| 15 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-02-12), نیلم خان (01-02-12), نبیل خان (24-01-12), محمد یاسرعلی (24-01-12), مرزا عامر (24-01-12), احمد نذیر (24-01-12), تبتیلا انجم (25-01-12), حیدر (30-01-12), حیدر Rehan (26-01-12), راجہ اکرام (25-01-12), رضی (05-02-12), زارا (24-01-12), سحر (24-01-12), عبیدرضا (28-01-12), غلام خان (26-01-12) |
|
|
#31 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علم و معلومات میں فرق جو میں سمجھ پائی ہوں
علم اللہ کی طرف سے ودیعت ہوتا ہے ۔ علم کو غورو فکر کے ذریعے سے حاصل یا دریافت کیا جاتا ہے۔ پہر جب یہ علم ہمارا ذہن پروسس کر کے اپنی میموری میں محفوظ کرتا ہے اس کو معلومات کہتے ہیں ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (06-02-12), زارا (06-02-12) |
|
|
#32 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
علوم میں سے جو کچھ اپ کو حاصل ہے وہ اپکا معلوم ہے۔ نوٹ ’علوم اور معلوم میں صرف ’م‘ کا فرق ہے اپکا معلوم ۔۔۔یعنی ’اپ کی معلومات" Last edited by حیدر Rehan; 06-02-12 at 01:27 PM. |
|
|
|
|
|
|
#33 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس لیے علم کو معلومات پر فضیلت حاصل ہے ۔ اور معلومات علم سے کم درجہ پر ہوتا ہے ۔ انسان کی لکھی ہوئی کتابیں معلومات پر مشتمل ہوتیں ہیں پہر ان معلومات سے بھرپور کتب پر غوروفکر کرکے انسان علم حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ ان کتب میں معلومات کی بنیاد تو علم پر ہوتی ہے لیکن خود علم نہیں ہوتا ہے ۔ علم ہر انسان اپنی صلاحیتوں کے مطابق حاصل کرتا ہے ۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (07-02-12), عبداللہ آدم (06-02-12) |
|
|
#34 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
علم وہ ہے جو ہم حاصل کرتے ہیں یا ہمیں حاصل کرنا ہوتا ہے لیکن معلومات وہ ہیں جو ہمیں ازخود کتابوں اورمختلف ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ اگرہمیں علم کسی اِنسان سے حاصل ہو رہا ہو تب علم میں "م" کا اضافہ ہو جاتا ہے تب وہ "معلم" بن جاتا ہے اور علم ہم تک منتقل کرتا ہے۔ تب وہ منتقل شدہ علم ہمارے لئے معلومات بن جاتا ہے۔
__________________
![]() |
|
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | سحر (06-02-12) |
|
|
#35 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کوئی انسان ہمارے اندر علم منتقل نہیں کرتا ہے بلکہ استاد اور کتاب دونوں معلومات ہی دیتے ہیں ۔ اس معلومات پر غوروفکر کے نتیجے میں اللہ ہم کو علم عطا کرتا ہے پہر اس علم کو ہماری میموری معلومات کے طور پر محفوظ کرتی ہے۔ |
|
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | زارا (06-02-12) |
|
|
#36 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بجا فرمایا سسٹرکہ اِنسان ہمارے اندر علم منتقل نہیں کرتا بلکہ ہمیں علم/معلومات دیتا ہے یا ہم کُتب سے حاصل کرتے ہیں۔ اُس علم کو اپنے اندراُتارنا یا جذب کرنا ہم پر ہے یعنی اگرہم غوروفکرکرنا چاہیں تو اللہ ہمیں مزیدعلم سے نوازتا ہے، دماغ روشن کرکے مزید راہیں ہموارکرتا ہے کہ ہم اُس پہر مزید سوچیں لیکن اگر ہم علم حاصل کرتے ہیں یعنی سُن لیتے ہیں مگر اُس پر غور نہیں کرتے اورنارملی ڈیل کرتے ہیں کہ اچھا سن لیا ایسا ہے تو ویسا ہے، تو ایسی صورت میں علم ہماری سماعت تک محدودرہتا ہے دماغ کے پردوں تک نہیں جاتا۔ مختصرایہ گراُس علم کواپنے دماغ کی میموری میں محفوظ کرنا ہے تو ہمیں اُس پر غوروفکرکرنا ہوگا۔ اسکی مثال کمپیوٹرمیموری کی سی ہے یعنی جب تک ہم ڈیٹا کو کمپیوٹرمیموری میں محفوظ نہیں کریں گے یہ سیو نہیں ہوگا اور کمپیوٹرکے اچانک بند ہو جانے پرسب کچھ ختم ہو جائے گااورہمیں دوبارہ سوچ سمجھ کر رہی سب ٹائپ کرنا ہوگا۔ بالکل اسی طرح ہمارے دماغ کی میموری ہے۔ غوروفکرسے علم بڑھتااورپختہ ہوتا رہتا ہے۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (25-02-12), سحر (06-02-12) |
|
|
#37 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مزید یہ کہ
دنیا میں دو طرح کی معلومات ہوتیں ہیں ایک ایسی معلومات جس کی بنیاد علم پر ہو ۔ اور ایسی معلومات جس کی بنیاد علم پر نہیں ہو ۔ ان دونوں معلومات میں فرق ہوتا ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (25-02-12), زارا (06-02-12) |
|
|
#38 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
وہبی علم میں آضٍافہ و اکتسابی علم کے حصول کیلیے کن لوازمات کی ضرورت ہے ؟ وہبی علم ۔۔جسے فطرت کہتے ہیں اس کے اضافہ لیے صرف عقل کی ضرورت ہے جو کہ خدا نے ہر ایک کو دی ہے اور جس جس کو دی ہے اسی سے اخرت میں سوال ہوگا اگر پاگل شخص کو عقل نہی دی گئی تو پاگل شخص پر سے اللہ نے باز پرس کی بات بھی آٹھا رکھی ہے۔ اکتسابی علم ۔۔جس کے حصول کے لیے ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں اور وہ بھی اللہ نے عطا کیے ہیں اور جس جس کو عطا کیے ہیں ’ان سے ہی وہ سوال ہوگا جو فرشتے کریں گئے کہ تمھیں کس چیز نے روکہ کہ تم ہجرت نہی کی " یعنی رزق کا حصول ہو یا دنیاوی ضروریات اس کے لیے اکتسابی علم کا تعلق بنتا ہے اور تجربہ کی ضرورت ہے اس کے لیے شہر بھی چھوڑنا پڑسکتا ہے اور لوگ اسے علم سائنس بھی کہتے ہیں۔ اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ وہبی علم میں اضافہ کتنا ضروری ہے اور اکتسابی علم کا حصول کتنا ضروری ہے ؟ حدیث ص مبارک ہے کہ ’علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے‘ یہ حدیث مبارک سادہ لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ’علم اکتسابی‘ کے حصول کے لیے ہے ورنہ یہ بات طے ہے کہ چین میں اسلام یا نبی ص تو آئے نہی تھے کہ وہاں جانے کا رسول اکرم ص کہتے یعنی ظاہر ہے کہ وہ لوگ دنیاوی علوم میں ماہر تھے اسے ہی فن و ہنر سمجھئے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ علم وہبی میں اضافہ کے لیے کس طرف رجوع کیا جائے اور علم اکتسابی کے حصول لیے کس طرف رجوع کیا جائے ؟ جواب علم وہبی میں اضافہ کے لئے ۔۔عقل کی طرف رجوع کیا جائے گا علم اکتسابی کے حصول کیلیے ۔۔چین تک جانا پڑے تو جایا جائے گا علم وہبی میں اضافہ آخرت کی کامیابی و بھلائی کے لیے ہے علم اکتسابی کاحصول دنیا کی کامیابی و بھلائی کے لیے ہے علم وہبی میں اضافہ لازمی ہے کہ اگر جاہل رہ جائے تو جاہل مرئے گا اور جاہل کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ علم اکتسابی میں اضافہ اسقدر لازمی نہی ہے کہ وہ اگر ایٹم بم کا فارمولا نہ بنا سکا اور جاہل رہ گیا تو جہنم میں جائےگا۔ ۔ ۔ Last edited by حیدر Rehan; 06-02-12 at 02:50 PM. |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#39 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جن معلومات کی بنیاد علم پر نہ ہواسکو علم کی سب سے آخری قسم کہاجائےگا یعنی علم کی آخری قسم اگرہوتو وہ تجربات و مشاہدات ہوں گے کیونکہ اِنسان تجربات و مشاہدت سے بھی بہت کچھ سیکھتاہے لیکن اسکو"باقاعدہ علم" ہرگزنہ کہا جائے گااور نہ سمجھا جائے گابلکہ یہ علم کے حصول کی سیڑھی کی طرف سوچ سمجھ کر بڑھایاگیا ایک قدم ہوگا۔۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#40 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
علم وہبی اگر فطری علم ہے جیسے بچے کا رونا اور مچھلی کا تیرنا تو یہ علم آخرت کی کامیابی کیسے ہے ؟ ہوسکتا ہے میرے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو ۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (25-02-12), حیدر Rehan (06-02-12) |
|
|
#41 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ بات سمجھ نہیں آئی |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (25-02-12), حیدر Rehan (06-02-12) |
|
|
#42 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
Last edited by حیدر Rehan; 06-02-12 at 02:46 PM. |
|
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (25-02-12) |
|
|
#43 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن اگرہم مختلف تجربوں یا مشاہدات سے سیکھتے ہیں تو وہ بھی علم ہی کی ایک قسم ہے مگریہ علم باقاعدہ علم سے مختلف ہوگا۔ جیسے کہ تجربات یا مشاہدات کی بنیاد علم پر نہیں ہے لیکن اگرہم کسی کو دیکھ کرکچھ سبق حاصل کرتےہیں یا کچھ سیکھتے ہیں تو ہمارے لئے وہ علم ہواجس سے ہم نے کچھ نیا سیکھا۔ وہ معلومات کی بنیاد علم پر نہیں(مطلب تجربے ومشاہدے پرہے) وہ علم کی قسم میں سے اِٹ سیلف ایک قسم ہے۔ سائنس لیب میں ہم نے سیکھا کے مینڈک کا آپریشن کیسے کرتے ہیں۔ ابھی یہ مشاہدے کے مراحل میں ہے۔ اب ہمیں کہا جائے اسکوخود سے کریں تو یہ تجربہ ہوایعنی مشاہدے سے سیکھااورتجربے نے اُس علم پرعمل کی مہرثبت کر دی۔ اب یہ مہرہاتھوں کی کارکردگی تک محدود ہے یا دماغ کے خانوں میں نقش ہو گئی ہے اسکا انحصارہم پرہے کہ مشاہدے کوتجربہ اورتجربے کوعلم بنایایا اسکو علم ایک پریکٹیکل سمجھ کرخانہ پُری کی۔ اگرہم نے تجربے کو مکمل سمجھ لیاذہن نشین کرلیا تواسطرح سے بھی علم حاصل کرنے کا حق اَدا کر لیا۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#44 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ علم ہے اللہ کی آیات یعنی نشانیوں پر غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے ۔ اور اللہ کی آیات یعنی نشانیاں دو طرح کی ہیں ایک اللہ کی خلق یعنی اللہ نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور دوسرا قرآن اللہ کی ایات یعنی نشانی علم الھدائیہ اس پر غوروفکر سے حاصل ہوتا ہے ۔ |
|
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | زارا (06-02-12) |
|
|
#45 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (25-02-12) |
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| الٰہی تصور کائنات | صرف علی | توحید | 14 | 23-06-09 03:33 PM |
| ہندو مذہب میں خدا کا تصور و اجتماعی طبقہ بندی، گوتم بدھ، کنفیوشس کے تعلیمات | Real_Light | کفروشرک | 8 | 16-05-09 08:35 PM |
| اقبال کا تصور تعلیم | خرم شہزاد خرم | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 16-09-07 12:02 PM |
| اسلام کا تصورِ علم حصہ اول | زبیر | اسلامی نظریہ حیات | 2 | 17-08-07 01:08 PM |
| اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم | زبیر | اسلامی نظریہ حیات | 0 | 17-08-07 03:18 AM |