::::::: قران اور سنت کے باغوں میں سے چند پھول ::::::: اللہ کے سامنے تضرع یعنی عاجزی :::::::
بِسّم اللہ و الحمد للہ وحدہُ و الصلاۃ و السلام علی من لا نبی بعدہُ
اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں
::::::: اللہ کے سامنے تضرع ہر خیر کا سبب ہے :::::::
اپنی آج کی بات کے آغاز سے پہلے اس بات کے مرکزی موضوع """ تضرع """کی تعریف بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کو جانے بغیر میری بات کو ٹھیک سے سمجھا نہیں جا سکے گا ،
"""تضرع """ کا معنی ہے انتہائی کمزوری، نرمی ، عاجزی اور اِنکساری و الا رویہ ،
اور شرعی طور پر """تضرع """ کا معنی ہے ، اللہ کے سامنے اپنی کمزوری، بے بسی ،ذِلت، عاجزی اور اِنکساری کے اِقرار و اِظہار کے ساتھ خوب محنت کرتے ہوئے اللہ سےدُعا کرنا ، اور اللہ کے احکام کا پابند رہنا،
میں اپنی گفتگو میں اُردُو ز ُبان کے الفاظ """عاجزی اور انکساری """وغیرہ بھی استعما ل کر سکتا ہوں لیکن ان الفاظ میں """تضرع """ کی کیفیت کے دو اجزاء کا ذکر ہی ہو پاتا ہے ، اس لیے میں اِس اُردُو گفتگو میں بھی یہ عربی لفظ"""تضرع """ جُوں کا تُوں ہی استعمال کروں گا ،
اس """تضرع """کے وجود کے لیے لازمی ہے کہ انسان اِس حقیقت کا مکمل ادارک رکھے، اور اس پر اِیمان رکھے کہ وہ ہر حال ہر آن اور ہر معاملے میں اللہ کا محتاج ہے ، اور ہرایک لمحے کے ہزارویں حصے کے لیے بھی اپنے رب اللہ سُبحانہ ُ وتعالیٰ سے غنی نہیں ہو سکتا ، کسی کے پاس کوئی ایسی چیز ،کوئی ایسی صفت ،کوئی ایسا وسیلہ نہیں جو کسی انسان کو اللہ سے غنی کر دے ، اِس حقیقت کا مکمل ادارک ہونے اور اِس پر ایمان ہونے کے بغیر کبھی بھی کسی انسان کے دِل میں تضرع کا وجود ممکن نہیں ، جی اس سے ملتی جلتی کوئی اور فرضی یا تخیلاتی حالت تو ہو سکتی ہے ، تضرع نہیں ،
اللہ اور اس کی مخلوق کے بارے میں اللہ کے بعد سب سے زیادہ عِلم رکھنے والے اللہ کے رسول مُحمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اِس حقیقت کو خوب اچھی طرح جانتے تھے اس لیےاپنی اُمت کو یہ دُعا سکھائی کہ ((((( يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، ولَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أبداً،، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ :::اے اللہ میری تیری رحمت کے ذریعے(تُجھ سے تیری) مدد مانگتا ہوں اور(اِس لیے) تومیرے سارے ہی معاملات کی اصلاح فرما دے اور تُو مجھے کبھی بھی پلک جھپکنے کے برابر وقت کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے مت کرنا اور تیرے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں)))))یہ مذکورہ الفاظ مختلف روایات کا مجموعہ ہیں جو کہ سنن الترمذی ، سنن ابو داؤد، المستدرک الحاکم ، المعجم الکبیر ، السلسلۃ الصحیحۃ /حدیث 227، اور دیگر کئی کتابوں میں مذکور ہے ،
"""تضرع""" اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کے پسندیدہ کاموں میں سے ہے ، اس نے ہمیں اس کی خبر کرتے ہوئے اس کو اپنانے کا حکم دیا ہے (((((ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ::: ( تُم لوگ )اپنے رب کو تضرع اور آہستگی سے پکارو(اور یاد رکھو)بے شک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا )))))سورت الاعراف/آیت 55،
اللہ تبارک و تعالیٰ کو یہ عمل یعنی اُس کے سامنے کمزوری، نرمی ،بے بسی ، ذِلت ، عاجزی اور اِنکساری کا اِقرار اور اِظہار اور اُسی کیفیت میں اُس سے دعا کرنا اتنا پسند ہے کہ کبھی کبھی وہ اپنے بندوں پر سختی اور پریشانیوں کا نزول کرتا ہی اِس لیے ہے کہ اُس کے بندے یہ عمل کریں ،
(((((وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ ::: اور ہم نے جس بستی میں بھی نبی ارسال کیا اس بستی کے لوگوں کو سختی اور پریشانی میں بھی مبتلا کیا تا کہ وہ لوگ تضرع اختیار کریں ))))) سورت الاعراف /آیت 94،
(((((وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ::: اور (اے محمد) ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے قوموں کی طرف(نبی اور رسول)بھیجے اور ہم نے ان قوموں کو سختیوں اور پریشانیوں کے ذریعے گرفت کی تا کہ وہ لوگ تضرع اختیار کریں))))) سورت الانعام /آیت 42،
ان مذکورہ بالا دونوں ہی آیات میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مصیبتوں میں مبتلا کرنے کا ایک اہم سبب یہ بتایا کہ وہ انہیں اپنے سامنے تضرع کی حالت میں دیکھنا چاہتا ہے ،
اور دوسری بات یہ سمجھائی گئی کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی طرف سے قوموں کو کبھی کلام میں اور کبھی عملی طور پر اللہ کے مختلف عذابوں کی خبر دے کر اور ان کے واقع ہو جانے کی دھمکی دے کر یہ مواقع دیے جاتے ہیں کہ اکڑ اور نافرمانی چھوڑ دیں اور اللہ کے سامنے تضرع والا رویہ اپنا لیں ،
تو جو کوئی بھی تضرع والا رویہ اپناتا ہے اللہ اسے دُنیا اور آخرت کے عذاب اور ذلت سے بچا لیتا ہے ، اور دُنیا اور آخرت کی ہر خیر میں سے وافر حصہ عطاء فرماتا ہے ،
جیسا کہ اسی سورت الاعراف میں مذکورہ بالا آیت سے ایک آیت کے بعد فرمایا:::
(((((وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ::: اور اگر بستیوں والے اِیمان لے آتے اور(اللہ کی ناراضگی سے)بچتے تو ہم ضرور اُن کے لیے آسمان اور زمین کی برکتوں میں سے(حصے) کھول دیتے ، لیکن اُن لوگوں نے (اللہ کے فرامین)جُھٹلا دیے تو ہم نے انہیں اُن ہی کمائی کے بدلے میں پکڑ لیا )))))سورت الاعراف /آیت 96،
انسانوں کو اِیمان اور اپنی رحمت کی طرف لانے کے لیے ، اپنے سامنے تضرع کی حالت میں دیکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ انہیں مشکلوں ، سختیوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرتا ہے ، یہ ابتلاء بھی اللہ کی طرف سے ایک رحمت ہی ہوتی ہے لیکن صرف اُن کے لیے جو شیطانوں کے شکار نہ ہو چکے ہوں ،
جی ہاں ، مذکورہ بالا آیات کے ساتھ ہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہی یہ بھی بتایا دیا کہ ان انسانوں اور مسلمانوں میں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی بد اعمالیوں کو شیطان اُن کے لیے سجا سنوار کر اُن کے دلوں میں خُوبصورت اور محبوب بنا ڈالتا ہے اور گناہوں کو پسند کرنے،اور اُن پر راضی ہونے کی وجہ سے اُن لوگوں کے دِل سخت ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ اور اُس کے رسولوں علیہم السلام کی باتیں قبول نہیں کرتے ، اللہ کی طرف سے سختی، پریشانی اور مصیبتیں حتیٰ کہ صاف کھلے عذاب آجانے کے بعد بھی وہ لوگ اللہ کے سامنے تضرع والا رویہ نہیں اپناتے ، ان سب کیفیات اور معاملات کی خبر ہمیں اللہ کے اس فرمان میں ملتی ہے((((فَلَوْلا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ :::تو جب اُن لوگوں پر ہمارے عذاب آتے رہے تو انہوں نے کیوں تضرع اختیار نہیں کیا؟ لیکن (ہوا یہ کہ)جو کچھ وہ کرتے تھے اُن کے وہ کام شیطان نے اُن کےسامنےسجا سنوار دیے ، اور(اس لیے)ان کے دِل سخت ہو گئے))))) سورت الانعام /آیت 43،
یہ سخت دل لوگ جن کے دل حق قبول کرنے کے لیے سخت ہو چکے ہوتے ہیں ، بلکہ نیکی ، خیر بھلائی اور رحم والے ہر کام کے لیے سخت ہو چکے ہوتے ہیں ، اور اس قدر سخت ہو چکے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی حقیقت تک بھی نہیں پہچانتے اور اللہ کی گرفت اور اللہ کے عذاب آنے کے بعد بھی وہ لوگ اللہ کی طرف پلٹنے کی بجائے ، تضرع والا رویہ اپنانے کی بجائے ، گویا کہ اللہ کی قدرت کے سامنے مقابلے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں """ہم قدرتی آفات کا مقابلہ کریں گے """،
جبکہ اللہ نے اُنہیں مصیبت ، پریشانی اور سختی وغیرہ میں اس لیے مبتلا کیا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف پلٹ پڑیں اور اُس کے سامنے تضرع والا رویہ اپنا لیں ، نہ کہ اُس کو یا اُس کی قدرت کو دھمکانے لگیں،
کسی معاشرے میں ایسے لوگوں کی موجودگی دوسروں کے لیے بھی اللہ کی طرف راغب ہونے میں روکاوٹ کا سبب ہوتی ہے اور اللہ کی رحمت کی بجائے اس کا عذاب نازل ہونے کا سبب ہوتی ہے ،
جب کوئی قوم اللہ کی بات سے ، اس کی طرف آنے والے اللہ کے رسول علیہ السلام کی بات سے ، نصیحت حاصل نہیں کرتی اور اپنے وسائل یا اپنی قوت پر اتنا تکبر کرتی ہے کہ اللہ کی گرفت سے بھی نبرد آزما ہونے کا زعم کرنے لگتی ہے تو پھر اللہ اپنی ایک سنت کےمُطابق اکثر اآوقات اُسے مزید ڈھیل بھی دیتا ہے ، اوراُس قوم کے لیے دُنیا کی نعمتیں اور طاقتیں کھول کر اُنہیں ایک اور موقع دیتا ہے کہ یہ بھی آزما دیکھو اور مان جاؤ کہ اللہ کی پکڑ سے اللہ کے علاوہ بچانے والا اور کوئی نہیں اور تم ہر حال میں ہر وقت اُسی کے محتاج ہو ،
اور پھر اگر وہ قوم باز نہ آئے اور اللہ کی اُن نعمتوں کو اپنا حق یا اپنی کمائی سمجھ کر اُن پر خوش ہوتی رہے اور ان پر اِتراتی رہے اور اپنی نخوت اور تکبر پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ اُسکے ساتھ دوسری چال چلتا ہے ، سورت الاعراف اور سورت الانعام کے جن دو مُقامات کا ہم مطالعہ کر رہے ہیں وہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی اُس چال ، اپنے اُس داؤ کا ذکر فرمایا ہے کہ بندے سمجھ جائیں اور اللہ کے بندے بن جائیں ،
جی ہاں جب کوئی قوم اللہ کے سامنے تضرع اختیار کرنے کی بجائے ، اکڑتی ہے ، اللہ کی تابع فرمانی اختیار کرنےکی بجائے نافرمانی اختیار کرتی ہے تو پھر اللہ اس کا ساتھ ایسی چال بھی چلتا ہے جسے وہ چال سمجھ ہی نہیں پاتی ، بلکہ اس پر خوش ہوتی ہے ،
(((((ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوْا وَقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ:::پھر ہم نے تنگی کو آسانی سے بدل دیا یہاں تک وہ لوگ(مال و اولاد میں ) زیادہ ہو گئے تو کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادؤں کو بھی تو سختی اور تکلیف آتی تھی ( اور ہم خوب مال و کثرت اور عیش وقوت والے ہیں لہذا پریشانی والی کوئی بات نہیں)تو ہم نے انہیں اچانک ہی پکڑ لیا اور انہیں احساس بھی نہ ہونےپایا )))))سورت الاعراف /آیت 95،
کچھ اسی قسم کی چال کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ سورت الانعام کے اسی مقام میں فرماتا ہے جس مُقام کا ہم مطالعہ فرما رہے (((((فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ o فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ::: پھر جب انہیں کی گئی نصیحت کو وہ انہوں نے فراموش کر دیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے ، حتی کہ جب وہ اُن چیزوں پر خوب خوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تھیں تو ہم نے انہیں( اپنے عذاب کے ذریعے)اچانک پکڑ لیا تو (پھر وہ )وہ مایوس ہو کر رہ گئے o پس(اس طرح)ظلم کرنے والی قوم کی جڑ کاٹ ڈالی گئی ، اور تمام تر خالص سچی تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے))))) سورت الانعام /آیات 44،45،
سمجھنے اور سمجھ کر ماننے اور مان کر اپنانے والی بات یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے"""تضرع """ یعنی اپنی ذلت ، کمزوری ، عاجزی ، اِنکساری ، بے بسی ، وغیرہ کا مکمل اِظہار و اِقرار ہمیں اللہ کے عذاب سے بچانے اور اس کی رحمتوں اور کامیابیوں کے حصول کے بنیادی اسباب میں سے ایک أہم ترین سبب ہے ، جو اِس رویے کو نہیں اپناتے وہ کبھی تو ز ُبان حال سے اور کبھی ز ُبانء قال سے اللہ کے سامنے اپنی بڑائی کا اظہار کر کے اللہ کے عذاب کےمستحق ہو جاتے ہیں ،
ہمیں ایسے لوگوں کے پاس دُنیا کی نعمتیں ، شان و شوکت ، قوت و حشمت وغیرہ کی فراوانی دیکھ کر اُن کے ساتھ اللہ کی چال ، اور اللہ کے داؤ کو نہیں بھولنا چاہیے ،
یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالی ٰ نے ہمیں بالکل واضح طور پر ہمیں یہ سب کچھ بتا دیا ہے کہ اگر ہم اُس پر ایمان لا کر اُس کے سامنے تضرع اختیار نہیں کریں گے تو وہ ہمیں اپنے داؤ میں لے کر عذاب دے گا، اللہ نے ہمیں طرح طرح سے مثالیں دے دے کر چوکنا کیا ہے اور ہماری غلط فہمیوں کا انجام بھی بتا دیا ہے :::
(((((أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ::: کیا بستیوں والے اس کام سے بےخوف ہیں کہ جب رات میں وہ بے خبر سو رہے ہوں تو اُن پر ہمارا عذاب واقع ہو جائے Oأَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ :::یا کیابستیوں والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ جب دن چڑھے وہ کھیل کود میں مشغول ہو تو انہیں ہمارا عذاب آن پکڑے O أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ :::تو کیا یہ (اللہ کی باتوں سےانکار کرنے والے اُس کے سامنے اکڑنے والے )لوگ اللہ کے داؤ سے ڈرتے نہیں ، (خوب سن لو ) کہ اللہ کے داؤ سے صرف وہی لوگ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں جو (دُنیا اور آخرت )میں خسارہ پانے والے ہوتے ہیں)))))سورت الاعراف /آیات 97تا 99،
پس ہمیں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے اور اپنے آپ کو اللہ کے داؤ سے محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اللہ سے بچاؤ کا اللہ ہی کے سِوا اور کوئی ذریعہ نہیں ، اور اللہ سے سے بچنے کا اللہ ہی کے عِلاوہ اور کوئی ٹھکانا نہیں ،
(((((وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ :::اور اگر اللہ تمہیں کسی نقصان(یا تکلیف)میں مبتلا کر دے تو اس (نُقصان یا تکلیف)کو دُور کرنے والا سوائے اللہ کے اور کوئی بھی نہیں))))) سورت الانعام / آیت 17،
اور یہی تعلیم ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دی ، اور خود بھی اس پر عمل فرمایا کرتے تھے کہ اپنے سونے کی دُعاؤں میں اُس دُعا کو شامل رکھا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی یہ دُعا سکھائی اور اپنی سُنّت کے مطابق اس پر عمل کرنے کا حکم فرمایا :::
(((((اللّھُم أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ ولا مَنْجَا مِنْكَ إلا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الذي أَنْزَلْتَ ونبيك الذي أَرْسَلْتَ ::: اے اللہ ، آپ کی طرف رغبت سے اور آپ کے خوف سے میں نے خود کو آپ کے حوالے کر دیا اور اپنی توجہ آپ کی طرف کر لی اور اپنے معاملات آپ کے سُپرد کر دیے اور اپنی کمر آپ کی طرف ٹیک دی(یعنی آپ پر توکل کرتے ہوئے میں نے آرام کرنے کی ٹھانی ہے)آپ کے سِوا ، آپ سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور نہ ہی کوئی آپ سے چُھڑوانے والا ہی ہے ،میں اُس کتاب پر اِیمان رکھتا ہوں جو آپ نے نازل فرمائی اور آپ کے اُس نبی پر ایمان رکھتا ہوں جو آپ نے ارسال فرمایا )))))
اور حکم بھی فرمایا کہ((((( ان باتوں کو اپنی آخری بات بنایا جائے)))))اوریہ خوش خبری بھی دی کہ (((((رات کو سوتے ہوئے جس کی آخری بات یہ کلمات ہوں گے ، اگر وہ اُس رات سوتے میں مر گیا تو فطرت پر مرے گا اور زندہ رہ گیا تو اجر پائے گا )))))متفقٌ علیہ، صحیح البخاری / کتاب الوضوء / آخری باب ، کتاب الدعوات / باب 6،باب 9، کتاب التوحید /باب 34، صحیح مُسلم /کتاب الذِکر و الدُعاء و التوبۃ الااستغفار/باب17،السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ /حدیث 2889، صحیح اجامع الصغیر /حدیث 1269،
اِس واقعہ کے ایک راوی البراء بن عازب رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمائے ہوئے الفاظ کو یاد کرنے کے لیے فوراً ہی دُہرانا شروع کر دیا ، اور (""" و نبیک""" کی جگہ ) کہا """ و رسولک """ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے مجھے منع فرما دیا اور اِرشاد فرمایا ((((( بلکہ کہوو نبیک)))))، اس عمل اور فرمان میں ایک بہت ہی عظیم سبق ہے اُس کی بات کسی اور وقت اِن شاء اللہ ، آج کی بات کو میں اِس یاد دھانی کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ ابھی بیان کیے گئے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین مبارکہ کے مطابق انسانوں اور بالخصوص مسلمانوں کی دُنیا اورآخرت کی خیر کے حصول کے بنیادی ترین اسباب میں سے ایک سبب اللہ کے سامنے ایک ذلیل ، کمزور ، عاجز ، منکسر ، بے بس بندے کی طرح ہو کر رہنا ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی یہ حقیقت پہچاننے اور اپنے رب کے سامنے اسے ماننے کی توفیق دے ۔ و آخرُ دعواناأَنِ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ """
یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے ۔