واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


سماجی ترقی میں عورت کا کردار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-12-11, 04:23 PM   #1
سماجی ترقی میں عورت کا کردار
زارا زارا آف لائن ہے 08-12-11, 04:23 PM

اسلام سے پہلے عورت کی تاریخ نہایت دردناک نظر آتی ہے، عورت کو تمام انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا حتی جینے کے حق سے۔

لیکن اسلام کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو جینے کا حق دیا۔ سماج میں اسے مقام و منزلت عطا کی، تعلیم و تعلم کا حق دیا، مالکیت کا حق دیا، مرد کے مظالم کے مقابلہ میں شکایت کا حق دیا، اپنے حقوق کے دفاع کا حق دیا اور سماجی امور میں مکمل طریقے سے شریک ہونے کا حق عطا کیا۔ اور مرد کو کسی قسم کا خاص امتیاز نہیں دیا جس سے وہ عورت پر اپنی برتری جتا سکے۔ اسلام کی نگاہ میں انسانی زندگی کا پرندہ دو پروں سے اڑان بھرتا ہے اس کے وہ دو پر ایک مرد ہوتا ہے اور دوسرا عورت۔ ان دو پروں کے بغیر انسانی زندگی کسی بھی میدان میں معنوی یا مادی، پرواز نہیں کر سکتی۔

پس مرد اور عورت ایک دوسرے کو کامل کرنے والے ہیں اور انسانی سماج کے دو بنیادی رکن کی حیثیت رکھتے ہیں جو دونوں مل کر ایک سماج تشکیل دیتےہیں اور اسے کمال کی طرف ترقی دیتے ہیں۔

البتہ فطری اور قدرتی اختلاف کی وجہ سے دونوں کے وظائف مختلف ہوا کرتے ہیں کہ جن کی رعایت دونوں کے لیے ضروری ہے۔

حضرت امام خمینی [رہ] اس سلسلے میں رقمطراز ہیں:

"۔۔۔۔ بعض موارد میں مرد اور عورت کے درمیان ایسا طبیعی فرق پایا جاتا ہے جو ان کے انسان ہونے کی حیثیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ عورت ان مسائل میں جو اس کی شرافت کے منافی نہیں ہیں آزاد ہے''۔[۱]

آج اسلامی نظام کے اندر عورت مسلمان مرد کی طرح اپنے وظائف کے انتخاب میں آزاد ہے۔ اور اپنی طاقت، لیاقت اور ہوشیاری بر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی شرافت، کرامت، عفت اور پاکدامنی کی حفاظت کرتے ہوئے سماجی ذمہ داریوں کو انتخاب کر سکتی ہے؛ جیسے: تعلیم کا شعبہ میں، طبابت اور علاج معالجہ کے شعبہ میں یا دیگر سماجی شعبوں میں حصہ لے سکتی ہے۔

اسلامی سماج کی خواتین اپنے صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے اپنے اندر خدمت کا جذبہ پیدا کر کے اپنی فطرت سے مناسب تمام مقامات اور مناصب پر فائز ہو سکتی ہیں اور اسلامی سماج کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

سماجی ترقی اور عورت

کبھی ہم عورت کو سماجی ترقی کے میدان میں ایک فعال عنصر کی حیثیت سے نگاہ کرتے ہیں اور کبھی اس کی ذات میں منحصر صفات کی حامل منجملہ، ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہونے کی حیثیت سے اسے مد نظر رکھتے ہیں۔

اگر عورت کو ایک انسان ہونے کے عنوان سے ملاحظہ کریں اس معنی میں کہ اولا انسان ترقی کا سبب ہے اور دائمی ترقی یہ ہے کہ سماج کے تمام عناصر کے درمیان توازن برقرار کیا جائے، ثانیا انسان کی فطری خصوصیات ان عناصر کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے بغیر انسان اپنی شخصیت کو کھو جائے گا اور ایک مشینری میں تبدیل ہو جائے گا کہ جس کے بارے میں انسانی حقوق یا سماجی اخلاق کی بات کرنا فضول کہلائے گا،تو عورت سماجی ترقی میں برابر کی حصہ دار شمار ہو گی۔

دین اسلام کہ جس کے اصول کا سرچشمہ فطرت انسانی ہیں خالق انسان کی طرف سے مادی اور معنوی ترقی حاصل کرنے کا بہترین دستور العمل پیش کرتا ہے۔ لہذا بغیر کسی شک و شبہہ کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف دین ہے کہ جو سماج کی ہر فرد کے لیے اس کی فطرت کے اعتبار سے مقام و منصب کا تعین کر سکتا ہے جس میں اس کی شخصیت اور شرافت کی حفاظت ہو سکے اور انسانی سماج میں ترقی بھی ہو اور مشکلات کا سد باب بھی ہو سکے ورنہ دین کو درکنار کر کے اگر انسان، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، خود اپنے لیے تعیین وظائف کرنے لگے گا تو نتیجہ میں سماج بجائے ترقی کی تنزلی کی طرف بڑھے گا مادی اعتبار سے بھی اور معنوی اعتبار سے بھی۔ خالق انسان نے عورت کی فطرت اور سرشت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جو سماجی مقام و مناصب اسے عطا کئے ہیں اگر عورت مزید ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت کو کچل کر آگے بڑھ رہی ہے وہ اپنی تکلیف ما لا یطاق انجام دینے کی کوشش کر رہی ہے وہ اس چیز کی تلاش میں ہے جو اس کے بس میں نہیں ہے نتیجہ کیا ہوگا؟ نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اس کام یا ذمہ داری کو کما حقہ انجام نہیں پائے گی اس لیے کہ اس کی طاقت سے بالا تر ہے۔ ایسی صورت میں جب سماجی اور اجتماعی کام کما حقہ انجام نہیں پائیں گے تو کیا سماج اور معاشرہ ترقی کرے گا یا تنزلی کرے گا؟

اگر ان تمام حقائق کو ملحوظ نظر رکھا جائے تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ عورت بھی مرد کی طرح سماجی ترقی کا بنیادی رکن ہے۔ اور وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا جس میں عورت کا کوئی نقش اور رول نہ ہو جس میں عورت کو اس کے فطری وظائف سے محروم رکھا جائے جس میں عورت کو محض مرد کی تسکین کا ساز و سامان بنا دیا جائے جس میں عورت صرف گھر کی ایک نوکرانی تصور کیا جائے، یا اس کے برعکس اس سماج میں بھی کوئی انسانی اور معنوی ترقی نظر نہیں آئے گی جس میں عورت کو مطلق العنان کر دیا جائے جس عورت کی شرافت کا جنازہ نکال دیا جائے، جس میں عورت ہر ہوس پرست کی ہوس کا لقمہ بن جائے۔ جس میں عورت کے فطری حقوق کو پامال کر دیا جائے اور ہر جگہ ہر کوچہ گلی میں جلوت و خلوت میں جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھ لیا جائے۔

اس نکتہ کو بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ عورت کی شخصیت کی حفاظت سماج کے مستقبل کو روشن بنا سکتی ہے اور اسے ترقی کی راہ میں گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

سماجی ترقی میں عورت کے کردار کو اگر اس کی ذاتی اور فطری خصوصیات کو مد نظر رکھ کر متعین کریں گے تو اس سے عورت کی ارزش اور قیمت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی بلکہ اس کی قیمت میں اضافہ ہو گا اس کی عظمت میں اضافہ ہو گا۔ اور یہ چیز مرد و عورت کے وظائف تعین کرنے میں تاثیر گذار ثابت ہوگی اس معنی میں کہ تقدیر الہی نے مرد و عورت کے وظائف کو سماجی فلاح و بہبود میں مقدور فرما دیا ہے۔

وہ عورت جو بیوی یا ماں ہے یقینا اس کے وظائف اس مرد سے جو شوہر یا باپ ہے فرق کرتے ہیں اور ممکن نہیں ہےکہ دونوں کی ایک طرح کی ذمہ داریاں ہوں ورنہ گھر کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔ دونوں کا کردار مل کر گھر کے نظام کو چلانے، بہتر بنانے اور اسے ترقی دینے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ اور ممکن نہیں ہے کہ ایک دوسرے کا جایگزیں کر دیا جائے لیکن گھر کے نظام میں کوئی خلل اندازی نہ ہو۔

اس بنا پر زن و مرد دونوں اجتماعی اور سماجی ترقی کی راہ میں برابر کا کردار رکھتے ہیں لیکن اپنے اپنے وظائف اور ذمہ داریوں کی رعایت کے ساتھ اور ایک دوسرے کے کاموں میں عدم مداخلت کے ساتھ ۔ ورنہ سماج میں خرابیاں وجود پائیں گی۔

ہم یہاں پر سماج میں عورت کے چند ایک وظائف کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو سماجی ترقی میں نہایت موثر واقع ہوتے ہیں:

۱: گھر میں سالم ماحول ایجاد کرنا

عورت گھر میں سالم اور پرسکون ماحول ایجاد کر کے انسانی سماج کو قوی، روشن فکر اور متحرک بنا سکتی ہے۔

واضح ہے کہ ایسے ماحول کے بغیر سماج عاطفی اعتبار سے بکھرا ہوا اور معنوی اور روحی اعتبار سے کمزور نظر آئے گا اس لیے کہ سماج گھرانوں سے ہی مل کر بنتاہے اور وہ سماج جس میں کھوکھلاپن، سستی اور تباہی پائی جاتی ہو وہ بجائے اس کے کہ خلاقیت اور اختراعات کی میدان میں قدم بڑھائے آلودگیوں اور فتنوں کی آغوش میں پروان چڑھے گا۔ لہذا عورت سماج کا بنیادی رکن ہونے کے حوالہ سے اور گھر اور خاندان میں اصلی محور ہونے کے اعتبار سے کہ جو دو اہم وظائف "مادری اور شوہرداری" کو اپنے ذمہ رکھتی ہے صحیح اور سالم ماحول کو وجود میں لانے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

۲: عورت کا تربیتی کردار

صالح انسان، ترقی اور تکامل کا محور قرار پاتاہے لیکن صالح انسان کی تربیت ایک دائمی تربیتی پروگرام کی محتاج ہے۔ اور کبھی کبھی اتفاقی طور پر نہیں ہوتا ہے کہ ایک موثر انسان اتفاقی پور پر سماج میں ظہور کر جائے۔ ہر بڑی شخصیت کے پیچھے ایک سلیقہ مند عورت کا کردار کارفرما ہوتا ہے۔ امام خمینی [رہ] نے یونہی نہیں کہہ دیا کہ "مرد عورت کے دامن سے معراج پاتا ہے"۔ یہ ایک واقعیت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اولاد کی بہترین تربیت جو انسانی سماج کے بنیادی عناصر ہوتے ہیں عورت سے مخصوص ہے۔

۳:محبت آمیز ماحول فراہم کرنا

عورت اپنی طبیعی استعداد کی بدولت اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ گھر میں محبت بھرا ماحول فراہم کرے اس طریقہ سے سماج کی ترقی اور تکامل کے لیے مناسب زمین ہموار کرے۔

لیکن وہ سماج جو محبت اور عطوفت سے خالی ہو ایک خشک اور جامد ماحول ہو گا۔ یہ سماج اگر بعض مادی موارد میں پیشرفت بھی کئے ہوئے ہو لیکن معنوی اور انسانی اعتبار سے جمود اور خلاد کا شکار ہے۔ یقینا ایسے ماحول میں آپسی اتحاد ، ہمدردی اور ایک دوسرے کا احساس نظر نہیں آ سکتا۔

بنابر ایں، جو بھی صدمہ عورت کے گھریلو کردار پر وارد ہو گا اور ایک گھرانے میں اس کے مقام و منزلت کو مخدوش کیا جائے گا اس کے منفی آثار سماج کے مستقبل پر ضرور اثر انداز ہوں گے۔

حتی یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ جو لوگ عورت کی گھریلو زندگی میں اہمیت کو ختم کرنے کہ در پہ ہیں وہ در حقیقت عورت کی شرافت اور عظمت کو خدشہ دار کرنا چاہتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن کریم میں عورت کو اقتصادی، سیاسی، علمی، ثقافتی اور ہنری میدان میں مرد کے برابر قرار دیا ہے خدا وند عالم دونوں کو زندگی کے مختلف ابعاد میں یکساں قرار دے کر انہیں مخاطب کرتا ہے:

«انى لا اضيع عمل عامل منكم من ذكراو انثى بعضكم من بعض.(2)؛

میں تم مرد و عورت میں سے کسی کے عمل کی جزا کو ضائع نہیں کرتا۔

«و من يعمل من الصالحات من ذكر او انثى و هو مؤمن فاولئك يدخلون الجنه و لا يظلمون نقيراً.(3)؛

اور جو نیک عمل انجام دے چاہے مرد ہو یا عورت اس حال میں کہ مومن ہے جنت میں داخل ہوں گے اور ذرہ برابر بھی ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

و «من عمل صالحا من ذكر او انثى و هو مؤمن فلنحيينه حياة طيبة و لنجزينهم اجرهم باحسن ما كانوا يعلمون(4)؛

اہل ایمان میں سے جو نیک کام انجام دیتے ہیں مرد ہوں یا عورتیں ہم انہیں پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور انہیں ان کے اعمال سے زیادہ بہتر جزا دیں دے۔

اس بنا پر اسلام کی نگاہ میں عورتیں مردوں کی طرح زندگی کے تمام امور میں حصہ لے سکتی ہیں اور تمام سماجی وظائف کو انجام دے سکتی ہیں اور ان کی جزا اور پادایش وصول کر سکتی ہیں۔

اس لیے کہ اسلام کی نگا میں ان میں کوئی ایک بھی دوسرے پر فضیلت کا حامل نہیں ہے بلکہ دونوں آزاد ہیں اور اچھے برے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔

حضرت امام خمینی [رہ] فرماتے ہیں:

"اسلام عورت کو تمام امور میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ مرد تمام امور میں دخالت کا اختیار رکھتا ہے عورت بھی رکھتی ہے۔ جیسا کہ مرد اختیار رکھتے ہیں آپ [خواتین] کو بھی خدا نے باکرامت خلق کیا ہے آزاد خلق کیا ہے " [۵]

اور نیز فرماتے ہیں:

"جس طریقہ سے مردوں کے حقوق اسلام میں بیان کئے گئے ہیں عورتوں کے حقوق بھی بیان ہوئے ہیں اسلام نے عورتوں کو زیادہ اہمیت دی ہے مردوں کی نسبت۔۔۔" [۶]

" انسانی حقوق کے اعتبار سے مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں ہے اس لیے کہ دونوں انسان ہیں۔۔۔" [۷]

سورس: Taken from E-mail
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 143
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
compaq (08-12-11), محمد یاسرعلی (08-12-11), مرزا عامر (09-12-11), رضی (08-12-11), عروج (08-12-11)
جواب

Tags
کمال, قدم, قرآن, لوگ, نظر, مکمل, مقابلہ, ممکن, مؤمن, محبت, مسائل, معاشرہ, معراج, ایمان, اسلام, اسلامی, بہترین, تلاش, تعلیم, حال, خواتین, خدا, عورت, صدمہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سی آئی اے پاکستانی عوام کے اجتماعی شعور سے زیادہ طاقتور نہیں عارف اقبال خبریں 1 18-04-11 11:22 PM
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ مسافر عمومی بحث 3 13-08-09 06:07 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger