|
ازدواجی زندگی ایک حسین بندھن

03-12-11, 02:38 PM
ایک کہاوت ہے کہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں، مگر ان کا ملاپ زمین پر ہوتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شادی موتی چور کا لڈو ہے جو کھائے پچھتائے جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے اور اسے بھی انکار نہیں کہ رشتہ ازدواجی میں بندھنے کے بعد میاں بیوی کی زندگی کی
گاڑی کے دو پہیے بن جاتے ہیں، مگر پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اس ملاپ پر لب بام شکوے اور ناراضگیاں لڈو کی لزت میں کمی کر کے پہیوں کو بھی غیر متوازن بنا دیتے ہیں ، جس سے ازدواجی زندگی سہل کی بجائے مشکل ہوجاتی ہے۔تو ایسا کیا کیا جائے کہ یہ زندگی خوش و خرم اور کامیاب گزرے شادی ایک دن یا ایک مہینے یا ایک سال کی بات نہیں بلکہ اس بندھن کی دوڑ تو سانسوں سے جڑجاتی ہے۔ اور اس سے اس وقت تک کامیابی سے نہیں گزار سکتے جب تک دونوں فریق ایک دوسرے سے تعاون اور سمجھوتہ نہ کریں۔ جبکہ
اکثر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ سمجھوتوں پر ساری زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔۔جبکہ حقیقت اور سچائی بھی ہے کہ ہمیں قدم قدم پر سمجھوتوں پر کام لینا پڑتا ہے تو پھر اس دوامی رشتے میں اس سے انکار کیوں؟ شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے میں مرد اور عورت دونوں برابر کے حصے دار ہیں اس لیے دونوں کا آپس میں تعاون اور مخلص ہونا بہت ضروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ خلوص کی کمی اس رشتے کو کمزور کردے۔۔
ابتدا میں خصوصا یہ ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے کہ بیوی جو اس کی خاطر بابل کے گھر کو الوداع کرتی ہے اور اس سے وابستہ تمام نئے رشتوں کو بھی قبول کرتی ہے۔
جس سے وہ انجان تھی لہذا شوہر نامدار کو ایسے وقت میں اسکی مکمل دلجوئی کرنی چاہئے۔
جب اپنوں سے دوری کا غم نیا ماحول اور نئے لوگ ہوں تو بیوی کا خاص خیال رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔
اگر خدا نخواستہ انجانے میں کوئی بات نا خوشگوار لگے تو وسیع القلمی اور خوش دلی سے سمجھاتے ہوئےنظر انداز کردینی چائیے تاکہ نہ تو گھر کا ماحول خراب ہو اور نہ دوسروں کو موقع ملے کہ وہ آپ کی ازدواجی زندگی میں خلل ڈال سکیں۔
دوسری جانب لڑکی پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرےکہ بیٹیاں جو والدین کے جگر کا ٹکڑا ہوتی ہیں لیکن ہر صورت میں انہیں جتنا جلد ممکن ہو اپنے آپ کو نئے رشتوں اور ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور بالخلوص اپنے شوہر کی عادت و مزاج کو سمجھے اور اگر کوئی بات ناگوار لگے تو کسی فوری ردعمل اور بحث و مباحثے کی بجائے نرم مزاجی اور دانشمندی سے اس سے احساس دلائے اور اگر شوہر غصے کا تیز ہو تو کوشش کریں کہ آپ دونوں کے غصے کاٹکراو نہ ہو۔ کہیں ایسا نہ کہ یہ حالات کو سنگین بنادے
جبکہ شوہر نامدار کو بھی اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ غصہ حرام ہے اور اسلام میں حرام چیز کی اجازت نہیں۔
لہذا بلاوجہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنے سے پر ہیز کرے۔ ہر بیوی کو یہ احساس بھی ہونا چاہئے کہ میرا شوہر محنت اور خلوص سے جو پیسے کما رہا ہے مجھے اس کی کمائی کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنا چاہیے۔ یہ نہیں بلکہ روزانہ نت نئے فرمائشی پروگرام چلانے سے بھی گریز کرنا چاہئے۔
جبکہ شوہر بھی شریک حیات کو گھر کا مالکہ سمجھے نہ کہ خادمہ،کیوں کہ ہمارے مذہب میں بھی شوہر اور بیوی کے یکساں حقوق ہیں اور بہتر ماحول اور تمام ضروریات زندگی کی فراہمی شوہر کا فرض ہے۔
شوہر کے لئے ضروری ہے کہ وہ علالت کی صورت میں اپنی مجازیت کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مسیحا کی طرح بیوی کی تیماداری کریں۔ تاکہ بیوی کو بھی یہ احساس ہو کہ اس کا شوہر اسے بہت محبت کرتا ہے۔جبکہ بیوی کو بھی یہ چاہئے کہ اپنے شوہر کی ہر ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے اپنا فرض سمجھتے ہوئے انجام دیں۔ناشتہ کر کے آفس جانے تک کی تیاری خود ذمہ داری سے انجام دیں نہ کہ لمبی تان کر خواب گرشی کے مزے لیں اور شوہر نامدار کو پھر سے Bacholar زندگی گزارنے پر مجبور کریں۔میاں کی واپسی کے وقت ادَھر اُدھر جانے کے بجائے گھر پر رہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ گھریلوخواتین پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بناؤ سنگھار کا بھی خیال رکھیں اور یہ میرا خیال ہے کہ بننا سنورنا عورت کا پیدائشی حق بھی ہے۔
اور اپنے اس حق پر مان رکھتے ہوئے یہ کوشش ہونی چاہئے کہ شوہر کے دل میں وہ مقام حاصل کرلے جس پر کوئی دوسری عورت ڈاکہ نہ ڈال سکے محبت بڑھانے کے لیئے یہ بھی ضروری ہے کہ جی سنئے،دیکھئے، یا کسی بھی بچے کے نام کے حوالے سے بلانے کی بجائے نام لے کر ًمخاطب کیا جائے۔ ویسے بھی ہمارے مذہب میں نام لینے میں کوئی ممانعت نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ نام لے کر پکارنے سے عجیب اپنایئت اور محبت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور جس سے محبت ہو اس کا نام لے کر پکارا جائے تو فطری طور پرخوشی بھی ہوتی ہے۔
لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا ساکتا کہ ٹی وی ڈراموں میں عورت کو جس طرح حسین سے حسین روپ میں دیکھانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اس نے مرد حضرات کی کچھ زیادہ ہی آنکھیں کھول دی ہیں۔ ایسے میں شوہر حضرات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ شادی شدہ زندگی کسی چینل پر چلنے والا کوئی ڈرامہ نہیں جس کا انحصار محدود وقت پر ہو۔ شادی کے بعد شوہر اور بیوی دونوں کے رویوں اور نظریات میں بدلاؤ بہت ضروری ہوتا ہے۔جہاں عورت کے بغیر زندگی بے رونق اور ویران ہوتی ہے وہیں شوہر کے نام سے معاشرے میں بیوی کا مقام اونچا ہوتا ہے لہذا اس بات کو سمجھنے کی ضرورت اور انا پرستی کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں میں برداشت کا مادہ نہیں ہے یا برداشت کرنا سیکھ لیا جائے تو یقیناً زندگی کا یہ سفر محبت بھری چھاؤں میں انتہائی پر سکون انداز میں گزرے گا اور آپکے مسائل کم سے کم ہونگے۔
سورس: اُردوکہکشاں
|
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|