| عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | ||||
|
|||||
|
مناظر: 920
|
|||||
| 6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), ننھا بچہ (13-11-11), نبیل خان (09-01-12), مہتاب (13-11-11), محمد یاسرعلی (10-01-12), حیدر Rehan (09-01-12) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا۟ ٱلْعِدَّةَ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنۢ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّآ أَن يَأْتِينَ بِفَٰحِشَةٍۢ مُّبَيِّنَةٍۢ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ ۚ لَا تَدْرِى لَعَلَّ ٱللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًۭا اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں) جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کر دے۔ 65:1 میری ذاتی رائے کے مطابق طلاق پراسیس کے وقت عورت کو تا عدّت شوہر کا حسبِ حیثیت مکان جہاں وہ رہتا ھے عورت کا اسی گھر میں رہنے دے، اس سے طلاق کا فائنل راؤنڈ ہونے سے پہلے ہو سکتا ھے اللہ سبحان تعالی رجوع کی کوئی صورت و سبب پیدا فرما دے۔ مگر لوگ ایسا نہیں کرتے اور کسی بھی قسم کی پراہ کئے بغیر عورت کو اس کے والدین کے گھر بھیج دیتے ہیں۔ ----------------- اپنی امّت سے فرما دیجئے ۔ شانِ نزول : یہ آیت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حق میں نازل ہوئی ، انہوں نے اپنی بی بی کو عورتوں کے ایّامِ مخصوصہ میں طلاق دی تھی ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ رجعت کریں ، پھر اگر طلاق دینا چاہیں تو طُہر یعنی پاکی کے زمانہ میں طلاق دیں ، اس آیت میں عورتوں سے مراد مدخول بہا عورتیں ہیں (جو اپنے شوہروں کے پاس گئی ہوں) صغیرہ ، حاملہ اور آئسہ نہ ہوں ۔ آئسہ وہ عورت ہے جس کے ایّام بڑھاپے کی وجہ سے بند ہو گئے ہوں ، ان کا وقت نہ رہا ہو ۔ مسئلہ : غیرِ مدخول بہا پر عدّت نہیں ہے ۔ باقی تینوں قِسم کی عورتیں جو ذکر کی گئی تھیں انہیں ایّام نہیں ہوتے تو ان کی عدّت حیض سے شمار نہ ہوگی ۔ مسئلہ : غیرِ مدخول بہا کو حیض میں طلاق دینا جائز ہے ۔ آیت میں جو حکم دیا گیا اس سے مراد ایسی مدخول بہا عورتیں ہیں جن کی عدّت حیض سے شمار کی جائے انہیں طلاق دینا ہو تو ایسے طُہر میں طلاق دیں جس میں ان سے جماع نہ کیا گیا ہو ، پھر عدّت گذرنے تک ان سے تعرّض نہ کریں اس کو طلاقِ احسن کہتے ہیں ۔ طلاقِ حسن غیرِ موطؤہ عورت یعنی جس سے شوہر نے قربت نہ کی ہو اس کو ایک طلاق دینا طلاق حسن ہے خواہ یہ طلاق حیض میں ہو ۔ اور موطؤہ عورت اگر صاحبِ حیض ہو تو اسے تین طلاقیں ایسے تین طُہروں میں دینا جن میں اس سے قربت نہ کی ہو طلاقِ حسن ہے اور اگر موطؤہ صاحبِ حیض نہ ہو تو اس کو تین طلاقیں تین مہینوں میں دینا طلاقِ حسن ہے ، طلاقِ بدعی حالتِ حیض میں طلاق دینا یا ایسے طُہر میں طلاق دینا جس میں قربت کی گئی ہو طلاقِ بدعی ہے ، ایسے ہی ایک طُہر میں تین یا دو طلاقیں یکبارگی یا دو مرتبہ میں دینا طلاقِ بِدعی ہے اگرچہ اس طُہر میں وطی نہ کی گئی ہو ۔ مسئلہ : طلاقِ بدعی مکروہ ہے مگر واقع ہوجاتی ہے اور ایسی طلاق دینے والا گنہگار ہوتا ہے ۔ مسئلہ : عورت کو عدّت شوہر کے گھر پوری کرنی لازم ہے نہ شوہر کو جائز کہ مطلّقہ کو عدّت میں گھر سے نکالے ، نہ ان عورتوں کو وہاں سے خود نکلنا روا ۔ ان سے کوئی فسق ظاہر صادر ہو جس پر حد آتی ہے مثل زنا اور چوری کے ، اسلئے انہیں نکالنا ہی ہوگا۔ مسئلہ : اگر عورت فحش بکے اور گھر والوں کو ایذا دے تو اس کو نکالنا جائز ہے کیونکہ وہ ناشزہ کے حکم میں ہے ۔ مسئلہ : جو عورت طلاقِ رجعی یا بائن کی عدّت میں ہو اس کو گھر سے نکلنا بالکل جائز نہیں اور جو موت کی عدّت میں ہو وہ حاجت پڑے تو دن میں نکل سکتی ہے لیکن شب گذارنا اس کو شوہر کے گھر ہی میں ضروری ہے ۔ مسئلہ : جو عورت طلاقِ بائن کی عدّت میں ہو اس کے اور شوہر کے درمیان پردہ ضروری ہے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اور عورت ان دونوں کے درمیان حائل ہو ۔ مسئلہ : اگر شوہر فاسق ہو یا مکان بہت تنگ ہو تو شوہر کو اس مکان سے چلا جانا بہتر ہے۔ مفسر : حضرت علامہ نعیم الدین مرآدآبادی (رحمۃ اللہ علیہ) -------------------- ف۱۰ نبی کو مخاطب بنا کر یہ ساری امت سے خطاب ہے۔ یعنی جب کوئی شخص (کسی ضرورت اور مجبوری سے) اپنی عورت کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو چاہیے کہ عدت پر طلاق دے۔ سورہ "بقرہ" میں آچکا کہ مطلقہ کی عدت تین حیض ہیں (کما ہو مذہب الحنفیہ) لہٰذا حیض سے پہلے حالت طہر میں طلاق دینا چاہیے تاکہ سارا حیض گنتی میں آئے اگر فرض کیجیے حالت حیض میں طلاق دے گا تو دو حال سے خالی نہیں۔ جس حیض میں طلاق دی ہے اس کو عدت میں شمار کریں گے یا نہ کریں گے۔ پہلی صورت میں ایقاع طلاق سے پہلے جس قدر وقت حیض کا گزر چکا وہ عدت میں سے کم ہو جائے گا۔ اور پورے تین حیض عدت کے باقی رہیں گے۔ اور دوسری صورت میں جب موجودہ حیض کے علاوہ تین حیض لیں گے تو یہ حیض تین سے زائد ہوگا۔ اس لیے مشروع طریقہ یہ ہے کہ طہر میں طلاق دی جائے اور حدیث سے یہ قید بھی ثابت ہے کہ اس طہر میں صحبت نہ کی ہو۔ ف ۱۱ یعنی مرد و عورت دونوں کو چاہیے کہ عدت کو یاد رکھیں۔ کہیں غفلت و سہو کی وجہ سے کوئی بے احتیاطی اور گڑ بڑ نہ ہو جائے۔ نیز طلاق ایسی طرح دیں کہ ایام عدت کی گنتی میں کمی بیشی لازم نہ آئے۔ جیسا کہ اوپر کے فائدہ میں بتلایا جا چکا ہے۔ ف۱۲ یعنی اللہ سے ڈر کر احکام شریعت کی پابندی رکھنی چاہیے جن میں سے ایک حکم یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق نہ دی جائے اور تین طلاقیں ایک دم نہ ڈالی جائیں اور مطلقہ عورت کو اس کے رہنے کے گھر سے نہ نکالا جائے۔ وغیر ذلک۔ ف۱۳ یعنی عورتیں خود بھی اپنی مرضی سے نہ نکلیں۔ کیونکہ یہ سکنیٰ محض حق العبد نہیں کہ اس کی رضا سے ساقط ہو جائے بلکہ حق الشرع ہے، ہاں کوئی کھلی بے حیائی کریں مثلاً بدکاری یا سرقہ کی مرتکب ہوں یا بقول بعض علماء زبان درازی کریں اور ہر وقت کا رنج و تکرار رکھتی ہوں تو نکالنا جائز ہے اور اگر بے وجہ نکلیں گی تو یہ خود صریح بے حیائی کا کام ہوگا۔ ف ۱ یعنی گنہگار ہو کر اللہ کے ہاں سزا کا مستوجب ہوا۔ ف ۲ "لاتدری" کا ترجمہ "اس کو خبر نہیں" بصیغہ غائب کیا ہے تامعلوم ہو جائے کہ خطاب اسی طلاق دینے والے کو ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں۔ ف۳ یعنی شاید پھر دونوں میں صلح ہو جائے اور طلاق پر ندامت ہو۔ (1) (تفسیر عثمانی, مولانا محمود الحسن) Last edited by کنعان; 13-11-11 at 02:20 AM. وجہ: تفسیر عثمانی, مولانا محمود الحسن |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آرڈیننس نمبر ۸ مجریہ ١۹٦١ ٕ
ہر کاہ کہ قرین مصلحت ہے کہ شادی وعائلی قوانین کے کمیشن کی کچھ سفارشات کو بروئے کار لایا جائے۔ لہذا باتباع اعلان مجريہ 7 اکتوبر 1985 کو ان تمام اختیارات کے استعمال کرتے ہوئے جو ان کو اسباہ حاصل ہیں صدر پاکستان مندرجہ ذیل ﴿آر ڈی نینس﴾ بخوشی جاری کر کے نافذ کرتے ہیں۔ ملکیت۔ میاں اور بیوی کے علیحدہ علیحدہ حقوق ملکیت اور مشترکہ ملکیت کو تصوّر/ نظریہ۔ مسلم قانون میاں اور بیوی کے علیحدہ علیحدہ حقوق ملکیت کو تسلیم کرتا ہے اور شادی کی وجہ سے مشترکہ ملکیت کا کوئی وجود نہیں ہے۔ شادیوں کی رجسٹریشن۔ ١۔ اسلامی قانون کے تحت واقعہ ہونے والی تمام شادیاں اس آرڈریننس کے احکام کے مطابق رجسٹرکی جائیں کی۔ ۲۔ اس آرڈریننس کے تحت شادیوں کی رجسٹریشن کے مقاصد کے لئے یونین کونسل ایک یا زائد افراد کو لائسنس جاری کریگی۔ جو کہ نکاح رجسٹرار کہلائیں گے۔ لیکن کسی صورت میں بھی کسی ایک وارڈ کے لیے لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔ ۳۔ ہر شادی جس کی رسم نکاح رجسٹرار نے ادا نہ کی ہو اس آرڈیننس کے تحت رجسٹریشن کے مقاصد کے لیے وہ شخص جس نے شادی کی رسم ادا نہ کی ہو نکاح رجسٹرار کو مطلع کرے گا۔ ۴۔ جو کوئی ذیلی دفعہ ﴿۳﴾ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا وہ تین ماہ کی حد تک سزائے قید محض یا ایک ہزار جرمانہ یا دونوں سزاوًں کا مستوجب ہوگا۔ ۵۔ نکاح نامے کے فارم، نکاح رجسٹرار کے رکھنے والے رجسٹر۔یونین کونسل کے رکارڈ۔ شادیوں کی رجسٹریشن کا طریقہ کار اور نکاح ناموں کی نقولات فریقین کو مہیا کی جایئنگی۔ اور اس کے لئے وہ فیس واجب الادا جو ہوگی مقرر کی گئی ہو۔ ٦۔ کسی بیوی کے لیے جس کی شادی اس دفعہ کے تحت موًثر طلاق کے ذریعہ سے اختتام پزیر ہو چکی ہو کوئی امر مانع نہیں ہو گا۔ اگر وہ اسی خاوند سے کسی دیگر شخص سے درمیان شادی کئے بغیر دوبارہ شادی کے سوائے اس صورت کہ ایسا اختتام تیسری بار موّثر ہوا ہو۔ طلاق کے لئے وجوہات۔ ظلم و تشدد۔ شراب نوشی۔ چاقو سے وار کا اقدام کئی مرتبہ رسپانڈنٹ نے سائلہ کو چاقو سے وار کرنے کا اقدام کیا۔ قرار پایا اگرچہ شراب نوشی ظلم و تشدد کے مترادف نہ ہے تاہم ایک زوج دوسرے زوج سے ظالمانہ رویہ کے خلاف عدالت سے تحفظ حاصل کر سکتا ہے۔ اور یہ کہ اس مقصد کے حالات کا کل نتیجہ ایسی نوعیت کا تھا جو کہ زندگی کے خطرہ کا باعث بن سکتا تھا اور کسی بھی حالت میں درخواست گزار کو ایسا رویہ برداشت کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ایک شرطیہ ڈگری درخواست گزار کو عطا کر دی گئی۔ دفعہ﴿۷﴾ طلاق کا نفاذ۔ خاوند کی طرف سے یونین کونسل کو بھیجے گئے طلاق کے نوٹس کی واپسی۔ نتیجہ۔ یونین کونسل کو بھیجا کیا طلاق کا نوٹس خاوند کو فنی و جوہات کی بنا واپسی نہیں گردانی جا سکتی۔ دفعہ﴿۷﴾ حق طلاق جو کہ خاوند کی شرعیہ کے تحت وہ کسی بھی ملک میں رہنے سے واپس نہیں لیا جاتا۔ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس ١۹٦١ میں موجود خاوند کا حق طلاق جو کہ قرآنی احکامات کے تحت دیا کیا ہے وہ رائج ہوتا ہے۔ قرار پایا کہ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس ١۹٦١ کے اسلامی احکامات جو کہ قرآن و سنت میں کیے گئے ہیں کے مطابق تعبیر کیا جائے گا اگر موجودہ قانون میں کوئی اختلاف ہو گا تو اسلامی احکامات ہی رائج ہوںگے۔ مزید قرار دیا گیا کہ اگر چیئرمین مقامی کونسل کو طلاق کا نوٹس نہ بھی دیا گیا ہو تو شریعت کے تحت طلاق غیر موّثر نہ ہو گی۔ درخواست برخاست کر دی گئی۔ زبانی ھبہ کا ثبوت ھبہ زبانی طور پر بھی کیا جا سکتا تھا لیکن اسے انتقال جائیداد ایکٹ 1882 کی دفعہ 129 کے تحت واضع اور قائل کرنے والی شہادت کے ذریعے ثابت کیا جانا چاہیئے۔ تنسیخ نکاح۔ منسوخی نکاح کی ڈگری خلع کی بنیاد پر دائر کی گئی۔ مقررہ وقت کے اندر بیوی کی طرف سے حاصل کردہ مفادات کی قاپسی میں ناکامی۔ قرار پایا کہ اگر بیوی خلع کی بنیاد پر منسوخی نکاح کی ڈگری لینے کے بعد مقررہ وقت میں مفادات کی واپسی میں ناکام رہتی ہو تو یہ دیوانی ذمہ داری کو جنم دے گی۔ اور ڈگری موّثر نہ ہو گی۔ فیملی کورٹ کی ڈگری کا استرداد ۔ دیوانی عدالت کا اختیار و سماعت ۔یہ غور کرنے کے لئے اجاذت دے دی گئی کہ آباد دیوانی عدالت کی فیملی کورٹ کی ڈگری کو مسترد کرنے کا اختیار ہے کہ نہ ہے اور ان ججملس کی پڑتال کا اختیار ہے جو اس طرح رپورٹ کی گئی ہیں یعنی۔ طلاق کے علاوہ شادی کی تنسیخ اگر حق طلاق باقاعدہ طور پر بیوی کو تفویض کیا جا چکا ہو اور وہ اپنے اس حق کو استعمال کتنا چاہے یا اگر شادی کے فریقین میں سے کوئی فریق طلاق کے علاوہ دیگر طریقہ سے شادی کو منسوخ کرنے کا خواہش مند ہو تو دفعہ 7 کے احکام۔ مناسب دروبدل کے ساتھ جس حد تک لاگو ہو سکیں۔ لاگو ہوں گے۔ ۹۔ خرچہ نان و نطفہ۔ ﴿١﴾ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کو مناسب خرچہ فراہم کرنے سے قاصر رہے یا تعداد ازدواج کی صورت میں ان کو منصفانہ طریقہ سے خرچہ فراہم نہ کرے تو بیوی یا تمام بیویاں ان میں سے کوئی بیوی کسی دیگر قانونی طور پر دستیاب تلافی کے لئے سوالی ہونے کے علاوہ چیئرمین کو درخواست دائر کر سکتی ہے جو اس امر کے تصفیہ کے لئے ثالثی کونسل تشکیل دے گا اور ثالثی کونسل ایک سرٹیفیکیٹ جاری کر سکتی ہے جس میں اس رقم کا تعین کیا گیا ہو جو خاوند بطور خرچہ نان و نطفہ ادا کرے۔ ﴿۲﴾ ذیلی دفعہ ﴿١﴾ یا ﴿۲﴾ کے تحت کوئی واجب الادا رقم مقررہ وقت پر اگر ادا نہ کی جائے تو وہ رقم بطور بقایاجات مالیہ واجب الوصول ہو گی۔ ﴿۳﴾ دفعہ نمبر ١١ دفعہ ﴿4﴾ 7 ﴿3﴾ بیان حلفی۔ قبولیت۔ جرح کا حق۔ گواہان غیر ملک میں مقیم تھے ان کی پیشی تاخیر و قباحت ہو سکتی تھی اور پیش کرنے والے فریق کے لئے مہنگی پڑتی تھی۔ فاضل جج حق جرح پر محدود یا اور ان دوسرے عناصر پر دھیان نہ دیا جس کا تعلق براہ راست صوابدیدی حکم نامہ پر تھا۔ قرار پایا کہ کسی ایک دستاویز کی قبولیت اس کی شہادتی ایمیت کا انداذہ کرنے سے روکا نہیں جا سکتا تھا۔ قرار پایا کہ حکم نامہ غیر معقول غیر منصفانہ اور غیر قانونی تھا۔ دفعہ ۵۔ نان و نفقہ۔ درخواست گزار قانونی طور پر ان کے نان نفقہ کا پابند ہوتا ہے جب وہ زندہ ہوں۔ نابالغ بچوں کو انکے نان نفقہ کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں رہتے۔ دفعہ ۵۔ خلع کے ذریعے شادی کا خاتمہ۔ جس کے لئے ڈگری جاری کی گئی۔ ایسی خلع کی بنیاد پر سائلہ کو 20 تولہ کے زیورات واپس کرنے تھے۔ جن کو چیلنج کیا گیا۔ تکرار یہ تھی کہ شادی کے خاتمہ کی ڈگری کو قوائد کی واپسی پر منحصر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اور اس سلسلہ میں ہدایت ایک دیوانی ذمہ داری کو جنم دیتی تھی جس کے لئے قانونی راستہ بنانا پڑتا تھا۔ اس کے برعکس درخواست گزار نے اعتراض اٹھایا کہ مفادات کی واپسی ہدایت قابل نفاظ نہ تھی قرار دیا گیا کہ شادی کے خاتمہ کی ڈگری حاصل کرنےکے بعد جو کہ خلع کی بنیاد پر حاصل کی گئی ہو ایک بیوی ان مفادات کو واپس کرنے کی پابند ہوتی ہے جو کہ شادی کے بدلے حاصل کرتی ہے۔ اور اس سلسلے میں عائلی عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے۔ تاہم شادی کے تحلیل ہونے میں مفادات کے واپسی ایک لازمی شرط نہیں ہے۔ مزید قرار پایا کہ عائلی عدالت کی طرف سے اس طرح کے تعین کو کسی دیگر نالش کا منشائے دعویٰ نہیں بنایا جاسکتا جس میں مفادات کی بازیابی مقصود ہو۔ وہ رقم جو بیوی نے اگر لینی ہو شروط رہتی ہے۔ لہذا رٹ درخواست میں کوئی زور نہ تھا۔ اس لئے برخاست کی گئی۔ دفعہ ﴿۵﴾ نان نقفہ پر زنانہ ماضی/سابقہ۔ دعویٰ۔ فریقین کا بیان/بیانات میں زمانہ ماضی کے نان نفقہ کے ذکر کا نہ ہونا واضع طور پر ظاہر کرتا تھا کہ فریقین نے اس پر زور نہ دیا تھا۔ اور مدعیان نے اپنے دعویٰ کو ترک کر دیا تھا۔ (اختتام) |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), فاروق سرورخان (24-12-11), نبیل خان (09-01-12), مہتاب (13-11-11), محمد یاسرعلی (10-01-12), حیدر Rehan (10-01-12) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
کنعان بھائی! بہت عمدہ
جزاک اللہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), کنعان (13-11-11) |
|
|
#5 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ ایک بے بنیاد بات ہے، بات سمجھے بغیر، آپ کو حوالہ دینا چاہیے تھا۔ شوہر کا گھر، بیوی کی ملکیت اور یہ جو آرٹیکل آ ٓپ نے بتائے بغیر لکھا ہے یہ بھی ٹھیک بات نہیں ہے، آپ کو دونوں جگہ قرآن کےمطابق طلاق اور طلاق سے متعلقہ حقوق حوالہ دینا چاہیے تھا تاکہ میں بات مکمل کرتا۔ اقتباس:
اقتباس:
بریکٹ کی عبارت نکال دینے کے بعد اب عورت کو کیسے گھر سے نکالیں گے ؟؟؟ فہوالمطلوب !!!
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 13-12-11 at 11:11 PM. |
|||
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مفسرین کا کہنا ہے کہ قرآن مجید فصیح اور واضح زبان میں نازل ہوا ہے اور اس کا مقصد، خاوند ہی کو مالک مکان دکھانا ہوتا، تو اس کے لیے وہ بیوتھن کی بجائے بیوتھم کی ضمیر لا سکتا تھا، یعنی مرد اپنے گھروں سے طلاق کے بعد اپنی عورتوں کو نہ نکالیں۔ آخر ان گھروں کو جو عورتوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے ، تو اس کی بھی کوئی خاص حکمت ہو گی اور حقیقی کی بجائے مجازی معنی اپنانے سے یہ حکمت باقی نہیں رہے گی۔ مصر میں عورتوں نے اپنے اس حق کے حصول کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، تو عدالت نے عورتوں کے اس حق کو تسلیم کر لیا۔ 1979 میں ملکی قانون کے طور پر اسے نافذ کر دیا گیا، لیبیا میں بھی ایسا ہی قانون بعد میں نافذ کر دیا گیا۔ |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
ملکی قوانین، اس ملک کے لوگ بناتے ہیں۔ اس کی تجویز کہیں نا کہیںسے شروع ہوتی ہے اور تحریک بن جاتی ہے ۔
قانون بنائیے ، حدود قائم کیجئے ، لیکن ٹوٹی پھوٹی ۔ لنگڑی لولی حدود نہیں ۔ بلکہ قرآن میں موجود ہر حد۔ سب سے پہلی حد ہے ۔۔۔ مطلقہ نیک عورت کو اس کے گھر سے کبھی نا نکالا جائے اور نا ہی وہ کبھی خود سے نکلے (سورۃطلاق ، آیت نمبر 1) ۔۔۔ تاکہ مذہبی سیاسی بازیگر کو حق مارنے کی صورت میں کچھ کھونے کا خوف ہو ۔۔۔۔ 65:1 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں جب تم عورتوں کو طلاق کرنا چاہو تو اُن کےطہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دےیہ آیت عورتوں کو اپنے گھروںمیں وہ مظبوطی عطا کرتی ہے کہ اگر گھر میں مرد زور و زبردستی کرے تو طلاق واقع کرکے ، مرد کو باہر نکال دیں ۔۔۔۔ تاکہ خاندان کی حق تلفی نا ہو۔۔ ۔ کسی طور بچوں کو پالنے والی ماں کی حق تلفی نا ہو۔۔۔۔ بچوں کی حق تلفی نا ہو ۔۔۔ اور آئندہ آنے والی قوم کی تربیت ماںان گھروںمیں کرسکے ۔۔۔۔۔ کون تیار ہے اس حدود اللہ کو نافذکرنے کے لئے ، اور پاکستان کی تعزیراتی حدود میں داخل کرنے کے لئے ۔ ؟؟؟؟؟ میں تجویز کرتا ہوں کہ تمام مسلم ممالک کے نکاح ناموں میں سورۃ الطلاق، آیت نمبر ایک، کے مطابق، یہ شرط شامل کی جائے ۔۔۔۔ مجھے اس دن کا انٹظار ہے جب مصری عورتوں کی طرح ، امت مسلمہ کی ہر محترم خاتون، اللہ تعالی کے دئے ہوئے اس حق کا مطالبہ کرے گی ۔۔۔ "ایک نیک عورت کی طلاق کی صورت میں ۔ جس گھرمیں یہ عورت اور اس کے بچے رہتے ہیں ، وہاں سے عورت اور اس کے بچوں کو اس وقت تک نہیں نکالا جائے گا اور نا ہی وہ خود وہاں سے نکل کر در بدر ہوں گے، جب تک کہ یہ بچے اپنی تعلیم مکمل کرکے، ملازمت یا کاروبار نا کرنے لگیں" ------ شوہر کو اور اس کے خاندان کو طلاق کی صورت میں ، عورت کا --- عورت اور اس کے بچوں کے رہائشی گھر پر، نصف ملکییتی حق منظور ہے ؟ یا عورت کا مکمل ملکیتی حق منظور ہے؟ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (24-12-11) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نکاح نکاح، اسلامی معاشرتی نظام کا ایک اہم رکن ہے جو زوجین کو حلال طریقے سے ازدواجی رشتے میں باہم منسلک کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا النكاح سنتي فمن رغب عن سنتي فليس مني نکاح میری سنت ہے لہذا جس نے میری سنت سے روگردانی اختیار کی وہ مجھ سے نہیں ہے۔ وَأَنكِحُوا الْأَيَامَى مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرِ نکاح کے باوجود) بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو)، اگر وہ محتاج ہوں گے (تو) اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا بڑے علم والا ہے 24:32 وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ اور اس کی آیات میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے نفوس سے تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون حاصل کرسکو اور تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کر دی بیشک اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لئے جو سوچتے ہیں 30:21 حق مہر حق مہر کی دو اَقسام ہیں، ” مہرِ معجل “ اور ” مہرِ موٴجل “ ” مہرِ موٴجل “ اس کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی کے لئے کوئی خاص میعاد مقرّر کی گئی ہو۔ ” مہرِ معجل “ جس کی ادائیگی فوراً یا عورت کے مطالبے پر واجب ہو، مہرِ معجل کا مطالبہ عورت جب چاہے کر سکتی ہے، لیکن مہرِ موٴجل کا مطالبہ مقرّرہ میعاد سے پہلے کرنے کی مجاز نہیں۔ نفقہ کی تعریف نفقہ کی لغوی و شرعی تعریف نفقہ کے لغوی معنی: ہر وہ چیز جسے انسان اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہو۔ نفقہ: اصطلاح میں : خوراک، لباس اور رہائش کے انتظام کو کہتے ہیں۔ بَابُ النَّفَقَةِ هِيَ لُغَةً مَا يُنْفِقُهُ الْإِنْسَانُ عَلَى عِيَالِهِ وَشَرْعًا هِيَ الطَّعَامُ وَالْكُسْوَةُ وَالسُّكْنَى۔ (درمختار علي الرد َبابُ النَّفَقَةِ:۷۴/۱۳) مرد كے ذمہ تین چیزیں ہیں: کھانا ،لباس اور رہائش۔ (۱) شوہر بیوی کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے بیوی کو رہنے کے لیے گھر اور کھانا وغیرہ کا خرچ مرد کے ذمہ رہتا ہے اب چونکہ یہ ذمہ داری مرد کی ہے اس لیے اپنی حیثیت کے مطابق خرچہ دینا اس پر لازم ہے اس سلسلہ میں عورت کی حیثیت خواہش وغیرہ کا لحاظ رکھنا ضروری نہیں۔ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ وسعت والے پر اس کی حیثیت کے مطابق (لازم) ہے اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے مطابق، (بہر طور) یہ خرچہ مناسب طریق پر دیا جائے (البقرة: 236) (۲) عورت کے لیے اس کے خرچہ کے علاوہ اس کو رہنے کے لیے اور اپنے سامان وغیرہ کی حفاظت کے لیے کم از کم ایک خصوصی کمرہ دینا شوہر کی ذمہ داری ہے (شریعت میں اس کو’ سکنی ‘ کہتے ہیں) أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو (الطلاق: 6) عن جابر ... وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنْ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابُ اللَّهِ (مسلم بَاب حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، (حدیث نمبر:۲۱۳۷) بیوی عام بنیادی ضابطوں کی رو سے مالی طور پر خود مختاری حیثیت کی مالک ہوتی ہے قدیم وجدید جمہور علماء امت کا یہی موقف ہے اور شوہر کے لیے جائز نہیں کہ وہ بیوی کی مالی حیثیت کے لیے کوئی اور تعبیر اختیار کرکے اس کی مالیت کو خانوادے سے متعلق قرار دے یا یہ کہ وہ بیوی کے نجی ملکیت میں مداخلت کرے خواہ وہ مداخلت خرچ کرنے سےمتعلق ہو یا منافع پیدا کرنے کے لیے ہاں اگر شوہر کے مشاہدے میں یہ بات آئے کہ بیوی اپنا مال شرعاً ناجائز امور میں صرف کر رہی ہے تو بحیثیت ایک مسلمان شوہر کے اسے بیوی کی مالی خود مختاری سورہ نساء کی اس آیت سے ماخوذ ہے لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا ۖ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ ۚ” نساء ۳۲ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے حتی کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو کوئی خطیر رقم بطور مہر کے دے یا کوئی قیمتی تحفہ پیش کرے تو اسے بھی لینے یا اس میں تصرف کرنے کا شرعاً مجاز نہ ہوگا، ارشاد باری تعالی : وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚأَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا” النساء ۲۰ تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا کیا تم اُسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے؟ طلاق خاوند کے یک طرفہ ارادے سے شادی کا بندھن ٹوٹنے کا نام ہے، یہ اسلام کے ناپسندیدہ مباح امور میں سے ہے، بلکہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ مباح شۓ ہے، یہ ایسی شادی سے، جسکا شرعی مقصد پورا نہ ہو رہا ہو، ایسے وقت میں چھٹکارہ حاصل کرنے کیلۓ رکھی گئی ہے، جبکہ خاوند و بیوی کے درمیان اختلافات زور پکڑ جائیں، اور یہ یقین ہو جاۓ کہ شادی کا بر قرار رھنا محال ہے۔ بیسک انفارمیشن مختلف مقامات سے اکٹھی کر کے نقل کی گئیں ہیں (جاری ھے) |
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (09-01-12) |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلاَ يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّهَ رَبَّهُ وَلاَ يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لاَ يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ من رِّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى وَلاَ يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُواْ وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَكْتُبُوْهُ صَغِيرًا أَو كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللّهِ وَأَقْومُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلاَّ تَرْتَابُواْ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلاَّ تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوْاْ إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلاَ يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَلاَ شَهِيدٌ وَإِن تَفْعَلُواْ فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّهُ وَاللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت تک کے لئے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور تمہارے درمیان جو لکھنے والا ہو اسے چاہئے کہ انصاف کے ساتھ لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے ﷲ نے لکھنا سکھایا ہے، پس وہ لکھ دے (یعنی شرع اور ملکی دستور کے مطابق وثیقہ نویسی کا حق پوری دیانت سے ادا کرے)، اور مضمون وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق (یعنی قرض) ہو اور اسے چاہئے کہ ﷲ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور اس (زرِ قرض) میں سے (لکھواتے وقت) کچھ بھی کمی نہ کرے، پھر اگر وہ شخص جس کے ذمہ حق واجب ہوا ہے ناسمجھ یا ناتواں ہو یا خود مضمون لکھوانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اس کے کارندے کو چاہئے کہ وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے، اور اپنے لوگوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، پھر اگر دونوں مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں (یہ) ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں تم گواہی کے لئے پسند کرتے ہو (یعنی قابلِ اعتماد سمجھتے ہو) تاکہ ان دو میں سے ایک عورت بھول جائے تو اس ایک کو دوسری یاد دلا دے، اور گواہوں کو جب بھی (گواہی کے لئے) بلایا جائے وہ انکار نہ کریں، اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے اپنی میعاد تک لکھ رکھنے میں اکتایا نہ کرو، یہ تمہارا دستاویز تیار کر لینا ﷲ کے نزدیک زیادہ قرینِ انصاف ہے اور گواہی کے لئے مضبوط تر اور یہ اس کے بھی قریب تر ہے کہ تم شک میں مبتلا نہ ہو سوائے اس کے کہ دست بدست ایسی تجارت ہو جس کا لین دین تم آپس میں کرتے رہتے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے کا کوئی گناہ نہیں، اور جب بھی آپس میں خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو، اور نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو، اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمہاری حکم شکنی ہو گی، اور ﷲ سے ڈرتے رہو، اور ﷲ تمہیں (معاملات کی) تعلیم دیتا ہے اور ﷲ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے 2:282 سورت البقرہ کی آیت نمبر 282 میں قرض، کاروبار پر دستاویزات لکھوانے پر بتایا گیا ھے اس سے ہم ہر معاملہ پر دستاویزات بنوانے پر نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ نیچے لنکس میں پاکستان میں استعمال ہونے والا نکاح نامہ کے دو صفحات ہیں جس میں 1 سے 25 تک کچھ شرائط ہیں جو شریعت کے مطابق مکمل ہیں اور ان سے کچھ حصے فوٹو میں دکھائے گئے ہیں جو بیوی کے حقوق پر ہیں جس پر عمل اس نکاح کے بعد شروع ہو جاتا ھے۔ اگر کوئی سمجھے کہ کچھ کمی نظر آ رہی ھے تو اس کے لئے نمبر17 میں لکھی ہوئی عبارت کا مطالعہ فرمائیں وہ اس میں لکھ کر پوری کی جا سکتی ہیں نکاح نامہ - 1 - اردو مکمل کاپی نکاح نامہ - 2 - اردو مکمل کاپی ![]() اب ہم دنیاوی ڈائلاگ کی طرف آتے ہیں۔ کیا وجہ ھے کہ 13، 14، 15، 16، 17 اور 20 پر جو بیوی کے حقوق ہیں اسے لڑکی کے گھر والے نکاح کے وقت اگنور کر دیتے ہیں، اس سے بعد میں حالات کے پیش نظر اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے والدین خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ نکاح نامہ شریعت کے اصولوں کے مطابق عورت کے حقوق پر مکمل ھے اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ کل تک اجازت کے ساتھ جاری ھے |
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (09-01-12) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَآؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لاَ تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعاً فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لئے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے، اور مُورِث کے ماں باپ کے لئے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ (ملے گا) بشرطیکہ مُورِث کی کوئی اولاد ہو، پھر اگر اس میت (مُورِث) کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف اس کے ماں باپ ہوں تو اس کی ماں کے لئے تہائی ہے (اور باقی سب باپ کا حصہ ہے)، پھر اگر مُورِث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے (یہ تقسیم) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہو گی)، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ فائدہ پہنچانے میں ان میں سے کون تمہارے قریب تر ہے، یہ (تقسیم) اللہ کی طرف سے فریضہ (یعنی مقرر) ہے، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے 4:11 وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلاَلَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ فَإِن كَانُواْ أَكْثَرَ مِن ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّ وَصِيَّةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ اور تمہارے لئے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لئے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے (یہ بھی) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو جس کے نہ ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کا (ماں کی طرف سے) ایک بھائی یا ایک بہن ہو (یعنی اخیافی بھائی یا بہن) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ تقسیم بھی) اس وصیت کے بعد (ہو گی) جو (وارثوں کو) نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے، اور اللہ خوب علم و حلم والا ہے 4:12 يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ وَاللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ لوگ آپ سے فتویٰ (یعنی شرعی حکم) دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجئے کہ ﷲ تمہیں (بغیر اولاد اور بغیر والدین کے فوت ہونے والے) کلالہ (کی وراثت) کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص فوت ہو جائے جو بے اولاد ہو مگر اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لئے اس (مال) کا آدھا (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور (اگر اس کے برعکس بہن کلالہ ہو تو اس کے مرنے کی صورت میں اس کا) بھائی اس (بہن) کا وارث (کامل) ہوگا اگر اس (بہن) کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر (کلالہ بھائی کی موت پر) دو (بہنیں وارث) ہوں تو ان کے لئے اس (مال) کا دو تہائی (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور اگر (بصورتِ کلالہ مرحوم کے) چند بھائی بہن مرد (بھی) اور عورتیں (بھی وارث) ہوں تو پھر (ہر) ایک مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہوگا۔ (یہ احکام) ﷲ تمہارے لئے کھول کر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو، اور ﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے 4:176 |
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (10-01-12) |
|
|
#11 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بیوی کو شادی کے وقت میکہ اور سسرال یا بری میں جو زیور ملتا ہے وہ صرف بیوی کا ہوتا ہے یا بیوی اور شوہر دونوں کا ہوتا ہے ؟ اور جہیز کی ملکیت بھی صرف بیوی کی ہوتی ہے یا میاں بیوی دونوں کی ہوتی ہے ؟
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 10-01-12 | کنعان | لنچ بریک ھے شام کو بات کرتے ہیں | 1 |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
جو کچھ شادی کے وقت اور شادی کے دوران شوہر کی طرف سے بیوی کو دے دیا گیا وہ بہر صورت صرف اور صرف بیوی کی ملکیت ہے۔
اس دھاگے کی بنیاد ہے ۔ طلاق کے بعد بیوی کو کیا ملے گا۔ خاصطور پر اگر اس خاندان نے برسوں محنت کرکے ایک گھر بنایا ہے تو کیا یہ گھر میاں اور بیوی کی مشترکہ ملکیت ہے اور طلاق کی صورت میں اس عورت کو اس گھر میں سے حصہ ملنا چاہئے یا نہیں ؟؟؟ کنعان یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ بیوی کا ، اپنے خاندان کے گھر میںطلاق کی صورت میںکوئی حصہ نہیں۔ جب کہ میرا مؤقف یہ ہے کہ طلاق کی صورت میں --- قرآن کی روشنی --- میں مطلقہ عورت کا مشترکہ جائیداد میں مساوی حصہ ہے ۔ والسلام |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-01-12), حیدر Rehan (10-01-12) |
| کمائي نے فاروق سرورخان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 10-01-12 | کنعان | لگتا ھے آپنے بھی سٹنٹ کھیلنا شروع کر دیا ھے۔ اس سیریل میں ساری معلومات آپ کے خود ساختہ وہم پر ہی پیش کی گئی ھے | 0 |
|
|
#13 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
شادی کے وقت بیوی کو جو اپنے والدین سے زیور گہنا ملتا ھے اس پر کچھ والدین اسے نکاح نامہ میں درج کرواتے ہیں اور زیادہ تر نہیں، جو زیور گہنا بیوی کو اپنے والدین سے ملا ھے وہ بیوی کی ذاتی ملکیت ھے اس پر خاوند کا کوئی حق نہیں، شادی کے فوراً بعد تو کوئی مرد اپنی بیوی سے اس کے زیورات کا مطالبہ تو کرتا نہیں اس پر اس کے والدین پر ہی اپنے بیٹے کی ذمہ داری ہوتی ھے جسے وہ مشکل میں بھی پورا کرتے ہیں ہاں اگر ازدواجی زندگی خوشگوار ہو اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انڈرسٹینڈگ ہو اور اس پر ایک عرصہ گزر جائے اسی دوران اگر حالات کی پیش نظر کسی مشکل میں (تنگی کی وجہ سے روزگار پر یا کوئی پراپرٹی خریدنی پڑ جائے یا اسطرح کی کوئی بھی مشکل) ضرورت پڑ جائے تو بیوی بھی یہ جانتی ھے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں تو بیوی اس پر اپنی خوشی سے تعاون کر سکتی ھے دیکھا یہی گیا ھے، اور اگر زبردستی سے اسے حاصل کیا جائے تو یہ زیادتی ھے۔ یہ میری ذاتی رائے ھے۔ اسی طرح مزید یہ آپ کے سوال سے ریلیٹڈ نہیں مگر شائد کوئی مدد ملے۔ اسلام کے قانون وراثت میں خواتین کو مردوں کی نسبت نصف حصہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اور ان کے بچوں کی کفالت کی پوری ذمہ داری مردوں پر ہے۔ اس کے علاوہ انہیں شادی کے وقت حق مہر ادا کیا جاتا ہے۔ مرد جو کچھ کماتے ہیں، اسے اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنا ان کی ذمہ داری ہے لیکن اگر خواتین کچھ کماتی ہوں تو ان پر ایسی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی کہ وہ اپنے مال کو خاوند پر خرچ کریں۔ 1- جب فوت شدہ خاوند کی کوئی فرع وارث نہ ہو تو بیوی کو ترکہ میں سے چوتھا حصہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تمھاری اولاد نہ ہو تو ان (بیویوں) کے لیے تمھارے ترکہ میں سے چوتھا حصہ ہے۔ النساء 12:4 2- جب خاوند کی فرع وارث ہو تو بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر تمھاری اولاد ہو تو ان (بیویوں) کے لیے تمھارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے۔ النساء 12:4 1- جب فوت شدہ بیوی کی کوئی فرع وارث نہ ہو تو خاوند کو ترکہ میں سے نصف ملے گا۔ اولاد اور نرینہ اولاد کی اولاد ’’فرع‘‘ کہلاتی ہے مثلاً بیٹا‘ پوتا‘ پڑپوتا… بیٹی‘ پوتی‘ پڑپوتی … اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تمھاری بیویوں کی اولاد نہ ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمھارے لیے نصف ہے۔ النساء 12:4 2- جب بیوی کی کوئی فرع وارث ہو خواہ اسی خاوند سے ہو یا کسی پہلے خاوند سے تو خاوند کو ترکہ میں سے چوتھا حصہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر بیویوں کی اولاد ہو تو تمھارے لیے ترکہ میں سے چوتھا حصہ ہے۔ النساء 12:4 والسلام |
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (11-01-12) |
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میکے سے ملا ہوا زیور اگر بیوی شادی کے کافی عرصے بعد اپنی ماں کو واپس کرنا چاہے تو کیا اس کے لیے اسے اپنے شوہر کی اجازت چاہیے ہوگی ؟
اور شادی کے وقت سسرال سے ملا ہوا زیور بھی صرف بیوی کی ملکیت ہوتا ہے ؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مشکل سوال ؟
|
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (11-01-12) |
![]() |
| Tags |
| color, green, کوشش, پوسٹ, پاکستانی, قرآن, لوگ, مجید, مسائل, معلوم, اللہ, بھائی, بچوں, تعلیم, خدا, زندگی, زمانہ, سال, شخص, طلاق, عورتیں, عبارت, صاف, صرف, صریح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نیوی کا سابق کمانڈو بھائی سمیت گرفتار، خاندان کا الزام | کنعان | خبریں | 10 | 31-05-11 03:22 PM |
| ہری پورمیں ایک عیسائی وکیل بیوی اور پانچ بچوں سمیت قتل | جاویداسد | خبریں | 1 | 04-10-10 02:42 PM |
| برطانیہ میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور بیوی سمیت گرفتار | جاویداسد | خبریں | 0 | 02-09-10 10:50 PM |
| ایلویٹ ہیلی کاپٹرز اور فوکر ایئر کرافٹ کی پاکستان نیوی میں شمولیت | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 13-04-08 08:55 AM |
| امریکہ نے پاکستان آرمی کے ایوی ایشن ونگ کو 25لڑاکا کوبراہیلی کاپٹروں کی ملکیت دے دی | پاکستانی | خبریں | 1 | 22-10-07 10:17 PM |