واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


ترقی پذیر ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم وتربیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-02-11, 12:18 PM   #1
ترقی پذیر ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم وتربیت
زارا زارا آف لائن ہے 15-02-11, 12:18 PM

ایسے میں جبکہ لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ لڑکیوں کی ولادت معاشرے پر بوجھ ہے نیز لڑکا غربت میں اپنے خاندان کے کام آئے گا توعالمی سطح پر ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں بسی ہوئی 60 کروڑ نوجوان لڑکیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے جبکہ پاکستا ن میں پانچ سال قبل آنے والے زلزلے نے لاکھوں افرادکی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی اور ان میں ایسی ہزاروں لڑکیاں بھی شامل ہیں جن کی تعلیم اور مستقبل بری طرح متاثر ہوئے۔اسی طرح دنیا کے بہت سے دیگر حصوں میں بھی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم اور معاشی مواقعوں کی منتظر ہے۔اس سلسلے میں ورلڈ بینک اور نائیکی فاؤنڈیشن World Bank-Nike Foundationمختلف ممالک کی حکومتوں کے تعاون سے ایک ایسے پروگرام پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد غریب اورترقی پذیر ملکوں کی لڑکیوں کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے قابل بنانا ہے۔اس سلسلے میںامریکی اداکارہ این ہاتھاوےAnne Hathaway نے ایک تقریب کے دوران بنگلہ دیش کی ایک غریب لڑکی سانچیتاSanchita کی کہانی کچھ اس انداز میں سنائی کہ سننے والے اس میں کھوکر رہ گئے۔سانچیتا کا تعلق بنگلہ دیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں ایشورپور سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب میرے گاؤں میں جب بھی کوئی ولادت ا ہونے والی ہوتی ہے تو سب یہی امید کرتے ہیں کہ لڑکا ہو۔ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لڑکا غربت میں اپنے خاندان کے کام آئے گا۔
یہ وہ حالات ہیں جن کا سامنا نوجوان لڑکیوں کے لیے ورلڈ بینک کے اس پروگرام میں شامل لڑکیوں کو کرنا پڑتا ہے۔ ساچیتا کی طرح یہ لڑکیاں بھی اس پروگرام کے تحت دنیا کا دورہ کررہی ہیں جس کے ذریعے انھیں تعلیم کے ساتھ وہ مہارت بھی مہیا کرنا ہے جس کے ذریعے وہ ملازمت حاصل کر سکیں۔سترہ سالہ ساچیتا کو ایک آرگنائزیشن نے تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا اور اس کے خاندان کو ایک گائے خریدنے کے لیے قرضہ دیا تاکہ وہ اپنا کاروبار کرسکیں۔ این ہاتھاوے کہتی ہیں کہ اب نہ صرف ان کا کاروبار چل پڑا ہے بلکہ ساچیتا اپنی اور اپنے بھائی کی اسکول کی فیس بھی خود دے سکتی ہیں۔ ان کے خاندان کے پاس کھانے کو ہے۔ اور اس کا کہناہے کہ اب وہ یہ فیصلہ خودکریں گی کہ انھیں شادی کب کرنی ہے جبکہ غریب گھرانوں کے والدین اپنی بیٹی کی جلد ازجلد شادی کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔اس کارگذاری کی طرح نوجوان لڑکیوں کے لیے شروع کیے گئے اس پروگرام کا مقصد دنیا کے ترقی پذیر اور غریب ملکوں کی 60 کروڑ نوجوان لڑکیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ ان ممالک میں لڑکیوں کی ایک تہائی آبادی نہ تو پڑھتی اور نہ ہی کوئی ملازمت کر پاتی ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر رابرٹ زولیک کاکہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر دھیان نہ دینا ہی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔انھوں ے مزید کہا کہ غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ سیکنڈری اسکول میں ایک سال زیادہ کی پڑھائی ان کی کمائی کو 10 سے 20 فیصد تک اضافہ کرسکتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی کمائی بڑھے گی تو وہ نہ صرف اچھی صحت کے لیے بہتر سہولیات حاصل کرسکیں گی بلکہ اپنی شادی اور بچوں کے بارے میں بہتر فیصلے کرسکیں گی۔ اس سے خواندگی کی صورتحال بھی بہتر ہو گی۔ چنانچہ نوجوان لڑکیوں کی تعلیم اور ترقی پر سرمایہ کاری کے ذریعے غربت پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔سرکاری اور غیر سرکاری شراکت اور 20 ملین ڈالر کے بجٹ کے ساتھ یہ پروگرام دنیا کے سات ملکوں میں کام کررہا ہے۔اس پروگرام کا آغاز یمن اور ہیٹی میں بھی ہورہاہے۔ماریہ بویویچ ورلڈ بینک کے جینڈر اینڈ ڈیولپمنٹ پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ہم کہاں ہیں۔ لائبیریا اور نیپال میں نوجوان لڑکیاں اپنی تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل کر رہی ہیں۔ جنوبی سوڈان کے چار صوبوں میں اس پروگرام کا آغاز ہو رہا۔ اردن میں خواتین کالج گریجویٹس کو ملازمت تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ افغانستان اور روانڈا میں صورتحال کا جائزہ لیا جاچکا ہے اور تین مہینوں میں وہاں کام شروع ہو جائے گا۔کابی کامارہ نے لائبیریا میں اس پروگرام کے تحت تربیت حاصل کی۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنا کاروبار شروع کرنا سیکھا۔ خود کفالت ، پیسہ بچانا اور اسے صحیح جگہ استعمال کرنا سیکھا۔ اور یہ کہ اپنے کاروبار کو کیسے بڑھانا ہے۔انیس سالہ سارہ پونی کا تعلق سوڈان سے ہے وہ امریکہ میں تربیت کے لیے گئی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے خیالات کو بہتر طریقے سے پیش کرنا سیکھا۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولنے سے مجھے لوگوں سے بات کرنے کا اعتماد ملا ہے۔ گویااب میں سارہ نہیں بلکہ کوئی اور ہوں۔پر اعتماد سارہ اپنے وطن سوڈان واپس جاکر اپنی تربیت اور خود اعتمادی کے ذریعے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خاندان کی زندگی کو بہتر بنانے کا خواب لیے ہوئے ہیں۔

تحریر: ایس اے ساگر

والسلام
زارا
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 400
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (18-02-11), مرزا عامر (19-02-11), عروج (25-02-11)
پرانا 18-02-11, 05:02 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے جب بھی بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ کون سا نوکری کروانا ہے ان سے ۔
اب ان عقل کے ماروں سے پوچھے کہ تعلیم کا مقصد صرف نوکری نہیں ہے اور بھی انسانی معراج ہیں تعلیم کے میدان میں ۔
بہت اچھا آرٹیکل ہے ۔
شیئرنگ کا شکریہ ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (25-02-11)
پرانا 25-02-11, 07:50 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بالکل صحیح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ زارا اور نور بھائی۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, کرنی, لوگ, مکمل, موقع, world, آبادی, امریکہ, بھائی, بچوں, تعلیم, جلد, خواتین, دنیا, زندگی, سال, شادی, غریب, غربت, صوبوں, صورتحال, صحیح, صحت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
چائے کے استعمال سے ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے سیپ شعبہ طب 16 24-10-11 10:26 PM
یہودی مدارس میں عسکریت کی تعلیم sahj عمومی بحث 1 07-03-10 10:29 AM
کیوں اس خواہش میں روتا ہے محمد یاسرعلی محمد یاسرعلی 31 14-09-08 10:11 PM
پہاڑیوں سے اسلام آباد کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوتا ہے champion_pakistani میرا پاکستان 1 13-07-08 09:47 PM
نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں غیر ملکی کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،دفتر عبدالقدوس خبریں 0 17-04-08 08:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger