واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


طلاق شریعت کی نظر : 1:

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-10-11, 12:41 AM   #1
طلاق شریعت کی نظر : 1:
نبیل خان نبیل خان آن لائن ہے 23-10-11, 12:41 AM

الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علٰی سیدنا ومولانامحمدوعلٰی اٰلہ واصحابہ واھل بیتہ اجمعین
اما بعد!

شریعت اسلامی میں یہ کام جتنا پسندیدہ اور عنداللہ مستحسن اور بہتر ہے کی کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ازواجی تعلق قائم کر کے اس کے ساتھ اپنی پوری زندگی عفت و عصمت اور پاکدامنی کے ساتھ گزار دے اتنی ہی یہ بات اللہ کے نزدیک بیحد مبغوض اور سخت نا پسندیدہ ہے کہ کوئی مرد اپنی شریک زندگی اور رفیقہ حیات کو طلاق دے کر اپنی زوجیت سے اسے علیحدہ کر دے اور اسی طرح میاں بیوی کا قیمتی رشتہ توڑدے ۔ حدیث پاک میں حضرت عبدللہ بن عمر سے منقول ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حلال چیز وں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے
( ابو دود۔ ابن ماجہ۔بحوالہ مشکوٰۃص۲۸۳)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
تزوجوولاتطلقو فان الطلاق یحتزمنہ عرش الرحمٰن : یعنی نکاح کرو اور طلاق نہ دو کیونکہ طلاق دینے سے رحمان کاعرش ہل جاتا ہے ۔

( بحوالہ معارف القرآن ج ۸ )

ایک حدیث میںحضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
معاذ ! اللہ تعالٰی نے ر وئے زمین پر جتنی : مستحب :چیزیںپیدا کی ہیں ان میں سے ان کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیزغلام و لونڈی آزاد کرنا ہے اور اللہ تعالٰی نے روئے زمین پر جتنی :حلال : چیزیں پیدا کی ہیں ان میں سے اس کے نزدیک سب سے زیادہ بری چیز طلاق دینا ہی۔

( دار قطنی ، مشکوۃ ص۲۸۴ )
یعنی شریعت میں جو پسندیدہ عمل مشروع کیے گے ہیں ان میں غلام آزاد کرنا اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے ۔ اور جتنے اعمال کو اللہ کریم نے جائز قرار دیا ہے ان میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل طلاق ہے ۔ان احادیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طلاق دینا اللہ کریم کو کس قدر نا پسند ہے ۔اور نا پسندیدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نکاح کے ذریعہ مرد اور عورت ایک دوسرے کی زندگی کے شریک اور رفیق بنتے ہیں ، اور دونوں جائز طریقہ سے نسل انسانی کی افزائش کرتے ہیں ، زنا و بدکاری اور دل و نگاہ کی آوارگی سے اپنے نفس کو بچاتے ہیں ، اور اپنے ماحول اور معاشرہ کو صاف ستھرا رکھتے ہیں ، اولاد کی تعلیم و رتربیعت میں دونوں ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں بیوی گھر کی زینت ا ور باعث سکون و قرار ہوتی ہے ، دونوں ایک دوسرے سے سکون پاتے ہیں ۔ عورت کی فطری نزاکت کے پیش نظر مذہب اسلام نے ممرد کو اس کی ضروریات کا ذ معہ دار اور کفیل بنایا ہے ۔ اس لیے اسلام میں یہ امر سخت نا پسند ہے ہے کہ مرد اپنی شریک زندگی کو طلاق دے کر اپنے گھر کی رونق ختم کردے خود بھی مصیبت و پریشانی میں پڑے اور عورت کو بھی مشقت و پریشانی میں ڈال دے ۔اس وجہ سے اسلام نے طلاق دینے کی اجازت اس وقت دی ہے جب میاں بیوی کے مابین ایسا بگاڑ ، کشیدگی اور نفرت پیدا ہو جائے جو افہام و تفہیم کے ذریعہ دور نہ ہو سکے اور دونوں کے تعلقات و معاملات کو سلجھانے کا طلاق کے سوا دوسرا راستہ باقی نہ رہے ۔۔ لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ آج ہمارا مسلم معاشرہ اپنے فرائض کو فراموش کر چکا ہے جس کی وجہ سے طرح طرح کی لعنتوں اور برائیوں میں مبتلا ہے ان میں ایک طلاق کا غلط استعمال بھی ہے ۔۔۔
اب تو طلاق دینا ایک کھیل بن چکا ہے ۔ بس ذرا غصہکے آیا ، کسی بات پہ ناراض ہوئے ، کبھی بیوی سے ، کبھی اس والدین سے ، غصہ کسی سے بھی ہو اترتا ہے بیوی پر ،غصہ میں سب کچھ بھول کر صرف طلاق دینا یاد رہتا ہے ، اور جب طلاق دینے پہ آئے تو ایک ہی کیوں فورا تین یا تین سے بھی زیادہ طلاق دے کر سکون ملتا ہے ۔ اور صجب غصہ اترا ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ جیتے جی بیوی جو زندگی کی ساتھی تھی ، رنج و غم کے وقت دلاسا دینے والی تھی ہاتھ سے نکل چکی ہے تو پھر حیلے بہانے کر کے بیوی کو رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ طلاق دینے سے دنیا تو ہہلے ہی تاریک ہو چکی اور اب آخرت تبای کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

طلاق کی لغوی اور شرعی تحقیق

طلاق لغت میں قید و بندش کھول دینے کا نام ہے اور یہ لفظ : اطلاق : سے ماخوذ ہے ۔ اہل عرب کہتے ہیں ۔۔ اطلقت ابلی واسیری ۔۔ میں نے اپنے اونتٹ اور قیدی کو چھوڑ دیا ۔ وطلقت امراتی ۔۔ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اسطرح اہل عرب کے نذدیک لفظ ِِاطلاق اور طلاق دونوں یکساں ہیں ۔ البتہ اہل لغت نے دونوں کے استعمال میں یہ فرق کیا ہے کہ لفظ طلاق صرف عورتوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ِاطلاق عورتوں کے علاوہ جانور اور قیدی وغیرہ کو چھوڑنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں
( لسان العرب لابن منظور افریقی ج۴ )

اصطلاح شریعت میں

نکاح سے پیدا ہونے والی حلت اور قید و بندش کو مخصوص الفاظکے ذریعہ ختم کر دینے کا نام طلاق ہے ۔اور مخصوص الفاظ سے مراد وہ الفاظ ہیں جو ؛ ط ، ل ، ق کے مادہ پر مشتعمل ہووہ اپنے مفہوم میں صریح ہو جیسے انت طائق ۔ یا طلاق کے ساتھ کسی اور معنی کا بھی احتمال رکھتا ہو یعنی کنایہ ہو جیسے انت مطلقۃ لام پر تشدید کے بغیر ۔ ( فتح القدیر ج۳ )

طلاق کی مشروعیت کا سبب

طلاق کے اندر چونکہ اصل ممانعت ہے اس لیے شریعت نے شوہر کو انتہائی خراب حالات میں طلاق دینے کی اجازت دی ہے ۔ ایسے نا گزیر حالات میں بھی اگر شریعت طلاق کی اجازت نہ دیتی تو میاں بیوی دونوں کے حق میں ظلم ہوتا ۔ چناچہ فقہاء طلاق کی مشروعیت اور اس کی حکمت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
اور طلاق کے مشروع ہونے کا سبب زوجین کے اخلاقی حالات میں غیر معمولی دوری، چھٹکارہ حاصکل کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا بغض پیدا ہونے کی صورت میں جسکی وجہ سے اللہ کی حدود کا قائم کرنا ممکن نہ رہ جائے بندش نکاح سے آزادی کی نا گزیر ضرورت ہے اور طلاق کی مشروعیت اللہ کی طرف سے رحمت ہے ۔
(فتح القدیر ۔ البحرالرائق ج ۳ )
طلاق کے وقت شوہر میں کن شرطوں کا پایا جانا ضروری ہی
شریعت نے ہر شوہے کی طلاق کو معتبر قرار نہیں کیونکہ بعض دفع ایسے حالات پیش آتے ہیں جن میں امسان عقل و ہوش کھو بیٹھتا ہے اور بعض حالات میں شریعت کے احکام کے مخاطب ہونے کی صلاحیت اپنے اندر نہیں رکھتا اس لیے فقہا ء نے تصریح کی ہے کہ طلاق دیتے وقت ضروری ہے کہ شوہر ۔ عاقل ، بالغ ، اور بیدار ہو ۔اگر ان میں کوئی بھی شرط نہیں پائی گئی تو طلاق عورت پرواقع نہیں ہو گی اور لغو قرار دی جائے گی ۔ ( فتح القدیر ج ۳ )

ِ: جاری ہے :

نبیل خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 280
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (24-10-11), rana ammar mazhar (13-04-12), قاسمی (24-10-11), سیفی خان (23-10-11), سحر (23-10-11)
پرانا 24-10-11, 12:15 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,617
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default طلاق شریعت کی نظر میں : 2:

طلاق اچھی چیز نہیں ہی

اصل تو یہی ہے کہ طلاق بری چیز ہے اور اس سے پرہیز کرنا چاہیے لیکن بعض خاص حالات میں جب مرد محسوس کرے کہ میں بیوی کے حقوق ادا نہیں کر سکتا تو محض اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے عورت کو لٹکا کر رکھنا گناہ ہو گا اور اس صورت میں مرد پر واجب ہو گاکہ وہ بیوی کو طلاق دے کر آزاد کر دے ۔ اس لیے کہ نکاح سے شریعت کی منشاء اور مقصود یہ ہے کہ میاں بیوی جائز اور حلال طریقہ سے اپنی خوہشات کی تکمیل کریں ۔ اور عفت و عصمت کی زندگی گزاریں ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں نیز اللہ کریم کے حقوق بھی پامال نہ کریں لہٰزا اگر ایسی صورت ہو جائے کہ مرد اپنی بیوی کا حق ادا نہ کر پائے اور اس طرح شریعت کا حکم ٹوٹنے لگے تو پھر شوہر پر واجب اور ضروری ہے کہ عورت کو طلاق دے کر آزاد کر دے تاکہ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے دوسرا نکاح کر کے پاکیزہ زندگی گزارے ۔صاحب در مختار نے اس پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
اگر عورت کو معروف طریقہ سے اپنے نکاح میں رکھنا ممکن نہ ہو تو پھر ایسی صورت میں شوہر پر طلاق دینا واجب ہو جاتا ہے ،

حالت نشہ کی طلاق

فقہاء کی اصطلاح میں شراب یا کوئی بھی نشہ آور چیز پی کر اس طرح بدمست ہو جائے کہ مرد و عورت کا امتیاز بھی باقی نہ رہے اور زمین آسمان کا فرق بھی نہ کر سکے ۔ ۔ اگر شراب یادوسری حرام چیزیں افیون، بھنگ وغیرہ کے پینے سے عقل زائل ہو جائے اور وہ شخص نشہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو حنفیہ کے نزدیک طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ تابعین میںسے حضرت سعید بن المسیب ، حضرت عطاء ، حضرت حسن بصری ، حضرت ابراہیم نخعی ِ ، حضرت ابن سیرین ، حضرت مجاہد رحمۃاللہ علیہم وغیرھم کا یہی مسلک ہے ۔ حضرت امام مالک ، حضرت اوزاعی ، اور ایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل اور حضرت امام شافعی رحمۃاللہ علیہم بھی اسی کے قائل ہیں ۔۔ البتہ حضرت قاسم بن محمد ، حضرت طائوس ، حضرت ربیعہ بن عبدالرحمن ، حضرت لیث ، حضرت زفر رحمۃاللہ علیہم وغیرہ کہتے ہیں کہ ایسے شخص کی طلاق واقعہ نہیں ہو تی ہے ، صحابہ کرام میں سے حضرت عثمان غنی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فتوٰی ہے ۔ حنفیہ میں سے حضرت امام طحاوی اور حضرت امام کرخی کے نزدیک بھی ایسے شخص کی طلاق واقعہ نہیں ہوتی ہے ۔
(فتح القدیر ج۳ ص۳۴۵ ۔ البحرالرائق ج۳ص۲۴ )


ہنسی مزاق کی طلاق

ھازل وہ شخص ہے جو اپنی بات سے حقیقی معنی اور مفہوم مراد نہ لے ۔تو اگر کسی شخص نے ہنسی مزاق کے طور پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور طلاق دینے کا معنی مراد نہ لیا ہو ۔ تو بھی اس شخص کی طلاق واقع ہو جائے گی ۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیںکہ ہنسی مزاق کے طور پہ اپنی بیوی کو طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے مگریہ بلکل غلط ہے حدیث پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ
ثلاث جدھن جد و ھزلھن جد ، النکاح والعتاق وال؛طلاق ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کو ہنسی کے طور پر کرنا ۔ اور واقعی طور پرکرنا دونوں برابر ہیں ۔ (۱) نکاح (۲) عتاق یعنی غلام آزاد کرنا ( ۳ ) طلاق ۔۔۔
حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں :
ثلاث جد ھن جد وھزلھن جد النکاح والطلاق والرجعۃ :یعنی تین چیزیں ایسی ہیں جن کو قصدا کہنا اور ہنسی مزاق کے طور پہ کہنا برابرہے (۱) نکاح (۲) طلاق (۳) رجعت ۔
( سنن ابو دودج۱ ص۲۹۸ )

ان تین چیزوں میں حکم شرعی یہ ہے کہ اس لفظ کے اصل معنی کے مطابق اثر ہو گا ۔ دو مرد و عورت اگر بلا قصد ہنسی مزاق میں گواہوں کے سامنے نکاح کا ایجاب و قبول کر لیں تو نکاح منعقد ہو جائے گا ۔ اسی طرح بلا قصد و نیت ہنسی مزاق میںصریح طور پر طلاق دے دیں تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ایسے ہی اپنے کسی غلام کو ہنسی مزاق میں آزاد کر دے تو غلام آزاد ہو جائے گا ہنسی مزاق کوئی عزر نہیں مانا جاتا ۔۔

سَفِیہ (کم عقل) کی طلاق کا حکم

سفیہ لغت میں خفت اور ہلکا پن کے معنی میں آتاہے اور فقہاء کی اصطلاح میں سفاہت سے مراد کم عقلی ہے جس کی وجہ سے آدمی اپنے مال پراسطرح تصرف کرتا ہے جو عقل کے تقاضہ کے خلاف ہو ایسے شخص کو عرف عام میں خفیف العقل کہا جاتا ہے ایسے شخص کی طلاق کو بھی شریعت نے صحیح قرار دیا ہے ۔ درمختار میں ہے :او سفیھا خفیف العقل : یا طلاق دینے والا خفیف العقل ہو تو اسکی بھی طلاق واقع ہو جائے گی ۔

گونگے کی طلاق کا حکم

گونگا یعنی وہ شخص جو بول نہیں پاتا ۔ پیدائشی گونگا ہو یا بعد میں ۔۔ عام طور پہ گونگے اشاروں کے ذریعہ اپنے دل کی بات سمجھاتے ہیں ۔ اور اس کے ماحول کے لوگ اس کے اشاروں کو سمجھتے ہیں ۔ پس ایسا گونگا جس کا اشارہ جانا بوجھا ہو اور وہ اشارہ کے ذریعہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس کی طلاق واقع ہو جائے گی اور جتنی طلاق کا اشارہ کرے گا اتنی ہی طلاق واقع ہو گی۔۔۔

پاگل کی طلاق

  • علامہ ابن عابدین شامی تلویح سے نقل کرتے ہوئے جنون کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جنون اس قوت کے مختل ہو جانے کا نام ہے جس کے ذریعہ انسان اچھے اور برے افعال کے درمیان فرق کرتا ہے اور جس کے ذریعہ عمل کے نتائج اور انجام کار کے متعلق سوچتا ہے اس کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ حالت جنون میں اس کا کوئی تصرف صحیح نہیں ہو گا اگراس نے اپنی بیوی کو اسی حالت میں طلاق دے دی تو طلاق واقع نہ ہو گی۔ البتہ اگر جنوں پیدا ہونے سے پہلے کسی نے اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط پر معلق کیا تھا ۔ مثلا کہ اگر میکہ گئی تو تجھ پر طلاق یہ کہنے کے بعد وہ پاگل ہو گیا اور عورت اس کے جنون کی حالت میں میکے چلی گئی تو یہ طلاق واقع ہو جائے گی ۔
  • چناچہ در مختار میں ہی: اور نہ مجنون کی طلاق واقع ہو گی ۔ سوائے اس کے کہ عقل و ہوش کی حالت میں مشروط طلاق دی ہو پھر مجنو ن ہو گیا اور اسی حالت میں شرط پائی گئی تو طلاق واقع ہو جائے گی ۔
  • ( در مختار علٰی ھامش ردالمختار ج۳ ص۲۴۳)


نا بالغ کی طلاق


بالغ ہونے سے پہلے انسان پر اللہ کریم کی طرف سے کوئی حکم وا جب نہیں ہوتا اسی طرح بلوغ سے پہلے دی جانے والی طلاق کو بھی شریعت نے جائز اور نافز قرار نہیں دیا ۔
حدیث پاک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رواییت ہے ؛ تین شخصوں سے تکلیف اٹھا لی گئی ہے (۱) سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کے بیدار ہو جائے
( ۲) بچے سے یہاں تک کہ بالغ ہو جائے
(۳)پاگل سے یہاں تک کہ وہ عقل والا ہو جائے
۔ ( ترمزی ۔ ابو دود ۔ مشکوۃ ص۲۸۴)
ابن ابی شیبہ نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں :
لا یجوز طلا ق الصبی والمجنون :
بچے اور پاگل کی طلاق واقعی نہیںہوتی ہے (فتح قدیر ج ۳ ۔ ٰ)

سوئے ہوئے شخص کی طلاق


اس سے پہلے بچوں کی طلاق کے ذیل میں ایک روایت گزر چکی ہے جس میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے تین افراد کو شریعت کے احکام کی بجا آوری سے معاف کیے جانے کا حکم بیان فر مایا ہے ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جو سویا ہوا ہو ۔ سونے کی حالت میں نہ تو اس پر کسی عبادت کی ادائیگی واجب ہو تی ہے اور نہ اس حالت میں اس کا کوئی تصرف معتبر ہوتا ہے ۔ اس لیے اگر کسی شخص نے اسی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی تو اس کی طلاق واقعہ نہیں ہو گی ۔ صاحب در مختار نے بھی یہی لکھا ہے ۔ اور نہ سوئے ہوئے کی طلاق واقع ہوتی ہے اس حالت میں ارادہ و اختیار ختم ہونی کی وجہ سے اس شخص کا کلامصدق ، کذب خبر ، انشا وغیرہ کے ساتھ متصف نہیں ہوتا ہے ۔
( در مختار علٰی ھامش ردالمختار ج3 ص 243۔244ٌ(

جاری ہے
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-04-12), قاسمی (24-10-11)
پرانا 24-10-11, 05:29 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,617
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default طلاق شریعت کی نظر میں :3:

طلاق دینے کا صحیح طریقہ
  1. آج کل ہمارے عرف میںجب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے ، تو ایک ہی سانس مین تین بار یا اس سے بھی زائد دفعہ طلاق دے کر سانس روکتا ہے ، اس بے احتیاطی کی وجہ سے ہمارے ملک میں ہزاروں افراد پریشان ہیں ۔ اور ان کی مطلقہ عورتیں اور بچے گھر سے بے گھر ہو کر در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔۔

قرآن و سنت کے احکام و ارشادات اور صحابہ کرام و تابعین کے تعامل سے طلاق دینے کا جو طریق منقول ہوتا چلا آرہا ہے اس کا خلاصہ اور ماحصل یہ ہے کہ جب طلاق دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے تو طلاق دینے کا احسن طریقہ یہ ہے کہ صرف ایک طلاق عورت کو ایسی پاکی کی حالت میں دے دے جس میں اس سے صحبت نہ کی ہو اور یہ ایک طلاق دے کر چھوڑ دے عدت ختم ہونے کے بعد رشتہ نکاح خود ٹوٹ جائے گا ۔ اس طرح طلاق دینے کو فقہاء کرام نے طلاق احسن لکھا ہی۔۔۔۔ ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں حضرت ابراہم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم طلاق دینے میں اسی طریقہ کو پسند کرتے تھے ۔

طلاق کی قسمیں

(۱) احسن (۲) حسن (۳)بدعی
طلاق احسن یہ ہے کہ ایک طلاق رجعی ایسی پاکی کی حالت میں دی جائے جس میں عورت سے صحبت نہ کی ہو پھر اس کو اسی حالت میں چھوڑ دے نہ اس کو ارر طلاق دے اور نہ اس سے صحبت کرے یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے طلاق کی یہ پہلی قسم سب سے بہتر ہے
طلاق حسن
کی صورت یہ ہے کی جس بیوی سے یکجائی ہو چکی ہو اسکو تین طلاقیں تین طہروں میں دی جائیں اور تین طہروں میں صحبت نہ کی ہو ۔۔۔ اوراگر ابھی بیوی سے یک جائی ہی نہ ہوئی ہوتو اس کے لیے ایک طلاق حسن ہے ۔
نابالغہ لڑکیوں اور ان عورتوں کے لیے جن کی ماہواری بند ہو چکی ہو ۔۔ طلاق حسن یہ ہے کہ ان کو تین مہینہ تک ہر مہینہ میں ایک طلاق دی جائے ۔ ان عورتوں کو ہمبستری کے بعد بھی طلاق دینا جائز ہے ۔
( البحرائق ج ۳ص۲۳۸۔ ردالمختارج۲ ص۲۳۹)


طلاق بدعی

سے کی صورت یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ صحبت کر چکا ہو اس کو ایک طہر : یعنی پاکی کی حالت میں ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دے دے ۔ یا اس کو اس طہر میں طلاق دے جس میں ہمبستری کر چکا ہو اس طرح حیض کی حالت میںطلاق بھی طلاق بدعی ہے ۔وہ عورت جس کو حالت حیض میںطلاق دی ہے اگر اس کو لٹانے کی گنجا ئش باقی ہو تو اس سے رجوع کرنا واجب ہے ۔ جب کہ بعض علماء نے رجوع کرنے کو مستحب قرار دیا ہے ۔ پھر جب وہ پاک ہو جائے اور اس کے بعد دوسرا حیض آجائے اور پھر اسبھی پاک ہو جائے تب اگر طلاق دینا ہی ضروری ہو تو اس دوسرے طہر میں طلاق دی جائے طلاق کی یہ تیسری قسم شریعت کی نظر میں نہ پسندیدہ ہے ۔ گو یہ طلاق بھی واقع ہو جاتی ہر مگر طلاق دینے والا گناہگار ہوتا ہے ۔ ( البحرالئق ج۳ ص۲۳۹۔ردالمختار ض۳ ص۲۳۲)
یہ تو وقت اور محل کے اعتبار سے طلاق کی تین قسمیں تھی واقع ہونے کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں ۔ طلاق رجعی ۔ طلاق بائن


طلاق رجعی

یہ ہے کہ صاف اور صریح لفظوں میں ایک یا دو طلاق دی جائے اس کاحکم یہ ہے کہ ایسی طلاق میں عدت پوری ہونے تک نکاح باقی رہتا ہے اور شوہر کو اختیا ہے کہ عدت ختم ہونے سے پہلے بیوی سے رجوؑ کر لے ۔ اگ اس نے عدت کے اندر رجوع کر لیا تو نکاح بحا ل رہے گا اور دوبارہ نکاح کی ضرورت نہ ہو گی اگر اس نے عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو طلاق موئثر ہو جائے گی اور نکاح ختم ہو جائے گا ۔ اگر دونوں چاہیں تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں لیکن جتنی طلاقیں وہ استعمال کر چکا ہے وہ ختن ہو گیئں ۔ آیندہ اس کو تین میں سے صرف باقی ماندہ طلاقوں کا اختیار ہو گا ۔ مثلا اگر ایک طلاق دی تھی اور اس سے رجوع کر لیا تھا تو اب اس کے پاس سرف دو طلاقٰن باقی رہ گئی اور اگر دو طلاقیں دے کر رجوع کر لیا تھا اور اب صرف ایک طلاق باقی رہ گئی اب اگر ایک طلاق دے دی تو بیوی تین طلاق کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔

طلاق بائن

یہ ہے کہ گول مول الفاظ ( یعنی کنایہ) میں طلاق دی ہو یا طلاق کے ساتھ ایسی صفت ذکر کی جائے جس سے اس کی سختی کا اظہار ہو مثلایوں کہے کہ تجھ کو سخت طلاق یا لمبی چوڑی طلاق ۔ طلاق بائن کا حکم یہ ہے کہ بیوی فورا نکاح سے نکل جاتی ہے اور شوہر کو رجوع کا حق نہیں رہتا ۔ البتہ عدت کے اندر اور عدت ختم ہونے کے بعد بھی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔۔
یہ وہ طریقہ ہے جس پہ عمل کرنے سے انسان بہت سی قباہتوں سے بچ سکتا ہے اور رجوع یا دوبارہ نکاح کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔ہمارے ہاں یہ مزاج بن چکے ہیں کہ جب غصہ آیا تو ایسا عقل پہ سوار ہوا کہ منہ میں آیا کہہ دہااور جب طلاق دینے پہ آئے تو ایک ہی سانس میں تین یا تین سے بھی زیادہ طلاقیں دے کر خاموش ہوئے اب سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ کیا کریں کیونکہ تین طلاق کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی ہے اب رجوع کی گنجائش باقی رہتی ہے اور نہ ہی نکاح کی ۔ کیونکہ جو اختیار شوہر کے پاس تھا وہ اسے استعمال کر چکا ۔ اب حیلے بہانے کیے جاتے ہیں کہ کسی طرح ہمارا نکاح بحال ہو جائے ۔ لیکن اس نکاح کواسی طرح بحال رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ اس لیے مرد کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر ایسا انتہائی قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ مرد نے جیسے ہی اپنی زبان سے یہ جملہ اپنی بیوی کے لیے نکال دیاکہ میں اسے طلاق دیتا ہوں چاہے بیوی نہ سنے یا تحریرا لکھ دیا چاہے بیوی نہ پڑھے تب بھی اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی ۔اس لیے مرد حضرات کو بہت زیادہ ہوش و عقل مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دو منٹ کے غصہ میں اپنی تیس سالہ یا اس سے کم و پیش زندگی کا سکون تباہ و برباد کر لے اور اپنی زندگی کی رفیقہ اور شریک زندگی اور غم و انس کی بہترین ساتھی سے محروم ہو جائے ۔ خود تو پریشان ہوگا ہی لیکن اپنے ساتھ ساتھ اپنی بیوی اور بچوں کے سکھ اور سکون کو بھی تہہ و بالا کر کے رکھ دے گا۔ اللہ کریم ہم سب کو عقل سلیم عطاء فرمائے آ مین


نوٹ

طلاق مغلظہ (یعنی تین طلاق) کے بعد عورت مرد پر حرام ہو جاتی ہے اور اس وقت تک یہ دونوں نکاح نہیں کر سکتے جب تک وہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرے اور وہ دوسرا مرد اس سے ہمبستری کرے اور جب چاہے اپنی مر ضی سے اسے طلاق دیدے یا اس کی وفات ہو جائے اور پھر جب اس کی عدت پوری ہوجائے تو پہلا شوہر عورت کی رضامندی سے اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے

جاری ہے

Last edited by نبیل خان; 24-10-11 at 05:31 PM.
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (13-04-12), قاسمی (24-10-11)
پرانا 24-10-11, 06:20 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 329
کمائي: 6,309
شکریہ: 2,159
266 مراسلہ میں 795 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیراواحسن الجزاء
قاسمی آف لائن ہے   Reply With Quote
قاسمی کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (13-04-12)
پرانا 24-10-11, 07:17 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,296
کمائي: 26,617
شکریہ: 8,509
1,592 مراسلہ میں 3,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عدّت

عدت

عدت اس مخصوص مدت کا نام ہے جو عورت پر وقوع طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد نکاح یا مباشرت کے آثار ختم ہونے کے لئے شرعاََ متعین کی گئی ہے ۔ اس مدت میں عورت کسی دوسرے مرد سے شادی نہیں کر سکتی ۔

عدت طلاق

طلاق کی عدت مختلف عورتوں کے لئے مختلف ہو گی
(۱) :۔ حاملہ .... جس عورت کو طلاق دی گئی ہے اگر وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت بچہ کی پیدائش تک ہے ۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی عدت مکمل ہو جائے گی ۔ جیسا کہ سورۃ طلاق میں حکم ہے :
ترجمہ:۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت کی مدت بچہ پیدا ہونے تک ہے ۔
( سورۃ طلاق آیت نمبر ۴)
(۲) :۔ حاملہ نہ ہو مگر اس عورت کو ماہواری کا سلسلہ جاری ہو تو جس پاکی میں اس کو طلاق دی گئی ہے اس کے بعد تین حیض تک عدت گزارے گی اور اگر مسنون طریقہ کے خلاف اسے ناپاکی کی حالت میں طلاق دی گئی ہو تو اس ناپاکی کے علاوہ مزید تین حیض تک عدت گزارنی پڑے گی ۔ قرآن کریم میں ایسی عورتوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ۔ ترجمہ :۔ مطلقہ عورتیں تین ایام ماہواری گزرنے تک نکاح وغیرہ سے رکی رہیں ( سورۃ بقرہ . آیت نمبر(2
(۳) :۔ تیسری قسم ان عورتوں کی ہے کہ جو نہ حاملہ ہوں اور نہ ان کو ایام آتے ہوں ۔ بچپن کی وجہ سے ابھی خون آنے کی ابتداء ہی نہ ہوئی ہو یا کب سنی کی وجہ سے ماہواری کا سلسلہ بند ہو گیا ہو ایسی عورت کی عدت تین ماہ ہے ۔ سورۃ طلاق میں ہے :۔ ترجمہ :۔ اور جو عورتیں نا امید ہو چکیں حیض سے ان عورتوں کے بارہ میں تم کو شبہ رہ گیا تو ان کی عدت تین مہینہ ہے اور ایسی ہی وہ عورتیں جن کو حیض آنا شروع نہیںہوا ۔
اگر طلاق مہینہ کی پہلی تاریخ کو دی گئی ہو تو قمری مہینہ کے حساب سے پورے تین ماہ عدت گزاری جائے گی اور اگر مہینے کے درمیان میں طلاق دی گئی تو 90دن عدت کے شمار کئے جائیں گے ۔ ( فتاویٰ التاتارخانیہ جلد 4صفحہ6)


عدت وفات

شوہر کی وفات کی صورت میں عورت کو حکم دیا گیا کہ وہ چار ماہ دس دن تک عدت گزار کر اپنے سوگ اور افسوس کا اظہار کرے ۔ قرآن مجید میں عدت وفات کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا :۔ ترجمہ:۔ تم میںسے جن کی وفات ہو اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنے کو چار مہینے دس دن تک نکاح وغیرہ سے روکے رکھیں ( سورۃ بقرہ آیت نمبر 234)
نبی کریم صلی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:۔ مسلمان عورت جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے اسے جائز نہیں ہے کہ کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ غم کرے سوائے اپنے شوہر کی موت کے کہ چار ماہ دس دن تک سوگ منائے گی ۔
شوہر کی وفات کے بعد جو عدت سوگ واجب ہوتی ہے وہ بالغہ اور نابالغہ دونوں پر ہے ۔ چاہے نکاح کے بعد میاں بیوی میں یکجائی کی نوبت آئی ہو کہ نہیں ۔ ۔


الحمد للہہ

مسائل طلاق و عدت نہایت اختصار کے ساتھ مکمل ہوئے

Last edited by نبیل خان; 30-10-11 at 03:57 PM.
نبیل خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (13-04-12)
پرانا 13-04-12, 03:45 AM   #6
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 114
کمائي: 1,366
شکریہ: 86
61 مراسلہ میں 128 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن اگر خلع سمجھ کر اور بغیر پڑھے ہوئے تین طلاق پر دستخط کردئیے گئے ہوں اور وہ واپس آنا چاہتی ہو تو کیا کیا جائے تین طلاق کے بعد بھی اگر دھوکے سے دی گئ ہو یا لی گئ ہو
شاہنواز عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
شاہنواز عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (13-04-12)
پرانا 15-04-12, 02:05 AM   #7
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Apr 2012
مراسلات: 114
کمائي: 1,366
شکریہ: 86
61 مراسلہ میں 128 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہنواز عامر مراسلہ دیکھیں
لیکن اگر خلع سمجھ کر اور بغیر پڑھے ہوئے تین طلاق پر دستخط کردئیے گئے ہوں اور وہ واپس آنا چاہتی ہو تو کیا کیا جائے تین طلاق کے بعد بھی اگر دھوکے سے دی گئ ہو یا لی گئ ہو
اور ساتھ میں یہ بھی کہ لکھ کر بھی نہیں زبانی بھی نہیں صرف دستخط کئے گئے ہیں وہ بھی زبردستی کے نہ دل سے دی گئی اور جس وقت دی گئی ذہنی طور پر حاضر نہیں تھا اس کے ساتھ دو زندگیاں معصوم بچوں کی جڑی ہوئی ہیں اور دستخط کرتے وقت وہ سامنے بھی نہیں تھی وہ خود سب تیار کرواکر لائی اور زبردستی دستخط کے لئے چھوڑ گئ یہ کہہ کر کہ یہ خلع ہے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے اب وہ واپس آنا چاہتی ہے تو کوئی راستہ ہے تو کوئی بتائے کہ بتائے
شاہنواز عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
شاہنواز عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-04-12)
جواب

Tags
color, کوشش, پسندیدہ, قید, نفرت, نظر, ممکن, معلوم, معاشرہ, آوارگی, آج, اسلامی, تعلیم, حدیث, راستہ, زندگی, طلاق, عورت, عقل, غلط, غم, صلاحیت, صاف, صرف, صریح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رسمِ نکاح اور شریعت کی مخالفت Hina4malik کتاب گھر 1 30-12-10 04:26 PM
شریعت اور طریقت۔۔۔ معارض یا معاون راجہ اکرام اسلامی نظریہ حیات 45 21-12-10 12:42 PM
رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت ابن آدم شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات 13 01-12-10 05:14 PM
احکام شریعت ۔۔۔۔۔ مجاہد حسین اسلامی عقیدہ 1 11-03-08 06:10 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger