| عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 739
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | abrarhussain_73 (09-10-11), mama_shalla (01-10-11), ملک اظہر (16-10-11), حیدر (30-09-11), راجہ اکرام (16-10-11), رضی (01-10-11), عروج (17-10-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ
عورتوں کو اطاعت شعاری کی تاکید دوسری طرف عورتوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ مردوں کی اطاعت کریں۔ ان پر واضح کردیا گیا ہے کہ مردوں کو جو قوّامیت کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس میں ان (عورتوں) کی حق تلفی نہیں ہے اور اس سے ان کی کوئی سبکی اور توہین نہیں ہوتی، بلکہ ایسا محض نظامِ خاندان کو درست اور چاق چوبند بنانے کے لیے کیا گیا ہے، اس لیے انھیں چاہیے کہ اپنے شوہروں کا کہنا مانیں، انھیں خوش رکھیں اور ان کی ہدایات سے سرتابی نہ کریں۔ چنانچہ زیر بحث آیت کا اگلا ٹکڑا یہ ہے: فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ط (النساء 4 : 34) پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ آیت کے اس حصے میں نیک عورتوں کی دو صفات بیان کی گئی ہیں: ایک صفت ہے قانتات، یعنی اطاعت کرنے والی ۔ ’قنوت‘ کے لغوی معنیٰ اطاعت کے ہیں۔ قرآن کے دیگر مقامات پر اس کا استعمال ’اللہ کی اطاعت‘ کے معنیٰ میں ہوا ہے۔16 بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں بھی وہ اسی معنیٰ میں ہے، جب کہ بعض دیگر کہتے ہیں کہ ’اطاعت‘ میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ شوہر کی اطاعت بھی شامل ہے۔ صالح عورتوں کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے: حافظات للغیب، یعنی غیب کی حفاظت کرنے والیاں۔ غیب کا ایک مفہوم شوہر کی غیر موجودگی ہے، یعنی شوہروں کی عدم موجودگی میں وہ اپنے آپ کی ، بچوں کی اور شوہروں کے گھر اور مال و جایداد کی حفاظت کرتی ہیں۔ زمخشری فرماتے ہیں: ’’غیب، موجودگی کی ضد ہے۔ یعنی جب ان کے شوہر ان کے پاس موجود نہیں ہوتے ہیں تو وہ ان کے غائبانہ میں ان کی چیزوں کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔(زمحشری، 1 / 524) ابن عطیہ نے اس مفہوم کو کچھ اور وسعت دی ہے۔ ان کے نزدیک غیب میں ہر وہ چیز داخل ہے جس کا شوہر کو علم نہ ہو، خواہ وہ اس کی موجودگی میں ہو یا غیر موجودگی میں۔ کہتے ہیں: ’’غیب سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کا شوہر کو علم نہ ہو او راس کی نگاہ سے پوشیدہ ہو اس میں دونوں حالتیں شامل ہیں۔ وہ کہیں باہر گیا ہو یا موجود ہو‘‘۔(ابن عطیہ، المحرر الوجیز، 2/ 47 بہ حوالہ ابوحیان، 3 / 337) غیب کا دوسرا مفہوم ’راز‘ ہے ۔ اس صورت میں حافظات للغیب کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ رازوں کی حفاظت کرنے والی ہیں۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے: ’’اس کا ایک دوسرا معنیٰ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے رازوں یعنی جو کچھ ان کے شوہروں اور ان کے درمیان خلوت میں ہوتا ہے، اس کی حفاظت کرنے والی ہیں‘‘۔(آلوسی، 5 / 24) شیخ محمد عبدہ فرماتے ہیں:’’غیب سے مراد یہاں وہ بات ہے جس کو ظاہر کرنے میں شرم آئے، یعنی وہ ہر اس چیز کو چھپاتی ہیں جس کا تعلق ازدواجی معاملات سے ہو اور جو ان کے شوہروں اور ان کے درمیان خاص ہو‘‘۔17 ابو حیان نے عطا و قتادہ سے منسوب جو قول نقل کیا ہے، اس میں یہ دونوں مفہوم شامل ہیں: ’’وہ حفاظت کرتی ہیں اس چیز کی جس کا ان کے شوہروں کو علم نہ ہو، وہ اپنے آپ کی حفاظت کرتی ہیں اور جو کچھ ان کے شوہروں اور ان کے درمیان ہوتا ہے اسے اِدھر اُدھر بیان نہیں کرتیں‘‘۔ (ابوحیان، 3 / 337) انھی اوصاف کی بنا پر حدیث میں نیک عورت کو دنیا کی سب سے قیمتی متاع قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: اَلدُّنْیَا مَتَاعٌ وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا اَلْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ(صحیح مسلم، کتاب الرضاع، 1467) دنیا سامانِ زیست ہے اور دنیا کی سب سے قیمتی متاع نیک عورت ہے۔ عورت کی سرکشی کی صورت میں مرد کی ذمہ داری عورت اگر مرد کی قوّامیت تسلیم کرلے اور اطاعت شعاری کی روش اپنائے تو گھر جنت نظیر بن جاتا ہے ۔ مردو عورت دونوں حدود اللہ کا پاس و لحاظ کرتے، ایک دوسرے کے حقوق پہنچانتے اور انھیں ادا کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں۔ ایک دوسرے کی کمزوریوں کو نظر انداز کرتے اور مل جل کر اپنے بچوں کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن اگر عورت مرد کی قوّامیت تسلیم نہ کرے، اپنے آپ کو اس کے ماتحت نہ سمجھے، اور خود سری و سرتابی کا مظاہرہ کرے تو گھر جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔ اس کا سکون غارت ہوجاتا ہے اور بچوں کی صحیح ڈھنگ سے پرورش نہیں ہوپاتی۔ اس لیے قرآن نے اس صورت میں مرد کی ذمہ داری قرار دی ہے کہ وہ ایسی سرکش و نافرمان عورت کی اصلاح و تربیت کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالّٰتِیْ تَخَافُونَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَیْْھِنَّ سَبِیْلاً ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیّاً کَبِیْراً (النساء 4: 34) اور جن عورتوں سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو، انھیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں ان سے علیٰحدہ رہو اور مارو۔ پھر اگر وہ تمھاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اُوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے۔ اس آیت میں شوہروں کے ان اختیارات کابیان ہے جو انھیں بیویوں کی تادیب کے لیے دیے گئے ہیں۔18 اس سلسلے میں چند نکات پیش نظر رکھنا ضروری ہے: 1 ۔ آیت کے اس ٹکڑے میں عام عورتوں کا بیان نہیں ہے اور یہ حکم عام حالات میں نہیں دیا گیا ہے، بلکہ ناگزیر علاجی تدبیر کے طور پر مخصوص صورت حال میں ان عورتوں کے سلسلے میں ہے جو ’نشوز‘ کا ارتکاب کریں۔ بیوی کانشوز یہ ہے کہ وہ خود کو شوہرسے بالاتر سمجھے ، اس کی مخالفت کرے اور اس سے نفرت کرے19 لیکن اگر وہ اطاعت شعار ہو تو اس پر کسی طرح کی زیادتی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ 2 ۔ عورتوں کی جانب سے محض اندیشۂ سرکشی کی صورت میں مذکورہ اصلاحی تدابیر کو بروئے کار لانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے، بلکہ اس صورت میں ہے جب واقعتا ان کی طرف سے اس کا اظہار ہو۔ اس کا اشارہ آیت کے آخری ٹکڑے فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ (پھر اگر وہ تمھاری مطیع ہوجائیں) سے ملتا ہے۔ (ابوحیان، 3 / 339، 342) 3 ۔ اس آیت میں رہ نمائی کی گئی ہے کہ سرکش عورتوں کی اصلاح کے لیے ان کے شوہر تین تدابیر اختیار کرسکتے ہیں۔ اول: انھیں سمجھائیں بجھائیں، دوم: ان سے خواب گاہوں میں علیٰحدگی اختیار کرلیں، سوم: انھیں ’ضرب‘ کی سزا دیں۔ قرآن کامنشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ اصلاحی تدابیر میں تدریج ملحوظ رکھی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ بہ یک وقت تینوں تدابیر پر عمل کرلیا جائے۔20 4 ۔ مارنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے کہ بیویوں کی ضرور پٹائی کی جائے، بلکہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر دیگر تدابیر سے کام نہ چلے تو ناگزیر صورت میں یہ تدبیر بھی ممکن ہے۔اس صورت میں حدیث میں غیر معمولی احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔ آں حضرت ﷺکا ارشاد ہے: ... فَاِنْ فَعَلْنَ ذٰلِکَ فَاضْرِبُوْھُنَّ ضَرْباً غَیْرَ مُبَرَّحٍ (مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی ﷺ، 121 اگر وہ ایسا کریں تو انھیں ایسی مار مارو کہ اس کا جسم پر کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔ ’برّح‘ کا معنٰی ہے سختی کرنا، تکلیف پہنچانا۔ ’ضرب مبرّح‘ اس مار کو کہتے ہیں جس میں سخت چوٹ لگے۔ ابوحیان فرماتے ہیں:’’ضرب غیر مبرّح سے مراد وہ مار ہے جس سے نہ کوئی ہڈی ٹوٹے، نہ کوئی عضو تلف ہو اور نہ جسم پر اس کا کوئی نشان باقی رہے‘‘۔ (ابوحیان ، 3 / 241) حضرت ابن عباس سے ان کے شاگرد عطا نے ’ضرب غیر مبرّح‘ کا مطلب دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: ’’جیسے مسواک سے مارنا‘‘۔ (طبری، 8 / 314) مارنے کا مقصد عورت کو ذلیل و رسوا کرنا، یا اسے جسمانی اذیت پہنچانا نہیں، بلکہ اس کی اصلاح و تادیب ہے۔ اس لیے ناگزیر صورت میں غیر معمولی احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ قرآن و حدیث میں ناگزیر صورت میں تادیب کی اجازت کے باوجود شریعت کاعمومی مزاج یہ معلوم ہوتا ہے کہ حتی الامکان اس سے گریز کیا جائے۔ عہد نبوی میں ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے اپنی بیویوں کی پٹائی کردی۔ وہ عورتیں ازواج مطہرات کے گھروں میں آکر اپنے شوہروں کی شکایت کرنے لگیں ۔ رسولﷺ اللہ کو صورتِ حال کی اطلاع ملی تو آپﷺ نے فرمایا: لَقَدْ طَاَف بِاٰلِ مُحَمَّدٍ نِسَآءٌ کَثِیْرٌ یَشْکُوْنَ اَزْوَاجَھُنَّ، لَیْسَ اُوْلٰٓءِکَ بِخِیَارِھِمْ 21 محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس بہت سی عورتوں نے چکّر لگائے ہیں اور اپنے شوہروں کی شکایت کی ہے۔ یہ لوگ ان میں اچھے آدمی نہیں ہیں۔ جن لوگوں کو قرآن کا یہ حکم عورت کی توہین و تذلیل معلوم ہوتا ہے انھیں عورت کے باغیانہ تیور اور خود سری پر مبنی رویے میں مرد کی تحقیر و تذلیل کا پہلو نظر نہیں آتا۔ 5 ۔ آیت کے آخری ٹکڑے میں صفاتِ الٰہی ’علی‘ اور ’کبیر‘ کا انتخاب بڑا معنیٰ خیز ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے۔ عورتوں پر اپنی بالادستی کے زعم میں ان پر کسی طرح کی زیادتی نہ کرو اور یہ نہ بھولو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تم سے بڑی اور برتر ہے۔ ان پر ظلم و زیادتی کی صورت میں وہ تم سے انتقام لے سکتا ہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ’’اس میں مردوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انھوں نے بلا سبب عورتوں پر زیادتی کی تو اللہ تعالیٰ جو بلند و برتر ہے، ان کا ولی ہے ۔ جو بھی ان پر ظلم و زیادتی کرے گا، اس سے وہ انتقام لے لے گا‘‘۔22 حاصل بحث: خلاصہ یہ کہ اسلام کے نظامِ خاندان میں مرد اور عورت کو برابر کے حقوق سے بہرہ ور کیا گیا ہے، البتہ انتظامی ضروریات کی بنا پر مرد کو یک گونہ برتری دی گئی ہے۔ اسے خاندان کی سربراہی کی ذمہ داری دے کر اس کے ماتحتوں کو اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ جن تہذیبوں اور معاشروں میں خاندانی نظام میں مرد اور عورت کو تمام معاملات میں یکساں حقوق دیے گئے ہیں، حتیٰ کہ قوّامیت کی بنا پر مرد کی یک گونہ برتری کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے، ان میں خاندانی انتشار نمایاں ہے، زوجین کے درمیان تلخیاں، دوریاں اور نفرتیں پائی جاتی ہیں، طلاق و تفریق کی کثرت ہے اور گھروں کے اجڑنے اور بکھرنے کا تناسب بڑھا ہوا ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی جائزہ رپورٹوں کے اعداد و شمار اس کے مظہر ہیں۔ بعض مسلم دانش ور اسلام میں حقوقِ نسواں کی پرزور وکالت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمان عورت بھی ان تمام حقوق سے بہرہ ور ہے جو مسلمان مرد کو دیے گئے ہیں، لیکن وہ مساواتِ مرد و زن کا ایسا تصور پیش کرتے ہیں کہ مرد کی قوّامیت عملاً ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام نے مرد اور عورت کے حقوق مساوی رکھے ہیں، لیکن نظامِ خاندان کو چلانے کے لیے اس نے مرد کو ’قوّامیت‘ کی ذمہ داری بھی عطا کی ہے۔ اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ (مضمون نگار، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، علی گڑھ کے شعبہ تحقیق و تصنیف سے وابستہ ہیں)
ماخذ : ماہنامہ ترجمان القرآن جنوری 2010ء |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | abrarhussain_73 (09-10-11), ملک اظہر (16-10-11), محمد یاسرعلی (16-10-11), حیدر (30-09-11), رضی (01-10-11), عروج (17-10-11) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں جب پڑھ رہا تھا تو حیران ہو رہا تھا کہ عابد نے اتنا لمبا کیسے مراسلہ لکھ لیا اور وہ بھی آسان الفاظ میں ۔
آخیر میں آ کر معلوم ہوا کہ یہ کسی اور صاحب کا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
یار بہت اچھا شئیر کیا ہے اب مجھے اپنے مرد ہونے پر فخر ہے
اور آپ تم بھی اب مرد ہونے پر غصہ کر سکتے ہو
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | محمد یاسرعلی (16-10-11), آبی ٹوکول (16-10-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بے درد ۔۔۔۔ بے ضرر
بے ضرر کوئی ضرر نہیں دیتا بے درد کوئی درد نہیں دیتا نتیجہ یہ نکلا کہ مرد کوئی درد نہیں دیتا بلکہ صرف خیال کرتا ہے اور مرد بہت اچھا ہوتا ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | آبی ٹوکول (17-10-11) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() بے درد جو درد کی حقیقت کو نہ سمجھے نتیجتا درد دے گا کہ حقیقت سے واقف نہیں ۔۔۔۔کہ درد ہوتا کیا ہے بےدردی ہی تو علامات درد میں سے ہے
|
|
|
|
|
| آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا | سحر (17-10-11) |
|
|
#15 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا بے ضرر کے بارے میں بھی یہی سمجھا جائے کہ
اقتباس:
|
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | آبی ٹوکول (17-10-11) |
![]() |
| Tags |
| قرآن, لوگ, نماز, مکمل, میراث, مجید, محبت, معلوم, آبادی, آج, آدمی, اللہ, احتجاج, اعلیٰ, بچوں, تلاش, تاج, جواب, حدیث, خوش, خبر, داڑھی, عورت, عقل, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 3 | 21-12-10 04:54 PM |
| مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل | جاویداسد | خبریں | 15 | 22-10-10 12:49 PM |
| عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک | جاویداسد | خبریں | 1 | 08-08-10 09:46 PM |
| آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ | Zullu230 | سیاست | 6 | 29-06-10 12:18 AM |
| جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 11:19 AM |