جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2 حدیث مرفوع
اسحاق بن موسیٰ انصاری، معن بن عیسی، مالک بن انس، قتیبہ، مالک، سہیل بن ابی صالح، ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب مسلمان بندہ یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنے چہرہ کو دھوتا ہے تو پانی یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کی تمام خطائیں دھل جاتی ہیں جن کا ارتکاب اس نے آنکھوں سے کیا تھا اور جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کی تمام خطائیں پانی یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ دھل جاتی ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئی تھیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر نکلتا ہے ابوعیسی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اسے مالک سہیل سے وہ اپنی اولاد سے اور وہ ابوہریرہ سے نقل کرتے ہیں سہیل کے والد ابوصالح سمان کا نام ذکوان ہے اور حضرت ابوہریرہ کے نام میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ ان کا نام عبد شمس ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر ہے محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی اسی طرح کہا ہے اور یہی صحیح ہے اور اس باب میں عثمان ثوبان صنابحی عمرو بن عبسہ سلیمان اور عبد اللہ بن عمر سے بھی احادیث مذکور ہیں اور صنابحی جو حضرت ابوبکر سے روایت کرتے ہیں ان کہ ان کا سماع نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ان کا نام عبدالرحمن بن عسیلہ اور کینت ابوعبد اللہ ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرف ملاقات کے لئے سفر کیا وہ سفر میں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی حدیثیں روایت کی ہیں صنابح بن اعسر احمس ہیں وہ صحابی ہیں ان کو بھی صنابحی کہا جاتا ہے ان سے صرف ایک ہی حدیث مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری کثرت پر دوسری امتوں پر فخر کرنے والا ہوں پس میرے بعد آپس میں قتال نہ کرنا۔