واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > تعلیم و تربیت > طالب علموں کی بیٹھک



طالب علموں کی بیٹھک حصول تعلیم کے بارے میں مشکلات اور اس بارے میں تجویز پر تحریریں


کوتوال کا بیٹا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-02-11, 06:21 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کوتوال کا بیٹا

کوتوال کا بیٹا

کہتے ہیں، بادشاہ اغلمش نے ایک بار کوتوال کے بیٹے کو دیکھا تو ہونہار برواکے چکنے چکنے پات کے مترادف ، اسے اپنے مصاحبین میں شامل کر لیا
یہ نیک فطرت نوجوان دانا بادشاہ کی تو قعات کے عین مطابق ثابت ہوا وفاشعاری اور دیانت داری و شرافت میں وہ اپنی مثال آپ تھا۔ جو کام بھی اس کے سپرد کیا جاتا وہ اسے بحسن و خوبی انجام دیتا تھا۔
اس کی قابلیت اور شرافت کے باعث جہاں بادشاہ کی نظروں میں اس کی قدر منزلت زیادہ ہوتی چلی جارہی تھی وہاں حاسدوں کی پریشانیوں اور دکھوں میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ آخر انھوں نے صلاح مشورہ کر کے نوجوان کے سر ایک تہمت دھری اور بادشاہ کے کانوں تک یہ بات پہنچائی کہ حضور جس شخص کو ہر لحاظ سے قابل اعتبار خیال فرماتے ہیں وہ حد درجہ بد فطرت اور بدخواہ ہے۔
اگرچہ حاسدوں نے یہ سازش بہت خوبی سے تیار کی تھی اور انھیں یقین تھا کہ بادشاہ نوجوان کو قتل کروادے گا لیکن دانا بادشاہ نے یہ بات محسوس کرلی کہ قصور نوجوان کا نہیں بلکہ حاسدوں کا ہے۔ چنانچہ اس نے جوان کو بلایا اور اس سے پوچھا ، کیا وجہ سے کہ لوگ تمہارے متعلق ایسی خراب رائے رکھتے ہیں ۔
نوجوان نے جواب دیا، اس کا باعث اس کے سواکچھ نہیں کہ حضور اس خاکسار پر نوازش فرماتے ہیں۔ بس یہی بات ان کے لیے باعث حسد ہے
ہے ازل سے یہ حاسدوں کا چلن خوش نصیبوں کا چاہتے زوال
کیا قصور اس میں آفتاب کا ہے کہ کوئی کر سکے نہ کسب کمال
دیکھے اس کو اگر نہ چمگادڑ منبع نور کیوں ہو روبہ زوال
وضاحت: حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ درس دیا ہے کہ انسان میں اگر واقعی کوئی گن ہوتو وہ قدر دانی سے محروم نہیں رہتا ع
نگاہیں کا ملوں پر پڑ ہی جاتی ہیں زمانے میں
دوسرے یہ کہ اگر خوش بختی سے کسی کو عروج حاصل ہوتو اسے بدخواہوں اور حاسدوں کی طرف سے بے پروانہیں ہونا چاہیے ۔ اس کے علاوہ تیسری بات یہ کہ اگر کسی کے بارے میں یہ بتایا جائے کہ اس نے یہ جرائم کیے ہیں تو تحقیق کیے بغیر رائے قائم نہں کرنی چاہیے۔

حکایت شیخ سعدی

والسلام
زارا
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-02-11, 07:23 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ زارا۔ حکایات ِ سعدی پُر از حکمت۔۔۔۔۔۔ شکریہ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہیں،, ہوتا, کوئی, کرنی, واقعی, قائم, لوگ, نہں, مطابق, انجام, انسان, بے, بادشاہ, بار, بس, ثابت, جواب, جائے, خوش, دیکھا, زمانے, شیخ, شخص, عروج, صلاح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آصف زرداری نے اپنی بات سے مکر جانے کی ہیٹرک مکمل کر لی اخترحسین خبریں 4 26-03-10 06:25 PM
نیلم بہن کا بیٹا شاہ جی 90 آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 66 16-12-09 09:48 PM
ماں: بیٹا، The Great قہقہے ہی قہقے 2 12-10-09 11:04 AM
بیٹا :۔ پاپاآپ کی شادی ہوگئی ہے؟ The Great قہقہے ہی قہقے 0 16-09-09 04:10 PM
بیٹانے باپ سے مہنگے The Great قہقہے ہی قہقے 0 16-09-09 03:58 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger