واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


خلع اور مسائل خلع

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-11-11, 10:04 AM   #1
خلع اور مسائل خلع
نبیل خان نبیل خان آن لائن ہے 04-11-11, 10:04 AM

نکاح ایک عبادت ہے اور خوشگوار زندگی گزارنے کا نبوی طریقہ اور شرعی معاہدہ ہے ۔ یہ بقاء نسل کا پاکیزہ ذریعہ ہے ۔ اس سے زندگی میں سکون اور اطمینان آتا ہے ۔ اللہ کو یہ پسند ہے کہ نکاح ہونے کے بعد تا حیات یہ رشتہ باقی رہے ، لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی کے مزاجی اختلاف یا صورت و کردار کے فرق کی بناء پر دونوں میں نباہ نہیں ہو پاتا ۔اور دونوں ایک دوسرے کی حق تلفی کر کے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے لگتے ہیں ، اس لیے ایسی حالت میں اللہ کریم نے طلاق اور خلع کا طریقہ مقرر کیا ہے تا کہ دونوں خوش اسلوبی سے ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں ۔۔

خلع کا مفہوم

خلع طلاق ہی کی ایک قسم ہے ، لیکن فرق یہ ہے کہ طلاق دینے کی صورت میں شوہر بیوی کو حق مہر ادا کرتا ہے اور خلع کی صورت میں بیوی حق مہر معاف کر دیتی ہے یا واپس لوٹا دیتی ہی۔۔ خلع میں ایک طرف بیوی کی رضا مندی ہوتی ہے اور دوسری طرف شوہر کی رضا مندی ہوتی ہے ۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر عورت خود ہی مہر کے بدلے خلع کا اعلان کر دے تو خلع ہو جائے گا ۔ شوہر چاہے اس کو قبول کرے یا نا کرے ۔ ایسا سمجھنا غلط ہے ۔ جب تک شوہر منظور نہ کر ے خلع نہ ہو گا اور عورت شوہر کی بیوی باقی رہے گی۔

خلع کا مطالبہ

لیکن عام اور پر سکون زندگی میں خلع کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے اور جو عورت بلا وجہ خلع لینا چاہتی ہے ایسی عورت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :
جو عورت بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔ ( نسائی شریف )
اور دوسر ے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ :
اپنے شوہروں سے الگ ہونے والی اور خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں ۔ (مشکوۃ شریف )

اس لیے عورتوں کو خلع کا مطالبہ ان ہی حالات میں کرنا چا ہیے جب انہیں یہ اندیشہ ہو کہ اللہ کریم نے جو میاں بیوی کے حقوق متعین کیے ہیں ان کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔ یہ خلاف ورزی دونوںکی طرف سے ہو یا ایک کی طرف سے ۔ جیسے کوئی عورت اپنے شوہر کی جسمانی خرابی ، بڑھاپا ، ضعف کزوری یا بد خلقی یا بد صورتی کی وجہ سے نفرت کرے ۔ اور وہ یہ سمجھے کہ اللہ نے شوہر کی اطاعت کا جو حق اس پر عائد کیا ہے اسے وہ ادا نہیں کرسکے گی یانہیں کر پا رہی تو ایسی صورت میں وہ مہر کے بدلے شوہر سے خلع حاصل کر لے ۔ اور شوہر کو چاہیے کہ اس کو خلع دے کر الگ کر دے ۔۔
بلکہ مناسب یہہے کہ ایسی حالت میں دونوں اپنے اپنے خاندان سے ایک ایک دیندار اور سمجھدار نمائندہ بنادیں اور یہ دونوں نمائندے میاں بیوی کے معاملہ میں غور کریں ۔ اور اگر زیادتی شوہر کی طرف سے ہو تو اسے تنبیہ کریں اور اگر عورت کی ہو تو اسے سمجھائیں اور اگر اس سے کام نہ چلے اور وہ کسی طرح نہ مانیں تو اگر زیادتی بیوی کی ہو تو مہر کے بدلے خلع کروا دیں ، اور اگر زیادتی شوہر کی ہو تو مہر کی معافی کے بغیر طلاق دلوادیں ۔

خلع کا معاوضہ

خلع میں معاوضہ کی مقدار بھی محدود ہونی چاہیے ۔ اگر مہر کی رقم دے دی ہو تو عورت واپس کر دے اور اگر نہیں دی تو معاف کر دے ۔ مہر کی رقم سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : خلع لینے والی بیوی سے شوہر اس سے زیادہ نہ لے جتنا اس کو دیا ہی۔ ( بیھقی )
جیسا کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی حبیبہ بنت سہل رضی ا للہ عنہا نے خلع کے بدلہ میں مہر میں دیئے ہوئے باغ سے زیادہ دینا چاہا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس سے زیادہ نہیں ( سنن اربعہ بحوالہ فتح الباری ص ۳۵۰ )
اسی طرح خلع میں معاوضہ لینا بھی اسی وقت درست ہو گا ، جب آپس کے بگاڑ کی وجہ بیوی ہو ۔ اور خلع کی وجہ شوہر کی زیادتی ہو تو پھر شوہر کو خلع کے بدلے میں کچھ لینا بھی جائز نہیں ہے


خلع کا طریقہ

خلع کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ دو مسلم گواہوں کی موجودگی میں بیوی خلع کے یہ الفاظ کہے کہ میں نے خلع کے عوض اپنا کل مہر اور عدت کا خرچ معاف کیا ۔اور شوہر کہے کہ میں نے خلع کو منظور کرتے ہوئے اپنی بیوی فلاں بنت فلاں کو خلع کر دیا ، اب وہ میری بیوی نہیں رہی ۔
خلع کے الفاظ زبان سے ادا کرنے کے بعد دونوں خلع کی تحریر پر اپنے دستخط یا نشان انگھوٹھا ثبت کریں ، اور پھر گوہان اور کاتب تحریر بھی اپنے دستخط مع ولدیت و سکونت ثبت کریں


خلع کا حکم

خلع ایک طلاق بائن کے حکم میں ہے ۔خلع کرنے سے رشتہ نکاح ختم ہو جاتا ہے ۔ اور میاں بیوی ایک دوسرے سے آزاد ہو جاتے ہیں ۔ خلع کے بعد اگر دونوں پھر ازواجی رشتہ میں منسلک ہونا چاہیں تو پھر سے نکاح کر کے میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں مگر اب مرد کو بیوی پر دو ہی طلاق کا حق باقی رہے گا اور خلع جس مال پر ہو گا اس کا مالک شوہر ہو گا ۔اگر بیوی کا مہر شوہر کے ذمہ ہو اور اس نے نقد مال پر خلع کیا تو نقد مال بیوی شوہر کو دے گی اور مہر بھی ساقط ہو جائے گا ، بیوی مہر نہیں لے سکتی ہی۔ اسی طرح خلع کرنے سے گزشتہ مدت کا نفقہ بھی ساقط ہو جائے گا ۔ البتہ عدت کا نفقہ ساقط نہیں ہو گا ، بشرطیکہ خلع میں اس کا ذکر نہ ہو ۔ اور اگر بیوی نے اولاد کے نفقہ کی معافی پر خلع کیا توخلع ہو جائے گا مگر اولاد کا نفقہ باپ سے ساقط نہیں ہو گا اس لیے کہ ماں کو اولاد کے نفقہ کے عوض خلع کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ اسی طرح خلع سے حق حضانت ( یعنی بچوں کی پرورش کا حق بھی ) ساقط نہیں ہو گا ۔

خلع کی عدت

خلع کے بعد عورت کو عدت گزارنا لازم ہے ۔اگر حیض آرہا ہو تو عد ت تین حیض ہے ۔اور اگر حیض نہ آتا ہو چاہے کم عمر ہونے کی وجہ سے یا زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے ہو تو عدت تین مہینے ہے ۔ اور اگر حمل ہے تو بچہ پیدا ہونے پر عدت ختم ہو گی َ
خلع سے عدت کے دوران عورت کی سکونت کا حق زائل نہیں ہو گا ۔ اگر خلع شوہر کے گھر رہنے کے دوران ہوا ہو تو عورت عدت تک اس مکان میں رہے گی۔ اگرچہ خلع میں اس کو معاف کر دیا گیا ہو ۔ اس لیے کہ یہ حق سکونت حقوق اللہ میں داخل ہے اور بندہ اس کو ختم کرنے کا حق نہیں رکھتا ہے ۔۔۔
اللہ کریم ہم سب کو سمجھ اور عقل سلیم عطاء فرمائے آمین یا رب العٰلمین

نبیل خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 235
Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
بنت حوا (04-11-11)
پرانا 04-11-11, 06:57 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,139
کمائي: 12,572
شکریہ: 3,450
702 مراسلہ میں 1,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شئیرنگ ھے معلوماتی جزاک اللہ
بنت حوا آف لائن ہے   Reply With Quote
بنت حوا کا شکریہ ادا کیا گیا
نبیل خان (07-11-11)
پرانا 04-11-11, 09:06 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اگر زیادتی شوہر کی ہو تو مہر کی معافی کے بغیر طلاق دلوادیں ۔
اگر عورت خلع لے رہی ہو اور ذیادتی شوہر کی ہو تو کیا شوہر اپنی ذیادتی کو قبول کرے گا اور خلع کے ساتھ مہر ادا کرے گا ؟

آپ نے لکھا کہ خلع طلاق بائن
طلاق بائن کو ذرا تفصیل سے بیان کردیں کہ طلاق بائن اور عام طلاق میں کیا فرق ہے ؟
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-11-11), نبیل خان (07-11-11)
پرانا 07-11-11, 07:29 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,617
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اگر عورت خلع لے رہی ہو اور ذیادتی شوہر کی ہو تو کیا شوہر اپنی ذیادتی کو قبول کرے گا اور خلع کے ساتھ مہر ادا کرے گا ؟

آپ نے لکھا کہ خلع طلاق بائن
طلاق بائن کو ذرا تفصیل سے بیان کردیں کہ طلاق بائن اور عام طلاق میں کیا فرق ہے ؟
طلاق بائن کا حکم یہ ہے کہ بیوی فورا نکاح سے نکل جاتی ہے اور شوہر کو رجوع کا حق نہیں رہتا ۔ البتہ عدت کے اندر اور عدت ختم ہونے کے بعد بھی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔۔
طلاق رجعی

یہ ہے کہ صاف اور صریح لفظوں میں ایک یا دو طلاق دی جائے اس کاحکم یہ ہے کہ ایسی طلاق میں عدت پوری ہونے تک نکاح باقی رہتا ہے اور شوہر کو اختیار ہے کہ عدت ختم ہونے سے پہلے بیوی سے رجوع کر لے ۔ اگر اس نے عدت کے اندر رجوع کر لیا تو نکاح بحا ل رہے گا اور دوبارہ نکاح کی ضرورت نہ ہو گی اگر اس نے عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو طلاق موئثر ہو جائے گی اور نکاح ختم ہو جائے گا ۔ اگر دونوں چاہیں تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
حسن قادری (08-11-11), سحر (07-11-11)
جواب

Tags
color, پسند, قیس, لوگ, نفرت, منافق, ماں, مسائل, اللہ, بیوی, بچوں, تحریر, حکم, خلاف, زندگی, سہل, طلاق, عورت, عورتیں, عورتوں, عقل, عائد, عبادت, غور, غلط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger