| عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 280
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (24-10-11), rana ammar mazhar (13-04-12), قاسمی (24-10-11), سیفی خان (23-10-11), سحر (23-10-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,617
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
طلاق اچھی چیز نہیں ہی
اصل تو یہی ہے کہ طلاق بری چیز ہے اور اس سے پرہیز کرنا چاہیے لیکن بعض خاص حالات میں جب مرد محسوس کرے کہ میں بیوی کے حقوق ادا نہیں کر سکتا تو محض اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے عورت کو لٹکا کر رکھنا گناہ ہو گا اور اس صورت میں مرد پر واجب ہو گاکہ وہ بیوی کو طلاق دے کر آزاد کر دے ۔ اس لیے کہ نکاح سے شریعت کی منشاء اور مقصود یہ ہے کہ میاں بیوی جائز اور حلال طریقہ سے اپنی خوہشات کی تکمیل کریں ۔ اور عفت و عصمت کی زندگی گزاریں ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں نیز اللہ کریم کے حقوق بھی پامال نہ کریں لہٰزا اگر ایسی صورت ہو جائے کہ مرد اپنی بیوی کا حق ادا نہ کر پائے اور اس طرح شریعت کا حکم ٹوٹنے لگے تو پھر شوہر پر واجب اور ضروری ہے کہ عورت کو طلاق دے کر آزاد کر دے تاکہ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے دوسرا نکاح کر کے پاکیزہ زندگی گزارے ۔صاحب در مختار نے اس پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر عورت کو معروف طریقہ سے اپنے نکاح میں رکھنا ممکن نہ ہو تو پھر ایسی صورت میں شوہر پر طلاق دینا واجب ہو جاتا ہے ، حالت نشہ کی طلاق فقہاء کی اصطلاح میں شراب یا کوئی بھی نشہ آور چیز پی کر اس طرح بدمست ہو جائے کہ مرد و عورت کا امتیاز بھی باقی نہ رہے اور زمین آسمان کا فرق بھی نہ کر سکے ۔ ۔ اگر شراب یادوسری حرام چیزیں افیون، بھنگ وغیرہ کے پینے سے عقل زائل ہو جائے اور وہ شخص نشہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو حنفیہ کے نزدیک طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ تابعین میںسے حضرت سعید بن المسیب ، حضرت عطاء ، حضرت حسن بصری ، حضرت ابراہیم نخعی ِ ، حضرت ابن سیرین ، حضرت مجاہد رحمۃاللہ علیہم وغیرھم کا یہی مسلک ہے ۔ حضرت امام مالک ، حضرت اوزاعی ، اور ایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل اور حضرت امام شافعی رحمۃاللہ علیہم بھی اسی کے قائل ہیں ۔۔ البتہ حضرت قاسم بن محمد ، حضرت طائوس ، حضرت ربیعہ بن عبدالرحمن ، حضرت لیث ، حضرت زفر رحمۃاللہ علیہم وغیرہ کہتے ہیں کہ ایسے شخص کی طلاق واقعہ نہیں ہو تی ہے ، صحابہ کرام میں سے حضرت عثمان غنی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فتوٰی ہے ۔ حنفیہ میں سے حضرت امام طحاوی اور حضرت امام کرخی کے نزدیک بھی ایسے شخص کی طلاق واقعہ نہیں ہوتی ہے ۔ (فتح القدیر ج۳ ص۳۴۵ ۔ البحرالرائق ج۳ص۲۴ ) ہنسی مزاق کی طلاق ھازل وہ شخص ہے جو اپنی بات سے حقیقی معنی اور مفہوم مراد نہ لے ۔تو اگر کسی شخص نے ہنسی مزاق کے طور پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور طلاق دینے کا معنی مراد نہ لیا ہو ۔ تو بھی اس شخص کی طلاق واقع ہو جائے گی ۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیںکہ ہنسی مزاق کے طور پہ اپنی بیوی کو طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے مگریہ بلکل غلط ہے حدیث پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ثلاث جدھن جد و ھزلھن جد ، النکاح والعتاق وال؛طلاق ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کو ہنسی کے طور پر کرنا ۔ اور واقعی طور پرکرنا دونوں برابر ہیں ۔ (۱) نکاح (۲) عتاق یعنی غلام آزاد کرنا ( ۳ ) طلاق ۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : ثلاث جد ھن جد وھزلھن جد النکاح والطلاق والرجعۃ :یعنی تین چیزیں ایسی ہیں جن کو قصدا کہنا اور ہنسی مزاق کے طور پہ کہنا برابرہے (۱) نکاح (۲) طلاق (۳) رجعت ۔ ( سنن ابو دودج۱ ص۲۹۸ ) ان تین چیزوں میں حکم شرعی یہ ہے کہ اس لفظ کے اصل معنی کے مطابق اثر ہو گا ۔ دو مرد و عورت اگر بلا قصد ہنسی مزاق میں گواہوں کے سامنے نکاح کا ایجاب و قبول کر لیں تو نکاح منعقد ہو جائے گا ۔ اسی طرح بلا قصد و نیت ہنسی مزاق میںصریح طور پر طلاق دے دیں تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ایسے ہی اپنے کسی غلام کو ہنسی مزاق میں آزاد کر دے تو غلام آزاد ہو جائے گا ہنسی مزاق کوئی عزر نہیں مانا جاتا ۔۔ سَفِیہ (کم عقل) کی طلاق کا حکم سفیہ لغت میں خفت اور ہلکا پن کے معنی میں آتاہے اور فقہاء کی اصطلاح میں سفاہت سے مراد کم عقلی ہے جس کی وجہ سے آدمی اپنے مال پراسطرح تصرف کرتا ہے جو عقل کے تقاضہ کے خلاف ہو ایسے شخص کو عرف عام میں خفیف العقل کہا جاتا ہے ایسے شخص کی طلاق کو بھی شریعت نے صحیح قرار دیا ہے ۔ درمختار میں ہے :او سفیھا خفیف العقل : یا طلاق دینے والا خفیف العقل ہو تو اسکی بھی طلاق واقع ہو جائے گی ۔ گونگے کی طلاق کا حکم گونگا یعنی وہ شخص جو بول نہیں پاتا ۔ پیدائشی گونگا ہو یا بعد میں ۔۔ عام طور پہ گونگے اشاروں کے ذریعہ اپنے دل کی بات سمجھاتے ہیں ۔ اور اس کے ماحول کے لوگ اس کے اشاروں کو سمجھتے ہیں ۔ پس ایسا گونگا جس کا اشارہ جانا بوجھا ہو اور وہ اشارہ کے ذریعہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس کی طلاق واقع ہو جائے گی اور جتنی طلاق کا اشارہ کرے گا اتنی ہی طلاق واقع ہو گی۔۔۔ پاگل کی طلاق
نا بالغ کی طلاق بالغ ہونے سے پہلے انسان پر اللہ کریم کی طرف سے کوئی حکم وا جب نہیں ہوتا اسی طرح بلوغ سے پہلے دی جانے والی طلاق کو بھی شریعت نے جائز اور نافز قرار نہیں دیا ۔ حدیث پاک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رواییت ہے ؛ تین شخصوں سے تکلیف اٹھا لی گئی ہے (۱) سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کے بیدار ہو جائے ( ۲) بچے سے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے (۳)پاگل سے یہاں تک کہ وہ عقل والا ہو جائے ۔ ( ترمزی ۔ ابو دود ۔ مشکوۃ ص۲۸۴) ابن ابی شیبہ نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : لا یجوز طلا ق الصبی والمجنون : بچے اور پاگل کی طلاق واقعی نہیںہوتی ہے (فتح قدیر ج ۳ ۔ ٰ) سوئے ہوئے شخص کی طلاق اس سے پہلے بچوں کی طلاق کے ذیل میں ایک روایت گزر چکی ہے جس میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے تین افراد کو شریعت کے احکام کی بجا آوری سے معاف کیے جانے کا حکم بیان فر مایا ہے ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جو سویا ہوا ہو ۔ سونے کی حالت میں نہ تو اس پر کسی عبادت کی ادائیگی واجب ہو تی ہے اور نہ اس حالت میں اس کا کوئی تصرف معتبر ہوتا ہے ۔ اس لیے اگر کسی شخص نے اسی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی تو اس کی طلاق واقعہ نہیں ہو گی ۔ صاحب در مختار نے بھی یہی لکھا ہے ۔ اور نہ سوئے ہوئے کی طلاق واقع ہوتی ہے اس حالت میں ارادہ و اختیار ختم ہونی کی وجہ سے اس شخص کا کلامصدق ، کذب خبر ، انشا وغیرہ کے ساتھ متصف نہیں ہوتا ہے ۔ ( در مختار علٰی ھامش ردالمختار ج3 ص 243۔244ٌ( جاری ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-04-12), قاسمی (24-10-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,617
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
طلاق دینے کا صحیح طریقہ
قرآن و سنت کے احکام و ارشادات اور صحابہ کرام و تابعین کے تعامل سے طلاق دینے کا جو طریق منقول ہوتا چلا آرہا ہے اس کا خلاصہ اور ماحصل یہ ہے کہ جب طلاق دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے تو طلاق دینے کا احسن طریقہ یہ ہے کہ صرف ایک طلاق عورت کو ایسی پاکی کی حالت میں دے دے جس میں اس سے صحبت نہ کی ہو اور یہ ایک طلاق دے کر چھوڑ دے عدت ختم ہونے کے بعد رشتہ نکاح خود ٹوٹ جائے گا ۔ اس طرح طلاق دینے کو فقہاء کرام نے طلاق احسن لکھا ہی۔۔۔۔ ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں حضرت ابراہم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم طلاق دینے میں اسی طریقہ کو پسند کرتے تھے ۔ طلاق کی قسمیں (۱) احسن (۲) حسن (۳)بدعی طلاق احسن یہ ہے کہ ایک طلاق رجعی ایسی پاکی کی حالت میں دی جائے جس میں عورت سے صحبت نہ کی ہو پھر اس کو اسی حالت میں چھوڑ دے نہ اس کو ارر طلاق دے اور نہ اس سے صحبت کرے یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے طلاق کی یہ پہلی قسم سب سے بہتر ہے طلاق حسن کی صورت یہ ہے کی جس بیوی سے یکجائی ہو چکی ہو اسکو تین طلاقیں تین طہروں میں دی جائیں اور تین طہروں میں صحبت نہ کی ہو ۔۔۔ اوراگر ابھی بیوی سے یک جائی ہی نہ ہوئی ہوتو اس کے لیے ایک طلاق حسن ہے ۔ نابالغہ لڑکیوں اور ان عورتوں کے لیے جن کی ماہواری بند ہو چکی ہو ۔۔ طلاق حسن یہ ہے کہ ان کو تین مہینہ تک ہر مہینہ میں ایک طلاق دی جائے ۔ ان عورتوں کو ہمبستری کے بعد بھی طلاق دینا جائز ہے ۔ ( البحرائق ج ۳ص۲۳۸۔ ردالمختارج۲ ص۲۳۹) طلاق بدعی سے کی صورت یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ صحبت کر چکا ہو اس کو ایک طہر : یعنی پاکی کی حالت میں ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دے دے ۔ یا اس کو اس طہر میں طلاق دے جس میں ہمبستری کر چکا ہو اس طرح حیض کی حالت میںطلاق بھی طلاق بدعی ہے ۔وہ عورت جس کو حالت حیض میںطلاق دی ہے اگر اس کو لٹانے کی گنجا ئش باقی ہو تو اس سے رجوع کرنا واجب ہے ۔ جب کہ بعض علماء نے رجوع کرنے کو مستحب قرار دیا ہے ۔ پھر جب وہ پاک ہو جائے اور اس کے بعد دوسرا حیض آجائے اور پھر اسبھی پاک ہو جائے تب اگر طلاق دینا ہی ضروری ہو تو اس دوسرے طہر میں طلاق دی جائے طلاق کی یہ تیسری قسم شریعت کی نظر میں نہ پسندیدہ ہے ۔ گو یہ طلاق بھی واقع ہو جاتی ہر مگر طلاق دینے والا گناہگار ہوتا ہے ۔ ( البحرالئق ج۳ ص۲۳۹۔ردالمختار ض۳ ص۲۳۲) یہ تو وقت اور محل کے اعتبار سے طلاق کی تین قسمیں تھی واقع ہونے کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں ۔ طلاق رجعی ۔ طلاق بائن طلاق رجعی یہ ہے کہ صاف اور صریح لفظوں میں ایک یا دو طلاق دی جائے اس کاحکم یہ ہے کہ ایسی طلاق میں عدت پوری ہونے تک نکاح باقی رہتا ہے اور شوہر کو اختیا ہے کہ عدت ختم ہونے سے پہلے بیوی سے رجوؑ کر لے ۔ اگ اس نے عدت کے اندر رجوع کر لیا تو نکاح بحا ل رہے گا اور دوبارہ نکاح کی ضرورت نہ ہو گی اگر اس نے عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو طلاق موئثر ہو جائے گی اور نکاح ختم ہو جائے گا ۔ اگر دونوں چاہیں تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں لیکن جتنی طلاقیں وہ استعمال کر چکا ہے وہ ختن ہو گیئں ۔ آیندہ اس کو تین میں سے صرف باقی ماندہ طلاقوں کا اختیار ہو گا ۔ مثلا اگر ایک طلاق دی تھی اور اس سے رجوع کر لیا تھا تو اب اس کے پاس سرف دو طلاقٰن باقی رہ گئی اور اگر دو طلاقیں دے کر رجوع کر لیا تھا اور اب صرف ایک طلاق باقی رہ گئی اب اگر ایک طلاق دے دی تو بیوی تین طلاق کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔ طلاق بائن یہ ہے کہ گول مول الفاظ ( یعنی کنایہ) میں طلاق دی ہو یا طلاق کے ساتھ ایسی صفت ذکر کی جائے جس سے اس کی سختی کا اظہار ہو مثلایوں کہے کہ تجھ کو سخت طلاق یا لمبی چوڑی طلاق ۔ طلاق بائن کا حکم یہ ہے کہ بیوی فورا نکاح سے نکل جاتی ہے اور شوہر کو رجوع کا حق نہیں رہتا ۔ البتہ عدت کے اندر اور عدت ختم ہونے کے بعد بھی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔۔ یہ وہ طریقہ ہے جس پہ عمل کرنے سے انسان بہت سی قباہتوں سے بچ سکتا ہے اور رجوع یا دوبارہ نکاح کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔ہمارے ہاں یہ مزاج بن چکے ہیں کہ جب غصہ آیا تو ایسا عقل پہ سوار ہوا کہ منہ میں آیا کہہ دہااور جب طلاق دینے پہ آئے تو ایک ہی سانس میں تین یا تین سے بھی زیادہ طلاقیں دے کر خاموش ہوئے اب سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ کیا کریں کیونکہ تین طلاق کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی ہے اب رجوع کی گنجائش باقی رہتی ہے اور نہ ہی نکاح کی ۔ کیونکہ جو اختیار شوہر کے پاس تھا وہ اسے استعمال کر چکا ۔ اب حیلے بہانے کیے جاتے ہیں کہ کسی طرح ہمارا نکاح بحال ہو جائے ۔ لیکن اس نکاح کواسی طرح بحال رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ اس لیے مرد کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر ایسا انتہائی قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ مرد نے جیسے ہی اپنی زبان سے یہ جملہ اپنی بیوی کے لیے نکال دیاکہ میں اسے طلاق دیتا ہوں چاہے بیوی نہ سنے یا تحریرا لکھ دیا چاہے بیوی نہ پڑھے تب بھی اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی ۔اس لیے مرد حضرات کو بہت زیادہ ہوش و عقل مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دو منٹ کے غصہ میں اپنی تیس سالہ یا اس سے کم و پیش زندگی کا سکون تباہ و برباد کر لے اور اپنی زندگی کی رفیقہ اور شریک زندگی اور غم و انس کی بہترین ساتھی سے محروم ہو جائے ۔ خود تو پریشان ہوگا ہی لیکن اپنے ساتھ ساتھ اپنی بیوی اور بچوں کے سکھ اور سکون کو بھی تہہ و بالا کر کے رکھ دے گا۔ اللہ کریم ہم سب کو عقل سلیم عطاء فرمائے آ مین نوٹ طلاق مغلظہ (یعنی تین طلاق) کے بعد عورت مرد پر حرام ہو جاتی ہے اور اس وقت تک یہ دونوں نکاح نہیں کر سکتے جب تک وہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرے اور وہ دوسرا مرد اس سے ہمبستری کرے اور جب چاہے اپنی مر ضی سے اسے طلاق دیدے یا اس کی وفات ہو جائے اور پھر جب اس کی عدت پوری ہوجائے تو پہلا شوہر عورت کی رضامندی سے اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے جاری ہے Last edited by نبیل خان; 24-10-11 at 05:31 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-04-12), قاسمی (24-10-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 329
کمائي: 6,309
شکریہ: 2,159
266 مراسلہ میں 795 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیراواحسن الجزاء
|
|
|
|
| قاسمی کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (13-04-12) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,617
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عدت
عدت اس مخصوص مدت کا نام ہے جو عورت پر وقوع طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد نکاح یا مباشرت کے آثار ختم ہونے کے لئے شرعاََ متعین کی گئی ہے ۔ اس مدت میں عورت کسی دوسرے مرد سے شادی نہیں کر سکتی ۔ عدت طلاق طلاق کی عدت مختلف عورتوں کے لئے مختلف ہو گی (۱) :۔ حاملہ .... جس عورت کو طلاق دی گئی ہے اگر وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت بچہ کی پیدائش تک ہے ۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی عدت مکمل ہو جائے گی ۔ جیسا کہ سورۃ طلاق میں حکم ہے : ترجمہ:۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت کی مدت بچہ پیدا ہونے تک ہے ۔ ( سورۃ طلاق آیت نمبر ۴) (۲) :۔ حاملہ نہ ہو مگر اس عورت کو ماہواری کا سلسلہ جاری ہو تو جس پاکی میں اس کو طلاق دی گئی ہے اس کے بعد تین حیض تک عدت گزارے گی اور اگر مسنون طریقہ کے خلاف اسے ناپاکی کی حالت میں طلاق دی گئی ہو تو اس ناپاکی کے علاوہ مزید تین حیض تک عدت گزارنی پڑے گی ۔ قرآن کریم میں ایسی عورتوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ۔ ترجمہ :۔ مطلقہ عورتیں تین ایام ماہواری گزرنے تک نکاح وغیرہ سے رکی رہیں ( سورۃ بقرہ . آیت نمبر(2 ![]() (۳) :۔ تیسری قسم ان عورتوں کی ہے کہ جو نہ حاملہ ہوں اور نہ ان کو ایام آتے ہوں ۔ بچپن کی وجہ سے ابھی خون آنے کی ابتداء ہی نہ ہوئی ہو یا کب سنی کی وجہ سے ماہواری کا سلسلہ بند ہو گیا ہو ایسی عورت کی عدت تین ماہ ہے ۔ سورۃ طلاق میں ہے :۔ ترجمہ :۔ اور جو عورتیں نا امید ہو چکیں حیض سے ان عورتوں کے بارہ میں تم کو شبہ رہ گیا تو ان کی عدت تین مہینہ ہے اور ایسی ہی وہ عورتیں جن کو حیض آنا شروع نہیںہوا ۔ اگر طلاق مہینہ کی پہلی تاریخ کو دی گئی ہو تو قمری مہینہ کے حساب سے پورے تین ماہ عدت گزاری جائے گی اور اگر مہینے کے درمیان میں طلاق دی گئی تو 90دن عدت کے شمار کئے جائیں گے ۔ ( فتاویٰ التاتارخانیہ جلد 4صفحہ6) عدت وفات شوہر کی وفات کی صورت میں عورت کو حکم دیا گیا کہ وہ چار ماہ دس دن تک عدت گزار کر اپنے سوگ اور افسوس کا اظہار کرے ۔ قرآن مجید میں عدت وفات کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا :۔ ترجمہ:۔ تم میںسے جن کی وفات ہو اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنے کو چار مہینے دس دن تک نکاح وغیرہ سے روکے رکھیں ( سورۃ بقرہ آیت نمبر 234) نبی کریم صلی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:۔ مسلمان عورت جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے اسے جائز نہیں ہے کہ کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ غم کرے سوائے اپنے شوہر کی موت کے کہ چار ماہ دس دن تک سوگ منائے گی ۔ شوہر کی وفات کے بعد جو عدت سوگ واجب ہوتی ہے وہ بالغہ اور نابالغہ دونوں پر ہے ۔ چاہے نکاح کے بعد میاں بیوی میں یکجائی کی نوبت آئی ہو کہ نہیں ۔ ۔ الحمد للہہ مسائل طلاق و عدت نہایت اختصار کے ساتھ مکمل ہوئے Last edited by نبیل خان; 30-10-11 at 03:57 PM. |
|
|
|
| نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (13-04-12) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 114
کمائي: 1,366
شکریہ: 86
61 مراسلہ میں 128 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن اگر خلع سمجھ کر اور بغیر پڑھے ہوئے تین طلاق پر دستخط کردئیے گئے ہوں اور وہ واپس آنا چاہتی ہو تو کیا کیا جائے تین طلاق کے بعد بھی اگر دھوکے سے دی گئ ہو یا لی گئ ہو
|
|
|
|
| شاہنواز عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (13-04-12) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 114
کمائي: 1,366
شکریہ: 86
61 مراسلہ میں 128 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور ساتھ میں یہ بھی کہ لکھ کر بھی نہیں زبانی بھی نہیں صرف دستخط کئے گئے ہیں وہ بھی زبردستی کے نہ دل سے دی گئی اور جس وقت دی گئی ذہنی طور پر حاضر نہیں تھا اس کے ساتھ دو زندگیاں معصوم بچوں کی جڑی ہوئی ہیں اور دستخط کرتے وقت وہ سامنے بھی نہیں تھی وہ خود سب تیار کرواکر لائی اور زبردستی دستخط کے لئے چھوڑ گئ یہ کہہ کر کہ یہ خلع ہے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے اب وہ واپس آنا چاہتی ہے تو کوئی راستہ ہے تو کوئی بتائے کہ بتائے
|
|
|
|
| شاہنواز عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (16-04-12) |
![]() |
| Tags |
| color, کوشش, پسندیدہ, قید, نفرت, نظر, ممکن, معلوم, معاشرہ, آوارگی, آج, اسلامی, تعلیم, حدیث, راستہ, زندگی, طلاق, عورت, عقل, غلط, غم, صلاحیت, صاف, صرف, صریح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رسمِ نکاح اور شریعت کی مخالفت | Hina4malik | کتاب گھر | 1 | 30-12-10 04:26 PM |
| شریعت اور طریقت۔۔۔ معارض یا معاون | راجہ اکرام | اسلامی نظریہ حیات | 45 | 21-12-10 12:42 PM |
| رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت | ابن آدم | شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات | 13 | 01-12-10 05:14 PM |
| احکام شریعت ۔۔۔۔۔ | مجاہد حسین | اسلامی عقیدہ | 1 | 11-03-08 06:10 PM |