| 15 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-02-12), نیلم خان (01-02-12), نبیل خان (24-01-12), محمد یاسرعلی (24-01-12), مرزا عامر (24-01-12), احمد نذیر (24-01-12), تبتیلا انجم (25-01-12), حیدر (30-01-12), حیدر Rehan (26-01-12), راجہ اکرام (25-01-12), رضی (05-02-12), زارا (24-01-12), سحر (24-01-12), عبیدرضا (28-01-12), غلام خان (26-01-12) |
|
|
#16 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
قلم کے بارے میں مجھے بھی سنتے وقت تھوڑا تردد ہوا تھا، اور میں خود اس سلسلے میں وضاحت چاہتا ہوں.
دوسری بات یہ کہ یہ اسلامی علم کے امتیازات جو ہیں، تو یہ اس علم کے لگتے ہیں جس کو ہم شرعی علم کہتے ہیں، دوسرے فنون میں تو شک اور دوسرے عوامل ویسے ہی اپلائی کیے جاتے رہے ہیں مسلمانوں کے ہاں بھی. یا ایسا تو نہیں ہے کہ حقانیت اور نافعیت اسلامی فرض عین والے علم کے امتیازات ہوں اور باقی جو امتیازات ہیں وہ ٹیکنالوجی والے علم کے ہوں؟؟ پیر ساب سے ملتمس ہوں کہ وہ ان پہلوؤں پو روشنی ڈالیں کیونکہ وہ پروفیسر صاحب کے شاگروں میں بھی آتے ہیں. والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#17 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک پوائنٹ اور ایڈ کرنا چاہوں گی ۔
الذی علم بالقلم کی تفسیر میں اگر قلم کے معنی دنیاوی قلم کو یا لکھنے والی چیز کو لیا جائے ۔ تو اس کا مطلب ہوگا کہ علم حاصل کرنے کے لیے لکھنا ضروری ہے ۔ یا لکھ کر علم حاصل کیا جاتا ہے لیکن سب کے علم میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا نہیں جانتے تھے لیکن وہ عالم اور معلم بناکر بھیجے گئے تھے ۔ ان کا علم دنیاوی قلم کے بغیر تھا ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() |
تو پھر وہی بات سمجھنے کی کوشش کریں جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا
|
|
|
|
|
|
#19 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
کل ایک اور بندے نے بھی یہی کہا ہے کہ اس سے مراد ہ تمام الات ہیں جو سیکھنے سکھانے کے عمل میں استعمال ہوتے ہیں ، کیونکہ سکھانا صرف قلم سے ہی تو نہیں ہوتا.
سیکھ کر بندہ اگے برھتا ہے اورتیکنالوجی اگے سے اگے برھنے کا نام ہے تو ایک اعتبار سے یہ بھی اس میں اتی ہے. یعنی سیکھنا سکھانا سارا ہی تیکنالوجی نہیں ہے بلکہ تیکنالوجی اس کا ایک حصہ ہے. واللہ اعلم |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#20 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکچرز کے جو نوٹس لیے جاتے ہیں ان کی مدد سے تحریر یا تقریر بنانے کا بنیادی اصول جو مجھے سمجھ آتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان نوٹس میں لکھے مختصر جملوں کو اپنے الفاظ میں پیرا گراف کی شکل دے اور پھر ان پیرا گراف کو مربوط تحریر کی شکل۔ اور یہ سارا کام اپنے ہی انداز تحریر میں ہونا چاہئے۔
تاہم اگر یادداشت ساتھ دے تو پھر اُس تمام لیکچر کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھا جا سکتا ہے اور نوٹس کی مدد سے "ری ویو" کیا جا سکتا ہے کہ کہیں کوئی اہم بات تحریر سے رہ تو نہیں گئی۔ نوٹس ۔ ۔ ۔ ۔تحریر کو غیر مربوط بنا دیتے ہیں جو پھر قاری کو پریشانی میں ڈال دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مغربی اور اسلامی علوم: شک اور یقین اس میں کوئی شک نہیں کہ علم کی بنیاد قرآن(عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ) ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ "شاید" اس کو غیر ضروری طور پر "یقین" سے منسلک کر دیا گیا ہے۔خود قرآن نے انسان کے اندر تجسس یا شک کے مادے کو ہوا دی ہے تاکہ وہ سوچے ، سمجھے، غور کرے (یعنی تحقیق کرے۔ اسی کو ہم سائنس کہتے ہیں)۔مثلاً قرآن نے بارہا انسان کو دعوت دی ہے کہ وہ افلاک کے بارے میں سوچے، چاند ستاروں کے بارے میں سوچے اور ان پر غور کرے۔ اور پھر یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ٹیکنالوجی (یعنی القلم) کا ظہور ہوتا ہے۔ کیونکہ ٹیکنالوجی سائینس کی عملی شکل ہے۔ سائینس کہتی ہے کہ چاند زمین کے گرد اتنی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ چناچہ میں نہیں سمجھتا کہ مغربی علم اور اسلامی علوم میں "شک اور یقین" کوئی بنیادی فرق ہے۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں قسم کے علوم میں "شک" ہی درحقیقت ایک بنیادی وجہ مشترک ہے۔ ہاں فرق یہاں پر آتا ہے کہ قرآن ہمارے اندر جو تجسس اور شک کو ابھارتا ہے اس کا مقصد ہم کو تجربات کی مدد سے یقینی منبع علم یعنی اللہ کی ذات سے شناسائی دینا ہے۔ اور جب ہم تجربات کی مدد سے ایسا کرتے ہیں تو پھر ہم کو وہ یقین حاصل ہوتا ہے جو ہم کو راہ مستقیم پر ڈٹے رہنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس تمام عمل کے دوران ہم سے جو دیگرایجادات ہوتی رہتی ہیں وہ محض بائی پراڈکٹس یعنی اضافی فائدہ جات ہیں۔ جو ہماری زندگیوں کو سہل بناتی ہیں۔ اس کے برعکس مغربی محقق و ٹیکنالوجسٹ بھی وہی کام ہی کر رہے ہوتے ہیں جو ایک مُوحد محقق و ٹیکنالوجسٹ کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن مغربی مطمع نظر محض "بائی پراڈکٹس" کا حصول ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا علوم کا مقصد محض رب العالمین کی شناسائی ہے؟ باوجود اس کے کہ میں مندرجہ بالا پیرا گراف میں علوم کا "بظاہر" مقصد "محض رب العالمین کی شناسائی" ہی بیان کر رہا ہوں۔ لیکن علوم کا "محض یہ مقصد" ماننے میں مجھے تھوڑا سا تامل ہے۔ ہم جتنا مرضی کوشش کر لیں ہم اللہ تعالیٰ کی ذات تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہاں تک ہماری رسائی نہیں ہو سکتی۔ تو ایسے میں علم کا مقصد محض رب العالمین تک شناسائی کہنا ، علوم کے مقصد کو انہتائی محدود کرنا ہے۔ علوم کا یہ محض چھوٹا سا حصہ ہے کہ "سوچ بچار، تحقیق "(المعروف سائنس) کے ذریعے اللہ کو پہچانو، پھر ان علوم کے عملی حصے (المعروف ٹیکنالوجی) کی مدد سے اللہ پر اپنے یقین کو پختہ کر لو۔ اس کے بعد علم کا اصل مقصد (خواہ وہ علم دینی ہو یا دنیاوی) ہماری دنیاوی مسائل کو حل کرنا رہ جاتا ہے۔ اس بات کی وضاحت عبد اللہ آدم کے ان جملوں سے مل جاتی ہے : اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#21 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
![]() کیونکہ اگر کوئی پڑھے اور یہ جملہ کسی کا عقیدہ بن جائے تو ؟؟ ظاہری اعمال انجام دینے میں روز سو غلطیاں ہوتی ہیں اور درست بھی ہوسکتی ہیں اور ہوجاتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ ظاہری اعمال ہیں اس لیے دیکھائی دینے کی وجہ سے کوئی نہ کوئی تنبہہ کرہی دیتا ہے۔ عقائد لوگوں کو دلوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور اس لے بھی کہ عقائد پر بہت ہی کم اور کبھی کبھی ڈسکشن ہوتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ عقائد کی درستگی بہت ہی مشکل سے ہوتی ہے۔ یہاں ایک بات اور دوں ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی عقیدہ بنا لے تو جب تک وہ زندہ رہے گا وہی عقیدہ رکھے گا اور اسی پر قائم رہے گا کیونکہ وہ ظاہری تو ہے نہی کہ کوئی درست کردے اب اگر انسان کی زندگی ہزار سال ہو اور کوئی عقیدہ ہو تو وہ عقیدہ بھی ہزار سال رکھے گا اگر انسان کو قیامت تک کی زندگی دی جائے تو وہ قیامت تک اپنا عقیدہ نہی بدلے گا بس یہ دلیل اس پر قائم ہوتی ہے کہ انسان جہنم میں اپنے عقائد کی وجہ سے جائے گا اور وہ وہاں برسوں رہےگا کیونکہ برسوں اس کا عقیدہ وہی رہا اگر ہزاروں سال زندگی ہوتی تو ہزاروں سال عقیدہ نہی بدلتا۔ یہاں خدا کی حجت قائم ہوتی ہے اس بات پر کہ وہ باطل عقیدہ شخص کو ہمشیہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دے اور یہی انصاف ہے ۔۔۔۔بے شک اللہ بہترین انصاف کرنے والہ ہے۔ اللہ ہم پر اپنے فضل و کرم کے زریعے سے رحمت فرمائے ۔۔۔آمین |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#22 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علم کے بارے میں جو مجھے سمجھ آیا وہ یہاں لکھ رہی ہوں ۔
علم دو طرح کے ہوتے ہیں علم الاشیاء اور علم الھدایہ ، یہ دونوں علوم اللہ کی طرف سے حضرت آدم علیہ السلام وہ دیے گئے تھے ، ۔ اللہ تعالیٰ تمام علم کا منبع ہے اور اللہ نے اپنی تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو اپنے علم میں سے کچھ حصہ عطا فرمایا ۔ اسی اللہ کے دئے ہوئے اپنے علم کے حصے کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا گیا ۔ علم الاشیاء یعنی مادی علم اور علم الھدایہ یعنی روحانی علم دونوں اللہ کی طرف سے انسان کو ودیعت کردیا گیا ہے ۔ علم کو حاصل کرنے کا مطلب ہے اللہ کے ودیعت کردہ علم کو اپنے اندر سے دریافت کرنا اور یہ دریافت غوروفکر سے حاصل ہوتی ہے ۔ علم صرف کتابیں پڑھنے سے نہیں اتا ہے بلکہ علم غوروفکر سے آتا ہے ۔ علم الھدایہ محض قرآن پڑھ لینے سے نہیں آتا بلکہ یہ علم اس وقت تک نہیں آتا جب تک اللہ کی آیات یعنی نشانیوں پر غوروفکر نا کی جائیں ۔ قرآن کی آیات اللہ کی نشانیاں ہی ہیں علم الاشیاء یعنی مادی علم ۔ فزکس ، کیمسٹری ، اور بیالوجی کی کتابیں علم نہیں ہیں بلکہ ان سیبجیکٹس کی بنیاد علم پر ہے ۔ جیسے ۔ لوز آف موشنز آرشمیدس پرنسپلز آرشمیدس بات ٹب میں بیٹھ کر کوئی کتاب نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ غوروفکر کررہا تھا اللہ کی نشانی ۔ اور اس کوسمجھ آگیا ۔ اسی طرح نیوٹن نے بھی سیب گرنے کے عمل پر غوروفکر کیا تو کشش ثقل کو دریافت کیا ۔ دونوں طرح کا علم غوروفکر سے آتا ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ اللہ کے ودیعت کردہ علم کو دریافت کیا جاتا ہے ۔ اور ٹیکنالوجی علم کی امپلیمنٹیشن کو کہتے ہیں ۔ Last edited by سحر; 31-01-12 at 03:18 PM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (31-01-12), حیدر (31-01-12), حیدر Rehan (31-01-12), راجہ اکرام (31-01-12), رضی (05-02-12), عبداللہ آدم (02-02-12) |
|
|
#23 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (31-01-12) |
|
|
#25 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
علم الاشیاء میری تھوڑی بہت سمجھ کے مطابق ہے تو انسان کے فائدے کے لیے لیکن بندہ مومن اور مسلم اس کا ربط اور تع؛ق بھی علم الھدیۃ کے ساتھ جوڑ کر رکھتا ہے اور علم کی اس فیلڈ میں اپنے تصورات اور نظریات کو بھی علم الھدایہ کی روشنی میں کراس چیک کرتا رہتا ہے کہ کہیں یہ یہ بات حدوں سے باہر تو نہیں نکلی جا رہی.
واللہ اعلم/ |
|
|
|
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() |
اس مراسلے میں کئی موضوع ہیں اس لیے مجھے یہ سمجھ نہی آرہی کہ میں کہ کس پر بات کروں اور کس پر خاموشی اختیار کروں۔
علم کی تعریف بھی کی گئی ہے اور انسان کا منصب بھی عیاں کیا گیا ہے یہاں تک کہ خلیفہ اللہ کے درجے تک پھر یہ کہ آیات بھی علم سے متعلق تحریر کی ہیں اور بہت کچھ ہے اور یہ کہ قلب کے بجائے زہن کو علم کی جائے قرار دیا گیا ہے۔ پہلے علم کی اہمت پر نظر کی جائے پھر یہ کہ کون سے علم کی بات کررہے ہیں اور اس کی کتنی قسیمں ہیں ،اس کی پہچان کیسے ہو، پھر یہ کہ علم کے زریعے انسان کے درجات میں کسقدر بلندی ہوسکتی ہے اور منزلت میں کہاں کہاں تک فوائد ہیں خود علم حاصل کرنے والے کو کیا ملتا ہے اور جس کے پاس ہو اس کے زریعے ہمیں کیا ملتا ہے۔ پھر اس کے بعد ہی کوئی با ت کی جائے تو سمجھ سکتے ہیں کہ کیا کہا جارہا ہے۔ علم کے بے شمار فضائل اور مناقب ہیں عبادت کا لازمہ اور مقصد حیات بھی ہے معرفت الہی کا زریعہ بھی ہے اور معرفت الہی کے بغیر عبادت کا قبول ہونا ممکنات میں سے نہی ہے یعنی علم کے بغیر زندگی نہی ہے بلکہ صحیح معنوں میں تو بنا علم کے مرنا بھی جہالت ہے علم زینہ کی طرح ہے علم وسیلہ ہے اسی کے زریعے انسان بلندیوں پر پہچتا ہے عام لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی شئے کے بارے میں جاننا ہی علم نہی ہے بلکہ اسکو سمجھنا اور اقرار کرنا بھی علم ہی ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا بھی علم ہی ہے اور بے شک حصول علم کا کم سے کم مقصد سوائے اس کے کہ اپنی اصلاح کرلی جائے اور کچھ نہی۔ بلکہ یہ سوچیں کہ علم نہ ہوتو کیا ہو مولا علی علیہ سلام کا فرمان ہے کہ جاہل ہمیشہ حیران ہی رہتا ہے بنیادی طور پر علم کی دو قسمیں ہیں وہبی اور اکتسابی وہبی علم وہ ہوتا ہے جو اللہ ہر ایک کو عطا فرماتا ہے جسے فطری علم بھی کہا جاتا ہے جیسے مچھلی کا بچہ پیدا ہوتےہی تہرنے لگتا ہے جیسے اللہ کا فرمان ہے کہ ہم نے تمھیں تمھاری ماوں کے شکم سے اس طرح نکالا کہ تمھیں کسی شئے کا علم نہی تھا یعنی اس لاعلمی کے باوجود بھی بچے کو علم ہوتا ہے کہ رزق کہاں سے ملنا ہے ۔۔۔بس انسان اگر اپنے دل کو خالص کرلے تو علم کا القا اس پر ہوتا رہتا ہے یعنی فطرت اسے اگے بڑھاتی رہتی ہے۔ نوٹ۔۔۔علم وہبی کی تین اقسام ہیں ۔۔ہم بطور انسان اور بطور امتی ایک کے مالک ہیں۔ علم اکتسابی وہ ہے جس کے لیے خود ہاتھ پیر مارنے پڑتےہیں اور ساری زندگی یہ عمل جاری وہ ساری رہتا ہے اور جو مہد یعنی ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے اور لحد پہچنے تک جاری رہتا ہے چونکہ کوئی یہ نہی کہہ سکتا ہے کہ اس نے علم حاصل کرلیا اس لیے یہ کہہ سکتےہیں کہ ہم جہل سے شروع ہوکر جہل پر رہی ختم ہوجاتے ہیں یہ علم تین زریع سے حاصل ہوتا ہے۔ اہمیت رسول اللہ (ص) کے علم سے متعلق فرامین "علم حاصل کرو ، چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے " علم جہاد ہے علم ہی کے زریعے حلال و حرام کی تمیز ہے علم خلوت کا ساتھی ہے علم مشکل و آسانی کا رہبر ہے علم دشمن پر تلوار ہے علم دوستوں کی زینت ہے۔ پہچان ال محمد ع کا فرمان ہے کہ اگر تم یہ چاہتے ہو ، کہ تمارے علم میں اضافہ ہو ، تو اپنے علم کو دوسروں کے علم سے ملا لو۔ امت میں علم کے زریعے درجات کی بلندی سلمان فارسی (ع ) ’اہل علم‘ کی صحبت میں اس قدر رہے کہ اہلبیت علیہ سلام میں شامل ہوگئے۔ علم کے زریعے ہی ایک عالم بنتا ہے اور علم کی منزلت و فوائد کا اندازہ کریں امام محمد باقرع نے فرمایا ایسا عالم جو اپنے علم سے فائدہ اٹھاتا ہے ستر ہزار عابد سے بہتر ہے۔ آل محمد علیہ سلام منقول ہے کہ ایک عالم افضل ہے ہزار عابد سے اور ہزار زاہد سے۔اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی سورج کی باقی ستاروں پر اور ایک رکعت نماز جو عالم پڑھتا ہے عابد کی ستر ہزار رکعت سے افضل ہے اور علم کے ساتھ سو جانا جہالت کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے جب ایک مومن مرے اور ایک ورقہ چھوڑجائے جس پر علم لکھا ہوا ہو تووہ ورقہ قیامت کے دن اس شخص کے اور آگ کے درمیان پردہ بن جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ ہر لفظ کے بدلے میں(جو ورقہ میں لکھا ہوا ہے)اسے ایک شہر عطا کرے گا۔جو دنیا سے سات گنا بڑا ہوگا اور علماء کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا ثواب کئی گنا ہوتا ہے۔ مولا علی ع کا فرمان ہے: ایک گھڑی علماء کے ساتھ بیٹھنا خدا کو ہزار سال کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے۔اور علماء کے گھر کے دروازے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ اور حضرت علی ع کا فرمان ہے عالم کی طرف دیکھنا خدا کے نزدیک خانہ کعبہ میں اعتکاف سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#27 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک سوال ہے ۔
علم اور معلومات میں کیا فرق ہے ؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#28 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علم اور معلومات دونوں عربی لفظ ہیں۔۔۔۔
علم کا مصدر العلم ہے، جس کے معنی ہیں جاننا معلومات معلوم کی جمع ہے جس کے معنی جانی ہوئی کے ہیں اور جن چیزوں کے بارے میں جانا جائے انھیں معلومات کہتے ہیں (نقل) اس سے بہتر بھی کوئی جانتا ھے تو اپنی رائے سے نوازے
__________________
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#30 |
|
Senior Member
![]() |
کسی بھی بات کو زہن میں آسان لفظوں سے بیان کریں خود سمجھ آجائے گی کسی سے پوچھنے کی وجہ ہی پیدا نہ ہوگی
![]() ![]() یہ بھی ہوسکتا ہےکہ سحر آپی کچھ بتانا چاہتی ہوں اس لیے سوال کرلیا یعنی امتحان لینا مقصود ہو ![]() ![]() خیر جو بھی ہو علم کی جمع ہے علوم ہے اب یہ سوال بنے گا کہ علوم اور معلوم میں کیا فرق ہے صرف "م" کا فرق ہے یہ "م" کیا ہے عربی میں "م" حامل کے لیے استعمال ہوتا ہے حمد میں "م" لگا دیں محمد بنتا ہے شرف میں "م" لگا دیں مشرف بنتا ہے جواب علوم میں سے جو کچھ اپ کے پاس ہے وہ معلوم ہے۔ |
|
|
|
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| الٰہی تصور کائنات | صرف علی | توحید | 14 | 23-06-09 03:33 PM |
| ہندو مذہب میں خدا کا تصور و اجتماعی طبقہ بندی، گوتم بدھ، کنفیوشس کے تعلیمات | Real_Light | کفروشرک | 8 | 16-05-09 08:35 PM |
| اقبال کا تصور تعلیم | خرم شہزاد خرم | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 16-09-07 12:02 PM |
| اسلام کا تصورِ علم حصہ اول | زبیر | اسلامی نظریہ حیات | 2 | 17-08-07 01:08 PM |
| اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم | زبیر | اسلامی نظریہ حیات | 0 | 17-08-07 03:18 AM |