واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات



عبادات عبادات


اور یہ کہ میری محبت اللہ کیلئے ہو

Like Tree2Likes
  • 1 Post By عبداللہ آدم
  • 1 Post By سحر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-10-11, 07:54 PM   #1
اور یہ کہ میری محبت اللہ کیلئے ہو
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 19-10-11, 07:54 PM

ماخوذ: اغاثۃ اللھفان

مؤلفہ: ابن قیم الجوزیہ

انتخاب: محمد زکریا


عشق، غرام(1)صَبابۃ (2)، شغف (3) اور ھَوَی جیسے الفاظ پاکیزہ جذبات کے اظہار کیلئے استعمال نہیں ہوتے۔ محبت کے جذبات کیلئے جو الفاظ اللہ کیلئے جائز اور درست ہیں، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ علاوہ لفظ ’محبت‘ کے عبادت، انابت (4) اور اخبات (5) کا ذکر کرتے ہیں۔

(1) فریفتگی

(2) (محبت کے جذبات میں) سلگتا ہوا جوش اور جذبہ اشتیاق۔

(3) کسی کی طرف اُس کے پرکشش ہونے کی وجہ سے دِل پر کھچاﺅ محسوس کرکے بے قرار ہو جانا اور سب کچھ کرنے پر آمادہ ہونا۔

(4) داد رسی کیلے پُرامید ہو کر رجوع کرنا۔

(5) اللہ کے سامنے فروتنی، انکساری اور ذلت کے جذبات کو بہ خوشی قبول کرکے پیش کرنا۔


صالحین کی نظر میں اللہ کیلئے محبت کس قدر اہم ہے اور کس قدر یہ نازک، لطیف اور پُر مغز جذبہ ہے، اس کا اندازہ تو اقتباس پڑھ کر ہوگا البتہ اگر کتاب وسنت کو چھوڑ کر کسی اور ذریعے سے محبت کے جذبات کی آبیاری کی جاتی ہے تو وہ نہایت سنگین نتائج کو لاتی ہے، اگر شرعی علم ہی سب جذبات کی بنیاد بنا رہے اور علم ہی کے ہاتھ میں جذبات کی باگ رہے تو پھر بندہ منزل پر جلد پہنچ جاتا ہے، بھٹکنے سے بچ جاتا ہے۔

محبت میں ایک ایسی طاقت ہوتی ہے جو مطلوب کی طرف ایک زبردست حرکت کا باعث بنتی ہے۔رحمن سے محبت قرآن سے محبت، علم وعرفان اور ایمان سے محبت اِن لطیف معانی کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے تو مال و دولت، حصول زر، صنم پرستی اور مظاہر پرستی کی محبت شرک کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ عورتوں اور چھوکروں سے محبت رذیل اخلاق کی طرف جبکہ وطن پرستی، قوم پرستی اور نسل پرستی سے محبت تعصب کی طرف لے جاتی ہے اور اگر تم غور وفکر سے کام لو تو بندے کے ہر فعل کے پیچھے محبت کی وجہ سے ارادے کی قوت پیدا ہوتی ہے لہٰذا ایسی زور آور اور مفید قوت کو صحیح رخ پر نہ ڈالا جائے تو بڑے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے، اِس لئے بندہ سب سے زیادہ جس چیز کا محتاج ہے وہ اُن امور کی بابت اس کی آگاہی ہے جو اُسے ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں اور اِس آگاہی کا نام شریعت میں علم ہے۔

علم کی بدولت ضرر رساں اور نفع بخش چیزوں سے آگاہی ہوتی ہے۔ پس جب کبھی کوئی بندہ اِس بات کا علم حقیقی پا لے گا کہ بندے کیلئے کون کون سی چیزیں ضرر رساں ہیں اور کون کون سی نفع بخش تو وہ ضرر سے بچے گا اور اُس سے نفرت کرے گا، نفع دینے والے کام دلجمعی سے انجام دے گا تو ایسے قلب میں نفرت اور محبت کی صحیح پہچان ایسی بیٹھے گی کہ وہ اُس چیز سے محبت کرے گا جسے اُس کے رب نے پسند کیا ہوگا اور اُس چیز سے نفرت کرے گا جو اُس کے رب کے ہاں قابل نفرت ہے۔

اِس بات کو تم ایک اور طرح سے بھی سمجھ سکتے ہو، ایک طریقہ عقل اور دانش کا ہے اور دوسرا شریعت اور وحی کا ہے، واقعہ یہ ہے کہ انسان کی عقل اور فطرت میں اچھائیوں سے محبت ایسی رچ بس گئی ہے کہ ہر عاقل اس بات سے محبت کرتا ہے کہ سچ کا بول بالا ہو، عدل وانصاف، احسان، وفاداری اور فرماں برداری، عفت، دلیری، سخاوت، بلند اخلاق، امانت میں خیانت نہ کرنا، صلہ رحمی کرنا، لوگوں کا بھلا چاہنا، عہد وپیمان کا پاس لحاظ رکھنا، پڑوسی کے حقوق ادا کرنا، مہمان نواز اور غریب نواز ہونا، دُکھ بانٹنا اور ایسے ہی دوسرے اعلیٰ اخلاق سے محبت انسانی فطرت میں بسا دی گئی ہے، دوسری طرف بُرائیوں کے خلاف نفس کی فطرت اللہ کی طرف سے ایسی بنائی گئی ہے کہ وہ اُن سے نفرت کرتا ہے۔

پس اعلیٰ قدروں کو اس پر قیاس کرو کہ آدمی پیاس کی حالت میں صاف شفاف ٹھنڈے پانی کی طرف فطری طور پر مائل ہوتا ہے، بھوک کے وقت پاکیزہ اور تازہ پکوان بھوک کو تو مٹاتے ہی ہیں، نفس میں ایک تازگی اور قوت بھی پیدا کرتے ہیں، گرمی میں ٹھنڈے لباس اور جاڑے میں گرم لباس بدن کو سکون پہنچاتے ہیں۔

جیسے ان چیزوں کی طرف طبیعت کا رجحان ایک فطری واقعہ ہے، اُسی طرح بلند اخلاق کی طرف انسان کا فطری میلان بھی ایک واقعہ ہے اور اُن کے متضاد اخلاق سے نفرت کرنا بھی اس کا فطرح رجحان ہے۔ بعضے لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ اچھائی اور بُرائی کا سارا دارومدار وحی پر ہے اور عقل ودانش اور انسانی فطرت اچھائیوں کا ادراک کرنے سے قاصر ہے تو اُن کا دعویٰ سراسر انسانی فطرت اور خالق کی تخلیق کی غایت کے خلاف ہے۔
shafirajput likes this.
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

Last edited by کنعان; 19-10-11 at 08:04 PM.. وجہ: Re.Edited fonts

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 283
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (09-05-12), فیاض انصاری (31-01-12), پاکستانی (19-10-11), محمد عاصم (20-10-11), راجہ اکرام (20-10-11), سحر (20-10-11)
پرانا 20-10-11, 12:24 PM   #2
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
عشق، غرام(1)صَبابۃ (2)، شغف (3) اور ھَوَی جیسے الفاظ پاکیزہ جذبات کے اظہار کیلئے استعمال نہیں ہوتے۔
بالکل صحیح اللہ اور رسولﷺ کی ذات کے ساتھ ایسے الفاظ کا استعمال کرنا درست نہیں ہے، اس پر دلائل پڑھنے کے لیئے مضمون عاشقانِ رسولﷺ یا محبانِ رسولﷺ پڑھیں۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com

Last edited by محمد عاصم; 20-10-11 at 06:28 PM.
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
حیدر (21-10-11), راجہ اکرام (20-10-11), سحر (20-10-11), عبداللہ آدم (21-10-11)
پرانا 20-10-11, 01:00 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
عشق، غرام(1)صَبابۃ (2)، شغف (3) اور ھَوَی جیسے الفاظ پاکیزہ جذبات کے اظہار کیلئے استعمال نہیں ہوتے۔ محبت کے جذبات کیلئے جو الفاظ اللہ کیلئے جائز اور درست ہیں، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ علاوہ لفظ ’محبت‘ کے عبادت، انابت (4) اور اخبات (5) کا ذکر کرتے ہیں۔
ویسے ہمارے معاشرے میں لفظ عشق کو تو بہت پاکیزہ سمجھا جاتا ہے لیکن لفظ محبت کو اتنا پاکیزہ نہیں سمجھا جاتا ہے ۔
حالانکہ لفظ محبت اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہوا ہے ۔

اقتباس:
اگر تم غور وفکر سے کام لو تو بندے کے ہر فعل کے پیچھے محبت کی وجہ سے ارادے کی قوت پیدا ہوتی ہے لہٰذا ایسی زور آور اور مفید قوت کو صحیح رخ پر نہ ڈالا جائے تو بڑے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے، اِس لئے بندہ سب سے زیادہ جس چیز کا محتاج ہے وہ اُن امور کی بابت اس کی آگاہی ہے جو اُسے ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں اور اِس آگاہی کا نام شریعت میں علم ہے
محبت کا انسان کی زندگی میں بہت اہم کردار ہے ۔ اس محبت کی وجہ سے ہی وہ اللہ کامقرب بندہ بن سکتا ہے اگر وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو اور عین شریعت کے مطابق ہو ۔

اور یہی محبت انسان کو تباہ بھی کرسکتی ہے اگر شرک کی صورت ہو تو
shafirajput likes this.
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-10-11), محمد عاصم (20-10-11), احمد نذیر (22-10-11), حیدر (21-10-11), راجہ اکرام (20-10-11), عبداللہ آدم (21-10-11)
پرانا 20-10-11, 06:25 PM   #4
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
ویسے ہمارے معاشرے میں لفظ عشق کو تو بہت پاکیزہ سمجھا جاتا ہے لیکن لفظ محبت کو اتنا پاکیزہ نہیں سمجھا جاتا ہے ۔
حالانکہ لفظ محبت اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہوا ہے ۔
میرے خیال سے ایسا نہیں ہے بلکہ عشق کو بُرا لفظ ہی سمجھا جاتا ہے تبھی تو کوئی ایسا نہیں کہتا کہ میں اپنی بہن کا عاشق ہو اور نہ ہی کوئی یہ کہتا کہ میں اپنی ماں کا عاشق ہوں بلکہ سبھی یہی کہتے ہیں میں اپنی ماں، بہن سے بہت محبت کرتا ہوں۔
اصل میں ہمارے معاشرے میں ایک خاص طبقہ نے اس لفظ کو اللہ اور نبیﷺ کی ذات کے ساتھ چسپا کیا ہے ورنہ عرب اور مشرق میں اس لفظ کا استعمال عشق مجازی کے طور پر ہی سامنے آتا ہے۔
جو لوگ اس لفظ کو اللہ اور نبیﷺ کی ذات کے ساتھ استعمال کرتے ہیں وہ یہی لفظ اپنی ماں اور بہن کی ذات کے ساتھ کیوں استعمال نہیں کرتے ہیں؟؟؟؟؟ اگر یہ لفظ واقعی پاکیزہ ہے تو کیوں نہیں کہتے ہیں کہ ہم اپنی ماں و بہن کے عاشق ہیں؟؟؟
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
حیدر (21-10-11), سحر (20-10-11), عبداللہ آدم (21-10-11)
پرانا 20-10-11, 07:06 PM   #5
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,134
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کٹ مروں نہ جبتک خواجہ بطحا کی عزت پر
خدا شاھد ھے میرا ایماں کامل نھیں ھو سکتا
صل اللہ علیہ وسلم
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (23-10-11), حیدر (21-10-11), عبداللہ آدم (21-10-11)
جواب

Tags
color, پہچان, پسند, قرآن, نفرت, نواز, نظر, محبت, آدمی, ایمان, اللہ, انسان, اعلیٰ, جلد, خلاف, عہد, عورتوں, عقل, علم, عدل, غور, غریب, صنم, صالحین, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger