واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عائلی زندگی



عائلی زندگی عائلی زندگی اور اس کے نشیب و فراز


ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-12-11, 07:39 PM   #1
ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟
زارا زارا آف لائن ہے 09-12-11, 07:39 PM

اکثر نادان عورتیں یہ کہہ دیتی ہیں کہ ہمیں پیدا کیا گیا کھانے پینے کے لئے یا نت نئے فیشن کرنے کے لئےمرد کی خواہشات پوراکرنے کے لئے یا بچے پالنے کے لئے لیکن آئیے دیکھتے ہیں حقیقی معنوں میں ہمیں کیوں پیدا کیا گیا؟

دنیا کی ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کیلئے پیدا کی گئی ہے اور قدرت ان سے انہیں مقصد کو پورا کرتی ہے۔ زمین کی ننھی کونپلوں سے لیکر آسمان کے سورج تک کسی نہ کسی مقصد کے ساتھ منسلک ہیں۔ تخلیق کائنات کی مقصدیت کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ اللہ تعالٰی نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں بنایا۔ پھر مختلف مقاصد کو نوع بہ نوع چیزوں کا پابند کر دیا کہ اس طرح وہ مقاصد پھیلتے گئے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے مقصد کائنات کو خود بیان فرمایا کہ
“میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا جب میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو میں نے کائنات کی تخلیق کی۔“
اس سے یہ بات پتہ چل گئی کہ تخلیق کائنات کا سب سے بڑا، اہم اور اصل مقصد اللہ تعالٰی کی ذات و صفات کی معرفت اور اس پر کامل ایمان رکھنا ہے۔ اور جب اللہ تعالٰی کا عرفان حاصل ہو جائے تو یہ مقصد پورا ہوگیا کہ اب کائنات کی وہ شئی اپنے وجود میں کامل ہوگئی۔ پھر مخلوقات میں جو درجات ہیں ان میں بھی مقصدیت نمایاں ہے۔ پہلے اس امر پر غور کریں کہ اللہ تعالٰی نے مخلوق میں ذی حس کو تین طرح پر پیدا فرمایا۔

(1) ایک وہ جن کو عقل دیا اور نفس سے محفوظ رکھا۔ جیسے فرشتے
(2) ایک وہ جن کو نفس دیا اور عقل سے بے بہرہ کیا۔ جیسے حیوانات
(3) ایک وہ جن کو عقل بھی دی اور نفس بھی دیا۔ جیسے جن و انس
ان میں ہر ایک کی مقصدیات جداگانہ ہے۔ فرشتوں کو بے نفس بناکر انہیں صرف اپنی عبادت پر مامور فرما دیا اور دیگر ضروریات سے محفوظ کر دیا۔ اور تمام بشری تقاضے اُن سے الگ کر دئیے۔ جانوروں کو پیدا کیا تو انہیں عقل سے خالی کرکے صرف نفس کا خوگر بنایا اب ان پر کوئی شرعی احکام یا امرونہی کا حکم نافذ نہیں۔ مگر انس و جن کو بیہمی خصلت بھی دی اور فرشتوں کا شعور بھی۔ اس لئے اس کے ڈھاٹے ایک طرف ملکوتی خصائل سے ملتے ہیں۔ دوسری طرف بہیمانہ صفات سے۔ اس کو اس منزل پر کھڑا کیا جو انتہائی زیادہ آزمائشی ہے۔ انہیں تکلیف شرعی بھی دی اور لذت نفس بھی عطا کیا۔ اب انس و جن دونوں خصلتوں کے حامل ٹھہرے۔ اگر ملکوتی صفات غالب آ جائیں تو اس وقت انسان فرشتوں کا ہم نشین ہے اور اگر بہیمانہ خصائل غالب آ جائیں تو اس وقت وہ جانور ہے۔

رب کریم نے جن و انس کی مقصدیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
“ہم نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا فرمایا۔“ (ذاریات، آیت 56)
معلوم ہوا کہ مقصد انسان عبادت الٰہی ہے۔ اسی کو مذکورہ بالا حدیث قدسی میں ُاپنی ذات کی معرفت سے تعبیر فرمایا ہے۔ اب یہ بات واضح ہو گئی کہ انسان کا مقصد حیات بڑا مبارک، عظیم اور اہم ہے اور اسی تصور عبادت کی بنیاد پر ایک انسان کو تقرب الی اللہ میسر ہوتا ہے۔ مگر جب انسان اپنے مقصد اصلی کو چھوڑ دیتا ہے اور گناہوں میں ڈوب جاتا ہے تو وہ اپنے مقاصد سے بہت دور ہو جاتا ہے۔

معاشرتی طور پر انسان چند در چند گناہوں میں ملوث ہوتا ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، زنا، لواطت، نافرمانی، ترک اوامر، ارتکاب معاصی، لوگوں کا حق غصب کرنا، ترک نماز، زکوٰۃ، روزہ، کمزوروں کا حق دبانا، بڑوں کی بے ادبی کرنا، مرسلین عظام کے مناصب و مراتب کو گرانا، اللہ تعالٰی کی ذات کی معرفت سے روگردانی کرنا، عذاب الٰہی سے بے خوف ہو جانا وغیرہ یہ ایسے امور ہیں جو یکسر مقصد حیات کے خلاف ہیں۔ قرآن تقسد کا یہ خطاب ملاحظہ فرمائیں۔

“اے انسان! اپنے کرم والے رب سے تجھے کس چیز نے مغرور بنا دیا۔“ (انفطار، آیت6)
اس خطاب کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی ان نعمتوں کا اظہار فرمایا جو انسانی وجود میں سمٹی ہوتی ہیں پھر ارشاد فرمایا۔
“جس کریم رب نے تجھے پیدا فرمایا پھر ٹھیک ٹھاک معتدل بنایا جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دیا۔“ (انفطار، آیت7،8 )

یہاں بھی نعمتوں کے ذریعہ اپنی شناخت کا مقصد قرآن مقدس نے واضح فرمایا۔ تاکہ انسان اپنے رب کے انعام و اکرام کو پہچان کر غفلت، گناہ اور برائیوں سے بچ جائے۔ اور اپنے وجود کے اس حس کمال کو پہچانے جس کے سبب اس کو خلقت میں احسن، اکمل اور اپنا مظہر اتم بنایا ہے۔
“بیشک ہم نے انسان کو احسن تقویم (اچھی صورت) پر پیدا کیا۔“ (والتین۔ 4)

اور اس احسن تقویم کو اپنی نیابت کے اس عظیم منصب سے مربوط فرما دیا کہ۔
“جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا، اور خونریزیاں کرے گا۔ اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور پاکی بولتے ہیں۔ فرمایا۔ مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔“ (بقرہ، آیت 30)

پس اللہ تعالٰی نے انسان کی عظمت و برتری اجاگر کرنے کیلئے مخلوق میں جو قدر و منزلت سب سے عظیم تھی اسی سے انسان کو سرفراز فرمایا۔ اور اپنا نائب بنا دیا۔ گویا رب تعالٰی نے اپنی صفات کا مظہر اتم انسان کو بنا دیا تاکہ انسان وہی عمل کرے جس سے رب تعالٰی کے رحم و کرم، بخشش و عنایت، جود و سخا، عفوو درگزر، حلم و مروت، کرم فرمائی اور چشم پوشی جیسی صفات کی یاد تازہ ہوتی رہے۔
اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
“اللہ تعالٰی کے اخلاق کی عادت بناؤ۔“ (الحدیث)

اب سوچنے کا مقام ہے کہ جن مقاصد کیلئے اللہ تعالٰی نے انسان کو وہ رتبہ بلند دیا جس پر فرشتے بھی رشک کریں پھر اگر کوئی فرد بشر ان مقاصد کو نظر انداز کرکے معیار انسانیت سے خود کو گرا دے وہ کتنی عظیم سزا پانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔ آج معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے پیچھے سب سے بڑی درجہ یہی ہے کہ انسان خود کو پہچان نہیں رہا ہے۔ جس نے خود کو پہچانا تو وہ دنیا کا ایک انمٹ کردار بن گیا۔ اس ضمن میں صحابہء کرام اور تابعین عظام اور اس کے ساتھ صوفیائے اعلام کا جو سلسلۃ الذہب ہے وہ اس بات پر شاہد ہے کہ ان پاکیزہ افراد نے بہر حال اپنے مقصد حیات کو سمجھا، جانا اور اس پر عمل کیا۔

ظلم و بربریت، کفر و طغیان، نافرمانی و ناحق شناسی اور حق تعالٰی سے روگردانی یہ وہ بڑے جرائم ہیں جن پر شدید عذاب مقرر ہے۔ اگر ایک انسان کسی کی مدد کر دیتا ہے، کسی کے کام آ جاتا ہے، کسی مظلوم کا ظلم دور کر دیتا ہے۔ کسی مفلس کے افلاس کا علاج کر دیتا ہے، تو دراصل وہی بڑا ہے اور جس کے اندر حق شناسی کا یہ جذبہ نہیں وہ کتنا بڑا ہو کے بھی بہت چھوٹا ہے۔

گناہوں کی لمحاتی لذتوں میں ڈوب کر ابدی بدبختی کو مول لینا یہ بالکل دانشمندی نہیں ہے۔ مومن کا معیار بہت بلند ہے۔ مومن اللہ تعالٰی کی عظمتوں کا شاہکار ہے۔ مومن حکم الٰہی پر بے چوں و چرا عمل کرنے والا ہوتا ہے۔ مومن راست باز اور پاکباز ہوتا ہے۔ مومن ہادی ہوتا ہے۔ مومن اخوت و بھائی چارگی کا پیکر ہوتا ہے۔ مومن گناہوں سے نفرت اور اچھائیوں سے پیار کرتا ہے۔ مومن اپنے مقاصد میں آفاقی ہے۔ اس کے مقاصد بہت عظیم اور بہت جمیل ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے پاکباز مومنوں کو یہ بشارت عطا کیا ہے۔
(1) “اگر تم گناہ کبیرہ سے جن کی تمہیں ممانعت ہے بچتے رہے تو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔“ (نساء آیت 31)

(2) “بیشک جو ایمان لائے اور نیک کام کئے جنت الفردوس کیلئے ان کی مہمانی ہے، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اس سے جگہ نہ بدلنا چاہیں گے۔“ (کہف، آیت 108، 107)

(3) “بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے عنقریب رحمٰن ان کیلئے مخلوق کے دل میں محبت پیدا کر دے گا۔“ (مریم، آیت 96)

ان مذکورہ آیات میں ایک مومن کا معیار بالکل صاف صاف بیان کر دیا گیا ہے اور آخری آیت مبارکہ میں جو بہت اہم خبر دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی اس بندہ مومن کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے گا۔ اور لوگ اس کی طرف جوق درجوق کھنچنے لگتے ہیں۔ اور یہ محبت نہ صرف انسانی حدوں تک محدود ہوتی ہے بلکہ چرند و پرند، درند و حیوانات سبھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔

کیونکہ ایسا بندہ اپنے مقصد حیات کو مکمل حاصل کر چکا ہوتا ہے۔ اب اس کے کردار و عمل سے ایسے امور کا ظہور ہوتا ہے جو مقصدیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اور اس کی ہر ہر ادا اخلاق الٰہیہ کا آئینہ ہوتی ہے۔ رحم و کرم، شفقت و مروت، عدل و انصاف، کرم گستری، خدمت خلق وغیرہ وغیرہ بلکہ وہ شاہکار وجود بن جاتا ہے۔

گناہ سے اجتناب پر اللہ تعالٰی نے مژدہء جانفزا سنایا اور اس کی تکریم و تعظیم کا وعدہ فرمایا۔ زندگی کے جملہ پہلوؤں پر غور کیا جائے اور گناہوں کے تصور جہاں جہاں سے ابھرتے ہوں ان کا سد باب کیا جائے۔ چاہے وہ گناہ ذات کا ہو یا معاشرے کا ہر اُس کا سد باب کرنا ناگزیر جانا جائے۔ کبر و تکبر، غرور و خودنمائی، اپنی بڑائی کا زعم فاسد، غیروں کو حقیر جاننا، غریبوں کی غربت کا مذاق اڑانا، ظلم و تعدی، تنقیص و توہین جیسے زہریلے کردار انسان کو اس کے مقصد سے دور کر دیتے ہیں۔ اور غرور کا عنصر خواہ کم ہو یا زیادہ۔ بہرحال انتہائی خوفناک ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔
“انسان کے گنہگار ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ جب اسے اللہ سے ٍڈرنے کو کہا جائے تو وہ یہ کہے تم اپنا خیال رکھو۔“ (مکاشفۃ القلوب)

احتساب و محاسبہ ذات کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو سکتا ہے ؟ کہ غلطی بڑی ہو یا چھوٹی اس کو غلطی ہی سمجھا جائے۔ اور جب یہ تصور باقی رہے گا تو اس وقت اپنی ذات اور اپنے وجود پر خود بخود تنقیدی نگاہ پڑے گی اور ایک بندہ نیا بت الٰہیہ کے عظیم منصب کا اہل بن جائے گا۔ ایک عارف باللہ کا معمول تھا کہ ہر رات وہ سونے سے پہلے آئینہ ضرور دیکھتے تھے۔ ایک بار کسی مرید با صفا نے پوچھا۔
حضور! آپ ہر رات سونے سے قبل آئینہ کیوں دیکھتے ہیں ؟

عارف باللہ نے جواب دیا۔
“میں اس لئے ہر رات کو آئینہ دیکھتا ہوں کہ یہ معلوم کروں کہیں میرے گناہوں کا اثر میرے چہرے پر ظاہر تو نہیں ہو رہا ہے۔“
یہ وہ عمل ہے جو محاسبہ ذات کی روشنی میں بندہ کی مقصدیت کو بہت واضح کر دیتا ہے۔ کہ اگر بندہ گناہوں کی وادیوں میں بھٹکتا رہا تو وہ اپنے مقصد سے بہت دور ہوتا جائے گا۔

کبھی کبھار ایک مسلمان یہ سوچتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ایک کافر نعمتوں میں ڈوبا ہوتا ہے مگر ایک مسلمان آزمائش، تنگی، معاشی کمزوری، اور طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس سے دماغ میں بعض غلط فتور پیدا ہوتے ہیں اور دراصل یہ اس کی مقصدیت پر شیطان کا بہت شدید حملہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیات طیبہ کے درخشاں ابواب کو فوراً نظروں میں جمایا جائے۔ خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات کے ان روشن اور پاکیزہ گوشوں کو دیکھا جائے کہ کونین کے تاجدار ہونے کے باوجود حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سادگی اور فقر اور استغناء کے کتنے ابواب ہمارے لئے چھوڑے ہیں کہ بسا اوقات کئی کئی دن تک بے کھائے پئیے گزار دیتے تھے۔ حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے بعض اوقات میں یہ گزارش کی کہ
یارسول اللہ! قیصر و کسرٰی بہت ٹھاٹ باٹ سے رہتے ہیں اور حضور اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ہونے کے باوجود اس قدر فقر و فاقہ سے کیوں زندگی گزارتے ہیں ؟

اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو جواب دیا کہ
میں چاہتا ہوں جب اپنے مولٰی سے ملوں عالم فقر و استغناء میں ہوں۔ (اوکما قال)
رہ گئی بات غیر مسلموں کے ٹھاٹ باٹ کی تو اس کو رب کریم نے اپنے کلام مبارک میں خود بیان فرما دیا ہے۔
“جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کی مثال ایسی ہے کہ ان کے کام راکھ کی طرح ہیں کہ اس پر آندھی کے دن ہوا کا سخت جھونکا آیا پھر ساری کمائی سے کچھ بھی ہاتھ نہ لگا۔ یہ ہے دور کی گمراہی۔“ (سورہ ابراہیم، آیت18 )

اس تمثیل کو قرآن مقدس نے ایک دوسری جگہ دوسرے انداز میں یوں بیان فرمایا۔
“وہ جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال سراب (کسی جنگل میں دھوپ سے چکمتے ہوئے ریت) کی طرح ہیں۔ کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آ جائے تو اسے کچھ نہ پایا اور اللہ کو اپنے قریب پایا تو اس نے اس کا حساب پورا بھر دیا اور اللہ جلد حساب کر لیتا ہے۔“ (سورہ نور، آیت نمبر 39)
یہ دونوں آیتیں غیر مسلموں کی مرفہ الحال زندگی کے کھوکھلے پن کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ چونکہ غیر مسلم جو اپنے مقصد حقیقی کو دنیا کی رنگ رلیوں اور آسائش کے سامانوں میں گم کر چکے ہیں۔ قیامت کے دن ان کا حال بد سے بدتر اور ان کی دنیوی زندگی کے بے مقصد اعمال بے حقیقت ہو کر رہ جائیں گے۔

قرآن مقدس کے اترنے کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ بندہ اپنے رب کی ذات و صفات کا شعور بالغ رکھے اور کائنات کی ہر چیز سے اس کی قدرت کا اندازہ لگائے اور اپنے مقصد حیات کو پانے کیلئے کوشاں رہے۔ رب تعالٰی فرماتا ہے۔
“بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم تبدیلیوں میں عقلمندوں کیلئے نشانیاں ہیں۔“ (سورہ آل عمران، 190)

اگر ایک متمول زندگی ہو اس وقت بھی اور اگر غربت و افلاس کی زندگی ہو اس وقت بھی ہر موقعہ پر اپنے مقصد کو بھولنا نہ چاہئیے۔ بندہ مومن کی زندگی میں جو چیز سب سے زیادہ قیمتی اور اہمیت کی حامل ہے وہ ہے اللہ تعالٰی کی قاہر و غالب و سلطنت و قوی کا یقینی تصور اور ایمان۔ مومن کے مقاصد آفتاب نصف النہار کی طرح روشن واضح اور مقرر ہیں۔
اگر مقاصد کی افادیت کو نظروں میں رکھتے ہوئے زندگی گزاری جائے تو وہ فرحت بخش، راحت آسا اور دل کو اطمینان عطا کرنے کیلئے کافی ہے۔ کائنات کی ہر شئی میں غور کیا جائے اور اس سے ذات پاک پر استدلال لایا جائے کیونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ایک کھلی ہوئی کتاب ہے اگر بہ نظر غائر اس کا مطالعہ کیا جائے۔
برگ درختان سبز در نظر ہوشیار
ہر ورقے دفتر یست کردگار
اس لئے ضروری ہے کہ کو نظروں میں رکھتے ہوئے محاسبہ ذات بھی کیا جائے اور کائنات سے استفادہ بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام اور اولیائے کاملین رضی اللہ عنہم اجمعین کی حیات اور معمولات کو ہر لمحہ پیش نظر رکھ کر غور و خوض کیا جائے۔

سورس: فرام ای میل
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 166
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (09-12-11), احمد نذیر (09-12-11), حیدر (09-12-11)
جواب

Tags
کمال, پیاسا, قرآن, نفرت, نظر, مکمل, محبت, آئینہ, آج, ایمان, اللہ, انسان, بھائی, ترک, جواب, جلد, حکم, حال, حدیث, خلاف, خبر, زندگی, عقل, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger