واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات



عبادات عبادات


اسلام کا تصور علم و تعلیم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-01-12, 05:49 PM  
اسلام کا تصور علم و تعلیم
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آف لائن ہے 24-01-12, 05:49 PM

((( السلام علیکم::

صاحبان پاک نیٹ !اسلام کی اساس اور اسلامی تحریک پر کچھ مضامین لکھنے کا ا رادہ کیا ہے، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ اس کم علم اور کم عمل کو توفیق اور مدد سے نوازے ، بے شک اس کی مدد اور معیت کے بغیر کسی نیکی کو انجام نہیں دیا جا سکتا اور کسی برائی سے بچا نہیں جاسکتا.

تمہید سے بھی پہلے یہ پوسٹ اسلام کے تصور علم کی ہمہ جہتی سے کچھ پردہ اٹھائے گی، تاکہ سب سے پہلے ذہنوں میں تصور علم درست ہو سکے، اور آئندہ کے مضامین میں جو بھی پیش کیا جائے ، اسے محض ""بہت اچھی تحریری کاوش"" اور ""جزاک اللہ "" سے آگے بڑھ کر دیکھا اورسمجھا جا سکے.

یہ تحریر پروفیسر خورشید صاحب کے ایک لیکچر سے ماخوذ ہے، جو پچھلے دنوں پیر ساب کے گیٹ ٹؤ گیدر پر دیا گیا. یا یہ کہہ لیں کہ گیٹ ٹو گیدر اس موقع پر رکھا گیا !!!چونکہ یہ ایک تقریر تھی،اور نوٹس وہیں پر لیے گئے، اس لیے ممکن ہے کہ اس میں تحریر والی روانی اپ کو نہ مل سکے، بہرحال نفس مضمون پر غور فرمائیں، ان شاءاللہ فائدہ ہو گا. ((((


اسلام کا تصور علم و تعلیم.

پہلی اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ہمارا اس دنیا میں مقام کیا ہے؟؟ اس کے بعد ہی ہم اگے بڑھ سکتے ہیں .

حقیقت واقعہ یہ ہے کہ آدم اور اولاد آدم کو استخلاف کی ذمہ داری سونپی گئی، خلیفہ وہ ہوتا ہے جو اصل مالک کے اختیار کو اس کے مفادات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرے اور مالک کو جواب دہ ہو.
اس نیابت اور خلافت کے سلسلے میں ہمیں دو چیزیں دی گئی ہیں ::
علم الاشیاء اور علم الھدایۃ
علم الاشیاء :: اشیاء کی حقیقت کو سمجھنے کا علم، جاننے کا شعور اور صلاحیت دی گئی
علم الھدایۃ:: صحیح و غلط کی تمیز
فاِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّيْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ.
جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

یہی وہ دو چیزیں ہیں جو حضرت انسان کو خلیفۃ اللہ ہونے کا صحیح معنوں میں اہل بناتی ہیں .

علم کا منبع اور مرکز اللہ کی ذات ہے، اور یہ ہر دو علم اللہ کی عنایت رحمت اور حکمت اس لیے ہیں کہ استخلاف کی ذمہ داری ان کے بغیر ادا نہیں ہو سکتی.
...........................................

علم محض ایک ذہنی کیفیت کا نام نہیں ہے . بلاشبہ ذہن علم و حکمت کا مرکز ہوتا ہے لیکن فرمایا گیا کہ صرف جاننا ہی نہیں اس کا اقرار بھی کرنا ہے اور اس کو پہنچانا بھی ہے، ((بلغ ما انزل الیک من ربک((. . . سانپ بن کر نہیں بیٹھ جانا بلکہ اظہار اور ابلاغ بھی علم کا لازمی حصہ ہیں .

اب یہ بتایا کہ اس اعتبار سے تین میزان ایسے ہیں جن میں تمہیں کارفرما ہونا ہے::


اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ
جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا
عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا


1:: دنیائے کائنات:: ((باسم ربک الذی خلق(( کائنات اور جو کچھ اس میں ہے.

2::انسان خود :: "انفس" ((خلق الانسان من علق((. انسان ، حیاتیاتی دنیا.

3::ٹیکنالوجی:: ((الذی علم بالقلم((قلم استعارہ ہے ٹیکنالوجی کا، انسان کی جولان گاہ کا.

یہ تینوں علم کی مختلف جہتوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہی سے اسلام ان تینوں کو اللہ سے منسلک کرنے کی خصوصیت کی بنا پردنیا کی تمام تہذیبوں اور مذاہب سے ممتاز ہوتا ہے کہ کسی نے ایک ،کسی نے دو ، اور اگر کسی نے تینوں کو بھی لیا تو پھر بھی انہیں رب العالمین سے منسلک نہیں کیا. . . یہ طرہ امتیاز صرف اور صرف اسلام ہی کا ہے!!!
یہ ہے جامع اسلامی تصور علم.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ سے منسلک ہوئے بغیر یہ علم کیاحیثیت رکھتے ہیںِ؟؟ تو علم تو یہ پھر بھی رہتے ہیں لیکن اس صورت میں یہ اسلام کے تصور علم سے نہیں ہوں گے اور اسلام کے مطلوبہ نتائج دینے سے آخری حد تک قاصر بھی رہتے ہیں .

Last edited by عبداللہ آدم; 24-01-12 at 11:33 PM..

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 978
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), نیلم خان (01-02-12), نبیل خان (24-01-12), محمد یاسرعلی (24-01-12), مرزا عامر (24-01-12), احمد نذیر (24-01-12), تبتیلا انجم (25-01-12), حیدر (30-01-12), حیدر Rehan (26-01-12), راجہ اکرام (25-01-12), رضی (05-02-12), زارا (24-01-12), سحر (24-01-12), عبیدرضا (28-01-12), غلام خان (26-01-12)
پرانا 07-02-12, 04:16 PM   #61
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

انسان سے یوم الست میں کئے گئے وعدہ کی بنیاد ھدایت پر ہی تھی مطلب یہی ہوا کہ علم ھدایت ہے اور ھدایت علم ہے
اگر یہ مان لیا جائے کہ انسان علم کے دونوں قسموں سے یعنی علم وہبی اور علم اکتسابی سے محروم یعنی جاہل پیدا کیا گیا ہے تو وہ علم کہاں ہےیعنی وہ ھدایت کو کیا کہیں گئے ؟ اور اگر ہمیں اس کا علم ہی نہی ہے تو کیا اس کا سوال نہی ہوگا؟ کیون نہ ہوگا جب کوئی وعدہ کیا گیا ہے تو ضرور پوچھا جائےگا.

ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تمام انبیا علیہ سلام اور کتب سماوی کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ہمیں وہ وعدہ یاد دلانے کے لیے ہی آئے ہیں جو ہماری اروحوں نے یوم الست کو کیا ۔۔۔لیکن چونکہ ہماری نفوس اسقدر گناہوں سے آلودہ ہوچکے ہیں کہ ہمیں لاکھ یاد دہانی کے باوجود کچھ یاد ہی نہی آرہا یعنی کچھ ریٹریو Retrieve نہی ہوپارہا۔

علم وہبی میں اضافہ و ریٹریو کرنا ۔۔مزید آسانی کے لیے ایک لفظ Retrieveاور شامل کیا ہے اس لیے اس کو ایک مثال سے سمجھیں کہ جیسے ہم ہارڈ ڈسک میں سے خاص میموری کو Retrieve کرتے ہیں اسی طرح ہم علم وہبی میں اضافہ کرنا سے مراد یہ بھی ہے کہ ہم اپنے علم کو ریٹریو کرنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی اپنے ڈی این اے میں موجود علم وہبی کو Retrieve کرتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں.

یعنی کیا جس کوصرف فطرت کہہ کر ٹھکانے لگادیا گیا ہے وہ علم وہبی تو نہی ؟؟

کہتے ہیں کہ انسان اپنے خالق اور اس کی ربوبیت کے جس شعوراورخیروشرکی جس معرفت کے ساتھ اس دنیامیں آتا ہے اسے فطرت کہتے ہیں تو پھر ہم فطرت کو ’علم وہبی‘ کیوں نہ کہیں ؟ کیونکہ دین کی بنیاد علم پر ہے اس لیے کہتے ہیں کہ دین کی بنیاد فطرت پرہے

سورہ روم ایت 30
’پس تم اپنارخ یک سوہوکر دین حنیفی کی طرف کرو ، اس (دین)فطرت کی پیروی کروجس پراللہ نے لوگوں کوپیداکیا۔‘‘

کیا ’علم وہبی‘ انسان میں ودیعت کردہ اسی فطرت کا ہی نام نہی ؟کیونکہ اسی فطرت کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی پیروی کرو

سورۂ اعراف آیت نمبر172۔۔ترجمہ
اُ س وقت کو یاد کرو جب تمھارے پروردگار نے اولادِ آدم کی صلب سے ان کی ذریت کو لیا اور اُنھیں اُن کے اپنے نفسوں پر گواہ بنادیا (اور پھر اُن سے سوال کیا) کیا میں تمھارا پروردگار نہیں ہوں ۔ اُنھوں نے کہا ہاں ہم گواہی دیتے ہیں ۔ (خدا نے ایسا کیوں کیا) اس لئے کہ وہ قیامت کے دِن یہ عذر پیش نہ کریں کہ ہمیں معلوم نہ تھا (اور توحید اور خدا کو جاننے کے فطری عہدسے بے خبر تھے) ۔

اللہ نے اپنےتعارف کے بعد یعنی انسانوں کوخالق اور رب کی مکمل معرفت کے بعد اس دنیا میں بھیجا ہے اور فطرت گواہ ہے کہ یہ نقش مٹے نہی ہیں۔تو کیا یہ وہی علم وہبی نہی ہوسکتا ؟؟

سورہ شمس ایت 7 سے 10
اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور جس نے اسے درست کیا۔
پھر اسے فجو ر و تقویٰ ( خیر و شر)کاالہام کیا۔
کہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہ فلاح پاگیا ( اور رست گار ہوا۔
اور جس نے اپنے نفس کو معصیت اور گناہ سے آلودہ کیاوہ ناامید اور محروم ہوا۔


علم وہبی/فطرت یہ بتاتا ہے کہ انسان اس دنیامیں اندھانہیں آیا، بلکہ یہ بات واضح ہے کہ انسان پہلے ہی دن سے اپنے خالق کا ایک مکمل شعور اورنیکی اوربدی کا ایک واضح تصور رکھتا ہے اسی لیے اسلام کو دین فطرت کہا جاتا ہے۔ ایمان و اخلاق کی جس دعوت کواسلام پیش کرتا ہے اس کی اساس انسان میں پہلے ہی دن سے موجودہے۔

حدیث رسول ص ہے کہ : ہربچہ فطرت پرپیدا ہوتا ہے پھریہ اس کے والدین ہیں جواسے یہودی ، نصرانی اورمجوسی بنادیتے ہیں۔

اس حدیث سے بھی قرآن کریم کے بیان کی تائیدہوتی ہے ۔ اس کے مطابق ہربچہ دین فطرت یعنی اسلام پرپیدا ہوتا ہے۔یعنی اس کے اندراپنے خالق کی توحید کامکمل شعور اور خیروشرکی اساس موجود ہوتی ہے۔ اوراگر یہ سراسر علم نہی تو پھر کیا ہے ؟


سورہ طہ ایت 50
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہمارا رب وہی ہے جس نے ہر چیز کو (اس کے لائق) وجود بخشا پھر (اس کے حسبِ حال) اس کی رہنمائی کی.
ہمارے پروردگار(اللہ) نے ہر شئی کو اس کا مکمل وجود عطا کیا(فرائض بجالانے) کی اس ہدایت دی۔

یعنی ھدایت دی گی ہے اگر یہ ھدایت علم نہی ہے اور یہ علم وہبی نہی ہے تو پھر کیا ہے ??

علم وہبی میں اضافہ و ری بیک/ Retrieve کرنا
صرف اور صرف عقل کی روشنی میں ممکن ہے اور عقل جس جس کو دی ہے اسی سے سوال ہوگا۔

خدا کی طرف سے انبیا علیہ سلام کا آنا اور پچھلی امتوں میں مختلف صحیفہ جات کا نزول اور خود قران پاک کا نازل ہونا اور یہ بھی کہ خدا کا یہ کہنا کہ چاند ستاروں پر غور کرو ، دن و رات کے آنے جانے پر غور کرو اس بات کی دلیل ہے کہ ایڈشنل سپورٹ چاہئے تاکہ وہ درست مقام تک پہچنے میں مذید آسانی ہو
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), زارا (07-02-12), سحر (07-02-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
الٰہی تصور کائنات صرف علی توحید 14 23-06-09 03:33 PM
ہندو مذہب میں خدا کا تصور و اجتماعی طبقہ بندی، گوتم بدھ، کنفیوشس کے تعلیمات Real_Light کفروشرک 8 16-05-09 08:35 PM
اقبال کا تصور تعلیم خرم شہزاد خرم شاعر مشرق علامہ اقبال 1 16-09-07 12:02 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ اول زبیر اسلامی نظریہ حیات 2 17-08-07 01:08 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم زبیر اسلامی نظریہ حیات 0 17-08-07 03:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:47 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger