واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > تعلیم و تربیت > طالب علموں کی بیٹھک



طالب علموں کی بیٹھک حصول تعلیم کے بارے میں مشکلات اور اس بارے میں تجویز پر تحریریں


نوعمر ڈاکو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-02-11, 04:10 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نوعمر ڈاکو

نوعمر ڈاکو

بیان کیا جاتاہے ، ملک عرب میں ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے ایک پہاڑ کی چوٹی پر محفوظ ٹھکانا بنالیا تھا۔ وہ اپنی کمین گاہ میں بیٹھے رہتے اور جیسے ہی کوئی قافلہ ادھر سے گزرتا پہاڑسے اتر کر اسے لوٹ لیتے خلق خدا ان کے ہاتھوں بہت پریشان تھی۔
ڈاکوؤں کا یہ ٹھکانا کچھ ایسا محفوظ تھا کہ انھیں پکڑنے کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہوتی تھی ۔ جو بھی ان کی طرف آتا تھا، وہ دور ہی سے دیکھ کر چھپ جاتے تھے۔ جب ان کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو بادشاہ نے ایک ہوشیار جاسوس کو ان کی گرفتاری کے کام پر مقرر کیا۔ یہ جاسوس ایک جگہ چھپ گیا اور جب یہ خطرناک ڈاکو ڈاکاڈا لنے کے لیے چلے گئے تو اس نے شاہی فوج کو خبر دے دی۔ فوج کے جوان پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر چھپ گئے۔
ڈاکو ڈاکا ڈال کر واپس آئے تو لمبی تان کر سوگئے ۔ ان میں سے کسی کو بھی یہ گمان نہ تھاکہ ہم موت کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ فوج کے جوانوں کو جب اطمیںان ہوگیا کہ ڈاکو سوگئے ہیں تو انھوں نے سب ڈاکوؤں کو مضبوط رسیوں سے جکڑ کر بادشاہ کے دربار میں پیش کردیا اور بادشاہ نے فوراً ہی حکم سنادیا کہ ان سب کو قتل کردیا جائے۔
ان ڈاکوؤں میں ایک نوجوان بھی تھا جس کی شکل بہت بھولی بھالی تھی۔ بادشاہ کے وزیر نے اس نوجوان کو دیکھا تو اسے اس کے اوپر بہت ترس آیا ۔ اس نے سوچا ، کیا اچھی بات ہو جو اس نوجوان کی جان بچ جائے ۔ یہ سوچ کر اس نے بادشاہ سے سفارش کی کہ حضور والا، اس نوجوان پر رحم فرمائیں اور اس کی جان بخشی کردیں۔ ابھی تو اس نے زندگی کی چند بہاریں ہی دیکھی ہیں۔ اس کی تعلیم و تربیت کا اچھا انتطام کردیا جائے تو امید ہے ۔ یہ ایک اچھا انسان بن جائے گا۔
بادشاہ کو اپنے وزیر کی یہ بات پسند نہ آئی ۔ اس نے کہا ، تعلیم و تربیت سے انسان کی فطرت نہیں بدلا کرتی ۔ یہ ڈاکوؤں کے خطرناک گروہ میں شامل تھا اس لیے یہ ضروری ہے کہ ڈاکوؤں کےساتھ اسے بھی قتل کر دیا جائے ۔ یہ عقلمندی نہیں کہ انسان آگ بجھائے اور انگار ے کو چھوڑدے یا سانپ کو مارے اور سپولیے کو زندہ رہنے دے۔
وزیر نے بادشاہ کی اس بات کی تائید کی اور کہا، بے شک حضور نے بجا فرمایا۔ لیکن موقع دیکھ کر ایک بار پھر نوجوان کی سفارش کی اور کہا۔ اس نوجوان کی عادتیں واقعی اچھی نہیں۔ لیکن یہ بُری عادتیں اس نے بُرے لوگوں میں رہنے کی وجہ سے اپنائی ہیں۔ اب اچھے لوگوں کے ساتھ رہے گا تو اچھا بن جائےگا۔
بادشہ اپنے وزیر کی یہ بات سن کر خاموش ہوگیا اور وزیر نے ڈاکو نوجوان کو آزاد کر کے اس کی تعلیم و تربیت کا بہت اچھا انتطام کر دیا۔
کہتے ہیں، یہ نوجوان کچھ دن تو ٹھیک رہا لیکن پھر اوباش لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا اور ایک دن نیک دل وزیر اور اس کے بیٹوں کو قتل کر کے اور اس کے گھر کا مال متاع لوٹ کر بھاگ گیا اور اسی پہاڑی چوٹی کو اپنا مسکن بنالیا جس پر اس کے ساتھیوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔
بادشاہ کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو اس نے بہت افسوس کیا اور کہا جو برےہیں، بہترین تربیت سے بھی ان کی اصلاح نہیں ہوتی ۔ اچھے سے اچھے کاریگر بھی برے لوہے سے عمدہ تلوار نہیں بنا سکتا ۔
بادل سے برستا ہے جو پانی ، وہ ایک ہے لیکن زمیں کو ایک سادتیا نہں لباس
برسے جو باغ پر تو اگیں لالہ دشمن بنجرزمیں پہ اگتی ہے لے دے کے صرف گھاس
وضاحت:حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بد اصل سے بھلائی کی توقع نہ رکھنی چاہیے ۔ مشہور مقولہ ہے اصل سے خطا نہیں، کم اصل سے وفا نہیں ۔ مزید یہ کہ کتے کی دم کو سوبرس بھی نلکی میں رکھا جائے، جب نکالیں گے ٹیرھی ہوگی۔ یہاں یہ بات بطور خاص سمجھنے کے قابل ہے کہ مشرق کا یہ نامور مفکر اس بات کا ہر گز قائل نہیں کہ انسانوں کی کچھ نسلیں شریف اور کچھ ذلیل ہیں، جیسا کہ عام نسل پرست لوگ خیال کرتے ہیں۔ بلکہ اس کا اشارہ انسانوں یا افراد کے شریف اور خبیث ہونے کی طرف ہے جیسا کہ ہم اپنی دنیا میں دیکھتے ہیَ ایک شخص بے گناہوں کو ستا کر خوش ہوتا ہے اور دوسرا مظلوموں کی اعانت میں اپنی جان قربان کردینے کو بھی ایک معمولی بات خیال کرتاہے۔
انسانوں کی فطرتیں ایسی متضاد اور متصادم کیوں ہیں؟ یہ ایک الگ بحث ہے ۔ لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ایسا ہے او ر سعدی یہی کہتے ہیں کہ جو لوگ اپنی خباثتوں میں پختہ ہوچکے ہیں، انتہائی کوشش اور حسن سلوک سے بھی ان کی اصلاح ممکن نہیں۔

حکایت شیخ سعدی

والسلام
زارا
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, گھر, گمان, پسند, وفا, وزیر, موقع, موت, ممکن, انسان, بہترین, تعلیم, حکم, حسن, خوش, خبر, خدا, دنیا, زندگی, شخص, عقلمندی, عمدہ, عادتیں, عرب, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
السلام وعلیکم صبارخ تعارف 20 11-10-10 01:48 PM
اسلام وعلیکم آج 15 مارچ ہے J.S آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 31 07-05-10 02:50 PM
السلام وعلیکم tasleem تعارف 12 28-03-10 08:11 AM
،راہ ھدایت پر وہی شخص ہے جس کا ایمان وعقیدہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان وعقیدہ کے موافق رہے sahj اخلاق و آداب 0 18-11-09 02:39 PM
مسنون دعاؤں کا مجموعہ رضی پاک۔نیٹ پراجیکٹس 1 14-07-09 02:45 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger