واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > پاکیزگی > طہارت و نجاست



طہارت و نجاست طہارت و نجاست


عریانی تقرب الی اللہ کا سبب نہیں ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-07-08, 05:18 PM   #1
عریانی تقرب الی اللہ کا سبب نہیں ہے
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 03-07-08, 05:18 PM

َيَا بَنِي آدَمَ قَدْ انزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْءَاتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَىَ ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللّہ ِإِ لَعَلھمْ يَذَّكَّرُونَ يَا بَنِي آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا اخْرَجَ ابَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّۃِ يَنزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِيُرِيَھُمَا سَوْءَاتِتِمَا انَّہُ يَرَاكُمْ ھُوَ وَقَبِيلُہُ مِنْ حَيْثُ لاَ تَرَوْنَھُمْ انَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ اوْلِيَاء لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَوَاذَا فَعَلُواْ فَاحِشَۃً قَالُواْ وَجَدْنَا عَلَيْھَا آبَاءنَا وَاللّہ امَرَنَا بِھَا قُلْ انَّ اللّہَ لاَ يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاء اتَقُولُونَ عَلَى اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ قُلْ امَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَاقِيمُواْ وُجُوھكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصِينَ لَہُ الدِّينَ كَمَا بَدَاكُمْ تَعُودُونَ فَرِيقًا ھَدَى َفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْھِمُ الضَّلاَلَۃُ انَّھُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ اوْلِيَاء مِن دُونِ اللّہِ وَيَحْسَبُونَ انَّھُم مُّھْتَدُونَ يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ انَّہُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (سورۃ الاعراف آیت 27 تا 31)

" اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے جو تمہاری شرمگاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجبِ زینت بھی ہے۔ اور بہترین لباس تقوٰی کا لباس ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے شاید کہ لوگ اسے سے سبق لیں۔ اے بنی آدم، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا ور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیے تھے تاکہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے۔ وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ اِن شیاطین کو ہم نے ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔
یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اِن سے کہو، اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ کے بارے میں وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں۔ ان سے کہو، میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو اپنے دین کو خالص رکھ کر۔ جس طرح اس نے تمہیں اب تخلیق کیا ہے اسی طرح تم پھر سے پیدا کیے جاؤ گے۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں۔ اے نبی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت (یعنی لباس) سے آراستہ رہو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ "
(سورۃ الاعراف آیت 27 تا 31)
اسلام سے قبل مشرکین کثرت کے ساتھ بیت اللہ کا ننگے ہو کر طواف کیا کرتے تھے اور عورتیں بھی ننگی طواف کرتیں، صرف اپنی شرمگاہ پر کوئی کپڑا یا چمڑے کا ٹکڑا رکھ لیتیں۔ اپنے اس شرمناک فعل کے انہوں نے دوعذر پیش کیے جو مندرجہ بالا آیات میں مذکور ہیں۔ ایک تو یہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے۔ دوسرا، یہ کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بے حیائی کا حکم دے؟ یعنی تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جو اس نے نہیں کہی۔
ان آیات میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے اس سے چند اہم حقیقتیں نکھر کر سامنے آ جاتی ہیں:
اول یہ کہ لباس انسان کے لیے ایک مصنوعی چیز نہیں ہے بلکہ انسانی فطرت کا ایک اہم مطالبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم پر حیوانات کی طرح کوئی پوشش پیدائشی طور پر نہیں رکھی بلکہ حیا اور شرم کا مادہ اس کی فطرت میں ودیعت کر دیا۔ اس نے انسان کے لیے اس کے اعضائے صنفی کو محض اعضائے صنفی ہی نہیں بنایا بلکہ "سوءاۃ" بنایا ہے جس کے معنی عربی زبان میں ایسی چیز کے ہیں جن کے اظہار کا آدمی برا سمجھے۔ پھر اس فطری شرم کے تقاضے پورا کرنے کے لیے اس نے کوئی بنا بنایا لباس انسان کو نہیں دیا بلکہ اس کی فطرت پر لباس الہام کر دیا (انزلنا علیکم لباسا( تاکہ وہ اپنی عقل سے کام لیے اپنی فطرت کے اس مطالبے کو سمجھے اور پھر اللہ کے بنائے ہوئے مواد سے کام لے کر اپنے لیے فراہم کرے۔
دوم یہ کہ اس فطری الہام کی رو سے انسان کے لیے لباس کی اخلاقی ضرورت مقدم ہے۔ یعنی یہ کہ وہ اپنی شرمگاہ کو ڈھانکے اور اس کی طبعی ضرورت موخر ہے، یعنی یہ کہ اس کا لباس اس کے لیے جسم کی آرائش اور موسمی اثرات سے بدن کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اس باب میں بھی فطرۃ انسان کا معاملہ حیوانات کے برعکس ہے۔ ان کے لیے پوشش کی اصل غرض موسمی اثرات سے بچاؤ اور خوبصورتی ہے ۔ ان کی جبلت میں کوئی داعیہ موجود ہی نہیں کہ اس کا تقاضا پورا کرنے کے لیے ان کے جسم پر کوئی لباس بنایا جاتا۔ لیکن جب انسانوں نے شیطانوں کی راہنمائی قبول کی تو معاملہ پھر الٹ گیا۔ اس نے اپنے شاگردوں کو اس غلط فہمی میں ڈال دیا کہ تمہارے لیے لباس کی ضرورت بعینہ وہی ہے جو حیوانات کے لیے "ریش" کی ہے۔ رہا اس کا "چھپانے والی چیز" ہونا تو یہ قطعا کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ جس طرح حیوانات کے اعضاء "سوءاۃ" یعنی شرم والے مقام نہیں ہیں اسی طرح تمہارے یہ اعضاء بھی چھپانے کے قابل نہیں محض صنفی اعضاء ہیں۔
سوم یہ کہ انسان کے لیے لباس کا صرف سترپوش اور وسیلہ زینت و حفاظت ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس معاملہ میں جس بھلائی تک انسان کو پہنچنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اس کا لباس تقوٰی کا لباس ہو۔ یعنی پوری طرح ساتر ہو۔ زینت میں بھی حد سے بڑھا ہوا یا آدمی کی حیثیت سے گرا ہوا نہ ہو، فخر و غرور اور تکبر و ریا کی شان لیے ہوئے بھی نہ ہو۔ اور پھر ان ذہنی امراض کی نمائندگی بھی نہ کرتا ہو جن کی بنا پر مرد زنانہ پن اختیار کرتے ہیں، عورتیں مردانہ پن کی نمائش کرنے لگتی ہیں اور ایک قوم دوسری قوم کے مشابہہ بننے کی کوشش کر کے خود اپنی ذلت کا زندہ اشتہار بن جاتی ہے۔
چہارم یہ کہ لباس کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ کی ان بے شمار نشانیوں میں سے ایک ہے جو دنیا میں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں اور حقیقت تک ہنچنے میںیں انسان کی مدد کرتی ہیں بشرطیکہ انسان خود ان سے سبق لینا چاہے۔ اوپر جن حقائق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان پر غور کرنے سے یہ بات آسانی سے سمجھ آ سکتی ہے کہ لباس کو کس حیثیت سے ایک اہم نشانی کہا گیا ہے۔
اپنے معاشرے میں ہمیں بہت سے ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس اہم حکم اور نشانی کا انکار کرتے ہوئے عریاں رہنے کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ مشرکین بھی اسی طرح کا عقیدہ رکھتے تھے جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں‌اس کی تردید فرمائی اور اسے شیطانی کام قرار دیا۔ آج بھی جب لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ والے ہیں تم ان کی شان کیا جانو۔ اللہ والا وہ ہوتا ہے جو اللہ کے احکامات کو بجا لاتا ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اتباع کرتا ہے۔ جس نے ان دونوں کے احکامات کی خلاف ورزی کی وہ ہرگز اللہ والا نہیں ہو سکتا۔
معاملہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان خود ساختہ "اللہ والوں" کی عریاں تصویریں سربازار بکتی ہیں اور چوراہوں میں نصب ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر ایک شریف آدمی اپنی بہن یا والدہ کے ساتھ گزرنے میں‌بھی حیا محسوس کرتا ہے۔ اے امتِ محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم آخر تم کب اپنے خود ساختہ نظریات کو چھوڑ کر قرآن و حدیث کا دامن تھامو گے۔ آخر کب ۔ ۔ ۔ ۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 03-07-08 at 06:04 PM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1727
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
کاشف رفیق (08-09-08), پیاسا (05-10-08), لاسلکی (09-08-08), میاں شاہد (11-07-08), مسافر (06-12-09), Wahid Mahmood (11-11-09), احمد نذیر (25-10-11), حیدر (02-09-09), رفیع انجم (28-07-10), سحر (09-08-09), طاھر (03-07-08), عُکاشہ (05-08-08), عمیر نعیم (04-07-08), عرفان حیدر (03-07-08)
پرانا 03-07-08, 05:23 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,113
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,153 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: عریانی تقرب الی اللہ کا سبب نہیں ہے

جزاک اللہ بہت بہت شکریہ بھائی آپ کا
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
رفیع انجم (28-07-10), عبداللہ حیدر (03-07-08)
پرانا 03-07-08, 08:03 PM   #3
محسن
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مراسلات: 832
کمائي: 8,532
شکریہ: 409
260 مراسلہ میں 393 بارشکریہ ادا کیا گیا
yashaka کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں yashaka کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: عریانی تقرب الی اللہ کا سبب نہیں ہے

جزاک اللہ
yashaka آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے yashaka کا شکریہ ادا کیا
رفیع انجم (28-07-10), عبداللہ حیدر (05-07-08)
پرانا 03-07-08, 10:54 PM   #4
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عریانی تقرب الی اللہ کا سبب نہیں ہے

السلام علیکم،

بہت عمدہ عبداللہ بھائ !
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا
رفیع انجم (28-07-10)
پرانا 05-10-08, 03:29 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عریانی تقرب الی اللہ کا سبب نہیں ہے

بہت ہی عمدہ جناب بہت بہت شکریہ بہت ہی اچھی مراسلات
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
رفیع انجم (28-07-10), عبداللہ حیدر (09-08-09)
پرانا 09-08-09, 02:49 AM   #6
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، آپ سب کا بھی بہت شکریہ۔ تاخیر سے جواب دینے پر معذرت خواہ ہوں۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
رفیع انجم (28-07-10)
پرانا 09-08-09, 02:51 AM   #7
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

موضوع کی مناسبت سے ایک شعر پیش خدمت ہے:
و اذا المرء لم یلبس ثیاب من التقیٰ
تقلب عریانا و لو کان کاسیا
"اور اگر آدمی تقوے کا لباس نہ پہنے ہو تو وہ کپڑے پہننے کے باوجود عریاں ہو جاتا ہے"
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
رفیع انجم (28-07-10)
پرانا 02-09-09, 09:06 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
َ

اپنے معاشرے میں ہمیں بہت سے ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس اہم حکم اور نشانی کا انکار کرتے ہوئے عریاں رہنے کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ آج بھی جب لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ والے ہیں تم ان کی شان کیا جانو۔

معاملہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان خود ساختہ "اللہ والوں" کی عریاں تصویریں سربازار بکتی ہیں اور چوراہوں میں نصب ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر ایک شریف آدمی اپنی بہن یا والدہ کے ساتھ گزرنے میں‌بھی حیا محسوس کرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شکریہ حیدر بھائی اس مفید پوسٹ کا۔ لیکن میں آپکے مندرجہ بالا فقرات کی مزید وضاحت چاہتا ہوں۔ کیونکہ میری نظر سے آجتک ایسا کوئی بندہ نہیں گزرا جو عریانی کو جائز کہتا ہو یا انکی تصاویر بکتی ہوں۔ آپکا کا اشارہ ہمارے معاشرے کے کن افراد کی طرف ہے/ شکریہ
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-09), رفیع انجم (28-07-10)
پرانا 02-09-09, 08:52 PM   #9
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
شکریہ حیدر بھائی اس مفید پوسٹ کا۔ لیکن میں آپکے مندرجہ بالا فقرات کی مزید وضاحت چاہتا ہوں۔ کیونکہ میری نظر سے آجتک ایسا کوئی بندہ نہیں گزرا جو عریانی کو جائز کہتا ہو یا انکی تصاویر بکتی ہوں۔ آپکا کا اشارہ ہمارے معاشرے کے کن افراد کی طرف ہے/ شکریہ
آپ نے نانگے پیر ککڑ شاہ کی داستانیں تو سنی ہوں گی۔ علاوہ ازیں ہمارے علاقے میں‌ ایک ایسے ہی نیم عریاں "ولی اللہ" کی تصویریں عام ہیں۔ آپ کی نظر سے ایسا کوئی فحش منظر نہیں گزرا تو اسے اللہ کا فضل سمجھیے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-09), حیدر (03-09-09), رفیع انجم (28-07-10)
پرانا 02-09-09, 11:03 PM   #10
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
حسنین ایوب کا شکریہ ادا کیا گیا
رفیع انجم (28-07-10)
پرانا 03-09-09, 07:10 AM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آخر لوگ ایسے "پیروں" کے کہ جن کے نام ہی گھٹیا(جیسے ککڑ شاہ )ہوتے ہیں ان کے معتقد کیوں ہوتے ہیں؟ کیا محض جہالت ہی اس کا سبب ہے یا ان لوگوں کے پاس کوئی شعبدہ بھی ہوتے ہیں؟ میری معلومات محدود ہیں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
رفیع انجم (28-07-10), عبداللہ حیدر (05-09-09)
پرانا 10-09-09, 03:13 AM   #12
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
آخر لوگ ایسے "پیروں" کے کہ جن کے نام ہی گھٹیا(جیسے ککڑ شاہ )ہوتے ہیں ان کے معتقد کیوں ہوتے ہیں؟ کیا محض جہالت ہی اس کا سبب ہے یا ان لوگوں کے پاس کوئی شعبدہ بھی ہوتے ہیں؟ میری معلومات محدود ہیں۔
السلام علیکم بدرالزمان بھائی صاحب

میں کوشش کرتا ہوں آپ کو اس پر روشنی ڈالنے کی اگر موصوف اس کا جواب دیتے تو اچھا ہوتا۔

بدر بھائی جو بندہ ننگا ہوتا ھے اس کا دماغ شیل ہوتا ھے (مبحوط الحواس )
مبحوط الحواس بندے اس عقل سوج بوج سوچ سے خالی ہوتا ھے
وہ کسی کو کیا بتائے گا کہ وہ پیر ھے یا اس سے بھی کوئی بڑے عہدے پر ھے یا نچلے تبکے پر ھے ۔ وہ تو خود اپنی دنیا کے بارے میں نہیں جانتا اور وہ کیسے پیری کا دعویٰ کر سکتا ھے
وہاں کے مقامی لوگ ہی اسے پیر بنا دیتے ہیں یا ان محلوں کے مافیا والے کچھ بڑے عناصر جن کو پتہ ھے کہ اس مبحوط الحواس سے ان کا بزنس چل سکتا ھے وہ ان کو پیر کا درجہ دے دیتے ہیں۔ یا فقیری مافیا والے خود ہی کسی نیم پاگل کو نام دے کر پیر بنا دیتے ہیں۔ اور اس کو کپڑے بھی ڈلوا دیتے ہیں اور ہر وقت اس کے پاس رہتے ہیں تاکہ کہیں وہ پبلک میں کپڑے نہ اتار دے کیونکہ اس سے ان کو نقصان ہو گا۔

اب موصوف نے لکھا کہ اس کے محلے میں کسی ننگے (عریاں) پیر کی تصویریں بھی لگی ہوئی ہے تو یہ تو پہلی بار سنا ھے

آپ اس بات سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ موصوف اور اس کے محلے والے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ پاگل اور نانگا ککڑی ھے اسے محلے سے نکال بھی نہیں سکتے کیونکہ ان کے ساتھ فقیر مافیا والے بھی ہیں اور ان کو ہاتھ لگا کے خود محلے سے نکل جائیں گے۔

کسی کو بھی پیر کا نام دینے سے وہ پیر نہیں بن جاتا۔


والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
رفیع انجم (28-07-10)
پرانا 06-12-09, 02:47 PM   #13
Senior Member
 
مسافر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 2,069
کمائي: 34,309
شکریہ: 1,693
1,085 مراسلہ میں 2,456 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسافر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جناب سے گذارش ہے کہ چند بد کردار لوگوں پر قیاس کر کے باقی کو اس جرم میں برابر کا شریک نہ سمجھا جائے
مسافر آف لائن ہے   Reply With Quote
مسافر کا شکریہ ادا کیا گیا
رفیع انجم (28-07-10)
جواب

Tags
color, قرآن, لوگ, نظر, موقع, محبت, معذرت, آج, آدمی, ایمان, اللہ, انسان, بہترین, بھائی, جواب, حکم, حدیث, خلاف, راستہ, شعر, عقل, عبادت, غرور, صنفی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger