واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات



عبادات عبادات


ماہ شعبان ، شب برات ، اور ہم

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-08-07, 01:50 AM   #1
ماہ شعبان ، شب برات ، اور ہم
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 11-08-07, 01:50 AM

ماہ شعبان ، شب برأت ، اور ہم

ماہِ رواں ماہِ شعبان ہے ، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے مہینوں میں سے ایک مہینہ ، اِس مہینہ کی فضیلت کے بارے میں محدثین نے جو احادیث روایت کی ہیں اُن میں ہمیں ایک فضلیت تو یہ ملتی ہے کہ اِس مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھے جائیں ، جیسا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ ((( لم یَکُن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یَصُومُ شَہْرًا اَکثَرَ من شَعبَانَ فاِنہ کان یَصُومُ شَعبَانَ کُلَّہُ وکان یقول خُذُوا من العَمَلِ ما تُطِیقُونَ فاِن اللَّہَ لَا یَمَلُّ حتی تَمَلُّوا وَاَحَبُّ الصَّلَاۃِ اِلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما دُووِمَ علیہ وَاِن قَلَّت وکان اِذا صلی صَلَاۃً دَاوَمَ علیہا ::: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کِسی بھی اور مہینے سے زیادہ شعبان میں روزے رکھا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے اُتنا (نیک) کام کرو جتنے(کو ہمیشہ کرنے) کی طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو (تمہارے کاموں )سے اُس وقت تک نہیں بھرتا جب تک تم لوگ نہ بھر جاو (یعنی ( تمہارے دِل وہ کام کرنے سے نہ بھر جائیں) ،،،،،، ))) صحیح البخاری /کتاب الصیام /باب ٥١ صوم شعبان،
اِس ایک عِلاوہ ماہِ شعبان کی دوسری فضیلت بھی ملتی ہے جِس کا ذِکر اِنشاء اللہ ابھی آگے آئے گا ،
اِس دوسری حدیث میں شعبان کی درمیانی رات کے بارے میں ایک خبر بیان کی گئی ہے مگراِس میں وہ کُچھ یقیناً نہیں ہے جو بھائی لوگوں نے بنا لیا ہے اور جِس پر وہ عمل کئیے جا رہے ہیں ، بھیڑ چال چونکہ ہماری عادت ہو چکی ، لہذا یہ دیکھنے کی زحمت کیوں کی جائے کہ ریوڑ کہاں جا رہا ہے ، بس گردن ڈالے چلے جا رہے ہیں کہ جہاں باقی جائیں گے ہم بھی وہیں جا ئیں گئے اور پھر اِس عادت کو پُختہ کرنے میں شیطان کی محنت بھی کافی شامل ہے ، جو ہمیں اِس خوشی فہمی میں رکھتا ہے کہ ''' اِتنے بڑے بڑے عُلماء بھلا کیسے غلط کہہ سکتے ہیں، اور یہ اِتنے لوگ جو کُچھ کہہ اور کر رہے ہیں یہ سب غلط ہونا تو بہت ہی مُشکل ہے ، وغیرہ وغیرہ ''' اور اِسی طرح کے دیگر وسوسوں کے ذریعے وہ ہمیں حق سے دور رکھتا ہے ، اور یہ بھلائے رکھتا ہے کہ غلطی سے محفوظ ، اور معصوم صِرف اور صِرف انبیاء اور رسول علیہم السلام ہوتے تھے اور ہر قِسم کے کمی ،غلطی ، نُقص اور عیوب سے پاک صِرف اور صِرف اللہ کی ذات ہے ،
اکثریت کِسی بھی معاملے کی درستگی یا نا درستگی کی پرکھ کی کسوٹی نہیں خاص طور پر دِینی معاملات میں وہاں حق صِرف اور صِرف اللہ کی وحی ہے وہ قران میں سے ہو یا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان پر جاری کروائی ہو ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ((( قُلِ اللّہُ یَہدِی لِلحَقِّ اَفَمَن یَہدِی اِلَی الحَقِّ اَحَقُّ اَن یُتَّبَعَ اَمَّن لاَّ یَہِدِّی اِلاَّ اَن یُہدَی فَمَا لَکُم کَیف َ تَحکُمُونَO وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُہُم اِلاَّ ظَنّاً اَِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغنِی مِنَ الْحَقِّ شَیااً اِنَّ اللّہَ عَلَیمٌ بِمَا یَفعَلُون ::: (اے رسول )کہیے اللہ ہی حق کی طرف ہدایت دینے والا ہے ، تو وہ جو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے وہ اِس بات کا حق دار ہے کہ اُس کی تابع فرمانی کی جائے یا وہ جو ( اللہ سے ) ہدایت پائے بغیر خود کِسی کو ہدایت نہیں دے سکتا ، تو تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، (کہ اللہ کی ہدایت کے علاوہ اور اور فلسفوں اور رائے کو بنیاد بنا کر ) کیسے عجیب فیصلے کرتے ہوO اور اُن (اِنسانوں) کی اکثریت ظن ( خیالوں) کی پیروی کرتی ہے ، (جبکہ ) بے شک خیالات حق سے غنی نہیں کر سکتے ، جو کچھ یہ کرتے ہیں بے شک اللہ (وہ سب ) بہت اچھی طرح جانتا ہے ))) سورت یونس / آیت ٣٥، ٣٦
اور فرمایا ((( اِنَّ اللّہَ لَذُو فَضلٍ عَلَی النَّاسِ وَلَـکِنَّ اَکثَرَہُم لاَ یَشکُرُون ::: بے شک اللہ انسانوں پر مہربانی کرنے والا ہے لیکن اُنکی اکثریت شکر نہیں کرتی ( یعنی اللہ کی تابع فرمانی کرنے کی بجائے اللہ کی نافرمانی کرتی ہے ) ))) سورت یونس آیت ٦٠ ، تو اکثریت کا کِسی قول و فعل پر عمل پیرا ہونا کِسی بھی مسلمان کے لیے اُس قول یا فعل کو اپنانے کی دلیل نہیں ہوتی ، اکثریت کو درستگی کی دلیل اُس جمہوریت میں مانا جاتا ہے جِس میں سر گنے جاتے ہیں سروں کے اندر کیا ہے وہ نہیں دیکھا جاتا ، آئیے ذرا ماہِ شعبان میں چلی جانے والی بھیڑ چال سے باہر نکل کر تھوڑی دیر کے لئیے دیکھیں تو سہی کہ کون کِس کی ہانک پر کہاں چلا ہی جا رہا ہے ؟
کِسی نے اِن سے کہا ، شعبان کی پندرہویں رات میں حساب کِتاب دیکھے جاتے ہیں ، مُردوں کی روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں ، زندگی اور موت کے فیصلے کئیے جاتے ہیں ، جِس نے آنے والے سال میں مرنا ہونا ہے اُسکا پتہ زندگی کے درخت سے جھاڑ دِیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ اور شاید اِسی عقیدے کی بنا پر ''' پتہ صاف کرنا ''' محاورۃً اِستعمال کیا جاتا ہے ، بہر حال ، جِس حدیث کو بُنیاد بنا کر یہ قصے گھڑ لئیے گئے اور طرح طرح کی عِبادات اور ذِکر اذکار بنا لیے گئے ،
آئیے سُنیے کہ وہ حدیث کیا ہے ، معاذ ابنِ جبل رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( یطَّلعُ اللَّہ ُ تبارکَ و تعالیٰ اِلیٰ خلقِہِ لیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ فَیَغفِرُ لِجمیع ِ خلقِہِ ، اِلاَّ لِمُشرِکٍ او مشاحن ::: اللہ تبارک و تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں اپنی مخلوق (کے اعمال )کی خبر لیتا ہے اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے ، سوائے شرک کرنے والے اور بغض و عناد رکھنے والے کے ( اِنکی مغفرت نہیں ہوتی ))) صحیح الجامع الصغیر حدیث١٨١٩ ، سلسلہ احادیث الصحیحہ/حدیث١١٤٤ ،
اور اِس کی دوسری روایت اِن الفاظ میں ہے ((( اِذا کَان لَیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ اَطلَعُ اللَّہ ُ اِلَی خَلقِہِ فَیَغفِرُ لِلمُؤمِنِینَ وَ یَملیَ لِلکَافِرِینَ وَ یَدعُ اَئہلِ الحِقدِ بِحِقدِہِم حَتَی یَدعُوہُ ::: جب شعبان کی درمیانی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق (کے اعمال )کی اطلاع لیتا ہے اور اِیمان والوں کی مغفرت کر دیتا ہے اور کافروں کو مزید ڈِھیل دیتا ہے اورآپس میں بغض (غصہ ) رکھنا والے ( مسلمانوں ) کو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنا غُصہ چھوڑ دیں ))) حدیث حسن ہے ، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ/ حدیث ٧٧١(771 )
اِن منقولہ بالا دو حدیثوں کو پڑھ کر ان شاء اللہ ہر قاری سمجھ سکتا ہے کہ اِن میں کوئی ایسی خبر نہیں جِس کو بُنیاد بنا کر ہم وہ کُچھ کریں جو کرتے ہیں
بات تو تھی بھیڑ چال کی،اسی چال میں چلتے چلتے ہم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو کُچھ کو دیئے جلاتے ہوئے پایا اور خود بھی یہ کام شروع کر دیا ، کُچھ نے اِس دیے بازی اور آتش پرستی کو ہندو چال اور مجوسی چال سے مُسلم چال میں ڈھالنے کےلئیے شبِ برأت بنا لیا ، کچھ حساب کتاب کی بات بنائی گئی ، کُچھ نماز اور ذِکر اذکار شامل کر لیئے گئے ، جب کہ اِن سب چیزوں کے لیئے ہمارے پاس اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی ثابت شدہ سچی قابلِ اعتماد خبر نہیں، مگر کیا کریں ذوق اور عادت میں شامل ہو چکا ہے کہ ، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو ناکافی سمجھا جائے ، اور اُن کی تعلیمات خلاف ورزی کی جائے لیکن جِن کی پیروی کی جاتی ہے اُنکی بات کو ہر صورت مانا جائے اور اُسے درست ثابت کرنے کے لیے قران و سُنّت کی کوئی بھی تاویل کی جائے ،
خود کو بدلتے نہیں قراں کو بدل دیتے ہیں ::: مرشد کے نہیں رسول کے فرماں کو بدل دیتے ہیں
سُنّت اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کی خِلاف ورزی بھی کی جائے اور اُن کی اتباع کا دعویٰ اور اُن سے نسبت بھی برقرار رکھی جائے ، ہندوؤں کی طرح گھروں کو روحوں کے اِستقبال کے لیے دھویا جائے اور چراغاں کے نام پریہودیوں اور مجوسیوں کی طرح آگ سے سجایا جائے ، عیسائیوں کی طرح پٹاخے چلائے یا بجائے جائیں اور آتش بازی کی جائے رات بھر جاگ جاگ کر خود ساختہ عِبادات اور ذکر اذکار کیئے جائیں ، پھر بھی ہم درست ہمارا دعویٰ سچا ہماری نسبت ٹھیک،،، اور جو اِن کاموں سے روکے اور قران اور صحیح ثابت شدہ سُنّت کی دعوت دے وہ گستاخ ، اور فرقہ واریت پھیلانے والا ، سبحان اللَّہ و الیہ أشکو ،
آگ کو بلا ضرورت استعمال کرنا اور جلائے رکھنا آگ پرست ایرانی مجوسیوں کا باطل مذھب تھا ، کہ وہ ہر وقت گھروں میں آگ جلائے رکھتے تھے اور اپنے خوشی و غم کے اظہار کے لیے خاص طور پر بڑی چھوٹی آگ جلاتے تھے ، یہودی بھی اپنے مذہبی بلاوے کے لیے آگ جلاتے تھے اِسی لیے جب صحابہ نماز کے بلاوے کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے تو آگ جلانے کی سوچ کو یہودیوں کی عادت ہونے کی وجہ سے ترک کِیا اور ناقوس (ناقوس، کِسی جانور کا بڑا سے سینگ جِسے کھو کھلا کر کے اُس میں پھونک مار کر زور دار آواز پیدا کی جاتی ہے یا اُسی قِسم کی کوئی اور چیز خواہ دھات سے بنی ہو یا کِسی اور مواد سے ، ناقوس کہلاتی ہے ، ناقوس) استعمال کرنے کی سوچ کو عیسائیوں کی عادت ہونے کی وجہ سے ترک کیا ، تو اُس وقت عُمر رضی اللہ عنہُ نے اذان دینے کا مشورہ دِیا اور اُن کے مشورہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قُبُول فرما کر بلال رضی اللہ عنہُ کو حُکم دِیا کہ اذان کہیں ، اور اذان کے فقرے دو دو دفعہ کہیں ، اور اقامت کے ایک دفعہ ، صحیح البخاری / کتاب الاذان / پہلے باب کی احادیث ، اور صحیح مسلم / کتاب الصلاۃ / پہلے باب کی پہلی حدیث ،
ہندو بھی اپنی کچھ خاص عبادات میں دئیے اور موم بتیاں وغیرہ جلاتے تھے اور ہیں ، مسلمانوں میں کِسی ضرورتِ زندگی کو پورا کرنے کے عِلاوہ آگ کا استعمال کبھی مروج نہیں رہا ، اور ہمارے ہاں اِس رات میں عِبادت کے طور پر ثواب و اجر کی نیت سے آگ جلائی جاتی ہے ، اِنّا للِّہِ و اِنّا اِلیہِ راجِعُونَ ۔
شعبان کی فضیلت میں بیان کی جانے والی غیر ثابت احادیث
(١) جھوٹ کی ایک لمبی کہانی بنا کر حدیث کے طور پر پھیلائی گئی اُسکا آغاز اِسطرح ہے '''""" یا علی من صلی لیلۃ النصف من شعبان مئۃ رکعۃ بالف قل ہو اللہ احد قضی اللہ لہ کل حاجۃ طلبہا تلک اللیلۃ وساق جزافات کثیرۃ واعطی سبعین الف حوراء لکل حوراء سبعون الف غلام وسبعون الف ولدان ،،،،،، ::: اے علی جس نے شعبان کی درمیانی رات میں سو رکعت نماز ، ہزار دفعہ قل ھو اللہ احد کے ساتھ پڑہی تو وہ اللہ سے جس ضرورت کا بھی سوال کرے گا اللہ وہ دے گا ، اور اللہ بہت سے انعامات دے گا اور ستر ہزار حوریں دی جائیں گی اور ستر ہزار درمیانی عمر کے بچے اور ستر ہزار چھوٹی عمر کے بچے ،،،،،،،،، '''""" ،
اِمام ابن القیم نے ''' المنار المنیف فی صحیح و الضعیف ''' میں اِس حدیث کے بارے لکھا ''' حیرت ہے کہ کوئی سُنّت کے عِلم کی خوشبو پاتا ہو اور پھر بھی اِس قِسم کی فضول باتوں سے دھوکہ کھائے ، یہ نماز اِسلام میں چار سو سال کے بعد بیت المقدس کے علاقے میںبنائی گئی اور پھر اِسکے بارے میں بہت سی احادیث بنائی گئیں '''
(٢) '"""'' من صلی لیلۃ النصف من شعبان ثنتی عشرۃ رکعۃ یقرا فی کل رکعۃ ثلاثین مرۃ قل ہو اللہ احد شفع فی عشرۃ من اہل بیتہ قد استوجبوا النار ::: جِس نے شعبان کی درمیانی رات میں بارہ رکعت نماز پڑہی اور ہر رکعت میں تیس دفعہ قل ھو اللہ احد پڑہی تو وہ اپنے گھر والوں میں سے ایسے دس کی شفاعت کر سکے گا جِن پر جہنم میں جانا واجب ہو چکا ہو گا'''
سابقہ حوالہ /جلد ١ /صفحہ ٩٨ (ناشر کے فرق سے صفحات کے نمبر مختلف ہو سکتے ہیں)
(٣) '""""'' خمس لیال لا ترد فیہن الدعوۃ اول لیلۃ من رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ ولیلۃ الفطر ولیلۃ النحر ::: پانچ راتیں (ایسی) ہیں جن میں دُعا رد نہیں کی جاتی (قُبُول کی جاتی ہے ) رجب کی پہلی رات اور شعبان کی درمیانی رات ، اور جمعہ کی رات اور عید ِفطر کی رات ''"""' :::حدیث مَن گِھڑت جھوٹی ہے ، اِس کی سند میں ابو سعید بندار بن عمر بن محمد بن الرویانی نامی راوی ہے جسے محدثین نے جھوٹا اور حدیثیں گَھڑنے والا قرار دِیا ہے ،
( ایک تنبیہہ ::: خیال رہے کہ اسلامی قمری نظام میں رات دِن سے پہلے آتی ہے جبکہ عیسوی نظامِ تاریخ میں دِن رات سے پہلے آتے ہیں ، عیدِ فِطر کی رات وہ رات جو عید کے دِن سے پہلے ہے ، جِسے عام طور پر چاند رات کہا جاتا ہے اور جو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اور شکر کی ادائیگی کی تیاری کرنے کی بجائے نافرمانی کرتے ہوئے اور مزید نافرمانی کی تیاری کرتے ہوئے گذاری جاتی ہے ، اِس موضوع پر رمضان کے مضامین کے آخر میں بات ہو چکی ، اسی طرح جمعہ کی رات وہ رات جو جمعرات کے دِن اور جمعہ کے دِن کے درمیان ہوتی ہے اور اسی طرح ساری راتیں دِنوں سے پہلے شمار کی جاتی ہیں اور اسی لیے ہماری اسلامی قمری تاریخ سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی ہے نہ کہ آدھی رات گذرنے پر ،
(٤) '""""'' من احیا اللیالی الخمس وجبت لہ الجنۃ لیلۃ الترویۃ ولیلۃ عرفۃ ولیلۃ النحر ولیلۃ الفطرولیلۃ النصف من شعبان ::: جِس نے پانچ راتیں زندہ کِیں (یعنی عِبادت کرتے ہوئے گُزارِیں ) تو اُس کے لیے جنّت واجب ہو گئی ، ترویہ (یعنی آٹھ ذی الحج) کی رات ، اور عرفہ ( نو ذی الحج) کی رات ، اور نحر (قربانی کے دِن یعنی دس ذی الحج ) کی رات ، اور( عیدِ ) فِطر کی رات ، اور شعبان کی درمیانی رات '''"""" مَن گَھڑت جھوٹی حدیث ، ضعیف الترغیب والترھیب /کتاب العیدین و الاضحیۃ / پہلے باب کی دوسری حدیث۔
(٥) ''""""' ،،،،،،اِن اللہ تعالی ینزل لیلۃ النصف من شعبان اِلی السماء الدنیا فیغفر لاکثر من عدد شعر غنم کلب::: اللہ تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں دُنیا کے آسمان کی طرف اُترتاہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی بخشش کرتا ہے '""""'' سنن النسائی / کتاب الصوم / باب ٣٩ (39 ) میں امام النسائی نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا کہ ''' میں نے محمد (یعنی امام البخاری ) کو سنا کہ وہ اِس حدیث کو کمزور ( نا قابل حُجت ) قرار دیتے تھے'''
(٦) """"" اِذا کانت لیلۃ النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا نہارہا فاِن اللہ ینزل فیہا لغروب الشمس اِلی سماء الدنیا فیقول الا من مستغفر لی فاغفر لہ الا مسترزق فارزقہ الا مبتلی فاعافیہ الا کذا الا کذا حتی یطلع الفجر ::: جب شعبان کی درمیانی رات ہو تو اُس رات قیام (یعنی نماز پڑھا) کرو ، اور اُس رات کے دِن کو روزہ رکھا کرو کیونکہ اِس رات میں سورج غروب ہوتے ہی ( یعنی رات کے آغاز میں ہی) اللہ تعالیٰ دُنیا کے آسمان پر اُتر آتا ہے اور کہتا ہے ، ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اُس کی بخشش کر دوں ، ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اُسے رزق دوں ، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اُس عافیت دوں ، ہے کوئی ایسا ، ہے کوئی ایسا ،،، یہاں تک فجر کا وقت ہو جاتا ہے '""""''' حدیث سنن ابن ماجہ میں ہے اور اِسکی سند میں ابن ابی سبرہ نامی راوی کو حدیثیں گھڑنے والا کہا گیا ہے (بحولہ التقریب التھذیب اور الزوائد للبوصیری) اس حدیث کے بعض حصے دوسری صحیح روایات میں ملتے ہیں لیکن ہمارے اِس موضوع سے متعلق حصہ مَن گَھڑت ہی ہے ۔
اِن مندرجہ بالا احادیث اور اِن جیسی کچھ اور کی بنیاد پر یا محض سنی سنائی کہانیوں ، قصوں ، خوابوں اور نام نہاد الہامات کی بنیاد پر جو کام اور عقائد جِن کا قُران اور سُنّت میں کوئی صحیح ثبوت نہیں مغفرت کا سبب ہیں یا عذاب کا ؟
آیے مضمون کے آغاز میں نقل کی گئی دو صحیح حدیثوں کی روشنی میں سوچتے ہیں کہ ہم کِن میں ہیں؟
کیا ہم کِسی مُسلمان سے بُغض و عناد تو نہیں رکھتے ؟
کیا ہم کِسی مَن گھڑت ، نئی عِبادت کو ادا کر کے یا کوئی بے بُنیاد عقیدہ اپنا کر کِسی بدعت یا شرک کا شکار تو نہیں ہو رہے ؟
اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو ، کیونکہ اگر ایسا ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان جو آغاز میں نقل کیا گیا، کے مطابق پندرہ شعبان کی رات میں ہمارے لیے خیر کی کوئی اُمید نہیں اور اگر ایسا نہیں تو اِن شاء اللہ ہماری مغفرت کر دی جائے گی ۔
والسلام علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ۔

Last edited by عادل سہیل; 05-08-09 at 01:28 AM.. وجہ: Reformating

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2183
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (09-11-11), فیصل ناصر (05-08-09), احمدنواز (07-08-09), ارشد کمبوہ (17-07-11), طارق راحیل (06-08-09), عُکاشہ (08-08-08)
پرانا 17-08-08, 11:23 PM   #2
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ماہ شعبان ، شب برات ، اور ہم

جزاک اللہ خیرا۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (17-07-11)
پرانا 05-08-09, 03:12 AM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:

، معاذ ابنِ جبل رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( یطَّلعُ اللَّہ ُ تبارکَ و تعالیٰ اِلیٰ خلقِہِ لیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ فَیَغفِرُ لِجمیع ِ خلقِہِ ، اِلاَّ لِمُشرِکٍ او مشاحن ::: اللہ تبارک و تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں اپنی مخلوق (کے اعمال )کی خبر لیتا ہے اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے ، سوائے شرک کرنے والے اور بغض و عناد رکھنے والے کے ( اِنکی مغفرت نہیں ہوتی ))) صحیح الجامع الصغیر حدیث١٨١٩ ، سلسلہ احادیث الصحیحہ/حدیث١١٤٤ ،
اور اِس کی دوسری روایت اِن الفاظ میں ہے ((( اِذا کَان لَیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ اَطلَعُ اللَّہ ُ اِلَی خَلقِہِ فَیَغفِرُ لِلمُؤمِنِینَ وَ یَملیَ لِلکَافِرِینَ وَ یَدعُ اَئہلِ الحِقدِ بِحِقدِہِم حَتَی یَدعُوہُ ::: جب شعبان کی درمیانی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق (کے اعمال )کی اطلاع لیتا ہے اور اِیمان والوں کی مغفرت کر دیتا ہے اور کافروں کو مزید ڈِھیل دیتا ہے اورآپس میں بغض (غصہ ) رکھنا والے ( مسلمانوں ) کو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنا غُصہ چھوڑ دیں ))) حدیث حسن ہے ، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ/ حدیث ٧٧١(771 )
عادل بھائی
ان دو احادیث سے کم از کم یہ تو پتہ چلتا ہے کے یہ ایک فضیلت والی رات ہے
میں نے تو کچھ صاحبان کو یہ کہتے بھی سنا ہے کے شب قدر ( رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتیں ) کے علاوہ کوئی اور رات فضیلت والی نہیں ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (17-07-11)
پرانا 05-08-09, 10:24 AM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مندرجہ بالہ مراسلہ سے یہ بات صابت کی گی ہے کہ یہ رات کچھ خاص یا یہ کہ زیادہ خاص نہی بس ایسی ہی رات ہے جیسا کہ جمعہ کا دن یا رات کی فضلیت لکھی اور پڑھی جاتی ہیں ۔ ۔ ؟؟؟

جب اس رات کا کچھ بھی اتنا خاص نہی کہ جتنا کہ مراسلہ بھیجنے والیے کہہ رہے ہیں تو ان پر یقین کر لیتے ہیں (کچھ دیر کے لیے )
تو ایک عام رات یا یہ کہہ لیتے ہیں کہ ایک جمعہ جتنی فضیلت والی رات ہے یہ ، ، اور رمضان کی راتوں کا اس سے کوئی مقابلہ نہی ؟؟؟؟؟

پہلی بات ۔۔۔۔۔۔ ۔اس رات کی فضیلت وہی جانتے ہیں جن کی یہ رات ہے ۔۔۔
دوسری بات ۔۔۔۔ جب اپ کی کتابوں سے کوئی فضیلت صابت ہی نہی تو پھر ہم جو کررہے ہیں وہ کرنے دیں ۔۔۔۔
تیسری بات ۔۔۔۔ جب اسلام میں کوئی فضیلت اس رات کی صابت نہی تو اس رات کو جو کچھ لوگ کرتے ہیں اس کو اسلام کے خلاف تصور نہ کیا جائے
چھوتھی بات۔۔۔۔۔جب اپ سے کچھ صابت ہی نہی تو 1200 سو سال سے اس رات کا منانے والوں کو روکنا غلط مانا جائے گا ۔ ۔۔
پانچویں بات۔۔۔۔۔ جب اپ سے صابت نہی اس رات کی فضیلت تو اپ دوسروں کو کیسے منع کرسکتے ہیں جب کہ ان کی کتابوں اور ان کی روایتوں سے کچھ صابت ہوتا ہے ۔۔۔ یعنی سیدھی بات کہ اپ اس میں دخل اندازی نہ کریں ۔ ۔ کیسی کی کوی تقریب ہو اور اپ اس میں گھس جائیں ، ،یہ اچھی بات تو ویسے بھی نہی اخلاقیات کے خلاف ہے ۔ ۔ (اور جنت میں سب سے زیادہ وزن ان لوگوں کے اعمال کا ہوگا جن کے اخلاق سب سے اچھے ہونگے)حدیث بھی بہیت ہیں اگر کہیں تو لکھ دوں ۔ ۔ ۔
بھائی چارے کے اور اتحاد بین المسلمین کے بھی خلاف ہے اگر دیکھا جائے تو ۔ ۔ ۔ ۔
اور جو احادیث اگر ہیں اور وہ سہی ہوں تو ان کے خلاف بات کرنے کا گناہ بھی الگ ہوگا ۔ ۔ ۔

اب رہی بات کہ پھر یہ رات ہے کیا ؟؟؟؟؟
یہ رات منسوب ہے امام المھدی علیہ سلام سے ۔ ۔ 14 اور 15 رات کی شعبان کی رات ۔ ۔ ۔ ان کی ولادت کی یہ تاریخ ہے ۔ ۔دنیا میں انے کی ۔۔۔
اب اگر گھر والوں کو چھوڑ کر اپ لوگوں سے پوچھتے پھریں کہ بھائی اج کیا ہوا ہے کی لوگ جشن منارہے ہیں ؟؟ تو یہ اپ کی اپنی غلطی ہے نہ کہ جشن منانے والوں کی ۔ ۔ ۔
اب رہی یہ بات کہ کوئی شکر میں نماز پرھئے کوئی روزہ رکھے ، ، ،
کوئ حلوہ بنائے اور کھالئے ، ،
کوئی پٹاخہ پھوڑے ، ، ، کوئی چراغاں کرئے ، ، یہ ان کا فعل ہے جو کہ لوگ کرتئے ہیں ، ، بھائیوں بھائی چارئے کی بات کرنا اور بھائی چارہ قائم کرنا دو الگ باتیں ہیں ۔ ۔ ۔ اپ بھائی چارہ قائم کرنے کا ثبوت دیں ، ، ، ہماری خوشی میں اگر شامل نہی ہوسکتے تو اس کو خراب بھی مت کریں ۔ ۔
یقینا اگر اپ کے گھر والوں میں سے کسی کی سالگرہ ہو کوئی خوشی کی تقریب ہو تو ہم بھی اپ کے ساتھ ہی ہوتے ہیں ، ، ،

تو جب ہماریے امام کی سالگرہ یا ان کے والادت یا ظہور کے دن کی مناسبت سے اگر ہم خوشی مناتے ہیں تو اپ بھی خوش ہوں ۔یہ بات جانتے ہویے کہ اس طرح سے اسلام میں کوئی بدعت نہی اور اس دن کی کوئی خاص احادیث اپ کی کتابوں سے صابت نہی ۔ ۔ خوشی منانا ہر انسان کا ہر ادمی کا حق ہے ۔ جو اللہ نے ہمیں دیا ہے ۔ ۔ ۔جس طرح زندہ رہنے کا حق سب کو ملا ہے ۔ ۔سانس لینے کا حق ملا ہے ۔ ۔ ۔

یہ ہے بھائی چارہ اگر اپ کا کوئ دن ہے تو ہمیں بتاییں ہم اپ کے ساتھ خوشی مناییں گے اور یہ بات ہم دل سے کہہ رہے ہیں ، ، کیونکہ اخر کار سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ ۔وسلام ۔ ۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے  
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 06-08-09, 12:42 AM   #5
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شبِ براءت مبارک
میری جاب کے لئے دعا کریں سب
مہربانی ہوگی
طارق راحیل آف لائن ہے  
طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 06-08-09, 02:40 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
عادل بھائی
ان دو احادیث سے کم از کم یہ تو پتہ چلتا ہے کے یہ ایک فضیلت والی رات ہے
میں نے تو کچھ صاحبان کو یہ کہتے بھی سنا ہے کے شب قدر ( رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتیں ) کے علاوہ کوئی اور رات فضیلت والی نہیں ؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی فیصل بھائی آپ نے درست کہا ،اس رات کی بس یہی فضیلت ملتی ہے ، اور اس فضیلت کی بنا پر عام معمولات سے زیادہ کوئی عمل کرنے کی کوئی تعلیم میسر نہیں ، ، چہ جائیکہ عبادت کرنا ،
اس کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر اس فضیلت کی بنا پر اس رات میں عام معمولات کے کاموں اور عبادات کے علاوہ کوئی اور،یا کوئی اضافی کام یا عبادت کرنا فائدہ مند ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم ضرور کرتے ، ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہی کرتے،
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے ، اور ان دونوں دنوں کی فضیلت بھی شعبان کی رات کی فضیلت سے ملتی جلتی ہے ، لیکن اُن دنوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے روزہ رکھا یعنی ایک اضافی عبادت کی ،
اور جیسا کہ شب قدر کی رات میں بہت لمبی نمازیں پڑھیں ، لیکن شعبان کی اس رات میں کوئی اضافی کام یا عبادت نہیں فرمائی اور نہ ہی اس کی کوئی ترغیب فرمائی ،
پس کسی وقت یا مُقام کی کوئی فضیلت ہونا ایک الگ معاملہ ہے ، اور اس فضیلت کی بنا پر اس وقت یا مقام کے لیے کو اضافی کام یا عبادت وغیرہ خاص کرلینا ، یا اس وقت یا مقام میں کوئی اضافی کام یا عبادت کرنا باعث ثواب سمجھ لینا ایک اور الگ معاملہ ہے ،
اور اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے ،اور جسے چاہتا ہے اسے گمراہ کرتا ہے ،
اللہ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (06-08-09), ارشد کمبوہ (17-07-11), عبداللہ حیدر (06-08-09)
پرانا 06-08-09, 10:23 AM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شعبان وہ عظیم مہینہ ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے ۔
حضور (ص) اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں سے متصل فرماتے تھے۔
اس بارے میں آنحضرت (ص) کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینے میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کے لیے واجب ہو جاتی ہے۔

امام جعفرصادق (ع) فرماتے ہیں کہ جب ماہ شعبان کا چاندنموردار ہوتا تو امام زین العابدین علیہ السلام تمام اصحاب کو جمع کرتے اور فرماتے : اے میرے اصحاب !جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبی کی محبت اور خداکی قربت کے لیے اس مہینے میں روزے رکھو۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی بن الحسین کی جان ہے، میں نے اپنے پدربزرگوار حسین بن علی علیہما السلام سے سنا۔ وہ فرماتے تھے میں اپنے والدگرامی امیرالمومنین علیہ السلام سے سنا کہ جو شخص محبت رسول اور تقرب خدا کے لیے شعبان میں روزہ رکھے توخدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کرے گا قیامت کے دن اس کو عزت وحرمت ملے گی اور جنت اس کے لیے واجب ہو جائے گی۔

شیخ نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا: اپنے قریبی لوگوں کو ماہ شعبان میں روزے رکھنے پر آمادہ کرو! میں نے عرض کیا، اس کی فضیلت کیا ہے؟ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ جب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا :
” اے اہل مدینہ ! میں رسول خدا کا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے یعنی روزہ رکھے۔“

صفوان کہتے ہیں کہ امام جعفرصادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے تھے جب سے منادی رسول نے یہ ندا دی ہے، اس کے بعد شعبان کا روزہ مجھ سے قضا نہیں ہوا اور جب تک زندگی کا چراغ گل نہیں ہو جاتا یہ روزہ مجھ سے ترک نہ ہوگا۔ نیز فرمایا کہ شعبان ورمضان دومہینوں کے روزے توبہ اور بخشش کا موجب ہیں۔

اسماعیل بن عبدالخالق سے روایت ہے کہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا جب کہ روزئہ شعبان کا ذکر ہوا۔ اس وقت حضرت نے فرمایا: ماہ شعبان کے روزے رکھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ حتی کہ ناحق خون بہانے والے کو بھی ان روزوں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور وہ بخشا جا سکتا ہے

اس عظیم وشریف مہینے کے اعمال دو قسم کے ہیں:

”اعمال مشترکہ اور اعمال مخصوصہ“

اعمال مشترکہ میں چند امور ہیں:

۱۔ ہرروز سترمرتبہ کہے:

استتغفراللہ واسئلہ التوبۃ

بخشش چاہتا ہوں اللہ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں

۲۔ ہر روز ستر مرتبہ کہے:

استغفراللہ الذی لآالہ الاھوالرحمن الرحیم الحی القیوم واتوب الیہ

بخشش کا طالب ہوں اللہ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بخشنہار ومہربان ہے زندہ بعض روایات میں الحی القیوم کے الفاظ نگہبان اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں زندہ وپائندہ الرحمن الرحیم سے قبل ذکر ہوئے ہیں

بخشنے والا اور مہربان

پس جیسے بھی عمل کرے مناسب ہو گا ۔ روایت سے معلوم ہوتاہے کہ اس ماہ کا بہترین عمل استغفار ہے اور اس مہینے میں ستر مرتبہ استغفار کرنا گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کرنے کے برابر ہے ۔

۳۔ صدقہ کرے اگرچہ وہ نصف خرما ہی کیوں نہ ہو ، اس سے خدا اس کے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کر دے گا۔

امام جعفرصادق علیہ السلام سے ماہ رجب کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ تم شعبان کے روزے سے کیوں غافل ہو؟ راوی نے عرض کی فرزند رسول! شعبان کے ایک روزے کا ثواب کس قدر ہے؟ فرمایا قسم بخدا کہ اس کا اجروثواب بہشت ہے۔ اس نے عرض کی اے فرزند رسول ! اس ماہ کا بہترین عمل کیا ہے ؟فرمایا کہ صدقہ واستغار ، جو شخص ماہ شعبان میں صدقہ کرے پس خدا اس صدقے میں اس طرح اضافہ کرتا رہے گا جیسے تم لوگ اونٹنی کے بچے کو پال کر عظیم الجثہ اونٹ بنا دیتے ہو۔ چنانچہ یہ صدقہ قیامت کے روز احد پہاڑ کی مثل بڑھ چکا ہو گا۔
پورے ماہ شعبان میں ہزارمرتبہ کہے:

لآالہ الا اللہ ولانعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین ولوکرہ المشرکون

نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور ہم عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی ہم اس کے دین سے خلوص رکھتے ہیں

اگرچہ مشرکوں پرناگوار گزرے

اس ذکر کا بہت زیادہ ثواب ہے ، جس میں سے ایک جز یہ ہے کہ جو شخص مقررہ تعداد میں یہ ذکر کرے گا اس کے نامئہ اعمال میں ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دیا جائے گا۔
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 06-08-09, 10:23 AM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شعبان وہ عظیم مہینہ ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے ۔

Last edited by حیدر Rehan; 06-08-09 at 11:12 AM.
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 06-08-09, 10:32 AM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ دعا پڑھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات یہ دعا پڑھتے تھے:

اللھم اقسم لنا من خشیتک مایحول بینناوبین معصیتک ومن طاعتک ماتبلغنابہ رضوانک ومن باسماعناوابصارناوقوتنامآا حییتناواجعلہ الوارث مناواجعل ثارناعلی من ظلمناوانصرناعلی من عاداناولاتجعل مصیبتنافی دینناولاتجعل الدنیا اکبرھمناولامبلغ علمناولاتسلط علینامن لایرحمنا برحمتک یآارحم الرحمین


اے معبود ہمیں اپنے خوف کا اتنا حصہ دے جو ہمارے ہماری طرف سے تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن جائے اور فرمانبرداری سے اتنا حصہ دے کہ اس سے ہم تیری خوشنودی حاصل کرسکیں اوراتنایقین عطا کر کہ جس کی بدولت دنیا کی تکلیفیں ہمیں سبک معلوم ہو اے معبود! جب تو ہمیں زندہ رکھےہمیں ہمارے کانوں آنکھوں اور قوت سے مستفید فرما اور اس قائم کو ہماراوارث بنااور ان سے بدلہ لینے والا قرار دے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرمااور ہمارے دین میں ہمارے لیے کوئی مصیبت نہ لا اور ہماری ہمت اور ہمارے علم کے لیے دنیا کو بڑا مقصد قرار نہ دے اور ہم پراس شخص کو غالب نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرےواسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم والے



یہ دعا جامع وکامل ہے پس اسے دیگر اوقات میں بھی پڑھے ۔ جیساکہ عوالی اللئالی میں مذکور ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ یہ دعا ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 06-08-09, 10:36 AM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماہ شعبان کا روزہ

من صام ثلاثة ايام من اخر شعبان و وصلها بشہر رمضان كتب اللہ له صوم شہرين متتابعين.
امام صادق (علیہ السلام) فرمود: جو شخص ماہ شعبان مین تین روزے رکهے اور اپنے روزوں کو ماه رمضان سے ملا دے خداوند متعال اسے دو متواتر مہینوں کے روزوں کا ثواب عطا کرے گا.
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 06-08-09, 10:43 AM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ امام محمدباقرعلیہ السلام سے نیمہ شعبان کی رات کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے ۔ پس اس رات تقرب الہی حاصل کرنے کی کوشش کرناچاہیے ۔ اس رات خدائے تعالٰی اپنے بندوں پر فضل وکرم فرماتا ہے اور ان کے گناہ معاف کرتا ہے ۔ حق تعالی نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہیں لوٹائے گاسوائے اس کے جو معصیت ونافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے ، جیسے شب قدر کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص فرمایا پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمدوثناء الہٰی کرنا اس سے دعاومناجات میں مصروف رہنا چاہیے۔

اس رات کی عظیم بشارت سلطان عصرحضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہے جو ۲۵۵ھ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی تھی۔

اس رات کے چند ایک اعمال ہیں :

۱۔ غسل کرنا جس سے گناہوں میں تخفیف ہوتی ہے۔

۲۔ نماز اور دعا واستغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل کو اس دن موت نہیں آئے گی جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہو جائیں گے۔

۳۔ اس رات کا سب سے بہترین عمل امام حسین علیہ السلام کی زیارت ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبراس سے مصافحہ کریں تو وہ کبھی اس رات یہ زیارت ترک نہ کرے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 06-08-09, 10:47 AM   #12
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,549
شکریہ: 1,314
418 مراسلہ میں 960 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یعنی اس رات کوچادر اوڑھ کرسوجایئں جیسے کچھ مساجد مین ہوتاہےایسی خاص بڑی راتوں میں کچھ لوگ عشا کی نماز کےفوراً بعد بتیاں گل کردیتےہیں تاکہ کوئی یہ نہ سمجھےکہ یہ بڑی رات ہے اور کیاان بڑی راتوں میں عبادت بھی ممنوع ہےآپ کی عبارات سےتویہی لگتاہے دراصل یہ سعودیہ سے درآمدشدہ خیالات ہیں الحمدللہ مسلمانوں کی اکثریت اسےبڑی رات تسلیم کرتی ہےاورکرتی رہیگی پتہ نہیں کیوں مسلمانوں کوعبادت سےدورکیاجارہاہے؟اس قسم کےمضامین شائع کرکےکسکو خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہےسوائےشیطا کےکون خوش ہوگایہ سن کرکہ ایسی مقدس راتوں میں عبادتوں سے روکاجارہاہےمیرا سوال ہےکیاعام راتوں میں حسب استطاعت جاگ کرنوافل وغیرہ پڑھنامنع ہےکیا؟پھراس رات کولمبی عبادتوں سےروکناچہ معنی دارد؟
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات!
muhammad asif virani آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (06-08-09), حسنین ایوب (08-08-09), طارق راحیل (06-08-09)
پرانا 06-08-09, 10:58 AM   #13
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Exclamation

فرحان دانش آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (07-08-09), حسنین ایوب (08-08-09), رضی (07-08-09)
پرانا 06-08-09, 11:08 AM   #14
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

( اقتیباس:ـ جناب طاہر القادری صاحب )
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ 15 شعبان کی رات اللہ آواز دیتا ہے کہ ہے کوئی شخص جو پندرہ شعبان کی رات مجھ سے مغفرت مانگے، میں اس کو معاف کر دوں۔ آج کی رات ہے کوئی جو مجھ سے رزق مانگے اور میں اسے رزق دے دوں۔‘‘ اللہ کریم ایک ایک حاجت کا نام لے کر خود نداء دیتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ راتوں میں ہم سوال کرتے ہیں کہ مولا عطا فرما، اس رات خدا خود بندوں سے سوال کرتا ہے۔ ہے کوئی مانگنے والا؟ ہے کوئی ہاتھ اٹھانے والا؟ ہے کوئی دامن پھیلانے والا؟ تو رب کائنات غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک اپنے بندوں کو پکار پکار کر اپنی عطاؤں کی بارش فرماتا رہتا ہے۔ اور امام بہقی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور عرض کی یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے اور آج کی رات اللہ لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے۔ پھر عدد بیان فرمائے کہ اللہ مشرکوں اور کافروں اور مقاطعہ کرنے والوں کو چھوڑ کر بنو قلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر اپنے بندوں کو معاف فرماتا ہے‘‘

ایک اورحدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ’’پندرہ شعبان کی رات میں نے دیکھا کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر پر نہیں ہیں۔ میں پریشان ہوگئی جا کر دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں حالت سجدہ میں ہیں اور سر جھکا کر اللہ کے حضور مناجات کر رہے ہیں۔ ‘‘
لفظِ شعبان کی وضاحت
شیخ عبدالقادر جیلانی (رضی) نے فرمایا کہ لفظِ شعبان کے پانچ حرف ہیں ایک ش، دوسرا ع، تیسرا ب، چوتھا الف اور پانچواں نون۔ یہ پانچ حروف شعبان میں اللہ کی دی ہوئی پانچ فضیلتوں کی طرف اشارہ ہے۔

’’ش‘‘ سے مراد شرف ہے

’’عین‘‘ کا اشارہ ’’علو‘‘ بزرگی اور بلندی کی طرف ہے۔

’’با‘‘ کا اشارہ بِر کی طرف ہے۔ نیکی، تقویٰ، قبولیت اس مہینے میں اللہ نے نیکیوں کی قبولیت کا اعلان فرمایا۔

’’الف‘‘ کا اشارہ الفت کی طرف ہے کہ اس رات اور مہینے میں اللہ الفت و محبت عطا کرتا ہے اور

’’نون‘‘ سے مراد نور ہے کہ اس مہینے اور شب کو نور عطا فرمایا۔

یہ پانچ عطا ئیں اس شب اور اس مہینے کے صدقے عطا فرمائیں اورارشاد فرمایا کہ اس میں خیرات اور برکات نازل ہوئی ہیں۔ خطیات و بلیات مٹاتی جاتی ہیں، گناہ معاف کئے جاتے ہیں اور کثرت کے ساتھ اس رات میں بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درود بھیجا جاتا ہے۔


شبِ برات تین سو دروازوں کا کھلنا
روایت ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل امین آئے اور فرمایا: یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اپنا سرِ انور اور چشمانِ مقدس آسمان کی طرف اٹھائیں، میں نے آسمان پر انوار و تجلیات الٰہی کا منظر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ رات کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ 15 شعبان کی رات ہے جس میں اللہ نے اپنی رحمت کے تین سو دروازے اپنی مخلوق کے لئے کھول دیئے ہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے وہ دروازے دیکھے اور ہر دروازے پر ایک فرشتہ تھا اور ہر فرشتہ دروازے پر مخلوقِ خدا کو منادی دے رہا تھا۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب پہلا دروازہ دیکھا تو فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات رکوع کیا‘‘ دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جو آج رات اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگیا‘‘ تیسرے دروازے پر فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات ہاتھ اٹھا کر اللہ سے کچھ مانگ لیا‘‘ چوتھے دروازے پر آواز آرہی تھی ’’مبارک ہو جنہوں نے آج کی رات اللہ کا ذکر کیا‘‘ پھر اگلے دروازے پر کھڑا فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات گریہ زاری کی‘‘۔ پھراگلے دروازے پر فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات اللہ کی بارگاہ میں سوال کیا اور اس کو عطا ہوگیا‘‘۔ پھراگلے دروازے پر فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات توبہ و استغفار کی اور اس کی توبہ قبول ہوگئی‘‘ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ طلوع فجر تک اللہ آسمان دنیا سے ندائیں فرماتا رہتا ہے اور ملائکہ 300 ابواب رحمت پر بیٹھ کر مبارکیں دیتے ہیں۔

فرشتوں کی عیدیں
اللہ نے ہمیں دو عیدیں دیں، عید الفطر اور عیدالاضحی! ہماری عیدیں دن میں رکھیں اور ملائکہ کی دو عیدیں رات میں رکھیں۔ ایک عید شب قدر اور دوسری شب ِشعبان ہے اور ان عیدوں کو عطا کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ کے حضور مغفرت طلب کی جائے۔ چونکہ یہ شبِ توبہ، شبِ مغفرت، شبِ سوال اور شبِ عطا ہے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 06-08-09, 06:51 PM   #15
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب نے بہت اچھا لکھا
عبادت خود بھی کرو
اور دوسروں کو بھی کرنے دو
عبادت نہ کرو ایسا کیوں کہا جا رہا ہے
ایک بہانہ ہی سمجھ کر کرنے دو
اللہ عبادت کی توفیق عطا فرمائے

کسی کا فرقہ چھیڑو نہیں
اپنا فرقہ چھوڑو نہیں
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (07-08-09), فیصل ناصر (06-08-09), بتول باجی (06-08-09), حیدر Rehan (08-08-09), حسنین ایوب (08-08-09)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
color, ہندو, فرقہ واریت, کتابوں, پوسٹ, پاک, قران, لوگ, نماز, نظر, موم, موت, اللہ, امریکہ, اسلامی, بھائی, جھوٹ, جواب, حدیث, حسن, روزہ, رمضان, شعبان, صحیح, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger