واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات



عبادات عبادات


اسلام کا تصور علم و تعلیم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-01-12, 05:49 PM  
اسلام کا تصور علم و تعلیم
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 24-01-12, 05:49 PM

((( السلام علیکم::

صاحبان پاک نیٹ !اسلام کی اساس اور اسلامی تحریک پر کچھ مضامین لکھنے کا ا رادہ کیا ہے، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ اس کم علم اور کم عمل کو توفیق اور مدد سے نوازے ، بے شک اس کی مدد اور معیت کے بغیر کسی نیکی کو انجام نہیں دیا جا سکتا اور کسی برائی سے بچا نہیں جاسکتا.

تمہید سے بھی پہلے یہ پوسٹ اسلام کے تصور علم کی ہمہ جہتی سے کچھ پردہ اٹھائے گی، تاکہ سب سے پہلے ذہنوں میں تصور علم درست ہو سکے، اور آئندہ کے مضامین میں جو بھی پیش کیا جائے ، اسے محض ""بہت اچھی تحریری کاوش"" اور ""جزاک اللہ "" سے آگے بڑھ کر دیکھا اورسمجھا جا سکے.

یہ تحریر پروفیسر خورشید صاحب کے ایک لیکچر سے ماخوذ ہے، جو پچھلے دنوں پیر ساب کے گیٹ ٹؤ گیدر پر دیا گیا. یا یہ کہہ لیں کہ گیٹ ٹو گیدر اس موقع پر رکھا گیا !!!چونکہ یہ ایک تقریر تھی،اور نوٹس وہیں پر لیے گئے، اس لیے ممکن ہے کہ اس میں تحریر والی روانی اپ کو نہ مل سکے، بہرحال نفس مضمون پر غور فرمائیں، ان شاءاللہ فائدہ ہو گا. ((((


اسلام کا تصور علم و تعلیم.

پہلی اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ہمارا اس دنیا میں مقام کیا ہے؟؟ اس کے بعد ہی ہم اگے بڑھ سکتے ہیں .

حقیقت واقعہ یہ ہے کہ آدم اور اولاد آدم کو استخلاف کی ذمہ داری سونپی گئی، خلیفہ وہ ہوتا ہے جو اصل مالک کے اختیار کو اس کے مفادات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرے اور مالک کو جواب دہ ہو.
اس نیابت اور خلافت کے سلسلے میں ہمیں دو چیزیں دی گئی ہیں ::
علم الاشیاء اور علم الھدایۃ
علم الاشیاء :: اشیاء کی حقیقت کو سمجھنے کا علم، جاننے کا شعور اور صلاحیت دی گئی
علم الھدایۃ:: صحیح و غلط کی تمیز
فاِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ.
جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

یہی وہ دو چیزیں ہیں جو حضرت انسان کو خلیفۃ اللہ ہونے کا صحیح معنوں میں اہل بناتی ہیں .

علم کا منبع اور مرکز اللہ کی ذات ہے، اور یہ ہر دو علم اللہ کی عنایت رحمت اور حکمت اس لیے ہیں کہ استخلاف کی ذمہ داری ان کے بغیر ادا نہیں ہو سکتی.
...........................................

علم محض ایک ذہنی کیفیت کا نام نہیں ہے . بلاشبہ ذہن علم و حکمت کا مرکز ہوتا ہے لیکن فرمایا گیا کہ صرف جاننا ہی نہیں اس کا اقرار بھی کرنا ہے اور اس کو پہنچانا بھی ہے، ((بلغ ما انزل الیک من ربک((. . . سانپ بن کر نہیں بیٹھ جانا بلکہ اظہار اور ابلاغ بھی علم کا لازمی حصہ ہیں .

اب یہ بتایا کہ اس اعتبار سے تین میزان ایسے ہیں جن میں تمہیں کارفرما ہونا ہے::


اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ
جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا
عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا


1:: دنیائے کائنات:: ((باسم ربک الذی خلق(( کائنات اور جو کچھ اس میں ہے.

2::انسان خود :: "انفس" ((خلق الانسان من علق((. انسان ، حیاتیاتی دنیا.

3::ٹیکنالوجی:: ((الذی علم بالقلم((قلم استعارہ ہے ٹیکنالوجی کا، انسان کی جولان گاہ کا.

یہ تینوں علم کی مختلف جہتوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہی سے اسلام ان تینوں کو اللہ سے منسلک کرنے کی خصوصیت کی بنا پردنیا کی تمام تہذیبوں اور مذاہب سے ممتاز ہوتا ہے کہ کسی نے ایک ،کسی نے دو ، اور اگر کسی نے تینوں کو بھی لیا تو پھر بھی انہیں رب العالمین سے منسلک نہیں کیا. . . یہ طرہ امتیاز صرف اور صرف اسلام ہی کا ہے!!!
یہ ہے جامع اسلامی تصور علم.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ سے منسلک ہوئے بغیر یہ علم کیاحیثیت رکھتے ہیںِ؟؟ تو علم تو یہ پھر بھی رہتے ہیں لیکن اس صورت میں یہ اسلام کے تصور علم سے نہیں ہوں گے اور اسلام کے مطلوبہ نتائج دینے سے آخری حد تک قاصر بھی رہتے ہیں .

Last edited by عبداللہ آدم; 24-01-12 at 11:33 PM..

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 980
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), نیلم خان (01-02-12), نبیل خان (24-01-12), محمد یاسرعلی (24-01-12), مرزا عامر (24-01-12), احمد نذیر (24-01-12), تبتیلا انجم (25-01-12), حیدر (30-01-12), حیدر Rehan (26-01-12), راجہ اکرام (25-01-12), رضی (05-02-12), زارا (24-01-12), سحر (24-01-12), عبیدرضا (28-01-12), غلام خان (26-01-12)
پرانا 26-01-12, 04:59 PM   #16
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default word correction

قلم کے بارے میں مجھے بھی سنتے وقت تھوڑا تردد ہوا تھا، اور میں خود اس سلسلے میں وضاحت چاہتا ہوں.

دوسری بات یہ کہ یہ اسلامی علم کے امتیازات جو ہیں، تو یہ اس علم کے لگتے ہیں جس کو ہم شرعی علم کہتے ہیں، دوسرے فنون میں تو شک اور دوسرے عوامل ویسے ہی اپلائی کیے جاتے رہے ہیں مسلمانوں کے ہاں بھی.

یا ایسا تو نہیں ہے کہ حقانیت اور نافعیت اسلامی فرض عین والے علم کے امتیازات ہوں اور باقی جو امتیازات ہیں وہ ٹیکنالوجی والے علم کے ہوں؟؟

پیر ساب سے ملتمس ہوں کہ وہ ان پہلوؤں پو روشنی ڈالیں کیونکہ وہ پروفیسر صاحب کے شاگروں میں بھی آتے ہیں.

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), حیدر (30-01-12), حیدر Rehan (27-01-12), سحر (28-01-12)
پرانا 28-01-12, 02:25 PM   #17
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک پوائنٹ اور ایڈ کرنا چاہوں گی ۔
الذی علم بالقلم
کی تفسیر میں اگر قلم کے معنی دنیاوی قلم کو یا لکھنے والی چیز کو لیا جائے ۔ تو اس کا مطلب ہوگا کہ علم حاصل کرنے کے لیے لکھنا ضروری ہے ۔ یا لکھ کر علم حاصل کیا جاتا ہے
لیکن سب کے علم میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا نہیں جانتے تھے لیکن وہ عالم اور معلم بناکر بھیجے گئے تھے ۔ ان کا علم دنیاوی قلم کے بغیر تھا ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (28-01-12), عبیدرضا (28-01-12), عبداللہ آدم (28-01-12)
پرانا 28-01-12, 04:35 PM   #18
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تو پھر وہی بات سمجھنے کی کوشش کریں جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-01-12, 10:48 PM   #19
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کل ایک اور بندے نے بھی یہی کہا ہے کہ اس سے مراد ہ تمام الات ہیں جو سیکھنے سکھانے کے عمل میں استعمال ہوتے ہیں ، کیونکہ سکھانا صرف قلم سے ہی تو نہیں ہوتا.

سیکھ کر بندہ اگے برھتا ہے اورتیکنالوجی اگے سے اگے برھنے کا نام ہے تو ایک اعتبار سے یہ بھی اس میں اتی ہے.

یعنی سیکھنا سکھانا سارا ہی تیکنالوجی نہیں ہے بلکہ تیکنالوجی اس کا ایک حصہ ہے.

واللہ اعلم
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), حیدر Rehan (31-01-12), راجہ اکرام (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 11:38 AM   #20
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکچرز کے جو نوٹس لیے جاتے ہیں ان کی مدد سے تحریر یا تقریر بنانے کا بنیادی اصول جو مجھے سمجھ آتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان نوٹس میں لکھے مختصر جملوں کو اپنے الفاظ میں پیرا گراف کی شکل دے اور پھر ان پیرا گراف کو مربوط تحریر کی شکل۔ اور یہ سارا کام اپنے ہی انداز تحریر میں ہونا چاہئے۔
تاہم اگر یادداشت ساتھ دے تو پھر اُس تمام لیکچر کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھا جا سکتا ہے اور نوٹس کی مدد سے "ری ویو" کیا جا سکتا ہے کہ کہیں کوئی اہم بات تحریر سے رہ تو نہیں گئی۔
نوٹس ۔ ۔ ۔ ۔تحریر کو غیر مربوط بنا دیتے ہیں جو پھر قاری کو پریشانی میں ڈال دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مغربی اور اسلامی علوم: شک اور یقین
اس میں کوئی شک نہیں کہ علم کی بنیاد قرآن(عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ) ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ "شاید" اس کو غیر ضروری طور پر "یقین" سے منسلک کر دیا گیا ہے۔خود قرآن نے انسان کے اندر تجسس یا شک کے مادے کو ہوا دی ہے تاکہ وہ سوچے ، سمجھے، غور کرے (یعنی تحقیق کرے۔ اسی کو ہم سائنس کہتے ہیں)۔مثلاً قرآن نے بارہا انسان کو دعوت دی ہے کہ وہ افلاک کے بارے میں سوچے، چاند ستاروں کے بارے میں سوچے اور ان پر غور کرے۔ اور پھر یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ٹیکنالوجی (یعنی القلم) کا ظہور ہوتا ہے۔ کیونکہ ٹیکنالوجی سائینس کی عملی شکل ہے۔ سائینس کہتی ہے کہ چاند زمین کے گرد اتنی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ واقعی ایسا ہی ہے۔
چناچہ میں نہیں سمجھتا کہ مغربی علم اور اسلامی علوم میں "شک اور یقین" کوئی بنیادی فرق ہے۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں قسم کے علوم میں "شک" ہی درحقیقت ایک بنیادی وجہ مشترک ہے۔
ہاں فرق یہاں پر آتا ہے کہ قرآن ہمارے اندر جو تجسس اور شک کو ابھارتا ہے اس کا مقصد ہم کو تجربات کی مدد سے یقینی منبع علم یعنی اللہ کی ذات سے شناسائی دینا ہے۔ اور جب ہم تجربات کی مدد سے ایسا کرتے ہیں تو پھر ہم کو وہ یقین حاصل ہوتا ہے جو ہم کو راہ مستقیم پر ڈٹے رہنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس تمام عمل کے دوران ہم سے جو دیگرایجادات ہوتی رہتی ہیں وہ محض بائی پراڈکٹس یعنی اضافی فائدہ جات ہیں۔ جو ہماری زندگیوں کو سہل بناتی ہیں۔
اس کے برعکس مغربی محقق و ٹیکنالوجسٹ بھی وہی کام ہی کر رہے ہوتے ہیں جو ایک مُوحد محقق و ٹیکنالوجسٹ کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن مغربی مطمع نظر محض "بائی پراڈکٹس" کا حصول ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا علوم کا مقصد محض رب العالمین کی شناسائی ہے؟
باوجود اس کے کہ میں مندرجہ بالا پیرا گراف میں علوم کا "بظاہر" مقصد "محض رب العالمین کی شناسائی" ہی بیان کر رہا ہوں۔ لیکن علوم کا "محض یہ مقصد" ماننے میں مجھے تھوڑا سا تامل ہے۔ ہم جتنا مرضی کوشش کر لیں ہم اللہ تعالیٰ کی ذات تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہاں تک ہماری رسائی نہیں ہو سکتی۔ تو ایسے میں علم کا مقصد محض رب العالمین تک شناسائی کہنا ، علوم کے مقصد کو انہتائی محدود کرنا ہے۔
علوم کا یہ محض چھوٹا سا حصہ ہے کہ "سوچ بچار، تحقیق "(المعروف سائنس) کے ذریعے اللہ کو پہچانو، پھر ان علوم کے عملی حصے (المعروف ٹیکنالوجی) کی مدد سے اللہ پر اپنے یقین کو پختہ کر لو۔
اس کے بعد علم کا اصل مقصد (خواہ وہ علم دینی ہو یا دنیاوی) ہماری دنیاوی مسائل کو حل کرنا رہ جاتا ہے۔ اس بات کی وضاحت عبد اللہ آدم کے ان جملوں سے مل جاتی ہے :
اقتباس:
پہلی اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ہمارا اس دنیا میں مقام کیا ہے؟؟ اس کے بعد ہی ہم اگے بڑھ سکتے ہیں .

حقیقت واقعہ یہ ہے کہ آدم اور اولاد آدم کو استخلاف کی ذمہ داری سونپی گئی، خلیفہ وہ ہوتا ہے جو اصل مالک کے اختیار کو اس کے مفادات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرے اور مالک کو جواب دہ ہو.
اس نیابت اور خلافت کے سلسلے میں ہمیں دو چیزیں دی گئی ہیں ::
علم الاشیاء اور علم الھدایۃ
علم الاشیاء :: اشیاء کی حقیقت کو سمجھنے کا علم، جاننے کا شعور اور صلاحیت دی گئی
علم الھدایۃ:: صحیح و غلط کی تمیز
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12), رضی (05-02-12), سحر (30-01-12), عبداللہ آدم (02-02-12)
پرانا 30-01-12, 03:08 PM   #21
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
لیکن علوم کا "محض یہ مقصد" ماننے میں مجھے تھوڑا سا تامل ہے۔ ہم جتنا مرضی کوشش کر لیں ہم اللہ تعالیٰ کی ذات تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہاں تک ہماری رسائی نہیں ہو سکتی۔ تو ایسے میں علم کا مقصد محض رب العالمین تک شناسائی کہنا ، علوم کے مقصد کو انہتائی محدود کرنا ہے۔ :
تمھارا یہ کہنا درست نہی ہے۔ اس لیے ان جملوں کو کسی دوسرے لفظوں سے بدلو یا پھر اگر چاہو تو پورا ہی پیراگراف ہٹا دو۔

کیونکہ اگر کوئی پڑھے اور یہ جملہ کسی کا عقیدہ بن جائے تو ؟؟

ظاہری اعمال انجام دینے میں روز سو غلطیاں ہوتی ہیں اور درست بھی ہوسکتی ہیں اور ہوجاتی ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ وہ ظاہری اعمال ہیں اس لیے دیکھائی دینے کی وجہ سے کوئی نہ کوئی تنبہہ کرہی دیتا ہے۔

عقائد لوگوں کو دلوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور اس لے بھی کہ عقائد پر بہت ہی کم اور کبھی کبھی ڈسکشن ہوتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ عقائد کی درستگی بہت ہی مشکل سے ہوتی ہے۔

یہاں ایک بات اور دوں
ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی عقیدہ بنا لے تو جب تک وہ زندہ رہے گا وہی عقیدہ رکھے گا اور اسی پر قائم رہے گا کیونکہ وہ ظاہری تو ہے نہی کہ کوئی درست کردے
اب اگر انسان کی زندگی ہزار سال ہو اور کوئی عقیدہ ہو تو وہ عقیدہ بھی ہزار سال رکھے گا
اگر انسان کو قیامت تک کی زندگی دی جائے تو وہ قیامت تک اپنا عقیدہ نہی بدلے گا

بس یہ دلیل اس پر قائم ہوتی ہے کہ
انسان جہنم میں اپنے عقائد کی وجہ سے جائے گا اور وہ وہاں برسوں رہےگا کیونکہ برسوں اس کا عقیدہ وہی رہا اگر ہزاروں سال زندگی ہوتی تو ہزاروں سال عقیدہ نہی بدلتا۔
یہاں خدا کی حجت قائم ہوتی ہے اس بات پر کہ وہ باطل عقیدہ شخص کو ہمشیہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دے اور یہی انصاف ہے ۔۔۔۔بے شک اللہ بہترین انصاف کرنے والہ ہے۔


اللہ ہم پر اپنے فضل و کرم کے زریعے سے رحمت فرمائے ۔۔۔آمین
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
حیدر (31-01-12), سحر (30-01-12), عبداللہ آدم (02-02-12)
پرانا 31-01-12, 11:41 AM   #22
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

علم کے بارے میں جو مجھے سمجھ آیا وہ یہاں لکھ رہی ہوں ۔
علم دو طرح کے ہوتے ہیں علم الاشیاء اور علم الھدایہ ،
یہ دونوں علوم اللہ کی طرف سے حضرت آدم علیہ السلام وہ دیے گئے تھے ، ۔ اللہ تعالیٰ تمام علم کا منبع ہے اور اللہ نے اپنی تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو اپنے علم میں سے کچھ حصہ عطا فرمایا ۔
اسی اللہ کے دئے ہوئے اپنے علم کے حصے کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا گیا ۔
علم الاشیاء یعنی مادی علم اور علم الھدایہ یعنی روحانی علم دونوں اللہ کی طرف سے انسان کو ودیعت کردیا گیا ہے ۔
علم کو حاصل کرنے کا مطلب ہے اللہ کے ودیعت کردہ علم کو اپنے اندر سے دریافت کرنا اور یہ دریافت غوروفکر سے حاصل ہوتی ہے ۔
علم صرف کتابیں پڑھنے سے نہیں اتا ہے بلکہ علم غوروفکر سے آتا ہے ۔
علم الھدایہ محض قرآن پڑھ لینے سے نہیں آتا بلکہ یہ علم اس وقت تک نہیں آتا جب تک اللہ کی آیات یعنی نشانیوں پر غوروفکر نا کی جائیں ۔ قرآن کی آیات اللہ کی نشانیاں ہی ہیں
علم الاشیاء یعنی مادی علم ۔
فزکس ، کیمسٹری ، اور بیالوجی کی کتابیں علم نہیں ہیں بلکہ ان سیبجیکٹس کی بنیاد علم پر ہے ۔
جیسے ۔
لوز آف موشنز
آرشمیدس پرنسپلز
آرشمیدس بات ٹب میں بیٹھ کر کوئی کتاب نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ غوروفکر کررہا تھا اللہ کی نشانی ۔
اور اس کو‌سمجھ آگیا ۔
اسی طرح نیوٹن نے بھی سیب گرنے کے عمل پر غوروفکر کیا تو کشش ثقل کو دریافت کیا ۔
دونوں طرح کا علم غوروفکر سے آتا ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ اللہ کے ودیعت کردہ علم کو دریافت کیا جاتا ہے ۔
اور ٹیکنالوجی علم کی امپلیمنٹیشن کو کہتے ہیں ۔

Last edited by سحر; 31-01-12 at 03:18 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-01-12), حیدر (31-01-12), حیدر Rehan (31-01-12), راجہ اکرام (31-01-12), رضی (05-02-12), عبداللہ آدم (02-02-12)
پرانا 31-01-12, 12:23 PM   #23
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
تمھارا یہ کہنا درست نہی ہے۔ اس لیے ان جملوں کو کسی دوسرے لفظوں سے بدلو یا پھر اگر چاہو تو پورا ہی پیراگراف ہٹا دو۔

کیونکہ اگر کوئی پڑھے اور یہ جملہ کسی کا عقیدہ بن جائے تو ؟؟

ظ
کوئی متبادل مناسب جملہ بتا دیں۔ میں غور کروں گا انشا اللہ
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (31-01-12)
پرانا 01-02-12, 09:25 PM   #24
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,166
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
خالد حسین (11-02-12)
پرانا 02-02-12, 06:08 PM   #25
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

علم الاشیاء میری تھوڑی بہت سمجھ کے مطابق ہے تو انسان کے فائدے کے لیے لیکن بندہ مومن اور مسلم اس کا ربط اور تع؛ق بھی علم الھدیۃ کے ساتھ جوڑ کر رکھتا ہے اور علم کی اس فیلڈ میں اپنے تصورات اور نظریات کو بھی علم الھدایہ کی روشنی میں کراس چیک کرتا رہتا ہے کہ کہیں یہ یہ بات حدوں سے باہر تو نہیں نکلی جا رہی.

واللہ اعلم/
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
حیدر (05-02-12), سحر (05-02-12)
پرانا 03-02-12, 04:24 PM   #26
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس مراسلے میں کئی موضوع ہیں اس لیے مجھے یہ سمجھ نہی آرہی کہ میں کہ کس پر بات کروں اور کس پر خاموشی اختیار کروں۔
علم کی تعریف بھی کی گئی ہے اور انسان کا منصب بھی عیاں کیا گیا ہے یہاں تک کہ خلیفہ اللہ کے درجے تک پھر یہ کہ آیات بھی علم سے متعلق تحریر کی ہیں اور بہت کچھ ہے اور یہ کہ قلب کے بجائے زہن کو علم کی جائے قرار دیا گیا ہے۔

پہلے علم کی اہمت پر نظر کی جائے پھر یہ کہ کون سے علم کی بات کررہے ہیں اور اس کی کتنی قسیمں ہیں ،اس کی پہچان کیسے ہو، پھر یہ کہ علم کے زریعے انسان کے درجات میں کسقدر بلندی ہوسکتی ہے اور منزلت میں کہاں کہاں تک فوائد ہیں خود علم حاصل کرنے والے کو کیا ملتا ہے اور جس کے پاس ہو اس کے زریعے ہمیں کیا ملتا ہے۔ پھر اس کے بعد ہی کوئی با ت کی جائے تو سمجھ سکتے ہیں کہ کیا کہا جارہا ہے۔

علم کے بے شمار فضائل اور مناقب ہیں عبادت کا لازمہ اور مقصد حیات بھی ہے معرفت الہی کا زریعہ بھی ہے اور معرفت الہی کے بغیر عبادت کا قبول ہونا ممکنات میں سے نہی ہے یعنی علم کے بغیر زندگی نہی ہے بلکہ صحیح معنوں میں تو بنا علم کے مرنا بھی جہالت ہے علم زینہ کی طرح ہے علم وسیلہ ہے اسی کے زریعے انسان بلندیوں پر پہچتا ہے

عام لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی شئے کے بارے میں جاننا ہی علم نہی ہے بلکہ اسکو سمجھنا اور اقرار کرنا بھی علم ہی ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا بھی علم ہی ہے اور بے شک حصول علم کا کم سے کم مقصد سوائے اس کے کہ اپنی اصلاح کرلی جائے اور کچھ نہی۔
بلکہ یہ سوچیں کہ علم نہ ہوتو کیا ہو

مولا علی علیہ سلام کا فرمان ہے کہ
جاہل ہمیشہ حیران ہی رہتا ہے

بنیادی طور پر علم کی دو قسمیں ہیں
وہبی اور اکتسابی
وہبی علم وہ ہوتا ہے جو اللہ ہر ایک کو عطا فرماتا ہے جسے فطری علم بھی کہا جاتا ہے جیسے مچھلی کا بچہ پیدا ہوتےہی تہرنے لگتا ہے جیسے اللہ کا فرمان ہے کہ ہم نے تمھیں تمھاری ماوں کے شکم سے اس طرح نکالا کہ تمھیں کسی شئے کا علم نہی تھا یعنی اس لاعلمی کے باوجود بھی بچے کو علم ہوتا ہے کہ رزق کہاں سے ملنا ہے ۔۔۔بس انسان اگر اپنے دل کو خالص کرلے تو علم کا القا اس پر ہوتا رہتا ہے یعنی فطرت اسے اگے بڑھاتی رہتی ہے۔
نوٹ۔۔۔علم وہبی کی تین اقسام ہیں ۔۔ہم بطور انسان اور بطور امتی ایک کے مالک ہیں۔

علم اکتسابی وہ ہے جس کے لیے خود ہاتھ پیر مارنے پڑتےہیں اور ساری زندگی یہ عمل جاری وہ ساری رہتا ہے اور جو مہد یعنی ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے اور لحد پہچنے تک جاری رہتا ہے چونکہ کوئی یہ نہی کہہ سکتا ہے کہ اس نے علم حاصل کرلیا اس لیے یہ کہہ سکتےہیں کہ ہم جہل سے شروع ہوکر جہل پر رہی ختم ہوجاتے ہیں
یہ علم تین زریع سے حاصل ہوتا ہے۔

اہمیت
رسول اللہ (ص) کے علم سے متعلق فرامین
"علم حاصل کرو ، چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے "
علم جہاد ہے
علم ہی کے زریعے حلال و حرام کی تمیز ہے
علم خلوت کا ساتھی ہے
علم مشکل و آسانی کا رہبر ہے
علم دشمن پر تلوار ہے
علم دوستوں کی زینت ہے۔

پہچان
ال محمد ع کا فرمان ہے کہ
اگر تم یہ چاہتے ہو ، کہ تمارے علم میں اضافہ ہو ، تو اپنے علم کو دوسروں کے علم سے ملا لو۔

امت میں علم کے زریعے درجات کی بلندی
سلمان فارسی (ع ) ’اہل علم‘ کی صحبت میں اس قدر رہے کہ اہلبیت علیہ سلام میں شامل ہوگئے۔


علم کے زریعے ہی ایک عالم بنتا ہے اور علم کی منزلت و فوائد کا اندازہ کریں

امام محمد باقرع نے فرمایا ایسا عالم جو اپنے علم سے فائدہ اٹھاتا ہے ستر ہزار عابد سے بہتر ہے۔

آل محمد علیہ سلام منقول ہے کہ
ایک عالم افضل ہے ہزار عابد سے اور ہزار زاہد سے۔اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی سورج کی باقی ستاروں پر اور ایک رکعت نماز جو عالم پڑھتا ہے عابد کی ستر ہزار رکعت سے افضل ہے اور علم کے ساتھ سو جانا جہالت کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے جب ایک مومن مرے اور ایک ورقہ چھوڑجائے جس پر علم لکھا ہوا ہو تووہ ورقہ قیامت کے دن اس شخص کے اور آگ کے درمیان پردہ بن جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ ہر لفظ کے بدلے میں(جو ورقہ میں لکھا ہوا ہے)اسے ایک شہر عطا کرے گا۔جو دنیا سے سات گنا بڑا ہوگا
اور علماء کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا ثواب کئی گنا ہوتا ہے۔

مولا علی ع کا فرمان ہے:
ایک گھڑی علماء کے ساتھ بیٹھنا خدا کو ہزار سال کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے۔اور علماء کے گھر کے دروازے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔

اور حضرت علی ع کا فرمان ہے
عالم کی طرف دیکھنا خدا کے نزدیک خانہ کعبہ میں اعتکاف سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
حیدر (05-02-12), سحر (05-02-12), عبداللہ آدم (03-02-12)
پرانا 05-02-12, 02:40 PM   #27
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک سوال ہے ۔
علم اور معلومات میں کیا فرق ہے ؟
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (05-02-12), حیدر Rehan (06-02-12), عبداللہ آدم (06-02-12)
پرانا 05-02-12, 06:27 PM   #28
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

علم اور معلومات دونوں عربی لفظ ہیں۔۔۔۔

علم کا مصدر العلم ہے، جس کے معنی ہیں جاننا

معلومات معلوم کی جمع ہے جس کے معنی جانی ہوئی کے ہیں
اور جن چیزوں کے بارے میں جانا جائے انھیں معلومات کہتے ہیں
(نقل)

اس سے بہتر بھی کوئی جانتا ھے تو اپنی رائے سے نوازے
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-02-12), حیدر (05-02-12), حیدر Rehan (06-02-12), سحر (05-02-12)
پرانا 05-02-12, 06:33 PM   #29
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,731
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default علم اور معلومات میں فرق

علم اور معلومات میں فرق
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (05-02-12)
پرانا 06-02-12, 12:27 PM   #30
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
ایک سوال ہے ۔
علم اور معلومات میں کیا فرق ہے ؟
کسی بھی بات کو زہن میں آسان لفظوں سے بیان کریں خود سمجھ آجائے گی کسی سے پوچھنے کی وجہ ہی پیدا نہ ہوگی
یہ بھی ہوسکتا ہےکہ سحر آپی کچھ بتانا چاہتی ہوں اس لیے سوال کرلیا یعنی امتحان لینا مقصود ہو

خیر جو بھی ہو

علم کی جمع ہے علوم ہے

اب یہ سوال بنے گا کہ
علوم اور معلوم میں کیا فرق ہے

صرف "م" کا فرق ہے

یہ "م" کیا ہے
عربی میں "م" حامل کے لیے استعمال ہوتا ہے

حمد میں "م" لگا دیں محمد بنتا ہے
شرف میں "م" لگا دیں مشرف بنتا ہے



جواب
علوم میں سے جو کچھ اپ کے پاس ہے وہ معلوم ہے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (06-02-12), زارا (06-02-12), سحر (06-02-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
الٰہی تصور کائنات صرف علی توحید 14 23-06-09 03:33 PM
ہندو مذہب میں خدا کا تصور و اجتماعی طبقہ بندی، گوتم بدھ، کنفیوشس کے تعلیمات Real_Light کفروشرک 8 16-05-09 08:35 PM
اقبال کا تصور تعلیم خرم شہزاد خرم شاعر مشرق علامہ اقبال 1 16-09-07 12:02 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ اول زبیر اسلامی نظریہ حیات 2 17-08-07 01:08 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم زبیر اسلامی نظریہ حیات 0 17-08-07 03:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger