورے نظم و ضبط اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو اس کے یقینا شاندار نتائج برآمد ہونگے، طبقاتی نظام کو ختم کرنے اور دینی مدارس کے نصاب میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں کرنے کے لئے بھی حکومت علماء کرام سے مل کر ایک اصلاحی پروگرام کو روبہ عمل لانے کے لئے کوشاں ہے اور ان سارے محاذوں پر دلجمعی، لگن اور خلوص کے ساتھ کام جاری رہے تو ہماری یہی یونیورسٹیاں اور درسگاہیں ایسے ماہر علم وفن اور دانشور پیدا کریں گی جس سے ہمارے اسلاف کی غرناطہ اوراشبیلہ کی علمی روایات زندہ ہونگی۔ نیز اقتصادی و معاشی اعتبار سے بھی اس سے ملک کو غیرمعمولی فائدہ ہوگا کیونکہ اگر سنگاپور ایسا چھوٹا ساملک سائنس و ٹیکنالوجی میں دسترس کی بدولت اپنی برآمدات کو 350ارب ڈالر سالانہ تک پہنچا سکتا ہے تو اس سے کئی گنا بڑا پاکستان صرف 18ارب ڈالر کی برآمدات پر کیوں کفایت کرے۔ سربراہ عساکر جنرل اشفاق پرویزکیانی نے ملک میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان نا تراشیدہ ہیروں کی تراش خراش کرکے ان کے ذہنی حسن کو تاباں تر بنانے کے لئے نظام تعلیم کو عصر جدید کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اورقوم کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کی جس ضرورت پر زور دیا ہے خدا کرے کہ ہم اس کو حقیقی معنوں میں پورا کرکے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکیں جو انہوں نے اس ملک کو ایک ترقی یافتہ، جمہوری اور ماڈرن اسلامی ریاست بنانے کے لئے دیکھا تھا۔ |
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | محمدعدنان (10-12-07) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھائی باتیں تو بہت کرتے ہیں مزہ تو تب ہے جب ان باتوں پہ عمل بھی ہو
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کتنے دن گزر گئے ابھی تک کچھ ہوا، اس بارے میں کوئی خبر؟ جنرل صاحب نے ایک اچھی تقریر کر لی کیا اتنا کافی نہیںہے؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 268
کمائي: 293
شکریہ: 1
70 مراسلہ میں 92 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ye pakisttna hai yaha per sirf kaha jata hai kia kkuch nahi jata
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب اس بارے میں اپ نے کچھ سنا؟ بس تقریر ہوئی اور بات ختم
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کراچی, پوسٹ, پاک, پاکستانی, قائداعظم, مکمل, منصوبہ, ممکن, آج, انگلش, اردو, اسلامی, اعلیٰ, بہترین, بھائی, بچوں, تعلیم, حسن, خدا, سٹاف, سال, سائنس, عزت, صلاحیتیں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جیتیں انعام 100000 کا ۔ ۔ ۔ ۔ | میاں شاہد | دلچسپ اور عجیب | 57 | 09-06-11 04:09 PM |
| چودہ اگست اور اقلیتیں! | shafresha | 14اگست | 31 | 06-03-11 08:22 PM |
| 500 پوائنٹ کا انعام جیتیں | ام طلحہ | گپ شپ | 22 | 12-01-09 10:26 PM |
| سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 10:24 AM |
| ہم جیتیں گے | تفسیر حیدر | کرکٹ | 1 | 23-09-07 01:51 AM |