واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


قرآن کےمطابق طلاق اور طلاق سے متعلقہ حقوق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-10-11, 10:06 PM  
قرآن کےمطابق طلاق اور طلاق سے متعلقہ حقوق
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 19-10-11, 10:06 PM

نوٹ: میں - منتظمین - اس موضوع کے میزبان کی حیثیت سے اس کو اگے بڑھاوں گا۔ میرا مقصد بنیادی طور پر قرآن کی آیات کو سمجھنا ہو گا اور معاشرے میں ان آیات کا اطلاق کس طرح ہوتا ہے اس کی وضاحت چاہوں گا۔

میں ایک ایک آیت کو تشریح کے لیے پیش کروں گا اور تمام اراکین جب ایک آیت پر بحث کر چکے تو پھر ہم دوسری آیت کی جانب بڑھیں گے۔

غیر ضروری اور جذباتی مراسلات کی قطعا کوئی گنجائش نہ ہوگی۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

قرآن میں عورت بیوی پر تین طلاق اور حلالہ کا حکم و ظلم نہیں ہے !!!

طلاق و خلع کا قرانی طریقہ !!!

ضمیر کا مرجع درست کرکے !!!

پہلے ان بن پھر صلح کرا دینا Probation Period میں علیحدگی کے دورانیہ میں پھر طلاق و خلع !!!


الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
( 4:34 )

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا
( 4:35 )

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
( 2:226 )

پھر جو لوگ اپنی عورتوں کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیں ان کو چار مہینے تک انتظار (Probation Period) علیحدگی کا دورانیہ کرنا ہے ۔ اگر (اس عرصے میں سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
( 2:227 )

اور پھر اگر طلاق کا ارادہ کر لیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے

اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔


وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
( 2:228 )

اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
( 2:229 )

وہ طلاق دو مرتبے تک ہے پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔
ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
( 2:230 )

پھر اگر شوہر (خاوند کے ہاتھ کچھ دے کر رہائی چاہنے والی : حق مہر چھوڑ کر ) عورت کو طلاق دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت ( خلع لینے والی ) کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس ( پہلے شوہر ) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا ۚ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
( 2:231 )

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
( 2:231 )

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ۗ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
( 2:232 )

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو ( پرانے یا نئے ) شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ ۗ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
( 2:233 )

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
( 2:234 )

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ ۚ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
( 2:235 )

اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے

لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ
( 2:236 )

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۚ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى ۚ وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
( 2:237 )

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
( 2:238 )

(مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو

فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ
( 2:239 )

اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
( 2:240 )

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے

وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
( 2:241 )

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
( 2:242 )

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
( 65:1 )

اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے

طلاق زبانی نہیں ہوتی بلکہ دو منصف مردوں کو گواہ کرکے ہوتی ہے!!!

فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ۚ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا
( 65:2 )

پھر جب وہ اپنی میعاد (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو ان کو اچھی طرح (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور (گواہ ہو!) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لئے (رنج ومحن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کرے گا

Last edited by منتظمین; 20-10-11 at 11:34 AM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3710
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (25-10-11), فیصل ناصر (20-10-11), نورالدین (13-04-12), مرزا عامر (21-10-11), حیدر Rehan (20-10-11), راجہ اکرام (20-10-11), سحر (20-10-11)
پرانا 24-10-11, 10:32 PM   #31
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا سوال ابھی بھی تشنہ طلب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (24-10-11), آبی ٹوکول (24-10-11)
پرانا 24-10-11, 10:48 PM   #32
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
میرا سوال ابھی بھی تشنہ طلب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ اپنا سوال زرا تفصیلا وارد فرمائیں اور ٹو دا پوائنٹ ۔۔۔۔ اس بار میں خود اپنی سی کوشش کرکے کہ آپکو جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (13-04-12)
پرانا 24-10-11, 10:51 PM   #33
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں ایک بار پھر سوال دہرا دیتا ہوں تاکہ اس پر مناسب‌ بحث کے بعد اگے بڑھا جا سکے۔

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں

میں چاہوں گا کہ اپ اس میں " اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں" کے معکوس عمل کی صورت میں‌کیا ہوگا؟

یا پھر اپ یہ کہ لیں‌ایک مثال کے طور پر کہ عورت کام کرتی اور گھر کے اخراجات چلاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے جسمانی معذور اور ذہنی طور پر کمزور مرد کی تمام ضروریات بھی پوری کرتی ہے تو اس مثال میں کیا ہو گا؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (24-10-11), آبی ٹوکول (24-10-11)
پرانا 24-10-11, 11:05 PM   #34
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اسی طرح اگر مرد وہ کچھ کرے جو عورت کو کرنے پر مار پڑتی ہے تو پھر بیوی مرد کے ساتھ کیا سلوک کرے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
میں ایک بار پھر سوال دہرا دیتا ہوں تاکہ اس پر مناسب‌ بحث کے بعد اگے بڑھا جا سکے۔
مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں
میں چاہوں گا کہ اپ اس میں " اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں" کے معکوس عمل کی صورت میں‌کیا ہوگا؟
یا پھر اپ یہ کہ لیں‌ایک مثال کے طور پر کہ عورت کام کرتی اور گھر کے اخراجات چلاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے جسمانی معذور اور ذہنی طور پر کمزور مرد کی تمام ضروریات بھی پوری کرتی ہے تو اس مثال میں کیا ہو گا؟
اسی طرح اگر مرد وہ کچھ کرے جو عورت کو کرنے پر مار پڑتی ہے تو پھر بیوی مرد کے ساتھ کیا سلوک کرے ؟؟؟

مرد کو مارے ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-10-11, 11:31 PM   #35
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
میں ایک بار پھر سوال دہرا دیتا ہوں تاکہ اس پر مناسب‌ بحث کے بعد اگے بڑھا جا سکے۔

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں

میں چاہوں گا کہ اپ اس میں " اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں" کے معکوس عمل کی صورت میں‌کیا ہوگا؟

یا پھر اپ یہ کہ لیں‌ایک مثال کے طور پر کہ عورت کام کرتی اور گھر کے اخراجات چلاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے جسمانی معذور اور ذہنی طور پر کمزور مرد کی تمام ضروریات بھی پوری کرتی ہے تو اس مثال میں کیا ہو گا؟
میری ذاتی رائے میں جنس کے اعتبار سے مردوں کی عورتوں پر فضیلت مطلقا ہے اور اسکا اطلاق باعتبار جنس محض تخلیق خالق ہونے کی وجہ سے وھبی ہے نہ کہ مردوں کی کوئی کسبی برتری لہذا اس اعتبار سے تو مرد علی الاطلاق افضل ہے مگر جہاں بات آتی ہے مرد و عورت کے آپس میں باہمی مختلف رشتوں کی تو اس میں ایک میاں اور بیوی کی حیثیت سے مرد کو جو قوامیت دی گئی ہے اس کا ایک اضافی پہلو مردوں کا عورتوں پر مال خرچ کرنا اور انکے نان و نفقہ کے معاملات کا زمہ دار ہونا بھی ہے لہذا پہلی فضیلت مطلق اور حقیقی ہے جبکہ دوسری اضافی اور تقییدی یعنی اس میں قید ہے مال خرچ کرنے کی لہذا سوال میں آپ نے جو صورتحال نقل کی وہ ایک استثنائی صورتحال ہے اگر کہیں ایسا معاملہ ہو تو مرد کی قوامیت علی الاطلاق قائم نہیں رہے گی لہذا اس اعتبار سے اس کے جو حقوق ہونگے بعینہ وہی عورت کو مل جائیں گے یعنی اگر وہ گھر کا خرچ اٹھاتی ہے تو گھر کے باقی نظم و نسق میں اس کی بنیادی حیثیت ہوگی مگر یاد رہے یہ ایک استثنائی صورتحال ہے اور اس کا اطلاق محض استثناء کی صورت میں ہی ہوگا جیسے کہ قرآن پاک نے بعض جانوروں کو حرام فرمایا اور حالت اضطرار میں انکے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی لہذا اب اس استثنائی صورتحال کا اطلاق محض استثناء کی صورت میں ہی ہوگا نہ کہ اس کو مثال بنا کر مطلقا حرام جانوروں کو حلال ٹھرا دیا جائے گا نیز اس کے ساتھ ساتھ مرد کی جو عورت پر مطلقا فضیلت ہے کہ جو تحلیقی اعتبار سے وھبی ہے وہ بہر صورت قائم رہے گی اور عورت پر اس کا احترام لازم ہوگا لیکن چونکہ انتظامی فضلیت کے لیے مرد بے کار تھا لہذا اب اس کا حق عورت کو حاصل ہوجائے گا ۔۔۔۔۔باقی واللہ اعلم
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-10-11), فیصل ناصر (25-10-11), کنعان (30-10-11), منتظمین (24-10-11), حیدر (30-10-11), عادل سہیل (20-11-11)
پرانا 25-10-11, 01:03 AM   #36
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے عابد بھائی آجکل یہ استثنائی معاملہ کچھ عمومی سا ہوتا جارہا ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-10-11), آبی ٹوکول (25-10-11), حیدر (30-10-11)
پرانا 25-10-11, 02:01 AM   #37
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,099
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

" مرد کی عورت پر مطلقا فضیلت ہے کہ جو تحلیقی اعتبار سے وھبی ہے، وہ بہر صورت قائم رہے گی اور عورت پر اس کا احترام لازم ہوگا لیکن چونکہ انتظامی فضلیت کے لیے مرد بے کار تھا لہذا اب اس کا حق عورت کو حاصل ہوجائے گا "
يہ معامله طے نه بهى هو، ايسى صورت ميں مرد اور عورت كے درميان تعلق كا توازن خودبخود ہموار نهيں رہےگا- محض آمدن ھى نهيں، اختيارات ميں بهى مرد كى عدم توجہى، تساہل اور ناقابليت.... ادهورے اور بگڑے گھرانوں كا سبب بنتى ہے، عورت كو اعزازى طور پہ مرد كو قواميت كا مقام دينا پڑتا ہے، ورنه مرد اپنے كسى رويئے سے قوام ہونے كا اہل ثابت نهيں هوتا-
mama_shalla آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے mama_shalla کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-10-11), کنعان (30-10-11), آبی ٹوکول (25-10-11), حیدر Rehan (25-10-11)
پرانا 25-10-11, 11:59 AM   #38
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عام زندگی سے یعنی لوکل مثال :

ایک تھانے میں بعض و اوقات چار اور پانچ انسپیکڑز ہوتے ہیں لیکن ان میں سے ایک "ایس ایچ او" کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔

وہ "ایس ایچ او" اپنی قابلی صلاحیت کی وجہ سے اور سنیارٹی بیس پر "ایس ایچ او" ہوتا ہے
اور اگر صرف میاں بیوی کی عمر کے حساب سے ہی دو میں سے ایک بڑے کو چنا ہوتو 99 فیصد مرد ہی بڑے ہوتے ہیں اور وہی چنے جائیں گئے ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-10-11), کنعان (30-10-11)
پرانا 29-10-11, 11:43 PM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کئی دن سے حاموشی ہے !!! اب اگلی آیت پر بات کریں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
میرا سوال ابھی بھی تشنہ طلب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی دن سے حاموشی ہے !!!
اب اگلی آیت پر بات کریں !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (30-10-11), فیصل ناصر (30-10-11), حیدر (30-10-11), حیدر Rehan (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 10:47 AM   #40
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادران و خواہران محترم سے سوال۔

نکتہ نمبر ایک: وَاضْرِبُوهُنَّ :‌ کسی بھی طور ہلکی پھلکی تادیباً ضرب کو نہیں‌کہتے ۔۔۔ اللہ تعالی قرآن حکیم میں‌ "ضرب" کے لفظ کو ایک سے زائید معانوں‌میں استعمال فرماتے ہیں۔ لیکن ان میں‌سے کوئی بھی معانی ہلکی پھلکی تادیباً پٹائی کے نہیں‌ہے ۔ بلکہ "ضرب"‌ کے معانی پاش پاش کردینے۔ ملٹی پلائی کرنے ، یا توڑ دینے کے ہیں۔

نکتہ نمبر 2: یہاں‌ معاملہ ہے "رجال"‌ اور "نساء‌"‌ ۔۔۔۔ یہاں‌ معاملہ ازواج کا نہیں‌ہے ۔ کہ شوہر کو "پٹائی " کردینے کا حق دے دیا جائے ۔۔؟؟؟؟؟

سنت مبارکہ سے حوالہ:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خانگی زندگی میں مسائیل کا سامنا کرنا پڑا، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا پر اتہام کا واقعہ موجود ہے اور اس کے علاوہ بھی ایسے مواقع موجود ہیں جہاں‌ خانگی زندگی کا سکون میں فرق پڑا۔

سوال:
ہمیں‌بتائیے کے کیا رسول اکرم نے اپنی خانگی زندگی میں‌اپنی کسی زوجہ محترمہ یا کسی دوسری عورت پر "وَاضْرِبُوهُنَّ" کے ان معانی کے مطابق " زبردست پٹائی کی" یا "توڑ پھوڑ‌"کر رکھ دیا ؟

کیا رسول اکرم کی سنت مبارک میں‌ کوئی بھی ایسا واقعہ پایا جاتا ہے کہ رسول اکرم نے کسی عورت پر ہاتھ اٹھایا ہو یا پھر کسی صحابی کو "وَاضْرِبُوهُنَّ" کے مصداق، کسی قسم کی پٹائی کا حکم دیا ہو ؟ ؟؟؟؟

اگر ایسی کوئی سنت موجود نہیں‌تو کیا وجہ ہے کہ "وَاضْرِبُوهُنَّ" کے معانی -- تادیباً‌ پٹائی کے لئے جائیں؟

مرد عورتوں‌پر "قوام "‌ کو ایک طرف رکھیے اور یہ سوال کیجئے کہ جہاں مردوں‌ کی قومیں ہیں یعنی مرد ۔۔۔ مردوں پر "قوام" ہیں ۔۔۔ کیا وہاں‌ ان قوموں‌کے "قواموں" نے نافرمانی پر تادیباً ہلکی پھلکی پٹائیاں کی ہیں ؟؟؟

وَاضْرِبُوهُنَّ ---- سے ازواج میں پٹائی کے معانی کس نے اپنی آسانی کے لئے پیدا کئے ہیں ؟؟‌ جبکہ ناچاقی اور نافرمانی کے لئے واضح‌طور پر دو "حکم" مقر رکرنے کا حکم موجود ہے ؟؟؟‌

اس آیت کا ترجمہ ان اعتراضات پر مزید روشنی پڑنے کے بعد۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-10-11), حیدر (30-10-11), حیدر Rehan (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 12:06 PM   #41
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
اسی طرح اگر مرد وہ کچھ کرے جو عورت کو کرنے پر مار پڑتی ہے تو پھر بیوی مرد کے ساتھ کیا سلوک کرے ؟؟؟
اس سوال کے جواب کی میں بھی منتظر ہوں
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (31-10-11), rana ammar mazhar (13-04-12), حیدر (30-10-11), حیدر Rehan (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 12:26 PM   #42
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہاں قرآن میں ہے آپ کے سوال کا جواب اور دیا جا چکا ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اس سوال کے جواب کی میں بھی منتظر ہوں
آپ کے سوال کا جواب مردوں کی اکثریت کے پاس نہیں ہے !!!

ہاں قرآن میں ہے آپ کے سوال کا جواب اور دیا جا چکا ہے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
حیدر (30-10-11), حیدر Rehan (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 12:31 PM   #43
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
آپ کے سوال کا جواب مردوں کی اکثریت کے پاس نہیں ہے !!!

ہاں قرآن میں ہے آپ کے سوال کا جواب اور دیا جا چکا ہے !!!
آپ وہ جواب یہاں پوسٹ کردیں گے ؟
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-04-12), حیدر (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 01:51 PM   #44
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مرد اور عورت برابر ہیں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ یکساں سلوک کرسکتے ہیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ وہ جواب یہاں پوسٹ کردیں گے ؟
مرد اور عورت برابر ہیں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ یکساں سلوک کرسکتے ہیں !!!

مرد کو مار پٹائی کی اجازت نہیں ہے قرآن کا غلط ترجمہ کیا جاتا ہے !!!

جیسا کہ فاروق سرور خان صاحب نے کہا اور صفحہ ۱ سے اب تک میری پوسٹ میں پڑھا جاسکتا ہے !!!

جس کی مردوں نے مخالفت کی اور خواتین نے حمایت نہیں کی !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (30-10-11), حیدر (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 11:53 PM   #45
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اس سوال کے جواب کی میں بھی منتظر ہوں
عموما میں جہلاء کے سوالوں کو نظر انداز کیا کرتا ہوں مگر یہاں یہی سوال چونکہ سحرسسٹر نےکی طرف سے بھی آیا ہے لہذا اب اس سوال کی اہمیت میرے نزدیک کچھ اور ہے سو محض سحر سسٹر کی وجہ سے جواب دے رہا ہوں ۔
دیکھیئے مرد اور عورت دونوں اللہ پاک کی تخلیق ہیں دونوں کو بہت سے معاملات میں برابری کہ حقوق حاصل ہیں اور دونوں ہی کو بعض معاملات میں امتیازی حقوق بھی حاصل ہیں ۔ نفس مخلوق ہونے کہ اعتبار سے اللہ کے ہاں دونوں کو برابری حاصل ہے جبکہ ثواب کے اعتبار سے اللہ کے ہاں وہی زیادہ مقبول و افضل ہے جو کہ زیادہ متقی و پرہیز گار ہوچاہے مردوں میں سے ہو یا عورتوں میں سے ۔ چونکہ دونوں ہی اللہ کی مخلوق ہیں اور دونوں نے اللہ کی زمین میں ایک سسٹم کے تحت زندگی گزارنی ہوتی ہے لہذا اللہ پاک کے قائم کردہ سسٹم کے اعتبار سے معاشرتی و سیاسی و مذہبی اعتبار سے ان دونوں کی جو زمہ داریاں ہیں ان میں فرق ہے لہذا اسی فرق کے اعتبار سے دونوں کہ حقوق بھی جدا جدا ہیں اور فرائض بھی جدا جدا ہیں لہذا یہی وجہ ہے کہ اگر ان اعتبارات کو مد نظر رکھا جائے یعنی اگر دونوں کو معاشرتی ،سیاسی اور مذہبی زمہ داریوں کے اعتبار سے دیکھا جائے یعنی ان زمہ داریوں کی وجہ سے جو کہ خالق کائنات ان دونوں پر الگ الگ ڈالی ہیں تو محض ان زمہ داریوں کی وجہ سے مردوں کو عورتوں پر دو طرح کی فضیلت حاصل ہے ایک وھبی کہ وہ خود خالق کائنات نے عطا کی ہے اور جس کا اس آیت میں ذکر بھی پہلے ہے اور دوسری کسبی جو کہ انتظامی زمہ دار ہونے کہ اعتبار سے ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ مرد و عورت کا جو باہمی معاشرتی تعلق زوجین کی حیثیت سے ہے کہ جس سے ایک خاندان کا ادارہ وجود میں آتا ہے اس میں مرد کو مطلقا حاکمیت کا درجہ قرآن پاک نے عطا کیا ہے اب آپ اس حاکمیت کو کتنا ہی پولائٹ کرتے ہوئے محافظ یا نگران یا جن معنوں میں بھی لیں حقیقی اور معنوی اعتبار سے یہ عورت کو مرد کی ا طاعت میں دینے ہی کا نام ہے لہذا ایک عورت پر اس کے مرد کیا طاعت ضروری ہے کہ جسکے مختلف درجے ہیں ۔نہ کہ ایک مرد پر اپنی بیوی کی اطاعت لازم کی گئی ہے سو جسکی اطاعت لازم ہوگئ نافرمانی اور فرمانبرداری بھی اسی کی کی جائے گی یہ بالکل وہی مراد ہے جیسے ایک آزاد شہری کو ریاست کے قانون کی فرمانبرداری کرنا ہوتی ہے جبکہ ریاست اسکے حقوق کی محافظ ، اب شہری کو اطاعت گذار کہا جائے گا نہ کہ ریاست کو شہری کا فرمانبردار دوسرے معنوں میں تو ہر ریاست اپنے ہر ہر شہری کی فرمانبردار ہی ہوتی ہے مگر محافظ ہونے کی حیثیت سے نہ طاعت گذار ہونے کی حیثیت سے امید ہے نقطہ پا جائیں گی والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (31-10-11), rana ammar mazhar (13-04-12), فیصل ناصر (31-10-11), کنعان (31-10-11), ملک اظہر (31-10-11), سحر (31-10-11), عادل سہیل (20-11-11), عبداللہ حیدر (31-10-11)
جواب

Tags
قرآن, متعلقہ, آیات, حکم, حلالہ, خدا, رسمِ نکاح, طلاق, عورتوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار یاسر عمران مرزا Computer Certifications 29 20-03-11 12:11 AM
سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا گلاب خان خبریں 16 08-01-11 04:53 AM
تعلیمی سیمینار تعلیم Real_Light خبریں 0 21-04-08 09:20 AM
سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:24 AM
سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:57 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger