واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات



عبادات عبادات


اسلام کا تصور علم و تعلیم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-01-12, 05:49 PM  
اسلام کا تصور علم و تعلیم
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 24-01-12, 05:49 PM

((( السلام علیکم::

صاحبان پاک نیٹ !اسلام کی اساس اور اسلامی تحریک پر کچھ مضامین لکھنے کا ا رادہ کیا ہے، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ اس کم علم اور کم عمل کو توفیق اور مدد سے نوازے ، بے شک اس کی مدد اور معیت کے بغیر کسی نیکی کو انجام نہیں دیا جا سکتا اور کسی برائی سے بچا نہیں جاسکتا.

تمہید سے بھی پہلے یہ پوسٹ اسلام کے تصور علم کی ہمہ جہتی سے کچھ پردہ اٹھائے گی، تاکہ سب سے پہلے ذہنوں میں تصور علم درست ہو سکے، اور آئندہ کے مضامین میں جو بھی پیش کیا جائے ، اسے محض ""بہت اچھی تحریری کاوش"" اور ""جزاک اللہ "" سے آگے بڑھ کر دیکھا اورسمجھا جا سکے.

یہ تحریر پروفیسر خورشید صاحب کے ایک لیکچر سے ماخوذ ہے، جو پچھلے دنوں پیر ساب کے گیٹ ٹؤ گیدر پر دیا گیا. یا یہ کہہ لیں کہ گیٹ ٹو گیدر اس موقع پر رکھا گیا !!!چونکہ یہ ایک تقریر تھی،اور نوٹس وہیں پر لیے گئے، اس لیے ممکن ہے کہ اس میں تحریر والی روانی اپ کو نہ مل سکے، بہرحال نفس مضمون پر غور فرمائیں، ان شاءاللہ فائدہ ہو گا. ((((


اسلام کا تصور علم و تعلیم.

پہلی اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ہمارا اس دنیا میں مقام کیا ہے؟؟ اس کے بعد ہی ہم اگے بڑھ سکتے ہیں .

حقیقت واقعہ یہ ہے کہ آدم اور اولاد آدم کو استخلاف کی ذمہ داری سونپی گئی، خلیفہ وہ ہوتا ہے جو اصل مالک کے اختیار کو اس کے مفادات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرے اور مالک کو جواب دہ ہو.
اس نیابت اور خلافت کے سلسلے میں ہمیں دو چیزیں دی گئی ہیں ::
علم الاشیاء اور علم الھدایۃ
علم الاشیاء :: اشیاء کی حقیقت کو سمجھنے کا علم، جاننے کا شعور اور صلاحیت دی گئی
علم الھدایۃ:: صحیح و غلط کی تمیز
فاِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ.
جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

یہی وہ دو چیزیں ہیں جو حضرت انسان کو خلیفۃ اللہ ہونے کا صحیح معنوں میں اہل بناتی ہیں .

علم کا منبع اور مرکز اللہ کی ذات ہے، اور یہ ہر دو علم اللہ کی عنایت رحمت اور حکمت اس لیے ہیں کہ استخلاف کی ذمہ داری ان کے بغیر ادا نہیں ہو سکتی.
...........................................

علم محض ایک ذہنی کیفیت کا نام نہیں ہے . بلاشبہ ذہن علم و حکمت کا مرکز ہوتا ہے لیکن فرمایا گیا کہ صرف جاننا ہی نہیں اس کا اقرار بھی کرنا ہے اور اس کو پہنچانا بھی ہے، ((بلغ ما انزل الیک من ربک((. . . سانپ بن کر نہیں بیٹھ جانا بلکہ اظہار اور ابلاغ بھی علم کا لازمی حصہ ہیں .

اب یہ بتایا کہ اس اعتبار سے تین میزان ایسے ہیں جن میں تمہیں کارفرما ہونا ہے::


اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ
جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا
عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا


1:: دنیائے کائنات:: ((باسم ربک الذی خلق(( کائنات اور جو کچھ اس میں ہے.

2::انسان خود :: "انفس" ((خلق الانسان من علق((. انسان ، حیاتیاتی دنیا.

3::ٹیکنالوجی:: ((الذی علم بالقلم((قلم استعارہ ہے ٹیکنالوجی کا، انسان کی جولان گاہ کا.

یہ تینوں علم کی مختلف جہتوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہی سے اسلام ان تینوں کو اللہ سے منسلک کرنے کی خصوصیت کی بنا پردنیا کی تمام تہذیبوں اور مذاہب سے ممتاز ہوتا ہے کہ کسی نے ایک ،کسی نے دو ، اور اگر کسی نے تینوں کو بھی لیا تو پھر بھی انہیں رب العالمین سے منسلک نہیں کیا. . . یہ طرہ امتیاز صرف اور صرف اسلام ہی کا ہے!!!
یہ ہے جامع اسلامی تصور علم.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ سے منسلک ہوئے بغیر یہ علم کیاحیثیت رکھتے ہیںِ؟؟ تو علم تو یہ پھر بھی رہتے ہیں لیکن اس صورت میں یہ اسلام کے تصور علم سے نہیں ہوں گے اور اسلام کے مطلوبہ نتائج دینے سے آخری حد تک قاصر بھی رہتے ہیں .

Last edited by عبداللہ آدم; 24-01-12 at 11:33 PM..

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 980
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), نیلم خان (01-02-12), نبیل خان (24-01-12), محمد یاسرعلی (24-01-12), مرزا عامر (24-01-12), احمد نذیر (24-01-12), تبتیلا انجم (25-01-12), حیدر (30-01-12), حیدر Rehan (26-01-12), راجہ اکرام (25-01-12), رضی (05-02-12), زارا (24-01-12), سحر (24-01-12), عبیدرضا (28-01-12), غلام خان (26-01-12)
پرانا 06-02-12, 01:00 PM   #31
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

علم و معلومات میں فرق جو میں سمجھ پائی ہوں
علم اللہ کی طرف سے ودیعت ہوتا ہے ۔ علم کو غورو فکر کے ذریعے سے حاصل یا دریافت کیا جاتا ہے۔
پہر جب یہ علم ہمارا ذہن پروسس کر کے اپنی میموری میں محفوظ کرتا ہے اس کو معلومات کہتے ہیں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (06-02-12), زارا (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 01:22 PM   #32
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
علم و معلومات میں فرق جو میں سمجھ پائی ہوں
علم اللہ کی طرف سے ودیعت ہوتا ہے ۔ علم کو غورو فکر کے ذریعے سے حاصل یا دریافت کیا جاتا ہے۔
پہر جب یہ علم ہمارا ذہن پروسس کر کے اپنی میموری میں محفوظ کرتا ہے اس کو معلومات کہتے ہیں ۔
تفصیل کے ساتھ جواب درست ہے۔ ادھی سطر میں میرا جواب بھی یہی ہے

علوم میں سے جو کچھ اپ کو حاصل ہے وہ اپکا معلوم ہے۔
نوٹ ’علوم اور معلوم میں صرف ’م‘ کا فرق ہے



اپکا معلوم ۔۔۔یعنی ’اپ کی معلومات"

Last edited by حیدر Rehan; 06-02-12 at 01:27 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
زارا (06-02-12), سحر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 01:35 PM   #33
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
علم و معلومات میں فرق جو میں سمجھ پائی ہوں
علم اللہ کی طرف سے ودیعت ہوتا ہے ۔ علم کو غورو فکر کے ذریعے سے حاصل یا دریافت کیا جاتا ہے۔
پہر جب یہ علم ہمارا ذہن پروسس کر کے اپنی میموری میں محفوظ کرتا ہے اس کو معلومات کہتے ہیں ۔
لیکن معلومات کا تعلق انسان سے ہے اور علم کا تعلق اللہ سے
اس لیے علم کو معلومات پر فضیلت حاصل ہے ۔
اور معلومات علم سے کم درجہ پر ہوتا ہے ۔
انسان کی لکھی ہوئی کتابیں معلومات پر مشتمل ہوتیں ہیں
پہر ان معلومات سے بھرپور کتب پر غوروفکر کرکے انسان علم حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ ان کتب میں معلومات کی بنیاد تو علم پر ہوتی ہے لیکن خود علم نہیں ہوتا ہے ۔ علم ہر انسان اپنی صلاحیتوں کے مطابق حاصل کرتا ہے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (07-02-12), عبداللہ آدم (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 01:47 PM   #34
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
لیکن معلومات کا تعلق انسان سے ہے اور علم کا تعلق اللہ سے
اس لیے علم کو معلومات پر فضیلت حاصل ہے ۔
اور معلومات علم سے کم درجہ پر ہوتا ہے ۔
انسان کی لکھی ہوئی کتابیں معلومات پر مشتمل ہوتیں ہیں
پہر ان معلومات سے بھرپور کتب پر غوروفکر کرکے انسان علم حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ ان کتب میں معلومات کی بنیاد تو علم پر ہوتی ہے لیکن خود علم نہیں ہوتا ہے ۔ علم ہر انسان اپنی صلاحیتوں کے مطابق حاصل کرتا ہے ۔
بالکل ٹھیک کہا سحرسسٹر۔
علم وہ ہے جو ہم حاصل کرتے ہیں یا ہمیں حاصل کرنا ہوتا ہے
لیکن
معلومات وہ ہیں جو ہمیں ازخود کتابوں اورمختلف ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔
اگرہمیں علم کسی اِنسان سے حاصل ہو رہا ہو تب علم میں "م" کا اضافہ ہو جاتا ہے
تب وہ "معلم" بن جاتا ہے اور علم ہم تک منتقل کرتا ہے۔ تب وہ منتقل شدہ علم ہمارے لئے معلومات بن جاتا ہے۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
سحر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 01:52 PM   #35
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
بالکل ٹھیک کہا سحرسسٹر۔
علم وہ ہے جو ہم حاصل کرتے ہیں یا ہمیں حاصل کرنا ہوتا ہے
لیکن
معلومات وہ ہیں جو ہمیں ازخود کتابوں اورمختلف ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔
اگرہمیں علم کسی اِنسان سے حاصل ہو رہا ہو تب علم میں "م" کا اضافہ ہو جاتا ہے
تب وہ "معلم" بن جاتا ہے اور علم ہم تک منتقل کرتا ہے۔ تب وہ منتقل شدہ علم ہمارے لئے معلومات بن جاتا ہے۔
یہاں تھوڑا سا اختلاف کروں گی ۔ کہ
کوئی انسان ہمارے اندر علم منتقل نہیں کرتا ہے بلکہ استاد اور کتاب دونوں معلومات ہی دیتے ہیں ۔ اس معلومات پر غوروفکر کے نتیجے میں اللہ ہم کو علم عطا کرتا ہے
پہر اس علم کو ہماری میموری معلومات کے طور پر محفوظ کرتی ہے۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
زارا (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 02:03 PM   #36
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
یہاں تھوڑا سا اختلاف کروں گی ۔ کہ
کوئی انسان ہمارے اندر علم منتقل نہیں کرتا ہے بلکہ استاد اور کتاب دونوں معلومات ہی دیتے ہیں ۔ اس معلومات پر غوروفکر کے نتیجے میں اللہ ہم کو علم عطا کرتا ہے
پہر اس علم کو ہماری میموری معلومات کے طور پر محفوظ کرتی ہے۔
اختلاف کا حق آپکے پاس محفوظ ہے سسٹراورممکن ہے میرانظریہ واقعی غلط ہو۔ اِصلاح کیلئے شُکریہ قبول کیجئے۔

بجا فرمایا سسٹرکہ اِنسان ہمارے اندر علم منتقل نہیں کرتا بلکہ ہمیں علم/معلومات دیتا ہے یا ہم کُتب سے حاصل کرتے ہیں۔ اُس علم کو اپنے اندراُتارنا یا جذب کرنا ہم پر ہے
یعنی
اگرہم غوروفکرکرنا چاہیں تو اللہ ہمیں مزیدعلم سے نوازتا ہے، دماغ روشن کرکے مزید راہیں ہموارکرتا ہے کہ ہم اُس پہر مزید سوچیں لیکن اگر ہم علم حاصل کرتے ہیں یعنی سُن لیتے ہیں مگر
اُس پر غور نہیں کرتے اورنارملی ڈیل کرتے ہیں کہ اچھا سن لیا ایسا ہے تو ویسا ہے، تو ایسی صورت میں علم ہماری سماعت تک محدودرہتا ہے دماغ کے پردوں تک نہیں جاتا۔
مختصرایہ گراُس علم کواپنے دماغ کی میموری میں محفوظ کرنا ہے تو ہمیں اُس پر غوروفکرکرنا ہوگا۔
اسکی مثال کمپیوٹرمیموری کی سی ہے یعنی جب تک ہم ڈیٹا کو کمپیوٹرمیموری میں محفوظ نہیں کریں گے یہ سیو نہیں ہوگا اور کمپیوٹرکے اچانک بند ہو جانے پرسب کچھ ختم ہو جائے گااورہمیں دوبارہ سوچ سمجھ کر رہی سب ٹائپ کرنا ہوگا۔ بالکل اسی طرح ہمارے دماغ کی میموری ہے۔ غوروفکرسے علم بڑھتااورپختہ ہوتا رہتا ہے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), سحر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 02:11 PM   #37
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مزید یہ کہ
دنیا میں دو طرح کی معلومات ہوتیں ہیں
ایک ایسی معلومات جس کی بنیاد علم پر ہو ۔ اور ایسی معلومات جس کی بنیاد علم پر نہیں ہو ۔
ان دونوں معلومات میں فرق ہوتا ہے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), زارا (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 02:14 PM   #38
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
بنیادی طور پر علم کی دو قسمیں ہیں
وہبی اور اکتسابی

وہبی علم وہ ہوتا ہے جو اللہ ہر ایک کو عطا فرماتا ہے جسے فطری علم بھی کہا جاتا ہے
اکتسابی علم وہ ہے جس کے لیے خود ہاتھ پیر مارنے پڑتےہیں
علم کی مختلف لوگوں نے مختلف تعریفیں کی ہیں۔ جس تعریف کا زکر کرچکا ہوں اگر اسی پر نظر ڈالیں اور سمجھیں تو ہوسکتا ہے کہ جو کچھ اب تک سمجھ نہ آیا ہو وہ سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔

وہبی علم میں آضٍافہ و اکتسابی علم کے حصول کیلیے کن لوازمات کی ضرورت ہے ؟

وہبی علم ۔۔جسے فطرت کہتے ہیں اس کے اضافہ لیے صرف عقل کی ضرورت ہے جو کہ خدا نے ہر ایک کو دی ہے اور جس جس کو دی ہے اسی سے اخرت میں سوال ہوگا اگر پاگل شخص کو عقل نہی دی گئی تو پاگل شخص پر سے اللہ نے باز پرس کی بات بھی آٹھا رکھی ہے۔
اکتسابی علم ۔۔جس کے حصول کے لیے ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں اور وہ بھی اللہ نے عطا کیے ہیں اور جس جس کو عطا کیے ہیں ’ان سے ہی وہ سوال ہوگا جو فرشتے کریں گئے کہ تمھیں کس چیز نے روکہ کہ تم ہجرت نہی کی " یعنی رزق کا حصول ہو یا دنیاوی ضروریات اس کے لیے اکتسابی علم کا تعلق بنتا ہے اور تجربہ کی ضرورت ہے اس کے لیے شہر بھی چھوڑنا پڑسکتا ہے اور لوگ اسے علم سائنس بھی کہتے ہیں۔

اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ
وہبی علم میں اضافہ کتنا ضروری ہے اور اکتسابی علم کا حصول کتنا ضروری ہے ؟
حدیث ص مبارک ہے کہ ’علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے‘
یہ حدیث مبارک سادہ لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ’علم اکتسابی‘ کے حصول کے لیے ہے ورنہ یہ بات طے ہے کہ چین میں اسلام یا نبی ص تو آئے نہی تھے کہ وہاں جانے کا رسول اکرم ص کہتے یعنی ظاہر ہے کہ وہ لوگ دنیاوی علوم میں ماہر تھے اسے ہی فن و ہنر سمجھئے۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ
علم وہبی میں اضافہ کے لیے کس طرف رجوع کیا جائے اور علم اکتسابی کے حصول لیے کس طرف رجوع کیا جائے ؟
جواب
علم وہبی میں اضافہ کے لئے ۔۔عقل کی طرف رجوع کیا جائے گا
علم اکتسابی کے حصول کیلیے ۔۔چین تک جانا پڑے تو جایا جائے گا

علم وہبی میں اضافہ آخرت کی کامیابی و بھلائی کے لیے ہے
علم اکتسابی کاحصول دنیا کی کامیابی و بھلائی کے لیے ہے

علم وہبی میں اضافہ لازمی ہے کہ اگر جاہل رہ جائے تو جاہل مرئے گا اور جاہل کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
علم اکتسابی میں اضافہ اسقدر لازمی نہی ہے کہ وہ اگر ایٹم بم کا فارمولا نہ بنا سکا اور جاہل رہ گیا تو جہنم میں جائےگا۔

۔
۔

Last edited by حیدر Rehan; 06-02-12 at 02:50 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), زارا (06-02-12), سحر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 02:18 PM   #39
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
مزید یہ کہ
دنیا میں دو طرح کی معلومات ہوتیں ہیں
ایک ایسی معلومات جس کی بنیاد علم پر ہو ۔ اور ایسی معلومات جس کی بنیاد علم پر نہیں ہو ۔
ان دونوں معلومات میں فرق ہوتا ہے
جن معلومات کی بنیاد علم پر نہ ہواسکو علم کی سب سے آخری قسم کہاجائےگا یعنی علم کی آخری قسم اگرہوتو وہ تجربات و مشاہدات ہوں گے کیونکہ اِنسان تجربات و مشاہدت سے بھی بہت کچھ سیکھتاہے لیکن اسکو"باقاعدہ علم" ہرگزنہ کہا جائے گااور نہ سمجھا جائے گابلکہ یہ علم کے حصول کی سیڑھی کی طرف سوچ سمجھ کر بڑھایاگیا ایک قدم ہوگا۔۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), حیدر Rehan (06-02-12), سحر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 02:25 PM   #40
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
علم کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں اگر میں جس تعریف کا زکر کرچکا ہوں اگر اسی پر نظر ڈالیں اور سمجھیں تو ہوسکتا ہے کہ جو کچھ اب تک سمجھ نہ آیا ہو وہ سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔

وہبی علم ۔۔جسے فطرت کہتے ہیں اس کے لیے صرف عقل کی ضرورت ہے جو کہ خدا نے ہر ایک کو دی ہے۔
اکتسابی علم ۔۔جس کے حصول کے لیے ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں اور وہ بھی اللہ نے ہر ایک کو دئے ہیں یعنی تجربہ کی ضرورت ہے اس کے لیے شہر بھی چھوڑنا پڑسکتا ہے اور لوگ اسے علم سائنس بھی کہتے ہیں۔

اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ
وہبی علم کتنا ضروری ہے اور اکتسابی علم کتنا ضروری ہے ؟
حدیث ص مبارک ہے کہ ’علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے‘
یہ حدیث مبارک سادہ لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ’علم اکتسابی‘ کے حصول کے لیے ہے ورنہ یہ بات طے ہے کہ چین میں اسلام یا نبی ص تو آئے نہی تھے کہ وہاں جانے کا رسول اکرم ص کہتے یعنی ظاہر ہے کہ وہ لوگ دنیاوی علوم میں ماہر تھے اسے ہی فن و ہنر سمجھئے۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ
علم وہبی کے لیے کس طرف رجوع کیا جائے اور علم اکتسابی کے لیے کس طرف رجوع کیا جائے ؟
جواب
علم وہبی کے لئے ۔۔عقل کی طرف رجوع کیا جائے گا
علم اکتسابی کے لیے ۔۔چین تک جانا پڑے تو جایا جائے گا

علم وہبی کا حصول آخرت کی کامیابی و بھلائی کے لیے ہے
علم اکتسابی کاحصول دنیا کی کامیابی و بھلائی کے لیے ہے

علم وہبی میں اضافہ لازمی ہے کہ اگر جاہل رہ جائے تو جاہل مرئے گا اور جاہل کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
علم اکتسابی میں اضافہ اسقدر لازمی نہی ہے کہ وہ اگر ایٹم بم کا فارمولا نہ بنا سکا اور جاہل رہ گیا تو جہنم میں جائےگا۔

۔
آپ نے جو قسمیں بتائی ہیں ان میں علم الھدائیہ تو ہے ہی نہیں ۔
علم وہبی اگر فطری علم ہے جیسے بچے کا رونا اور مچھلی کا تیرنا تو یہ علم آخرت کی کامیابی کیسے ہے ؟
ہوسکتا ہے میرے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), حیدر Rehan (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 02:28 PM   #41
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
جن معلومات کی بنیاد علم پر نہ ہواسکو علم کی سب سے آخری قسم کہاجائےگا یعنی علم کی آخری قسم اگرہوتو وہ تجربات و مشاہدات ہوں گے کیونکہ اِنسان تجربات و مشاہدت سے بھی بہت کچھ سیکھتاہے لیکن اسکو"باقاعدہ علم" ہرگزنہ کہا جائے گااور نہ سمجھا جائے گابلکہ یہ علم کے حصول کی سیڑھی کی طرف سوچ سمجھ کر بڑھایاگیا ایک قدم ہوگا۔۔
جس معلومات کی بنیاد علم پر نہیں وہ علم کی قسم کیسے ہوئی
یہ بات سمجھ نہیں آئی
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), حیدر Rehan (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 02:40 PM   #42
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
علم کی مختلف لوگوں نے مختلف تعریفیں کی ہیں۔ جس تعریف کا زکر کرچکا ہوں اگر اسی پر نظر ڈالیں اور سمجھیں تو ہوسکتا ہے کہ جو کچھ اب تک سمجھ نہ آیا ہو وہ سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔

وہبی علم میں اضافہ و اکتسابی علم کے حصول لیے کن لوازمات کی ضرورت ہے ؟

وہبی علم ۔۔جسے فطرت کہتے ہیں اس میں اضافہ کے لیے صرف عقل کی ضرورت ہے جو کہ خدا نے ہر ایک کو دی ہے اور جس جس کو دی ہے اسی سے اخرت میں سوال ہوگا اگر پاگل شخص کو عقل نہی دی گئی تو پاگل شخص پر سے اللہ نے باز پرس کی بات بھی آٹھا رکھی ہے۔
اکتسابی علم ۔۔جس کے حصول کے لیے ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں اور وہ بھی اللہ نے عطا کیے ہیں اور جس جس کو عطا کیے ہیں ’ان سے ہی وہ سوال ہوگا جو فرشتے کریں گئے کہ تمھیں کس چیز نے روکہ کہ تم ہجرت نہی کی " یعنی رزق کا حصول ہو یا دنیاوی ضروریات اس کے لیے اکتسابی علم کا تعلق بنتا ہے اور تجربہ کی ضرورت ہے اس کے لیے شہر بھی چھوڑنا پڑسکتا ہے اور لوگ اسے علم سائنس بھی کہتے ہیں۔

اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ
وہبی علم کتنا ضروری ہے اور اکتسابی علم کتنا ضروری ہے ؟
حدیث ص مبارک ہے کہ ’علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے‘
یہ حدیث مبارک سادہ لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ’علم اکتسابی‘ کے حصول کے لیے ہے ورنہ یہ بات طے ہے کہ چین میں اسلام یا نبی ص تو آئے نہی تھے کہ وہاں جانے کا رسول اکرم ص کہتے یعنی ظاہر ہے کہ وہ لوگ دنیاوی علوم میں ماہر تھے اسے ہی فن و ہنر سمجھئے۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ
علم وہبی میں اضافہ کے لیے کس طرف رجوع کیا جائے اور علم اکتسابی کے حصول کیلیے کس طرف رجوع کیا جائے ؟
جواب
علم وہبی میں اضافہ کے لئے ۔۔عقل کی طرف رجوع کیا جائے گا
علم اکتسابی کے حصول کیلیے ۔۔چین تک جانا پڑے تو جایا جائے گا

علم وہبی میں اضافہ آخرت کی کامیابی و بھلائی کے لیے ہے
علم اکتسابی کاحصول دنیا کی کامیابی و بھلائی کے لیے ہے

علم وہبی میں اضافہ لازمی ہے کہ اگر جاہل رہ جائے تو جاہل مرئے گا اور جاہل کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
علم اکتسابی میں اضافہ اسقدر لازمی نہی ہے کہ وہ اگر ایٹم بم کا فارمولا نہ بنا سکا اور جاہل رہ گیا تو جہنم میں جائےگا۔

۔
موضوع میں آسانی کے لیے کچھ اور اضافہ کیا ہے اس لیے دوبارہ پڑھنا ہوگا۔

Last edited by حیدر Rehan; 06-02-12 at 02:46 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (25-02-12)
پرانا 06-02-12, 02:52 PM   #43
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
جس معلومات کی بنیاد علم پر نہیں وہ علم کی قسم کیسے ہوئی
یہ بات سمجھ نہیں آئی
سسٹراگرہم اساتذہ یا کتب سے کچھ سیکھتے ہیں، کچھ حاصل کرتے ہیں وہ علم ہے
لیکن اگرہم مختلف تجربوں یا مشاہدات سے سیکھتے ہیں تو وہ بھی علم ہی کی ایک قسم ہے
مگریہ علم باقاعدہ علم سے مختلف ہوگا۔

جیسے کہ تجربات یا مشاہدات کی بنیاد علم پر نہیں ہے لیکن اگرہم کسی کو دیکھ کرکچھ سبق
حاصل کرتےہیں یا کچھ سیکھتے ہیں تو ہمارے لئے وہ علم ہواجس سے ہم نے کچھ نیا سیکھا۔

وہ معلومات کی بنیاد علم پر نہیں(مطلب تجربے ومشاہدے پرہے) وہ علم کی قسم میں سے
اِٹ سیلف ایک قسم ہے۔
سائنس لیب میں ہم نے سیکھا کے مینڈک کا آپریشن کیسے کرتے ہیں۔ ابھی یہ مشاہدے کے
مراحل میں ہے۔ اب ہمیں کہا جائے اسکوخود سے کریں تو یہ تجربہ ہوایعنی مشاہدے سے
سیکھااورتجربے نے اُس علم پرعمل کی مہرثبت کر دی۔ اب یہ مہرہاتھوں کی کارکردگی تک محدود
ہے یا دماغ کے خانوں میں نقش ہو گئی ہے اسکا انحصارہم پرہے کہ مشاہدے کوتجربہ اورتجربے
کوعلم بنایایا اسکو علم ایک پریکٹیکل سمجھ کرخانہ پُری کی۔ اگرہم نے تجربے کو مکمل سمجھ لیاذہن نشین کرلیا تواسطرح سے بھی علم حاصل کرنے کا حق اَدا کر لیا۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), حیدر Rehan (06-02-12), سحر (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 03:05 PM   #44
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
سسٹراگرہم اساتذہ یا کتب سے کچھ سیکھتے ہیں، کچھ حاصل کرتے ہیں وہ علم ہے
لیکن اگرہم مختلف تجربوں یا مشاہدات سے سیکھتے ہیں تو وہ بھی علم ہی کی ایک قسم ہے
مگریہ علم باقاعدہ علم سے مختلف ہوگا۔

جیسے کہ تجربات یا مشاہدات کی بنیاد علم پر نہیں ہے لیکن اگرہم کسی کو دیکھ کرکچھ سبق
حاصل کرتےہیں یا کچھ سیکھتے ہیں تو ہمارے لئے وہ علم ہواجس سے ہم نے کچھ نیا سیکھا۔

وہ معلومات کی بنیاد علم پر نہیں(مطلب تجربے ومشاہدے پرہے) وہ علم کی قسم میں سے
اِٹ سیلف ایک قسم ہے۔
سائنس لیب میں ہم نے سیکھا کے مینڈک کا آپریشن کیسے کرتے ہیں۔ ابھی یہ مشاہدے کے
مراحل میں ہے۔ اب ہمیں کہا جائے اسکوخود سے کریں تو یہ تجربہ ہوایعنی مشاہدے سے
سیکھااورتجربے نے اُس علم پرعمل کی مہرثبت کر دی۔ اب یہ مہرہاتھوں کی کارکردگی تک محدود
ہے یا دماغ کے خانوں میں نقش ہو گئی ہے اسکا انحصارہم پرہے کہ مشاہدے کوتجربہ اورتجربے
کوعلم بنایایا اسکو علم ایک پریکٹیکل سمجھ کرخانہ پُری کی۔ اگرہم نے تجربے کو مکمل سمجھ لیاذہن نشین کرلیا تواسطرح سے بھی علم حاصل کرنے کا حق اَدا کر لیا۔
زارا آپ نے جو مثال دی ہے وہ سراسر علم ہی ہے
یہ علم ہے اللہ کی آیات یعنی نشانیوں پر غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے ۔
اور اللہ کی آیات یعنی نشانیاں دو طرح کی ہیں ایک اللہ کی خلق یعنی اللہ نے جو کچھ پیدا کیا ہے
اور دوسرا قرآن اللہ کی ایات یعنی نشانی علم الھدائیہ اس پر غوروفکر سے حاصل ہوتا ہے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
زارا (06-02-12)
پرانا 06-02-12, 03:06 PM   #45
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
وہبی علم ۔۔جسے فطرت کہتے ہیں اس میں اضافہ کے لیے صرف عقل کی ضرورت ہے جو کہ خدا نے ہر ایک کو دی ہے اور جس جس کو دی ہے اسی سے اخرت میں سوال ہوگا
کیا آپ نے اس علم میں علم الھدائیہ کو شامل کردیا ہے ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (25-02-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
الٰہی تصور کائنات صرف علی توحید 14 23-06-09 03:33 PM
ہندو مذہب میں خدا کا تصور و اجتماعی طبقہ بندی، گوتم بدھ، کنفیوشس کے تعلیمات Real_Light کفروشرک 8 16-05-09 08:35 PM
اقبال کا تصور تعلیم خرم شہزاد خرم شاعر مشرق علامہ اقبال 1 16-09-07 12:02 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ اول زبیر اسلامی نظریہ حیات 2 17-08-07 01:08 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم زبیر اسلامی نظریہ حیات 0 17-08-07 03:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger