| عبادات عبادات |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2183
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (09-11-11), فیصل ناصر (05-08-09), احمدنواز (07-08-09), ارشد کمبوہ (17-07-11), طارق راحیل (06-08-09), عُکاشہ (08-08-08) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
جزاک اللہ خیرا۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ارشد کمبوہ (17-07-11) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ان دو احادیث سے کم از کم یہ تو پتہ چلتا ہے کے یہ ایک فضیلت والی رات ہے میں نے تو کچھ صاحبان کو یہ کہتے بھی سنا ہے کے شب قدر ( رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتیں ) کے علاوہ کوئی اور رات فضیلت والی نہیں ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | ارشد کمبوہ (17-07-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مندرجہ بالہ مراسلہ سے یہ بات صابت کی گی ہے کہ یہ رات کچھ خاص یا یہ کہ زیادہ خاص نہی بس ایسی ہی رات ہے جیسا کہ جمعہ کا دن یا رات کی فضلیت لکھی اور پڑھی جاتی ہیں ۔ ۔ ؟؟؟ جب اس رات کا کچھ بھی اتنا خاص نہی کہ جتنا کہ مراسلہ بھیجنے والیے کہہ رہے ہیں تو ان پر یقین کر لیتے ہیں (کچھ دیر کے لیے ) تو ایک عام رات یا یہ کہہ لیتے ہیں کہ ایک جمعہ جتنی فضیلت والی رات ہے یہ ، ، اور رمضان کی راتوں کا اس سے کوئی مقابلہ نہی ؟؟؟؟؟ پہلی بات ۔۔۔۔۔۔ ۔اس رات کی فضیلت وہی جانتے ہیں جن کی یہ رات ہے ۔۔۔ دوسری بات ۔۔۔۔ جب اپ کی کتابوں سے کوئی فضیلت صابت ہی نہی تو پھر ہم جو کررہے ہیں وہ کرنے دیں ۔۔۔۔ تیسری بات ۔۔۔۔ جب اسلام میں کوئی فضیلت اس رات کی صابت نہی تو اس رات کو جو کچھ لوگ کرتے ہیں اس کو اسلام کے خلاف تصور نہ کیا جائے چھوتھی بات۔۔۔۔۔جب اپ سے کچھ صابت ہی نہی تو 1200 سو سال سے اس رات کا منانے والوں کو روکنا غلط مانا جائے گا ۔ ۔۔ پانچویں بات۔۔۔۔۔ جب اپ سے صابت نہی اس رات کی فضیلت تو اپ دوسروں کو کیسے منع کرسکتے ہیں جب کہ ان کی کتابوں اور ان کی روایتوں سے کچھ صابت ہوتا ہے ۔۔۔ یعنی سیدھی بات کہ اپ اس میں دخل اندازی نہ کریں ۔ ۔ کیسی کی کوی تقریب ہو اور اپ اس میں گھس جائیں ، ،یہ اچھی بات تو ویسے بھی نہی اخلاقیات کے خلاف ہے ۔ ۔ (اور جنت میں سب سے زیادہ وزن ان لوگوں کے اعمال کا ہوگا جن کے اخلاق سب سے اچھے ہونگے)حدیث بھی بہیت ہیں اگر کہیں تو لکھ دوں ۔ ۔ ۔ بھائی چارے کے اور اتحاد بین المسلمین کے بھی خلاف ہے اگر دیکھا جائے تو ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو احادیث اگر ہیں اور وہ سہی ہوں تو ان کے خلاف بات کرنے کا گناہ بھی الگ ہوگا ۔ ۔ ۔ اب رہی بات کہ پھر یہ رات ہے کیا ؟؟؟؟؟ یہ رات منسوب ہے امام المھدی علیہ سلام سے ۔ ۔ 14 اور 15 رات کی شعبان کی رات ۔ ۔ ۔ ان کی ولادت کی یہ تاریخ ہے ۔ ۔دنیا میں انے کی ۔۔۔ اب اگر گھر والوں کو چھوڑ کر اپ لوگوں سے پوچھتے پھریں کہ بھائی اج کیا ہوا ہے کی لوگ جشن منارہے ہیں ؟؟ تو یہ اپ کی اپنی غلطی ہے نہ کہ جشن منانے والوں کی ۔ ۔ ۔ اب رہی یہ بات کہ کوئی شکر میں نماز پرھئے کوئی روزہ رکھے ، ، ، کوئ حلوہ بنائے اور کھالئے ، ، کوئی پٹاخہ پھوڑے ، ، ، کوئی چراغاں کرئے ، ، یہ ان کا فعل ہے جو کہ لوگ کرتئے ہیں ، ، بھائیوں بھائی چارئے کی بات کرنا اور بھائی چارہ قائم کرنا دو الگ باتیں ہیں ۔ ۔ ۔ اپ بھائی چارہ قائم کرنے کا ثبوت دیں ، ، ، ہماری خوشی میں اگر شامل نہی ہوسکتے تو اس کو خراب بھی مت کریں ۔ ۔ یقینا اگر اپ کے گھر والوں میں سے کسی کی سالگرہ ہو کوئی خوشی کی تقریب ہو تو ہم بھی اپ کے ساتھ ہی ہوتے ہیں ، ، ، تو جب ہماریے امام کی سالگرہ یا ان کے والادت یا ظہور کے دن کی مناسبت سے اگر ہم خوشی مناتے ہیں تو اپ بھی خوش ہوں ۔یہ بات جانتے ہویے کہ اس طرح سے اسلام میں کوئی بدعت نہی اور اس دن کی کوئی خاص احادیث اپ کی کتابوں سے صابت نہی ۔ ۔ خوشی منانا ہر انسان کا ہر ادمی کا حق ہے ۔ جو اللہ نے ہمیں دیا ہے ۔ ۔ ۔جس طرح زندہ رہنے کا حق سب کو ملا ہے ۔ ۔سانس لینے کا حق ملا ہے ۔ ۔ ۔ یہ ہے بھائی چارہ اگر اپ کا کوئ دن ہے تو ہمیں بتاییں ہم اپ کے ساتھ خوشی مناییں گے اور یہ بات ہم دل سے کہہ رہے ہیں ، ، کیونکہ اخر کار سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ ۔وسلام ۔ ۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک |
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | muhammad asif virani (06-08-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
شبِ براءت مبارک
میری جاب کے لئے دعا کریں سب مہربانی ہوگی |
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | muhammad asif virani (06-08-09) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جی فیصل بھائی آپ نے درست کہا ،اس رات کی بس یہی فضیلت ملتی ہے ، اور اس فضیلت کی بنا پر عام معمولات سے زیادہ کوئی عمل کرنے کی کوئی تعلیم میسر نہیں ، ، چہ جائیکہ عبادت کرنا ، اس کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر اس فضیلت کی بنا پر اس رات میں عام معمولات کے کاموں اور عبادات کے علاوہ کوئی اور،یا کوئی اضافی کام یا عبادت کرنا فائدہ مند ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم ضرور کرتے ، ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہی کرتے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے ، اور ان دونوں دنوں کی فضیلت بھی شعبان کی رات کی فضیلت سے ملتی جلتی ہے ، لیکن اُن دنوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے روزہ رکھا یعنی ایک اضافی عبادت کی ، اور جیسا کہ شب قدر کی رات میں بہت لمبی نمازیں پڑھیں ، لیکن شعبان کی اس رات میں کوئی اضافی کام یا عبادت نہیں فرمائی اور نہ ہی اس کی کوئی ترغیب فرمائی ، پس کسی وقت یا مُقام کی کوئی فضیلت ہونا ایک الگ معاملہ ہے ، اور اس فضیلت کی بنا پر اس وقت یا مقام کے لیے کو اضافی کام یا عبادت وغیرہ خاص کرلینا ، یا اس وقت یا مقام میں کوئی اضافی کام یا عبادت کرنا باعث ثواب سمجھ لینا ایک اور الگ معاملہ ہے ، اور اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے ،اور جسے چاہتا ہے اسے گمراہ کرتا ہے ، اللہ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
شعبان وہ عظیم مہینہ ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے ۔
حضور (ص) اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں سے متصل فرماتے تھے۔ اس بارے میں آنحضرت (ص) کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینے میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کے لیے واجب ہو جاتی ہے۔ امام جعفرصادق (ع) فرماتے ہیں کہ جب ماہ شعبان کا چاندنموردار ہوتا تو امام زین العابدین علیہ السلام تمام اصحاب کو جمع کرتے اور فرماتے : اے میرے اصحاب !جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبی کی محبت اور خداکی قربت کے لیے اس مہینے میں روزے رکھو۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی بن الحسین کی جان ہے، میں نے اپنے پدربزرگوار حسین بن علی علیہما السلام سے سنا۔ وہ فرماتے تھے میں اپنے والدگرامی امیرالمومنین علیہ السلام سے سنا کہ جو شخص محبت رسول اور تقرب خدا کے لیے شعبان میں روزہ رکھے توخدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کرے گا قیامت کے دن اس کو عزت وحرمت ملے گی اور جنت اس کے لیے واجب ہو جائے گی۔ شیخ نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا: اپنے قریبی لوگوں کو ماہ شعبان میں روزے رکھنے پر آمادہ کرو! میں نے عرض کیا، اس کی فضیلت کیا ہے؟ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ جب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا : ” اے اہل مدینہ ! میں رسول خدا کا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے یعنی روزہ رکھے۔“ صفوان کہتے ہیں کہ امام جعفرصادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے تھے جب سے منادی رسول نے یہ ندا دی ہے، اس کے بعد شعبان کا روزہ مجھ سے قضا نہیں ہوا اور جب تک زندگی کا چراغ گل نہیں ہو جاتا یہ روزہ مجھ سے ترک نہ ہوگا۔ نیز فرمایا کہ شعبان ورمضان دومہینوں کے روزے توبہ اور بخشش کا موجب ہیں۔ اسماعیل بن عبدالخالق سے روایت ہے کہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا جب کہ روزئہ شعبان کا ذکر ہوا۔ اس وقت حضرت نے فرمایا: ماہ شعبان کے روزے رکھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ حتی کہ ناحق خون بہانے والے کو بھی ان روزوں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور وہ بخشا جا سکتا ہے اس عظیم وشریف مہینے کے اعمال دو قسم کے ہیں: ”اعمال مشترکہ اور اعمال مخصوصہ“ اعمال مشترکہ میں چند امور ہیں: ۱۔ ہرروز سترمرتبہ کہے: استتغفراللہ واسئلہ التوبۃ بخشش چاہتا ہوں اللہ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں ۲۔ ہر روز ستر مرتبہ کہے: استغفراللہ الذی لآالہ الاھوالرحمن الرحیم الحی القیوم واتوب الیہ بخشش کا طالب ہوں اللہ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بخشنہار ومہربان ہے زندہ بعض روایات میں الحی القیوم کے الفاظ نگہبان اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں زندہ وپائندہ الرحمن الرحیم سے قبل ذکر ہوئے ہیں بخشنے والا اور مہربان پس جیسے بھی عمل کرے مناسب ہو گا ۔ روایت سے معلوم ہوتاہے کہ اس ماہ کا بہترین عمل استغفار ہے اور اس مہینے میں ستر مرتبہ استغفار کرنا گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کرنے کے برابر ہے ۔ ۳۔ صدقہ کرے اگرچہ وہ نصف خرما ہی کیوں نہ ہو ، اس سے خدا اس کے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کر دے گا۔ امام جعفرصادق علیہ السلام سے ماہ رجب کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ تم شعبان کے روزے سے کیوں غافل ہو؟ راوی نے عرض کی فرزند رسول! شعبان کے ایک روزے کا ثواب کس قدر ہے؟ فرمایا قسم بخدا کہ اس کا اجروثواب بہشت ہے۔ اس نے عرض کی اے فرزند رسول ! اس ماہ کا بہترین عمل کیا ہے ؟فرمایا کہ صدقہ واستغار ، جو شخص ماہ شعبان میں صدقہ کرے پس خدا اس صدقے میں اس طرح اضافہ کرتا رہے گا جیسے تم لوگ اونٹنی کے بچے کو پال کر عظیم الجثہ اونٹ بنا دیتے ہو۔ چنانچہ یہ صدقہ قیامت کے روز احد پہاڑ کی مثل بڑھ چکا ہو گا۔ پورے ماہ شعبان میں ہزارمرتبہ کہے: لآالہ الا اللہ ولانعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین ولوکرہ المشرکون نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور ہم عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی ہم اس کے دین سے خلوص رکھتے ہیں اگرچہ مشرکوں پرناگوار گزرے اس ذکر کا بہت زیادہ ثواب ہے ، جس میں سے ایک جز یہ ہے کہ جو شخص مقررہ تعداد میں یہ ذکر کرے گا اس کے نامئہ اعمال میں ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دیا جائے گا۔ |
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
شعبان وہ عظیم مہینہ ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے ۔
Last edited by حیدر Rehan; 06-08-09 at 11:12 AM. |
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
یہ دعا پڑھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات یہ دعا پڑھتے تھے:
اللھم اقسم لنا من خشیتک مایحول بینناوبین معصیتک ومن طاعتک ماتبلغنابہ رضوانک ومن باسماعناوابصارناوقوتنامآا حییتناواجعلہ الوارث مناواجعل ثارناعلی من ظلمناوانصرناعلی من عاداناولاتجعل مصیبتنافی دینناولاتجعل الدنیا اکبرھمناولامبلغ علمناولاتسلط علینامن لایرحمنا برحمتک یآارحم الرحمین اے معبود ہمیں اپنے خوف کا اتنا حصہ دے جو ہمارے ہماری طرف سے تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن جائے اور فرمانبرداری سے اتنا حصہ دے کہ اس سے ہم تیری خوشنودی حاصل کرسکیں اوراتنایقین عطا کر کہ جس کی بدولت دنیا کی تکلیفیں ہمیں سبک معلوم ہو اے معبود! جب تو ہمیں زندہ رکھےہمیں ہمارے کانوں آنکھوں اور قوت سے مستفید فرما اور اس قائم کو ہماراوارث بنااور ان سے بدلہ لینے والا قرار دے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرمااور ہمارے دین میں ہمارے لیے کوئی مصیبت نہ لا اور ہماری ہمت اور ہمارے علم کے لیے دنیا کو بڑا مقصد قرار نہ دے اور ہم پراس شخص کو غالب نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرےواسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم والے یہ دعا جامع وکامل ہے پس اسے دیگر اوقات میں بھی پڑھے ۔ جیساکہ عوالی اللئالی میں مذکور ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ یہ دعا ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ |
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
ماہ شعبان کا روزہ
من صام ثلاثة ايام من اخر شعبان و وصلها بشہر رمضان كتب اللہ له صوم شہرين متتابعين. امام صادق (علیہ السلام) فرمود: جو شخص ماہ شعبان مین تین روزے رکهے اور اپنے روزوں کو ماه رمضان سے ملا دے خداوند متعال اسے دو متواتر مہینوں کے روزوں کا ثواب عطا کرے گا. |
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ امام محمدباقرعلیہ السلام سے نیمہ شعبان کی رات کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے ۔ پس اس رات تقرب الہی حاصل کرنے کی کوشش کرناچاہیے ۔ اس رات خدائے تعالٰی اپنے بندوں پر فضل وکرم فرماتا ہے اور ان کے گناہ معاف کرتا ہے ۔ حق تعالی نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہیں لوٹائے گاسوائے اس کے جو معصیت ونافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے ، جیسے شب قدر کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص فرمایا پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمدوثناء الہٰی کرنا اس سے دعاومناجات میں مصروف رہنا چاہیے۔
اس رات کی عظیم بشارت سلطان عصرحضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہے جو ۲۵۵ھ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی تھی۔ اس رات کے چند ایک اعمال ہیں : ۱۔ غسل کرنا جس سے گناہوں میں تخفیف ہوتی ہے۔ ۲۔ نماز اور دعا واستغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل کو اس دن موت نہیں آئے گی جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہو جائیں گے۔ ۳۔ اس رات کا سب سے بہترین عمل امام حسین علیہ السلام کی زیارت ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبراس سے مصافحہ کریں تو وہ کبھی اس رات یہ زیارت ترک نہ کرے۔ |
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
یعنی اس رات کوچادر اوڑھ کرسوجایئں جیسے کچھ مساجد مین ہوتاہےایسی خاص بڑی راتوں میں کچھ لوگ عشا کی نماز کےفوراً بعد بتیاں گل کردیتےہیں تاکہ کوئی یہ نہ سمجھےکہ یہ بڑی رات ہے اور کیاان بڑی راتوں میں عبادت بھی ممنوع ہےآپ کی عبارات سےتویہی لگتاہے دراصل یہ سعودیہ سے درآمدشدہ خیالات ہیں الحمدللہ مسلمانوں کی اکثریت اسےبڑی رات تسلیم کرتی ہےاورکرتی رہیگی پتہ نہیں کیوں مسلمانوں کوعبادت سےدورکیاجارہاہے؟اس قسم کےمضامین شائع کرکےکسکو خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہےسوائےشیطا کےکون خوش ہوگایہ سن کرکہ ایسی مقدس راتوں میں عبادتوں سے روکاجارہاہےمیرا سوال ہےکیاعام راتوں میں حسب استطاعت جاگ کرنوافل وغیرہ پڑھنامنع ہےکیا؟پھراس رات کولمبی عبادتوں سےروکناچہ معنی دارد؟
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
( اقتیباس:ـ جناب طاہر القادری صاحب )
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ 15 شعبان کی رات اللہ آواز دیتا ہے کہ ہے کوئی شخص جو پندرہ شعبان کی رات مجھ سے مغفرت مانگے، میں اس کو معاف کر دوں۔ آج کی رات ہے کوئی جو مجھ سے رزق مانگے اور میں اسے رزق دے دوں۔‘‘ اللہ کریم ایک ایک حاجت کا نام لے کر خود نداء دیتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ راتوں میں ہم سوال کرتے ہیں کہ مولا عطا فرما، اس رات خدا خود بندوں سے سوال کرتا ہے۔ ہے کوئی مانگنے والا؟ ہے کوئی ہاتھ اٹھانے والا؟ ہے کوئی دامن پھیلانے والا؟ تو رب کائنات غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک اپنے بندوں کو پکار پکار کر اپنی عطاؤں کی بارش فرماتا رہتا ہے۔ اور امام بہقی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور عرض کی یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے اور آج کی رات اللہ لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے۔ پھر عدد بیان فرمائے کہ اللہ مشرکوں اور کافروں اور مقاطعہ کرنے والوں کو چھوڑ کر بنو قلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر اپنے بندوں کو معاف فرماتا ہے‘‘ ایک اورحدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ’’پندرہ شعبان کی رات میں نے دیکھا کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر پر نہیں ہیں۔ میں پریشان ہوگئی جا کر دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں حالت سجدہ میں ہیں اور سر جھکا کر اللہ کے حضور مناجات کر رہے ہیں۔ ‘‘ لفظِ شعبان کی وضاحت شیخ عبدالقادر جیلانی (رضی) نے فرمایا کہ لفظِ شعبان کے پانچ حرف ہیں ایک ش، دوسرا ع، تیسرا ب، چوتھا الف اور پانچواں نون۔ یہ پانچ حروف شعبان میں اللہ کی دی ہوئی پانچ فضیلتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ’’ش‘‘ سے مراد شرف ہے ’’عین‘‘ کا اشارہ ’’علو‘‘ بزرگی اور بلندی کی طرف ہے۔ ’’با‘‘ کا اشارہ بِر کی طرف ہے۔ نیکی، تقویٰ، قبولیت اس مہینے میں اللہ نے نیکیوں کی قبولیت کا اعلان فرمایا۔ ’’الف‘‘ کا اشارہ الفت کی طرف ہے کہ اس رات اور مہینے میں اللہ الفت و محبت عطا کرتا ہے اور ’’نون‘‘ سے مراد نور ہے کہ اس مہینے اور شب کو نور عطا فرمایا۔ یہ پانچ عطا ئیں اس شب اور اس مہینے کے صدقے عطا فرمائیں اورارشاد فرمایا کہ اس میں خیرات اور برکات نازل ہوئی ہیں۔ خطیات و بلیات مٹاتی جاتی ہیں، گناہ معاف کئے جاتے ہیں اور کثرت کے ساتھ اس رات میں بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درود بھیجا جاتا ہے۔ شبِ برات تین سو دروازوں کا کھلنا روایت ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل امین آئے اور فرمایا: یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اپنا سرِ انور اور چشمانِ مقدس آسمان کی طرف اٹھائیں، میں نے آسمان پر انوار و تجلیات الٰہی کا منظر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ رات کیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ 15 شعبان کی رات ہے جس میں اللہ نے اپنی رحمت کے تین سو دروازے اپنی مخلوق کے لئے کھول دیئے ہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے وہ دروازے دیکھے اور ہر دروازے پر ایک فرشتہ تھا اور ہر فرشتہ دروازے پر مخلوقِ خدا کو منادی دے رہا تھا۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب پہلا دروازہ دیکھا تو فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات رکوع کیا‘‘ دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جو آج رات اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگیا‘‘ تیسرے دروازے پر فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات ہاتھ اٹھا کر اللہ سے کچھ مانگ لیا‘‘ چوتھے دروازے پر آواز آرہی تھی ’’مبارک ہو جنہوں نے آج کی رات اللہ کا ذکر کیا‘‘ پھر اگلے دروازے پر کھڑا فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات گریہ زاری کی‘‘۔ پھراگلے دروازے پر فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات اللہ کی بارگاہ میں سوال کیا اور اس کو عطا ہوگیا‘‘۔ پھراگلے دروازے پر فرشتہ کہہ رہا تھا ’’مبارک ہو جس نے آج کی رات توبہ و استغفار کی اور اس کی توبہ قبول ہوگئی‘‘ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ طلوع فجر تک اللہ آسمان دنیا سے ندائیں فرماتا رہتا ہے اور ملائکہ 300 ابواب رحمت پر بیٹھ کر مبارکیں دیتے ہیں۔ فرشتوں کی عیدیں اللہ نے ہمیں دو عیدیں دیں، عید الفطر اور عیدالاضحی! ہماری عیدیں دن میں رکھیں اور ملائکہ کی دو عیدیں رات میں رکھیں۔ ایک عید شب قدر اور دوسری شب ِشعبان ہے اور ان عیدوں کو عطا کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ کے حضور مغفرت طلب کی جائے۔ چونکہ یہ شبِ توبہ، شبِ مغفرت، شبِ سوال اور شبِ عطا ہے۔ |
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
سب نے بہت اچھا لکھا
عبادت خود بھی کرو اور دوسروں کو بھی کرنے دو عبادت نہ کرو ایسا کیوں کہا جا رہا ہے ایک بہانہ ہی سمجھ کر کرنے دو اللہ عبادت کی توفیق عطا فرمائے کسی کا فرقہ چھیڑو نہیں اپنا فرقہ چھوڑو نہیں
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ www.tariqraheel.blogspot.com |
|
|
| 5 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (07-08-09), فیصل ناصر (06-08-09), بتول باجی (06-08-09), حیدر Rehan (08-08-09), حسنین ایوب (08-08-09) |
![]() |
| Tags |
| color, ہندو, فرقہ واریت, کتابوں, پوسٹ, پاک, قران, لوگ, نماز, نظر, موم, موت, اللہ, امریکہ, اسلامی, بھائی, جھوٹ, جواب, حدیث, حسن, روزہ, رمضان, شعبان, صحیح, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|