واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


خاوند اوربیوی کے حقوق کیا ہيں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-02-11, 09:49 AM   #1
خاوند اوربیوی کے حقوق کیا ہيں
زارا زارا آف لائن ہے 11-02-11, 09:49 AM

خاوند اوربیوی کے حقوق کیا ہيں ؟

کتاب وسنت کے مطابق بیوی کے اپنے خاوند پر کیا حقوق ہیں ؟
یا دوسروں معنوں میں خاوند کی اپنی بیوی کے بارہ میں کیا ذمہ داریاں ہيں اوراسی طرح بیوی کی اپنے خاوند کے بارہ میں کیا ذمہ داریاں ہیں ؟


الحمدللہ

دین اسلام نے خاوند پر بیوی کے کچھ حقوق رکھے ہيں ، اور اسی طرح بیوی پر بھی اپنے خاوند کے کچھ حقوق مقرر کیے ہيں ، اورکچھ حقوق توخاوند اور بیوی دونوں پر مشترکہ طور پر واجب ہیں ۔

ذیل میں ہم ان شاء اللہ خاوند اوربیوی کے ایک دوسرے پر کتاب و سنت کی روشنی میں حقوق کا ذکر کریں گے جس کی شرح میں اہل علم کے اقوال کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔

اول :
صرف بیوی کے خاص حقوق :

بیوی کے اپنے خاوند پر کچھ تومالی حقوق ہیں جن میں مہر ، نفقہ ، اور رہائش شامل ہے ۔

اورکچھ حقوق غیر مالی ہیں جن میں بیویوں کے درمیان تقسیم میں عدل انصاف کرنا ، اچھے اوراحسن انداز میں بود باش اورمعاشرت کرنا ، بیوی کوتکلیف نہ دینا ۔

1 - مالی حقوق :
ا – مھر :
مہر وہ مال ہے جو بیوی کا اپنے خاوند پر حق ہے جو عقد یا پھر دخول کی وجہ سے ثابت ہوتا ہے ، اور یہ بیوی کا خاوند پر اللہ تعالی کی طرف سے واجب کردہ حق ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{ اورعورتوں کوان کے مہر راضی خوشی دے دو } النساء ( 4 ) ۔

اور مہر کی مشروعیت میں اس عقد کے خطرے اور مقام کا اظہار اورعورت کی عزت و تکریم اوراس کے لیے اعزاز ہے ۔

مہر عقد نکاح میں شرط نہیں اور نہ ہی جمہور فقھاء کے ہاں یہ عقد کا رکن ہے ، بلکہ یہ تو اس کے آثار میں سے ایک اثر ہے جواس پر مرتب ہوا ہے ، اگر کوئي عقد نکاح بغیر مہر ذکر کیے ہوجائے تو باتفاق جمہور علماء کے وہ عقد صحیح ہوگا ۔

اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{ اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کیے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئي گناہ نہیں } البقرۃ ( 236 ) ۔

تو ہاتھ لگانے یعنی دخول سے قبل اور مہر مقرر کرنے سے قبل طلاق کی اباحت عقد نکاح میں مہر کے ذکر نہ کرنے پر دلالت کرتی ہے ۔

اور اگر عقد میں مہر کا نام نہیں لیا گیا تو خاوند پر مہر واجب ہوگا ، اور اگر عقد نکاح میں ذکر نہیں کیا جاتا تو پھر خاوند پر مہر مثل واجب ہوگا ، یعنی اس جیسی دوسری عورتوں کے جتنا مہر دینا ہوگا ۔

ب – نان ونفقہ :
علماء اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ بیویوں کا خاوند پر نان ونفقہ واجب ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اگرعورت اپنا آپ خاوند کے سپرد کردے تو پھر نفقہ واجب ہوگا ، لیکن اگر بیوی اپنے خاوندکو نفع حاصل کرنے سے منع کردیتی ہے یا پھر اس کی نافرمانی کرتی ہے تو اسے نان ونفقہ کا حقدار نہیں سمجھا جائے گا ۔

بیوی کے نفقہ کے وجوب کی حکمت :
عقد نکاح کی وجہ سے عورت خاوند کے لیے محبوس ہے ، اور خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نکلنا منع ہے ، تواس لیے خاوند پر واجب ہے کہ وہ اس کے بدلے میں اس پر خرچہ کرے ، اور اس کے ذمہ ہے کہ وہ اس کوکفایت کرنے والا خرچہ دے ، اور اسی طرح یہ خرچہ عورت کا اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کرنے اوراس سے نفع حاصل کرنے کے بدلے میں ہے ۔

نان ونفقہ کا مقصد :
بیوی کی ضروریات پوری کرنا مثلا کھانا ، پینا ، رہائش وغیرہ ، یہ سب کچھ خاوند کے ذمہ ہے اگرچہ بیوی کے پاس اپنا مال ہو اوروہ غنی بھی ہوتو پھر بھی خاوند کے ذمہ نان ونفقہ واجب ہے ۔

اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :
{ اور جن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان عورتوں کا روٹی کپڑا اور رہائش دستور کے مطابق ہے } البقرۃ ( 233 )

اور ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا :
{ اور کشادگي والا اپنی کشادگي میں سے خرچ کرے اور جس پر رزق کی تنگی ہو اسے جو کچھ اللہ تعالی نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرنا چاہيے } الطلاق ( 7 ) ۔

سنت نبویہ میں سے دلائل :
ھند بنت عتبہ رضي اللہ تعالی عنہا جوکہ ابوسفیان رضي اللہ تعالی عنہ کی بیوی تھیں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ابوسفیان اس پر خرچہ نہیں کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا :
( آپ اپنے اور اپنی اولاد کے لیے جو کافی ہو اچھے انداز سے لے لیا کرو ) ۔

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوسفیان کی بیوی ھند بنت عتبہ رضي اللہ تعالی عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئي اورکہنے لگی :

اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان بہت حریص اور بخیل آدمی ہے مجھے وہ اتنا کچھ نہيں دیتا جوکہ مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو الا یہ کہ میں اس کا مال اس کے علم کے بغیر حاصل کرلوں ، توکیا ایسا کرنا میرے لیے کوئي گناہ تونہیں ؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :
تواس کے مال سے اتنا اچھے انداز سے لے لیا کرجو تمہیں اورتمہاری اولاد کو کافی ہو ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5049 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1714 ) ۔

جابر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا :
( تم عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو ، بلاشبہ تم نے انہيں اللہ تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے ، اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہووہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو، اگر وہ ایسا کریں توتم انہيں مار کی سزا دو جو زخمی نہ کرے اور شدید تکلیف دہ نہ ہو، اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہيں اچھے اور احسن انداز سے نان و نفقہ اور رہائش دو ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 ) ۔

ج – سکنی یعنی رہائش :
یہ بھی بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ خاوند اس کے لیے اپنی وسعت اور طاقت کے مطابق رہائش تیار کرے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہا ں انہيں بھی رہائش پذیر کرو } الطلاق ( 6 ) ۔

2 – غیر مالی حقوق :
ا – بیویوں کے درمیان عدل وانصاف :
بیوی یا اپنے خاوند پر حق ہے کہ اگر اس کی اور بھی بیویاں ہوں تووہ ان کے درمیان رات گزارنے ، نان ونفقہ اورسکن وغیرہ میں عدل و انصاف کرے ۔

ب – حسن معاشرت :
خاوند پر واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی سے اچھے اخلاق اور نرمی کا برتاؤ کرے ، اور اپنی وسعت کے مطابق اسے وہ اشیاء پیش کرے جو اس کے لیے محبت والفت کا با‏عث ہوں ۔

اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{ اور ان کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھے انداز میں بود باش اختیار کرو } النساء ( 19 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمايا :
{ اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے حق ہیں } البقرۃ ( 228 ) ۔

سنت نبویہ میں ہے کہ :
ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( عورتوں کے بارے میں میری نصیحت قبول کرو اور ان سے حسن معاشرت کا مظاہرہ کرو ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3153 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1468 ) ۔

اب ہم ذيل میں چندایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی بیویوں کےساتھ حسن معاشرت کے نمونے پیش کرتے ہیں ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہمارے لیے قدوہ اور اسوہ اور آئڈیل ہيں :

1 - زينب بنت ابی سلمہ کہتی ہيں کہ ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں تھی تومجھے ایام حیض شروع ہوگئے جس کی بنا پر میں اس چادر سے کھسک کر نکل گئي اور جا کر حیض والے کپڑے پہن لیے ، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے کیا حیض آگیا ہے ؟

میں نے جواب دیا جی ہاں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور اپنے ساتھ چادر میں داخل کرلیا ۔

وہ کہتی ہے کہ ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا نے مجھے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں ان کا بوسہ لیا کرتے تھے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ایک ہی برتن سے اکٹھے غسل جنابت بھی کیا کرتے تھے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 316 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 296 ) ۔

2 – عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا نے فرمایا :
اللہ تعالی کی قسم میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرہ کے دروازہ پر کھڑے دیکھا اور حبشی لوگ اپنے نیزوں سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کھیلا کرتے تھے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر سے مجھے چھپایا کرتے تھے تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں ، پھر وہ میری وجہ سے وہاں ہی کھڑے رہتے حتی کہ میں خود ہی وہاں سے چلی جاتی ، تو نوجوان لڑکی جو کہ کھیلنے پر حریص ہوتی ہے اس کی قدر کیا کرو ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 443 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 892 ) ۔

3 – ام المومنین عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کرنماز پڑھتے اورقرات بھی بیٹھ کر کرتے تھے جب تیس یا چالیس آیات کی قرات باقی رہتی توکھڑے ہوکر پڑھتے پھر رکوع کرنے کے بعد سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے اورنماز سے فارغ ہوکر مجھے دیکھتے اگر میں سوئی ہوئی نہ ہوتی تو مجھ سے باتيں کرتے ، اور اگر میں سوچکی ہوتی توآپ بھی لیٹ جاتے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1068 ) ۔

ج – بیوی کوتکلیف سے دوچار نہ کرنا :
یہ اسلامی اصول بھی ہے ، اورجب کسی اجنبی اور دوسرے تیسرے شخص کونقصان اور تکلیف دینا حرام ہے تو پھر بیوی کو تکلیف اورنقصان دینا تو بالاولی حرام ہوگا ۔

عبادہ بن صامت رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ :
( نہ تو اپنے آپ کونقصان دو اور نہ ہی کسی دوسرے کو نقصان دو ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 2340 ) اس حدیث کو امام احمد ، امام حاکم ، اورابن صلاح وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے ۔
دیکھیں کتاب : خلاصۃ البدر المنیر ( 2 / 438 ) ۔

اس مسئلہ میں شارع نے جس چيز پر تنبیہ کی ہے ان میں ایسی مار کی سزا دینا جوشدید اورسخت قسم کی ہو ۔

جابر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا :
( تم عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو ، بلاشبہ تم نے انہيں اللہ تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے ، اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہووہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو، اگر وہ ایسا کریں توتم انہيں مار کی سزا دو جو زخمی نہ کرے اور شدید تکلیف دہ نہ ہو، اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہيں اچھے اور احسن انداز سے نان و نفقہ اور رہائش دو ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 ) ۔

دوم :
بیوی پر خاوند کے حقوق :

بیوی پر خاوند کے حقوق بہت ہی عظیم حیثیت رکھتے ہیں بلکہ خاوند کے حقوق تو بیوی کے حقوق سے بھی زيادہ عظیم ہیں اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :
{ اور ان عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہيں جیسے ان مردوں کے ہیں اچھائي کے ساتھ ، ہاں مردوں کو ان عورتوں پر درجہ اور فضیلت حاصل ہے } البقرۃ ( 228 ) ۔

جصاص رحمہ اللہ کا کہنا ہے :
اللہ تعالی نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ خاوند اور بیوی دونوں کے ایک دوسرے پر حق ہیں ، اور خاوند کو بیوی پر ایسے حق بھی ہیں جوبیوی کے خاوند پر نہیں ۔

اورابن العربی کا کہنا ہے :
یہ اس کی نص ہے کہ مرد کوعورت پر فضیلت حاصل ہے اور نکاح کے حقوق میں بھی اسے عورت پر فضیلت حاصل ہے ۔

اور ان حقوق میں سے کچھ یہ ہیں :

ا – اطاعت کا وجوب :
اللہ تعالی نے مرد کوعورت پر حاکم مقرر کیا ہے جواس کا خیال رکھے گا اوراس کی راہنمائی اور اسے حکم کرے گا جس طرح کہ حکمران اپنی رعایا پر کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے مرد کو کچھ جسمانی اور عقلی خصائص سے نوازا ہے ، اور اس پر کچھ مالی امور بھی واجب کیے ہیں ۔

اللہ تعالی کافرمان ہے :
{مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے ایک کو دوسرے پر فضيلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں } النساء ( 34 ) ۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے بیان کیا ہے کہ { مرد عورتوں پر حاکم ہیں } یعنی وہ ان پر حاکم اور امیر ہیں ، یعنی ان کی اللہ تعالی کے حکم کے مطابق اطاعت کی جائے گی ، اور اس کی اطاعت اس کے اہل وعیال کے لیے احسان اور اس کے مال کی محافظ ہوگی ۔

مقاتل ، سدی ، اور ضحاک رحمہم اللہ تعالی نے بھی ایسے ہی کہا ہے ۔ دیکھیں تفسیر ابن کثیر ( 1 / 492 ) ۔

ب – خاوند کے لیے استمتاع ممکن بنانا :
خاوند کا بیوی پر حق ہے کہ وہ بیوی سے نفع حاصل کرے ، جب عورت شادی کرلے اور وہ جماع کی اہل بھی ہو تو عورت پر واجب ہے کہ وہ اپنے آپ کوعقد نکاح کی بنا پر خاوند کے طلب کرنے پر خاوند کے سپرد کردے ۔

وہ اس طرح کہ اسے مہر ادا کرے اور عورت اگر مطالبہ کرے تواسے حسب عادت ایک یا دو دن کی مہلت دے کہ وہ رخصتی کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلے کیونکہ یہ اس کی ضرورت ہے اور یہ بہت ہی آسان سی بات ہے جو کہ عادتا معروف بھی ہے ۔

اورجب بیوی جماع کرنے میں خاوند کی بات تسلیم نہ کرے تویہ ممنوع ہے اور وہ کبیرہ کی مرتکب ہوئي ہے ، لیکن اگر کوئي شرعی عذر ہو تو ایسا کرسکتی ہے مثلا حیض ، یا فرضی روزہ ، اور بیماری وغیرہ ہو ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور بیوی انکار کردے تو خاوند اس پر رات ناراضگي کی حالت میں بسر کرے توصبح ہونے تک فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں ) صحیح بخاری حديث نمبر ( 3065 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1436 ) ۔

ج – خاوند جسے ناپسند کرتا ہواسے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینا :
خاوند کا بیوی پر یہ بھی حق ہے کہ وہ اس کے گھر میں اسے داخل نہ ہونے دے جسے اس کا خاوند ناپسند کرتا ہے ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( کسی بھی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ خاوند کی موجودگی میں ( نفلی ) روزہ رکھے لیکن اس کی اجازت سے رکھ سکتی ہے ، اور کسی کو بھی اس کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ لیکن اس کی اجازت ہو تو پھر داخل کرے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4899 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1026 ) ۔

سلیمان بن عمرو بن احوص بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد رضی اللہ تعالی عنہ نے حدیث بیان کی کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے تھے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کی اور وعظ ونصیحت کرنے کے بعد فرمایا :
( عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور میری نصیحت قبول کرو ، وہ تو تمہارے پاس قیدی اور اسیر ہيں ، تم ان سے کسی چيز کے مالک نہيں لیکن اگروہ کوئي فحش کام اور نافرمانی وغیرہ کریں توتم انہيں بستروں سے الگ کردو ، اور انہیں مار کی سزا دو لیکن شدید اور سخت نہ مارو ، اگر تووہ تمہاری اطاعت کرلیں توتم ان پر کوئي راہ تلاش نہ کرو ، تمہاری عورتوں پر تمہارے حق ہیں اور تم پر تمہاری عورتوں کے بھی حق ہیں ، جسے تم ناپسند کرتے ہو وہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو ، اور نہ ہی اسے اجازت دے جسے تم ناپسند کرتے ہو ، خبردار تم پر ان کے بھی حق ہيں کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انہیں کھانا پینا اور رہائش بھی اچھے طریقے سے دو ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1163 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1851 ) امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے ۔

جابر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( تم عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو ، بلاشبہ تم نے انہيں اللہ تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے ، اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہو وہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو، اگر وہ ایسا کریں توتم انہيں مار کی سزا دو جوزخمی نہ کرے اور شدید تکلیف دہ نہ ہو، اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہيں اچھے اور احسن انداز سے نان و نفقہ اور رہائش دو ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 ) ۔

د – خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا :
خاوند کا بیوی پر یہ حق ہے کہ وہ گھر سے خاوند کی اجازت کے بغیر نہ نکلے ۔

شافعیہ اور حنابلہ کا کہنا ہے کہ : عورت کے لیے اپنے بیمار والد کی عیادت کے لیے بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتی ، اور خاوند کو اس سے منع کرنے کا بھی حق ہے ۔۔۔ اس لیے کہ خاوند کی اطاعت واجب ہے تو واجب کوترک کرکے غیر واجب کام کرنا جائز نہيں ۔

ھـ - تادیب : خاوند کو چاہیے کہ وہ بیوی کی نافرمانی کے وقت اسے اچھے اوراحسن انداز میں ادب سکھائے نہ کہ کسی برائي کے ساتھ ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے عورتوں کو اطاعت نہ کرنے کی صورت میں علیحدگي اور ہلکی سی مارکی سزا دے کر ادب سکھانے کا حکم دیا ہے ۔

علماء احناف نے چار مواقع پر عورت کو مار کے ساتھ تادیب جائز قرار دی ہے جو مندرجہ ذيل ہیں :

1- جب خاوند چاہے کہ بیوی بناؤ سنگار کرے اور بیوی اسے ترک کردے ۔
2- جب بیوی طہر کی حالت میں ہو اور خاوند اسے مباشرت کے لیے بلائے تو بیوی انکار کردے ۔
3- نماز نہ پڑھے ۔
4- خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلے ۔

تادیب کے جواز پر دلائل :
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں ڈر اور خدشہ ہو انہيں نصیحت کرو ، اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو ، اور انہیں مار کی سزا دو } النساء ( 34 ) ۔

اور ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا فرمان کچھ اس طرح ہے :
{ اے ایمان والو ! اپنے آپ اور اپنے اہل وعیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں } التحریم ( 6 ) ۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
قتادہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : آپ انہیں اللہ تعالی کی اطاعت کا حکم دیں ، اور اللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی کرنے سے روکیں ، اور ان پر اللہ تعالی کے احکام نافذ کریں ، انہیں ان کا حکم دیں ، اور اس پر عمل کرنے کے لیے ان کا تعاون کریں ، اور جب انہیں اللہ تعالی کی کوئی معصیت ونافرمانی کرتے ہوئے دیکھیں توانہیں اس سے روکیں اور اس پر انہیں ڈانٹیں ۔

ضحاک اور مقاتل رحمہم اللہ تعالی نے بھی اسی طرح کہا ہے :
مسلمان کا حق ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں ، گھر والوں اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کو اللہ تعالی کے فرائض کی تعلیم دے اور جس سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے وہ انہیں سکھائے ۔
دیکھیں تفسیر ابن کثیر ( 4 / 392 ) ۔

و – بیوی کا اپنے خاوند کی خدمت کرنا :

اس پر بہت سے دلائل ہيں جن میں سے کچھ کا ذکر تو اوپر بیان ہوچکاہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے:
بیوی پر اپنے خاوند کی اچھے اور احسن انداز میں ایک دوسرے کی مثل خدمت کرنا واجب ہے ، اور یہ خدمت مختلف حالات کے مطابق ہوتی ہے ، تو ایک دیہاتی عورت کی خدمت شہر میں بسنے والی عورت کی طرح نہیں ، اور اسی طرح ایک طاقتور عورت کی خدمت کمزور اور ناتواں عورت کی طرح نہیں ہوسکتی ۔
دیکھیں الفتاوی الکبری ( 4 / 561 ) ۔

ز - عورت کا اپنا آپ خاوند کے سپرد کرنا :
جب عقد نکاح مکمل اورصحیح شروط کے ساتھ پورا اور صحیح ہو تو عورت پر واجب ہے کہ وہ اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کردے اور اسے استمتاع ونفع اٹھانے دے ، اس لیے کہ عقد نکاح کے عوض خاوند کے سپرد ہونا چاہیے ، جو کہ استمتاع اور نفع کی صورت میں ہے ، اور اسی طرح عورت بھی عوض کی مستحق ہے جو کہ مہر کی صورت میں دیا جاتا ہے ۔

ح – بیوی کی اپنے خاوند سے حسن معاشرت :
اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{ اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان مردوں کے ہیں اچھائي کے ساتھ } البقرۃ ( 228 ) ۔

امام قرطبی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :
ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے ہی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : یعنی ان عورتوں کے لیے حسن صحبت ، اور اچھے اور احسن انداز میں معاشرت بھی ان کے خاوندوں پر اسی طرح ہے جس طرح ان پر اللہ تعالی نے خاوندوں کی اطاعت واجب کی ہے ۔

اوریہ بھی کہا گيا ہے :
ان عورتوں کے لیے یہ بھی ہے کہ ان کے خاوند انہيں تکلیف اور ضرر نہ دیں جس طرح ان عورتوں پر خاوندوں کے لیے ہے ۔ یہ امام طبری کا قول ہے ۔

اور ابن زید رحمہ اللہ تعالی عنہ کہتے ہيں :
تم ان عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرو اور اس سے ڈرو ، جس طرح کہ ان عورتوں پر بھی ہے کہ وہ بھی تمہارے بارے میں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کريں اور ڈريں ۔
اور معنی قریب قریب سب ایک ہی ہے ، اور مندرجہ بالا آیت سب حقوق زوجیت کوعام ہے ۔

شیخ محمد صالح المنجد

زارا
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 198
Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
لوگ, لڑکی, مکمل, ممکن, محبت, مسجد, مسجد نبوی, آدمی, ایمان, اللہ, امیر, اجنبی, اسلام, اسلامی, تلاش, تعلیم, جواب, حدیث, دستور, روزہ, رات, شہر, شخص, طلاق, عقد


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ايسے لوگ اب پھرکبھي لوٹ کرنہيں آئيں گے ALI-OAD اپکے کالم 4 14-06-11 02:06 PM
پاکستان ميں سيلاب کے متاثرين بے يارومددگار نہیں ہيں Fawad خبریں 17 25-08-10 11:33 PM
تم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں wajee شعر و شاعری 3 21-11-09 05:28 PM
تم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں نورین خان شعر و شاعری 81 12-09-09 10:59 AM
اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں The Great احمد فراز 0 28-08-09 09:12 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger