واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


قرآن کےمطابق طلاق اور طلاق سے متعلقہ حقوق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-10-11, 10:06 PM  
قرآن کےمطابق طلاق اور طلاق سے متعلقہ حقوق
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 19-10-11, 10:06 PM

نوٹ: میں - منتظمین - اس موضوع کے میزبان کی حیثیت سے اس کو اگے بڑھاوں گا۔ میرا مقصد بنیادی طور پر قرآن کی آیات کو سمجھنا ہو گا اور معاشرے میں ان آیات کا اطلاق کس طرح ہوتا ہے اس کی وضاحت چاہوں گا۔

میں ایک ایک آیت کو تشریح کے لیے پیش کروں گا اور تمام اراکین جب ایک آیت پر بحث کر چکے تو پھر ہم دوسری آیت کی جانب بڑھیں گے۔

غیر ضروری اور جذباتی مراسلات کی قطعا کوئی گنجائش نہ ہوگی۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

قرآن میں عورت بیوی پر تین طلاق اور حلالہ کا حکم و ظلم نہیں ہے !!!

طلاق و خلع کا قرانی طریقہ !!!

ضمیر کا مرجع درست کرکے !!!

پہلے ان بن پھر صلح کرا دینا Probation Period میں علیحدگی کے دورانیہ میں پھر طلاق و خلع !!!


الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
( 4:34 )

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا
( 4:35 )

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
( 2:226 )

پھر جو لوگ اپنی عورتوں کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیں ان کو چار مہینے تک انتظار (Probation Period) علیحدگی کا دورانیہ کرنا ہے ۔ اگر (اس عرصے میں سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
( 2:227 )

اور پھر اگر طلاق کا ارادہ کر لیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے

اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔


وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
( 2:228 )

اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
( 2:229 )

وہ طلاق دو مرتبے تک ہے پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔
ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
( 2:230 )

پھر اگر شوہر (خاوند کے ہاتھ کچھ دے کر رہائی چاہنے والی : حق مہر چھوڑ کر ) عورت کو طلاق دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت ( خلع لینے والی ) کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس ( پہلے شوہر ) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا ۚ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
( 2:231 )

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
( 2:231 )

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ۗ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
( 2:232 )

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو ( پرانے یا نئے ) شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ ۗ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
( 2:233 )

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
( 2:234 )

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ ۚ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
( 2:235 )

اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے

لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ
( 2:236 )

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۚ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى ۚ وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
( 2:237 )

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
( 2:238 )

(مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو

فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ
( 2:239 )

اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
( 2:240 )

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے

وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
( 2:241 )

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
( 2:242 )

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
( 65:1 )

اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے

طلاق زبانی نہیں ہوتی بلکہ دو منصف مردوں کو گواہ کرکے ہوتی ہے!!!

فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ۚ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا
( 65:2 )

پھر جب وہ اپنی میعاد (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو ان کو اچھی طرح (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور (گواہ ہو!) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لئے (رنج ومحن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کرے گا

Last edited by منتظمین; 20-10-11 at 11:34 AM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3710
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (25-10-11), فیصل ناصر (20-10-11), نورالدین (13-04-12), مرزا عامر (21-10-11), حیدر Rehan (20-10-11), راجہ اکرام (20-10-11), سحر (20-10-11)
پرانا 28-12-11, 10:06 PM   #106
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
میں‌چاہتا ہوں‌ کہ آپ لفاظی چھوڑ کر قرآن حکیم سے نکات کی طرف آئیے۔
4:19 اور 2:229 سے یہ ثابت ہے کہ جو کچھ بیوی کو دے دیا ، وہ اسکی ملکیت ہوا۔ آپ کے بیان کے مطابق گھر صرف عارضی طور پر رہنے کو دیا ، مستقل ٹھکانہ نہیں۔ کہ جب تک شادی ہے ، ساتھ رہنے کا حق ہے ، یہ کہاں‌ سے اخذ کیا آپ نے ؟ کیا وقتی کرائے کے مکان کی طرح وقتی یا عارضی کرائے کی بیوی ہے ؟؟؟
برادر من،
بڑے عرصے بعد فارم میں نظر آ رہے ہیں۔ چشم ماروشن۔ بھئی کیا کریں، آپ سے اختلاف قراءات والے دھاگے میں‌سنجیدگی سے اور آپ کی ہی شرائط پر بات کر رہے تھے تو آپ کئی کئی ہفتوں کے لئے غائب اور واپسی پر کوئی چھوٹی سی شرلی چھوڑ کر پھر کسی اور طرف چل دیتے تھے۔ ابھی بھی اُس دھاگے میں‌آپ کی نظر کرم کے لئے کئی پیغامات روانہ کئے ہیں، لیکن جناب غائب ہیں۔
تو سوچا کہ شاید آپ کو ہمارا سنجیدہ انداز گفتگو پسند نہ آیا ہو۔ اور بات کچھ ایسی ہی معلوم ہوتی ہے ورنہ یہ کیا وجہ ہے کہ یہاں‌خوب وقت دے رہے ہیں کیونکہ لفاظی کرنے سے کام چل رہا ہے۔ وہاں‌متانت سے بحث چل رہی ہے تو آپ کارنر ہو جانے کی وجہ سے کان لپیٹ کر بیٹھے ہیں۔

محترم ، آپ نے ہماری پوسٹ‌89 کا جواب نہیں‌دیا تھا جس کی وجہ سے گزشتہ پوسٹ میں‌ذرا آپ کو جگانے کی کوشش کی تھی اور آپ کے طرز تکلم سے معلوم ہوتا ہے کہ کافی کچھ کامیابی بھی ہوئی ہے ہمیں۔ اب یہ عجیب بات ہے کہ آپ کے فہم قرآن کی مفصل تردید پر مشتمل ہماری سنجیدہ پوسٹ پر تو آپ ایک لفظ‌کہتے ہوئے بھی شرماتے ہیں، اور ہماری بذلہ سنجیوں کا جواب بڑی خوشی سے دیتے ہیں۔

جیسے ہم آپ کی پوسٹ کا جواب دیتے ہیں، آپ بھی سنجیدگی سے جواب دیا کریں، نا کہ اصل موضوع سے کترا کر ضمنی مباحث شروع کرنے لگ جائیں جیسے کہ آپ نے پچھلی پوسٹ‌میں‌ خود کو لاجواب پا کر بجائے اس کے کہ اصل موضوع پر بات کرتے، طلاق یافتہ خواتین کی ملکیت کو چھیننے کی بحث شروع کر دی اور ہماری تنبیہہ کے باوجود بھی ابھی تک انہی آیات کے حوالے دئے جا رہے ہیں جبکہ ہماری اس دھاگے میں شرکت سے قبل بڑے تعلی آمیز انداز میں جو دعویٰ بار بار دائر کیا جا رہا تھا وہ یہ تھا کہ شادی کے بعد شوہر کا گھر بیوی کی ملکیت ہو جاتا ہے۔

چلیں‌۔ ری سیٹ کر لیتے ہیں۔فی الحال آپ ہماری پوسٹ 89 میں‌اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دے دیجئے تاکہ بات سنجیدگی سے آگے بڑھانے کا کوئی امکان ہو۔ بس آپ متانت سے درست موضوع پر بات چیت کرتے رہیں‌تو ہمیں‌بھی مکالمہ کے لئے اچھا ساتھی پائیں گے ان شاءاللہ۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (29-12-11)
پرانا 29-12-11, 12:10 AM   #107
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
معروف شاہ بانو کیس :: -ہندوستان کے شہری محمد احمد خان کی شادی 1932ءمیں شاہ بانو بیگم سے ہوئی۔ ازدواجی زندگی کے 43سال بعد 1975ءمیں شوہر نے بیوی کو اپنے گھر سے نکال دیا۔ اپریل 1978ءمیں شاہ بانو بیگم نے اپنے شوہر کے خلاف اندور (مدھیا پردیش)کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125کے تحت عذرداری داخل کردی جس میں 500 روپے ماہانہ کے حساب سے نان ‘نفقہ دلانے کی درخواست کی گئی تھی۔ نفقہ کی درخواست کے جواب میں محمد احمد خان کی دلیل یہ تھی کہ طلاق مغلظہ کے بعد مدعیہ کی حیثیت بیوی کی نہیں رہی۔ اس لیے اس پر نان نفقہ کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اگست 1979ء میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے محمد احمد خان کو نفقہ کے طور پر 25 روپے ماہانہ شاہ بانو کو دینے کی ہدایت کی۔ محمد احمد کی جانب سے مجسٹریٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مدھیا پردیش ہائی کورٹ میں داخل کی گئی۔ ہائی کورٹ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ بطور نفقہ ادا کی جانے ولی رقم 25 روپے سے بڑھا کر 179 روپے 20 پیسے مقرر کردی۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف محمد احمد خان نے سپریم کورٹ میں خصوصی اپیل دائر کی۔ پانچ رکنی آئینی بینچ نے اس خصوصی اپیل پر سماعت کے بعد مدھیا پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اپیل خارج کردی اور اس فیصلے کو برقرار رکھا کہ مطلقہ مسلم بیوی کو عدت گزرنے کے بعد بھی نان ‘ نفقہ کے مطالبہ کا حق ہے۔ (حوالہ: مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ، سیّد جلال الدین عمری، صفحہ 206) انڈین سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 23 اپریل 1985ءمیں سنایا گیا تھا۔ شاہ بانو کیس کے نام سے یہ مقدمہ ہندوستان کی عدالتی تاریخ کا معروف مقدمہ ہے اور اس کا حوالہ اس موضوع پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹس میں کثرت سے ملتا ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

فتوے نہیں ٹھنڈے دل سے غور کریں

ارشاد احمد حقانی


Suay Haram January'09: Islami Nazaryati Council.... by Irshad Ahmad Haqani[/COLOR]

غامدی فکر اور مطلقہ کا حق متاع


ڈاکٹر فیاض عالم2009-01-28 00:00:00 PST

ہندوستان کے شہری محمد احمد خان کی شادی 1932ء میں شاہ بانو بیگم سے ہوئی۔ ازدواجی زندگی کے 43سال بعد 1975ءمیں شوہر نے بیوی کو اپنے گھر سے نکال دیا۔

اپریل 1978ءمیں شاہ بانو بیگم نے اپنے شوہر کے خلاف اندور (مدھیا پردیش) کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125کے تحت عذرداری داخل کردی جس میں 500 روپے ماہانہ کے حساب سے نان ‘نفقہ دلانے کی درخواست کی گئی تھی۔ کے نفقہ کی درخواست کے جواب میں محمد احمد خان کی دلیل یہ تھی کہ طلاق مغلظہ کے بعد مدعیہ کی حیثیت بیوی کی نہیں رہی۔ اس لیے اس پر نان نفقہ کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اگست 1979ء میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے محمد احمد خان کو نفقہ کے طور پر 25 روپے ماہانہ شاہ بانو کو دینے کی ہدایت کی۔

محمد احمد کی جانب سے مجسٹریٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مدھیا پردیش ہائی کورٹ میں داخل کی گئی۔ ہائی کورٹ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ بطور نفقہ ادا کی جانے ولی رقم 25 روپے سے بڑھا کر 179 روپے 20 پیسے مقرر کردی۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف محمد احمد خان نے سپریم کورٹ میں خصوصی اپیل دائر کی۔ پانچ رکنی آئینی بینچ نے اس خصوصی اپیل پر سماعت کے بعد مدھیا پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اپیل خارج کردی اور اس فیصلے کو برقرار رکھا کہ مطلقہ مسلم بیوی کو عدت گزرنے کے بعد بھی نان ‘ نفقہ کے مطالبہ کا حق ہے۔
(حوالہ: مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ، سیّد جلال الدین عمری، صفحہ 206)

انڈین سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 23اپریل 1985ء میں سنایا گیا تھا۔ شاہ بانو کیس کے نام سے یہ مقدمہ ہندوستان کی عدالتی تاریخ کا معروف مقدمہ ہے اور اس کا حوالہ اس موضوع پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹس میں کثرت سے ملتا ہے۔

”شرعی اعتبار سے نفقہ مطلقہ کا مطلب تو بہت واضح اور صاف ہے کہ مطلقہ کے لیے دورانِ عدت کا نفقہ مہر کے ساتھ خواہ عدت حمل ہو یا عام حالات ، شوہر پر شرعاً واجب ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ شرعی وجوب اور لزوم کی حیثیت نہیں بلکہ دل جوئی کی حیثیت سے جو جتنا دینا چاہے اس کا ذاتی معاملہ اور حسن اخلاق پر مبنی ہوگا۔“
(حوالہ: مسائل طلاق، مفتی عبدالجلیل قاسمی، صفحہ 193)

انڈین سپریم کورٹ کا فیصلہ کیونکہ عدت کے دوران کا نہیں بلکہ عدت گزرنے کے بعد بھی سابقہ شوہر کو قانونی طور پر نان و نفقہ کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق تھا، لہٰذا ہندوستان بھر میں اس فیصلے پر علماء اور عام مسلمانوں کی جانب سے ردِ عمل کا اظہار کیا گیا اور تمام مسلمانوں نے مسلک و فرقہ کی بحث سے بالاتر ہو کر اس فیصلے کی شدید مخالفت و مذمت کی۔

مسلمانوں نے اس فیصلے کو خلافِ شریعت اور دین میں حکومت کی کھلم کھلا مداخلت قرار دیا۔ مسلمانوں کے غم و غصے اور مزاحمت کے پیش نظر حکومت کو ”مسلم خواتین بل “ پاس کرنا پڑا۔

انڈین سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ تحریر کیا تھا کہ سابق شوہر مطلقہ عورت کو تانکاحِ ثانی نان و نفقہ دینے کا پابند ہو گا اور بعض حالتوں میں تاعمر۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی دلیل میں قرآن پاک کی سورئہ بقرہ کی آیت ”وللمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین“ کو پیش کیا۔

1985ء میں صادر کیے جانے والے انڈین سپریم کورٹ کے فیصلے، اور اس کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کے ردِ عمل کے نتیجے میں ہندوستان کی حکومت کے اس فیصلے کو شریعت سے متصادم قرار دے کر واپس لینے کے تاریخی معاملے کے بعد توقع تھی کہ بعد از عدت مطلقہ کے نان و نفقہ کی ذمہ داری کو سابق شوہر پر ڈالنے والے نام نہاد مسلم اسکالرز اور مغرب سے مرعوب دانشور اس معاملے پر اپنے نظریات و افکار سے رجوع کر لیں گے اور اسلامی قوانین میں مغربی قوانین کی پیوند کاری بند کردیں گے مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔

ہندوستان تو ایک سیکولر ملک ہے۔ وہاں کی سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان اگر قرآن و سنت کے احکامات سے واقف نہ ہوں اور انہیں سمجھنے میں غلطی کریں تو یہ بات قابل فہم ہے لیکن اگر پاکستان میں ایسا ہو تو نہ صرف یہ ایک ناقابل فہم بات ہے بلکہ ناقابل برداشت بھی۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے 171 ویں اجلاس میں جو سفارشات حکومت کو قانون سازی کے لیے پیش کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ : ”طلاق کے موثر ہو جانے کے بعد مطلقہ عورتیں اگر چاہیں تو عدالت شوہر کے معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لیے قرآن کے مطابق عطا کردہ حق ”متاع“ کی مقدار متعین کرنے کا حکم صادر کرسکتی ہے جو یکمشت بھی ہو سکتی ہے اور ماہ بہ ماہ بھی، جب تک مطلقہ عورت کی اگلی شادی نہ ہو جائے۔

مقام حیرت اور افسوس ہے کہ شاہ بانو کیس میں انڈین سپریم کورٹ نے ایک غیر شرعی فیصلہ سنانے کے لیے قرآن کی جس آیت کی من مانی تشریح کی تھی، اسی کا حوالہ دے کر جناب غامدی اور ان کے حواری پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ویسی ہی سفارش کر رہے ہیں۔

کیونکہ آج کل پاکستان میں جناب غامدی تقریباً ہر نجی ٹیلی ویژن چینل پر چھائے ہوئے ہیں اور اسلام کا صحیح نقطہ نظر کم از کم الیکٹرونک میڈیا جیسے موثر ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے نہیں آ پا رہا۔ لہٰذا عوام طلاق جیسے اہم مسئلے پر غامدی فکر کو درست سمجھنے پر مجبور ہیں۔ قرآن و سنت میں حق متاع کے حوالے سے احکامات بالکل واضح ہیں۔ فقہاء کے درمیان بھی اس معاملے پر کوئی بڑا اختلاف نہیں پایا جاتا۔

نیز یہ کہ 1400 سالہ اسلامی تاریخ میں ایک بھی نظیر ایسی نہیں ملتی جس میں عدالت کو یہ حق دیا گیا ہو کہ وہ سابق شوہر کو اس بات کا پابند کر سکے کہ وہ تانکاحِ ثانی مطلقہ کو مخصوص رقم یکمشت یا ماہ بہ ماہ اپنی معاشی حالت کے مطابق دیتا رہے۔

حق متاع ہو یا طلاق کے دیگر احکامات، یقینا ایک یا دو اخباری کالموں میں ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔

میں قارئین سے ملتمس ہوں کہ برائے مہربانی ادارئہ معارفِ اسلامی کی حال ہی میں شائع ہونے والی مولانا جلال الدین عمری صاحبؒ کی کتاب ”مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ“ ضرور پڑھیں تاکہ انہیں اس اہم مسئلہ پر درست معلومات حاصل ہو سکیں۔ میں ادارہ معارفِ اسلامی کے ڈائریکٹر شاہد ہاشمی صاحب سے بھی درخواست گزار ہوں کہ کتاب کے باب ”طلاق کا مسئلہ“ کو فوری طور پر کتابچے کی شکل میں شائع کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس مسئلہ پر قرآن و سنت کے نقطہ نظر سے واقف ہو سکیں اور غامدی فکر سے محفوظ رہ سکیں۔ کیونکہ یہ فکر دورِ حاضر کا بڑا فتنہ بنتی جا رہی ہے!!

غامدی فکر اور مطلقہ کا حق متاع
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (29-12-11), فاروق سرورخان (06-01-12), شکاری (29-12-11)
پرانا 06-01-12, 03:05 PM   #108
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں اپنے اس مراسلے میں‌ کنعان کا پیش کردہ مراسلہ نمبر 107 ( از ڈاکٹر فیاض عالم) اور شکاری کا مراسلہ نمبر 89 میں اٹھائے ہوئے اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے ایک بہت ہی بنیادی سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔

سوال:۔ کیا ایک عورت شادی کے بعد اپنے شوہر کی "غلام" بن جاتی ہے کہ وہ
1۔ اپنے جسم میں بچے کا بوجھ اٹھائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
2۔ اپنے بچوں کو دودھ پلائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
3۔ اپنے بچے پالے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
4۔ اس مرد کے بچوں کو اور مرد کو تا حیات کھانا پکا کر کھلائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
5۔ مزید گھریلو کام کاج جیسے صفائی ستھرائی ، کپڑے دھونا، باتھ روم دھونا، کپڑے سینا، اور اسی قسم کے دوسرے کاموں کی ذمہ داری لے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟

یہ درست ہے کہ شادی ایک مقدس بندھن ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اس کے جواب میں ایک عورت سے ان تمام کاموں‌ کی توقع رکھی جائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو۔

تو آپ دونوں‌ سے سوال ہے کہ زندگی ساتھ گذارنے اور اوپر دئے ہوئے تمام کام کرنے کا معاوضہ، آپ کے نزدیک کیا وجہ ہے کہ کچھ بھی نہیں۔ جسمانی تعلق کو ایک طرف رکھیں اور بتائیں کے وہ کیا حالات ہوں گے کہ آپ کسی کے ساتھ رہیں اور یہ سب کام مفتے میں کریں اور خوش رہیں‌۔۔ معاوضہ کوئی نہیں‌؟؟؟؟؟

سنجیدگی اور درد مندی اور خلوص سے جواب دیجئے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (06-01-12), فیصل ناصر (15-04-12), نورالدین (13-04-12)
کمائي نے فاروق سرورخان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
06-01-12 کنعان شام کو ابھی بریک ٹائم ھے 1
پرانا 06-01-12, 07:23 PM   #109
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سوال:۔ کیا ایک عورت شادی کے بعد اپنے شوہر کی "غلام" بن جاتی ہے کہ وہ

یہ درست ہے کہ شادی ایک مقدس بندھن ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اس کے جواب میں ایک عورت سے ان تمام کاموں‌ کی توقع رکھی جائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو۔

اور بتائیں کے وہ کیا حالات ہوں گے کہ آپ کسی کے ساتھ رہیں اور یہ سب کام مفتے میں کریں اور خوش رہیں‌۔۔ معاوضہ کوئی نہیں‌؟؟؟؟؟[/COLOR]
سنجیدگی، دردمندی اور خلوص سے ہی گزارش ہے کہ پہلے ایک موضوع ختم کر لیں‌اور پھر دوسرا شروع کریں۔ اگر برا نہ منائیں تو عرض کروں کہ یہ کچھ آپ کی عادت سی ہوتی جا رہی ہے کہ ایک دو پوسٹس کے بعد غائب ہو جاتے ہیں‌اور پھر عرصے بعد تشریف لا کر جب موضوع ذہنوں‌میں‌دھندلا چکا ہو تو کسی دوسری سمت میں‌اشارہ کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ یہ روش تو کوئی اچھی معلوم نہیں‌ہوتی۔

جہاں تک آپ کے سوالات کا تعلق ہے تو ایک ایک سوال سے مادیت پرستی ٹپکی پڑ رہی ہے۔ محترم، یہ تو آپ کی فکری کجی ہے کہ کبھی شادی کا کاروبار کے ساتھ موازنہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فطری وظائف و ذمہ داریوں کو پیسوں میں‌تولنا چاہتے ہیں۔ ہم یہاں‌ ایک خاص مسئلے پر درست شرعی حکم کی بابت جاننا چاہ رہے ہیں اور آپ بھی اتفاق کریں‌گے کہ جذباتی باتوں‌کی کسی شرعی مسئلہ میں‌ کوئی اہمیت نہیں‌ ہوتی۔ ورنہ مردوں کی مظلومیت پر ایسے جذباتی ڈائیلاگ ہم بھی پیش کر کے لوگوں سے جذباتی اپیل کر سکتے ہیں‌ کہ جناب عالی، اگر خاتون خانہ گھر گر ہستی سنبھالتی ہے، بچوں‌ کو پیدا کرتی، پالتی اور تربیت کرتی ہے، کھانا پکاتی اور جھاڑو پوچا کرتی ہے تو کیا مرد ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہتے ہیں۔ کیا وہ خاتون خانہ کی جائز و ناجائز خواہشات کو پورا کرنے کی ذمہ داری کے علاوہ پورے گھر کی معاشی کفالت کا بوجھ نہیں اٹھاتے، بچوں، والدین، چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت اور ان سب کی خواہشات کو پورا کرنے کی ذمہ داری کیا کچھ کم مشکل ہوتی ہے؟ کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری، حالات، چوری چکاری، چھینا چھپٹی، ٹریفک دیکھیں، تھکن اور بیماری کی حالت میں‌بھی مرد بے چارے کی گھر کی دال روٹی چلانے کے لئے سارا سارا دن کی مشقت دیکھیں، اور پھر ترازو لے کر چیک کریں کہ پلڑا کس کا بھاری رہا۔ بھئی، مردوں‌ کی یہ محنت اور معاشی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ان کا فطری وظیفہ ہے۔ اور بالکل اسی طرح‌ خواتین کا گھریلو ذمہ داریوں‌کا بار اٹھانا ان کا وظیفہ ہے۔ اسے دولت کے ترازو میں‌تولنے والوں‌کی عقلمندی کو معکوس داد ہی دی جا سکتی ہے۔
لہٰذا آپ سے بھی اسی سنجیدگی و خلوص‌سے گزارش ہے کہ موضوع کے مطابق فقط اتنا فرما دیجئے کہ شادی ہونے پر گھر بیوی کے نام ہو جاتا ہے، اس کی صریح قرآنی دلیل کیا ہے۔ ادھر ادھر کی دیگر باتیں‌کسی اور دھاگے میں‌سہی۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (06-01-12), فاروق سرورخان (06-01-12), کنعان (06-01-12)
پرانا 06-01-12, 08:04 PM   #110
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default "معروف حق" آپ اپنے دل سے طے کریں گے کہ اللہ نے طے کیا ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
لہٰذا آپ سے بھی اسی سنجیدگی و خلوص‌سے گزارش ہے کہ موضوع کے مطابق فقط اتنا فرما دیجئے کہ شادی ہونے پر گھر بیوی کے نام ہو جاتا ہے، اس کی صریح قرآنی دلیل کیا ہے۔ ادھر ادھر کی دیگر باتیں‌کسی اور دھاگے میں‌سہی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی دلیل میں قرآن پاک کی سورئہ بقرہ کی آیت “وللمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین” کو پیش کیا۔

سنجیدگی، دردمندی اور خلوص سے ہی گزارش ہے کہ "معروف حق" آپ اپنے دل سے طے کریں گے کہ اللہ نے طے کیا ہے ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (15-04-12)
پرانا 06-01-12, 09:43 PM   #111
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادر من شکاری،

آپ کی سوچ کو ابھی مزید ارتقاء کی ضرورت ہے۔ ذمہ داری مرد کی ہو یا عورت کی اس کو فطری وظیفہ کہہ کر جان نہیں‌چھڑائی جاسکتی۔ بنیادی طور پر شادی ایک مکمل طور پر مساوی پارٹنر شپ ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی نے فرمایا کہ وہ سب کچھ جو آپ نے اپنی عورتوں‌ کو شادی کے بعد دیا وہ طلاق کی صورت میں آپ لے نہیں‌سکتے ۔


آپ کی سوچ میں‌اس کام کی ذمہ داری کی قیمت ڈالنے کی کوشش کی جو آپ کی نظر میں‌کچھ نہیں ہے ۔ صرف فطری وظیفہ ہے ۔ تو برادر من یہ فطری وظیفہ آپ مفتے میں‌ادا کیجئے۔ کیوں محترم خاتون کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں ؟

اگر آپ اس کو مساوی پارٹنر شپ نہیں سمجھتے تو کیا وجہ ہے کہ آپ اس تمام کام کا معاوضہ ادا نہیں کرتے ۔ اگر امریکہ کے حساب سے ‌دیکھا جائے تو یہاں کم از کم مزدوری کا ریٹ‌ 8 ڈالر ہے۔ اس حساب سے 70 ہزار ڈالر سال کی رقم آپ بیوی کو کام کے 24 گھنٹے کے معاوضے میں ادا کریں‌گے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ 70 ہزار ڈالر میں ایک مناسب گھر بآسانی آجاتا ہے ۔ لیکن یہ رقم نا کوئی یہاں‌ادا کرتا ہے اور نا ہی اس کے متوازی رقم کسی دوسرے ملک میں تو برادر من جو شخصیت اتنے بڑے گھاٹے کا سودا کررہی ہے اس کا کوئی حق حصہ ہے یا نہیں ؟

تو برادر من، اس حق و حصہ یہی ہے کہ جو کچھ اس (میاں و بیوی کے) خاندان کی ملکیت بنتا ہے اس کا کم از کم نصف اس محترم خاتون کا حق ہے ۔ جس کو طلاق دی جارہی ہے۔ یہ حق اسی طرح بچوں کا بھی بنتا ہے جن کو آپ اس زندگی میں لانے کی وجہ بنے ہیں ، ان کی تعلیم و تربیت یقینی طور پر آپ کا فرض‌ہے۔ لہذا آپ کے اثاثوں پر پہلا حق آپ کی بیوی اور بچوں‌کا بنتا ہے ۔ جس کی سمجھ میں‌یہ بات آتی ہے وہ صاف طور پر دیکھ سکتا ہے کہ شادی کی وجہ سے --- اس فطری خدمت --- کا معاوضہ اللہ تعالی نے صاف صاف بیان فرمایا ہے ۔

آپ کے خیال میں‌یہ متاع کیا ہے جو طلاق یافتہ عورتوں‌کو ادا کیا جانا ہے ‌؟ یا تو مشقت کا حساب کرکے معاوضہ دو یا پھر مال و متاع میں سے حصہ دو۔
2:241 وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی معروف طریقے سے متاع دیا جائے، یہ پرہیزگاروں پر واجب ہے

یا تو مشقت کا معاوضہ ادا کیجئے یا اپنی ازواج کو مساوی حصہ دار سمجھئے اپنی ملکیت میں‌۔ لکھا ہو یا نا ہو۔
2:229 الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلاَّ أَن يَخَافَا أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّهِ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے پھر یا تو (بیوی کو) اچھے طریقے سے (زوجیت میں) روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ جو چیزیں تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ (اب رشتۂ زوجیت برقرار رکھتے ہوئے) دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، سو (اندریں صورت) ان پر کوئی گناہ نہیں کہ بیوی (خود) کچھ بدلہ دے کر (اس تکلیف دہ بندھن سے) آزادی لے لے، یہ اﷲ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں، پس تم ان سے آگے مت بڑھو اور جو لوگ اﷲ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں سو وہی لوگ ظالم ہیں

یا تو معاضہ دو یا پھر جوکچھ ان کو دے دیا ہے وہ مت لو۔ اس میں وہ مکان ، وہ کار ، وہ مال و دولت ، وہ کاروبار سب شامل ہے جو ان کی وجہ سے تم نے ڈویلپ کیا۔ اس سب میں اس محترم خاتون کا نصف حصہ ہے جو اس کی وجہ سے بنا۔ ورنہ شوہر تو گھر کے پوچے لگاتا رہ جاتا یا پوتڑے بدلتا رہتا۔ کاروبار ، نوکری کیا کرتا۔ اس ساری ترقی کی وجہ سے جو آمدنی بڑھی اس میں مستقبل کی آمدنی کا نصف اس عورت کا حصہ ہے جس نے شوہر کو کھڑے ہونے میں‌ مدد دی، کھانے پکائے، پوتڑے بدلے، پوچے لگائے۔ اور روز شوہر کو استری شدہ کپڑے پہنا کر کاروبار یا ملازمت میں ترقی کرنے کے لئے بھیجا۔

4:19 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُواْ النِّسَاءَ كَرْهًا وَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُواْ بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلاَّ أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا
اے ایمان والو! تمہارے لئے یہ حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ، اور انہیں اس غرض سے نہ روک رکھو کہ جو مال تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ (واپس) لے جاؤ سوائے اس کے کہ وہ کھلی بدکاری کی مرتکب ہوں، اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو، پھر اگر تم انہیں نا پسند کرتے ہو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے


جس گھر میں یہ محترم خاون رہتی ہے وہ گھر اس کا ہی ہوا۔ اس سے زیادہ صاف اور واضح‌حکم کیا ہوگا؟؟؟
65:1 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ اس سے زیادہ صاف اور واجح حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے


اب آخر میں‌ایک بات ذاتی نوٹ: جتنا وقت آپ میری حرکتوں‌ کا مشاہدہ کرنے میں لگاتے ہیں اتنا وقت معاملے پر سوچنے میں‌لگائیں اس وجہ سے میں‌ آپ کو سوچنے کا وقت دیتا ہوں ۔ شخصیت پرستی چھوڑ کی معاملے پر توجہ دینے کی کوشش کیجئے تو آپ کو میرے طریقہ کار کے بارے میں‌بہتر سمجھ آجائے گی

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (07-01-12), فیصل ناصر (06-01-12), نورالدین (13-04-12), حیدر Rehan (13-04-12)
پرانا 06-01-12, 10:49 PM   #112
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیا بیوی کو اس کی فطری خدمت کا معاوضہ ادا کیا جائے گا یا یہ سب فطری خدمت بیوی مفتے میں‌ ادا کرے گی؟

ہم کو قرآن حکیم میں‌ بیوی بننے کی فطری خدمت مفتے میں‌نظر نہیں‌آتی۔ اللہ تعالی ہر موقعے پر شادی سے پہلے ، شادی کے دوران اور شادی کے بعد بیوی کو ان کی فطری خدمت کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ آپ کی سوچ کے ارتقاء‌کے لئے۔ درج ذیل آیات۔ یہ معاوضہ ادا کیجئے یا پھر دنیا کے معروف قوانین کے تحت، ان بیویوں‌کو ایک مساوی درجے کی پارٹنر شپ دیجئے۔ اور معاوضہ کے عوض‌ان کو اپنے اثاثہ اور مستقبل کی آمدنی میں سے حصہ دیجئے

بیویوں‌کو ان کی -- فطری خدمت ---- کا معاوضہ ادا کرو --- شادی سے پہلے ۔ کیا مسلمان یہ مہر ادا کرتا ہے یا دبا کر بیٹھا رہتا ہے ؟؟؟ ۔
4:24 وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پرحرام ہیں) سوائے ان (کافروں کی قیدی عورتوں) کے جو تمہاری مِلک میں آجائیں، (ان احکامِ حرمت کو) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے، اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے، پھر ان میں سے جن سے تم نے اس کے عوض فائدہ اٹھایا ہے انہیں ان کا اجر ادا کر دو، اور تم پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم فریضہ اداکرنے کے بعد باہم رضا مند ہو جاؤ، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے

4:25 وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَن تَصْبِرُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور تم میں سے جو کوئی (اتنی) استطاعت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے تو ان مسلمان کنیزوں سے نکاح کرلے جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں ہیں، اور اللہ تمہارے ایمان (کی کیفیت) کو خوب جانتا ہے، تم (سب) ایک دوسرے کی جنس میں سے ہی ہو، پس ان (کنیزوں) سے ان کے مالکوں کی اجازت کے ساتھ نکاح کرو اور انہیں ان کے اجر حسبِ دستور ادا کرو درآنحالیکہ وہ (عفت قائم رکھتے ہوئے) قیدِ نکاح میں آنے والی ہوں نہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ درپردہ آشنائی کرنے والی ہوں، پس جب وہ نکاح کے حصار میں آجائیں پھر اگر بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی آدھی سزا لازم ہے جو آزاد (کنواری) عورتوں کے لئے (مقرر) ہے، یہ اجازت اس شخص کے لئے ہے جسے تم میں سے گناہ (کے ارتکاب) کا اندیشہ ہو، اور اگر تم صبر کرو تو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا مہر بان ہے

بیویوں‌کی --- فطری خدمت ----کا "اجر" ادا کرنےکے لئے مزید یہ آیات دیکھئے۔۔۔
5:5 الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے اجر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا

فطری خدمت کا معاوضہ؟؟؟؟
65:6 أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى
تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اُن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگر وہ تمہاری خاطر (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں (ایک دوسرے سے) نیک بات کا مشورہ (حسبِ دستور) کر لیا کرو، اور اگر تم باہم دشواری محسوس کرو تو اسے (اب کوئی) دوسری عورت دودھ پلائے گی

اگر شوہر فطری خدمت کا معاوضہ بھی ادا نہیں‌کرتا ، اور اس فطری وظیفے کو مفتے کا کام سمجھتا ہے اور اگر سمجھتا ہے کہ جب چاہے نکال کر باہر بھی کرسکتا ہے تو اس کی ترقی چاہے کارباری ہو یا سرکاری یا نوکری، میں‌ایک بڑا کردار ادا کرنے والی بیوی کا کوئی حق نہیں ۔۔۔

کیا اس طرح‌حق مارنا، اللہ کی شریعت ہے ؟؟؟ کیا یہ دین فطرت ہے ،؟؟؟‌کیا یہ انصاف ہے ؟؟؟؟ حق مارنے کی ایسی کاروائی شیطانی شریعت تو ہوسکتی ہے الہی شریعت نہیں ِ۔۔۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (07-01-12), فیصل ناصر (15-04-12)
پرانا 07-01-12, 02:52 AM   #113
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
میں اپنے اس مراسلے میں‌ کنعان کا پیش کردہ مراسلہ نمبر 107 ( از ڈاکٹر فیاض عالم) اور شکاری کا مراسلہ نمبر 89 میں اٹھائے ہوئے اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے ایک بہت ہی بنیادی سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔

سوال:۔ کیا ایک عورت شادی کے بعد اپنے شوہر کی "غلام" بن جاتی ہے کہ وہ
1۔ اپنے جسم میں بچے کا بوجھ اٹھائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
2۔ اپنے بچوں کو دودھ پلائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
3۔ اپنے بچے پالے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
4۔ اس مرد کے بچوں کو اور مرد کو تا حیات کھانا پکا کر کھلائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
5۔ مزید گھریلو کام کاج جیسے صفائی ستھرائی ، کپڑے دھونا، باتھ روم دھونا، کپڑے سینا، اور اسی قسم کے دوسرے کاموں کی ذمہ داری لے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟

یہ درست ہے کہ شادی ایک مقدس بندھن ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اس کے جواب میں ایک عورت سے ان تمام کاموں‌ کی توقع رکھی جائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو۔

تو آپ دونوں‌ سے سوال ہے کہ زندگی ساتھ گذارنے اور اوپر دئے ہوئے تمام کام کرنے کا معاوضہ، آپ کے نزدیک کیا وجہ ہے کہ کچھ بھی نہیں۔ جسمانی تعلق کو ایک طرف رکھیں اور بتائیں کے وہ کیا حالات ہوں گے کہ آپ کسی کے ساتھ رہیں اور یہ سب کام مفتے میں کریں اور خوش رہیں‌۔۔ معاوضہ کوئی نہیں‌؟؟؟؟؟


سنجیدگی اور درد مندی اور خلوص سے جواب دیجئے۔

والسلام
السلام علیکم جناب من

دیکھیں سنجیدگی، دردمندی یہ ایک الگ مسئلہ ھے اس پر اگر آپ کہیں تو میں آپکو حقیقی پریکٹکلی باتیں بھی لکھ سکتا ہوں مگر قرآن مجید سے جس آیت پر آپ طلاق یافتہ کی ملکیت ثابت کرنے پر زور دے رہے ہیں وہ کسی بھی طرح آپ کے جواب سے مطابقت نہیں رکھتی اس پر مفصل طریقہ سے میں نے اپنا جواب/ رائے پیش کر دی تھی اس لئے میری طرف سے مزید لکھنے کے لئے کچھ باقی نہیں میں مطمعین ہوں۔

میری آپ سے مودبانہ گذارش ھے کہ کنورسیشن میں اپنی رائے یا تگ و دور کوشش کرنی ہوتی ھے اگر آپ وہ کریں تو بہت اچھا لگے گا یہ جو آپ سوال اکٹھے کر کے پیش کرتے ہیں کہ ان کا جواب کوئی دے تو سوال کرنے سے بہتر ھے کہ آپ اس کے مطابق اپنا میسج لکھا کریں اگر کوئی ضروری سمجھے تو بات آگے بڑھا سکتا ھے، ورنہ اچھا نہیں لگتا کہ آپ کے سوالوں کو کچھ نہ سمجھتے ہوئے یا غیر مطلقہ خالی چھوڑ دیا جائے۔ آپ نے جو سوالات پیش کئے ہیں آپ خود اندازہ کریں کہ آپ کے سوالات نکاح میاں بیوی / طلاق مطلقہ، کس حوالہ سے ہیں۔ قرآن مجید میں میاں‌ بیوی اور طلاق یافتہ پر الگ الگ حکم ہیں۔


اقتباس:
سوال:۔ کیا ایک عورت شادی کے بعد اپنے شوہر کی "غلام" بن جاتی ہے
عورت کا جس نے نکاح پڑھا گیا ھے وہ اس کی شریک حیات ھے

اقتباس:
1۔ اپنے جسم میں بچے کا بوجھ اٹھائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
اگر یہ سوال شریک حیات کے حوالہ سے ھے تو پھر بچہ بوجھ نہیں اور اس کا خاوند اسے جس حال میں بھی رکھے وہ اسی میں اپنی خوشی قسمتی سمجھتی ھے۔

اور اگر متعلقہ کے حوالہ سے ھے تو پھر طلاق ایک مسئلہ نہیں بلکہ مسائل ہیں جو صاحب علم ہی قرآن و حدیث سے بہتر بتا سکتے ہیں کیونکہ گھر کا ملکیت ہونا پر جو آپ نے قرآنی آیت سے مفہوم پیش کیا میرا اس سے اتفاق نہیں۔

اقتباس:
3۔ اپنے بچے پالے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
نکاح کے بعد میاں بیوی میں‌ بیوی پر معاوضہ شائد کہیں بھی استعمال نہیں ہوا۔


اقتباس:
4۔ اس مرد کے بچوں کو اور مرد کو تا حیات کھانا پکا کر کھلائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
جس کے ساتھ (مرد/ خاوند) تاحیات زندگی گزار رہی ھے اس کے لئے معاوضہ نہیں

اقتباس:
5۔ مزید گھریلو کام کاج جیسے صفائی ستھرائی ، کپڑے دھونا، باتھ روم دھونا، کپڑے سینا، اور اسی قسم کے دوسرے کاموں کی ذمہ داری لے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو؟
یہ سوال بھی کامیاب میاں بیوی کی حوالہ سے ھے اس کا کوئی معاوضہ نہیں‌ ہوتا۔

اقتباس:
یہ درست ہے کہ شادی ایک مقدس بندھن ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اس کے جواب میں ایک عورت سے ان تمام کاموں‌ کی توقع رکھی جائے اور اس کا کوئی معاوضہ نا ہو۔
مقدس بندھن اور معاوضہ،

تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اُن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگر وہ تمہاری خاطر (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں (ایک دوسرے سے) نیک بات کا مشورہ (حسبِ دستور) کر لیا کرو، اور اگر تم باہم دشواری محسوس کرو تو اسے (اب کوئی) دوسری عورت دودھ پلائے گی
65:5


اقتباس:
تو آپ دونوں‌ سے سوال ہے کہ زندگی ساتھ گذارنے اور اوپر دئے ہوئے تمام کام کرنے کا معاوضہ، آپ کے نزدیک کیا وجہ ہے کہ کچھ بھی نہیں۔ جسمانی تعلق کو ایک طرف رکھیں اور بتائیں کے وہ کیا حالات ہوں گے کہ آپ کسی کے ساتھ رہیں اور یہ سب کام مفتے میں کریں اور خوش رہیں‌۔۔ معاوضہ کوئی نہیں‌؟؟؟؟؟
اس کا جواب مفتا لگانے والے یا بیوی کو غلام سمجھنے والے ہی بہتر دے سکتے ہیں۔


وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ
(البقرہ 2 : 228 )
عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں، البتہ مردوں کو ان پر ایک (برتر) درجہ حاصل ہے۔

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ
(النساء 4: 34)
مرد عورتوں کے سربراہ ہیں، اس سبب سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس سبب سے کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔

فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ
(النساء 4: 34)
پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں،


آیت کے اس حصے میں نیک عورتوں کی دو صفات بیان کی گئی ہیں: ایک صفت ہے قانتات، یعنی اطاعت کرنے والی ۔ ’قنوت‘ کے لغوی معنیٰ اطاعت کے ہیں۔ قرآن کے دیگر مقامات پر اس کا استعمال ’اللہ کی اطاعت‘ کے معنیٰ میں ہوا ہے۔

بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں بھی وہ اسی معنیٰ میں ہے، جب کہ بعض دیگر کہتے ہیں کہ ’اطاعت‘ میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ شوہر کی اطاعت بھی شامل ہے۔

صالح عورتوں کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے: حافظات للغیب، یعنی غیب کی حفاظت کرنے والیاں۔ غیب کا ایک مفہوم شوہر کی غیر موجودگی ہے، یعنی شوہروں کی عدم موجودگی میں وہ اپنے آپ کی ، بچوں کی اور شوہروں کے گھر اور مال و جایداد کی حفاظت کرتی ہیں۔ زمخشری فرماتے ہیں: ’’غیب، موجودگی کی ضد ہے۔ یعنی جب ان کے شوہر ان کے پاس موجود نہیں ہوتے ہیں تو وہ ان کے غائبانہ میں ان کی چیزوں کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔

(زمحشری، 1 / 524)

ابن عطیہ نے اس مفہوم کو کچھ اور وسعت دی ہے۔ ان کے نزدیک غیب میں ہر وہ چیز داخل ہے جس کا شوہر کو علم نہ ہو، خواہ وہ اس کی موجودگی میں ہو یا غیر موجودگی میں۔ کہتے ہیں: ’’غیب سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کا شوہر کو علم نہ ہو او راس کی نگاہ سے پوشیدہ ہو اس میں دونوں حالتیں شامل ہیں۔ وہ کہیں باہر گیا ہو یا موجود ہو‘‘۔
(ابن عطیہ، المحرر الوجیز، 2/ 47 بہ حوالہ ابوحیان، 3 / 337)

غیب کا دوسرا مفہوم ’راز‘ ہے ۔ اس صورت میں حافظات للغیب کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ رازوں کی حفاظت کرنے والی ہیں۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے:

’’اس کا ایک دوسرا معنیٰ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے رازوں یعنی جو کچھ ان کے شوہروں اور ان کے درمیان خلوت میں ہوتا ہے، اس کی حفاظت کرنے والی ہیں‘‘۔

(آلوسی، 5 / 24)


براہ مہربانی سوال لکھنے سے پہلے ایک مرتبہ غور فرما لیا کریں کہ موضوع کے مطابق بات کونسے مسئلے پر ہو رہی ھے اور سوالات اس سے مطابقت بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔ (غیر متعلقہ)

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (14-01-12), rana ammar mazhar (07-01-12)
پرانا 07-01-12, 02:10 PM   #114
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

اگر آپ اس کو مساوی پارٹنر شپ نہیں سمجھتے تو کیا وجہ ہے کہ آپ اس تمام کام کا معاوضہ ادا نہیں کرتے ۔ اگر امریکہ کے حساب سے ‌دیکھا جائے تو یہاں کم از کم مزدوری کا ریٹ‌ 8 ڈالر ہے۔ اس حساب سے 70 ہزار ڈالر سال کی رقم آپ بیوی کو کام کے 24 گھنٹے کے معاوضے میں ادا کریں‌گے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ 70 ہزار ڈالر میں ایک مناسب گھر بآسانی آجاتا ہے ۔ لیکن یہ رقم نا کوئی یہاں‌ادا کرتا ہے اور نا ہی اس کے متوازی رقم کسی دوسرے ملک میں تو برادر من جو شخصیت اتنے بڑے گھاٹے کا سودا کررہی ہے اس کا کوئی حق حصہ ہے یا نہیں ؟
برادر من خاں صاحب،
ہم نے سنا تھا کہ جناب عالی عقل کی مدد سے فہم قرآن اور تفسیر قرآن کے داعی ہیں۔ لیکن اس موضوع میں‌آپ کی عقلی تک بندیاں‌دیکھ کر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ایسی کج فہم عقل سے اگر کوئی شخص مفسر قرآن بننے کی کوشش کرتا ہوگا تو کیسے کیسے علمی نکات وجود میں آتے ہوں گے۔
بھائی، آپ نے جو اوپر خاتون خانہ اور گھر کی ملکہ یا رانی کو ایک عام گھر میں کام کرنے والی ماسی سے تشبیہہ دی ہے، قربان جائیے اس مثال پر۔ ایسے استعارات سے اگر تفسیر قرآن ہونی ہے تو پھر قرآن سے اپنے کس عقیدہ اور کس عمل کی سند حاصل نہیں‌کی جا سکتی؟

ایک طرف تو آپ شادی کو مساوی پارٹنر شپ قرار دیتے ہیں‌دوسری طرف صرف خواتین کی ذمہ داریوں‌پر انہیں‌معاوضہ دینے کی بات کرتے ہیں۔ تو کیا خاتون کو جو کھانے پینے، رہنے سہنے، کپڑے لتے، میک اپ ، جوتے، سفر اور ہزار طرح کی ذاتی ضروریات کے لئے جو مرد حضرات معاوضہ دیتے ہیں، کیا وہ ناکافی ہے؟

اور دوسری طرف، مرد جو کام کرتے ہیں پھر انہیں بھی تو معاوضہ ملنا چاہئے۔ مثلاً میں گھر کا سودا سلف لاتا ہوں تو آفس بوائے کی تنخواہ مجھے بھی خاتون کی طرف سے ملنی چاہئے۔ اگر شادی مساوی پارٹنر شپ ہے تو کیوں‌صرف مرد ہی معاوضہ ادا کرے؟ خاتون بھی مرد کے گھر میں‌رہنے کا کرایہ دے جب تک بقول آپ کے وہ گھر اس کے نام نہیں‌ہو جاتا۔ بچوں‌کی کفالت صرف مرد ہی کیوں کرے، کیا وہ صرف اس مرد ہی کے بچے ہیں؟

خاتون کام کر کے معاوضہ پاتی ہے تو پھر شوہر اس کے دیگر اخراجات کا بار کیوں‌اٹھائے؟ مہینہ کے آخر میں‌اس کو امریکہ کے آٹھ ڈالر فی گھنٹہ (سونے کے اوقات نکال کر) تنخواہ دے دیا کرے اور اسے اپنے کپڑے ، جوتے ، ذاتی کھانے، مکان کے کرایہ، میک اپ اور ہزار طرح کے دیگر ذاتی اخراجات کے لئے کچھ نہ دے۔۔!!!

کمال ہے یہ کون سی خواتین کی حمایت چل رہی ہے۔ ایک شخص اپنے مہینہ بھر کی تنخواہ اس کے ہاتھ پر لا کر رکھتا ہے۔ اسے گھریلو معاملات کا مکمل نگران بنا دیتا ہے۔ محنت کر کے پیسے کماتا ہے اور بیوی بچوں پر سب لٹا دیتا ہے، اس آپسی محبت اور پیار کے رشتہ اور مل جل کر کم یا زیادہ میں گزارا کرنے جیسی نعمت چھین کر آپ خواتین کو فکس معاوضہ دینا چاہتے ہیں؟

پھر یہ معاوضہ صرف بیوی ہی کو کیوں دیا جائے۔ میری بیٹی، بہن اور ماں بھی گھر کا کام کرتی ہیں، ان سب کو شادی کے بعد تو شوہر معاوضہ یا گھر دے دے گا اور شادی سے پہلے انہوں نے کیا قصور کیا ہے کہ انہیں ماں باپ اور بھائیوں کی جانب سے معاوضہ نہ دیا جائے؟

مجھے یقین ہے کہ آپ کو خود اپنے استدلال کے بودے پن سے بخوبی واقف ہیں۔ لیکن برا ہو انا کا اور تعصب کا جو حق بات کی قبولیت میں مانع رہتی ہے۔ ظاہر ہے آپ جیسی اونچی شخصیت بھلا کیونکر اپنی غلطی تسلیم کرنا گوارا کرے گی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ موضوع کی سمت یوں نہ موڑتے۔ ہمارا موضوع یہ کب تھا کہ خواتین کو معاوضہ دیا جائے یا بطریق احسن معروف رواج کے مطابق انہیں رخصت کیا جائے، ہمارا تو اس بات پر اختلاف تھا کہ گھر بھی خاتون کی ملکیت میں دے دیا جائے اور اس کی قرآنی دلیل پوچھی تھی اور پوسٹ ۸۹ میں اس گھر کی ملکیت پر ہی اعتراضات اٹھائے گئے تھے جنہیں آپ نے معروف طریقے سے اگنور کرتے ہوئے نیا ٹاپک چھیڑ دیا ہے۔ اگر مناسب سمجھیں تو ہماری پوسٹ ۸۹ کے بھی جوابات عنایات فرما دیجئے۔

آپ نے جو بھی قرآنی آیات پیش کی ہیں، ان میں کہیں گھر بیوی کے نام کرنے کی بات نہیں ہے۔ معروف کے مطابق انہیں دینے کی اور جو کچھ دیا گیا ہے طلاق کی صورت میں واپس نہ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور ہمارا آپ کا اس بات پر کچھ بھی اختلاف نہیں کہ خاتون کو جو کچھ نکاح کے بعد دے دیا گیا ہے، مثلاً زیور، یا کپڑے اور دیگر سامان وغیرہ، وہ طلاق کے بعد واپس نہیں لینا چاہئے، یہ تو ظلم کی قبیل سے ہے۔ اسی طرح اگر نکاح کے بعد شوہر نے بخوشی کوئی پلاٹ، جائیداد، مکان بیوی کے نام کیا ہے، تو اسے کوئی حق نہیں کہ طلاق کی صورت میں واپس لے لے۔

لیکن بہرحال خاں صاحب جیسے مفسرین قرآن کو بھی کوئی حق نہیں کہ قرآن کے منہ میں اپنی زبان ڈال کر شوہروں کو اپنا گھر لازمی طور پر بیوی کے نام کرنے کا پابند ہی ٹھہرا دیں۔ اور بیوی کو گھریلو ملازمہ سے تشبیہ دیں، اور اس کے پیار محبت سے گھر کو سنبھالنے، بچوں کی تربیت جیسے عظیم فریضہ کی ادائیگی کو پیسوں میں تولنے بیٹھ جائیں۔ یہ ہر معاشرہ کا اور ہر معاشرہ کے ہر خاندان کا اپنا طریقہ کار ہے کہ وہ آپس میں کس معروف طریقے کے تحت رہتے ہیں۔ کوئی شخص جو انگریزی محاورے کے مطابق ہاتھ سے منہ تک بمشکل گزارا کرتا ہے، اور خود کرایہ کے گھر میں رہتا ہے، کھانے پینے کا بمشکل پورا کر پاتا ہے وہ کیسے گھر خرید کر بیوی کے نام کرے گا؟ ایسی صورت میں تو ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے ستر اسی فیصد غریب اور لوئر متوسط طبقہ شادی کی نعمت ہی سے محروم ہو جائے گا۔ اور وہ خاتون جو شادی سے پہلے بھی ماں باپ کے کرایہ کے گھر میں رہتی تھی، وہ شوہر کے کرایہ کے گھر میں کیوں گزارا نہیں کر سکتی۔

اور معاشرے کا وہ امیر کبیر انڈسٹریلسٹ طبقہ جس کے گھر میں پانچ چھ کاریں اور ہر بڑے شہر میں مکان موجود ہیں، اور جن کی خواتین یہ گھر کے کام بھی نہیں کرتی ہیں، آپ کے نظریہ پر تو ایسی خواتین کو پھر کسی بات کا معاوضہ بھی نہیں دیا جانا چاہئے۔ اور نہ ان کے نام گھر ہی کرنا چاہئے۔

لہٰذا مختلف معاشروں، اور ہر معاشرے میں موجود خاندانوں کے معاشی تفاوق کو سامنے رکھئے اور پھر قرآن کی ان آیات کا مطالعہ کریں جو آپ نے پیش فرمائی ہیں۔ جن میں وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ
کے الفاظ آتے ہیں۔ جب قرآن اسے معروف طریقہ کے عمومی الفاظ پر چھوڑتا ہے تو میں یا آپ کون ہوتے ہیں کہ مردوں کو پابند کریں کہ وہ ایک گھر لازمی ان کے نام ضرور ہی کریں یا نہ کریں؟

طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ اگر کسی صحیح حدیث سے قرآن کے کسی عمومی حکم کی تخصیص ہوتی ہو، تو آپ چلاّنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ حدیث خلاف قرآن ہے کیونکہ قرآن میں عمومی حکم ہے اور حدیث اس عمومی حکم کو مخصوص کر رہی ہے۔ اور اب یہاں قرآن کے عام حکم [معاوضہ ادا کرو معروف طریقہ کے مطابق] کو گھر بیوی کے نام کرنے پر مقید کر رہے ہیں، اور یہ نہ صرف یہ کہ آپ کے نزدیک خلاف قرآن نہیں ٹھہرتا، بلکہ قرآن کی عین تفسیر قرار پاتا ہے۔ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا۔ گویا آپ کو اصل اعتراض یہ نہیں کہ قرآن کے عمومی احکام کو مقید نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اصل اعتراض یہ ہوا کہ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں سر انجام دیں، یہ حق تو خاں صاحب اور ان کی فکر کے حاملین کو ہونا چاہئے کہ جو تفسیر قرآن وہ کر دیں ، مستند ہے ان کا فرمایا ہوا، جان کر پوری امت میں بس وہی معنی و تشریح رائج ہو جائے۔ اوراس کے لئے ٹیکنیک خاں صاحب کے الفاظ میں یہ ہے:

اقتباس:
کیا اس طرح‌حق مارنا، اللہ کی شریعت ہے ؟؟؟ کیا یہ دین فطرت ہے ،؟؟؟‌کیا یہ انصاف ہے ؟؟؟؟ حق مارنے کی ایسی کاروائی شیطانی شریعت تو ہوسکتی ہے الہی شریعت نہیں ِ۔۔۔
گویا قرآنی آیات کا جو مفہوم خاں صاحب لے لیں، وہی الٰہی شریعت ہے اور جو ان آیات سے کچھ اور مفہوم سمجھتا ہو وہ شیطانی شریعت پر کاربند ہے۔ کل کو کوئی صاحب اٹھ کر قرآن کی یہی آیات پیش کر کے خاں صاحب کی طرز پر جدید تفسیر پیش فرمانا شروع کر دیں کہ جی گھر کے علاوہ اپنی تمام جائیداد بھی بیوی کے نام کر دینی چاہئے، اپنا بینک بیلنس سب بیوی کے حوالے ہونا چاہئے، گھر پر چونکہ زیادہ وقت خاتون ہی صرف کرتی ہے، لہٰذا گھر میں موجود تمام ساز و سامان بھی بیوی کے نام ہونا چاہئے، اور جو شخص انہیں سمجھانے کی کوشش کرے کہ جناب عالی قرآنی آیت تو بس معروف طریقے کے مطابق معاوضہ دینے کی بات کرتی ہے، آپ جو یہ اپنی طرف سے حقوق بنائے جا رہے ہیں ان کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں، تو آگے سے وہ بندہ خاں صاحب ہی کی طرز پر جذباتی تقریر شروع کر دے کہ یہ تو خواتین کا حق ہے اور :

اقتباس:
کیا اس طرح‌حق مارنا، اللہ کی شریعت ہے ؟؟؟ کیا یہ دین فطرت ہے ،؟؟؟‌کیا یہ انصاف ہے ؟؟؟؟ حق مارنے کی ایسی کاروائی شیطانی شریعت تو ہوسکتی ہے الہی شریعت نہیں ِ۔۔۔
تو معلوم نہیں ایسے بندے کے لئے خاں صاحب کا جواب کیا ہوگا؟ غالباً یہی کہیں گے کہ جناب عالی پہلےخواتین کا یہ حق ثابت کریں پھر یہ جذباتی اپیل کیجئے۔ اور یہی بات ہم خاں صاحب سے کہہ رہے ہیں تو انہیں سمجھ نہیں آ رہی۔ اجی حضت، پہلے یہ تو ثابت کیجئے کہ شادی ہوتے ہی گھر بیوی کے نام کرنا ہی الٰہی شریعت ہے اور حق مہر کی طرح گھر کی ملکیت بھی بیوی کا حق ہے اور اس کے بعد آگے بڑھیں۔

ویسے ایک بات ہے، خاں صاحب کے موقف میں کچھ نرمی تو آئی ہے۔ خان صاحب نے پہلے اپنا موقف ان الفاظ میں پیش کیا تھا:

اقتباس:
یہ آیت عورتوں کو اپنے گھروں‌میں‌ وہ مظبوطی عطا کرتی ہے کہ اگر گھر میں مرد ‌ زور و زبردستی کرے تو طلاق واقع کرکے ، مرد کو باہر نکال دیں ۔۔۔۔ تاکہ خاندان کی حق تلفی نا ہو۔۔ ۔
اوپس۔۔۔گویا مرد گھر سے باہر، کیونکہ پورا گھر تو جناب خاتون کا ہو چکا ہے۔ اور پچھلی پوسٹس میں خاں صاحب بار بار لال رنگ میں ’خواتین کا گھر‘ قرار دیتے آئے ہیں۔ اب اس موقف پر جو گرفت پوسٹ ۸۹ میں کی گئی ہے تو کافی عرصہ ’ہمیں سوچنے کی مہلت‘ دینے کے بعد انہی قرآنی آیات کی یہ موڈیفائیڈ تفسیر سامنے آئی ہے۔

اقتباس:
اس حق و حصہ یہی ہے کہ جو کچھ اس (میاں و بیوی کے) خاندان کی ملکیت بنتا ہے اس کا کم از کم نصف اس محترم خاتون کا حق ہے ۔ جس کو طلاق دی جارہی ہے۔
اب یہ تو پڑھنے والے خود طے کرتے پھریں کہ جی پورا گھر خواتین کے نام کرنا ہے اور اسی بنیاد پر قرآن نے بھی (خاں صاحب کی تفسیر کے مطابق) گھر کو خواتین کا گھر قرار دیا ہے، یا خاندان کی ملکیت کا نصف یعنی آدھا گھر خاتون کے نام کرنا ہے۔

لیکن یہ اصل بات نہیں، اصل مزے کی بات تو یہ ہے کہ ان کا پہلا موقف بھی قرآن سے ہی اخذ کردہ تھا، لہٰذا عین قرآن ہی تھا، کیونکہ اس موقف کی مخالفت بھی قرآن کی مخالفت تھی اور اب یہ نئی تفسیر بھی عین قرآن ہی ہے۔ پہلے والے موقف کے بارے میں خاں صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ:
اقتباس:
ملکیت کا حق، ایک ہی نہیں ، ایک سے زائید آیات مبارکہ سے ثابت شدہ ہے۔ یہ مجازی حق نہیں‌ ، حقیقی حق ہے ۔
لہٰذا وہ موقف کہ پورا گھر خاتون کے نام کر دیا جائے ایک سے زائد آیات مبارکہ سے ثابت تھا اور اب قرآن ہی نے خاں صاحب کو یہ بتایا ہے کہ تھوڑی رعایت کر دیں اور پورے سے آدھے گھر کی ملکیت پر آ جائیں۔ اب کم سے کم مرد گھر سے باہر تو نہیں نکالا جائے گا نا، بقیہ آدھے گھر میں مرد رہے گا۔ اور طلاق کے بعد ایک ہی گھر میں دیوار کھڑی کر کے آدھا گھر خاتون کے نام کر دیا جائے گا اور بقیہ آدھا مرد کے نام ہوگا۔

لہٰذا یہ طے ہوا کہ فکری گمراہی کے جس گڑھے میں خاں صاحب گریں گے، قرآن کو بھی اپنے ساتھ ہی لڑھکائیں گے۔ کیونکہ قرآنی سند تو بہرحال ضروری ہے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (14-01-12), rana ammar mazhar (07-01-12), کنعان (08-01-12), عبداللہ حیدر (07-01-12)
پرانا 07-01-12, 06:21 PM   #115
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
آپ نے جو بھی قرآنی آیات پیش کی ہیں، ان میں کہیں گھر بیوی کے نام کرنے کی بات نہیں ہے۔ معروف کے مطابق انہیں دینے کی اور جو کچھ دیا گیا ہے طلاق کی صورت میں واپس نہ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور ہمارا آپ کا اس بات پر کچھ بھی اختلاف نہیں کہ خاتون کو جو کچھ نکاح کے بعد دے دیا گیا ہے، مثلاً زیور، یا کپڑے اور دیگر سامان وغیرہ، وہ طلاق کے بعد واپس نہیں لینا چاہئے، یہ تو ظلم کی قبیل سے ہے۔ اسی طرح اگر نکاح کے بعد شوہر نے بخوشی کوئی پلاٹ، جائیداد، مکان بیوی کے نام کیا ہے، تو اسے کوئی حق نہیں کہ طلاق کی صورت میں واپس لے لے۔
جو کچھ میں‌نے لکھا تھا اس کے جواب میں‌آپ نے اور کنعان سے مجھے کچھ ایسے ہی جواب کی توقع تھی۔ اب یہ سامنے ہے کہ آپ دونوں متفق ہیں کہ معروف طریقے سے ازواج کو شادی کے دوران یا طلاق کے بعد جو کچھ بیوی کا ہے وہ اس کو دے دیا جائے۔ اور آپ دونوں اس بات سے بھی متفق ہیں‌کہ بیوی ایک شریک حیات ہے ، لائف پارٹنر ہے یعنی گھر کے کاربار کی برابر کی شریک۔ ملازمہ نہیں ۔ شکر ہے آپ کی سمجھ میں‌یہ بات آئی کہ بیوی ملازمہ نہیں ، شریک حیات ہے ، مکمل پارٹنر ہے اور اپنی خدمت کے اجر کی حقدار ۔

لیکن اس برابری کی پارٹنر شپ میں‌آپ کا فرمان ہے کہ جو کچھ مرد نے بیوی کے نام کردیا وہ ہی اس عورت کا حق ہے ۔ برادر محترم شادی کے بعد جو کچھ بھی ان دونوں نے بنایا وہ ان دونوں کی مساوی پارٹنر شپ کا حق ہے۔ ورنہ پھر پارٹنر شپ کیسی ؟؟؟؟

آپ کو قرآن حکیم کی آیات سے واضح کیا گیا کہ بیوی شادی سے پہلے، شادی کے دوران اور شادی کے بعد اپنے اجر کی معروف طریقے سے حق دار ہے ۔ آپ نے اتفاق ظاہر کیا۔

آپ کو معکوس طریقے سے بتایا گیا کہ بیوی ملازمہ نہیں ، آُ دونوں‌نے مانا کہ وہ شریک حیات ہے اور اجر کی حق دار ہے ۔

آخر میں آپ کی پھرکی ، ایک بار پھر گھوم گئی ۔ کہ اگر شوہر بیوی کے نام جائیداد کرے تو وہ حقدار ہے ۔ یہاں ہمارا آپ کا فرق ہے۔ ہم یہ کیوں‌نا کہیں‌کہ زن و شوہر دونوں شریک حیات ہیں ۔

آپ کی بات کو الٹ کر دیکھتے ہیں --- شادی کے بعد جو کچھ بنایا ہے اس میں‌سے جو کچھ بیوی شوہر کے نام کرے وہ اس کا ہے ؟؟؟؟

عدل وہ ہے جو دونوں‌طرف مساوی ہو۔

ذاتی نوٹ: ذاتی کمنٹس سے اجتناب کیجئے۔ معاملے پر توجہ دیجئے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (07-01-12), حیدر Rehan (13-04-12)
پرانا 07-01-12, 07:35 PM   #116
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اور آپ دونوں اس بات سے بھی متفق ہیں‌کہ بیوی ایک شریک حیات ہے ، لائف پارٹنر ہے یعنی گھر کے کاربار کی برابر کی شریک۔ ملازمہ نہیں ۔ شکر ہے آپ کی سمجھ میں‌یہ بات آئی کہ بیوی ملازمہ نہیں ، شریک حیات ہے ، مکمل پارٹنر ہے اور اپنی خدمت کے اجر کی حقدار ۔

لیکن اس برابری کی پارٹنر شپ میں‌آپ کا فرمان ہے کہ جو کچھ مرد نے بیوی کے نام کردیا وہ ہی اس عورت کا حق ہے ۔ برادر محترم شادی کے بعد جو کچھ بھی ان دونوں نے بنایا وہ ان دونوں کی مساوی پارٹنر شپ کا حق ہے۔ ورنہ پھر پارٹنر شپ کیسی ؟؟؟؟

آخر میں آپ کی پھرکی ، ایک بار پھر گھوم گئی ۔ کہ اگر شوہر بیوی کے نام جائیداد کرے تو وہ حقدار ہے ۔ یہاں ہمارا آپ کا فرق ہے۔ ہم یہ کیوں‌نا کہیں‌کہ زن و شوہر دونوں شریک حیات ہیں ۔

آپ کی بات کو الٹ کر دیکھتے ہیں --- شادی کے بعد جو کچھ بنایا ہے اس میں‌سے جو کچھ بیوی شوہر کے نام کرے وہ اس کا ہے ؟؟؟؟
برادر من خاں صاحب،
یہ گول گول دائرے میں‌کیوں‌گھما رہے ہیں؟ پچھلی پوسٹ‌میں‌آپ نے فرمایا تھا کہ آپ میری پوسٹ 89 اور جناب کنعان صاحب کی پوسٹ‌ 107 کے جواب سے قبل ایک بنیادی بات کا جواب چاہتے ہیں۔ اور جو بنیادی بات آپ نے کی، اس کا جواب آپ کو مل گیا، اور جس پر کبھی اختلاف تھا ہی نہیں، اس کے بارے میں‌ آپ ہمارے اتفاق کو ہائی لائٹ کر کے خوش ہو رہے ہیں۔ ازراہ کرم، ان پیچ و خم سے باہر نکلیں‌ اور پہلے تو اپنا دعویٰ ذرا واضح‌کر دیں‌کہ کیا آپ کے نزدیک شریعت الٰہی یہ ہے کہ مکمل گھر شادی کے فوری بعد بیوی کے نام کر دیا جائے؟ یا آدھا گھر؟ اور پھر اس پر کوئی صریح‌ قرآنی دلیل ارشاد فرمائیں۔ اور آپ کے اس قطعی غیر شرعی، غیر فطری، خلاف عقل اور ناقابل عمل دعویٰ‌ پر میں نے اور کنعان بھائی نے جو اعتراضات کئے ہیں، جن کے جوابات کی جانب آپ آنا چاہتے تھے، لیکن غالباً ’’ہمیں سوچنے کا وقت دینے کے لئے‘‘ نہیں‌آ سکے، وہ جوابات عنایت فرمائیے تاکہ گفتگو کو کسی انجام تک پہنچایا جائے۔ ورنہ اب آپ کے مراسلے کا رخ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ازدواجی زندگی کا ایک اہم شرعی حکم قرآن کے بجائے ’شریک حیات‘ اور ’لائف پارٹنر‘ کے عوامی الفاظ‌ہی سے ثابت کر ڈالیں‌گے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (08-01-12), فاروق سرورخان (07-01-12), کنعان (07-01-12)
پرانا 14-01-12, 07:05 PM   #117
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جوابات عنایت فرمائے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
برادر من خاں صاحب،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سوال یہ ہے کہ : طلاق ہوجانے کے بعد محترم خاتون کو "قانون کے مطابق" مال و دلت ، جو اس کا حق ہے ، دیا جائے ۔۔۔
2:241 وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
اور طلاق یافتہ عورتوں کو مال و متاع ، قانون کے مطابق ، دیا جائے، یہ پرہیزگاروں پر حق ہے
اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی کچھ نہ کچھ دینا چاہیے دستور کے مطابق یہ حق ہے اللہ سے ڈرنے والوں پر۔

یہ کس کا دستور ہے جس میں طلاق یافتہ عورتوں‌کو مال و متاع دیا جائے ؟‌ یہ کس پر حق ہے؟‌
کیا وجہ ہے کہ کوئی بھی اس بارے میں‌ بات نہیں‌کرتا ؟؟‌ کیا اپنا مال و جائیداد اتنا پیارا ہے کہ قوم کی ماں‌ کو اس کے حق سے محروم کردیا جائے ؟؟‌ فرمان الہی کو بھلا دیا جائے ؟؟؟؟
والسلام
جوابات عنایت فرمائے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-04-12), فاروق سرورخان (16-01-12), حیدر Rehan (13-04-12)
پرانا 13-04-12, 02:59 AM   #118
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 114
کمائي: 1,366
شکریہ: 86
61 مراسلہ میں 128 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کوئی اس بات کی وضاحت کرے گا کہ زبردستی کی لی ہوئی تین طلاق جو کہ نہ زبانی طور پر دی گئ اور نہ لکھ کر صرف لکھی ہوئی پر پڑھے بغیر کہ اس پر تین لکھی ہوئی ہیں خلع کا کہہ کر لی جارہی ہو ذہنی دباؤ کی بناء پر دستخظ کردئے گئے ہوں اور اب وہ اپنے چھوٹے بچوں کی خاطر واپس آنا چاہتی ہو تو کیا حل ہے بنوری اور دارلعلوم والے تو کہتے ہیں کہ اگر کورٹ کوئی فیصلہ دیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں تو کیا دوبارہ نکاح ہوگا اگر ہوگا تو کیا شرائط ہیں رہنمائی کرین
شاہنواز عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہنواز عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-04-12), حیدر Rehan (13-04-12)
پرانا 13-04-12, 07:31 AM   #119
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہنواز عامر مراسلہ دیکھیں
کوئی اس بات کی وضاحت کرے گا کہ زبردستی کی لی ہوئی تین طلاق جو کہ نہ زبانی طور پر دی گئ اور نہ لکھ کر صرف لکھی ہوئی پر پڑھے بغیر کہ اس پر تین لکھی ہوئی ہیں خلع کا کہہ کر لی جارہی ہو ذہنی دباؤ کی بناء پر دستخظ کردئے گئے ہوں اور اب وہ اپنے چھوٹے بچوں کی خاطر واپس آنا چاہتی ہو تو کیا حل ہے بنوری اور دارلعلوم والے تو کہتے ہیں کہ اگر کورٹ کوئی فیصلہ دیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں تو کیا دوبارہ نکاح ہوگا اگر ہوگا تو کیا شرائط ہیں رہنمائی کرین
اللہ تعالی کی خاص ہدایت ہے کہ طلاق دی گئی ہو تو عدت شمار کی جائے۔ طلاق کی تعداد سے قطع نظر عدت پوری ہونے پر ہی ایک عدد طلاق واقع ہوتی ہے۔ یہ بات اللہ تعالی کے فرمان قرآن سے ثابت ہے ۔ ایسی ایک عدد طلاق کے بعد بھی عورتوں‌کو اپنے شوہروں‌سے شادی کرنے کا حق ہے ۔ ایک بار لکھیں یا تین سو تین بار۔ بغیر عدت کی مدت پوری ہوئے ایک عدد طلاق ہی وقع ہوگی۔

اللہ تعالی کے فرمان قرآں حکیم سے ثبوت ملاحظہ فرنائیے ۔

عدت کو شمار کئے بغیر طلاق کس طور ممکن ہے؟؟
65:1 ا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا

اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں: ) جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما د

تیسری طلاق کے واقع ہونے سے پہلے تک، عورتوں کو ان کے شوہروں سے شادی سے نا روکو۔

2:232 وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو جب وہ شرعی دستور کے مطابق باہم رضامند ہو جائیں تو انہیں اپنے (پرانے یا نئے) شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو، اس شخص کو اس امر کی نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اﷲ پراور یومِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو، یہ تمہارے لئے بہت ستھری اور نہایت پاکیزہ بات ہے، اور اﷲ جانتا ہے اور تم (بہت سی باتوں کو) نہیں جانتے

امید ہے اس مسئلے کے حل کے لئے یہ آیات مدد گار ثابت ہوں گی۔
کسی بھی پاکستانی عدالت میں شادی کرسکتے ہیں ۔ پہلی طلاق کے بارے میں‌صاف بیانی سے کام لیا جائے ۔ اور یہ بتا دیا جائے کہ پہلی طلاق ہو چکی ہے۔ لہذا دوبارہ نکاح کیا جارہا ہے۔

طلاق کی زبانی تعداد صرف اور صرف عدت کی ابتداء‌ہے۔ طلاق مکمل عدت کی تکمیل پر ہوتی ہے۔

تین طلاق اللہ تعالی کا حکم یا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ کا حکم؟
تین طلاق کی زبانی ادائیگی اور ایک عدد عدت کو تین عدد طلاقیں قرار دینے کا قانون حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ نے بنایا ۔ اس لئے کہ لوگ اللہ تعالی کی دی ہوئی رعایت کی وجہ سے اپنی عورتوں‌ کی تذلیل کرتے تھے ۔ لہذا ایسے مردوں کو سزا دینے کے لئے جناب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ نے یہ قانون بنایا۔ یہ قانون اس وقت سے چلا آرہا ہے۔ نہ یہ سنت نبوی ہے اور نا ہی اللہ تعالی کا قانون۔ اس کو نا ماننے میں‌کوئی قباحت نہیں اس لئے کہ یہ اس وقت کی حکومت کا قانون تھا۔

اس مسئلے کے حل کے لئے عدالت سے رجوع کیجئے۔ مولوی حضرات اپنے اپنے فقے کے لحاظ سے فیصلے کرتے ہیں۔ ان میں‌سے کچھ حضرات جناب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ کے اس فیصلے کے حق میں ہیں اور کچھ نہیں۔ لیکن پاکستانی عدالتیں صرف اور صرف سنت نبوی صلعم اور اللہ تعالی کے قانون کو تسلیم کرتی ہیں۔ بعد کے کسی قانون یعنی فتووں کو نہیں۔

والسلام۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-04-12), حیدر Rehan (13-04-12)
پرانا 13-04-12, 10:19 AM   #120
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہنواز عامر مراسلہ دیکھیں
کوئی اس بات کی وضاحت کرے گا کہ زبردستی کی لی ہوئی تین طلاق جو کہ نہ زبانی طور پر دی گئ اور نہ لکھ کر صرف لکھی ہوئی پر پڑھے بغیر کہ اس پر تین لکھی ہوئی ہیں خلع کا کہہ کر لی جارہی ہو ذہنی دباؤ کی بناء پر دستخظ کردئے گئے ہوں اور اب وہ اپنے چھوٹے بچوں کی خاطر واپس آنا چاہتی ہو تو کیا حل ہے بنوری اور دارلعلوم والے تو کہتے ہیں کہ اگر کورٹ کوئی فیصلہ دیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں تو کیا دوبارہ نکاح ہوگا اگر ہوگا تو کیا شرائط ہیں رہنمائی کرین
محترم بھائی،
طلاق کے معاملات سنگین مسائل میں‌ شمار ہوتے ہیں۔ اس کے بارے میں فورمز پر پوچھنے سے کچھ حاصل نہیں، جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو کہ جواب دینے والا شخص‌واقعی ثقہ عالم دین ہے۔ آج تو ہر شخص ہی مجتہد ہے۔ بہتر ہے کہ آپ کسی اچھی آن لائن فتویٰ سائٹ سے رجوع کر لیں۔ اس کے لئے دارالعلوم دیوبند کی بھی ویب سائٹ موجود ہے۔ ذاتی طور پر میں آپ کو درج ذیل سائٹ سے فتاویٰ لینے کی درخواست کروں گا، کیونکہ یہاں قرآن و حدیث کے دلائل کے ساتھ جواب دئے جائیں گے۔



اور ہاں اپنے شرعی سوالات کا جواب لیتے وقت قرآن و سنت سے جواب کا مطالبہ ضرور کیا کریں۔ جزاکم اللہ خیرا۔

Last edited by فیصل ناصر; 13-04-12 at 01:05 PM. وجہ: no link allowed
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-04-12), فیصل ناصر (13-04-12)
جواب

Tags
قرآن, متعلقہ, آیات, حکم, حلالہ, خدا, رسمِ نکاح, طلاق, عورتوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار یاسر عمران مرزا Computer Certifications 29 20-03-11 12:11 AM
سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا گلاب خان خبریں 16 08-01-11 04:53 AM
تعلیمی سیمینار تعلیم Real_Light خبریں 0 21-04-08 09:20 AM
سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:24 AM
سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:57 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger