واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات



عبادات عبادات


شعبان المعظم اور محمد(ص) و آل محمد(ع

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-07-10, 05:56 PM   #1
شعبان المعظم اور محمد(ص) و آل محمد(ع
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 14-07-10, 05:56 PM

شعبان المعظم اور محمد(ص) و آل محمد(ع).

رسول خدا نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ
رجب اللہ کا مہینہ
شعبان میرا مہینہ
اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے .


رسول خدا نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے‘‘.

سب سے پہلے یہ مسرت آفریں اور امید بخش مہینہ اور اس کی خوشیاں و برکتیں تمام مؤمن انسانوں، اہلبیت (ع) کے دوستداروں ، آگاہ و ہوشیار ، حریت پسندوں اورظلم و ستم کا مقابلہ کرنے والے انسانوں اور آپ عزیز بھائیوں اور بہنوں کو مبارک بہت بہت مبارک ہو۔

شعبان وہ عظیم مہینہ ہے جو حضور اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے ۔ حضور صلی علیہ وآلہ وسلم اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں سے متصل فرماتے تھے۔ جو شخص اس مہینے میں ایک روزہ رکھے اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔اور جتنے بھی فضائل اس ماہ کے بیان کیے جائیں ہم اسکا حق ادا نہی کرسکتے.


رسول خدا نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے‘‘ .
کیونکہ آل محمد (ع) میں سے وہ عظیم ہستیاں و عظیم بندگان خدا اس دنیا میں آئے جن کو تاریخ و اسلام کبھی نہی بھلاسکتے.

پہلی1 شعبان :- ولادت بہ سعادت بدن مطہر جناب زینب (س) بنت امام علی علیہ سلام
تین3 شعبان :- ولادت بہ سعادت بدن مطہر امام حیسن علیہ سلام ابن امام علی علیہ سلام
چار4 شعبان :- ولادت بہ سعادت بدن مطہر جناب باوفا عباس ابن امام علی علیہ سلام
پانچ5 شعبان :- ولادت بہ سعادت بدن مطہر امام سجاد زین العابدین (ع) ابن امام حیسن علیہ سلام
پندرہ15 شعبان :- ولادت بہ سعادت بدن مطہر امام مہدی علیہ سلام ابن امام حسن عسکری علیہ سلام
.


رسول خدا نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے‘‘.

تین3 شعبان کو نواسۂ رسول امام حسین (ع)........چار 4 شعبان کو تمنائے علی و بتول حضرت عباس (ع)....... پانچ5 شعبان کو حسینی انقلاب کے پاسبان امام زین العابدین اور .....پندرہ 15 شعبان المعظم کو بقیۃ اللہ الاعظم حجت حق امام مہدی موعود کا یوم ولادت بہ سعادت ہے ۔ہم اپنے تمام چاہنے والوں کی خدمت میں ،مسرت و شادمانی سے معمور ، عید کی طرح روشن اور شب برائت کی طرح مزین مبارک و مسعود ایام کی مناسبت سے تہنیت و تبریک پیش کرتے ہیں ۔ خصوصا" ولایت اہلبیت (ع) پر یقین رکھنے والوں اور ظلم و ستم سے بر سر پیکار تمام حریت نواز بیدار و باخبر انسانوں،حریت و آزادی کے علمبردار ،اسلام و قرآن کی سربلندی و سرافرازي کے علمبردار ،اسلام و قرآن کی سربلندی و سرافرازي کے پیغامبر سبط رسول الثقلین ، علی (ع) و فاطمہ (س) کے دل کا چین ، عالم اسلام کے نور عین حضرت امام حسین علیہ السلام کی عالم نور سے عالم ظہور میں آمد آپ سب کو مبارک ہو

ماہ رجب المرجب کی مانند جس میں ’’مولا علی علیہ سلام‘‘ کا ظہور ہوا. حضور (ص) کی حدیث کی رہ سے صابت ہوتا ہے کہ اللہ نے اس ماہ رجب المرجب کو اپنا مہینہ قرار دیا ...(سبحان اللہ )
اسی طرح ماہ شعبان المعظم کو اسی حدیث کی رو سے نبی آخرالزمان صلی علیہ والہ وسلم نے اپنا مہینہ کہا کیونکہ اس ماہ میں حضرت امام حسین (ع) اور امام زین العابدین (ع) اور امام مہدی علیہ سلام کی آمد کے دن تھے
یعنی ماہ رجب کے ساتھ ساتھ ماہ شعبان المعظم بھی افق امامت و ولایت پر کئی آفتابوں اور ماہتابوں کے طلوع اور درخشندگی کا مہینہ ہے۔اس مہینے میں بوستان ہاشمی (رح) اور گلستان محمدی (ص) و علوی (ع ) کے ایسے عطر پذیر و سرور انگیز پھول کھلے ہیں کہ ان کی مہک سے صدیاں گزرجانے کےبعد بھی مشام ایمان و ایقان معطر ہیں اور ان کی چمک سے سینکڑوں سال کی دوری کے باوجود قصر اسلام و قرآن کے بام و در روشن و منور ہیں ۔



رسول خدا نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے‘‘.

سردار جوانان جنت امام حیسن علیہ سلام
تین شعبان المعظم سنہ 4 ہجری چھ سو پینتیس عیسوی کو رسول اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیارے نواسے امام حسین (ع) کے نور وجود سے " مدینۃ النبی " کے بام و در روشن و منور ہوگئے ۔مرسل اعظم (ص) کی عظیم بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (س) اور عظیم بھائی ،داماد اور وصی علی ابن ابی طالب کے پاکیزہ گھر میں نسل نبوت و امامت کے ذمہ دار امام حسین (ع) کی آمد کی خبر سن کر پیغمبر اسلام (ص) کا دل شاد ہوگیا،
آنکھیں ماہ لقا کے دیدار کے لئے بیچین ہو اٹھیں ،فورا" بیٹی کے حجرے میں داخل ہوئے اور مولود زہرا (س) کو دیکھ کر لبوں پر مسرت کی لکیریں پھیل گئیں آغوش میں لے کر پیشانی کا بوسہ لیا اور فرزند کے دہن میں اپنی زبان دے دی اور اسالتمآب کا لعاب دہن فاطمہ (س) کے چاند کی پہلی غذا قرار پایا.
یہ بڑا بابرکت دن ہے. اس دن جبرئيل امین (ع) نازل ہوئے خدا کی جانب سے خدا کے حبیب کو نواسے کی مبارک باد پیش کی اور کہا :اے اللہ کے رسول اللہ نے اس بچے کا نام حسین (ع) قرار دیا ہے ،نام سنتے ہی رسول اعظم (ص) کی آنکھیں جھلملا اٹھیں بچے کو سینے سے چمٹالیا ،بیٹی نے باپ کی طرف سوالیہ نگاہوں سےدیکھا تو رسول اسلام (ص) نےامین وحی کی زبانی حسین (ع) کا صحیفۂ شہادت نقل کردیا اور بخشش امت کے وعدے پرحسین (ع) کی ماں کو راضي کرلیا ۔
علی (ع) و فاطمہ (س) کا چاند چھ سال تک آفتاب نبوت و رسالت کے ہالے کی شکل میں نانا کے ساتھ ساتھ رہا اور تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مدینۂ منورہ میں نانا اور نواسے کی محبت ضرب المثل بن گئی اور ایسا کیوں نہ ہوتا ،جبکہ حسین (ع) مشیت الہی کا محور اور پیغمبر اسلام (ص) کی دلبر کے دلبر تھے

حسین (ع) کی شان میں قرآن حکیم رطب اللسان اور ان سے اسلام و ایمان سربلند و ذیشان ہے ،حسین (ع) نورٌ علیٰ نور کی تفسیر نورالنور کی تنویر ، مجسمۂ رسالت کی تصویراور مکمل نبوت کی تعبیر ہے، حسین (ع) قرآن مجید کی تحریر ،دین الہی کی شمشیر ،انوار ولایت کی تکبیر اور اسرار امامت کی تشہیر ہے، حسین (ع) نورنگاہ نبوت ،جگرگوشۂ عصمت ، جلوہ نمائے ولایت اور قوت اسلام و شریعت ہے ،حسین (ع)آسمان شہادت کا آفتاب ، افق ہدایت کا ماہتاب، گلشن توحید کا سرخ گلاب اور خزانۂ اسلام کا گوہر نایاب ہے ۔چنانچہ خداوند عالم نے اپنی کتاب محکم و مستحکم قرآن مجید میں مختلف عنوانوں سے امام حسین (ع) کا تعارف کرایا ہے جیسا کہ صحاح ستّہ کے محدثین نے اپنی اپنی صحیحوں میں لکھا ہے کہ جب " اصحاب کساء " رسول اعظم (ص) کے ساتھ چادر تطہیر میں جمع ہوگئے رسول اسلام (ص) نے علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیہم السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :

اَللّہُمّ ہٰؤلاء اَہلُ بَیتی فَاذہب عَنہُمُ الرّجس وَ طَہّرہُم تطہیرَا"
خدایا یہ میرے اہل بیت ہیں پس ان کو ہر قسم کی آلائش سے پاک و پاکیزہ قراردے دے

اس وقت آیۂ تطہیر نازل ہوئی اور اہل بیت علیہم السلام منجملہ حضرت امام حسین (ع) کی عصمت و طہارت کا خدا نے اعلان کردیا،اسی طرح آیۂ مباہلہ کے ذیل مین مفسرین کا اجماع ہے کہ اس میں : "ابنائنا " سے مراد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ہیں جن کو خداوند عالم نے" رسول اسلام کے بیٹے " قراردیا ہے ۔

اور آیۂ مودت کے بارے میں مفسرین اہل سنت نے بھی لکھا ہے کہ یہ آیت علی (ع) و فاطمہ (س) اور حسن (ع) و حسین (ع) کی شان میں نازل ہوئي ہے چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم نے صحیحین میں اور ثعلبی و طبرسی نے اپنی تفاسیر میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ آیۂ مودت نازل ہوئي تو اصحاب نے حضور (ص) سے سوال کیا آپ کے قرابتدار کون ہیں تو حضرت نے فرمایا : علی وَ فَاطمہ وَ اَبنَاہُمَا علی (ع) و فاطمہ (س) اور ان کے دو نوں بچے ۔
نبی اکرم (ص) نے فرمایا ہے : " حسین منی و انا من الحسین احب اللہ من احب حسینا" حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں اور خدا اس کو دوست رکھتا ہے جو حسین (ع) کو دوست رکھتا ہے ۔اسی طرح سلمان فارسی سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم (ص) کو کہتے سنا ہے حسن و حسین (ع) میرے بیٹے ہیں جس نے ان سے دوستی کی میرا دوست ہے اور جس نے ان سے دشمنی کی وہ میرا دشمن ہے بہرحال ، امام حسین (ع) کی شخصیت سے رفتار و کردار کی جو شعاعیں پھوٹی ہیں آج بھی الہی مکتب کی فکری ،اخلاقی اور تہذیبی حیات کی اساس ہیں اور نہ صرف عالم اسلام بلکہ پورا عالم بشریت حسینیت کی مشعل سے فروزاں ہے

شاعر مشرق علا مہ اقبال نے بجا طور پر کہا ہے :

حقیقت ابدی ہے مقام شبیری (ع)
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی


اور جوش ملیح آبادی کے بقول :

موت کے سیلاب میں ہرخشک و تر بہہ جائے گا
ہاں مگر نام حسین (ع)ابن علی (ع) رہ جائےگا




رسول خدا نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے‘‘.

بیمار کربلا سید سجاد امام زین العابدین علیہ سلام
آپ کی ولادت باسعادت مدینہ منورہ میں پانچ 5شعبان سن 38 اڑتیس ہجری میں ہوئ. کاشانۂ زہراء سلام اللّہ علیہا میں ان کےنور نظرامام حسین علیہ السلام کو خداوند لم یلد و لم یولد نے وہ چاند سا بیٹا عطا کیا کہ اس کی روشنی سے عرب و عجم کے تمام گوشۂ و کنار روشن و منور ہوگئے ۔ عالم انوار سے عالم ہستی میں فرزند رسول امام زین العابدین علیہ السلام کی آمد کے یہ شب و روز تمام محبان اہلبیت رسول کو مبارک ہوں ۔

بلبل بوستان امامت ،سید سجاد امام زین العابدین علیہ السلام عشق و محبت سے سرشار اسی آشیانہ آدمیت و انسانیت میں جلوہ بار ہوئے تھے کہ جس کےمکینوں کی شان میں سورۂ ہل اتی نازل ہوا ۔
جن کا آیۂ تطہیر نے قصیدہ پڑھا آیۂ مودت نے مسلمانوں پر محبت واجب کی
اور آیۂ ولایت نے امامت و حقانیت کی تصدیق کردی باپ مولائے متقیان ، مشکل کشائے عالم، علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فرزند ، سید و سردار جوانان بہشت ، سبط رسول الثقلین ، فاتح کربلا، حضرت امام حسین علیہ السلام تو ماں قدیم تہذیب و تمدن کےگہوارے ، ساسانی ایران کےآخری بادشاہ یزد گرد سوم کی بیٹی حضرت شہر بانو، جنہوں نے اپنی عفت و پاکدامنی کےسبب خانۂ عصمت و امامت میں وہ مقام حاصل کرلیا کہ ایک امام کی بہو ایک امام بیوی اورایک امام کی ماں بن کر پوری دنیا کےلئے مایۂ افتخار بن گئیں ۔ امام زین العابدین علیہ السلام کا اصلی نام علی تھا، جیسا کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے تمام فرزندوں کے نام اپنے والد کے نام پر علی ہی رکھے تھے ، امام زین العابدین علیہ السلام کی کنیت ابوالحسن اور ابو محمد تھی آپ کے دومشہور القاب "سجاد" اور "زین العابدین" کے علاوہ سیدالساجدین ، سید سجاد ، زکی اور امین بھی ہیں



رسول خدا نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے‘‘.

امام عصر والزمان المہدی موعود علیہ سلام :-
پندرہ 15 شعبان یہ دن منصوب ہے امام آخر حضرت امام مہدی (عج) علیہ سلام سے پندرہ شعبان کا دن امیدکا دن ہے یہ امید صرف شیعوں سے مخصوص نہیں حتی کہ امت مسلمہ سے بھی مخصوص نہیں ہے در حقیقت عالم بشریت کے تابناک و درخشاں مستقبل کی امید، ایک موعود کے ظہور کی امید ہے اور پوری دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے والے کے ظہور پر تمام ادیان متفق ہیں جو دنیا میں موجود ہیں دین اسلام ، عیسائیت اور یہودیت کے علاوہ حتی ہندوستان میں پائے جانے والے ادیان اور اس کے علاوہ ایسے کئي ادیان ہیں جن کے نام بھی لوگوں کے ذہنوں میں نہیں ہیں انھوں نے اپنی تعلیمات میں ایک روشن و تابناک مستقبل کی بشارت دی ہے۔ یہ درحقیقت طویل تاریخ کے دوران تمام انسانوں کو امید بخشنا اور اس امید کے بارے میں انسانی ضرورت کے مطابق جواب دینا ہے

اللہ کے بھیجے ہوئے آسمانی ادیان جن میں اللہ نے لوگوں کو غلط اورجھوٹی امیدیں نہیں دی ہیں؛ بلکہ ان ادیان نے حقیقت کو بیان کیا ہے انسان کی خلقت اور بشریت کی طویل تاریخ میں ایک حقیقت موجود ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ حق و باطل کے درمیان یہ مقابلہ آرائی ایک دن حق کی فتح، اور باطل کی شکست پر ختم ہوگی اور اس دن کے بعد انسان کی حقیقی دنیا اورانسان کی منظور نظر زندگی کا آغاز ہوگا اس وقت مقابلہ آرائی کا مطلب جنگ و جدال نہیں بلکہ خیر و خیرات میں سبقت کا مقابلہ ہوگا ۔ یہ ایک حقیقت ہے جو تمام ادیان و مذاہب میں مشترک ہے

حضرت مہدی موعود ( عج ) علیہ سلام کو انتظار ظہور اور انتظار فرج سے تعبیر کیا گيا ہے
فرج کا کیا مطلب ہے ؟ فرج یعنی گرہ کھولنے والا:- انسان کب کسی گرہ کھولنے والے کا انتظار کرتا ہے؟
کب کسی فرج کا منتظر ہوتا ہے ؟
جب کوئی چیز الجھی ہوئی ہو ، کہیں کوئی گرہ لگي ہوئی ہو ، جب کوئی مشکل سامنے ہو ، کسی مشکل کی موجودگي میں انسان کو فرج یعنی گرہ کھولنے والے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اپنی تدبیر کے ذریعہ الجھی ہوئی گرہ کھول دے کوئی ہو جو مشکلوں اور مصیبتوں کے عقدے باز کردے ۔ یہ ایک بڑا ہی اہم نکتہ ہے ۔
امام زمانہ علیہ الصلوۃ و السلام پوری بشریت کی گرہ کھولنے اور مشکلات برطرف کرنے کےلئے ظہور کریں گے اور پریشانیوں میں مبتلا تمام انسانوں کو نجات دلائیں گے انسانی معاشرے کو رہائی عطا کریں گے بلکہ انسان کی آئندہ تاریخ کو نجات بخشیں گے ۔

انتظار فرج کا مطلب ہے کہ اگر آج آپ لوگ دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں وہی چیز جو حضرت ولی عصر ( ہماری جانیں جن پر فدا ہوجائیں ) کے ظہور سے متعلق روایات میں ہیں ، آج دنیا پر حکمراں ہیں ، دنیا کا ظلم و جور سے بھرجانا، آج دنیا ظلم و ستم سے بھرگئی ہے ولی عصر ( عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ) سے متعلق روایتوں ، دعاؤں اور مختلف زیارتوں میں ملتا ہے : یملا اللہ بہ الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا" " ویسے ہی جیسے ایک دن پوری دنیا ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی ، جس زمانہ میں ظلم و جور پوری بشریت پر حکمراں ہوگا اسی طرح خداوند عالم ان کے زمانے میں وہ صورت حال پیدا کردے گا کہ پورے عالم بشریت پر عدل و انصاف حکمراں نظر آئے گا . آج انسانی زندگي عالمی سطح پر ظلم و استبداد کے ہاتھوں میں مغلوب و مقہور ہے ( اور ظالموں کے قہر و غلبہ کا شکار ہے ) ہر جگہ ظلم و جور کا ماحول ہے آج عالم بشریت ظلم کے غلبہ کے سبب،انسانی خواہشوں اور خود غرضیوں کے تسلط کے باعث بے پناہ مشکلات میں گرفتار ہے ۔آج کی دنیا میں دو ارب بھوکے انسانوں کا وجود اور دسیوں لاکھ انسان جو حرص و ہوس سے مغلوب طاغوتی قوتوں کے طاغوتی نظاموں میں زندگي گزار رہے ہیں ، حتی فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے مؤمنین و مجاہدین اور راہ حق میں برسر پیکار ملتیں جس نے ایک محدود ماحول میں ، ایک معین و مشخص دائرے میں عدل و انصاف کا پرچم بلند کررکھا ہے،اس پر اور مجاہدین راہ خدا پر فشار اور دباؤ پوری دنیا پر ظلم و جور کا جال بچھا ہونے کی کھلی نشانیاں ہیں اس انتظار فرج کا مفہوم، مختلف ادوار میں انسانی زندگي کی موجودہ کیفیات بیان کرتی ہیں۔
حضرت عیسی (ع) کی بغیر باپ کی پیدائش کی مثال اگر حضرت آدم (ع) کی مثال ہے تو امام المہدی موعود (ع) کی مثال حضرت عیسی (ع) کی غیبت میں زندہ رہنے کی اور اللہ کے حکم سے معین وقت تک لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہنے کی ہے
(وہی لوگ متقی ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں)


پندرھویں شعبان کی رات
غسل کرنا کہ جس سے گناہ کم ہوجاتے ہیں۔
نماز اور دعا و استغفار کے لیے شب بیداری کرے
اس ماہ کا بہترین عمل استغفار ہے اور اس مہینے میں ستر مرتبہ استغفار کرنا گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کرنے کے برابر ہے
ہرروز سترمرتبہ کہے:استغفراللہ واسئلہ التوبۃ (بخشش چاہتا ہوں اللہ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں)
صدقہ کرے اگرچہ وہ نصف خرما ہی کیوں نہ ہو ، اس سے خدا اس کے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کر دے گا۔
اس رات کے بہترین عمل میں امام حسین(ع) -کی زیارت بھی ہے جو پڑھنی چاہیے .
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِ اﷲِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَۃُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُہُ
سلام ہو آپ پر اے ابوعبدا(ع)للہ سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں


امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا میرے جد امجد حضرت محمد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ جب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ (ص) کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا :
” اے اہل مدینہ ! میں رسول خدا کا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے‘‘ خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے یعنی روزہ رکھے۔“
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 416
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-07-11), مرزا عامر (14-07-10), اویسی (15-07-10), بلال اویسی (15-07-10), عارف اقبال (17-07-10)
پرانا 15-07-10, 11:50 AM   #2
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آل محمد علیہ سلام سے پندرہ 15 شعبان کی رات کہ لیے کچھ خاص دعائیں
جو امام زمانہ کی زیارت کے مثل ہے اور وہ یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ لَیْلَتِنا ھذِہِ وَمَوْلُودِھا وَحُجَّتِکَ وَمَوْعُودِھَا الَّتِی قَرَنْتَ إلی فَضْلِھا فَضْلاً
اے اللہ اے معبود! واسطہ اس رات کا اور اس کے مولود کا اور تیری حجت (ع)اور اس کے موعود (ع)کا جس کو تو نے فضیلت پر فضیلت عطا کی

فَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِماتِکَ وَلاَ مُعَقِّبَ لآَِیاتِکَ نُورُکَ الْمُتَٲَلِّقُ
اور تیرا کلمہ صدق و عدل کے لحاظ سے پورا ہوگیا تیرے کلموں کو بدلنے والا کوئی نہیں اورنہ کوئی تیری آیتوں کا مقابلہ کرنیوالا ہے وہ

وَضِیاؤُکَ الْمُشْرِقُ، وَالْعَلَمُ النُّورُ فِی طَخْیائِ الدَّیْجُورِ، الْغائِبُ الْمَسْتُورُ جَلَّ
المہدی موعود(ع) تیرا نور تاباں اور جھلملاتی روشنی ہے وہ نور کا ستون، شان والی سیاہ رات کی تاریکی میں پنہاں و پوشیدہ ہے اس کی

مَوْلِدُھُ، وَکَرُمَ مَحْتِدُھُ، وَالْمَلائِکَۃُ شُہَّدُھُ، وَاﷲُ ناصِرُھُ وَمُؤَیِّدُھُ، إذا آنَ مِیعادُھُ
ولادت بلند مرتبہ ہے اس کی اصل، فرشتے ا س کے گواہ ہیں اور اللہ ا سکا مدد گار و حامی ہے جب اس کے وعدے کا وقت آئے گا

وَالْمَلائِکَۃُ ٲَمْدادُھُ، سَیْفُ اﷲِ الَّذِی لاَ یَنْبُو، وَنُورُھُ الَّذِی لاَ یَخْبُو، وَذُو الْحِلْمِ
اور فرشتے اس کے معاون ہیں وہ خدا کی تلوار ہے جو کند نہیں ہوتی اور اس کا ایسا نور ہے جو ماند نہیں پڑتا وہ ایسا بردبار ہے

الَّذِی لاَ یَصْبُو، مَدارُ الدَّھْرِ، وَنَوامِیسُ الْعَصْرِ، وَوُلاۃُ الْاَمْرِ، وَالْمُنَزَّلُ عَلَیْھِمْ
جو حد سے نہیں نکلتا وہ ہر زمانے کا سہارا ہے یہ معصومین(ع) ہر عہد کی عزت اور والیان امر ہیں جو کچھ شبِ قدر میں نازل کیا جاتا ہے

مَا یَتَنَزَّلُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، وَٲَصْحابُ الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ، تَراجِمَۃُ وَحْیِہِ، وَوُلاۃُ ٲَمْرِھِ
انہی پر نازل ہوتا ہے وہی حشر و نشر میں ساتھ دینے والے اس کی وحی کے ترجمان اور اس کے امر و نہی

وَنَھْیِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلَی خاتِمِھِمْ وَقائِمِھِمُ الْمَسْتُورِ عَنْ عَوالِمِھِمْ ۔ اَللّٰھُمَّ وَٲَدْرِکْ
کے نگران ہیں اے معبود! پس ان کے خاتم اور ان کے قائم پر رحمت فرما جو اس کائنات سے پوشیدہ ہیں اے معبود! ہمیں اس کا زمانہ

بِنا ٲَیَّامَہُ وَظُھُورَھُ وَقِیامَہُ، وَاجْعَلْنا مِنْ ٲَ نْصارِھِ، وَاقْرِنْ ثٲْرَنا بِثَٲْرِھِ، وَاکْتُبْنا
اس کا ظہور اور قیام دیکھنا نصیب فرما اور ہمیں اس کے مددگاروں میں قرار دے ہمارا اور اس کا انتقام ایک کردے اور ہمیں اس کے

فِی ٲَعْوانِہِ وَخُلَصائِہِ، وَٲَحْیِنا فِی دَوْلَتِہِ ناعِمِینَ، وَبِصُحْبَتِہِ غانِمِینَ ، وَبِحَقِّہِ
مددگاروں اور مخلصوں میں لکھ دے ہمیں اسکی حکومت میں زندگی کی نعمت عطا کر اور اسکی صحبت سے بہرہ یاب فرما اسکے حق میں قیام کرنے

قائِمِینَ، وَمِنَ السُّوئِ سالِمِینَ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ،
والے اور برائی سے محفوظ رہنے کی توفیق دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور الحمد اللہ ہی کیلئے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-07-11), مرزا عامر (16-07-10), اویسی (15-07-10), عارف اقبال (17-07-10)
پرانا 15-07-10, 12:18 PM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

رسول خدا نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے‘‘.
اگر ہم غور کریں تو ہمیں اندازہ ہو کہ اس حدیث مبارکہ کی گہرائی و وسعت ویسے ہی ہے جس طرح اس حدیث مبارکہ کی ہے یعنی

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ’’حسین منی و انا من الحسین‘‘
یعنی ’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں‘‘


اور پھر آنے والے وقتوں نے صابت کیا کہ ایسا کیوں کہا تھا۔بے شک ہمارے پیارے نبی صلی علیہ والہ وسلم بہت ہی صادق و امین تھے ۔۔۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-07-11), مرزا عامر (16-07-10), اویسی (15-07-10), بلال اویسی (15-07-10), عارف اقبال (17-07-10)
پرانا 16-07-10, 02:01 PM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رسول خدا نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’شعبان میرا مہینہ ہے‘‘.

آج تین3 شعبان ہے
جشن ولادت امام حسین علیہ سلام بہت بہت مبارک


تین شعبان المعظم سنہ 4 ہجری چھ سو پینتیس عیسوی کو رسول اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیارے نواسے امام حسین (ع) کے نور وجود سے " مدینۃ النبی " کے بام و در روشن و منور ہوگئے اور اج ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نے اپنے نواسے کو اپنا بیٹا کہا اور اپنی زبان مبارک سے رزق عطا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہی رزق رسول صلی علیہ والہ وسلم تھا جس نے امام حسین (ع) کو علم و حلم و شجاعت و انکساری اور بہترین اخلاق کا پیکر بنادیا ۔۔۔۔


خوشیاں و برکتیں تمام مؤمن انسانوں، اہلبیت (ع) کے دوستداروں ، آگاہ و ہوشیار ، حریت پسندوں اورظلم و ستم کا مقابلہ کرنے والے انسانوں اور آپ عزیز بھائیوں اور بہنوں کو مبارک بہت بہت مبارک ہو۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (16-07-10), عارف اقبال (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 09:42 AM   #5
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم بھائی

آپ کو بھی مبارک ہو
اچھی تحریرکے لیے بھی بہت بہت شکریہ
جزاک اللہ احسن الجزاء
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-07-11), حیدر Rehan (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 12:28 PM   #6
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قران میں لکھا ہے اللہ بہت بڑا ہے ۔سب نے یہی کہا ہے اللہ بہت بڑا ہے
Attached Images
 
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-07-11), مرزا عامر (17-07-10), عارف اقبال (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 12:31 PM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کی محمد (ص) سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے! کیا ’لوح و قلم‘ تیرے ہیں
Attached Thumbnails
03.jpg  
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-07-11), مرزا عامر (17-07-10), حیدر (21-07-11), عارف اقبال (17-07-10)
پرانا 21-07-11, 03:46 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماہ شعبان کے قدردانوں کے لئے انعامات الہیہ:
غنیۃ الطالبین وغیرہ میں ہے کہ شعبان میں پانچ حروف ہیں اور پانچوں حروف رب تبارک و تعالی کے پانچ عظیم انعامات کا رمز اور اشارہ ہیں چنانچہ’ ش‘ اشارہ ہے شرف کا ’ع ‘علو یعنی رفعت و بلندی کا، ’ب‘ بر یعنی احسان اور بھلائی کا ، ’ا‘الفت کا اور ’ن‘ نور کا اشارہ ہے۔

پس یہ انعامات الہیہ ماہ شعبان کے قدر دانوں کے لئے مخصوص ہیں جو اس ماہ میں عبادتوں کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-07-11), حیدر (21-07-11)
جواب

Tags
کربلا, پھول, پیارے, قرآن, قرآن حکیم, چین, موجودہ, مؤمن, ماں, مجید, محبت, مشعل, آبادی, آج, اہل بیت, ایمان, ایران, امام زین العابدین, توحید, حدیث, خدا, روزہ, رمضان, شعبان, عشق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger