واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > میری ڈائری > عبدالرحمن سید کی کہانی



عبدالرحمن سید کی کہانی عبدالرحمن سید کی کہانی ان کی زبانی


میرے بچپن، لڑکپن اور جوانی کے سنہرے اور شرارتی ادوار،!!!!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-10, 06:09 PM  
میرے بچپن، لڑکپن اور جوانی کے سنہرے اور شرارتی ادوار،!!!!!
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید آف لائن ہے 25-10-10, 06:09 PM

میری کہانی میں میرے بچپن سے لے کر اب تک کے تمام زندگی کے نشیب و فراز پر محیط حالات کی روشنی میں جو بھی میری بھولی بسری یاداشتیں تھیں، انہیں میں نے سمیٹنے کی کوشش کی ہے، اپنی اچھی اور بری عادات کو بھی سامنے لایا ہوں، تاکہ اس سے قارئین کچھ تو نصیحت اور استفادہ حاصل کرسکیں، اس میں کہاں تک میں کامیاب ہوا ہوں، یہ تو پڑھنے والے ہی اپنی صحیح رائے دے سکتے ہیں،!!!!!

مجھے دراصل بچپن سے ہی ادب اور آرٹ کا جنون کی حد تک شوقین تھا اور یہ شوق مجھے راولپنڈی کے کینٹ پبلک اسکول، صدر سے شروع ہوا جہاں پر میں نے پرائمری تعلیم حاصل کی تھی اور میں اس اسکول کو کبھی نہیں بھول سکتا جہاں میرا یہ شوق پروان چڑھا - یہ 1955 سے 1958کا زمانہ تھا- اسکی چند مخصوص وجوھات بھی تھیں کاش کہ ھمارے تمام تعلیمی ادارے بھی ان ہی خصوصیات کے حامل ہوتے۔

اُس وقت کے دور میں اتنی سہولتیں تو نہیں تھیں لیکن لوگوں کے پاس دوسروں کے لئے وقت تھا اپنی ہر دکھ تکلیف ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے کام آتے تھے-

اس وقت کی وہ سادہ سی، قناعت پسند اور پرسکون زندگی جہاں پر ایک محدود اپنی ضروریات تھیں - اور لوگ اپنی زندگی بہت ہی خوش و خرم طریقے سے گزار ریے تھے!!!!!!
__________________

اس کہانی کے سلسلے میں آپ اپنی اچھی یا بُری جو بھی رائے ھو، بلا جھجک دے سکتے ہیں تاکہ میں اپنی تحریر کو اپنے پڑھنے والوں اور قدردان دوستوں کے مشوروں کے مطابق کچھ کہانی کی ترتیب میں یا کسی درستگی کے لئے کوئی تبدیلی لاسکوں تو مجھے بہت خوشی ہوگی!!!!!!!!!!!!!!

خوش رہیں،!!!!

Last edited by عبدالرحمن سید; 31-10-10 at 11:30 AM..

 
عبدالرحمن سید's Avatar
عبدالرحمن سید
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 6105
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
m aslam oad (03-11-12), shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (25-10-10), یاسر عمران مرزا (13-11-10), ڈاکٹرنور (11-11-10), موجو (17-05-11), محمد عاصم (04-11-10), محمدخلیل جنجوعہ (25-10-10), حیدر (26-10-10), سیپ (05-12-10), شاہ جی 90 (01-11-10), عبداللہ آدم (25-10-10), عبداللہ حیدر (14-11-10)
پرانا 30-10-10, 11:13 AM   #16
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرے لڑکپن کا شرارتی سفر- 2

اس زمانے میں لوگوں میں فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق ہوتا تھا اور ہر ملٹری کے علاقے میں ہر ھفتہ کی رات کو 4 آنے فی کس کے حساب سے ایک اردو یا پنجابی فلم ضرور دکھاتے تھے، اُس وقت کی فلمیں بہت ہی سلجھی ہوئی، اور سبق آموز، مگر بلیک اینڈ وہائٹ ہوتی تھیں، اور لوگوں کے پاس ان چیزوں کے علاوہ کوئی اورتفریح بھی نہیں تھی، ٹیلیوژن تو دور کی بات ہے، ریڈیو تک لوگوں کے پاس نہیں ہوتا تھا، کئی لوگ تو اس وقت بھی ریڈیو کے ڈراموں اور فلموں کے بارے میں بہت برا کہتے تھے اور فلمیں دیکھنے اور ریڈیو سننے پر بہت اعتراض بھی کرتے تھے اور حرام قرار دیتے تھے، لیکن دیکھنے والے ضرور دیکھتے تھے اس میں ہماری فیملی بھی شامل تھی اور ہم بھی والدین کے ساتھ مہینے میں ایک دفعہ ضرور فلم دیکھنے ملٹری کے علاقہ میں جاتے تھے،!!!!!

مجھے بہت ہی زیادہ خوشی ہورہی تھی، جب ایک نئے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نمبر 2 سے اپنی چھٹی جماعت کا پہلا دن گزار کر آرہا تھا، کافی لمبا راستہ تھا، جلدی جلدی خوشی سے اپنے قدم بڑہا رہا تھا، کچھ دیر تک تو میرے نئے دوستوں نے ساتھ دیا، ایک موڑ پر پہنچ کر ایک دوسرے کو اللٌہ حافظ کہا اور سب اپنے اپنے علاقے کی طرف چل دیئے، میں اپنے گلے میں بستہ ٹانگے ہوئے تیز تیز قدم بڑھاتا ہوا اپنے محلے کی طرف قدم بڑہا رہا تھا، فاصلہ تھا کہ ختم ہی نہیں ہورہا تھا، میں چاہتا تھا کہ گھر پہنچوں اور سب کو اپنے اسکول میں گزارا ہوا آج کے پہلے دن کے بارے میں بتاوں،

جیسے ہی گھر پہنچا شام ہوچکی تھی، ہانپتا ہوا، بغیر یونیفارم بدلے ہوئے شروع ہوگیا، ساری اسکول کی شروع سے روداد سنادی، یہ دیکھے بغیر کے گھر میں کون کون ہے، اور میں اتنا خوش تھا کہ بیان سے باہر ہے، پرائمری کے ایک لمبے سفر سے فارغ ہو کر اب سیکنڈری اسکول میں داخل ہونا بھی میرے لئے ایک فخر کی بات تھی -

وہاں گھر میں والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کے علاوہ بھی ہمارے محلے کی نئی خالہ ابنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ موجود تھیں اور اس طرح میرے چہکنے پر ہنس بھی رہی تھیں، میں نے ایک دم خاموش ہوکر سلام کیا اور بھر باہر نکل گیا تاکہ اپنے دوسرے محلے کے دوستوں کو بھی آج کا واقعہ سناؤں، سب کو اکھٹا کیا اور کسی کھیل میں حصہ لینے سے پہلے ہی ساری اسکول میں گزری ہوئی کہانی دہرا دی، سارے بچے بھی بہت انہماک سے سن رہے تھے، جیسے میں کوئی بہت بڑے مشن سے واپس آیا ہوں، میں ہی پہلا لڑکا تھا جس نے اس اسکول میں چھٹی کلاس میں داخلہ لیا تھا باقی تمام محلے کے بچے پرائمری اسکول سے ابتک فارغ نہیں ہوئے تھے اگر کوئی پڑھتے بھی تھے تو وہ بہت بڑے لڑکے تھے جو شاید نویں اور دسویں کلاس میں ہونگے اور ویسے بھی وہ ہماری بچہ پارٹی میں نہیں تھے اس لحاظ سے میں سب کا لیڈر بنا ہوا تھا-

والد صاحب نے وہ دکان جو محلے میں کھولی تھی، مجبوراً انہیں بند کرنی پڑی، کیونکہ ایک تو لوگوں نے لیا ہوا پرانا اب تک ادھار چکایا نہیں تھا دوسرے میرے اسکول کے ٹائم ٹیبل کے حساب سے شام کو دکان کھولنا ممکن نہ تھا، کچھ میں نے بھی دکان سے کافی لوگوں کو بغیر لکھے کافی ادھار دیا ہوا تھا اور کچھ چند لوگ زیادہ تر عورتیں اپنے بچوں کے ساتھ مجھے بے وقوف بنا کر یا اپنی دکھ بھری داستان سنا کر مجھ سے ادھار سودا لے جاتیں اور میں اباجی کے ڈر سے رجسٹر میں لکھتا ھی نہیں تھا، اور واقعی بہت سے لوگ بہت ہی زیادہ غریب تھے اور ان میں زیادہ تر کا عیسائی مذہب سے تعلق تھا جنکا ھمارے محلے کے ساتھ ہی مگر ایک الگ سے آبادی تھی، اور ہم سب مسلمان بھی ان سب کا ہر لحاظ سے خیال بھی رکھتے تھے -

بہرحال یہ اچھا ہی ھوا کہ اس سے پہلے کہ کوئی زیادہ نقصان ہوتا اباجی نے مکمل طور سے دکان کو خیرباد کہہ دیا مگر اپنا ادھار وصول کرنے ہر پہلی تاریخ کے آتے ہی رجسٹر اٹھائے ادھار والوں کا دروازہ کھٹکھٹانے ضرور پہنچ جاتے، کچھ لوگوں سے تو ادھار وصول بھی ہوگیا لیکن باقی کا خود اباجی نے بعد میں تنگ آکر میرے خیال میں یا تو معاف کردیا یا شاید بھول ہی گئے اور روزمرہ کے معمول پر آگئے،

اب تو صبح صبح اٹھنے کی اتنی پریشانی نہیں تھی کیونکہ میرے اسکول کا وقت دوپہر کا تھا لیکن ہم سب صبح وقت پر ہی اٹھتے تھے اور والدیں تو فجر کی نماز سے ہی جاگ رہے ہوتے تھے والد صاحب تو قران کی تلاوت میں مصروف رہتے اور کچھ ایک دو حمد و نعت بلند آواز سے پڑھتے تھے اور اڑوس پڑوس کے لوگ بھی بہت شوق سے سنتے تھے بعض تو ان کے سامنے بیٹھ کر بڑے ذوق و شوق سے سنتے، اور ان کا روز کا معمول تھا، فجر کی نماز کے بعد سے دفتر جانے تک، اور انہوں نے اپنی عمر کے آخری وقت تک اپنے اس روز کے معمول کو نہیں چھوڑا اور اکثر گھر کے صحن میں اور مسجد میں بھی میلاد نبی شریف کا باقائدہ اہتمام کراتے تھے اور اس میں تمام محلے کے لوگ شریک ہوتے تھے،اس کے علاوہ عورتیں بھی مل کر ایک الگ سے گھروں میں میلاد شریف کا انتظام کرتی تھیں-

والد صاحب کی ایک نعت ابھی تک میرے کانوں میں گونجتی ہے،

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ٪٪٪ مرادیں غریبوں کی برلانے والا

چھوٹے بہن بھائی صبح کے اسکول میں جاتے تھے، میں چونکہ گھر میں سب سے بڑا تھا اس لئے گھر کے چھوٹے موٹے کام کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہی تھی، میرے روز کے معمول میں سے پہلا کام گھر کا سارا پانی بھرنا پڑتا تھا اور پانی کچھ دور کے فاصلے سے لانا پڑتا، محلے کے اور بھی بچے اور بچیاں بھی میری نگرانی میں میرے ساتھ پانی بھرنے جاتے تھے، ایک تو کچھ لوگوں کو مجھ پر بھروسہ بھی تھا اور میں بھی سب کو آوازیں دیتا ہوا نکلتا تھا اور خالہ کی بڑی بیٹی بھی کبھی کبھار ہمارے ساتھ ہوتی، جنہیں ہم سب ملکہ باجی کہتے تھے اور ان کی چھوٹی بہن تھی جس کا نام تو شہزادی تھا لیکن ھم سب انہیں زادیہ کے نام سے بلاتے، جب یہ دونوں ہوتی تو میری اجارہ داری ختم ھوجاتی تھی اور یہ دونوں ہماری لیڈر بن جاتی تھیں - سارے محلے کے بچے ان دونوں سے بہت مرعوب تھے، اور ساتھ میں بھی، میری تو وہ دونوں بالکل ہی نہیں چلنے دیتی تھیں، وہ بڑی تو پورے محلے کی جگ باجی تھیں-

غرض کہ اسکول بھی چلتا رہا اور محلے کی بھی ہم بچوں نے مل کر رونق لگائی ھوئی تھی، میں سب کے ساتھ گھر کا پانی بھی بھرتا اور محلے کے دوسرے گھروں میں بھی جہاں کوئی بچہ موجود نہیں ہوتا ان کا بھی اپنے دوستوں کی مدد سے ان کے گھر کا پانی بھی بھر دیتا تھا،
اس وقت پانی کو لوگ بہت احتیاط سے استعمال کرتے تھے، کیونکہ اس وقت ہمارے محلے میں کوئی آج کی طرح شاور یا نلکے وغیرہ تو نہیں ہوتے تھے، بالٹیوں اور ڈرموں میں پانی بھر کر رکھتے تھے، اور غسل خانہ میں پانی بالٹیوں میں بھر کر رکھتے اور لوٹے یا مگے سے ضرورت کے مطابق پانی کا استعمال کرتے تھے اور پینے کیلئے کچے مٹی کے گھڑوں کو اونچائی پر ڈھک کر رکھا کرتے تھے اس کا پانی ٹھنڈا اور خوب سوندھی سوندھی خوشبو دار ھوتا تھا اور پینے کا صحیح لطف آتا تھا -

آج میں جب یہ سوچتا ھوں کہ جو وقت اتنی جلدی گزر گیا جیسے گزرا ہوا سب کچھ ایک خواب تھا، پلک جھپکتے ہی عمر تمام ہوگئی، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ زندگی ایک پانی کے ایک بلبلے کی ظرح ھے، بلبلہ بنتا ھے اور پل بھر میں ختم ہوجاتا ہے، میں بھی پہلے یہ یقین نہیں کرتا تھا، کبھی کبھی سوچتا تھا کہ یہ ہماری زندگی کا سفر کتنا لمبا ہوگا ، شادی ہوگی بچے ہونگے، وہ بڑے ہونگے، انکی شادی کریں گے، کتنا لمبا عرصہ درکار ہوگا، لیکن آج مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ واقعی زندگی کا سفر لگتا تو بہت طویل ہے، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو بہت مختصر ہے، !!!!!!!!!!!!!!!!

کبھی کبھی تو میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت انسان سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ زندگی میں کبھی اچھا وقت اور کبھی برا وقت بھی رہا لیکن ان مشکلات سے اللٌہ تعالیٰ نے ہی نجات دلائی اور اور ہمیشہ لوگوں کی نظروں میں ایک عزت بنی رہی، کبھی کبھی میری ہی وجہ سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ضرور ہوئیں اور بری مصیبتوں میں بھی گھرا رہا، مگر اللٌہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے مجھے ہر پریشانی سے فوراً چھٹکارا دلایا، یہ سب میری والدہ اور بزرگوں کی دعائیں ہی تھیں حالانکہ میں نے شروع میں انکی ممتا کو کئی دفعہ بہت ٹھیس بھی پہنچائی، پھر معافی بھی مانگ کر ان کو گلے لگا کر خوش بھی کرتا رہا اور وہ ہمیشہ میرے لئے روتی ہوئی دعاء کرتی رہیں، وہ سب کچھ شادی سے بہت پہلے کالج کے دور تک، لیکن جب سے پہلی بار نوکری شروع کی اور پہلی تنخواہ ان کے ہاتھ میں رکھی تو مجھے اتنی خوشی اور اتنا سکون ملا کہ میں بیان نہیں کرسکتا، اس کے بعد سے آج تک کبھی بھی ان کا دل دکھانے کی کوشش نہیں کی، چھوٹی موٹی باتیں ضرور ہوئیں ساس اور بہو کے چکر میں، جو ہر گھر میں ہوتا ہے، لیکن زیادہ نہیں !!!! آج بھی جب گھر جاتا ہوں سب سے پہلے ماں کی گود میں اپنا سر رکھ کر روتا ھوں بالکل ایک چھوٹے بچے کی طرح !!!!!!!!!!!!!!!!!

دعاء یہی کرتا ہوں کہ ہر ایک کے ماں باپ کا سایہ ہمیشہ سر پر سلامت رہے !!!!!!!!!!!!!!!!! آمین ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

ماں کی دعاء اور ٹھنڈی چھاؤں،!!!!!

جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (01-11-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (13-11-10), طاھر (07-11-10), عبداللہ حیدر (14-11-10)
پرانا 30-10-10, 11:58 AM   #17
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرے لڑکپن کا شرارتی سفر- 3

دعاء یہی کرتا ہوں کہ ہر ایک کی ماں کا سایہ ہمیشہ سر پر سلامت ہ!!!!!!!!!!!!!!!!! آمین ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

ماں کی دعاء اور ٹھنڈی چھاؤں


ان پرانے سادہ اور سہل طور طریقوں میں سلیقہ حسن اخلاق، احسن رکھ رکھاؤ، اور سادگی میں زندگی کا ایک اپنا ہی صحیح لطف تھا جو کہ بہت سستا اور دیرپا قائم رہنے کا حامل بھی تھا، ہم بھی زمانے کے دور کے ساتھ اتنی تیری سے بھاگنے لگے کہ اپنی صحیح قدروں، اصولوں اور اپنی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنی اصل پہچان کو بھی پیچھے چھوڑ آئے ہیں -

صرف ایک پانی کی ہی مثال لے لیں کہ پہلے ہم جو پانی دور دور سے اپنے کندھوں پر اور سر پر رکھ کرلاتے تھے تو ہمیں اسکی قدروقیمت کا اندازہ ہوتا تھا، اسی وجہ سے پانی کو ہم اس وقت بہت سنبھال کر اور بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کرتے تھے، آج ہمارے گھروں میں باتھ رومز میں واش بیسن کے ساتھ نہانے کےلئے شاور، فلش کے ساتھ الگ سے شاور، آٹو واشنگ مشینوں اور کچن میں بھی میں سنک کےساتھ دو دو نلکے اور ہر ایک میں ٹھنڈے اور گرم پانی کی دو دو لائنیں، جتنی زیادہ سہولتیں ہیں، اس سے زیادہ اس کا بےقدری اور فضول طریقے سے استعمال کی وجہ سے اس کا بالکل کثرت سے ضیاع ہورہا ہے ،

آج میرے گھر میں بھی اسی طرح پانی کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں کا بھی بےجا استعمال ہے بار بار اسی وجہ سے اکثر میرا اسی بات پر جھگڑا بھی ہوتا رہتا ہے، لیکں نئی نسل ہمیں پرانےخیالات کے لوگ اور بےوقوف سمجھتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نئی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے آپ لوگ نہ جانے کس دنیا میں رہتے ہیں، مگر میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ ہمیں نئی سہولتوں سے فائدہ ضرور اٹھانا چاہئے لیکن اس میں بھی اگر ہم احتیاط کریں تو فضول خرچ سے بچا جاسکتا ہے،

مثلاً پہلے فرد واحد ایک بالٹی پانی سے آرام سے مکمل طور پر آسانی سے غسل کرلیتا تھا لیکن آج ہم شاور ( چھنٌا) کے نیچے خوب مزے سے گنگناتے ہوئے آرام سے دس گنا پانی غسل کرتے ہوئے ضائع کردیتے ہیں، اسکے علاوہ واش بیسن میں تو ہم منہ ہاتھ اس طرح دہوتے ہیں جیسے اباجی نے گھر میں کسی دریا سے مفت کا کنکشن لیا ہوا ہو، اسکے علاوہ برتن اور کپڑے دہوتے وقت تو خواتین بالکل خیال نہیں رکھتیں، نلکوں کو بغیر کسی بریک کے فل کھولے رکھتی ہیں، تاکہ انھیں بار بار نلکوں کو کھولنا اور بند نہ کرنا پڑے، جبکہ ہم خود جانتے ہیں کہ اگر ھم چاھیں تو ایک تھوڑی سی احتیاط کرکے بھی کافی ہر چیز میں بچت کرسکتے ھیں،!!!

جس کے ھم سب بھی خود ذمہ دار ہیں، اور ہر ایک چیز کے ضرورت سے زیادہ استعمال کیلئے بھی ہم اوپر جاکر اس کی سزا بھگتیں گے، جسکا کہ ہم سب کو پتہ ہے، لیکن ہم اپنی آنکھیں بند کرلیتے ھیں جیسے کبوتر اپنی آنکھیں‌ بند کرلیتا ہے جب اس پر کسی کے حملے کا خطرہ ہو، کبوتر یہ سمجھتا ہے کہ جیسے اسے آنکھیں بند کرکے کچھ نظر نہیں آرہا تو شاید حملہ کرنے والے کو بھی یہی محسوس ہورہا ہو،

اس وقت جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اس وقت ہماری یا کسی کی بھی والدہ جو زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن وہ آج کل کی پڑھی لکھی خواتیں سے کہیں زیادہ سمجھدار تھیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ جو بھی محدود آمدنی ہے اس کو کس سلیقے سے خرچ کیا جائے کہ اس میں سے کچھ آئندہ کیلئے کچھ بچت بھی ہوجائے، ایک چھوٹی سی مثال صرف کھانے پینے کے حوالے سے، وہ والد کے مشورے سے صرف خشک چیزیں مصالے،چاول، دالیں، آٹا، وغیرہ ضرورت کے مطابق ایک مہینے کیلئے پہلے ہی ایڈوانس میں منگا کر رکھتی تھیں جو تھوک کے بھاؤ والد صاحب لاتے تھے اور بہت ہی سستا پڑتا تھا، باقی روزانہ صرف اس دن کے پکانے کیلئے تازہ چیزیں اتنا ہی منگاتیں، جتنا کہ ضرورت ہوتی تھی -

اب تو روز کے مختلف گھر کے کاموں کی ذمہ داری بھی میرے ہی اُوپر تھی، کیونکہ میرے اسکول کا وقت اب دوپہر کا تھا، روزانہ پہلے پانی بھرنا، پھر گھر کا سودا لانا پھر اسکول وقت قریب ہوجاتا تھا، اور میں اسکول کی تیاری میں لگ جاتا-

گھر کا سودا لانے میں مجھے تقریباً روزانہ آٹھ آنے سے زیادہ نہیں ملتے تھے، اور میں اس میں سے ایک پاؤ قیمہ یا گوشت وہ بھی گائے یا بھینس کا، جو صرف پانچ آنے کا آتا تھا اور ایک آنے کا مصالہ جس میں دو پیاز ہرا دھنیا، پودینا، دو سبز مرچی اور ایک یا دو ٹماٹر اور باقی دو آنے کی اگر کچھ اور سبزی کی ضرورت ہو تو ورنہ وہ بھی مجھے والدہ کو واپس کرنے پڑتے تھے، اس میں سے مجھے صرف دو پیسے اسکول کیلئے ملتے تھے-

ایک پاؤ گوشت یا قیمہ کے ساتھ سبزی یا دال کے ہم سب کیلئے دو وقت کیلئے کافی ہوتا تھا بلکہ اکثر مہمان بھی ہمارے ساتھ شریک ہوتے تھے اور اس میں بھی کافی برکت ہوتی تھی، ایک فایدہ یہ ہوتا تھا کہ تازی چیزیں ہم کھاتے تھے اور ہمیں والدہ ہر ایک کو ضرورت کے مطابق اپنے ہاتھ سے اندازہ کرکے ہر ایک کے پلیٹ میں ڈالتی تھیں،

اگر آج ہم دیکھیں تو ہم خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنا کھانا روز پکتا ہے اور ضائع بھی ہوتا ہے اسکے علاؤہ ڈیپ فریز کیا ہوا ہم کھاتے ہیں، ہمارے اس وقت بھی پیٹ کی گنجائش وہی تھی اور آج بھی وہی ہے بلکہ لوگوں کی پہلے کے وقت میں کچھ زیادہ ہی خوراک ہوا کرتی تھی اور سب خون سیر ہوکر کھاتے تھے-

قیمتوں کو چھوڑ دیں صرف مقدار کو ہی لے لیں، کیا ہم سوچ سکتے ھیں کہ آج ہم ہر چیز کے استعمال میں کتنا اصراف کرتے ہیں اور کتنا ضائع کرتے ھیں،
کیا ہم جانتے ہیں کہ اس کا حساب کس نے، کہاں اور کیسے دینا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟

-----------------------------------------------------------------
اب تو میں روز کے معمول میں کافی دلچسپی لینے لگا تھا، بہت شوق سے گھر کا سودا لانے لگا تھا، ایک چھوٹا سا بازار تو تھا لیکن کافی فاصلے پر تھا، کبھی کبھی اپنے کسی دوست کو بھی ساتھ لے لیتا تھا اور محلے کی ہماری دو تیں خالائیں بھی مجھ پر ہی بھروسہ کرتیں، جیسے ہی مجھے وہ گھر سے نکلتا دیکھتیں تو دروازوں پر آجاتیں ارے بیٹا ذرا سننا تو میرے لئے آج یہ چیزیں لا دو کوئی تو اچھی خاصی لسٹ پکڑا دیتیں اور کوئی زبانی ہی فرمائیش کردیتیں، مجھے سب کی چیزوں اور پیسوں کا حساب کتاب بھی رکھنا پڑتا تھا، ایک اچھی بات تھی کہ میری اس وقت کی یاداشت بہت اچھی تھی اور سب کچھ مجھے زبانی یاد بھی رہتا تھا کہ کس نے کیا منگایا تھا، کس نے کتنے پیسے دیئے تھے اور کس کو کتنے واپس کرنے ہوتے تھے،

وہاں پر تمام محلے میں سب کا ایک اکلوتا لاڈلہ تھا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ کبھی کسی کے کام کیلئے انکار نہیں کیا، بعض اوقات تو دوسروں کے چکر میں اپنے گھر کا سودا بھول جاتا تھا، پھر دوبارہ بھاگ کر جاتا اور یاد کرکے سودا لا کر اماں کو دیتا اور اماں ہماری انتطار میں ہی بیٹھی رہتیں کب میں پہنچوں اور وہ کب کھانا پکانا شروع کریں کبھی کبھی دوسروں کی وجہ سے ڈانٹ بھی پڑجاتی تھی اور وہ سیدھا شکایت ہماری ملکہ باجی کو لگا دیتی، بس کیا تھا انہوں نے سیدھا میرا کان پکڑنا اور اپنے گھر لے جاتیں اور خوب ڈانٹتی بھی تھیں، اب تو میری دو امٌائیں ہوگئی تھی -

اب تو بعض اوقات اپنے گھر کے بجائے اپنی منہ بولی باجی سے ہر کام کیلئے اجازت لینی پڑتی تھی، اگر میں نے کوئی ان کی مرضی کے خلاف کام کیا تو میری شامت ہی آجاتی تھی، مگر زادیہ میرے لئے اپنی باجی سے لڑتی تھی اور میری جان بچ جاتی تھی، کبھی تو جیسے ہی میں گھر سے نکلا، پتہ نہیں کہاں سے ان کو پتہ چل جاتا، میں ان کے گھر کے دروازے کے سامنے سے بہت احتیاط کے ساتھ نکلنے کی کوشش بھی کرتا تو فوراً ہی نمودار ہوجاتیں اور بس شروع سوالات پر سوالات کہ کہاں چل دیئے حضور ادھر آئیے بس فوراً انہوں نے میرا کان پکڑا اور گھر کے اندرخوب ڈانٹتیں، اگر میں نے کوئی بہانہ کیا تو وہ اسی وقت تصدیق کرنے مجھے میری اماں کے پاس پہنچ جاتیں، اور اگر میں نے کوئی بہانہ کیا ہوتا تو بس میرے کان اور انکا ہاتھ، وہ اس وقت تک نہیں چھوڑتی تھیں جب تک کہ میں توبہ نہ کرلوں،

اب انہوں نے ہی میرے سدھار کی ذمہ داری لے لی تھی کبھی کبھی تو میں ان کی پابندیوں سے تنگ ہوجاتا تھا اور مشکل یہ تھی کہ ھمارے گھر سے باھر نکلنے کیلئے ان کے گھر کے پاس سے ہو کر جانا پڑتا تھا اور اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا، کیا کرتا مجبوراً اس ہٹلر باجی کے بغیر اجازت کے جانا مشکل ہوتا تھا جو میرے کھیل کود کے لئے باہر دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے میں رکاوٹ بنتی تھی، جو بعد میں میرے کیرئیر لئے بہت بہتر ثابت ہوا تھا، لیکن اس وقت مجھے یہ روک ٹوک اچھی نہیں لگتی تھی،

مگر جب مجھے محلے سے کوئی کسی کام کیلئے کہتا تو اسی کام کے بہانے ہی میں باہر بھاگنے کی کوشش کرتا مگر راستے میں جانے کہاں سے وہ کسٹم کی ملکہ مجھے ٹکر جاتی اور بغیر اس کی رضامندی کے مشکل ہوجاتا، اس نے مجھے صرف مجھے چند مخصوص گھروں کے کام کےلئے کبھی منع نہیں کیا جہاں کوئی بڑا لڑکا نہیں تھا، یا اور کوئی مجبوری ہو اور بعض اوقات وہ مجھے ساتھ لےکر بازار جاتی اور میرے ساتھ خریداری میں مدد کراتی، اسی وجہ سے میرے والدیں ملکہ باجی سے بہت خوش تھے کہ انہوں نے میرا سارا کنٹرول سنبھالا ہوا تھا،

شام کے وقت اسکول سے واپس آکر جب ہاتھ منہ دہو کر تازہ دم ہوجاتا، کچھ دیر کے لئے بہں بھائیوں کو ساتھ لے کر باہر کھیلنے نکلتا، ایک بھائی میرے گود میں بھی ہوتا تھا، میرے باہر نکلتے ہی ہٹلر ملکہ بھی اپنی چھوٹی بہن زادیہ کے ساتھ ہمارا انتظار کررہی ہوتی تھیں، اور کچھ بچے بھی اپنے گروپ کے جو ملکہ کی سیلیکشن سے منظور شدہ ہوتے وہی ہمارے گروپ مین شامل ہوسکتے تھے اور ایک بات کی تو داد دینی پڑتی تھی کہ وہ ہم سب کو کھیلوں میں اچھے اور خالص معلوماتی کھیل بھی کھلاتی تھیں اور ہمارے گروپ میں با ادب اور اچھے اخلاق کے بچوں کو ہی داخلہ ملتا تھا، دوسرا ایک گروپ بھی تھا جس میں زیادہ تر شرارتی بچے تھے اور وہ سب ہمارے گروپ سے بہت زیادہ حسد کرتے تھے، لیکن ملکہ باجی کی وجہ سے کوئی بھی نزدیک نہیں آتا تھا، اس لئے تمام بچے ان کے شر سے بچے ہوئے تھے وہ دونوں بھی کسی دوسرے اسکول میں پڑھتی تھیں جس کا وقت میرے اسکول کے مطابق یعنی صبح کا وقت تھا، شاید دونوں چھٹی یا ساتویں کلاس مین ہونگی، مجھے یہ صحیح طرح یاد نہیں،

میری شروع سے فطرت رہی تھی کہ مجھ سے کبھی کسی کے کام کیلئے انکار نہیں ہوتا تھا، جیسے تندور پر سے کسی کیلئے روٹی لگوانی ہی کیوں نہ ہو، اسوقت زیادہ تر تندور کی روٹی زیادہ پسند کرتے تھے، شام کو کھیل کود کے فوراً مغرب کی نماز کے بعد اماں ھماری آٹا گوندھ کر رکھتیں اور ساتھ ایک دو اور جو روٹی پکوانے کیلئے میرے نکلنے سے پہلے ہی آٹا گوندھ کر رکھتے تھے، میں اپنے چند مددگار دوستوں کو بھی اس کارخیر میں حصہ لینے کی اجازت دیتا تھا وہ بھی میرے ساتھ تندور کی طرف چل دیتے، اس وقت ملکہ باجی کو باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی، انکا بھی کبھی کبھی آٹا گوندھا ہوا مجھے لے جانا پڑتا تھا، ورنہ اکثر ان کی اماں توئے پر ہی چپاتی بناتی تھیں،

تندور پر جاکر سب آٹے کے تھال کپڑے ڈھکے ہوئے لائن میں لگا کر ہم سب کھیلنے لگ جاتے، تندور کچھ دوری پر تھا اور ہٹلر ملکہ باجی سے بھی دور کسی روک ٹوک کے مزے سے کھیلتے تھے اور واپس ابک آدھ گھنٹے سے پہلے ہم سب روٹی لگوا کر فارغ ہوجاتے تھے-

ایک دفعہ مجھے بہت دکھ ہوا کہ جب تندور سے روٹیاں لگا کرگھر پہنچا تو اپنی روٹیاں گھر صحن کے پاس ایک چبوترے کے پاس رکھ کر کسی کے گھر انکی روٹیاں پہنچانے گیا تو میں نہ جانے کیوں وہیں سے آگے واپس گھر آنے کے کہیں اور نکل گیا اور اماں کو روٹیوں کے تھال کے بارے میں نہیں کہا اور وہاں ایک چبوترے پر روٹیاں پڑی رہیں اور ادھر ایک ہماری ایک بکری کا بچہ جسے اس سال ہم قربانی کیلئے تیار کرہے تھے اس نے وہ چبوترے پر پڑی ساری روٹیاں کھالیں اور جیسے ہی میں پہنچا وہ آخری روٹی کھا رہا تھا میں گھبرا گیا اب کیا کروں فوراً وہ خالی تھال لے کر تندور کی طرف بھاگا اور وہاں سے روٹیاں خریدیں اور جلدی جلدی واپس آیا اور کسی کو بتائے بغیر اماں کو تھال پکڑا دیا، اور باہر چلا گیا-

واپس آیا تو عشاء کے بعد کھانے کیلئے بیٹھے تو اماں نے پوچھا خاموشی سے پوچھا کہ یہ روٹیاں ہماری تو نہیں لگتی اور میں نے بھی حیرانگی سے کہا ہوسکتا ہے کہ تندور والے نے شاید غلطی سے دوسرے کی روٹیاں رکھ دیں ہونگی، لیکن رات کو سوتے وقت مجھے اپنے اوپر اور بکرے کے اوپر بہت غصہ آرہا تھا-

صبح ھوئی تو اباجی اور دو تیں محلے دار لوگوں کی زور زور سے آوازیں آرہی تھیں میں نے غور سے سنا تو وہ کہہ رہے تھے کہ رات کو بکرے نے کیا کھایا تھا جس کی وجہ سے اسکی یہ حالت ہوگئی، میں فوراً بستر چھوڑا اور بھاگ کر باہر آیا تو دیکھا وہی بکرا مجھے دیکھ رہا تھا جیسے میری کسی غلطی کی نشاندھی کررہا تھا، اسکے منہ سے جھاگ سا نکل رہا تھا اور سب یہی کہہ رہے تھے کہ اب اس کا بچنا مشکل ہے -

-----------------------------------------------------
میرے والد صاحب ایک فوجی تھے اور ان کے ریٹائرمنٹ تک ہم سب نے ملٹری کے ماحول میں ایک اچھا وقت گزارا تھا، اور ہم سب اس ماحول میں اپنے آپ کو محفوظ اور مضبوط سمجھتے تھے،

اور پھر ان کی ریٹائیرمنٹ کے بعد جیسے ہی اس ماحول سے باہر نکلے تو لوگوں کی نفرت اور حسد کی نذر ھوگئے،،،،،،،،،،،،،،،، اور والد صاحب وقت سے پہلے ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے،!!!!!!

میں اب بھی کبھی کبھی اپی والدہ کو دیکھتا ہوں کہ وہ والد صاحب کے ملٹری دور میں ملے ہوئے میڈل اور تمغوں کو صاف کر رہی ہوتی ہیں اور میں ان کی آنکھوں میں ایک فخر میں چھپی ہوئی چمکتی ہوئی نمی کی جھلک دیکھتا رہتا ہوں، اور مجھے وہ تمام گزارا ہوا بچپن جو ملٹری کی چار دیواری کے اندر گزرا تھا، وہ مجھے یاد آجاتا، اور جب بھی میں پاکستاں چھٹی جاتا ہوں، تو اس پرانے محلے میں ضرور جاتا ہوں جو اب تک تین طرف سے وہی ملٹری کی ایک مضبوط دیوار اپنے شان و شوکت سے پورے محلے کو اپنے آغوش میں لئے ہوئے ہے،

میں اس محلے میں اب جب بھی جاتا ھوں، اس دیوار کو پیار سے دیکھتا ہوا اسکے ساتھ اپنے ہاتھ سے چھوتا ہوا پورے محلے کا ایک چکر لگاتا ہوں، ساتھ ہی اپنے بچپن کو اس دیوار میں ڈھونڈتا ہوں اور مجھے اپنے بچپن کے وقت کی وہ آوازیں اس محلے کا شور سنائی دینے لگتا، کبھی میری ماں کی آوازیں کبھی والد صاحب کی ڈانٹ کبھی ان کا پیار سے پکارنا، دوستوں کا چہچہانا، میرے بہن بھائی کی آوازیں اور میری زندگی کی حسین خوبصورت یادوں کی وہ گنگناہٹ، یہ سب آوازیں مجھے اس دیوار سے ایک ایکو ساونڈ کی طرح میرے کانوں سے ٹکراتیں، اور یہ سب کچھ ایک عقیدت مند کی طرح محسوس کرتا ہوا، اپنی آنکھوں میں ماضی کی یادوں کو تروتازہ کئے ہوئے واپس آجاتا ہوں،

وہ ملٹری کی دیوار اب تک ویسی ہی ہے مگر محلے میں کافی تبدیلیاں آگئی ہیں، پکے مکان بن گئے ہیں، بجلی، پانی سوئی گیس، اور ٹیلیفوں کی سہولت بھی تقریباً ہر گھر میں ہے، میر گھر جو پہلے تھا اب وہ بھی پکا ہوگیا ہے، اور ہر سہولت ہے، مگر وہ ملٹری کی دیوار اور اس کے کارنر کی دو دیواریں اب تک اسی طرح کھڑی ہیں جو میرے گھر کو دو طرف سے گھیرے ہوئے ہیں اور کارنر میں ابتک وہ پرانا بجلی کا کھمبا ابھی تک ویسے ہی کھڑا ہے جہاں میں کبھی اسکے ٹمٹماتے بلب کے نیچے چارپائی ڈال کر پڑھتا تھا اور کبھی ہمارے اباجی وہاں اپنے محلے کے دوستوں کے ساتھ اپنی چوپال بھی لگاتے تھے، کبھی وہاں پر محلے کے لوگ میلادالنبی کی چھوٹی سی تقریب یا کسی گھرکی شادی کے سلسلے کی کوئی دعوت تقریب، اس دیوار نے میرا مکمل بچپن اور لڑکپن کا سارا دور کا ایک ایک منظر دیکھا ہے، مار بھی اس کے سامنے کھائی ہے اور بہت پیار اور خلوص بھی اسکے سامنے ملا ہے

آج بھی میں کسی فوجی کو وردی میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں تو اس فوجی کو سیلوٹ ضرور کرتا ہوں، جیساکہ میرے والد اپنے سے بڑے آفیسر کو دیکھ کر سیلوٹ کرتے تھے،

مجھے اس بات کا بھی فخر ہے کہ اں کے ریزرو فورس میں آنے کے بعد بھی 1965 اور 1971 کی جنگ کے موقع پر انہیں ہم سب بہں بھائیوں والدہ اور محلے کے لوگوں نے فخریہ انداز میں رخصت کیا تھا جب وہ بڑے خوشی سے وردی پہں کر اپنی مکمل کٹ کے ساتھ واگہہ سیکٹر لاھور کے لئے روانہ ہوئے تھے، فوجی وردی میں وہ کیا خوبرو جوان لگتے تھے، اپنے پاک وطن کی ہر پکار پر انہوں نے لبیک کہا تھا !!!!!!

اس وقت بھی میرے آنکھوں میں آنسو بھر آئے ہیں، میں ان کی مخلص شخصیت کو کبھی نہیں بھول سکتا وہ واقعی ایک پرخلوص اور وطن پرست انسان تھے انہوں نے ہمیشہ ہمیں اپنے پیارے وطن سے محبت کرنے کا سبق دیا، مگر مجھے آج تک اس بات کا افسوس ھے کہ میں اتنا بدقسمت تھا کہ اس عظیم انسان کو اپنےایک کاندھے کا سہارا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں ان کے انتقال پر ایک مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس نہیں تھا، اسی بدنصیبی پر آج تک میں پچھتاتا ہوں!!!!!!!!!!

-------------------------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (01-11-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (13-11-10), عبداللہ حیدر (14-11-10)
پرانا 30-10-10, 12:42 PM   #18
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرے لڑکپن کا شرارتی سفر- 4

اس وقت بھی میرے آنکھوں میں آنسو بھر آئے ہیں، میں ان کی مخلص شخصیت کو کبھی نہیں بھول سکتا وہ واقعی ایک پرخلوص اور وطن پرست انسان تھے انہوں نے ہمیشہ ہمیں اپنے پیارے وطن سے محبت کرنے کا سبق دیا، مگر مجھے آج تک اس بات کا افسوس ھے کہ میں اتنا بدقسمت تھا کہ اس عظیم انسان کو اپنےایک کاندھے کا سہارا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں ان کے انتقال پر ایک مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس نہیں تھا، اسی بدنصیبی پر آج تک میں پچھتاتا ھوں!!!!!!!!!!

جب میں اپنی یاداشتوں کے ایک منجمد ذخیرے کی طرف اپنے آپ کو ماضی کے تصورات کی دنیا میں لے جاتا ہوں تو قدرتی وہ یادوں کا منجمد ذخیرہ میری تصوراتی ذہن کے سامنے سے پگھلتا ہوا گزرنے لگتا ہے اور میں اسے اپنے خود ان ہاتھوں سے سمیٹتا ہوا ایک تحریر کے روپ میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہوں،

قیمتوں کو چھوڑ دیں صرف مقدار کو ہی لے لیں، کیا ہم سوچ سکتے ہیں کہ آج ہم ہر چیز کے استعمال میں کتنا اصراف کرتے ھیں اور کتنا ضائع کرتے ہیں،
کیا ہم جانتے ھیں کہ اس کا حساب کس نے، کہاں اور کیسے دینا ھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ اُس وقت جب اتنے وسائل اور ذرائع نہیں تھے، لوگوں کی اتنی محدود آمدنی تھی، اس کے علاوہ لوگوں میں پڑہے لکھوں کا تناسب بھی بہت کم تھا اور نہ کوئی سیاسی سمجھ بوجھ پائی جاتی تھی، اتنے سادہ لوگ تھے کہ جس نے جیسا کہہ دیا ویسے ہی یقین کرلیا لیکن ان تمام کے باوجود سب لوگ ایک دردمندانہ دل رکھتے تھے، ایک دوسرے کے لئے جان چھڑکنے کیلئے تیار رہتے تھے -

اپنے محلے میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ اگر کسی کا بچہ یا کوئی بڑا اگر کسی تکلیف یا بیماری میں مبتلا ہو جائے یا باھر کوئی کسی قسم کی چوٹ یا کوئی حادثہ ہوجائے، تو یقیں کریں کہ جس کا بھی وہ بچہ یا رشتہ دار ہے، اسے خبر ہی نہیں ہوتی تھی اور وہ کسی نہ کسی کی کوشش اور ہمدردی کی وجہ سے ڈاکٹر یا اسپتال سے فارغ ہوکر گھر پہنچتا تو اسکے گھر والوں کو خبر ہوتی تھی، بلکہ وہ مخلص لوگ تو سب کو خبردار کر جاتے تھے کہ اس زخمی بچے یا بڑے کی خبر اس کے گھر میں نہ ہو، چاہے وہ کوئی غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو -

آج بھی مجھے اس محلے کی ہر گلی اور ہر در و دیوار سے بہت پیار ہے، جب بھی میں وہاں جاتا ہوں وہ لوگ میری بہت عزت کرتے ہیں اور میرا تعارف اتنے پیار اور خلوص کے ساتھ، دوسرے لوگوں سے اس طرح کراتے ہیں کہ میں خود بھی شرمندہ ہوجاتا ہوں، وہاں اب جو بھی اسوقت کے لوگ باقی ہیں، ان کا رھن سہن، اخلاق پیار اور ایک دوسرے سے محبت ابھی تک ویسے کا ویسا ہی ہے، گھر کے نقشے بدل گئے لیکن لوگوں کے دل نہیں بدلے، ابھی بھی وہی ملٹری کی دیواروں کے آغوش میں اپنے اس محلے کو ایک مضبوط قلعے کی طرح پناہ دئیے ہوئے ہے، وہاں کی پہلے کی ایک چھوٹی سی لکڑی کی بنی ہوئی پرانی مسجد اب ایک خوبصورت سنگ مرمر کے فرش اور خوبصورت نقش و نگار سے آویزاں درو دیوار کے روپ میں ڈھل چکی ہے، یہ بھی ایک وہاں کے لوگوں کی پرخلوص کاوشوں کا ایک نتیجہ ہے،

آس پاس کا علاقہ بہت ماڈرن ھوچکا ھے،جگہ بڑی بڑی کئی منزلہ عمارتیں بن چکی ہیں اور سڑکیں جو سنگل تھیں آج ڈبل بن چکی ہیں، ریلوے لاٰئنوں کے اوپر بھی ایک نیا خوبصورت سا بہت بڑا پل بن چکا ہے جو آس پاس کے علاقوں کو آپس میں ملاتا ہے، ہر جہاں نزدیک ہی ایک چوراھے پر ایک پارک تھا، جو کبھی میرے دکھوں اور غموں کا ایک غمگسار تھا، وہاں جاکر اکثر میں اکیلا کبھی کسی مشکل میں ہوتا تو وہاں بیٹھ کر سوچتا تھا کبھی مستقبل کے پروگرام بھی بناتا تھا اور وہیں کبھی کبھی سو بھی جاتا تھا وہ چوراھے پر ایک بہت بڑا پلوں کا “فلائی اور“ بن چکا ہے، اب بھی خاص طور پر وہاں اسکے نیچے جاکر میں اپنے اس چوراھے کے باغیچہ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں، جس کی بھینی بھینی خوشبو اب بھی مجھے وہاں جاکر محسوس ھوتی ہے !!!!!!!!!!!!!!

اکثر اپنے اس اسکول کی طرف بھی میں چلا جاتا ھوں اور ان ان راستوں پر جہاں جہاں میرے قدم پڑے ہیں، میں چلتا ہوں اور پہچاننے کی کوشش کرتا ہوں، وہ چھوٹا سا ایک بازار جہاں سے کبھی میں گھر کا اور ساتھ اپنے محلے کا سودا لایا کرتا تھا اب وہ جگہ بھی ایک نئے بازار کی جگہ لے چکی ہے، کوئی بھی پرانا جاننے والا اب اس بازار میں نظر نہیں آتا -

سب کچھ بدل چکا ہے لیکن میرا محلہ چند سہولتوں کے اضافہ ساتھ بالکل ویسا ہی ہے، جسے چاروں طرف وہی ملٹری کی دیوار اپنے مضبوط اور محفوظ آغوش میں لئے ہوئے ہے، لوگ اب کچھ سہمے ہوئے سے نطر آتے ہیں کہ اگر یہ ملٹری کی دیوار اگر سرکار نے گرادی تو اس محلہ کا کیا ہوگا، اسے بھی گرادیا جائے گا، اور یہ میری آخری یادوں کا سہارا بھی مجھ سے چھوٹ جائے گا، میں اب اکثر یہ سوچتا ہوں !!!!!!!
-------------------------------------
مجھے افسوس بھی ہے کہ مجھے اپنی کہانی کو بڑھانے میں تھوڑی سی کچھ دشواری یوں پیش آرہی ہے کہ بہت سی ایسی نازک ترین یادداشتیں، جو میرے سیکنڈری اسکول کے وقت سے وابستہ اور بہت ھی زیادہ اہم ہیں، میں انکا صحیح وقت اور مقام کا اندازہ کر نہیں پا رہا ہوں، کیونکہ اس میں بیک وقت پانچ مختلف کہانیاں ساتھ ہیں اور انہیں مجھے ساتھ لیکر چلتے ہوئے کچھ مسلئے بھی درپیش آرہے ہیں، کچھ کرداروں کو میں سامنے نہیں لانا چاھتا اور جن کو سامنے لانا چاھتا ہوں انکی رسوائیوں سے ڈرتا بھی ہوں،

تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں، جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں،!!!!!

مگر میں آپ سب سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ کسی کو رسوا کئے بغیر یا کسی کی حق تلفی یا ناراض کئے بغیر اپنی کہانی کو نہایت عمدگی سے آگے بڑھانے کی مکمل کوشش کرونگا،

سیکنڈری اسکول میں جب سے مجھے داخل کرایا گیا، تو میں اپنی تمام ماضی میں گزری ہوئی مشکلات اور مصیبتوں‌ کو بھول چکا تھا، کیونکہ اس اسکول میں تقریباً تین سال بعد ایک پڑھنے کا اچھا ماحول ملا تھا، تمام دوست بھی نفیس ترین اور بااخلاق تھے، جیساکہ میں اس سے پہلے بھی تفصیل سے عرض کرچکا ہوں، حالانکہ یہ بھی ایک گورنمنٹ اسکول ہی تھا، لیکن اس کی انتظامیہ کی تعریف بہت دور دور تک تھی اور یہاں داخلہ بھی بہت مشکل سے ملتا تھا، لیکن والد صاحب نے رابطہ کیا ہمارے محلے کے ایک اس اسکول کے سینیئر سابق طالب علم منیر بھائی سے، جو اس وقت کالج میں تھے،اور انکی ہی سفارش پر داخلہ مل گیا تھا ورنہ میرا اپنی قابلیت سے سیلیکشن ہونا بہت ہی مشکل تھا، کیونکہ میرے مارکس کا وہ اسٹینڈرڈ نہیں تھا، جو اس اسکول میں داخلے کیلئے ضروری تھا، اور کچھ ملٹری کے کوٹہ نے بھی اثر دکھایا تھا،

روز کے معمول بہت اچھی طرح چل رہے تھے، ایک طرف اسکول کی پڑھائی اور دوسری طرف محلے کا رھن سہن اور وہاں کا برتاؤ، تیسرے والدین کی عزت، چوتھے محلے کے دوستوں کے ساتھ الگ ایک اپنی محفل اور اللٌہ تعالیٰ کا شکر تھا کہ میں اپنے آپ کو ہر ماحول میں بالکل فٹ پا رہا تھا، یعنی کہ اپنی زندگی کی گاڑی اپنی صحیح رفتار سے دوڑ رہی تھی، اس میں ہماری ملکہ باجی کا بہت زیادہ ہی عمل و دخل تھا وہ سب سے پہلے ہر ایک کو اخلاق کا بہت اچھا سبق دیتیں اور بعد میں دوسری بات کرتی تھیں، اکثر بچے جو کہ گالیاں بہت بکتے تھے اور نازیبا الفاظوں کا استعمال بے شمار کرتے تھے، اب وہ اچھی اور شائستہ زبان بولنے لگے تھے جو لوگ تو تڑاک سے بولتے تھے اب “آپ جناب“ سے بات کرنے لگے تھے، جسے میں پہلے دل میں ہٹلر باجی کہتا تھا اب میرے لئے ایک محترم ہستی کا مقام رکھتی تھیں اور وہ آج تک میرے دل میں انکا وہی مقام ہے،

بچوں میں لڑائی وغیرہ اب بہت کم ہوتی تھی اور اگر ہوتی بھی تو ملکہ باجی کی وجہ سے فوراً ختم ہوجاتی تھی اور محلے کی رونقیں برقرار رہتی ملکہ باجی نے تو محلے میں ایک گھر میں ہی چھوٹا سا محلے کیلئے اپنے ہی گھر میں ہی ایک ویلفیئر سنٹر کھول لیا تھا، اس میں بچوں کو فری بنیادی تعلیم اور مختلف دستکاری بھی بغیر کسی معاوضے کے سکھاتی تھیں اور اکثر بچے اپنے اسکول کا ہوم ورک کرنے کیلئے بھی ان سے مدد لیا کرتے جس میں ہم سب بڑے بچے بھی انکی مدد میں برابر کے شریک ہوتے، اور خاص طور سے عورتوں میں عیدمیلادالنبی (ص) کا انتظام بھی خود کرتیں اور وہ بہت ہی اچھی حمد اور نعتیں درود و سلام ،خوبصورت آواز میں پڑہتی تھیں، اور ھر ایک کی خواھش پر ہر گھر میں انتظام کراتی بھی تھیں -

اس محلے کی خوشیاں ایک وقت میں بہت عروج پر تھیں، میں تو اب محلے کا ایک پکا لاڈلا بن چکا تھا، کیونکہ اکثر محلے کے کسی بھی گھر کے کام کیلئے میں نے کبھی بھی انکار نہیں کیا تھا، جب بھی اپنے گھر کے کسی بھی کام کیلئے باہر نکلتا تو شاید ھی کوئی ایسا وقت ہوتا کہ مجھے کوئی آواز نہیں دیتا تھا اور جیسے ہی باہر نکلتا تو اکثر ساتھ میرے ملکہ باجی ضرور چل دیتیں، انہیں بھی بازار سے کچھ نہ کچھ لینا ہوتا تھا اور شاید میرے ساتھ وہ اپنے آپ کو محفوظ بھی سمجھتی تھیں، ویسے بھی اس وقت کوئی ایسا خطرہ یا کسی چھیڑ چھاڑ کا نام و نشان نہیں تھا اور سب لوگ عورتوں اور لڑکیوں کا دل سے احترام بھی کرتے تھے -

اپنے گھر سے زیادہ اب میں ان کے گھر میں گزارتا تھا یا وہ دونوں میرے گھر پر موجود ہوتیں، اپنے گھر کے کام سے فارغ ہوکر میری والدہ کا بھی ہاتھ بٹاتی تھیں، اور ساتھ میرے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی سنبھالتی، اس کی وجہ سے وہ ہمارے والدین کے دلوں میں ایک بہت اچھا مقام بنا چکی تھیں، اور ہماری والدہ کا بھی ان دونوں کے بغیر دل نہیں لگتا تھا، اکثر میں نے دیکھا کہ وہ والدہ کے بالوں میں تیل لگاتی اور کنگھی کرتیں، اور جو بھی کام ہوتا بہت خوشی سے کرتی تھیں، اسی طرح وہ دن اتنی تیزی سے بھاگ رہے تھے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا،

اسکول کا پہلا سال تو بہت اچھا گزرا، سالانہ امتحان میں اتنے اچھے نمبر تو نہیں بلکہ قابل قبول ضرور تھے 65٪ کے قریب مارکس لے کے جو اس وقت کی سیکنڈ ڈویژن اور آج کا “بی گریڈ“ کہ سکتے ھیں، بہرحال یہ بھی اللٌہ کا شکر تھا، گھر میں کافی خوشیاں منائی گئیں، چلو ایک سال اور اس اسکول کا بیت گیا اور ساتویں کلاس میں پہنچ گئے، دوستوں کا وہی ہمارا پرانا گروپ تھا اور کلاس ٹیچر بھی وہی جنہیں سب پسند کرتے تھے، اسکے علاوہ باقی سب ٹیچر بھی اپنی اپنی جگہ پر بہت اچھے تھے، 1962 کا سال چل رھا تھا میری عمر اب بارویں سال میں داخل ہوچکی تھیں،

دوسری طرف میرے کچھ بچپن کے شوق بھی میری عمر کے ساتھ ساتھ چل رھے تھے، پہلے کبھی مین اپنی کاپیوں کے اخر میں اردو خوشخطی لکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ خیالی تصاویر بھی بنایا کرتا تھا، جو کہ آھستہ آھستہ وہ عادت ایک پختہ مہارت کا روپ لینے لگی تھی اب میں نے باقائدہ طور سے اس شوق کا سامان بھی رکھنے لگا تھا، پنسلیں اور برش اسکے علاوہ پرانے کیلنڈروں کےپیپرز کو بھی استعمال میں لاتا تھا، جس پر سب سے پہلے میں نے علامہ اقبال کی پنسل اسکیچ سے تصویر بنائی اور اسکے بعد قائداعظم کی تصویر پر مزید ھنرمندی دکھائی، جسے سب لوگوں نے بہت پسند کیا اور خود والد صاحب بھی بہت خوش ہوئے اور ہماری ملکہ باجی نے کچھ زیادہ نوٹس نہیں لیا، ان کا کہنا یہ تھا کہ پہلے پڑھائی کی طرف توجہ دو پھر جب وقت بچے تو، اس طرف دھیان دیا کرو، مگر مجھے اس کا تو جنون کی حد تک شوق ہوگیا اور پڑھائی کو بھی ساتھ ساتھ لے کر چل رہا تھا -

بعد میں میں نے ایک بہت بڑی ایک البم بنائی اس میں اخباروں سے فلموں کے اشتہار کاٹ کر ان کی نئے سرے سے مختلف ڈیزاین سے تصویریں چپکا کر ایک نیا رنگ دیا اور اپنے ہاتھ سے خوشخط اردو سے نام وغیرہ لکھ کر مزید خوبصورت بنانے کی ہرممکن کوشش کی بعد میں مشہور بڑے بڑے لوگوں اور فلم اسٹاروں کی تصویروں کو سامنے رکھ کر پنسل اسکیچ سے شاندار تصویریں بنانے لگا، اس کے علاوہ لوگوں کی تصویریں پر بھی کچھ ہاتھ صاف کرنے لگا، اسلامی کتبے اور خانہ کعبہ، گنبد خضریٰ کی تصویریں پہلی بار رنگین کلر سے برش سے بنائی، جسے بہت ہی زیادہ پسند کیا گیا، اب تو لوگ اور دوست بھی فرمائشیں کرنے لگے تھے، لیکن ابھی بھی تھوڑی سی کسر باقی تھی-

میں چاہتا تھا کہ کسی ماہر آرٹسٹ کے پاس جاکر اپنے اس شوق کو لے کر مزید کچھ اور آگے سیکھوں، مگر والد صاحب بھی یہی کہتے تھے کہ پہلے پڑھائی مکمل کرلو، اس کے بعد کسی اچھے آرٹس کے اسکول میں داخلہ لے لینا، میں نے اب مزید پڑھائی کی طرف زور دینا شروع کردیا، اس کے ساتھ ساتھ اپنا شوق بھی پورا کرتا رہا، لیکن یہ واقعی حیرت کی بات تھی کہ چاہے گرمی کا موسم ہو یا سردی کا میں اپنے شوق کے مشن کو لے کر چلتا ہی رہا اور اکثر رات کو اباجی سے چھپ کر بھی لالٹین کی روشنی میں بھی اپنے شوق کی تکمیل کرتا رہا-

اسی شوق اور روزمرہ کی وہی مصروفیات میں بغیر کسی ردوبدل کے اسی تسلسل کے ساتھ ہنسی خوشی سے بھرا ایک سال اور گزر گیا، اور اسی قابل قبول نمبروں سے ساتویں جماعت کو بھی خیرباد کہہ دیا، لیکن کوشش کے باوجود بھی کوئی اچھی پوزیشن نہ لا سکا، اسکی وجہ بھی میرا آرٹ اور ادب کا شوق تھا، ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگراموں کے علاوہ بھی میں بچوں کے رسالوں بھی کچھ کہانیاں وغیرہ لکھنے کی کوشش کی، لیکن زیادہ نہیں بس کچھ دن کے بعد زیادہ وقت نہ نکال سکا، قلمی دوستی بھی ساتھ ایک نئے شوق کے میرے ساتھ لگ گئی اخباروں میں بھی ایک نئے نام سے پہچانے لگا جس میں میرا نام “ارمان شاھد“ ہوا کرتا تھا،

1963 کا سال چل رہا تھا عمر میں بھی ساتھ ساتھ ایک سال کا مزید اضافہ ہو گیا، تیرویں سال کے ایک رنگین شوق کے دور میں شامل ہوگیا تھا، اس وقت شکر ہے کہ ہمارے گھر میں ریڈیو بھی والد صاحب خرید لائے ایک اور نئی خوشی ہمارے گھر میں آگئی تھی، اور ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی ایک بڑکپن کا غرور سا آگیا تھا اور قد میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ہوچکا تھا،!!!!!!!!
------------------------------------------------------------
آٹھویں کلاس میں جانے کے بعد کچھ لگتا تھا کہ طبعیت میں کچھ سنجیدگی سی آگئی تھی، اس دفعہ پہلی بار مجھے ریڈیو پاکستان کے مین گیٹ پر ہی بچوں کے پروگرام میں جانے سے روک دیا گیا کیونکہ میری عمر اب اس بات کی اجازت نہیں دے رھی تھی کہ میں بچوں کے ساتھ اس پروگرام میں حصہ لے سکوں، جس کا مجھے اس دن بہت زیادہ افسوس بھی ہوا، حالانکہ پچھلے ہفتہ، منگل کے دن ھی ان بچوں کے ساتھ جاکر وہیں سے آڈیشن ٹیسٹ دے کر ہی اجازت نامے لئے تھے، اس دن باقی بچے جو میرے ساتھ تھے، وہ میرے بغیر اندر جانے سے کچھ شرما رہے تھے، لیکن میں نے انہیں بڑی مشکل سے راضی کیا کہ میں یہیں باہر کھڑا ہوں جیسے ہی پروگرام ختم ہو یہاں گیٹ کے پاس آجانا،

مگر پھر بھی ایک بچہ تو بالکل ہی اڑ گیا، اتوار کا دن تھا اور ساری دکانیں بند تھیں ویسے بھی اتنی صبح صبح کون دکان کھولتا ہے، میں اس بچے کو ساتھ لے کر برابر میں اردو بازار کے میں دروازے کا سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر پروگرام کے ختم ہونے کا انتظار کرتا رہا، جہاں سے ریڈیو پاکستاں کے اندر داخلہ کا مین گیٹ بھی نظر آرہا تھا، اسی انتظار میں یہ سوچتا رہا میرے وہ معصوم بچپن کا وہ دور صرف چار دن کے اندر ہی ختم ہوگیا، پچھلے منگل کو مجھے انہیں لوگوں نے اگلے اتوار کے پچوں کے پروگرام کی اجازت دی تھی اور آج مجھے اندر جانے سے منع ہی کردیا کہ میری عمر زیادہ ہے -

پروگرام ختم ہونے کے بعد سب بچوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر کی طرف واپس ہوا، تھوڑی دور چلنے کے بعد صدر سے اپنے علاقے کی بس میں سب بچوں کو باری باری بٹھایا اور جب بس روانہ ہوئی تو کنڈکٹر سے تین ٹکٹ لئے ایک اپنا اور چار بچوں کے آدھے ٹکٹ، کچھ دیر میں اپنا اسٹاپ آگیا اور چاروں بچوں کو باری باری بس سے اتارا اور ابنے محلے کی ظرف سب کو ساتھ لئے چل رہا تھا، آج چال میں وہ ہل چل نہیں تھی، بچے بھی کچھ میری وجہ سے خاموشی سے چل رہے تھے، ورنہ ہمیشہ میں ان بچوں کے ساتھ اچھلتا کودتا، شور مچاتا بالکل سرکس کے مزاحیہ جوکر کی طرح مذاق کرتا ہوا چلتا تھا،

اب یہ پہلی بار ریڈیو پاکستاں کے بچوں کے پروگرام میں داخلہ پر پابندی لگی تھی، اور میں گھر جاکر اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ رہا تھا کیا میری شکل اب اس قابل نہیں رہی کہ بچوں کی محفلوں میں شریک ہو سکوں، اس دن سے دل کو ایسا دھچکا لگا کہ چہرے پر ایک بےزاری سی کیفیت محسوس ہونے لگی، اس دن تو مجھے کافی رونا آتا رہا، سب لوگ پوچھتے بھی رہے کہ کیا بات ہے آج چہرے پر بارہ کیوں بجے ہیں، لیکن میں نے کسی کا بھی صحیح طریقے سے جواب نہیں دیا-

میری حالت ملکہ باجی بھی دیکھ رہی تھیں، انہوں نے مجھے پیار سے سمجھایا کہ اب تم 13 سال کے ہونے والے ہو ، اور وہاں تو صرف 12 سال تک کے عمر کے بچوں کی اجازت ہے، تمھیں تو خوش ہونا چاہئے کہ 12 سال کے بعد بھی تمہیں کتنی دفعہ اجازت مل چکی ہے، اب تو تمھیں بڑوں کے پروگراموں میں حصہ لینا چاہئے، میں تمھارے ساتھ چلونگی اور تمھیں کسی نہ کسی کے پروگرام میں حصہ دلا کر ہی رہونگی، لیکن اس وقت تو میں نے بالکل انکار کردیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آیندہ اس طرف کا تو میں رخ بھی نہیں کرونگا، کئی دنوں تک تو اسکا مجھے بہت افسوس رہا اور اس وقت زیادہ ہوتا جب ہر منگل کی صبح صبح کو بچے تیار ہوکر میرے گھر مجھے ریڈیو پاکستان سے اجازت نامہ لینے کیلئے آجاتے، مگر ان سب کو مایوس ہونا پڑتا یہاں میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی، میں چاھتا تو انہیں اجازت نامہ دلوا بھی سکتا تھا لیکن صرف اپنی خود غرضی کی وجہ سے میں نے ان کے معصوم خواھشوں کو کچل کر رکھ دیا تھا -

میں اب اور کچھ زیادہ اپنے آپ کو مشغول رکھنے لگا تھا، آٹھویں جماعت کے امتحانات بھی نزدیک تھے، اسکی تیاری کے ساتھ ساتھ کچھ تھوڑا سا وقت اپنے شوق کی طرف بھی دے رہا تھا اور اپنی تصویروں کی البم کے خالی صفحوں پر اخباروں کی کٹنگ سے مختلف رنگوں سے اپنے ہاتھوں سے پینٹنگ کرتا رہا، جو بھی گھر آتا اسے وہ البم ضرور دکھاتا، اور لوگ بہت تعریف بھی کرتے، زیادہ تر فلموں کے ھی اشتہار ہی ہوتے تھے اور ساتھ ہی پنسل اسکیچ سے تصویریں بنانا بھی تہیں چھوڑا تھا اب تو ایک تقریباً ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک تصویر مکمل کر لیتا تھا اور رنگوں کی تصویر جو میں برش کے ساتھ پانی کے کلرز سے بناتا تھا اس کیلئے کچھ اور تھوڑا سا وقت مزید درکار ہوتا تھا -

امتحانات کی تیاری میں والد صاحب کے علاوہ ملکہ باجی میرا ساتھ بہت دیتی تھیں، وہ اور انکی بہں زادیہ بھی اب میرے ہی اسکول میں ہی پڑھ رہی تھیں، لیکن وقت الگ ہی تھے اور شاید وہ نویں کلاس میں اور زادیہ میرے ہی ساتھ آٹھویں کلاس میں پڑھ رہی تھی، بہر حال ہم تینوں امتحانات کی تیاریوں میں لگے رہتے اور جب تھک جاتے تو میرے ساتھ وہ دونوں بیٹھ کر مجھے تصویریں بناتا ہوا دیکھتیں، اور کچھ حیران بھی ھوتیں کہ میری بنائی ہوئی تصویروں میں اتنی بہترین اور صاف مشابہت دیکھ کر پریشان ہوجاتیں حلانکہ مجھے ابھی بھی بہت سی خامیاں نظر آرہی تھیں،

بچوں کیلئے اب مجھے وقت نکالنا بہت مشکل ہورہا تھا، پہلے تو کبھی کبھی ریڈیو پاکستان کے علاوہ ھل پارک، چڑیاگھر یا کبھی سمندر کے کنارے کلفٹن بھی لے جایا کرتا تھا، ساتھ اپنے چھوٹے بہن بھائی بھی ہوتے تھے، مگر ملکہ باجی اور زادیہ کو گھر سے اجازت نہیں ملتی تھی لیکن میں ان کی پوری فیملی کے ساتھ ضرور جاتا تھا، اکثر جب بھی وہ سب کسی تقریب یا فلم دیکھنے یا کہیں گھومنے جارہے ہوتے، تو مجھے میرے والدیں سے اجازت لے کر اپنے ساتھ ضرور لے جاتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ خوب خوش رھتا تھا -

بچوں کی خوشی کیلئے مجھے ایک اور شوق کو پالنا پڑا کیونکہ بچے مجھے بہت عزیز تھے، اس شوق کیلئے مجھے کچھ زیادہ ہی محنت کرنی پڑی تھی، !!!!!!!!!
--------------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (01-11-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (13-11-10), منتظمین (30-10-10)
پرانا 31-10-10, 12:40 PM   #19
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرے لڑکپن کا شرارتی سفر- 5

بچوں کی خوشی کیلئے مجھے ایک اور شوق کو پالنا پڑا کیونکہ بچے مجھے بہت عزیز تھے، اس شوق کیلئے مجھے کچھ زیادہ ہی محنت کرنی پڑی تھی، !!!!!!!!!

جب سے ریڈیو پاکستان کے دروازے مجھ پر بند ہوئے، میں نے بھی بچوں کے ساتھ باہر نکلنا تقریباً ختم کردیا تھا، اور بس زیادہ تر اپنے ہی محلے میں ہی بچوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ محفل جما ہی کرلیا کرتا تھا، لیکن بچوں کو تو باہر جانے میں ہی زیادہ خوشی ہوتی تھی، اور لوگ بھی اپنے بچے میرے حوالے کرکے بےفکر ہو جاتے تھے، مگر بچے مجھے باہر لے جانے کی ضد کرتے، لیکں اب میرا دل بالکل نہیں چاھتا تھا، مگر میں نے بچوں کے لئے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا کہ گھر پر ہی کیوں نہ کچھ انکی دلچسپیوں کا ساماں پیدا کیا جائے،

کبھی کبھی ہمارے محلے میں ایک پتلی تماشے والا آتا تھا، جس میں وہ کئی چارپائیوں کو ساتھ جوڑ کر ایک اسٹیج بناتا، اور پیچھے سے وہ مختلف رنگ برنگی پتلیوں کو دھاگوں کی مدد سے اپنی انگلیوں سے نچاتا تھا، ساتھ ساتھ ان پتلیوں کی حرکتوں اور کرداروں کے مطابق اپنے منہ سے آوازیں بھی نکالتا رہتا، کبھی مغل آعظم اور انارکلی، کبھی مُلا دوپیازہ اور بیربل اور کبھی پاٹےخان کے ساتھ بہت سے دوسرے مزاحیہ کھیل مختلف انداز سے پیش کرتا تھا، جسے محلے کے تمام بوڑھے، جوان، بچے، عورتیں اور مرد سب بڑے شوق سے دیکھتے تھے،

اس پتلی تماشہ کو لوگ سامنے سے دیکھتے تھے اور میں پیچھے جاکر اس پتلی والے کو پتلیاں نچاتے ہوئے اسکے ہاتھوں کو دیکھتا تھا، میں نے بھی اسکی دیکھا دیکھی گھر پر ہی گتے سے کاٹ کر اس پر مختلف رنگون کی مدد سے کرداروں کی ایک نئی شکل کی مختلف قسم کی پتلیاں بنائی، سر، ہاتھوں اور پیروں کو پنوں اور تاروں کی مدد سے اس طرح جوڑا کہ وہ اسانی سے ھل جل سکیں، پھر ان میں سوراخ کرکے مضبوط کالے دھاگوں سے باندھ کر پہلے خود ہی پریکٹس کی، پھر ایک چھوٹا سا اسٹیج اسی طرح چارپائیوں کو جوڑ کر بناکر “بیک گراونڈ“ کو اماں کے کالے برقے سے ڈارک کرتا، آگے پیچھے ڈھکنے کےلئے چادروں سے کام لیتا اور پیچھے سے مختلف کالے دھاگوں سے پتلیوں کے ہاتھ پیر اور سروں کو انگلیوں کی مدد سے حرکت دیتا اور منہ میں ایک سیٹی رکھ کر اسی پتلی تماشے والے کی طرح آوازیں نکالتا، جسے بچوں نے کافی تفریح لی اور بہت خوش ہوتے رہے،

اس میں مجھے کافی حد تک کچھ کامیابی بھی ہوئی، لیکن اتنی مہارت سے پتلیوں کو چلا نہ سکا مگر بس اپنے کھیل اور بچوں کی تفریح کی حد تک بہت ہی زیادہ بہتر تھا اگر کچھ دں مزید پریکٹس کرتا تو شاید “پتلی ماسٹر“ ہونے کے چانس تھے، اس میں سب سے مشکل کام اپنی تمام انگلیوں کو مختلف زاویوں سے اپنی منہ کی آواز کے ساتھ ساتھ چلانا پڑتا ہے اور ہر انگلی دھاگے کی مدد سے پتلیوں سے جڑی ہوتی تھی، واقعی بہت مشکل کام تھا، جس کو زیادہ دن تک برقرار نہ رکھ سکا ایک وجہ یہ تھی کہ گھر کی چادریں اور اماں کے دو برقے میں خراب کرچکا تھا، جس کی ڈانٹ بہت کھانی پڑی اور دوسرے یہ کہ میری پتلیاں گتے اور کاغذ کی ہوتی تھیں، جو ایک دو دفعہ چلانے کے بعد دوسرے وقت کیلئے بالکل ناکارہ ہو جاتیں، اس لئے مجبوراً مجھے اس کھیل کو ختم کرنا پڑا،

میں یہ ساری تفریح محلے کے بچوں کے لئے اور کچھ اپنی واہ واہ کےساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا، اس کے علاوہ بچوں سے یا کسی سے بھی اسکا معاوضہ نہیں لیتا تھا، بس اماں ہماری زندہ باد، کسی نہ کسی طرح انہیں منا کر پیسے کھینچ لیتا تھا، یہ سب کچھ صبح سے لیکر دوپہر اسکول جانے سے پہلے کرتا تھا کیونکہ اس دوران اباجی ڈیوٹی پر اور ہماری ملکہ باجی اور زادیہ اسکول میں ہوتی تھیں، اور کسی کا اتنا ڈر بھی نہیں تھا، اپنے چھوٹے بہن بھائی تو مجھ سے ویسے ہی ڈرتے تھے،

اب پتلی تماشے کے بعد کسی اور نئے کھیل کی فکر میں لگ گیا، وہ کھیل کیا تھا، ایک اور نیا ڈرامہ، جس کے لئے کچھ مہنگا ساماں خریدنا پڑا اور اس کے لئے مجھے کافی جتن کرنے پڑے، جسے اب کبھی سوچتا ہوں تو بہت ہنسی آتی ہے، دن کو اکثر اپنے شوق پورے کرتا اور شام کو اسکول سے واپسی پر اپنی پڑھائی کی طرف دھیان دیتا تھا، اور باقی روزمرہ کے کام کاج اپنے معمول کے مطابق ہی ہورہے تھے، جیساکہ پہلے ہی میں ذکر کرتا رہا ہوں !!!!!!!!!
----------------------------------------------------
اب ایک اور نئے شوق کے چکر میں، تاکہ بچے کسی نہ کسی طرح خوش رہیں، ایک ہمارے محلے میں ایک آدمی اکثر ایک بڑا سا ڈبہ اپنی سائیکل پر رکھ کر آتا تھا، اس میں پانچ یا چھ دوربین کی طرح لیٹربکس جیسے دیکھنے کیلئے لگے ہوتے تھے، اندر ایک طرف ایک سینما کی طرح ایک پردہ ہوتا، دوسری طرف ایک فلم چلانے کی چھوٹی سی ایک مشین لگی ہوتی تھی، جس پر ایک چرخی کے ساتھ فلم کی ریل لپٹی ہوئی ہوتی اور وہ آدمی اس چرخی کو اپنے ہاتھ سے گھماتا ساتھ ایک شیشہ بھی لگا ہوا تھا جس سے وہ سورج کی روشنی کا عکس مشین کے عدسے پر ڈالتا جہاں سے فلم کی ریل چل رہی ہوتی تھی، اور اس ڈبے کے اندر اس فلم کا عکس پڑتا اور بچوں سے ایک ایک آنہ لے کر شاید دو یا تیں منٹ کی فلم کا کوئی مار دھاڑ یا کوئی رقص کے سین بغیر آواز کے دکھاتا تھا، اور بچے بہت شوق سے یہ بھی دیکھتے تھے -

مجھے بھی ایک اسی طرح کے شوق کا دورہ پڑا کہ میں کیوں نہ بچوں کو بھی اسی طرح کی ایک اور تفریح فراھم کروں، بس اس کام کی دھن میں بازار جاکر روزانہ کوئی نہ کوئی معلومات لیتے کی کوشش کرتا رہا، مگر جب آخری نتیجہ پر پہنچا کہ مجھے اس شوق کیلئے تو میرے حساب سے کافی رقم درکار ہوگی، میرے منصوبے کے مطابق اس میں کم از کم ایک سو روپے کا نسخہ تھا، جو کہ میرے بس کے بالکل باہر تھا، والد صاحب کی تنخواہ ھی 150 روپے ماہانہ تھی اور وہ پورے گھر کے خرچ پر ہر مہینے 100 روپے سے زیادہ خرچ نہیں کرتے تھے، اور میں اپنے اس شوق کیلئے 100 روپے خرچ کروں یہ تو بالکل ناممکن تھا،

اکثر جب بھی میں فلم دیکھنے جاتا تھا تو مجھے یہ تجسس رہتا تھا کہ پردہ پر حرکت کرتی ہوئی فلم کیسے دکھائی دیتی ہے، میں اکثر بالکل سامنے کا ہی ٹکٹ لیتا تھا اور ان لوگوں کو بےوقوف سمجھتا تھا جو بالکل پیچھے اور گیلری میں بیٹھ کر اور زیادہ پیسے خرچ کرکے فلم دیکھتے تھے، جبکہ اس وقت سب سے آگے چار سے چھ آنے، درمیان میں بارہ آنے، سب سے پیچھے ایک روپیہ اور گیلری کا ٹکٹ صرف سوا روپے سے ڈیڑھ روپے تک ہوتا تھا، میں بھی یہ سوچنے لگا کہ اگر میں بھی کسی طرح ایک چھوٹا سا سینما جیسا بنا لوں اور محلے کے بچوں اور بڑوں سے کچھ نہ کچھ ٹکٹ کےعوض لے کر کچھ گھر کی آمدنی میں بھی اضافہ کرسکتا ہوں، اور یہ بس میں اکیلے ہی اپنے شیخ چلٌی کی طرح اپنے خوابوں کو بنتا رہا،

اور شاید آپ یقیں کریں یا نہ کریں میں نے یہ مہنگا شوق بالکل شیخ چلی کے خوابوں کی طرح مگر حقیقت میں ایک مہینے کے اندر اندر مکمل کیا، سب سے پہلے تو میں نے کچھ اپنے جیب خرچ میں سے کچھ بچائے اور کچھ والدہ سے زبردستی رو دھو کر تین روپے اکھٹے کئے، مگر کسی کو بھی خبر نہ ہونے دیا، اور خاموشی سے روزانہ صبح سودا لانے کے وقت ایک چھوٹا سا ایک دھندا بھی پال لیا، جسکے لئے والدہ سے صرف ٹیوشن پڑھنے کے بہانے سے ایک جھوٹ کا سہارا لیا، اس شرط پر کہ وہ اباجی کو بالکل نہیں بتائیں گی، کیونکہ سالانہ امتحان قریب ہیں اور میں اس دفعہ اچھے نمبر لانا چاھتا ہوں -

اب ایک اس سینما کے شوقیہ منصوبے کو پورا کرنے کیلئے کئی اور منصوبے بنانے پڑے اور وہ بھی بغیر کسی کو بتائے اور نہ ہی ساتھ کسی کو شریک کیا، روز کے معمول کی طرح پہلے گھر کا تمام پانی بھرتا، اور پھر سودا لینے کےلئے روزانہ اب بہت جلدی نکل جاتا تھا اور ایک گھر سے بڑی لکڑی کو اٹھاتا اور نکل پڑتا، پہلے دن میں نے ان تین روپے میں سے ایک روپے کے بغیر پھولے ہوئے غباروں کا پیکٹ خریدا جس میں مختلف کلر اور سائزکے تقریباً 100 عدد ھونگے اور باقی دو روپے کے مختلف کھلونے تھوک کے بھاؤ سے ایک ایک درجن لئے اور کسی اور علاقے میں جاکر تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے، وہاں پہنچنے سے پہلے تو کچھ غبارے پھلائے اور لکڑی پر ٹانگے اور کچھ کھلونے بھی لکڑی کے ساتھ ہی لٹکائے اور اس علاقے میں پہنچا تو میرے آس پاس بہت ھی زیادہ بچوں کا رش لگ گیا اور اناً فاناً سارے غبارے جو پُھلا سکا بک گئے اور ساتھ ہی کافی کھلونے بھی بچوں نے خرید لئے، پھر واپس جلدی جلدی سودا لے کر، ایک دکان پر وہ لکڑی اور بچے ہوئے غبارے، کھلونے وغیرہ امانتاً رکھوائے، جہاں سے اکثر سودا لیتا تھا، واپس گھر کی طرف، اماں کو سودے کا حساب دیا اور اسکول جانے کی تیاری میں لگ گیا - اس دن میں نے پیسے گنے تو کل چار روپے بنے اور ابھی تو اور بھی غبارے اور کھلونے باقی تھے،

اسی طرح اب روزانہ ہی مجھے مزید پیسے بڑھانے کی عادت سی ہوگئی اور روزانہ معمول کے مطابق جانا اور تقریباً پندرہ دن تک اسی طرح غبارے اور کھلونے تھوک کے بھاؤ خریدکر اور انہیں بیچ کر مشکل سے بیس روپے تک اکھٹے کئے اور میں بہت تھک بھی گیا اس کے علاؤہ ایک اور دھندا بھی شروع کیا، شب برات کے دن نزدیک تھے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے میں فوراً تھوک بازار گیا جو بس کے ذریعے صرف آنے اور جانے میں صرف آدھے گھنٹہ کا وقت لگتا تھا، وہاں سے مختلف پٹاخے انار جلیبی اور لہسن پٹاخہ، پُھل جھڑیاں اور مختلف پٹاخے جو بھی مل سکے وہ بیس روپے میں خریدے اور اب روزانہ غباروں کو چھوڑ کر اپنے ھی محلے میں ھی بیچنا شروع کیا لیکں ایک دوسرے دوست کی مدد سے تاکہ ایسا لگے کہ وہ بیچ رھا ھے، اسی طرح میں ایک مہینے میں بہت مشکل سے تقریباً 40 روپے تک بنالئے اور یہ پیسے مختلف بس کے کنڈکٹروں سے دس دس روپے کے نوٹوں کی شکل میں بدلوا بھی لئے مگر اپنے نئے مشن کے لئے تو 100 روپے درکار تھے، اب پھر سوچ میں پڑ گیا کہ کس طرح اپنے سینما کے خواب کو پورا کروں ، ایک مہینہ بھی ہونے والا تھا!!!!!!!

ادھر آٹھویں جماعت کے امتحانات بھی نزدیک آرہے تھے اور میں اپنے شوق کی تکمیل کےلئے اونچی اڑان کے چکر میں لگا ہوا تھا، مگر یہ شاید میری، کیا کہیں کہ خوش قسمتی ہی سمجھ لیں کہ جو اچھے یا برے جو بھی شوق پالے تھے، جن کو میں نے بچپن میں کسی نہ کسی طرح اپنے معمولی وسائل کے ذریعے ہی پورا کرنے کی کوشش کی تھی، ان کی حقیقت میں مجھے اس کی صحیح تعبیر بڑے ہوکر ایک پروفیشنل کیرئیر کے روپ میں ملی بھی، اور کافی حد تک کامیاب بھی رہا، لیکن بس جو اللٌہ تعالٰی کو منظور تھا وہی میرے لئے بہتر ثابت ہوا -
کیونکہ چند مجبوریوں اور کچھ اپنے والد صاحب کی ناپسندیدگی وجہ سے میرے اپنے شوق سے اپنائے ہوئے کیرئیر زیادہ پائیدار ثابت نہیں ہوسکے، اور اس طرح مجھے اپنے تمام شوق کو مکمل طور سے خیرباد کہنا پڑا،!!!!!!!!
------------------------------------------------------------------
اس سے مجھے یہ ضرور سبق ملا کہ اگر انسان شیخ چلی کی طرح خوابوں میں رہنے کے بجائے، اگر صدق دل اور اچھے جذبے سے جتنی محنت کرے گا تو اس سے کہیں زیادہ اللٌہ تعالیٰ اس کا صلہ ضرور دیتا ہے، اُس وقت کے دور میں لوگ محنت ضرور کرتے تھے لیکن زیادہ لالچ نہیں کرتے تھے کچھ وقت اپنے لئے ، اپنے بچوں کے لئے اور دوسروں کے لئے بھی نکالتے تھے اس کے علاوہ اپنی اور اہل و عیال کی صحت اور خوراک کی طرف بھی خاص توجہ دیا کرتے تھے، کم اور بہتر تازہ غذا، ورزش، نماز کی مکمل پابندی اسکے علاوہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد کچھ چہل قدمی کرکے، اپنے دوست نمازیوں کے ساتھ نماز سے فارغ ہوکر ایک چھوٹی سی چوپال لگاتے، مسئلے مسائل حل کرتے اور کچھ گپ شپ کرتے اور کوشش یہی ہوتی تھی کہ جلد سے جلد سو جائیں کچھ بزرگ تو یاد الہٰی میں رات بھی گزارتے تھے اور تہجد اور نوافل کی نمازوں کے ساتھ اپنی مسجد میں اللٌہ کے ذکر کا اہتمام بھی کرتے تھے-

اس وقت زیادہ تر لوگ اپنے وسائل کے اندر ہی رہ کے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے یعنی جتنی چادر ہوتی تھی اتنے ہی اپنے پیر پھیلاتے تھے، بلکہ لوگ تو صدقہ خیرات بھی خوب کرتے تھے اور محلے کے ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ اللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت بھی دیتا تھا، اور سکون کے ساتھ ساتھ خوشیوں کا بونس بھی ملتا تھا، اس زمانے میں قلیل آمدنی ہونے کے باوجود لوگوں کے دل بہت وسیع تھے،
ایسے بھی مگر بہت کم لوگ دیکھنے میں آتے تھے جو ھمیشہ پریشان رھتے اور قرضہ میں ڈوبے رہتے اس کی وجہ وہی تھی کہ وہ قدرتی قانون کی پیروی نہیں کرتے تھے، اور اچھے اور متقٌی لوگوں سے دور بھاگتے تھے تاکہ وہ نصیحتیں سننے سے بچ جائیں، مگر بعد میں انہیں کے پاس جاکر ہاتھ بھی خود ہی پھیلاتے تھے -

معاف کیجئے گا کہ کچھ نصیحتوں کی طرف میرا رخ ہوگیا تھا، چلئے اب اصل موضوع پر واپس آتے ہیں !!!!!!!!!!

اس وقت 40 روپے بہت ہوتے تھے،میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا، مگر میرے پروجیکٹ کا تخمینہ 100 روپے تک تھا، اس کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں تھا کہ اب مجھے اسی بجٹ میں اپنے چھوٹے سے سینما کے پروجیکٹ کو مکمل کرنا تھا، جس سے میں بچوں کو ایک نئی تفریح فراھم کر سکوں لیکن کچھ معلوماتی فلم یا کوئی کارٹون ٹائپ کی فلم ہو تو بچوں کیلئے بہتر ہوتا، اگر اس میں کامیابی ہوتی تو میں نے سوچ رکھا تھا کہ اس کو کمائی کا بھی ذریعہ بھی بنا سکتا ہوں،!!!!!!!!!!

اب ان 40 روپے سے اپنے پروجیکٹ کی تکمیل کیسے ہو، یہ سوچ سوچ کر میں بہت پریشان تھا، لیکن یہ بھی ایک مصمم ارادہ کئے ہوئے تھا، کہ کسی نہ کسی طرح اس شوق کو پورا ضرور کرنا ہے، مگر اس کی خبر کسی کو ہونے بھی نہیں دی ورنہ تو مار ہی پڑنی تھی اور اب تو کافی عرصہ بھی ہوگیا تھا، اچھی طرح پٹائی کھائے ہوئے -

ایک دن بس چل دیا کباڑی بازار اور وہاں اپنے پروجیکٹ کا سامان ڈھونڈنے لگا، ایک جگہ مجھے فلم چلانے کی مشین نظر آئی، مکمل چرخی اور ہاتھ کے ہینڈل کے ساتھ اور کچھ فلموں کی ریلیں بھی پڑی ہوئی تھیں، میں نے اس سے پوچھا کہ اس مشین کی کیا قیمت ہوگی اس نے شاید اس وقت ایک سو روپے سے زیادہ کی ہی بتائی تھی، میں خاموش ہی ہوگیا کیونکہ اسی طرح کی مشین دو مہینے پہلے پوچھی تھی تو اس کی قیمت 50 یا 60 روپے تک کی تھی، میں آگے بڑھ گیا اگے بھی بہت سےکباڑی اپنے ہر ٹھیلے پر مختلف نوعیت کے پرانے زمانے کی چیزیں بیچ رہے تھے، اور کافی رش بھی تھا ہر کوئی اپنی پسند کی چیزوں کے چکر میں تھے،

میں بھی کئی مرتبہ اباجی کے ساتھ یہاں آچکا تھا اور بھاؤ تاؤ کرنے کا گُر بھی انہیں سے سیکھا تھا، کہ اگر کوئی 100 روپے قیمت بتائے تو آپ بھی اسے 10 روپے بتاؤ خاص کر کباڑی کی دکان پر، میں جب اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر آگے بڑھا تو انس نے فوراً مجھ سے پوچھا کہ خریدنے آئے ہو یا تفریح کرنے، میں نے فوراً جواب دیا کہ تم کیا سونا بیچ رہے ہو اس کباڑی کی دکان پر، اس نے غصہ سے کہا کہ کیا جیب میں مال ہے، میں نے فوراً جیب سے صرف 20 روپے نکالے اور ہوا میں لہراتے ہوئے اسے نوٹ دکھائے وہ پھر خاموش ہوگیا اور مجھے بلا کر کہا کے کسی کو نہیں بتانا میں تمھیں اپنا بیٹا سمجھ کر آدھی قیمت میں دے دونگا، میں ‌نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے پاس تو بس یہی 20 روپے ہیں مجھے افسوس ہے کہ میں یہ نہیں خرید سکتا، شکریہ ادا کرتے ہوئے آگے بڑھا ہی تھا تو اس نے دوبارہ آواز دی اور اُسی مشین کی قیمت 50 روپے سے شروع کرتا ہوا 20 روپے تک بڑی مشکل سے پہنچا اور ساتھ میں میں نے اس سے فلم بھی مانگی تو اس نے اس کی قیمت 5 روپے شاید مانگی لیکن میں نے کہا کہ اس مشین کے ساتھ ہی 20 روپے میں ہی چاھئے، اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ‌ہے جبکہ میرے پاس اور 20 روپے ایک الگ جیب میں رکھے تھے،

آخر جب میں اس کے انکار پراس مشین کو چھوڑ کر کافی آگے نکل گیا اور دوسرے ٹھیلے والے سے اسی طرح کی پروجیکٹر مشین دیکھ ہی رہا تھا تو وہی آدمی میرے پاس آیا اور واپس مجھے لے گیا اور بہت ناراض ہوا کہ تم نے ایک تو مشین کے دام اتنے کم لگائے اور اوپر سے اس کے ساتھ فلم بھی مفت مانگ رہے ہو ، میں نے جواب دیا کہ بھائی میرے پاس اتنے ہی پیسے ہیں اگر دینا ہو تو ورنہ میں جارہا ہوں اور مجھے یہ پکا یقین تھا کہ یہ مجھے اسی قیمت پر ہی دے گا، کیونکہ مجھے پہلے بھی والد صاحب کے ساتھ بار بار بازار جاکر کافی تجربہ ہوگیا تھا کہ کہاں پر کس چیز کی کس قیمت پر بحث کرنی چاہئے، کافی اصرار کے بعد بہت مشکل سے وہ اس بات پر راضی ہوگیا، لیکن بیکار سی فلم گھس پٹی بہت سے جوڑ لگے ھوئے، مجھے دینے لگا، پھر میں نے انکار کردیا آکر میں نے ہی اپنی مرضی سے ایک کارٹون فلم اور ایک جنگلی جانوروں کی فلم لی جو شاید مشکل سے 3منٹ کی ہوگی اور پھر وہاں سے واپس گھر بھاگا، جلدی جلدی سودا لیا اسکول کو بھی دیر ہورہی تھی،

گھر پہنچتے ہی بالکل خاموشی سے اس مشین اور فلم کے تھیلے کو ایک خفیہ جگہ پر چھپایا اور اسکے اُوپر کچھ اور چیزیں رکھ کر یہ اطمنان کرلیا کہ کوئی اور یہاں تک تو نہیں پہنچ سکتا، پھر اماں کے پاس رونی صورت بناتے ہوئے سودا دیا اور یاد نہیں کہ کیا بہانہ کیا تھا، بہرحال کوئی قابل قبول ہی بہانہ ہوگا جس کی وجہ سے ڈانٹ نہیں پڑی اور میری ماں تو ویسے ہی بہت سادہ طبیعت کی مالک تھی اور ہمیشہ مجھے اباجی سے ڈانٹ اور مار سے بچاتی تھیں، جس کا میں نے بہت فائدہ اُٹھایا، کیونکہ گھر میں سب بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور اپنی ماں کا لاڈلا بھی تھا -

جلدی جلدی کچھ کھایا پیا اور تیار ہوکر بستہ گلے میں لٹکایا اور اسکول کی طرف بھاگتا ہوا گیا کیونکہ کافی دیر ہوچکی تھی صرف 15 منٹ باقی تھے، اور پہلے ہاف یعنی لڑکیوں کی چھٹی بھی ھوچکی تھی اور گھر پہنچنے والی تھیں اور میں ابھی تک راستہ میں ہی تھا میرے ساتھ کے دوست کب کے اسکول جاچکے تھے، اور میں لڑکیوں کے رش سے بچتا بچاتا بھاگ رہا تھا اور ساتھ ان سب کی ہنسی اور مزاحیہ فقرے بازیاں بھی سن رہا تھا، جو مجھے جانتی بھی تھیں،

پہلے بھی ھمیشہ ان سے راستہ میں ضرور ٹکراؤ ہوتا تھا اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ ان کا مزاق اڑاتا ہوا جاتا تھا اور وہ بھی ہمیں اسی طرح جواب دیتیں تھیں اور سب ہم ایک دوسرے کو جانتے بھی تھے کیونکہ زیادہ تر ھمارے محلے کی ہی تھیں اور بہت زیادہ فری تھے، لیکن اس وقت کبھی کسی نے کسی غلط نظر سے کسی بھی لڑکی کو نہیں دیکھا، ان میں ہم تمام دوستوں کی بہنیں بھی شامل ہوتیں تھیں کچھ رشتہ دار بھی اور پھر سب سے بڑھ کر ہماری ٹیم کی استاد لیڈر ملکہ باجی اور ساتھ چھوٹی بہن ان کی اسسٹنٹ اور ہم سب کی بہنیں بھی اس اسکول سے واپسی کے قافلے میں شامل ہوتیں تھیں، سب نے نیلے اور سفید رنگ کے یونیفارم پہنے ہوتے اور ہم لڑکوں نےخاکی پتلوں اور سفید قمیض پہنی ہوتی تھی، ایک عجیب سا خوبصورت سا رنگ برنگا ماحول لگتا تھا کہ سامنے نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس لڑکیاں اور ہم سفید اور خاکی یونیفارم پہنے مدمقابل ہوتے تو مذاق اور فقرے بازیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا اور اسی طرح ایک قافلہ دوسرے قافلے کو ھنستے ہوئے ایک دوسرے کو ہاتھ ہلاتے ہوئے گزر جاتے مگر کوئی بدتمیزی نہیں ہوتی تھی-

خیر بات ہورہی تھی کہ بھاگم بھاگ میں اس دفعہ بالکل اکیلا ان سب کے بیچوں بیچ بھاگتا ہوا جارہا تھا اور ان سب کو بھی موقعہ مل گیا تھا خوب میرا مذاق اُڑایا اور تنگ بھی بہت کیا لیکن میں نے کسی کی ایک نہ سنی اور بھاگتے بھاگتے اپنے دوستوں کے ریوڑ میں شامل ہو ہی گیا اور دوست بھی خوش ہو گئے تھے کیونکہ میں اپنے دوستوں میں ان کا لیڈر تھا، وہ سمجھے کہ شاید آج میں نہ آؤں، ان کا بھی میرے بغیر دل نہیں لگتا تھا -

اور آخر اسکول کی چھٹی کے بعد تھکا ہارا گھر پہنچا اور بستہ رکھ کر فوراً گھر کے ایک کونے میں اس خفیہ جگہ پر پہنچا جہاں پر وہ پروجیکٹر مشین اور فلموں کی ریل چھپائی تھی، کیا دیکھتا ہوں کے میرے تمام چھوٹے بہن بھائی مل کر اس مشیں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور فلم کا رول کو پورا ہی کھول دیا تھا پورے کمرے کا کیا حشر نشر ہوا کہ میں کیا بتاؤں میں تو اس وقت سکتے میں ہی آگیا تھا!!!!!!!
------------------------------------------
میری کہانی کے ہر ایک موڑ پر کوئی نہ کوئی پیغام ضرور پوشیدہ ہے، اس وقت 20 روپے بھی بہت حیثیت رکھتے تھے، اب میں یہاں بھی ایک اور لیکچر شروع کررہا ہوں، تھوڑا برداشت کرنا پڑے گا، جو صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ تمام پڑھنے والوں کے لئے بھی، مجھے امید ہے کہ آپ سب کچھ خیال نہیں کریں گے -

میں نے اپنی ایک لگن کو سامنے رکھتے ہوئے ایک چھوٹی سی محنت کرکے چالیس روپے جمع کئے اور میں نے اس بچوں کے سینما پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے بھی کم سے کم پیسے خرچ کئے اور اس منصوبے میں ایک حد تک میں کامیاب بھی ہوا، جسکا اگلی قسط میں ذکر کرونگا، میں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ غبارے بیچنا یا پٹاخے بیچنا کوئی بری بات ہے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ میں کسی کے علم میں لائے بغیر ہی کام کررہا تھا، اور اس کے علاوہ والد صاحب کا خوف کہ میں اپنی پڑھائی کے بجائے اس طرف کیوں جارہا ہوں، جبکہ وہ ہمارے لئے اپنی ایک مختصر سی تنخواہ میں ہمیں تمام سہولتیں مہیا کررہے تھے-

اُس وقت کے لوگوں میں معاوضہ سے زیادہ محنت کرنے کی ایک لگن اور اچھے سے اچھا نتیجہ یا یوں کہہ لیں کہ کم سے کم وقت میں، ایک عمدہ کوالیٹی کو ابھارنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے، انہیں یہ یقین تھا کہ جتنی ایمانداری اور جستجو سے وہ کام کریں گے اس سے کہیں زیادہ اللٌہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت دے گا -

آجکل ہمارے اندر یقین نام کی کوئی چیز نہیں ہے، اور بھروسہ تو بالکل اٹھ چکا ہے، تو سوچ لیں کہ برکت کیسے ہوگی، آج ہم روپئے اور پیسے ہی کو اپنا سب کچھ مانتے ہیں، کوالیٹی، ایمانداری اور محنت کی طرف تو کسی کا بھی دھیان ہی نہیں ہے، یعنی کہ اب بالکل ہم لوگ اسکے برعکس چل رہے ہیں،

ایک یہ ہمارے ذہن میں تو بالکل ہی سمجھ بوجھ کا ایک کونہ تو بالکل کورا ہو چکا ہے کہ اگر ہم محنت اور ایمانداری سے کام کریں گے تو اس سے ہماری ہی ذات کو اس کا فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہم اپنے ملک کی ترقی میں حصہ دار کی حیثیت سے ہر ایک سنگ میل کا نیا اضافہ بھی کریں گے، اگر ہر انفرادی قوت مل کر ایک جان ہوجائیں اور مشترکہ طور سے ایک دوسرے کا ہاتھ پٹائیں تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم اپنے ملک کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے صف میں کھڑا نہیں کرسکتے، ہمارے سب کے اندر بہت زیادہ قدرت کی پیدا کی ہوئی خدا داد صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں-

ایک سب سے بری خامی یہ ہے کہ ہم اپنے ہر پیشہ کو ایک علیحدہ علیحدہ اسٹینڈرڈ کے پیمانے میں رکھ کر تولتے ہیں، جبکہ پہلے وقت میں کوئی بھی شخص کسی بھی پیشہ کو برا نہیں سمجھتا تھا، جس طرح کہ اب بھی باہر کے ملکوں میں گریجویٹ لوگ ہیں لیکن وہ ڈرائیونگ بھی کررہے ہیں کھیتوں میں کام کررہے ہیں، پٹرول پمپ اور کیفے یا ریسٹورنٹ میں ویٹر اور مزدور، صفائی ستھرای کرنے والے بھی اچھے تعلیم یافتہ ہیں، لیکن وہاں کوئی بھی کسی پیشہ کو برا نہیں سمجھتے، کوئی بھی کام ہو وہ لوگ لگن اور محنت سے اور خوشی سے کرتے ہیں اور ان سے منسلک کسی بھی کام میں ایک اچھے سے اچھا میعار لانے کیلئے اپنی ھر ممکن کوشش کرتے ہیں،

ہمارے محلے میں بھی ہر قسم کے پیشے سے رکھنے والے ایک ساتھ مل جل کر رہتے تھے، اس میں بابو لوگ سوٹ بوٹ میں دفتر جاتے تھے، تو ساتھ وہاں معمار، بڑھئی اور لوہار حضرات بھی تھے، رکشہ،اور ٹیکسی ڈرائیور اس کے علاوہ بس کے کنڈکٹر بھی تھے، گدھا گاڑی چلانے، اور خود ٹھیلے پر سبزی، گوشت اور شربت فالودہ بیچنے والے بھی وہیں رھائیش پذیر تھے، فوجی جوان ہو یا کوئی صوبیدار ہو یا پولیس سے تعلق ،موچی، نائی یا دھوبی بھی گاڑی کے مکینک حضرات بھی ساتھ ہی رھتے تھے اس کے علاوہ گھڑی ریڈیو اور گراموفون کے مکینک بھی موجود تھے ، دو تیں ڈاکٹر بھی تھے ساتھ نرس اور دائیاں بھی تھیں، صفائی کرنے والے بھی موجود تھے، اور ایک اچھی بات یہ تھی کہ ہر ایک اپنے محلے کے لئے بلامعاوضہ خدمات انجام دیتے تھے، صرف اگر باہر سے اگر کسی پرزے کی ضرورت نہ ہو تو وہ بھی وہ بالکل سستے میں دلوا بھی دیتے تھے، اور سب سے اہم بات یہ کہ یہاں پاکستان کے ہر علاقے سے تعلق رکھنے والا موجود تھا، اور زیادہ تر اپنی فیملیوں کے ساتھ تھے، اور اب تک وہاں رہ بھی رہے ہیں،!!!!!

غرض کہ ہر پیشہ سے منسلک لوگوں کی ایک اچھی تعداد موجود تھی، اور سب لوگ اپنے اپنے کاموں سے فارغ ہوکر آتے تو سب ملکر اپنے محلے کی مسجد میں اکھٹا ہو کر نماز باجماعت پڑھتے تھے، اگر کوئی موجود نہ ہوتا تو اسکے گھر جاکر ظبعیت کی خبر گیری کرتے، اور بلاناغہ ہر رات کو سب بڑوں کی ایک بیٹھک ہوتی تھی اور گپ شپ کے علاوہ ایک دوسرے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی اپنی ماھرانہ رائے اور خدمات پیش کرتے تھے، شادی بیاہ سے لیکر گھر کی مرمت وغیرہ تک میں سب لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے، اور کسی کے ہاں اگر کوئی مہمان آجاتا تو وہ پورے محلے کا مہمان ہوتا، حتیٰ کہ محلے کی نالیاں وغیرہ صاف کرنے کےلئے بھی سب ملکر اپنی خدمات پیش کرتے تھے-

ایسی بات نہیں ہے کہ اب ہمارا وہ جذبہ نہیں رہا یا وہ صلاحتیں ختم ہو گئیں، اب بھی ہم سب میں وہی ماہرانہ صلاحیت اور خصوصیات موجود ہیں، جو پہلے کبھی سامنے اپنے ملک میں موجود تھیں، جیساکہ ہم سب جو آجکل بیرونی ممالک میں اپنی ماھرانہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور دوسرے ملک ہماری انہی خصوصیات سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں، یہاں ہم جتنی محنت کرتے ہیں اگر اسی لگن کے ساتھ اس سے آدھی بھی اگر ہم اپنے ملک میں محنت کریں تو ہمارے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کو اتنا فائدہ ہو کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے،

لیکن افسوس کہ ہم سب جو باہر ہیں بہت مجبور ہیں کہ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو اپنے ہی ملک میں ابھارنے کا موقع نہیں دیا جاتا، ہر جگہ اچھی پوسٹ کیلئے رشوت کا سہارا لیا جاتا ہے، کیڈٹ اور سول سروسز میں عام لوگوں کے بچوں کا جانا ایک معجزے سے کم نہیں ہے، اگر کوئی ایمانداری سے کوئی کاروبار کرنا چاہتا ھے تو وہ اپنے ہی بڑے اداروں کے پلے ہوئے بدمعاشوں کو بھتہ دیئے بغیر ان کے زیر اثر آئے بغیر کوئی کام شروع نہیں کرسکتے-

یہاں تک کہ بھیک مانگنے والوں کو، فٹ پاتھ پر بیچنے والوں کو، بازار میں ٹھیلا لگانے والوں کو بھی ہر جگہ کی مناسبت سے ماھانہ یا روزانہ یا ھفتہ وار ایک اچھی خاصی رقم وہاں کے علاقے کے مقرر کردہ چیرمین کو ادا کرنی پڑتی ہے چاہے کمائی ہو یا نہ ہو، ہر کوئی انکا کھاتہ پورا کرنے کیلئے بے ایمانی کرنے پر مجبور ہے کیونکہ اگر اس نے مقررہ وقت سے پہلے بھتہ کی رقم نہ چکائی تو وہ اس دھندے سے بے دخل ہو سکتا ہے، یہی حال چھوٹے بڑے ہوٹلوں ریسٹورنٹ اور یا کوئی بھی کاروبار ہو بغیر کھلائے پلائے شروع نہیں کرسکتے اور جو کررہے ہیں وہ دوسروں کو بھتہ تو ضرور دیتے ہیں لیکن سرکار کو انکم ٹیکس دینے سے پیچھے بھاگتے ہیں -

ان کے پیچھے کون کون سے کرم فرما سرگرم ہیں، یہ سب جانتے ہیں، لیکن ہر ایک کی زبان پر ایسا تالا لگا ہوا ھے کہ جسکی چابی لگتا ہے کہ کہیں کھو گئی ہے !!!!!!!!
-------------------------------------
جاری ھے،!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (01-11-10), پاکستانی (13-11-10)
پرانا 31-10-10, 06:41 PM   #20
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرے لڑکپن کا شرارتی سفر- 6

ان کے پیچھے کون کون سے کرم فرما سرگرم ہیں، یہ سب جانتے ہیں، لیکن ہر ایک کی زبان پر ایسا تالا لگا ہوا ہے کہ جسکی چابی لگتا ہے کہ کہیں کھو گئی ہے !!!!!!!

معاف کیجئے گا، میں پھر سے اپنے کہانی کے ٹریک سے نیچے اتر گیا تھا، میں پھر دوبارہ وہیں سے سلسلہ جوڑتا ہوں جہاں سے سلسلہ منقطع ہوا تھا،!!!!!

اور آخر اسکول کی چھٹی کے بعد تھکا ہارا گھر پہنچا اور بستہ رکھ کر فوراً گھر کے ایک کونے میں اس خفیہ جگہ پر پہنچا جہاں پر وہ پروجیکٹر مشیں اور فلموں کی ریل چھپائی تھی، کیا دیکھتا ہوں کے میرے تمام چھوٹے بہن بھائی مل کر اس مشیں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور فلم کا رول کو پورا ہی کھول دیا تھا پورے کمرے کا کیا حشر نشر ہوا کہ میں کیا بتاؤں میں تو اس وقت سکتے میں ہی آگیا تھا!!!!!!!!!!!!!!!!

میں تو یہ دیکھ کر پریشان ہوگیا انہوں نے تو میری ساری محنت پر پانی ہی پھیر دیا تھا، زیادہ زور سے ڈانٹ بھی نہیں سکتا تھا، بڑی مشکل سے پورے فلم کے رول کو سمیٹا اور مشین کے ہینڈل وغیرہ کو اکھٹا کرکے اسی جگہ چھپا دیا اور سب کو خاموشی سے خبردار کیا کہ آئندہ میری کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا، وہ سب ڈر کر بھاگ تو گئے لیکن مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ کہیں یہ سب اباجی سے شکایت نہ لگا دیں، فوراً دوڑا ہوا ان کے پاس پہنچا اور کچھ مکھن لگایا، اور انہیں اس مشین کے بارے میں کسی کو نہ بتانے کا وعدہ لیا،

اس رات تو مجھے بالکل نیند نہیں آئی، بس اپنے اس پروجیکٹ کے بارے میں ہی سوچتا رہا کہ کس طرح اس کو آپریشن میں لایا جائے، صبح ہوتے ہی معمول کے مطابق سب سے پہلے فوراً گھر کا پانی بھرا اور جلدی سے بازار کا سودا خرید لایا، والدہ بھی پریشان کہ آج اسے کیا ہوگیا ہے، اور پھر اپنے پروجیکٹ کی طرف چلا فلم رول کو چرخی پر چڑھایا اور اسے سیٹ کرنے کی جگہ تلاش کی ایک کمرے کا کونے میں ایک میز کے نچلے حصہ کو سینما گھر بنایا، ایک طرف پروجیکٹر مشین کو ایک چھوٹے سے اسٹول پر رکھا، دوسری طرف سفید دیوار کو اسکرین بنایا، اور میز کے اُوپر ایک بڑی سی چادر ڈال کر کچھ کچھ اندھیرا کرنے میں کامیاب ہوگیا،

پہلے پریمئیر شو پر بہں بھائیوں کو چادر اٹھا کر میز کے نیچے بٹھادیا ایک وقت میں اس میز کے نیچے چھ بچے مشکل ہی سے آسکتے تھے، بہرحال ایک وقت میں چھ بھی کافی تھے، خیر میں نے چرخی گھمائی تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا، کیونکہ اسکرین کے اوپر پروجیکٹر کے ذریعے روشنی کیسے پہنچے گی اس کا تو میں نے سرے سے سوچا ہی نہیں تھا اب تو بہن بھائیوں نے تو میرا مذاق اڑانا شروع کردیا، اب کیا کروں اس کا کیا حل نکالوں بجلی کا ایک بلب اندر لگا ہوا تھا، مگر گھر پر تو بجلی تھی ہی نہیں تو بلب کیسے چلتا، ایک کوشش اور کی کہ کھڑکی کھول کر ایک آئینہ سے دھوپ کا عکس پروجیکٹر پر ڈالنے کی ناکام سی کوشش کی، لیکن روشنی کو وہاں تک نہ پہنچا سکا،

دوسرے دن مایوسی سے اپنا لٹکتا ہوا چہرہ لے کر اسی کباڑی کے پاس پہنچا اور ساری کہانی سنائی اس نے جواب دیا کہ ایک صورت ہے کی ایک ٹارچ خریدو اور وہ بھی پاور فل بیٹری والی اسکو تم پروجیکٹر کے ساتھ جوڑ کر اپنا کام چلا سکتے ہو، ہر کباڑی کے پاس ڈھونڈا مگر اس ٹائپ کی ٹارچ نہیں ملی، پھر مجبوراً مجھے نئی ٹارچ خریدنی پڑی اور وہ بیٹری سیل کے ساتھ مجھے 15 روپے کی پڑی،

جلدی جلدی گھر پہنچا اور ٹیبل کے نیچے گُھسا اور کسی کو بتائے بغیر ہی ٹارچ کو مشین کے پیچھے ڈھکن کو کھول کر بیچ میں اس ظرح تاروں سے باندھ کر فکس کیا کہ اسکی روشنی سیدھے مشین کے عدسے پر پڑے اور وہاں سے گزرتی ھوئی فلم کا عکس سامنے کی دیوار پر پڑے، اس میں شکر ہے کہ کامیاب ہوگیا اب دوبارا فلم کے رول کو سیٹ کیا اور ایک سرا چرخی سے لے کر عدسے کے سامنے بنے ہوئے سانچے کے درمیان سے گزارتا ہوا نیچے والی چرخی میں پھنسا دیا اور اب تو خوشی کا ٹھکانا ہی نہ رہا اور فوراً سب بہں بھائیوں کو بلایا جو ابھی اسکول نہیں جاتے تھے دو تو بہنیں اسکول گئی ہوئی تھیں، باقی تین گھر پر ہی ہوتے تھے بہر حال انکو پھر دّعوت دی کہ آجاؤ، اماں کو تو پتہ چل ہی گیا تھا لیکن بےچاری خاموش ہی رہیں ہمیشہ کی طرح، اور سب کو جمع کیا، جس میں دو تین شاید محلے کے بچوں کو بھی شامل کرلیا تھا، کیونکہ وہاں چھ بچوں سے زیادہ کی گنجائش نہیں تھی،

آخر وہ وقت آہی گیا فوراً میں نے ٹارچ کو آن کیا اس کی روشنی جیسے ہی پروجیکٹر سے ہوکر سامنے کی دیوار پر پڑی اور میں نے فوراً ہاتھ سے چرخی کے ھینڈل کو گھمانا شروع کردیا میرا خوشی کے مارے برا حال تھا میرا پروجیکٹ کامیاب ہوگیا تھا سامنے کارٹون فلم حرکت کررہی تھی، لیکں افسوس کہ وہ پردے پر الٹی چل رہی تھی یعنی سر نیچے اور پیر اوپر، پھر میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور بچوں کا تو پتہ ہی ہے وہ لگے میرا پھر سے مذاق اڑانے، !!!!!!!!!

دیوار کو تو الٹا نہیں کرسکتا تھا، بلکہ پروجیکٹر مشین کو ہی الٹا کردیا، پھر ڈرتے ڈرتے ٹارچ کو آن کیا اور ھینڈل کو گھمایا، پکچر تو سیدھی ہوگئی لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ سب کارٹون کے سارے کردار الٹے چل رہے ہوں، ایک اور نئے مسلئے میں پھنس گیا، اور پھر بچوں نے پھر مذاق شروع کردیا، میں نے سب کو ڈانٹ کر بھگادیا، جاتے جاتے تو ایک نے کہا کہ آج تو اباجی سے آپ کی شکایت کریں گے، ایک اور مصیبت، میں مسکین کس کس مورچے کو سنبھالوں، دوبارہ ان سب کو چاکلیٹ کہلانے کے وعدہ پر راضی کرلیا -

دوسرے دن پھر میں اسی کباڑی کے پاس گیا اور غصہ سے سارا ماجرا سنادیا اس نے بھی اسی غصہ کو مجھ پر ہی پلٹا دیا اور کہنے لگا کہ بھائی میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے، الٹی ہو یا سیدھی فلم تو چل رہی ہے نا، اس کو اس کے مکینزم کے بارے میں علم نہیں تھا، کافی بحث کے بعد اس نے آخر میں یہی کہا کہ بھائی خدا کیلئے وہ مشین مجھے واپس لادو، اور اپنے پیسے واپس لے جاؤ، میں وہاں سے مایوسی کی حالت میں نکلا اور سوچا کہ کوئی چھوٹی سی مشکل ھے جو کہ مشیں کو الٹا کرو تو پکچر واپس اپنے ماضی کی ظرف چل پڑتی ہے اور اگر سیدھا رکھو تو پکچر الٹی یعنی سر اُوپر اور پیر نیچے دکھائی دیتے ھیں۔

صدر میں ایک دکان پر ایک کیمرے کی دکان پر ایک چھوٹا سا پروجیکٹر دیکھا تھا، میں نے سوچا کہ شاید وہ دکان والا میری اس گتھی کو سلجا دے، فوراً وہاں پہنچا اور اس سے کہا کہ چچا ایک مشورہ چاہئے، اس نے بھی مزاقاً میری حالت دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ شادی کا دفتر نہیں ہے، میں نے ایک دم سے اپنا منہ بنایا اور آگے چل دیا،

پھر اس چچا نے مجھے آواز دی، شاید اسے کچھ میری بے بسی پر رحم آگیا تھا اور مجھ سے معذرت کرتے ہوئے پوچھا بتاؤ کیا مشورہ چاہئے، میں نے ساری کہانی دھرادی، وہ بہت ہنسا اور کہا کہ تھوڑی سی عقل سے کام لو اور کہا کہ فلم کو دوبارا لپیٹو اور اس کے آخری سرے سے فلم کو پروجیکٹر میں لگا کر چلاؤ - اور کہا کہ خیال رکھنا کہ پروجیکٹر میں فلم کو الٹا یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے لگاو گے تو پردے پر فلم سیدھی نظر آئے گی -

میں نے دل میں کہا کہ یہ چچا پھر میرے ساتھ مذاق کررہا ہے، بہلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ فلم کو الٹی ڈالو تو اس کا عکس اسکرین پر سیدھا کیسے نظر آئے گا، اس وقت میرے اس چھوٹے سے دماغ میں تو یہی بات گھسی تھی، بہرحال مجھے اپنا منصوبہ ناکام ہوتا ہی نظر آیا، بس اب یہی سوچنے لگا کہ اب ایک آخری کوشش کرونگا اور پھر بھی کامیاب نہ ہوا تو یہ مشین واپس ہی کردوں گا -!!!!!!!!!!
------------------------------------------------
گھر واپس پھر اس مایوسی کےساتھ آیا اور بغیر مشین کی طرف دیکھے جو میز کے نیچے پڑی میرا مذاق اُڑا رہی تھی، جلدی سے تھوڑا بہت کھانا کھایا اور تیار ہوکر اسکول چلاگیا، وہاں پر بھی بس اپنے اس پروجیکٹ کی ناکامی کے صدمہ سے اداس کلاس روم میں بیٹھا رہا، ہاف ٹائم میں بھی باہر نہیں گیا، گھر واپسی کے وقت بھی میں بہت آہستہ آہستہ واپس گھر کی طرف لوٹ رہا تھا،

دوسرے دن بھی صبح معمول کے مطابق پہلے پانی بھرنے کے بعد سودا لے کر آیا اور بس صرف پروجیکٹر کے ہی بارے میں ہی سوچتا رہا 35 روپے خرچ کر بیٹھا تھا، اور نتیجہ کچھ بھی نہیں، بہرحال میں اکیلا ہی میز کی چادر اٹھا کر مشین کو باہر نکالا اور پھر سوچا کہ کیا حرج ہے اگر چچا کے مذاق کو بھی آزما کر ایک دفعہ دیکھ لیتیے ھیں، فلم کی ریل کو ایک چرخی سے دوسری چرخی کی طرف لپیٹا اور پھر چچا کے کہنے پر ہی اس فلم کی ریل کو الٹی تصویر کے ساتھ ہی پروجیکٹر مشین کے سامنے والے حصے کو کھول کر کھانچے سے گزارتا ہوا ایک سرا نیچے والی چرخی میں پھنسا کر ایک چکر دے کر، ٹارچ کو روشن کیا اور مشین کے ھینڈل کو گھمایا اور سامنے ٹیبل کی طرف دیوار پر دیکھا، تو واقعی حیران رہ گیا، وہی کارٹون فلم بالکل صحیح چل رہی تھی، بس اب تو ہاتھ کے گھمانے پر منحصر تھا، جتنا تیز چلاؤ فلم کے منظر تیز بھاگنے لگتے اور آہستہ کرو تو فلم بھی سلوموشن کی طرح دکھائی دیتی -

مگر مجھے یہ منطق اس وقت پھر بھی سمجھ میں نہیں آئی کہ الٹی فلم کے رول سے جب روشنی منعکس ہوکر پردے پر دکھائی دیتی ہے وہ کیسے سیدھی ہو جاتی ہے، میں نے سوچا کہ اب اس منطق کے بارے میں سوچنا کیا، اپنا تو کام ہوگیا، پھر بچوں کو اکھٹا کیا اور جس طرح سینما ہال میں ہوتا ہے، پہلے سب کو گھر کی کھڑکی سے سینما کیلئے ٹکٹ بانٹے، جو میں نے خود اپنے ھاتھ سے ڈیزاین کئے تھے اور پھر کھڑکی کو بند کرکے سب کو کہا کہ دروازے پر لائن میں کھڑے ہوجائیں، میں فوراً دروازے پر پہنچا اور ہر بچے سے ٹکٹ لے کر آدھا پھاڑ کر ہاتھ میں تھمایا اور سب کو میز کے نیچے بٹھا دیا اور پھر میں نے پروجیکٹر کی چرخی کو گھمایا اور ساتھ ھی ٹارچ کو روشن کیا، پھر کیا تھا کارٹون فلم اسٹارٹ، اس وقت بلیک اینڈ وھائٹ فلم ہی ہوا کرتی تھی، تین منٹ کی کی فلم تھی، بچے بڑے خوش ہوئے اس سے زیادہ میں بہت خوش ہوا کہ ایک میری محنت کام آگئی،

بس دوسرے دن سے صبح کے وقت سارے گھر کے کاموں سے فارغ ہوکر میں اپنے اس سینما کے پروجیکٹ کو مزید کامیاب بنانے کی دھن میں لگ گیا، شام کے وقت اباجی کا ڈر تھا، اس لئے بس دن کا وقت ہی چُنا تھا، اباجی ڈیوٹی پر اور امآں جی گھر پر، انکو تو پٹانا کوئی مشکل نہیں تھا، مگر وہ روز یہی کہتی تھیں کہ اس فلمی چکر کو بند کردو، ورنہ جس دن تمھارے ابا کو پتہ چل گیا تو تمھاری شامت آجائے گی، مگر انکی اس بات کا مجھے کوئی بھی اثر نہیں ہوتا تھا، اتوار کو ناغہ کرتا کیونکہ اس دن چھٹی بھی ھوتی تھی،

دن میں روشنی زیادہ ہونے کی وجہ سے مجھے کمرے میں مکمل اندھیرا کرنے کیلئے تمام کھڑکیاں اور دروازوں کو اچھی طرح بند کرنا پڑتا تھا، اب تو روزانہ ہی بڑے شوق سے فلم چلانے کا انتظام کرتا اور بالکل سینماوں کی طرح سینما کے ٹکٹ کی کھڑکی سے ٹکٹ کا بانٹنا، ٹکٹ بھی خود ڈیزاین کرنا اور گیٹ پر جاکر ٹکٹ پھاڑنا اور اندر اندھیرے میں اسی ٹارچ کی روشنی سے بچوں کو انکی جگہ پر بٹھانا اور باقائدہ ایک پوسٹر بھی بنایا تھا جس پر فلم کا ایسے ہی فرضی نام لکھ کر کچھ تصویریں بنا کر لکھ دیتا تھا کہ آج شب کو فلاں سینما میں فلاں فلم دیکھئے اور سینما میں صرف تین منٹ کی ایک ہی کارٹون اور جانوروں کی فلم بار بار دکھاتا رہا اور بچے بھی بور ہوگئے، آخر اس پروجیکٹ کو بھی نظر لگ گئی ایک دوست کو مشین میں کچھ گڑبڑ کی وجہ سے اسے ٹھیک کرانے کو دی اور وہ ساتھ فلم کی ریل بھی دے دی، اس کے بعد اس نے شکل ہی نہیں دکھائی،

اس پروجیکٹ کے بعد پھر سے میں نے تصویریں بنانے کی طرف زیادہ توجہ دینا شروع کردیا، وہ بھی میرا ایک پسندیدہ شوق تھا، مگر ان تمام حرکتوں کی وجہ سے مجھے آٹھویں کلاس کے سالانہ امتحان میں بہت کم نمبر آئے اور ایک مضموں میں فیل بھی ہوگیا، اور مگر مجھے پھر بھی نویں کلاس میں پرموٹ پاس کردیا گیا کیونکہ 33٪ مارکس تھے اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے سالانہ امتحانات کے دنوں میں ٹائیفایڈ ہوگیا تھا، اور اسی وجہ سے میں والد صاحب کی ڈانٹ سے بچ بھی گیا، لیکن پھر بھی میں نے امتحانات میں بیماری کے باوجود کچھ تھوڑی بہت محنت بھی ضرور کی تھی،

اباجی کو کافی دکھ بھی ہوا تھا لیکن وہ میری حالت دیکھ کر مجھے کافی تسلی دیتے رہے کہ کوئی بات نہیں بیٹا، دل پر مت لینا شکر ہے کہ کم نمبر ہی سہی لیکن نویں کلاس میں تو پہنچ گئے ہو اور میں بھی کچھ ان دنوں ضرورت سے زیادہ مسکین بن گیا تھا، میں ویسے بھی بچپن سے ہی کچھ ڈرامے بازی کے شوق کی وجہ سے کبھی کبھی ایسا ڈرامہ کھیل جاتا تھا کہ لوگ اسے واقعی حقیقت سمجھتے تھے، کئی دفعہ اپنے اس ڈرامائی حرکتوں کی وجہ سے ہی گھر میں یا باہر کئی دفعہ مشکلوں سے جان بچائی، جن کا ذکر میں پہلے نہ کرسکا کیونکہ کافی ایسی بچپن کی یادداشتیں تھیں، جو میں بھول چکا ہوں، جو مجھے یاد تھیں وہ میں تحریر کرچکا ہوں،

اور ایک بات کا مجھے اب تک تعجب ہے کہ یہ بچپن کے شوق آگے چل کر میرے پروفیشنل کیرئیر میں بھی آئے مگر زیادہ عرصہ میرے ساتھ نہیں رہ سکے، تصویروں کے ساتھ ساتھ میں بچوں کے اخبارات میں بھی چھوٹی چھوٹی نظمیں اور کہانیاں بھی لکھتا تھا، اور قلمی دوستی کا بھی ایک بھوت سوار تھا مگر نام ارمان شاھد تھا، میرے پاس خطوط کا ایک ڈھیر ہوتا تھا اور روزانہ ہر خط کا جواب بھی دینا میرا ایک محبوب مشغلہ تھا اس کے علاؤہ ریڈیو پاکستان سے آڈیشن ٹیسٹ کے لئے دعوت نامہ بھی آیا تھا، مگر افسوس کے اس ٹیسٹ میں پاس نہیں ہوسکا لیکن وہاں کے ریجنل منیجر نے کہا کہ آپ کی آواز میں تھوڑی سی جھجک ھے مگر بول اچھا لیتے ھو، اور ابھی تمھارے عمر بھی کم ہے میں نے جواب دیا کہ سر مجھے اسکرپٹ پڑھتے ہوئے کوئی بھی ڈایلاگ ڈرامائی انداز میں بولنا کچھ مشکل لگتا ہے، مجھے سچویشن بتا دیجئے اور ڈایلاگ دے دیجئے میں یاد کرکے بغیر اسکرپٹ کے بہترین اسکی ادائیگی کرسکتا ہوں، لیکن افسوس کہ انہوں نے کہا کہ بیٹا ریڈیو پاکستان میں مائیک کے سامنے براہ راست بولنا پڑتا ہے یہ کوئی اسٹیج شو نہیں ہے، اور بس یہی جواب دیا کہ آپ کی عمر جب 18 سال کی ہوجائے تو میرے پاس ضرور چلے آنا اگر میں زندہ رہا تو تمھیں ضرور اپنے ڈرامہ میں ضرور سائن کرونگا، ان کا نام شاید زیڈ اے بخاری صاحب تھا، جو بعد میں ریجنل ڈائریکٹر بن گئے تھے -

ریڈیو پاکستان سے تو مایوسی ہوئی لیکن اسکول اور محلے میں چھوٹے چھوٹے ڈرامے اور فنکشن وغیرہ کرکے بھی اپنے شوق میں مزید پختگی لانے کی کوشش میں لگا رہا اور ساتھ ساتھ اخباروں اور بچوں کی دنیا اور نونہال جیسے بچوں کے رسالوں میں کچھ نہ کچھ لکھتا بھی رہا، اس کے علاوہ پینٹنگ اور پنسل اسکیچ اور اخباروں کی کٹنگ سے البم بنانا بھی اپنے شوق کے ساتھ لگائے رکھا-

سن 1964 کا نویں کلاس اور تقریباً 14 سال کی عمر ہوگی، اس کلاس میں کافی دوست بھی بچھڑ گئے تھے، کیونکہ کئی دوستوں کو اچھے نمبر لانے کی وجہ سے سائنس میں داخلہ مل گیا تھا اور ہم جیسوں کو کم نمبروں کی وجہ سے آرٹس میں داخلہ مل سکا، غنیمت ہے مل گیا ورنہ تو آٹھویں کلاس میں ہی رہنے کا ڈر تھا !!!!!!!!!!!!!!!!!!

--------------------------------
جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-10), فیصل ناصر (01-11-10), پاکستانی (13-11-10)
پرانا 31-10-10, 07:19 PM   #21
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرے لڑکپن کا شرارتی سفر- 7

سن 1964 کا نویں کلاس اور تقریباً 14 سال کی عمر ہوگی، اس کلاس میں کافی دوست بھی بچھڑ گئے تھے، کیونکہ کئی دوستوں کو اچھے نمبر لانے کی وجہ سے سائنس میں داخلہ مل گیا تھا اور ہم جیسوں کو کم نمبروں کی وجہ سے آرٹس میں داخلہ مل سکا، غنیمت ہے مل گیا ورنہ تو آٹھویں کلاس میں ہی رہنے کا ڈر تھا !!!!!!!!!!!!!!!!!!

مجھ میں ایک بری عادت تھی کہ اگر کسی نئے شوق کو اگر پکڑ لیا تو اسی کے پیچھے پڑ جاتا تھا یا تو اسے مکمل کرکے رہتا یا جب تک وہ کام بگڑ نہ جائے اس وقت تک اسکی جان نہیں چھوڑتا تھا، جس کی وجہ سے میری پڑھائی بہت ہی زیادہ ڈسٹرب رہی، ہر ایک کے والدین تو یہی چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد اچھی تعلیم حاصل کرے، لیکن اکثر والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر خاص نظر نہیں رکھ پاتے یا ان کو اتنے دباؤ اور غصے کے زیراثر رکھتے ہیں کہ بچے پھر کوئی اور غلط راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں -

مجھے ماں کی طرف سے بہت زیادہ لاڈ پیار ملا اور وہ ہر وقت مجھے والد صاحب کی ڈانٹ اور غصہ کے عتاب سے بچاتی رہیں، جس کا میں نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا، اور دوسری طرف والد صاحب کا غصہ، حد سے زیادہ سختی کی وجہ اور ڈانٹ کے ڈر سے میں نے غلط طریقوں سے دوسرے کاموں میں اپنے آپ کو الجھا لیا، اور پڑھائی کی طرف سے اپنا دھیان بہت کم کردیا، مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ والد کے پیار میں کوئی کمی تھی، ہماری تمام ضروریات کا خاص خیال رکھتے اور من پسند کی چیزیں خرید کر دیتے بھی تھے،

بہت سی ایسی باتیں ہیں جو کافی دلچسپ تھیں لیکن یادوں کے دریچوں میں آتے آتے رہ جاتی ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ابھی میں اپنے آپ کو آٹھویں جماعت تک ہی رکھوں کیونکہ اس میں بجپن اور لڑکپن کی شرارتیں اور کافی دلچسپ واقعات پوشیدہ ہیں، جن کو میں یاد کرنے کی کوشش کررہا ہوں، جوں جوں مجھے یاد آتا جائے گا، ویسے ہی تحریر کرنے کی کوشش کروں گا، اورجو کچھ مجھے مختصراً یاد ہے وہ بھی ساتھ ساتھ لکھتا جاونگا، لیکن میں مقررہ وقت اور عمر کا صحیح تعین نہیں کرسکتا،

اپنے ایک اور شوق کے بارے میں بتاتا چلوں، مچھلی کے شکار کا شوق جو مجھے والد صاحب کی ظرف سے ہی ورثہ میں ملا تھا، مجھے اب تک یاد ہے کہ وہ راولپنڈی میں چُھٹی والے دن فجر کی نماز کے فوراً بعد مجھے ساتھ لے کر سواں ندی کے پاس بلاناغہ مچھلی کے شکار پر لے کر جاتے تھے اور میں بھی بہت شوق سے ان کے ساتھ جاتا تھا اور دوپہر تک ہم شکار کرکے واپس آجاتے، اور گھر کے علاوہ محلے والے بھی مچھلی کے ذائقے سے محروم نہیں رہتے تھے، کراچی پہنچ کر ان کا یہ شوق تقریباً ختم ہی ہو گیا تھا، لیکن میں نے انکی یہ گدی سنبھال لی تھی اور اکثر دوستوں کے ساتھ مچھلی پکڑنے نکل جاتا تھا کبھی اجازت لے کر اور کبھی یونہی چوری چھپے -

اسی طرح ایک دفعہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ سمندر کے کنارے گھومنے اور ساتھ مچھلی کے شکار کیلئے نکل گئے، شاید اسکول جانے کے بجائے ہم دونوں نے سمندر کی طرف کا پروگرام بنا لیا، باقی دوستوں کو پہلے سے ہی اطلاع دے چکے تھے،!!! وہاں اس دن سمندر کی لہریں بہت دور تھیں اور تفریح کے ساتھ کچھ مچھلی بھی پکڑنے کا بھی پروگرام تھا ڈور کانٹے اور مچھلی کی خوراک بھی ساتھ مکمل انتظام کے ساتھ گئے تھے، کتابوں کے بستے یاد نہیں کہ کہاں چھپا کر رکھے تھے،

گھر سے میں کچھ دیر پہلے ہی نکل گیا تھا اور باقی دوست پہلے ہی سے مقرر کردہ جگہ پر مل گئے تھے، وہاں سے بس میں بیٹھ کر سمندر کے کنارے پہنچے، اس دفعہ ہم سب نے ایک نئی جگہ کا انتخاب کیا تھا، وہاں پر دور ایک اونچا سا ٹیلہ نطر آیا اور سمندر کی لہریں بھی اس ٹیلے کو چُھو کر واپس جارہی تھیں، ہم نے یہی سوچا کہ اس ٹیلے پر چڑھ کر مچھلی کا شکار کرتے ہیں تاکہ ڈور کو گھما کر سمندر میں دور تک پھینکنے میں آسانی ہو، ٹیلہ کافی فاصلہ پر تھا، کافی دیر لگی وہاں ٹیلے تک پہنچنے میں، خیر ہم سب نے ٹیلے کی دوسری طرف جہاں سمندر تھا وہاں بیٹھ کر جگہ کو کچھ صاف ستھرا کیا اور صحیح طرح بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ایک دوست گھر سے دری لایا تھا اسے بجھا کر ہم سب نے شکار کی تیاری شروع کردی، کچھ دیر بعد ہم تین دوست ہی بچے تھے، باقی تو جا چکے تھے،!!!!

ہم تینوں دوستوں نے کچھ گھر سے اور کچھ راستے سے کھانے پینے کا سامان بھی ساتھ لے آئے تھے، سامنے سمندر کا ایک خوبصورت منطر بھی تھا اور دور سے چھوٹی بڑی کشتیاں نظر آرہی تھیں، اسکے علاوہ بڑے بڑے بحری جہازوں کو بھی انکی مخصوص سائرن کی آواز کے ساتھ ہم بخوبی دیکھ سکتے تھے، اور دور سے کراچی کی بندرگاہ بھی نطر آرہی تھی، جہاں بڑے بڑے بحری جہاز لنگر انداز تھے اور بڑی بڑی آسمان کو چھوتی ھوئی کرینیں سامان اتارتی ہوئی نظر آرہی تھیں، اس دفعہ ہمیں بہت اچھی جگہ ملی تھی اور ہم نے یہ فیصلہ بھی کرلیا کہ آئندہ بھی ہم یہیں پر مچھلی کے شکار کے لئے آیا کریں گے، کیونکہ وہاں بیٹھتے ہی ایک دوست نے جیسے ہی گھما کر ڈور پھینکی تو فوراً ہی چند سیکنڈ بعد ایک درمیانے سائز کی مچھلی پھنس گئی تھی،

پیچھے کا منظر ٹیلے کے وجہ سے نظر نہیں آرہا تھا اور ہمیں کچھ پرواہ بھی نہیں تھی کہ پیچھے کیا ہورہا ہے، ہم سب تو مچھلی پکڑنے اور سمندر کے ساحلی منظر سے لطف اندوز ہورہے تھے، کہ اچانک کچھ دیر بعد یہ محسوس ہوا کہ سمندر کا پانی آہستہ آہستہ اُوپر چڑھ رہا ہے کیونکہ پانی اب ہمای دری کے اُوپر تک آگیا تھا اور ہم دری اور ساماں کو اسی رفتار سے اُوپر کی طرف کھسکتے جارہے تھے، اور ہم لوگ اپنے کام میں اتنے مگن رہے کہ پیچھے کی طرف مُڑ کر نہیں دیکھا کہ وہاں کا کیا حال ہوگا -

جب پانی کچھ زیادہ ہی اُوپر آگیا اور ہم اُوپر کی طرف چڑھتے چلے گے تو پیچھے کا منطر نظر آگیا، اور کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں بھی سمندر کافی دور تک پھیلتا جارہا تھا، ہم سب کی جان ہی نکل گئی، کسی کو بھی تیرنا نہیں آتا تھا، اسی پریشانی میں شام ہوتی جارہی تھی اور سمندر کا پانی آہستہ آہستہ اُوپر چڑھتا آرہا تھا اور ہم چوٹی تک پہنچ چکے تھے!!!!!!!!!!

پانی بہت آہستہ آہستہ اُوپر چڑھ رہا تھا اور وہ ایک چھوٹا سا ٹیلہ تھا، باقی تمام چیزیں تو پانی میں بہہ گئیں، بس ہم تینوں تھر تھر کانپ رہے تھے اور پریشان بھی تھے، شام ہو رہی تھی، اسکول کا وقت بھی ختم ہو رہا تھا، وہاں سے کافی شور بھی کیا، مدد کیلئے لوگوں کو بلانے کی کوشش بھی کی لیکن نہ کوئی دور سمندر میں کشتی والا ہماری آواز سن سکتا تھا اور نہ ہی دوسری طرف دور ساحل کے پار سڑک پر آنے جانے والے کو ہماری آواز پہنچ رہی تھی، بس ایک ہی صرف اُوپر والا ہماری آواز سن سکتا تھا، خوب ہم نے اس وقت اُوپر والے سے گڑگڑا کر معافی مانگی اور ہماری آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے کیونکہ اب تو کوئی بچنے کا راستہ بھی نہیں تھا، اتنے میں سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ھلکی ھلکی بارش بھی شروع ہوگئی،

پریشانی میں ایک اور اضافہ، مگر اچانک کچھ دیر بعد نیچے دیکھا کہ پانی کی سطح گرتی جاررہی تھی اور ہماری کچھ جان میں جان آئی، جیسے ہی پانی ہمارے گھٹنوں تک پہنچا وہاں سے ہم سرپٹ پانی میں اچھلتے ہوئے بھاگے، لیکن گھر پہنچنے تک مغرب کا وقت ہوچکا تھا سب گھر والے پریشان تھے، مجھے دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی، خوب ڈانٹ تو پڑی لیکن مار کھانے سے بچ گیا، اسکی وجہ یہ تھی کہ مجھے سخت بخار چڑھ گیا تھا، مزید اور تین دن کی اسکول سے چھٹی کرنی پڑی، بعد میں یہ بخار ٹائیفایڈ کی شکل اختیار کر گیا تھا، آٹھویں جماعت کے سالآنہ امتحانات سر پر تھے، ٹائم ٹیبل آچکا تھا اور میں بالکل ہی پڑھائی کی ظرف دھیان نہیں دے سکتا تھا والد صاحب نے بھی مجھے تسلی دے دی تھی کہ صحت ہے تو جہان ہے -

اس حادثے کے بعد آئندہ کیلئے توبہ کرلی کے سمندر پر نہیں جائیں گے اگر کہیں جانا بھی ہو تو گھر سے اجازت لے کر جائیں گے!!!!!!
----------------------------------
پہلے بھی ایسے کئی حادثوں کا شکار ہوتے ہوتے اللٌہ تعالیٰ نے بچایا ہے، زیادہ تفصیل سے مجھے یاد تو نہیں ہے لیکن کوشش کرتا ہوں کہ اپنی کچھ بچی کچھی یادوں کو سمیٹ کر آپ کے سامنے پیش کرسکوں،

بچپن میں ہم اسکول سے واپسی پر اکثر کبھی کبھی مین ریلوے لائن کی طرف سے بھی چکر لگا کر آتے تھے، جبکہ وہ راستہ کچھ دور پڑتا تھا اور جب میں شاید چھٹی جماعت میں زیرتعلیم تھا، ہم بچے اس وقت ٹرینوں کو اپنے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے اس کے علاوہ اپنے پاس ایک پیسہ کا سکہ ضرور بچا کر رکھتے تھے اگر اس دن ہمیں ریلوے لائن کی ظرف سے جانے کا ارادہ ہو تو!!!!!!!!!!!

یہ گھر والوں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ ہم کبھی کبھی ریلوے لائن کی طرف سے بھی آتے ہیں وہاں سے گزرنا ہمارے لئے ویسےتو بالکل منع تھا، کیونکہ ان لائنوں پر بہت اسپیڈ سے ٹرینیں گزرتی تھیں اور کئی حادثے بھی ہوچکے تھے، لیکن ہم بچے اپنی دھن میں مگن کسی چیز کی پرواہ کئے بغیر ایسے ایسے کام کرجاتے تھے کہ اب اگر سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،

خیر ہم تو تھے من موجی، ٹرینوں کی پٹری کے پاس کھڑے ہوکر پہلے یہ ہم دیکھتے تھے کہ کونسی طرف کا سگنل کُھلا ہے، اسی لائن کی ایک پٹری کے اُوپر ایک لڑکا اپنا ایک سکہ رکھ کر پیچھے ہٹ جاتا تھا اور ٹرین کا انتطار کرتے تھے، اور دور سے ہی سکٌے پر نظر رکھتے تھے جیسے ہی ٹرین سامنے سے اس سکٌے کے اُوپر سے گزرتی، ہم سب فوراً اس سکٌے کو ڈھونڈنے کے لئے بھاگتے، یہ خیال کئے بغیر ہی کہ دوسری لائن پر بھی گاڑی آسکتی ہے، اور اپنے سکٌہ کو ڈھونڈ کر اسےچپٹا دیکھ کر خوش ہوجاتے کہ دونوں طرف سے اس کا نقشہ ہی بگڑ جاتا تھا،

پھر باری باری ہر ایک لڑکا اپنے اپنے سکے اسی طرح ٹرین کی پٹری پر رکھ کر ٹرین گزرنے کے بعد سکے کو پچکا ہوا دیکھتا اور ہم سب مقابلہ کرتے کہ کس کا سکہ کتنا چوڑا ہوگیا کئی دفعہ حادثہ کا شکار ہوتے ہوتے بچے بھی ہیں، لیکن پھر بھی عقل ٹھکانے نہیں آئی تھی،

اور ایک دن جو شاید میری زندگی کا بہت ہی خطرناک دن تھا وہ میں آپ سب کے سامنے پیش کررہا ہوں، اس دن بھی معمول کی طرح ہم لڑکے اپنے سکٌوں کے چوڑا کرنے کے مقابلے کیلئے نکلے ہم سب بہت خوشی خوشی ریلوے لائن کی طرف جارہے تھے، جب ریلوے لائین پر پہنچے تو ہر لڑکا اپنی اپنی باری پر ٹرین کے گزرنے سے پہلے اپنا سکٌہ لائین پر رکھ دیتا اور ٹرین کے گزرنے کے بعد سکٌہ ڈھونڈ کر اٹھا کر ایک طرف مقابلے کے لئے رکھ دیتے مقابلے میں جیتنے والے کے لئے شرظ یہ ہوتی تھی کہ سکٌہ کو گولائی کے ساتھ جتنا زیادہ چوڑا ہونا تھا وہی سکٌہ مقابلے میں اوّل نمبر آتا،

وہاں پر ڈبل لائینیں تھیں دونوں طرف سے ٹرینوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا، اور تقریباً ہر پانچ منٹ کے بعد ایک ٹرین ضرور گزرتی تھی، اس میں ایکسپریس ٹرین، لوکل ٹرین اور سامان لے جانے والی گوڈز ٹرین بھی ہوتیں تھیں، اب تک تو ہمیں یہ بھی زبانی معلوم ہوگیا تھا کہ کونسی ٹرین کس وقت ہمارے سامنے سے گزرے گی، اور پھر سگنل کے ڈاؤن ہوتے ہی کبھی کبھی تو بحث ہوجاتی اور ساتھ ہی شرط بھی لگ جاتی تھی کہ ابھی تیزگام گزرے گی یا کراچی ایکسپریس، یا کوئی اور لوکل ٹرین یا پھر لال گڈز ٹرین گزرنے والی ہے اور ہر ایک نے اپنی اپنی ٹرینیں بھی مخصوص بھی کرلیں تھیں مجھے شروع سے ہی تیزگام پسند تھی، اور مجھے اس کے وقت کا بھی پتہ تھا وہ شام کو ہی کراچی کینٹ سے راولپنڈی کے لئے روانہ ہوتی تھی اور ہماری خصوصی جگہ پر بیس یا پچیس منٹ کے بعد گزرتی تھی اور ایک خاص بات تھی کہ میں نے اس وقت تیزگام کو کبھی بھی لیٹ ہوتے نہیں دیکھا تھا، اسے ہم فوجی ٹرین بھی کہتے تھے اور پہلے بچپن میں والدین کے ساتھ بھی میں نے اس ٹرین میں بہت سفر کیا تھا اور بعد میں بھی اسی تیزگام سے ہی سفر کرے پر ترجیح دیتا رہا -

اب میرے باری آئی بلکہ اکثر میری پہلے ہی باری آجاتی تھی کیونکہ ہمارے پہنچتے ہی پہلے ہمارا واسطہ تیزگام سے ہی پڑتا تھا، اسی لئے ہم اسکول سے بھاگ بھاگ کر پہنچتے تھے کہ تیزگام نہ نکل جائے، کبھی کبھی ایسا بھی ھوا کہ ھمارے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی تیزگام یا تو ہمارے سامنے سے گزررہی ہوتی تھی یا گزر چکی ہوتی تھی، جسکا مجھے بہت دکھ ہوتا تھا، میں سکٌہ رکھوں یا نہ رکھوں لیکن ہمیشہ اسکول سے واپسی پر اگر دوسرے راستہ پر بھی ہوتا تو اسی وقت تیزگام دور سے بھی سیٹی بجاتی ہوئی نطر آجاتی تھی، اور میں اسے ھاتھ ہلا کر ہمیشہ رخصت کررہا ہوتا تھا، ایسا لگتا تھا کہ وہ سیٹی بجا کر مجھے الوداع کر رہی ہو، مجھے واقعی تیزگام سے بہت محبت تھی، اور آج بھی تیزگام کو بہت چاہتا ہوں، جیسے کہ وہ جیتی جاگتی کوئی میری یادگار شاھکار پری ھو،

جیسے ہی ہم وہاں پہنچے تو پہلے سے ہی تیزگام کا سگنل ڈاون تھا، میں فوراً ہی جلدی سے پٹری کی طرف گیا اور اپنا سکٌہ رکھ کر واپس مڑنے کے بجائے دوسری لائن کی طرف تیزی سے بھاگا کیونکہ تیزگام سامنے سے سیٹی بجاتی ہوئی میری طرف اسپیڈ سے بڑھ رہی تھی،

مگر میری بدقسمتی یہ کہ دوسری لائن پر بھی مخالف سمت کی طرف سے بھی ایک اور ایکسپریس ٹرین دوڑتی ہوئی آرہی تھی حالانکہ مجھے میرے کسی دوست کی آواز بھی گونجتی ہوئی سنائی دی تھی کہ اُدھر سے بھی ٹرین ‌آرہی ہے واپس آجاؤ اس طرف نہ جاؤ، مگر میرے حواس اتنے بگڑ گئے تھے کہ میں کوئی فیصلہ نہ کرپایا اور دوسری لائن کی طرف ہی دوڑا، جہاں ایک اور ایکسپریس ٹرین تیز رفتار کے ساتھ آرہی تھی، اور میرے حواس گُم تھے !!!!!!!!!!!!!!!!

اسے ایک معجزہ ھی کہہ سکتے ہیں کہ جب میرے حواس ٹھکانے پر آئے تو میں نے اپنے آپ کو دونوں ریلوے لائینوں کے درمیان اکڑوں بیٹھا ہوا کانوں میں انگلیاں دبائے ہوئے پایا اور آس پاس سے دونوں ٹرینیں مخالف سمتوں کی طرف سے اپنی اسپیڈ سے نکل گئیں، باقی کے دوست بھاگے ہوئے آئے اور مجھے پکڑکے سائڈ پر لے گئے، شکر ہے کہ میں اپنے حواس میں تھا اور دوسرے تو یہی سمجھ رہے تھے کہ میں ٹرین کے نیچے آگیا، اس دن کے بعد سے وہاں سے گزرنا ہی چھوڑ دیا -!!!!!!!!
--------------------------------
ایسے کئی واقعے ہیں جن سے میں کئی بار بال بال بچا ہوں، بچپن اور لڑکپن بھی کیا چیز ہے، کسی موسم کا اثر بھی نہیں ہوتا ہے چاہے گرمی ہو سردی ہو بارش ہو، طوفان ہو، بچپن میں بس اپنی ہی نئی نئی شرارتوں میں مگن رہتے ہیں،

بارشوں کے دوراں ہم بچوں کو ایک موقعہ مل جاتا تھا کچھ نہ کچھ گڑبڑ ھنگامہ کرنے کا، ہمارے محلے کے ساتھ ہی ملٹری کے علاقے میں امرود اور آم اور نیمبوں کے باغات تھے، عام دنوں میں تو مالی ہمیشہ ان باغوں کی ڈیوٹی پر معمور رہتا تھا لیکن صرف بارش کا ہی ایک ایسا موسم ہوتا کہ وہ نظر نہیں آتا تھا، جس کی وجہ سے ہم بچے بارشوں کا بہت بےچینی سے انتطار کرتے تھے، جیسے ہی بارشیں شروع ہوئیں ہم سب کی تو جیسے لاٹری ہی نکل آتی تھی، ایک تو اسکول سے چھٹی اور دوسرے باغوں میں بہار آجاتی تھی، خوب اپنی مرضی سے، درختوں پر چڑھ جانا اور کچے آموں اور نیمبووں کو توڑ کر گھروں میں پہچانا اور پکے پکے امرودوں کو مل بیٹھ کر کھانا -

ان باغوں میں مجھے کوئل کی کوک بہت اچھی لگتی تھی، اسکے علاوہ دوسرے پرندوں کی آوازیں جب آپس میں ٹکراتی تھیں تو ایک حسین سا سماں ہوتا تھا لگتا تھا کہ ہم سب واقعی ایک کسی گھنے جنگل میں ہیں، وہاں سے نکلنے کو بھی جی نہیں چاہتا تھا، بارش میں ہم سب بھیگے ہوئے خوب کھیلتے بھی رہتے تھے، جبکہ والدہ بہت غصہ بھی ہوتی تھیں، انکی تو پروا ہی نہیں کرتے بس جیسے ہی ابا جان کے آنے کا وقت قریب ہوتا تو فوراً میں تو گھر کی راہ لیتا، اور گھر جاکر نہا دھو کر کپڑے بدل کے جلدی سے کتاب اٹھا کے پڑھنے بیٹھ جاتا،

ایک دن یہی بارشوں کا سلسلہ تھا، اور ہم تمام دوست بھی انہیں باغوں کے حشر نشر میں لگے ہوئے تھے، میرا ایک دوست اوپر درخت پر چڑھ کر امرود توڑ ٹوڑ کر پھینک رہا تھا اور میں نیچے جھکا ہوا امرود چن رہا تھا، اسی دوران درخت کے اوپر سے ایک بڑا پتھر میری کمر پر گرا اور میں وہیں بیٹھ گیا، چند لمحوں تک تو مجھے کچھ ہوش نہیں رہا، لیکن میں بالکل کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، ایسی تکلیف میں نے کبھی بھی محسوس نہیں کی آنکھوں سے پانی جاری تھا، بڑی مشکل سے دو لڑکوں نے مجھے پکڑا اور ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گئے جو محلے میں ہی رہتے تھے، وہ صبح کے وقت گورنمنٹ اسپتال میں جاتے تھے اور شام کو محلے سے کچھ ہی فاصلے پر ہی اپنا کلینک کھول کر بیٹھ جاتے، بہت اچھے انسان تھے، اس دن شاید بارش کی وجہ سے ہی وہ گھر پر ہی موجود تھے انہوں نے میری کمر پر کچھ دوائی لگائی، ساتھ ایک انجیکشن لگایا اور کچھ گولیاں اور پاوڈر کی پڑیاں بھی دی-

ڈاکٹر صاحب بہت اچھے تھے پیسے بھی نہیں لئے، میں نے ان سے کہا کہ آپ گھر پر مت بتائیے گا، انہوں نے جواباً وعدہ کیا اور کچھ نصیحتیں بارش کے حوالے سے کیں کہ بارشوں میں باہر مت کھیلا کرو اور باغوں میں بھی مت جایا کرو کیونکہ اکثر بارشوں کے موسم میں باغوں میں خطرناک قسم کے سانپ اور بچھو وغیرہ بھی ہوتے ہیں، جس سے کچھ بھی نقصان ہوسکتا ہے، اور بعض وقت تو بھوت وغیرہ بھی چپک جاتے ہیں، اور انہوں نے بہت سے حوالے بھی دیے کہ فلاں لڑکا پاگل ہوگیا تھا اور فلاں لڑکے کو سانپ نے کاٹا تھا اگر وقت پر اسپتال نہیں جاتا تو بچ جاتا اور کسی کو بچھو نے کاٹ لیا تھا، ان کی نصیحتیں سن کر تو اور بھی ہم ڈر گئے، کمر کا بھیانک درد دو تین دن میں ٹھیک تو ہو گیا لیکن بعد میں باغ میں جانے کی ہمت ہی نہیں کی -

کافی عرصہ بعد ایک دفعہ پھر دوسرے دوستوں کے اسرار پر ایسے ہی ایک بارش کے موسم میں پھر دماغ خراب ہوا، پہنچ گئے پھر اسی باغ میں لیکں بہت احتیاط کے ساتھ، ساتھ ڈر بھی لگ رہا تھا اور ڈاکٹر صاحب کی نصیحتیں بار بار کانوں میں گونج بھی رہی تھیں، میں نے دوستوں سے کہا بھی کہ یاد ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کیا کہا تھا لیکن دوستوں نے کہا ہمیں تو اتنا عرصہ ہوگیا آج تک تو کچھ نہیں ہوا کچھ نہیں ہوگا میں تو ڈر ڈر کے ان سب کے پیچھے خوفزدہ ہوکر چل رہا تھا، کچھ تو درختوں میں چڑھ گئے اور کچھ درختوں پر پتھروں کی بوچھاڑ کرکے اپنی قسمت آزمائی کررہے تھے،

میں بس تماشائی بنا بس سب کے تماشے دیکھ رہا تھا، میں نے کہا بھی کہ بھئی واپس چلو دیر ہوگئی ہے، لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہورہا تھا، اچانک ایک دم کیا دیکھا کہ باغ کا مالی شور مچاتا ہوا آرہا تھا سارے لڑکے بھاگے ایک لڑکا اس مالی کے ھتے چڑھ گیا اور میں نے ڈر کے خاموشی سے ایک جھاڑی میں چھلانگ لگادی، جہاں میرا ہی استقبال کرنے کیلئے شہد کی مکھیوں کا ایک بہت بڑا جھنڈ موجود تھا، اور پھر کیا تماشا میرے ساتھ ہوا، چیخ بھی نہیں سکتا تھا اور ان شہد کی پیاری سویٹ مکھیوں سے جان بھی چھڑا نہیں سکتا تھا،

میں تھا اور وہ سویٹ شہد کی مکھیاں تھیں، لگتا تھا کہ کیا لگتا تھا کچھ حوش ہوتا تو پتہ لگتا کہ کیا لگ رہا تھا،!!!!!!!!!!!!!!!!‌

ساری شہد کی مکھیاں بار بار مجھ پر ہی حملہ کررھہی تھیں، تکلیف کے مارے برا حال تھا سارے منہ پر ٹانگوں میں گردن پر جہاں جہاں انہیں موقع ملا اپنے سارے ڈنگ چبھو دئیے، میں شدید تکلیف کی وجہ سے بہت تڑپ رہا تھا بڑی مشکل سے چھپتا چھپاتا باہر نکلا، بارش بھی تھم چکی تھی، سیدھا گھر پہنچا اور راستے میں بھی کوئی دوست نطر نہیں آیا، سب شاید مالی کے ڈر سے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے تھے اور پتہ نہیں اس لڑکے کا کیا ہوا جو مالی کے قابو میں آگیا تھا،

بہرحال مالی سے جان چھوٹی لاکھوں پائے، لوٹ کے بدھو گھر کو آئے، بدھو گھر تو آگئے، اب گھر میں کیاجواب دوں گا، یہ سوچ کر بہت پریشان تھا منہ پر ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا، لگتا تھا کہ چہرے پر آبلے پڑ گئے ہیں،

جیسے ہی گھر میں آئینہ میں اپنی شکل دیکھی تو رونا آگیا پورا چہرا سوج کر ایک عجیب سے یی نقشہ میں تبدیل ہوگیا تھا، اب اسی تکلیف میں بستر میں گھس کر چادر اوڑھ لی، تاکہ کوئی نہ دیکھ سکے اور تڑپتا رہا آخر اماں نے سمجھ ہی لیا کہ دال میں کچھ کالا ہے، فوراً انہوں نے چادر کھسکائی اور میرا چہرہ دیکھ کر وہ بھی تڑپ گئیں فوراً ہی محلے کے بڑی بوڑھی عورتوں کو بلایا اور انہوں نے پتہ نہیں اپنے کیا کیا دیسی ٹوٹکے استعمال کئے، اسی وقت والد صاحب بھی آگئے اور بہت تلملائے اور والدہ پر خامخواہ ہی غصہ ھوگئے، بہر حال رات گئے تک مجھے ان دیسی ٹوٹکوں سے آرام آہی گیا -!!!!!!!!
-------------------------------------------
جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-11-10), فیصل ناصر (01-11-10), پاکستانی (13-11-10), منتظمین (31-10-10)
پرانا 01-11-10, 06:56 PM   #22
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرے لڑکپن کا شرارتی سفر- 8

جیسے ہی گھر میں آئینہ میں اپنی شکل دیکھی تو رونا آگیا پورا چہرا سوج کر ایک عجیب سے ہی نقشہ میں تبدیل ہوگیا تھا، اب اسی تکلیف میں بستر میں گھس کر چادر اوڑھ لی، تاکہ کوئی نہ دیکھ سکے اور تڑپتا رہا آخر اماں نے سمجھ ہی لیا کہ دال میں کچھ کالا ہے، فوراً انہوں نے چادر کھسکائی اور میرا چہرہ دیکھ کر وہ بھی تڑپ گئیں فوراً ہی محلے کے بڑی بوڑھی عورتوں کو بلایا اور انہوں نے پتہ نہیں اپنے کیا کیا دیسی ٹوٹکے استعمال کئے، اسی وقت والد صاحب بھی آگئے اور بہت تلملائے اور والدہ پر خامخواہ ہی غصہ ہوگئے، بہر حال رات گئے تک مجھے بھی ان دیسی ٹوٹکوں سے آرام آہی گیا -
بچپن کی شرارتیں اور وہ ساتھ تکلیفیں جو آٹھائیں ان میں بھی ایک الگ ھی مزا اور چاشنی تھی، دل تو چاھتا ھے کہ بچپن کے دور سے بالکل نہ نکلوں اور ساری زندگی بچپن کے ھی دور میں گم رھوں اور ایک واقعہ آپ سب کی نذر کرتا رھوں، لیکن بہت ساری بچپن کی یادیں کچھ ادھوری سی ھیں، جیسے جیسے یاد آتی جائیں گی میں پیش کرتا رھونگا-

ایک اور واقعہ اسکول کا دھندلا دھندلا سا یاد آرہا ہے، ہمارے اس اسکول کی یہ خاص بات ضرور تھی کہ لڑکوں کو اکثر پکنک کیلئے مختلف تفریح گاھوں پر ضرور لے جایا کرتے تھے، اور ہر پکنک کا اپنا ایک الگ مزا ہوا کرتا تھا، مگر ایک پکنک کا سفر مجھ کو تھوڑا تھوڑا یاد آرہا ہے جب ہماری پوری کلاس نے کراچی سے شاید 60 میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹے سے علاقہ ٹھٹھہ میں پکنک کا پروگرام بنایا تھا، جہاں پر تھوڑے سے دور کے فاصلے پر ایک بہت بڑے بزرگ کا مزار تھا اور اسکے ساتھ ہی ایک “مکلی کا قبرستان“ کے نام سے ہے، جو کہتے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ھے جہاں پر محمد بن قاسم کے زمانے کے آثار بھی ہیں اور پرانے مقبرے بھی ہیں،

اگر ہم بذریعہ بس جاتے تو جلدی پہنچ سکتے تھے لیکن ٹیچروں نے ٹرین کے راستہ ہی پروگرام بنایا تھا کیونکہ وہاں سے کوئی ایک بہت بڑی جھیل نزدیک پڑتی تھی، اور اس کے لئے پسنجر ٹرین کا ہی انتخاب کیا تھا، کیونکہ یہ ہی چھوٹے اسٹیشن پر رکتی تھی، تین دن کا پروگرام تھا اسکول سے ہی ہم تمام لڑکے اکھٹے ہوکر الگ الگ بسوں میں بیٹھ کر اسٹیشن پہنچے ہر ٹیچر کے سپرد دس دس لڑکے تھے اور ہم سب اپنے اپنے ٹیچرز کی سربراہی میں ایک پہلے سے ہی ریزرو ڈبے میں بیٹھے اور وہ پسنجر ٹرین کراچی سے آہستہ آہستۃ خراماں خراماں چلی، راستے میں وہ ہر ایک اسٹیشن پر رکتی ہوئی چھک چھک کرتی اپنے مخصوص سیٹی کے ساتھ چلی جا رہی تھی راستہ میں کوئی بڑا اسٹیشں نہیں آیا تھا سارے ہی راستے چھوٹے چھوٹے اسٹیشن نظر آئے، کسی کسی جگہ تو پلیٹ فارم ہی نہیں ہوتا تھا، لوگوں کو اترنے چڑھنے میں بڑی مشکل ہوتی تھی،!!!!!!

اس پسنجر ٹرین کا بھی ایک الگ ہی لطف تھا، گاڑی پلیٹ فارم سے نکلی اور پھر بھی لوگ سوار ہوتے رے بمعہ سامان کے قلی ان کو دھکا دے کر بٹھاتے بھی رہے اور مزدوری اور ساتھ بھتہ بھی لیکر ہی اترتے رہے جبکہ ٹرین کافی آگے تک نکل گئ تھی -

اس پسنجر ٹرین میں بھی کافی پکنک کا سماں تھا، کچھ مسافر تو ہمارے اسٹوڈنٹ کے ریزرو ڈبے میں بھی آگئے تھے، کافی بحث اور تکرار کے باوجود بھی ان لوگوں نے اترنے کا نام نہیں لیا اور زیادہ تر بغیر ٹکٹ ہی تھے، اور قلیوں نے انہیں بےوقوف بنا کر کچھ پیسوں کے عوض انہیں ہمارے ڈبے میں زبردستی ہی گھُسا دیا تھا اب کیا کرتے مجبوری تھی،

ارے سائیں!! بس تھوڑی دور کی تو بات ہے راستے میں ہم اتر جائے گا، ہم اپکی کرسی پر نہیں بیٹھے گا، ادہر نیچے ہی ٹھیک ہے، سائیں خدا تم کو خوش رکھے نی،!!!!!

ایک نے ذرا التجا کرتے ہوئے کہا تو ہمارے ایک ٹیچر نے بھی جواباً کہا کہ کوئی بات نہیں، سائیں بیٹھ جاؤ،!!! شاید انہوں نے بھی انکی گھنی مونچھوں سے ڈرتے ہوئے ہی کہا تھا!!!!!

ایک دو سائیں تھوڑی تھے وہ تو کوئی آٹھ دس تھے تھے، بمعہ اپنے کنبہ کے ساتھ اور زیادہ تر خانہ بدوش ہی لگتے تھے، سب زیادہ تر گیٹ کے پاس اور کچھ نے تو باتھ روم کے دروازے پر ہی ڈیرہ ڈالا ہوا تھا، کسی کے ساتھ بندروں کو جوڑا تھا، جو ان کے کمر میں رسی سے بندھے ہوئے تھے، اور بار بار اچھل کود کررہے تھے، اور اسی بہانے لڑکوں کو بھی چھیڑ چھیڑ کا موقع مل گیا، ایک دوسرے کو بندروں کی طرف اشارہ کرکے رشتہ داری جوڑ رہے تھے، اور سارے ڈبے میں ایک دھما چوکڑی مچی ہوئی تھی،!!!!

کوئی ایک بندر کی طرف اشارہ کرکے کہہ رہا تھا کہ دیکھ جیدی تیرا بھائی تجھے دیکھ کر مسکرا رہا ہے، کوئی بندروں کو اپنے کھانے پینے کی چیزوں میں سے کچھ کھلانے کی کوشش کررہا تھا اور کچھ تو خالی مستی ہی کررہے تھے، بار بار بندروں کو انہی کی چھڑی سے چھیڑ رہے تھے، اس اثنا میں ایک بندر فخرعالم کی چھیڑچھاڑ سے تنگ آکر اسکے کندھے پر شور مچاتا ہوا چڑھ گیا، بڑی مشکل سے اس بندر سے جان چھڑائی چند ایک کھروچ آئی، کچھ بچت ہوگئی، لڑکوں نے اس کا رکارڈ لگانا شروع کردیا، ارے دیکھو بھائی بھائی میں جھگڑا ہوگیا، ٹیچروں نے لڑکوں کو خوب ڈانٹا لیکن لڑکے کہاں سدھرنے والے تھے اور ویسے ٹیچر حضرات بھی ساتھ ساتھ خوب ان باتوں سے تفریح لے رہے تھے،

کسی کے پاس تو چھوٹا سا ریچھ اور اسکے ساتھ بکری بھی تھی، مگر اس کے نزدیک نہ کوئی نہیں گیا بلکہ کسی نے چھیڑا تک نہیں لیکن لڑکے آوازیں وقفہ وقفہ سے آوازیں ضرور کستے رہے ایک لڑکا جسکا نام تو بدرالمغیز تھا لیکن اسے پیار سے بدرو کہتے تھے کچھ تو اس کی شراتوں سے تنگ آکر بدروح بھی کہتے تھے، اس نے تو سب کو تنگ کیا ہوا تھا، ہر کوئی اس سے پریشان رہتا تھا اور اس سے چھپنے کی کوشش کرتا تھا ایک لڑکا پرویز حمایت جو بہت ہی شریف تھا اسکا تو یہ بدرو ھمیشہ پیچھا ہی لئے رہتا تھا،

یہ ٹریں تو ہر جگہ ہی رک جاتی تھی، بعض اوقات تو آدہے آدہے گھنٹے کے لئے رک جاتی تھی شاید کسی ایکسپریس ٹرین کو آگے گزارنے کےلئے مگر کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ “سگنل مین“ شاید بھول ہی جاتا ہو کہ اس گاڑی کو بھی آگے جانا، اگے کچھ ایک اور چھوٹے سے اسٹیشن کے دوسرے پلیٹ فارم پر جہاں لاوارث اور فالتو سمجھ کر ٹرینوں اور مال گاڑیوں کو کھڑی کردیتے ہیں، اپنی یہی پسنجر ٹرین کافی دیر تک رکی رہی، آخر سگنل بھی کھل گیا، لیکن ٹرین ٹس سے مس نہیں ہوئی، ایک لڑکا باہر سے خبر لایا، کہ انجن ڈرائیور ہی غائب ہے، اور جب انجن ڈرائیور واپس آیا تو پتہ چلا کہ وہ اپنی فیملی کو لینے کے لئے نزدیکی گاؤں گیا ہوا تھا اور اپنے گھر والوں اور بچوں کو ایک ڈبے میں چڑھا رہا تھا،

اس اسٹیشن پر ایک قلی تھا ایک ہی اسٹیشن ماسٹر تھا وہ ہی ٹکٹ بیچتا تھا ساتھ کسی پسنجر گاڑی کے آنے پر ہی ٹکٹ چیک بھی کرتا تھا اور اس کے علاؤہ وہ ضرورت پڑنے پر سگنل ڈاؤن بھی کرتا تھا اور آنے جانے والی ٹرینوں کو سبز جھنڈی بھی دکھاتا تھا، یعنی کہ وہ پورے اسٹیشن کا اکلوتا ہی اسٹاف تھا، اور شاید جب انکے پاس تنخواہ کا پے رول آتا تھا تو وہ کم از کم 10 اسٹاف کا تو ضرور ہوتا ہوگا، یہ معلومات تو بعد میں مجھے میرے ایک ریلوے کے ملازم دوست سے پتہ چلا کہ یہاں تو ایسا ہی ہوتا ہے ورنہ سوچو کہ اس چھوٹی سی تنخواہ میں گزارا کیسے ہو، اور بھی بہت سے رازوں کا انکشاف بھی کیا تھا، اب خیال آتا ھے ہر دفعہ ریلوے کو خسارہ ہی کیوں برداشت کرنا پڑتا ہے -

ہمیں تو گورنمنٹ کی طرف سے اسٹوڈنٹ کے رعائیتی ٹکٹ ملے تھے اور باقی جو ہمارے ڈبے میں سفر کررہے تھے بغیر ٹکٹ تھے کچھ تو قلیوں نے لوگوں سے پیسے اینٹھ کر کر بٹھا دیا تھا، کچھ ہر اسٹیشن سے وہاں کہ ماسٹر اور ٹرین کے ٹکٹ چیکر اور گارڈ آپس میں ہی معاملہ طے کرکے مسافروں کو کسی نہ کسی ڈبہ میں جگہ ہو یا نہ ہو سامان کے ساتھ دھکا ضرور دے دیتے تھے، بہت ہی ثواب کا کام کرتے تھے ہر مسافر کو کسی نہ کسی طرح اسکی منزل تک پہنچا ہی دیتے تھے، اور آج تک یہ سلسلہ بہت ہی کامیابی سے چل رہا ہے، اگر کراچی یا کسی بھی بڑے اسٹیشن پر آپ اپنی سیٹ رزرو کرانے جائیں تو آپکی خواھش کے مطابق کبھی بھی سیٹ نہیں ملے گی اور اگر آپ وہاں کے قلی سے رابطہ کریں تو فوراً ہی جتنی سیٹیں اور برتھیں آپکو چاہئے اپکے ہاتھ میں موجود، مگر اسکی قیمت قلی کے ہاتھ میں تھمانی ضرور پڑتی ہے، کیا بات ہے ہر ریلوئے اسٹیشن کا بادشاہ صرف قلی اور صرف قلی ہی ہوتا ہے-

معاف کیجئے گا میں کچھ اپنی پٹری سے ہی اتر گیا تھا، خیر ہماری ٹرین کو بھی آخر کچھ دھچکا سالگا کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی باہر کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ سارا گاؤں وہ انجن ڈرائیور کی فیملی کو چھوڑنے آیا ہوا تھا اور سب ہاتھ ہلا ہلا کر سب کو الوداع کہہ رہے تھے کچھ تو ہمیں بھی دیکھ کر ہاتھ ہلارہے تھے، کسی نے ایک فقرہ ہی کس دیا کہ کیا وہ تمھاری ماسی یا خالہ ہے، جسے تم لوگ ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے ہو، یہ سنتے ہی سب نے شرمندگی سے ہاتھ اندر کرلئے، !!!!!!!!!!!!!!!

خیر بڑی مشکل سے یہ چھک چھک کرتی نازوں کی پلی ہوئی پسنجر ٹرین اپنے مقررہ اسٹیشن پر پہنچی جس کا نام “جنگ شاھی“ تھا، کوئی چھوٹا سا بازار اسٹیشں کے باھر نظر آرہا تھا لیکن نہ کوئی جنگ کے آثار تھے اور نہ ہی کوئی شاھی مقبرہ تھا،

شکر ہے پہنچ تو گئے مگر دوپہر گزرچکی تھی دو بج رہے تھے، سب کو بہت سخت بھوک لگ رہی تھی، صبح سے چلے ہوئے یہ وقت آگیا تھا 5 گھنٹے ہوچکے تھے اگر بس سے آتے تو شاید ایک گھنٹے سے پہلے ہی پہنچ جاتے اور ابھی تو کافی سفر باقی تھا اسٹیشن سے پھر شاید کسی بس میں بیٹھ کر جانا تھا، کچھ موسم اچھا ہی تھا ورنہ تو حالت بہت خراب ہوجاتی-

اسٹیشن پر اتر تو گئے اور سب لڑکوں کو ایک شاھی عالمگیر سرائے میں ہم سب کو لے جایا گیا جہاں ابھی دوپہر کے کھانے پکانے کا انتظام بھی کرنا تھا، جیسے ہی ہم اس شاھی سرائے میں گھسے تو اندر اندھیرا اور چمگادڑوں کا بسیرا، ہمارے اندر گھسنے سے پہلے ہی انہوں نے پھڑپھڑانا اور چیخنا چلانا شروع کردیا ہم سب تو واپس بھاگے اور صحن میں ہی بیٹھ کر دریاں بچھا کر کچھ تو لیٹ گئے کچھ بازار کی طرف نکل لیئے، اور کچھ ٹیچروں کے ساتھ مل کر کھانا پکانے کا انتظام کرنے میں لگ گئے،

باقی بچے ہم تین چار دوست تو کیا کرتے، مل کر اپنی اپنی جیبوں سے پیسے نکال کر کچھ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے کے بارے میں سوچنے لگے، کیونکہ بھوک لگ رہی تھی اور جس طرح کھانے پکانے کا بندوبست ہورہا تھا وہ امید تو نہیں تھی کہ شام تک بھی تیار ہو جائے!!!!!!!!!!

جی ہاں تو بات ہورہی تھی “جنگ شاھی“ ریلوے اسٹیشن کی، جہاں ہم تمام اسٹوڈنٹس پکنک منانے اسکول کی طرف سے پہنچے تھے، دوپہر کے دو بج چکے تھے، اور دوپہر کے کھانا پکانے کی تیاری ہورہی تھی اور ہم سب کا بھوک کے مارے برا حال تھا، کھانا پکانے والی ٹیم الگ ہی تشکیل دی ہوئی تھی جنہوں نے کھانا پکانے کا خشک سامان، پہلے سے ہی کراچی سے بندوبست کرکے آئے تھے، اور تازہ ساماں جیسے سبزی، گوشت کا پکنک پوانٹ سے ہی خریدنے کا پروگرام تھا اور ویسے بھی ہر ایک ٹولی کو مختلف کام کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں،

وہاں پر اسٹیشن کے ساتھ ہی بازار سے ہی کچھ دیسی تازی مرغیاں کٹوائی گئیں، اس کے علاوہ کچھ تازہ گوشت، ساتھ ہی ہری سلاد دھنیاں پودینہ ہری مرچ وغیرہ بھی وہاں پرہی آسانی سے مل گیا، وہاں پھر شاید بریانی اور قورمے کا پروگرام بن رہا تھا، پکانے والی ٹیم جو کھانا پکانے میں مشہور تھی، اس میں کچھ اسپشل ماھر ٹیچرز بھی تھے جو ھمیشہ ہر پکنک میں اپنے کھانے پکانے کے جوہر ضرور دکھاتے تھے اور وہ ہی پکنک کے تمام پروگرام کو منظم طریقہ سے بڑے شوق سے ترتیب بھی دیتے تھے، جس میں کوئی بھی مداخلت نہیں کرتا تھا، اور واقعی وہ لوگ ہمیشہ بڑے اھتمام سے بہت ہی خوش ذائقہ کھانا تیار کرتے تھے،

ایک ٹیچر کے پاس کیشئیر کی ذمہ داری تھی اور ان کے دو اسسٹنٹ لڑکے ہوتے جن کا کام صرف ضرورت کے وقت باہر کی خریداری اور سارا حساب کتاب انہی ٹیچر کو دینا ہوتا تھا، جن کے پاس اسکول کا فنڈ ہوتا تھا جو تمام پکنک کا تخمینہ ایڈوانس میں ہی اندازاً لگا کر اسٹوڈنٹس سے بھی اکھٹا کرتے تھے اور کچھ اسکول کی طرف سے بھی فنڈ شامل کر لیا کرتے اور اس بات کی تو گارنٹی تھی کہ سب کچھ ایمانداری سے ہی ہوتا تھا اور ساتھ ٹیچرز اپنا اپنا حصہ بھی ضرور شامل کیا کرتے تھے، اگر کبھی کچھ کمی ہوجاتی تھی تو تمام ٹیچرز مل کر اس کمی کو اپنی جیب سے پورا کرتے تھے، جو اس اسکول کے ٹیچرز کی تمام خصوصیات میں سے ایک منفرد خاصیت تھی -

بہرحال ہمارے گروپ یا ٹولی جو 5 لڑکوں پر مشتمل تھی ضرورت پڑنے پر مختلف کاموں کی ذمہ داری تھی، جیسے لکڑی جلانےکےلئے اور پانی پینے کےلئے اور پکانے کیلئے بندوبست کرنا وغیرہ وغیرہ، جس میں ہم پہلے ہی سے ماسٹر تھے، ہم لڑکوں نے فورآً اپنا کام ضرورت کے مطابق کرکے، اجازت لےکر آگے بازار کی ظرف نکل گئے، کیونکہ بھوک بہت لگ رہی تھی اور ابھی کھانا تیار ہونے میں کافی وقت تھا، بازار کی طرف ایک ہوٹل نظر آیا جہاں ہم نے بیٹھ کر دال اور سبزی کے سالن اور روٹی سے کچھ بھوک کو مٹایا -

واپس آئے تو کچھ ٹیچرز، نزدیک ھی کسی جھیل پر جانے کا پروگرام بنا رہے تھے، وہاں پر ایک ٹریکٹر کے ذریعے کچھ ٹیچرز کی نگرانی میں باقی لڑکوں کو ساتھ لے کر، پکانے والی ٹیم کو چھوڑ کر، بقایا سب نکل پڑے، پہلے تو اس جھیل پر جانے کا پروگرام دوپہر کے کھانا کھانے کے بعد تھا، مگر کھانے میں کچھ تاخیر ہونے کے سبب پروگرام پیں کچھ تبدیلی ہوگئی تھی، اس ٹریکٹر کے پچھلے ٹرالر میں پر ہم بیٹھ تو گئے لیکن جھیل تک پہنچتے پہنچتے جو کچھ کھایا پیا تھا وہ سب کا سب ھضم ھوگیا،

دھوپ کچھ زیادہ تھی، تھوڑا بہت گھومے پھرے کچھ لڑکوں اور ٹیچروں نے تصویریں بھی اتاریں ہم بھی پھوکٹ میں شامل ہوگئے، پھر اسے ٹریکٹر سے ہی واپس آگئے، شام ہورہی تھی ، کھانا آخری دم وخم پر تھا، ایک ٹیم نے فوراً اپنی ذمہ داری کے حساب سے، دری وغیرہ بچھائی اور اوپر پرانے آخبار، جو ساتھ لائے تھے، بچھائے اس ٹیم کا کام کھانا کھلانا تھا، سب نے ہاتھ منہ دھوئے اور بیٹھ گئے اور بس کچھ ہی دیر میں کھانا لگا دیا گیا، اور پھر کیا تھا سب کھانے پر اس بری طرح ٹوٹے کہ کھانا کھلانے والی پارٹی کبھی سالن لاتی تو روٹی ختم ہوجاتی اور کبھی روٹی لاتے تو سالن ختم، پھر بریانی کا دور چلا وہ بھی اس ظرح کہ کھلانے والے بریانی کے تھال بھر بھر کر لاتے رہے ادھر پہلے والے تھال ختم، کھلانے والے بھی بریانی یا قورمے کے تھال لاتے لاتے بیچ میں سے اچھی اچھی بوٹیاں اچک لیتے تھے، کیونکہ انہیں بھی بہت سخت بھوک لگی ہوئی تھی-

یہ دعوت ایسی لگ رہی تھی کہ جیسے کسی شادی میں کھانا کھا رہے ہوں، اس میں چند اس علاقے کےمعزز لوگ بھی شامل ہوگئے تھے، جنہوں نے یہ مغلیہ خاندان کی سرائے بمعہ چمگادڑوں کے بغیر کسی معاوضے کے دے کر ہم پر مہربانی کی تھی، اندر تو کوئی چمگادڑوں کی وجہ سے نہیں گیا بس باہر ہی مغلیہ صحن میں ہی بیٹھ کر کچھ تو اکبر بادشاہ کے روپ دھارے ہوئے لیٹ گئے اور کچھ شاجہاں کی طرح اس سرائے کو تاج محل سمجھ کر ممتاز محل کے گن گانے لگے اور کچھ تو بےچارے اپنی ٹیم کو لیکر مقرر کردہ ذمہ داری کو لےکر برتن دھونے میں لگ گئے مگر وھاں کے کچھ مقامی لوگوں نے بھی کچھ مدد کرکے کھانا کھانے کا اپنا حق ادا کردیا -

کھانا کھاتے ہی سب کو پھر الرٹ کردیا کہ بھئ سب اٹھو، بس آگئی ہے چلو اپنا اپنا سامان سمیٹو اور بس میں بیٹھو، اگلے پوائنٹ پر جانا ہے، اب کھانا کھا کر سب ہی ٹن ہوگئے تھے، بہرحال بڑی مشکل سے جلدی جلدی بس میں گھسے کسی کو بیٹھنے کی جگہ ملی کسی کو نہیں، بڑا بڑا سامان تو چھت پر ہی چڑھا دیا لیکن چھوٹا موٹا سامان بس کے اندر ہی لے گئے، مجھ سمیت کافی لڑکوں کو جگہ تو مل گئی لیکن جو بعد میں بس کی چھت پر سامان رکھ کر چڑھے تو انہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی، وہ بس بھی ایسی تھی کہ بندے کو کبڑا بن کر کھڑا ہونا پڑا ، پتہ نہیں آگے کتنا اور سفر تھا، کچھ تو بےچارے چھت پر ہی چڑھ گئے، ایک اور سونے پر سہاگہ یہ کہ کوئی ایک اور پسنجر ٹرین آگئی اور بس والے نے اس کے پسنجر اٹھانے کیلئے بس کو اور مزید کچھ دیر کے لئے روک دیا -

ہم جو بس میں تھے انکا تو مزید حشر نشر ہورہا تھا ایک تو اس بس کے شیشے ایسے تھے کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے اور اوپر سے کنڈکٹر نے اور بہت سے مزید اور مسافروں کو بمعہ سازوسامان کے اندر بس میں زبردستی پھنس پھنسا کر گھسیڑ دیا تھا، کیا عالم تھا، کبھی ایسا جم غفیر نہیں دیکھا تھا، پسینہ سر سے پیر تک بہہ رہا تھا، اور لوگوں کے پاس سے تو ایسی مہک آرہی تھی لگتا تھا کہ شاید برسوں ہوگئے ان لوگوں کو نہائے ہوئے، خیر کیا کرتے مجبوری تھی، کچھ کیا،!!!! بلکہ بہت کچھ سہنا پڑ رہا تھا،

بڑی مشکل سے بس کی گھڑگھڑاہٹ کے کانپنے سے یہ محسوس ہوا کہ اب شاید بس نے اپنے سفر کے آغاز کرنے کی ٹھان لی ہے، خیر ہانپتی کاپتی ہلتی جلتی اچھلتی بس نے آھستہ آھستہ چلنا شروع کیا، کہیں کہیں سے تھوڑی بہت ہوا آرہی تھی، جیسے ہی بس بازار کے حدود سے باہر نکلی، تو اندھیرے کی وجہ سے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا، خیر میں تو بےچارے اوپر چھت والوں کا اور کھڑے ہوئے دوستوں اور ٹیچروں کا سوچ رہا تھا کہ نہ جانے کیا حال ہورہا ہوگا،

اسی سوچ میں گُم ایک نیند کا جھٹکا مجھے آیا ہی تھا کہ ایک مرغی کڑکڑاتی ہوئی میرے گود میں گری اور میں ایک دم گھبرا گیا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا ایسا لگا کہ جان ہی نکل گئی، ایک تو رش اور اوپر سے کسی کے ٹوکرے میں سے مرغیاں پھڑپھڑاتی ہوئی باہر نکل رہی تھیں، بس کیا تھا بس میں ایک ھنگامہ ہوگیا، میرے پاس جو مرغی گری اسے پکڑ کر بیٹھا تھا کہ کہیں اور نہ نکل جائے کہ اچانک ایک مقامی آدمی کا سر میری شکل کے سامنے الٹا ہی آگیا اور مجھ سے مرغی چھین کر غصہ سے کہا، جو میں بالکل سننے کے موڈ میں نہیں تھا، ایک تو میں نے اس کی مرغی سنبھالی اور اس نے مجھ پر ہی چیخنا شروع کردیا !!!!!

اوئے چھوکرے اس مرغی کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا وہ تم نے کدھر کو گم کردیا !!!!!!!

میں نے ڈرتے ھوئے جواب دیا کہ،،،،،،،،،،،،،

دیکھو سائیں!!! ہم سے آپ قسم لے لو، ہمارے نصیب میں آپکی مرغی ہی آئی تھی، اسکا بچہ ہم نے نہیں دیکھا !!!!!!!!!!!

اس نے اور غصہ سے کہا کہ،!!!!!
ہم کچھ نہیں جانتا ہے، ہم کو تو اس کا بچہ ابھی چاہئے، یہ مرغی تمھارے گود میں تھا تو اس کا بچہ بھی اس کے ساتھ ہی تھا اور کدھر کو جائے گا، ہم تو اس کا پیسہ لے کر چھوڑے گا ورنہ تم کو ادھر ہی ختم !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

یہ کس مشکل میں پھنس گیا میرے ساتھ ہی کوئی اور اسکی ظرح ایک مقامی بیٹھا تھا جس نے آدھی سے زیادہ سیٹ گھیرے ہوئے تھی اور میں کھسکتے کھسکتے گرنے ہی والا تھا، اس نے اس مرغی والے کو اپنی زبان میں کچھ شاید میری حمایت میں ہی کہا، جسکی وجہ سے میری جان خلاصی ہوئی، اور میں اسی خوشی میں کھڑا ہوگیا اور اپنی چھوٹی جو جگہ بچی تھی وہ بھی اس کو دے دی کہ بس یہی خوش رہے !!!!!!!!!


مرغی کا بچہ تو چھوڑیں، جو بھی مرغیاں اسکے ٹوکرے میں سے نکلیں تھیں اس میں سے صرف ایک ہی مرغی میرے پاس مل بھی گئی ورنہ باقی میں سے کچھ نے تو کھڑکیوں سے چھلانگ ماردیں تھیں اور کچھ کو تو اندر ہی لوگوں نے اپنے ہی بغل میں دبوچ لیں، جو بعد میں ہی پتہ چلا،

جو مرغیاں نیچے کود گئی تھیں ان کے پیچھے تو اس مرغی والے نے چھلانگ ماردی تھی وہ بھی چلتی بس میں سے اور پیچھے کی طرف منہ کرکے، نہ جانے اس بے چارے کو کتنی چوٹ آئی ہونگی کیونکہ ایک تو خود بھی بھاری بھر کم ، ساتھ خالی ٹوکرا بھی ہاتھ میں اور وہ اترا بھی تو چلتی بس میں پیچھے کی طرف منہ کرکے، اور باہر اندھیرا بھی تھا، ایک آواز تو آئی تھی بڑی زور کی چیخنے کی، لیکں بس ڈرائیور نےاپنی زبان میں اپنے کنڈکٹر سے کچھ پوچھا اور اسکے جواب میں اس نے بس کو اور تیز چلانا شروع کردیا تھا، کسی کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ
،،،،،،،،،،، سائیں!!!!! خاموش رہو پیچھے ڈاکو سائیں لوگ آرہا ہے !!!!!

اور بس ڈرائیور نے اندر کی ٹمٹماتی ہوئی بتی بھی بجھا دی تھی اور آگے پیچھے کی لائٹ بھی بالکل بند کردی تھی، اندر تو کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا، اور ہم اسکول کے لڑکوں کو تو یہ پہلا اور آخری تجربہ تھا، ڈر کے مارے جان نکلی جارہی تھی، ٹیچروں کے بھی منہ سے کوئی آواز نکل نہیں رہی تھی، کیونکہ وہاں کے ڈاکوؤں کے بارے میں سنا ضرور تھا لیکن واسطہ آج ہی پڑا تھا!!!!

نہ جانے ڈرائیور بس کو اندھیرے میں کیسے دوڑائے جارہا تھا، بس بھی جھومتی جھامتی، اچھلتی کودتی، اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی، پتہ نہیں چھت پر بیٹھے ہوئے لوگوں کا کیا حال ہوا ہوگا، میں بھی اپنی سیٹ اس مرغی کے بچے کے چکر میں گنوا چکا تھا، اور بس کھڑے کھڑے ٹانگیں بھی شل ہوچکی تھیں، کچھ نیند کا غلبہ بھی تھا اور رات کے شاید 10 بجے کا وقت ہوگا، اچانک بس کے اندر سے ہی ایک مرغے نے اپنی آواز کے جادو سے بس کی کھڑکھڑاتی اور چنگھاڑتی شور شرابے میں ایک نئے سُرؤں کا اضافہ کردیا، میں نے سوچا کہ شاید یہ بھی اسی مرغی والے کا مرغا ہوگا، جاگا بھی تو دیر سے جاگا!!!!!

آخر کو ہماری منزل آہی گئی شاید کنڈکٹر نے “مکلی“ کی آواز لگائی تھی، دور سے کچھ مدھم سے تمٹاتی ہوئی روشنی کی جھلک نظر آرہی تھی اور کچھ رنگ برنگی روشنیوں کے بلب بھی جلتے بجھتے نظر آرہے تھے، شاید وہ مکلی کے ایک بڑے بزرگ کا مزار تھا، بہرحال وہاں آہستہ اہستہ سب اپنی کمر سیدھی کرتے ہوئے اتر گئے، اور سامان وغیرہ بھی اتارا اور سب ٹیموں نے اپنے اپنے ممبروں کو پورا کیا ابھی تو آدھے ممبر بھی پورے نہیں ہوئے تھے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ دوسری بس میں آرہے ہیں،

تھکے ہوئے تو تھے مزار کے نزدیک سامان لے کر بڑی مشکل سے پہنچے، آگے کافی لوگ سوئے ہوئے تھے، انکو ڈسٹرب کرنا بالکل مناسب نہیں سمجھا، وہاں رات کا اندھیرا تو تھا ہی اور کوئی ہموار جگہ مل نہیں رہی تھی تو اونچے نیچے ٹیلوں اور غیر ہموار جگہ پر ہی غنیمت جان کر سب لڑکوں نے مل کر رات کے اندھیرے میں ہی دریاں اور چادریں الٹی سیدھی کرکے بچھائی، کچھ بھی نطر نہیں آرہا تھا اور سب کے سب تھک کر لیٹ گئے کچھ لڑکے مزار کی طرف حاضری دینے چلے گئے ہم لوگوں میں تو بالکل ہمت نہیں تھی -

صبح ہوکر بھی گزر گئی سورج کی شعائیں منہ پر پڑ رہی تھی اس کے باوجود بھی کسی کی آنکھ کھل نہیں رہی تھی، ایک آواز نے ہم سب کو چونکا دیا اور ہم سب اتنے خوفزدہ ہوئے کہ کانپنے لگے ہر ایک کی حالت خراب تھی چہرے بالکل پیلے پڑچکے تھے وہاں سے سب کچھ چھوڑ کر بھاگے !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

ہم سب سخت تھکان کی وجہ سے گہری نیند میں ڈوبے ہوئے تھے جبکہ سورج کی روشنی اچھی خاصی چاروں طرف پھیل چکی تھی، کسی نے میرے کان میں خاموشی سے کہا کہ ہم لوگ تو قبروں کے اوپر سو رہے ہیں، میں فوراً ہی ڈر کے مارے اُٹھ کر بیٹھ گیا اور اِدھر اُدھر کئی لڑکوں کو دیکھا کہ کچھ نے تو قبروں کو اپنا تکیہ بنایا تھا، کچھ لڑکوں ‌نے قبر کو ایسے گود میں لیا ہوا تھا کہ جیسے کوئی بچہ اپنی امٌاں سے لپٹ کر سو رہا ہو اور کچھ تو وقت سے پہلے ہی سے کھلی ہوئی قبروں میں پیر لٹکا کر خرانٹے لے رہے تھے، کچھ ٹیچروں کا بھی یہی ملا جلا حال تھا -

میں بھی اسی طرح کھلی قبر کے بالکل برابر میں ایک قبر کو تکیہ بنائے لیٹا ہوا تھا، جہاں قبر کے اندر کا سارا حصہ صاف نظر آرہا تھا، ارے باپ رے جو ڈر کر ہم سب لڑکے چیخ کر وہاں سے بھاگے اور دور جاکر کھڑے ہوگئے اور کئی تو کانپ بھی رہے تھے اور پھر ہمارے ٹیچروں نے وہیں پر ہم سب لڑکوں کو بلا کر کہا کہ!!!!!!!!!!

دیکھو بچوں !!!!!!!!!!! یہ ڈر اور خوف کچھ بھی نہیں ہے صرف ذہن کا ایک نفسیاتی اثر ہے، جو بھی چیز آپ اپنے دماغ اور تصور میں بٹھا لو گے وہی تمھاری سوچ ایک حقیقت کا روپ لے کر وہم کے وجود کو تسلیم کر لے گی، جو آپکے ڈر اور خوف کا بعث بھی بن سکتی ہے،
اب یہ بتاؤ کہ ساری رات آپ قبروں پر سوتے رہے اور کچھ بھی محسوس نہ کرسکے کیونکہ آپ سب کو اندھیرا ہونے کی وجہ سے یہ معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ یہ “مکلی“ کا سب سے بڑا اور پرانا قبرستان اور پرانے کھنڈرات کے اثرات ہیں، اور اگر یہ پہلے پتہ ہوتا تو کیا آپ لوگ اسطرح بے خبر سو سکتے تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟

وہ خوف کا سحر جو دماغ کو ماؤف کرچکا تھا، آھستہ آھستہ اس کا اثر ختم ہوتا جارہا تھا، اور واقعی اس واقعہ کے بعد کم از کم مجھے تو یہ احساس ہوگیا تھا کہ ڈر اور خوف ھمیشہ اللٌہ تعالیٰ کا ہی ہونا چاہئے اور ہمیں اسکے تمام احکامات کی بجاآوری کرکے اپنی عاقبت کو سنوارنے کی فکر کرنی چاہئیے-

بہرحال لگتا تھا کہ ناشتہ کا انتظام ہو رہا تھا، چائے کی دیگچی چڑھی ہوئی نظر آئی اور ایک جگہ کچھ انڈے ابل رہے تھے اور دوسری طرف انڈوں کا املیٹ بھی تیار ہورہا تھا کوئی ہاف فرائی کی فرمائیش کررہا تھا اور کوئی فل فرائی کی، کسی نے آملیٹ کا آرڈر دیا ہوا تھا ایک طرف ڈبل روٹی کے سلائسس کا ڈھیر تھا اسکے ساتھ ہی مکھن کا ایک بڑا پیکٹ ایک پلیٹ میں دو تین چھریوں کے ساتھ نطر آیا، دوسری پلیٹ میں دو تین قسم کے شہد اور جام کی بوتلیں رکھی تھیں اور یہ سب کچھ ایک درخت کے نیچے مہم جاری تھی، اور باقی لڑکے ایک لائن میں پلیٹ اٹھائے باری باری ڈبل روٹی کے سلائس اُٹھاتے ہوئے ساتھ مکھن جام یا شہد اپنی اپنی پلیٹوں میں ضرورت کے مطابق ڈالتے ہوئے جہاں انڈے تلے جارہے تھے وہاں کی ٹرے سے جس قسم کا ہاف فائی، فل فرائی ہو چاھے ابلا ہوا ہو یا آملیٹ ہو، ہر کوئی اپنی پلیٹ میں ڈالتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا اور آخر میں چائے کا کپ آٹھاتے ہوئے ایک کسی کونے میں یا کسی دوست کے ساتھ پہلے سے بچھی ہوئی دری پر بیٹھ کر ناشتہ کا صحیح لطف اٹھا رہا تھا،

اور یہ کھانے پینے کی تقسیم اور دوسرے تمام پکنک سے متعلق کوئی بھی کام کا ہر نظام اتنے سلیقے اور منظم طریقے سے انجام پا رہا تھا کہ کسی کو بھی کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی نہیں ہوئی اور کسی کو کسی سے کوئی شکایت بھی سننے یا دیکھنے کو نہیں ملی، اور سب مل جل کر اپنی اپنی پہلے سے ہی مقرر کردہ ذمہ داریاں کو نبھا رہے تھے،

ہمیں اس وقت اپنے اسکول پر بہت فخر تھا کہ اس کا ہر لحاظ سے ایک اپنا ایک بہترین اسٹینڈرڈ تھا اور اسی کی وجہ سے اس اسکول میں داخلہ بھی بہت مشکل سے ملتا تھا، اب نہ جانے کیا حال ہے اللٌہ کو ہی معلوم ہے، پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود کے مقابلوں میں بھی ھمیشہ ہمارا اسکول اچھی پوزیشن لیتا تھا، اور کیا کیا تعریف کروں میرے پاس اسکےلئے الفاظ نہیں ہیں، یہ سب کچھ اچھی اور معیاری تنظیم کی وجہ ہی سے بہتر نظام چل رہا تھا -

اس وقت اسکول کے ٹیچروں کی ایک خاص بات ضرور تھی کہ جو بھی سگریٹ پینے کے عادی تھے انہیں میں نے کم از کم اپنے اسٹوڈنٹ کے سامنے کبھی سگریٹ پیتے ہوئے نہیں دیکھا اور اگر کوئی ٹیچر کہیں ایک کونے میں چھپ کر سگریٹ پی رہا ہو اور سامنے سے کوئی طالب علم آجائے تو وہ فوراً سگریٹ بجھا دیتے تھے، اس کے علاوہ میں نے کبھی بھی کسی ٹیچر کو دوسرے ٹیچرز کے ساتھ کسی بھی طالبعلم کے سامنے کسی قسم کا بھی مذاق یا زور سے باتیں کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا -

بہرحال بہتر سُدھار اور اچھی تنظیم کی ضمانت اُسی ادارے کو ہی دی جاسکتی ھے، جہاں پر کم از کم اچھے اصول، اخلاق اور بہتریں ڈسپلین کا خیال رکھا جاتا ہو اور یہ کوئی مشکل بھی نہیں ہے صرف اسکے لئے یک جہتی کی ضرورت ہے اور اپنا ایمان مضبوط ہونا چاھئے -!!!!!!!!

ہاں تو بات ہو رہی تھی ناشتے کی، سب نے مل کر خوب زبردست سیر ہوکر ناشتہ کیا، پھر ان بزرگ کے مزار پر جاکر حاضری دی اور فاتحہ پڑہی اور تمام “مکلی کے قبرستان“ کے تمام پرانے آثار کو دیکھا، کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا اور پرانا قبرستان کہلاتا ہے اور محمدبن قاسم اور راجہ داہر کی جنگ میں شہید ہونے والوں کے مقبرات بھی یہیں ہیں، اور اتنا بڑآ قبرستان تھا کہ دوسرا کنارا کہاں ختم ھوتا ہے بلکل نظر نہیں آتا تھا -

وہاں سے پھر ہم سب نے اپنا اہنا بوریا بسترا اور ساز و سامان کو سمیٹا اور وہاں سے دو یا تیں گروپ کی شکل میں بسوں کے ذریعے بغیر کسی پریشانی کے نزدیکی قصبہ“ ٹھٹھہ“ پہنچ گئے، جو ایک چھوٹا سا مغلیہ دور کا ایک تاریخی شہر بھی ہے وہاں کی ایک مغلیہ دور کی ایک خوبصورت سی کئی گنبدوں والی مسجد بھی دیکھنے کو ملی جہاں کی ایک خاص بات تھی کہ بغیر لاوڈاسپیکر کے قاری صاحب کا خطبہ مسجد کے کسی بھی کونے میں سنا جاسکتا تھا جوکہ خود ہم نے باقاعدہ طور سے باری باری اس کا تجربہ اپنی آواز سے ممبر کے پاس جاکر بھی کیا، اور سب نے ہر کونے میں آواز بھی سنی -

اور بہت سی وہاں کی مشھور جگہیں دیکھیں او پھر ایک جگہ منتخب کر کے وہاں اپنا پڑاو ڈالا اور دوپہر کے کھانے کا انتظام اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا، جس طرح سے کل شام کو جنگ شاھی ریلوے اسٹیشن پر کیا تھا، پکانے والے پکاتے میں مشغول گھومنے والے بازار کے چکر میں اور آرام کرنے والے کچھ دیر کےلئے سو بھی گئے مگر سب نے اپنی اپنی ذمہ داریاں کھانا پکانے سے پہلے ہی ختم کرلیں تھی، کچھ کی ذمہ داریاں کھانا کھانے کے بعد آتی تھیں !!!!!

کھانا کھا کر سب لوگوں نے ایک پارک کے سایہ دار درخت کے نیچے دریاں بچھا کر کچھ دیر تک آرام کیا اور شام تک سب نے واپسی کا ارادہ کرلیا بہتر تو یہی تھا کہ براستہ سڑ ک ھی سفر کیا جائے تاکہ جلد سے جلد گھر پہنچ جائیں، اس تجویز کی منظوری ہوگئی تھی اور پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر گروپ اپنی اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ تمام لڑکوں کو انکے گھر تک پہنچائے اور اس پر عمل درآمد شروع ہوگیا، جیسے جیسے بس آتی گئی ایک ایک گروپ گنجائیش کے مطابق بسوں میں سوار ہوتا گیا اور اپنی اپنی منزل کی راہ لی، ہر کوئی بہت تھک چکا تھا، سارے راستے سب بس میں سوتے ہوئے گئے، اور خیریت سے شام تک اپنے اپنے گھر پہنچ گئے -

یہ ہمارے اسکول کی سب سے بہتر اور لمبی پکنک تھی ایک رات اور دو دن تک، بہت ہی اچھا سب نے انجوائے کیا اور کچھ دوستوں نے تصویرں بھی کھینچی تھیں لیکن ملی کسی کو بھی نہیں، دو دن کی تفریح تھی باقی پھر سے وہی اسکول کی گھماگھمی میں گم ہو گئے -

یہ ایک یاد گار تفریح تھی جو کہ آٹھویں کلاس کے وقت کی تھی اور جسے میں شامل نہیں کرسکا تھا، مگر اچانک یاد آگئی تو مجھے کچھ پیچھے جانا پڑا، اور بھی کئی یادیں ھلکی ھلکی ذہن میں کلبلا تو رہی ہیں، لیکن واضع نہیں ہیں، جیسے ہی کوئی دلچسپ واقع ذہن میں مکمل یاد آئے گا تو فوراً لکھوں گا،

اب تو میں بڑی مشکل سے نویں کلاس میں پہنچ چکا تھا، آرٹس کے صرف چار مضامین تھے، جنہیں پاس کرنا تھا، کوشش اس دفعہ ساری کی کہ سارے پیپر کلئیر ہوجائیں، اور بہت امید بھی تھی، مگر پھر بھی کچھ اپنے شوق بھی تھے، لوگوں کی پسند کی تصویریں بنانا اور ان میں تقسیم بھی کرنا اس کے علاوہ قلمی دوستی بھی جاری رہی، لیکن اخباروں اور بچوں کے رسالوں میں بھی لکھنے میں وقت کی تنگی کے باعث بہت زیادہ کمی آگئی تھی،!!!!!!!

جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-11-10), فیصل ناصر (01-11-10), پاکستانی (13-11-10)
پرانا 01-11-10, 07:47 PM   #23
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میرے لڑکپن کا شرارتی سفر- 9

اب تو میں بڑی مشکل سے نویں کلاس میں پہنچ چکا تھا، آرٹس کے صرف چار مضامین تھے، جنہیں پاس کرنا تھا، کوشش اس دفعہ ساری کی کہ سارے پیپر کلئیر ہوجائیں، اور بہت امید بھی تھی، مگر پھر بھی کچھ اپنے شوق بھی تھے، لوگوں کی پسند کی تصویریں بنانا اور ان میں تقسیم بھی کرنا اس کے علاوہ قلمی دوستی بھی جاری رہی، لیکن اخباروں اور بچوں کے رسالوں میں بھی لکھنے میں وقت کی تنگی کے باعث بہت زیادہ کمی آگئی تھی،

ہمارے اسکول کے نزدیک پہلے ایک ائرکنڈیشنڈ سینما بھی ہوا کرتا تھا، اور اکثر اسکول کے لڑکے ہاف ٹائم میں بھاگ کر فلم دیکھنے جاتے تھے، مجھے بھی اسکا ایک شوق پیدا ہوگیا، اس وقت اتوار کو ہی چھٹی ہوا کرتی تھی تو ہم دو تین دوست بھی کسی نہ کسی طرح ہاف ٹائم کے بعد کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر فلم دیکھنے کیلئے چلے جاتے، اس وقت آگے کی کلاس کا ٹکت 4 آنے کا ہوتا تھا اور پورا مہینہ کچھ نہ کچھ خرچی میں سے بچاکر اور سودے میں سے بھی بچا کر باقی کے پیسے جوڑ کر 4 آنے بنا ہی لیتا تھا،

گھر میں کسی کو بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ میں فلم دیکھ کر آرہا ہوں، اس شوق نے اور پڑھائی کی طرف اور بھی توجہ کم کردی اب مہینہ میں ‌‌‌ایک دفعہ کے بجائے دو دفعہ فلم دیکھنے کا چکر پال لیا تھا، ایک دفعہ اسکول سے بھاگ کر کافی لڑکے فلم دیکھنے پہنچ گئے اور شاید اسکول میں کسی مخبری کی وجہ سے یہ بھید کھل گیا، ویسے بھی اس دن ایک ڈراونی سی فلم “خاموش رھو“ لگی ہوئی تھی، فلم کے دوران ہی اسکول کا چھاپہ پڑ گیا وہ بھی والدین کے ساتھ، اندھیرے میں ہی آواز آئی چلئے اپنے اپنے بچوں کو پہچانئے، منہ پر ٹارچ کی روشنی سے والدین اور کلاس ٹیچرز بچوں کو پہچان کر اٹھا رہے تھے اور فلم بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی،

ایک تو فلم ڈراونی اوپر سے اسکول کا چھاپہ سب سے پہلے تو میں نے اپنا اسکول بیگ سیٹ کے نیچے پھینکا اور قمیض اُتار کر الٹی پہن لی یعنی اوپن سائڈ پیچھے گھما دی،اور قمیض کو اوپن ہی رکھا اور بالوں کو بھی خوب بکھیر دیا، قمیض بھی الٹی، ایک ّعجیب ہی شاھکار لگتا اگر اندھیرا نہ ہوتا تو، ایسے وقت میں شیطانی دماغ بھی خوب چلتا ہے، ساتھ والے دوست نے بھی ایسا ہی کیا کیونکہ سامنے کی جیب پر اسکول کا مونوگرام بنا ہوا تھا اس سے پہچاننے میں اور بھی آسانی ہورہی تھی، اسکول کے ٹیچرز اور والدین اسکول کے بچوں کو پہچانتے ہوئے ہماری ظرف ہی بڑھ رہے تھے میں نے فوراً اپنے پیر بھی جوتے اتار کر آوپر رکھ لئے تھے-

جیسے ہی وہ میرے نزدیک پہنچے، مجھ پر ایک ٹارچ کی روشنی سی پڑی، میں تو ایک دم گھبرا سا گیا، لیکن پھر بھی ہمت پکڑی ہوئی تھی، ایک نے فوراً دوسرے سے میری قمیض کی طرف ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اسکول کا لڑکا نہیں لگتا، اور اوپر سے میں نے بھی تھوڑا اپنے منہ کو ٹیڑھا کیا اور ذرا غصہ کا موڈ بناتے ہوئے وہاں کے مکرانی لہجے میں کہا کچھ اسی طرح کہا کہ!!!!!!!!!

!!!!! اڑے تم کو ارو برو نظر نہیں آتا ہے کیا، تم لوک کا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا نی، اڑے سامنے سے ہٹو ایسا پنچ مارے گا سارا بتیسی باہر کردیگا، !!!!!!!!!!

وہ دو آدمی تھے اور اسکول کے ٹیچر ہی تھے، پھر بھی انکے ری ایکشن سے ڈر بھی لگ رہا تھا، کہ کہیں پہچاں نہ لیں لیکن جان بچ گئی انہوں نے واقعی میرے ایکشن کا آخر اثر لے ہی لیا اور معذرت کے انداز میں کہا کہ !!!
!! بھئی ذرا معاف کیجئے گا کچھ غلط فہمی ہوگئی تھی!!!

یہ کہتے ہوئے وہ دونوں کچھ آگے بڑھ گئے!!!!!!!!!!

کبھی کبھی شیطانی دماغ بھی کام کرجاتا تھا، اور کئی جگہوں پر میں بال بال بچا بھی ہوں، اور کبھی کبھی شکنجے میں جکڑا بھی گیا، وہ لوگ جیسے ہی سینما کے دروازے سے باہر نکلے اور ادھر ہم دونوں نے اپنی اپنی قمیضیں سیدھی کیں اور سیٹ کے نیچے سے بستہ نکالا، خاموشی سےپیچھے کے دروازے سے بھاگنے کی کوشش کی، جیسے ہی دروازہ کھولا، جان ہی نکل گئی، آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے، کاش کے ہم فلم ختم ہونے کے بعد ہی نکلتے تو بہتر ہوتا !!!!!!!!!

سامنے اپنے کلاس ٹیچر کو پایا، انہوں نے خاموشی سے ایک طرف اشارے سے کھڑے ہونے کو کہہ دیا وہ شاید اس وقت سینما کے منیجر سے ہم لڑکوں کے متعلق ہی کوئی ایک ایکشن پلان بنا رہے تھے، اور اسی دوران انہوں نے ہمیں اپنے پاس بلایا اور ایک ہاتھ سے میرے کان پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے دوسرے دوست کے کان پکڑے اور ساتھ ساتھ گھماتے ہوئے مروڑتے رہے، اور اسی طرح دونوں کو سب کے سامنے کان مروڑتے ہوئے اسکول کا رخ کیا اور ساتھ ہی کچھ سوال بھی پوچھتے جارہے تھے، ویسے سارے سوال جواب اب یاد تو نہیں ہیں لیکن ان کا انداز گفتگو اور ہمارے جوابات کا ملا جلا انداز کچھ یوں تھا، اگر جواب میں ہم کچھ دیر کرتے یا جھجکتے تو کانوں پر کچھ اور زیادہ دباؤ پڑ جاتا:

ھاں تو بیٹا بتاؤ تو کیسی فلم تھی؟؟؟
اچھی تھی !!!!!

اس فلم میں کون ھیرو تھا؟؟؟
محمدعلی!!!!!!

ھیروئین کون تھی؟؟؟
نیلو!!!!!!

اسکی اماں کون تھی؟؟؟
مینا شوری!!!!!

اچھا اس کی کچھ کہانی تو سناو،؟؟؟؟
کچھ یاد نہیں ہے پوری فلم ہم نے نہیں دیکھی تھی!!!!!!

چلو آج اسکول کے اندر، میں تم دونوں کو میں پوری فلم کی کہانی سناتا بھی ہوں اور ساتھ دکھاؤں گا بھی !!!!!!!!!!!!!!!!

جتنے تمھارے اچھے نام ہیں اور کرتوت تو سارے شیطانوں کی طرح ہیں!!!!

اسکول پہنچنے تک تو انہوں نے ہمارے کانوں کا تو حشر نشر کر ہی دیا تھا، کان بالکل شل ہوگئے تھے اور ساتھ ہی بہت دکھ بھی رہے تھے، ہمیں تو اس تکلیف کا اتنا احساس تو نہیں تھا لیکن جو آگے سزا ملنے والی تھی اسکی زیادہ فکر لاحق تھی کہ نہ جانے کیا ہونے والا ہے !!!!

جیسے ہی اسکول پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں پہلے ہی سے جن بچوں کو پکڑ کر لے گئے تھے، ان سب کو اسکول کے درمیان کے پارک میں مرغا بنایا ہوا تھا اور کوئی اگر بیٹھنے کی کوشش کرتا تو فوراً اسے پیچھے سے ٹھیک ٹھاک ایک ڈنڈے سے ٹھکائی ہوتی، یہ دیکھ کر تو ہماری سٹی ہی گم ہو گئی، آواز تو نکل ہی نہیں رہی تھی!!!!!

مگر اسکول کے اندر گھستے ہی کلاس ٹیچر نے ہمارے کان چھوڑ دئیے اور سیڑھیوں کے پاس ہمیں اپنی کلاس میں جانے کو کہا ہماری کلاس پہلے ہی فلور پر تھی، فوراً ہم دونوں بھاگے اور کلاس روم میں پہنچے تو کوئی بھی نہ تھا، سارے گیلری میں سے نیچے بچوں کو سزا ملتے ہوئے دیکھ رہے تھے، اور ہم دونوں نے بستے اپنی ڈیسک میں رکھے اور باھر گیلری میں آکر دوسروں کے ساتھ نیچے لڑکوں کا حشر دیکھنے لگ گئے، مگر ساتھ ساتھ اپنے اپنے کانوں کو سہلا بھی رہے تھے!!!!!!!

اور ہم دونوں حیران بھی تھے کہ ہمارے ساتھ اتنی مہربانی کیوں ؟؟؟؟

ھماری کلاس سے اس دن صرف ہم دونوں نے ہی آدھے دن کی چھٹی لی تھی اور وہ بھی اپنے کلاس ٹیچر کے کام ہی کی وجہ سے، انہوں نے کچھ ہمیں پیسے دیئے تھے کچھ باسمتی چاول کیلئے، جوکہ ہمارے ملٹری کوٹہ پر اس وقت والد صاحب کو کسی نہ کسی جان پہچان کی وجہ سے رعایتی دام پر اور اچھے قسم کے ملتے تھے، اور میں نے یہ کہہ کر چھٹی لی تھی کہ آج اسٹور جانا ہے اور آپکے لئےچاول لانے ہیں، اگر آپ اجازت دے دیں تو میں اپنے دوست کر لے جاؤں، تاکہ واپسی ہر کرائے کی سائیکل پر شام تک اسکول میں ہم دونوں چاول آپ تک پہنچادیں گے، شاید 10 سیر چاول تھے، اور ویسے بھی والد صاحب ہر ایک کی خدمت اسی طرح ہمیشہ کرتے ہی رہتے تھے، کیونکہ اس زمانے میں تمام راشن، جس میں آٹا، چاول، دالیں اور خاص کر چینی گھر کے ممبران کے مطابق بذریعہ راشن کارڈ ماہانہ کوٹہ کے صرف مخصوص گورنمنٹ کے راشن شاپس پر ہی ملا کرتا تھا اور ہمیں ملٹری کے کوٹہ پر کچھ زیادہ ہی مل جاتا تھا تو والد صاحب اکثر اسی بہانے سے بھی لوگوں کی ضرورتیں پورا کرتے رہتے تھے -

ماسٹر صاحب کے لئے اباجی نے چاول پہلے ہی سے لاکر گھر میں رکھے ہوئے تھے اور مجھے کہہ بھی دیا تھا کہ جب بھی موقعہ ملے تو انہیں پہنچا دینا یا انہیں کہہ دینا کہ گھر آکر خود لے جائیں، اور میں اس موقعہ کو کھونا نہیں چاھتا تھا، لیکن افسوس کہ ذرا سی ایک غلطی سے اس موقعہ کو فلم دیکھنے کے چکر میں وہ بھی نامکمل اور بےعزتی جو الگ ہوئی سو الگ، بے فضول ضائع کردیا، ویسے میری پلاننگ کبھی ضائع بےکار تو نہیں جاتی تھی، لیکن بس اس دفعہ مقدٌر نے ہم سے کچھ رخ ہی پھیر لیا تھا، اور فلم کے پیسے بھی اسی میں سے خرچ کردئے تھے، تاکہ کرائے کی سائیکل کے بجائے دونوں ملکر وہ چاول اٹھاکر اسکول تک پہنچا دیں گے،

اور وہ چاول ایسے تھے کہ اگر صرف جیب رکھ کر لے جاؤ تو جہاں جہاں سے گزرو گے اسکی مہک ساتھ ساتھ خوشبو بکھیرتی چلی جائے گی، اور اگر ایک گھر میں پک رہے ہوں تو پورے محلے میں پتہ چل جاتا تھا کہ آج کسی گھر میں یہ چاول پک رہے ہیں، اور یہ ہمارے ملک کے باسمتی چاول اب تک عام لوگوں کو دیکھنے کو بھی نہیں ملتے، کیا بات ہے میرے سوھنے دیس کی۔!!!!!!!!

فلم دیکھنے ہی کے لئے ہر ہفتے یا پندرہ دن کے اندر کوئی نہ کوئی ہم دونوں بہانہ تلاش کرلیتے تھے، مگر اس دفعہ نشانہ کچھ چُوک ہی گیا تھا، اور دوسری طرف ہمارے کلاس ٹیچر کو اس بات پر فخر بھی تھا کہ ان کی کلاس کے تمام لڑکے بہت ہی زیادہ لائق اور ہونہار ہیں اور پورے اسکول میں یہ بات مشہور تھی، مگر ہم دونوں نے ان کے اعتماد کو آخر ٹھیس پہنچا ہی دی، مگر پھر بھی کسی نہ کسی ظرح انہوں نے اپنے ساتھ ہماری عزت بھی رکھ لی ورنہ تو ہم دونوں بھی دوسرے لڑکوں کی طرح سب کے سامنے مرغے بنے ہوئے سزا پا رہے ہوتے،

بہرحال بڑی شرمندگی ہوئی، ویسے تو کبھی شرمندہ نہیں ہوئے کیونکہ ایسی حرکتوں میں تو ہم نے پہلے سے ہی “پی ایچ ڈی“ کیا ہوا تھا، لیکں اس دفعہ کچھ غیرت جاگی صرف اپنے کلاس ٹیچر کی وجہ سے جو واقعی بہت اچھے اور بہت مہربان بھی تھے، اور انہوں نے پہلے ہی تاکید کردی تھی کہ اپنے بارے میں کسی سے کچھ نہ کہنا، مگر پھر بھی کئی لڑکے، جنہیں اسی سلسلے میں سزا ملی تھی وہ بس اسی فراق میں لگے ہی رہے کہ ہم دونوں بھی تو فلم دیکھنے گئے تھے، ہم کیوں نہیں پکڑے گئے، کئی دفعہ انہوں نے ہمارے کلاس ٹیچر سے شکایت بھی لگانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انکو ڈآنٹ کر ٹال دیا!!!!!!!!!!!!!

اسی دن شام کو کلاس ٹیچر میرے گھر پہنچنے کے فوراً بعد ہی پہنچ گئے، میں ایک دفعہ پھر سہم گیا، اس سے پہلے ہی میں نے والد صاحب کو ان سے لئے ہوئے چاولوں کی قیمت کے پیسے دے چکا تھا، جو پیسے فلم میں خرچ ہوئے تھے، اسے والدہ سے کوئی اور بہانہ کرکے پورے کردئیے تھے، میں اس بات سے ڈر رھا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کلاس ٹیچر میری والد صاحب سے شکایت ہی نہ کردیں، میں بہت ڈرا ہوا اور سہما ہوا ان دونوں کے بیچ کھڑا تھا، اور کلاس ٹیچر میری والد صاحب سے شکایت کے بجائے تعریف ہی کررہے تھے بہت ہی اچھا محنتی اور لائق لڑکا ہے وغیرہ وغیرہ!!!!!!!!!

اور میں کچھ اور ہی سونچ میں لگ گیا کہ اب فلم دیکھنے کیلئے اور دوسری کونسی صورت اختیار کی جائے، کیونکہ یہ عادت بھی بہت بری طرح چپک گئی تھی !!!!!!!!!!
--------------------------------------------------
آجکل جو سیکنڈری اسکول کے واقعات جو سنا رہا ہوں، مجھے ان کا صحیح وقت اور تاریخ یاد نہیں ہے لیکن یہ1961 سے لےکر 1964 تک کے واقعات میں سے ہی ہیں، جب میں ساتویں اور آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھا، اور جو جو مجھے واقعات یاد ہیں وہی آپ تک پہنچانے کی کوشش کررہا ہوں اور لازمی بات ہے کہ جہاں میں نے ڈائیلاگ لکھے ہیں وہ اس وقت کے حالات اور واقعات کی روشنی میں لکھے ہیں، کیونکہ مجھے وہ واقعات تو یاد ہیں لیکں ڈائیلاگ کی حقیقی ڈلیوری ایک تسلسل کے ساتھ زبانی یاد نہیں ہیں، مگر اسی طرح کے ملتے جلتے الفاظوں کو اسی وقت کے بالکل قریب ترین واقعات کی روشنی میں ضم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، تاکہ کہانی کا تسلسل اور دلچسپی برقرار رہے،

کہتے ہیں نا کہ شکرخورے کو شکر ضرور مل جاتی ہے، اسی طرح اپنے اس فلموں شوق کیلئے ایک نئے راہ ہموار ہوتی نطر آرہی تھی، کیونکہ اسکول سے بھاگ کر تو اب فلم دیکھنے کا راستہ تو بند ہی ہوگیا تھا، کوئی اب نیا راستہ تلاش تو کرنا ہی تھا!!!!!!!!

والدصاحب اب ریزرو فورس میں تو آگئے تھے، لیکن ان کا بلاوا کبھی بھی آسکتا تھا، اور وہ گھر آکر بہت دُکھی تھے، کہ اب کیا کیا جائے، اب ایک چھوٹی سی پنشن سے کیسے گزارا ہو، وہ اسی فکر میں لگ گئے تھے، دو تیں دن ہوگئے تھے کہ ایک دن اچانک ان کے ملٹری کے زمانے کے دوست گھر پہنچ گئے وہ ہمارے دور کے ایک رشتہ دار بھی تھے، اور ایک کسی بڑی کنسٹرکشن کمپنی میں کسی اچھی پوزیشن میں فائز تھے -

آتے ہی سلام دعاء کی رسمی گفتگو کے بعد وہ اباجی سے کچھ یوں مخاطب ہوئے ارے سیٌد بھائی تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم ملٹری سے فارغ ہوگئے ہو، اباجی نے جواباً یہ کہا کہ نہیں نہیں یہ بات نہیں ہے، شاید مجھے کچھ سول کام اسی جگہ پر مل ہی جائے، مگر انکے دوست نے کہا کہ ایسا کرو کہ کل ہماری کمپنی میں کچھ انٹرویوز ہونے والے ہیں، فوراً پہنچ جاؤ، تمہارا کام ہوجائے گا، شاید اکاونٹس کلرک کی جگہ خالی تھی، یہاں ملٹری میں بھی وہ حولدار کلرک کے عہدہ پر ہی فائز تھے -

دوسرے دن والد صاحب وہاں پہنچ گئے، انہوں نے بعد میں آکر بتایا کہ وہاں پر تو بہت رش تھا مشکل ہے کہ سلیکشن ہو جائے، لیکن شام کو وہی دوست جنکا نام غالباً نقوی صاحب ہی تھا، گھر پہنچ گئے، وہ اس کمپنی کے اُس وقت ایڈمن آفیسر تھے، آتے ہی انھوں نے خوشخبری سنائی کہ سیٌد بھائی کل سے ڈیوٹی پر آجانا اور تقرری کا خطابی لیٹر، لفافے سمیت انہیں تھما دیا، جس میں تنخواہ کے ساتھ ساتھ کمپنی کے قواعدوضوابط تحریر کئے ہوئے تھے، تنخواہ شاید اس وقت 175 روپے تھی اور ساتھ ہی اؤرٹائم کا بھی کچھ ذکر خیر تھا -

دیکھئے اللٌہ تعالیٰ کی شان کہ ایک در بند ہوا تو اس نے دوسرا در فوراً کھول دیا، وہ فرشتہ صفت انسان اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن والد صاحب انکے لئے آخری وقت تک دعائیں کرتے رہے، اور ساری زندگی ان کی خدمت میں بھی گزاردی اسکے علاوہ وہ ایک سگے بھائی سے بھی زیادہ ان کاحق ادا کیا اور اپنا فرض نبھایا، ان کے دوست کہہ لیں یا رشتے میں چچازاد بھائی کہہ لیں، والد صاحب کے لئے تو وہ فرشتہ رحمت ہی بن کر آئے تھے، نقوی صاحب کو کسی اور ذریئے سے معلوم ہوا تھا کہ سید صاحب آج کل فوج سے فارغ ہوگئے ہیں، اور وہ یہ سنتے ہی دوڑے دوڑے گھر چلے آئے، اللٌہ کی شان ہے -

اس دن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انکی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا اور سب کو وہ اپنا کمپنی کی طرف سے جاری کردہ تقرری کا خط خوشی خوشی دکھاتے پھر رہے تھے اور بازار سے مٹھائی لاکر سب کو بانٹی بھی تھی، اور کافی اسی سلسلے میں دعوتیں بھی ہوئیں،

اور اب آپ لوگ کہیں گے کہ بات ہورہی تھی شکرخورے کی شکر کی اور یہ دوسرا موضوع کہاں سے آٹپکا، مگر میرے بھی ایک شوق کا راستہ گل ہوا تو ساتھ ہی ایک دوسرا موقعہ ہاتھ لگ گیا، جو اسی واقعہ کے ساتھ ہی کچھ ایسا لنک بناتا ہوا شروع ہوا کہ کافی عرصہ تک چلا اور چلتا ہی چلا گیا،!!!!!!!
----------------------------------------------------------
جنہوں نے اباجی کو نوکری دلا کر ان کی نظر میں جہاں ایک محسن بن گئے وہاں وہ میرے لئے بھی ایک بڑے کرم فرماء ہو گئے، اب ہر اتوار کو صبح چھٹی کے روز مجھے ان انکل کے گھر کچھ نہ کچھ اباجی کی طرف سے تحفہ یا نذرانہ لے کر جانا پڑتا تھا، حالانکہ انہوں نے کئی دفعہ منع بھی کیا لیکن اباجی بضد تھے، اور میرے لئے تو انکی ضد ہی میرے سینما کے شوق میں مزید اضافہ کا باعث بن گئی - ان صاحب نے اباجی کو گھر پر اور دفتر میں بھی کافی ناراضگی سے بھی منع کیا بس والد صاحب کا ایک ہی جواب ہوتا کہ میں تمھارا بڑا بھائی ہوں اور اور یہ میرا فرض ہے، اور یہ بچوں کے لئے ہے بس، وہ بھی گھر آکر اسی طرح تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے، جو میرے لئے ایک اور ڈبل خوشی کا باعث بن جاتا، والد صاحب کو بھی وہاں ہر ہفتہ والے دن جو ہاف ڈے ہوتا تھا اس دن دفتر میں بھی اچھا خاصہ اورٹائم بھی لگ جاتا تھا اور دیر تک بیٹھنے پر انہیں اس وقت لنچ ڈنر کا خرچ اور ٹیکسی کا کرایہ دفتر سے گھر تک نقد بھی مل جاتا،!!!!!!

والد صاحب شاید انہیں پیسوں میں سے جو لنچ، ڈنراور کنوینس کے نقد ملتے تھے، یہ تحفے تحائف چھٹی سے ایک دن پہلے ہی سے لاکر، میری ذمہ داری میں سونپ جاتے یا کبھی کبھی اسی دن مجھے بازار سے دلادیتے تھے، اور پہلی بس میں مجھے سوار کراکے گھر واپس چلے جاتے پہلے دن تو مجھے ان کا گھر ڈھونڈنے میں کچھ تھوڑی سی مشکل پیش آئی، لیکن اس مشکل سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ وہاں انکے گھر کے نزدیک ہی ایک سینما ھال سے شناسائی ہوگئی، جہاں ہر ھفتہ ایک نئی فلم لگتی تھی -

بس پھر کیا تھا کہ وقت کی ایسی پلاننگ کی تھی کہ، اتوار کو چھٹی والے صبح دس بجے کے وقت گھر سے نکلتا اور ان انکل کی امانت انکے گھر پہنچا کر جیسے ہی سینما حال کی طرف بھاگتا تو وہاں پرصبح گیارہ بجے کا مارننگ شو کے ٹکٹ کی کھڑکی کھلنے والی ہوتی یا چند منٹ باقی ہوتے، مگر میں تو ھمیشہ بلیک سے ہی بغیر لائن میں لگے ھوئے ٹکٹ خریدتا تھا، کیونکہ اتنا وقت ہوتا نہیں تھا کہ لائن سے ٹکٹ خرید سکوں، اس وقت وھاں پر چھ آنے کا ٹکٹ بلیک میں آٹھ آنے کا آسانی سے مل جاتا تھا،

مجھے والد صاحب راستے کیلئے، بس کا کرایہ اور کھانے پینے کیلئے ھمیشہ ایک روپیہ ضرور دیتے تھے لیکن کبھی حساب کتاب نہیں لیا، وہ بھی خوشی سے مجھے کہتے کہ جو بھی پیسے بچے وہ تمھارے ہوئے، بس کے کرائے میں آنے جانے تک کے کبھی چھ آنے تو کبھی آٹھ آنے لگ جاتے تھے، اور آٹھ آنے کا سینما ٹکٹ اور اگر دو آنے کا کوئی بند کباب خرید کر اپنی بھوک کو مٹاتا تھا ورنہ تو سینما کیلئے بھوک بھی قربان، اور تقریباً دوپہر کے ڈیڑھ بجے تک فلم ختم ہوجاتی، واپسی پر بھاگتا ہوا بس اسٹاپ پر پہنچتا، اور ایسی بس کے روٹ کو پکڑتا کہ مجھے دوسری بس کے روٹ پر پہنچنے میں آسانی ہو، اس طرح میرا آدھا گھنٹہ بج جاتا، ٹھیک دو یا سوا دو بجے تک میں گھر پر ہوتا، گھر آتے ہی ابا جی پوچھتے کھانا کھا لیا، میں جواباً یہی کہتا کہ ہاں کھا لیا، مگر بھوک تو سخت لگ رہی ہوتی، دو آنے کا بندکباب آخر کب تک پیٹ میں رہ سکتا تھا، کبھی کبھی تو وہ بھی پیسوں کی کمی کے سبب کھا بھی نہیں سکتا تھا، لیکن میں کسی نہ کسی طرح اماں سے کہہ کر کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے دوپہر کا بچا ہوا کھانا یا بےچاری میری خاطر کچھ نہیں تو انڈا ہی پراٹھے کے ساتھ تل لاتیں تھیں اور ساتھ میرے باقی بہں بھائی بھی شریک ہوجاتے تھے،

حالانکہ انکل اور آنٹی دونوں بہت ضد کرتے کہ کچھ کھا پی لو لیکن میں کہتا کہ بہت مشکل ہے پیٹ بھرا ہوا ہے، ناشتہ بہت زیادہ کرلیا تھا اب گنجائش نہیں ہے، کیونکہ اس وقت مجھے سینما کے تاخیر سے پہنچنے کی فکر زیادہ ستا رہی ہوتی تھی، اس بات کا بھی کسی کو پتہ نہ چل سکا،

مگر سوچنے کی بات یہ تھی کہ اباجی نے اس بات پر کبھی غور کرنے کی کوشش نہیں کی کہ آنے جانے میں چار گھنٹے انکے صاحبزادے کہاں لگاتے تھے؟؟؟؟؟؟؟؟

اس دور کی تمام نئی فلم میری نظروں سے بچ نہیں سکیں اور یہ کافی عرصہ تک چلا جبتکہ ان انکل کا وہاں سے تبادلہ نہیں ہوگیا ان کا تبادلہ کیا ہوا اپنے شوق کا بھی تبادلہ ہوگیا !!!!!!!!!!!!!!
-----------------------------------
فلم دیکھنے اور گھومنے پھرنے کا تو واقعی مجھے جنون کی حد تک شوق تھا، فلموں کا شوق تو آہستہ آہستہ فلموں کے معیار کا پیمانہ گرتے ہی کم ہونا شروع ہوگیا تھا، لیکن گھومنے پھرنے کا شوق اب تک رہا ہے اور وہ بھی اب عمر کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا جارہا ہے -

یہی وجہ تھی کے اس وقت پڑھائی کی طرف دھیان بہت کم ہوگیا تھا، اگر میں چاھتا تو کچھ تھوڑا بہت بھی پڑھائی کی طرف راغب ہو کر اچھے نمبروں سے آٹھویں جماعت میں کامیاب ہوسکتا تھا، اور مزید مشکل یہ کہ امتحانات کے دنوں میں مجھے ٹائیفایڈ ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے والد صاحب نے میرے اس خراب نتیجہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، وہ یہی سمجھے کہ اس بیماری کی وجہ سے ہی میں اتنے اچھے نمبر نہ لاسکا،

ویسے اس دفعہ بہت شرمندگی بھی محسوس ہوئی جو میری ملکہ باجی نے خوب شرم دلائی، کیونکہ وہ ایک میری رازداں بھی تھی اور وہ میری تمام اچھی بری عادتوں کو جانتی بھی تھیں، انہوں نے مجھے کافی حد تک سدھارنے میں کافی مدد کی، یہ ہر اتوار کی چھٹی والے دن جو میں چار گھنٹے اپنے کام کے ساتھ فلم بھی دیکھ کر آتا تھا اسکا علم ملکہ باجی کو بھی نہیں تھا لیکن ان کو شک ضرور تھا کہ میں فلم دیکھ کر ہی آتا ہوں،

بہرحال جب نویں کلاس میں پہنچا تو یہ سنڈے بازار کی مہم کا خاتمہ تو ہو ہی چکا تھا، اور کچھ میں بھی تقریباً ایک سال تک یہ ذمہ داری اٹھاتا اٹھاتا تھک بھی چکا تھا، اور اب یہ دل میں ٹھان لیا تھا کہ میں اب پڑھائی کی طرف توجہ زیادہ دو‌ں گا، اور ملکہ باجی سے یہ بھی قسم کھائی تھی کہ اس دفعہ اچھے نمبر لاؤنگا اور انہوں نے بھی اس میں میری کافی مدد کی، فلم دیکھنے کیلئے انہوں نے مہینے میں ایک دفعہ کی اجازت بھی دے دی، اور وہ مجھے اور ان کی چھوٹی بہن زادیہ کے ساتھ مل کر پڑھائی میں کافی مدد کرتی رہیں-

اور روز کے معمولات جیسے گھر کا پانی بھرنا، سودا لانا اور دوپہر سے اسکول وغیرہ، میں کوئی خاص کمی نہ آئی، صرف پڑھائی کی طرف کچھ زیادہ ہی توجہ ہوگئی، اس کے علاوہ کھیلنے میں تو بالکل کمی ہی کردی تھی، اور اس دفعہ نویں جماعت جو بورڈ کےچار پیپر کے ہی امتحانات میں بیٹھنا تھا اور باقی پانچ یا چھ پیپر میٹرک میں دینے تھے اور آرٹس گروپ تھا کوئی اتنا مشکل بھی نہ تھا، دل میں تو گرہ باندھ ہی لی تھی کہ ساری کوششیں اچھے نمبروں کو حاصل کرنے میں لگادی جائیں اور ہم تینوں کے اس طرح پڑھنے سے خاص طور پر والدین بہت خوش تھے کہ چلو اب ہمارا بیٹا کچھ تو محنت کرے گا باقی بہن بھائی بھی اپنی اپنی کلاسوں میں اچھا ہی پڑھ رہے تھے-

آخر وہ امتحانات کے دن بھی سر پر آپہنچے، اس دفعہ چاروں مضامین میں اچھے نمبر لے آیا والد صاحب بہت خوش ہوئے اور اس کا سہرا ہماری باجی کے سر تھا، سب لوگ خوش تھے، اور میں اس محلے کا پہلا لڑکا تھا جو اس سال میٹرک میں پہنچ گیا تھا اور اس وقت تو اپنی بڑی واہ واہ تھی، اور یہی کوشش میں نے میٹرک کے وقت بھی وہی رکھی، اور بلکہ کچھ اور اپنی محنت میں مزید کچھ ضرورت سے زیادہ ہی اضافہ کردیا-

دن تیزی سے گزرتے جارہے تھے اور سارے کا سارا دھیان بالکل پڑھائی کی طرف تھا، بس کبھی کبھی مصوری کا شوق کسی نہ کسی کی تصویر بنانے پر مجبور کردیتا اور جسکی رھنمائی بھی یہ دونوں بہنیں ہی کرتی تھیں، اور اب ہم تینوں نے زیادہ تر وقت پڑھائی کی طرف لگانا شروع کردیا اور میں اور باجی ہی اس وقت میٹرک کا ہی امتحان دے رہے تھے اسکول بھی ایک ہی تھا اور زادیہ نویں کلاس میں تھی، یہ خود اب مجھے تعجب ہورہا ہے جب میں ساتویں میں تھا تو بڑی مجھ سے ایک سال آگے تھی اور چھوٹی ایک سال پیچھے تھی، لیکن تعجب کی یہ بات ہے کہ میٹرک کے سالانہ امتحان باجی اور میں ایک ساتھ دے رہے تھے، صرف زادیہ ہی ایک سال پیچھے تھی کچھ ہوسکتا ہے کہ یادداشت میں فرق ہوگیا ہو ، یا باجی ہی ایک کسی کلاس میں رہ گئی ہوں یا ایک سال ویسے ہی ضائع ہوگیا ہو-

1965 کا زمانہ میٹرک کے امتحانات کے دن، میری 15 سال کی عمر ہوگی، ہم تینوں نے بہت محنت کی اور میں نے تو بالکل شرارتوں کی طرف سے بالکل ہاتھ ہی کھینچ لیا اور سنجیدگی اختیار کرلی، جبھی کوئی اور ایسا واقعہ بھی یاد نہیں آرہا تھا جس کے سنانے سے کوئی دلچسپی ہو اور کہانی آگے بڑہے، بس وہ اتنی جلدی سالانہ امتحانات کے دن بھی آگئے اور واقعی جو محنت کی تھی اس سے امید بھی تھی کہ اچھے نمبر آئیں گے مگر یہ بورڈ کے امتحانات تھے، کچھ ڈر بھی لگ رہا تھا -

امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد ہمارے اسکول میں ایک میٹرک کے طلباء کے رخصت ہونے کی الوداعی پارٹی نویں جماعت کے لڑکوں نے دی جو ھمیشہ سے دستور رہا ہے، اور سب دوستوں کو اس اسکول سے جدا ھونے کا بہت دکھ ہورہا تھا، لیکن دوسری طرف کالج میں جانے کی خوشی بھی ہو رہی تھی -

آخر وہ دن بھی آگیا جس کا بےچینی سے انتطار تھا، میں بھی اپنے دوستوں کے ساتھ جو اخبار لئے اپنے اپنے رول نمبر کی تلاش کررہے تھے، سب تو سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہوگئے تھے لیکن میرا رول نمبر نظر ہی نہیں آرہا تھا تھرڈ ڈویژن کے کالم میں بھی دیکھا کچھ نظر نہیں آیا میرے دوست بھی پریشان اور میرا تو دماغ خراب ہو گیا کہا کہ یہ تو ہوہی نہیں سکتا اگر سیکنڈ ڈویژن نہ سہی مگر تھرڈ ڈویژن میں تو پاس ہونا ہی چاہئے تھا-

اسی پریشانی میں، میں تو گھر بھی نہیں گیا اور اپنی قسمت کو کوستا ہوا اسی چوراہے کے پارک میں جاکر بیٹھ گیا جو میرا شروع سے اچھے اور برے وقت کا ساتھی رہا ہے!!!!!!!!!!!!!‌

میں پھر ایک نئی پریشانی کا شکار ہوگیا تھا، کہ اس دفعہ اتنی محنت کرنے کے باوجود ایسا کیسے ہوگیا، مجھے ویسے پکا یقین تھا کہ کہیں کوئی غلطی ضرور ہے، میں اسی سوچ میں بیٹھا تھا کہ دیکھا میرا ایک اور دوست سڑک کے دوسری طرف سے مجھے آوازیں دے رہا تھا، میں فوراً اٹھا اور جلدی سے سڑک عبور کرکے اسکے پاس پہنچا، اس نے کہا کہ تم نے اپنا رزلٹ دیکھا میں نے کہا کہ ہاں یار میں تو فیل ہوگیا، کس نے کہا کہ تم فیل ہوگئے دیکھو میرا اور تمھارا دونوں کے رول نمبر ساتھ ساتھ سیکنڈ ڈویژن کے کالم میں چھپے ہوئے ہیں، مبارک ہو، میری تو خوشی کا ٹھکانہ ہی نہ رہا، میں فوراً بھاگتا ہوا گھر پہنچا وہاں پر تمام محلہ ہی اکھٹا ہوا تھا اور سب ہمارے گھر والوں کو مبارکباد دے رہے تھے!!!!!!

میں فوراً مٹھائی لینے بازار بھاگا مگر پہلے ان دوستوں کے پاس دوسرے محلے میں بھاگا اور انہیں پکڑ کر پوچھا کہ تم نے میرا رزلٹ کیسے دیکھا کہ مجھے تو پریشان ہی کردیا، انہوں نے پھر وہی اخبار میں دوبارہ چیک کیا تو دیکھا کہ سیکنڈ ڈویژن کے بقایا نتائج دوسرے صفحے پر تھے، شکر ہے ایک بہت بڑا ایک اور دھچکا لگتے لگتے رہ گیا!!!!!!!

میرا تو خوشی کے مارے برا حال تھا، ملکہ باجی بھی سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہوگئی تھیں اور زادیہ تو اب شاید میٹرک میں پہلے ہی پہنچ چکی تھی، ہم سب خوشیوں سے لبریز اچھلتے کودتے پورے محلے میں یہ خوشخبری سناتے پھر رہے تھے!!!!!!!!
-------------------------------------
جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-11-10), فیصل ناصر (01-11-10), پاکستانی (13-11-10)
پرانا 02-11-10, 05:01 PM   #24
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جوانی کی طرف رواں دواں سفر-1

میرا تو خوشی کے مارے برا حال تھا، ملکہ باجی بھی سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہوگئی تھیں اور زادیہ تو اب شاید میٹرک میں پہلے ہی پہنچ چکی تھی، ہم سب خوشیوں سے لبریز اچھلتے کودتے پورے محلے میں یہ خوشخبری سناتے پھر رہے تھے!!!!!!!!

ادھر ھمارے سیکنڈری اسکول میں میٹرک کا دور ختم ہوا اور ادھر جنگ کے آثار شروع ہوگئے، والد صاحب کا بھی ملٹری سے بلاوا آگیا، 1965 کا سال تھا، وہ بھی کمپنی سے مختصر چھٹی لے کر واگہہ بارڈر چلے گئے، سب نے انہیں بڑی گرم جوشی سے رخصت کیا، میری عمر 15 سال کے لگ بھگ ہوگی، پہلی دفعہ ہمیں اس جنگ سے واسطہ پڑا تھا، مجھے یاد ہے کہ ھر گھر کے صحن میں ہی لوگوں نے مل جل کر گڑھے کھود کر قندقیں بنائی ہوئی تھی، جیسے ہی خطرے کا سائرن بچتا تھا، ہم سب اس میں گھس جاتے تھے، والد صاحب جنگ پر گئے ہوئے تھے، مرد حضرات تو باہر ہی رہتے یا کسی باہر میدان میں جو قندقیں بنائی تھیں وہاں چلے جاتے تھے، گھروں کی قندقوں میں صرف عورتیں اور بچے جنہیں بڑی بوڑھی ہی سنبھال رہی ہوتی تھیں، وہ پورے محلے کے لوگ بالکل ایک جہتی اور خلوص و محبت کے ساتھ ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے، اپنوں سے بڑھ کر،!!!!!!

ہماری والدہ بھی ہم سب کو سمیٹ کر کچھ ڈری ڈری سی بھی سب کو آوازیں دیتیں اور قندق میں ھم سب کو لے کر گھس جاتیں، محلے کے دوسرے گھروں کے بچے بھی ہمارے ساتھ ہی ہوتے جو ہمارے ساتھ کھیل رہے ہوتے تھے، ویسے تو ہر گھر کے صحن میں سب لوگوں نے اپنی اپنی قندق بنائی ہوئی تھی، اور بچوں کو پہلے سے ہی بتا دیا گیا تھا، کہ جس وقت بھی سائرن بجے، جو جہاں ہے اسی گھر کے قندق میں چلا جائے، رات کو تو سائرن بجتے ہی سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی روشنیاں بجھا دیتے تھے، اور مکمل اندھیرا ہوجاتا تھا، پھر جنگی ہوائی جہازوں کی آوازیں آتیں اور ہم اپنی انہی گردنیں باہر نکال کر اوپر آسمان پر اپنے ملک کے بہادر ھوابازوں کو نیچی پرواز کرتے دیکھتے تو نعرے بھی لگاتے لیکن والدہ ہمیں پھر نیچے کھینچ لیتی اور ڈانٹ بھی پڑتی تھی، جب جنگ ختم ہوئی اورکچھ دنوں بعد ہی والد صاحب بھی واپس آگئے اور پھر سے جنگ کے پعد زندگی معمول پر آگئی،!!!!!!

سیاست اور ملکی معشیت پر کیا اثر پڑا اس کا اس وقت تو اندازہ تو نہیں تھا اور نہ ہی عام لوگوں میں کوئی اتنی سیاست کی سمجھ بوجھ تھی، لیکن عام تاثر یہی تھا کہ 1965 کے بعد ملکی حالات میں کافی تبدیلیاں آئیں، مہنگائی کا دور آہستہ آہستۃ پروان چڑھتا چلا گیا، مگر اس کے تناسب سے آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا، جس کی وجہ سے ملک میں کرپشن، رشوت اور بلیک میلنگ کا دور بھی چھوٹے پیمانے سے بڑھ کر بڑے پیمانے میں داخل ہوگیا 1971 کے جنگ کے بعد تو برائیوں کی جڑیں اور بھی مضبوط ہوگئیں، اور اب تک اس طرح جاری ہے، مگر جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ!!!!!!!!!

کسی چیز پر کوئی کنٹرول نہیں رہا، لوگوں کا صبر ختم ہوگیا، حرص اور ہوس، تعصبیت، حسد اور لالچ لوگوں کی نس نس میں گھستی چلی گئی، لاقانونیت بڑہتی چلی گئی، اور نشہ کا زہر شراب، چرس، افیوں کے بعد ہیروین اور دوسرے خطرناک جان لیوا منشیات کا کاروبار سرعام ہونے لگا، اور اب ہر گلی کوچے میں کہیں نہ کہیں یہ زہر پھیلانے کے اڈے بڑے بڑے اثر رسوق کی پشت پناہی اور سرپرستی میں چل رہے ہیں، ان تمام وجوہات کی بناء پر ہماری تین نسلیں اس کا بری طرح شکار ہوئی ہیں، اب ہم خود اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کیا کبھی ہماری نوجوان نسلوں کو اس طرح کے حالات میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوکر اپنے ملک کا نام روشن کرنے کا موقع ملے گا -

اب بھی ہمارے پاس موقعہ ہے اب ہم اپنی آنے والی چوتھی نسل کو اس سے بالکل بچا سکتے ہیں، یہ ہماری ہی اولاد ہیں ہمارے ہی جگر کا ٹکڑا ہیں، اب بھی ہم چند روپوں کی لالچ میں آکر انکے مستقبل کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، آج آپ صرف یہ سوچ لیں کہ ہم جس لڑکے اور لڑکی کو غلط راستے پر ڈال رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کل کو آپ کے بیٹے یا بیٹی کو بھی کوئی اسی طرح غلط ماحول سے آشنا کراسکتا ہے،

اور ہم جو اتنی بڑی بڑی معاشرے کی برائیوں کو روکنے کیلئیے تقریریں کرتے ہیں اور بڑے بڑے اجتمعات میں جاتے ہیں، لمبے لمبے مباحثوں میں نیک کاموں کیلئے شریک ہوتے ہیں،
کیا ہم یہ کوششیں سب سے پہلے اپنی گلی اور اپنے محلے میں ان خرافات اور برائیوں کو روکنے کیلئے کوئی مل جل کر قدم اٹھا نہیں سکتے،؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

کیا ہم یہ کوشش اپنے گھر سے شروع نہیں کرسکتے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

ایک واقعہ چند محلے کے معزز حضرات نماز پڑہنے جارہے تھے، اور انہوں نے اپنی گلی میں ہی ایک بچے کو ایک غنڈے سے نہ جانے کس بات پر بری طرح مار کھاتے ہوئے دیکھا اور وہ معزز حضرات بغیر کسی مداخلت کئے ہوئے آگے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھ گئے اور کسی کے پوچھنے پر یہی کہا کہ نماز کو دیر ہورہی ہے اور پھر ہم شریف لوگ ہیں، پولیس کچہری کے چکر میں نہیں پڑتے، محلہ کا بچہ اور محلہ کا ہی غنڈہ، کیا کسی مضلوم کی کی کسی ظالم کے پنجے سے جان چھڑانا ایک جہاد نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اللٌہ کے آحکامات سے زیادہ آپکے محلے کے اس اکیلے غنڈے سے ڈر لگتا ھے -

کسی نہ کسی محلے اور اسکی گلی میں پان کی دکان ہو یا کوئی چھوٹی سی نکڑ پر دکان ہو کہیں نہ کہیں یہ نشے کی زہر کا سامان کسی نہ کسی شکل میں بکتا ہے اور ہم تمام جو معزز لوگ کہلاتے ہیں، ان کو اس بارے میں پتہ بھی ہے اور ایک کونے میں پولیس کی موبائیل بھی کھڑی ہے، آپ کے بچے گھروں میں چوریاں کرکے اپنے نشے کی عادت کو پورا نہیں کرتے ہیں،؟؟ اگر گھر میں چوری نہ کرسکیں تو یہی آپکے بچے مجبور ھوکر اسی دکان پر لوگوں کی جیبوں پر ھاتھ صاف کرتے ھیں اور نقدی کے علاوہ موبائیل سیل بھی سب کی نظروں کے سامنے سے اڑا لے جاتے ہیں، یہاں پر وہ جہاد کا فلسفہ کہاں چھپ جاتا ھے، ہر برائی کو ختم کرنا بھی ایک جہاد ہے، مگر ہم سب ملکر سڑکوں پر گھیراؤ اور جلاؤ کرنے تو نکل آتے ہیں، مگر کبھی اکھٹا ہو کر ان برائیوں کو روکنے کیلئے سامنے نہیں آتے، ارے بھائی یہ بھی تو جہاد ہے، چار پانچ آدمی اپنے ہی محلے میں چھوٹی سی برائی کو ختم کرنے کیلئے ایک بدمعاش کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اسلام کو بچانے کی، !!!!!!!!

آج کل ہم میں سے اکثر شریف عزت دار لوگ 1965 کے بعد ہی سے اپنے ملک کو چھوڑ کر باہر کا رخ کرنے لگے، پہلے کبھی پاسپورٹ بنانا بہت مشکل تھا، لیکن آنے والی حکومتوں نے پاسپورٹ کا اجراء کچھ آسان کردیا ایجنٹوں کا دھندہ سرعام ایک اور نشہ کی طرح پھیلتا گیا کئ معصوم شریف لوگ ان ایجنٹوں کے چکر میں آکر لاکھوں روپیہ اپنے گھر کے زیورات مکانات اور جو بھی چھوٹی موٹی جائیداد تھی وہ بھی بیچ کر ان کی جیبیں بھریں اور جائز ناجائز طور سے دوسرے ملکوں میں کمانے کی غرض سے داخل ہوئے اور اب تک اسکی سزا بھگت رہیں ہیں، اور پھر بھی کوئی اثر نہیں ہوتا، اب بھی چلے آرہے ھیں اور کئی تو یہاں بیٹھ کر پچھتا بھی رہے ہیں،!!!!!

معاف کیجئے گا کچھ جذباتی ہوگیا ہوں، نہ ہم اپنے لئے کچھ کرسکے اور نہ ہی اپنے ملک کے لئے کچھ نام کے آگے کوئی اسٹار لگا سکے، بچوں کی فکر میں کہ وہ وہاں کوئی غلط صحبت یا کسی بری لت میں نہ پڑ جائیں اور بیویوں کی جدائی بھی برداشت نہ کرتے ہوئے کافی روپیہ مزید خرچ کرکے سب کو یہاں بلوا بھی لیا، اب یہ صورتحال یہ ہے نہ اپنے گھر کے رہے اور نہ گھاٹ کے رہے، نہ کوئی پیسہ بچا سکے جس نے بھی کچھ بھیجنے کی کوشش کی یا ضرورت کے تحت بھیجا بھی تو وہاں کسی اور محسن کے قبضے میں چلا گیا یا کسی کے ساتھ کاروبار میں لگا کر بندہ برباد ہو گیا اور اگر خود گیا تو گھر پر پہنچنے سے پہلے ہی لٹ گیا ورنہ گھر پر ہی ڈاکہ پڑنے کی اخبار میں سرخی لگی ،

اب جب بھی اپنے ملک جاتے ہیں، تو بالکل ایک مہمانوں کیطرح سلوک ہوتا ہے اپنائیت کے بجائے ایک اجنبئیت محسوس ہوتی ہے، اور ڈرتے رہتے ہیں کہ کسی کو اپنے گھر میں ہی پتہ نہ چل جائے کہ ہم لوگ باہر سے آئیں ہیں اور وہاں کے لوگ بھی اب ہم سے اتنا ڈرتے ہیں کہ رات کو ہم کہیں رک نہ جائیں کیونکہ اگر کسی مخبر کو پتہ چل گیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈاکہ بھی پڑے اور اخبار میں تصویروں کے ساتھ لوگوں کا مجمع بھی گھر پر تعزیت کیلئے لگا رہے!!!!!!!!

ہم جیسے کئی ایسے بھی ہیں کہ بڑے ہونے کے ناتے تمام گھر والوں کی ذمہ داریاں اپنا فرض سمجھ کر نبھاتے رہے، جب سب بہن بھائی بڑے ہوگئے اور اپنی اپنی تعلیم پوری کرکے، اپنے اپنے روزگار اور گھروں کے ہوگئے، ملنا تو چھوڑیں، سلام دعاء سے بھی گئے، اور جو کچھ والدیں کا بچا کھچا اثاثہ تھا، خریدوفروخت کرکے یہ کہہ کر ھضم کر گئے کہ آپ کو کیا کرنا ہے آپ تو باہر ہیں آپ کے پاس تو کافی مال ہوگا،

اب ہماری باری آئی ہے کہ اب ہمیں کسی سہارے یا مدد کی ضرورت ہے، تو سب نے اپنے اپنے منہ موڑ لئے، مگر اب بھی ایسے خدا ترس لوگ موجود ہیں، جو واقعی ہم لوگوں کی حالت کو جانتے ہیں وہ اب بھی ہماری ہر لحاظ سے دل کھول کر مدد کرتے ہیں، جبکہ وہ اپنے ملک میں ہیں، اور اب ہمیں اپنے حال پر شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم یہاں پر ہوکر بھی اپنے لئے، اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں کرسکے، کئی بچوں کی تعلیم ہی ادھوری رہ گئی، اور جب چھٹی جاتے ہیں اور واپسی پر پھر ایک اور سال بھر کا قرضہ چڑھا کر آجاتے ہیں اور پھر سال بعد جب پہلا قرضہ ختم ہوجاتا ہے تو پھر سے چھٹی جانے کی تیاری کرتے ہیں،

اسی گردش میں اپنی ساری عمر تمام ھوگئی، لیکں پھر بھی اللٌہ کا شکر ھے کہ بات اب تک بنی ہوئی ھے،!!!!!!!!!!!!!!!!!

بس کبھی کبھی دل اداس ہوتا ہے تو دل کی ساری بھڑاس نکال لیتا ہوں، ورنہ ہم لوگ کیا کرسکتے ہیں، ہم نے تو خود اپنے پیروں تلے گڑھے کھود رکھے ہیں، ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل خود اپنے ہاتھوں سے ہی تباہ کردیا ہے، یہلی نسل کو تو سوچنے کا موقعہ ہی نہ ملا، دوسری نسل کو برے معاشرے نے ہاتھوں ہاتھ لے لیا جب تیسری نسل سامنے آئی تو وسائل کی کمی کا شکار ہوگئی، جس کا ذمہ دار وہ ہمیں ٹہراتی ہے!!!!!!!!

اب ہم اپنا کیا بتائیں کہ ہم نے بھی ڈر کے مارے اپنے ملک کو اس وقت چھوڑا جس وقت ملک کو ہماری سخت ضرورت تھی، ہمارے ملک کے اچھے اچھے ٹیلنٹڈ ھنر مند لوگوں نے اپنی اپنی ساری ایمانداری اور محنت اپنے ملک میں انجام دینے کے بجائے دوسرے ملکوں میں جاکر ان کو فائدہ پہنچایا اور ساتھ اپنے پورے خاندان در خاندان کو بھی ساتھ لے گئے، ہماری سونا جیسی اگلتی زمینوں کو تقسیم کرکے، کچھ بیچ کر ایسے لوگوں کے ہاتھ فروقت کر آئے جنہوں نے اس پر ہل کے بجائے بلڈوزر پھرواکر کالونیاں اور بلند و بالا اسٹینڈرڈ کی سوسائٹیاں بنانے اور جو کچھ بچی تھیں وہ ان معصوم کسانوں سے انہیں کی زمینوں پر ہل جتوا کر انکے آباؤاجداد کا قرضہ اب تک وصول کررہے ہیں،

پھر بھی ہمارے ملک کے کچھ محنت کش کسان سارا سال محنت کرتے ہیں لیکن ان کی یہاں پھر بھی فاقے ہی فاقے ہیں، ان کی محنت کا اصل سرمایہ تو بڑی بڑی تجوریوں میں بند ہے، بڑے بڑے ذخیرہ اندوزوں کے محلات میں ائرکنڈیشنڈ گوداموں میں بند ہے جو مصنوعی قلت پیدا کرکے مال کو آہستہ آہستہ اپنے گوداموں سے نکال کر بلیک میں بیچتے ہیں یا اسمگل کردیتے ہیں اور صارفین کے ہاتھوں تک پہنچتے پہنچتے ان کی قیمتیں دس، بیس گنا بڑھ جاتی ہیں،

ہمارے ملک میں کھیتوں کے کھیت، اور پھلوں اور سبزیوں کے باغوں کے باغ جن پر کسانوں نے دن رات محنت کرکے فصلوں کو سبزیوں اور پھلوں کو تیار کرتے ہیں وہ صرف چند ہی لمحات میں اور تھوڑی سی رقم کی عوض وہ زبردستی نیلام ہوجاتے ہیں، کسان اپنی مرضی سے اپنے ہی ہاتھوں سے اُگایا ہوا مال اپنے ہاتھوں سے مارکیٹ میں نہیں بیچ سکتا اور نہ ہی تھوک مارکیٹ میں مال لے کر داخل ہوسکتا ہے-

کبھی ہمارے سیاست دانوں نے ان حالات کی ظرف بھی غور فرمایا ہے کہ جس ملک کی معیشیت ہی مکمل طور پر زراعت پر منحصر ہے، وہ کس طرح بے چینی کا شکار ہے ہم اگر اپنے وطن سے ذرا سا بھی مخلص ہوں تو اپوزیشن میں بھی رہ کر اپنے وطن کے تمام مسائل کو بہت اچھی طرح حل کیا جاسکتا ہے، مگر افسوس اس بات کا ہے ہر چاہے کسی بھی اسمبلی کا ممبر ہو یا حکومت کا نمایندہ ہو اپوزیشن میں ہو یا اقتدار میں ہو، جو بھی الیکشن میں جیت کر اپنی اس سیٹ پر بیٹھ کر پورے ملک کے عوام کی ترجمانی کرتا ہے، سب سے پہلے تو وہ یہ سوچتا ہے کہ جتنا مال روپیہ پیسہ الیکشن میں لگایا ہے اسے کم سے کم ڈبل تو کرلیا جائے پھر ملک کے بارے میں سوچیں گے، اسی دوران حکومت ہی ختم ہوجاتی ہے یا اسمبلی ہی ٹوٹ جاتی ہے، ایک بھوکے کا پیٹ بھرتا ہی نہیں تو دوسرا اپنا پیٹ خالی لئے کھڑا ہوتا ہے،

اس سیاست داں سے زیادہ مالدار اور بڑا وسیلہ تو کسی بھی گورنمنٹ کے محکمہ کا چپراسی ہوتا ہے، جو آپکا کام اگر کسی منسٹر سے نہ ہو تو یہ چپراسی کچھ رقم کے بدلے آپکا کام منٹوں میں کراسکتا ہے،

کبھی ہم نے ہمارے پیغمبروں کے دور حکومت کے بارے میں کبھی سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کبھی ایک مسلمان ہونے کے ناتے اس اس دور کے حکمران اور رعایاء سے رشتہ کے تعلقات کو پہچاننے کی کوشش بھی کی ہے، ؟؟؟؟

اگر ھم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، تو ہم کہیں پر بھی، کسی جگہ بھی، کسی مقام پر بھی ہوں، اپنے اپنے فرائض ایمانداری اور نیک نیتی سے انجام دیں تو ہم ہی نہیں بلکہ ہم اپنے ملک کی ترقی میں بھی حصہ لے سکتے ہیں، !!!!!!!!
----------------------------------
اسی گردش میں اپنی ساری عمر تمام ہوگئی، لیکں پھر بھی اللٌہ کا شکر ھے کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے!!!!!!!

اپنی کہانی کو شروع کرتا ہوں مگر پھر کچھ ایسی تلخیاں سامنے آجاتی ہیں تو لکھے بناء رہا بھی نہیں جاتا کیا کریں مجبوری ہے، بات ہورہی تھی کہ ہم لوگوں نے باھر آکر اپنے لئے اور اپنے ملک کیلئے کیا کچھ کیا، بلکہ یہ سوچیں کہ،!!!!!!


کیا کھویا کیا پایا
جو بھی کمایا لٹایا

بچوں کی پڑھائی تو ویسے ہی برباد کردی، کچھ نے تو اپنے بچوں کو ، کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں بھی بھیجا وہ تو وہاں جاکر وہیں کے ہوکر رہ گئے، واپس آنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی، کچھ نے تو وہیں شادی کرکے اپنا ڈیرا مکمل طور سے ڈال لیا، کچھ گوری میموں نے تو بھتہ بھی وصول کرنا شروع کردیا، کئی نے تو بے چارے والدیں کو بلا کر وہیں بیگم کے نیچے ہی نوکرانیوں جیسا سلوک شروع کردیا، اب آپ سچ پوچھیں تو وہاں کا ماڈرن معاشرہ آپکے بچوں کو ڈانٹنے کا بھی حق نہیں دیتا، کبھی کبھی تو والدین اپنے ہی بچوں کی زیادتیوں کی وجہ سے ہی عدالت میں کھڑے اپنی سزا اور جرمانے کے منتظر ہوتے ہیں،

آج جب بھی والدین کسی نہ کسی طرح زبردستی اپنے بچوں کو پاکستان لے کر آتے ہیں تو آپ کو کیا جواب ملتا ھے، سنئے!!!

ممٌا پاپا !!!! اپ ھم کو کدہر کو لایا ادہر کیا ہے بالکل کچرا ہی کچرا ہے، “بیک ورڈ“ لوگ ادھر کو رہتا، یہ ٹھیک نہیں ہے وہ ٹھیک نہیں ہے گرمی بہت ہے، ائر کنڈیشنڈ نہیں ہے ادھر بوڑھا بوڑھا لوگ ہمارا مذاق اُڑاتا ہے، ابھی ہم کل ہی واپس جانے کو مانگتا ہے، وہاں ہمارا دوست “جمٌی یا کمٌی“ ہمارا انتظار کرتا ہوئے گا، اور ہمارا پاسپورٹ واپس کرو ورنہ!!!!!!!!

یہ تو ہے یورپ اور امریکہ میں رہنے والوں کی پوزیشن جن کے بچے انکے اپنے ہی قابو میں نہیں ہیں تو وہ پاکستانی کلچر کو کیسے اپنائیں گے، یہاں شادیاں کرکے اپنے گھر کیسے بسائیں گے، لوگ کوشش تو بہت کرتے ہیں کہ یہاں سے کسی نہ کسی لڑکے یا لڑکے کو خرید کر وہاں لے جائیں اور اپنے بچوں کی طرح انکی زندگی کو بھی ایک عذاب میں ڈال دیں کبھی ہم میں سے کسی نے بھی اپنی بیٹی کی خبر لی بھی ہے جسے بڑی دھوم دھام سے بیاہ تو دیا لیکن وہ وہاں کیسے جی رہی ہے اگر پتہ بھی چل جائے تو کیا کرسکتے ہیں، اگر لڑکے کو وہاں وداع کیا ہے تو اسے تو بالکل بھول ہی جائیں تو بہتر ہی ہے،

اور ہم جیسے والدیں جو برسوں سے یہاں مڈل ایسٹ میں اپنے بچوں کے ساتھ پڑے ہوئے ہیں ان کی کیا زندگی ہے، پاکستاں چھٹی جاتے ہیں تو بچوں کو وہاں کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی کوئی علاقہ اچھا نہیں لگتا، وہ بھی ائرکنڈیشنڈ کی بات کرتے ہیں، کیونکہ گرمیوں میں ہی چھٹیاں ملتی ہیں، یہاں ائرکنڈیشنڈ کی وجہ سے ہی بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، دھوپ میں کچھ دیر بھی کھڑے ہونے کی عادت نہیں ہے، ورزش کا یہاں کوئی رواج ہی نہیں ہے، انٹرنٹ کے عادی بن چکے ہیں اب تو ہر بچے کے پاس اس کا اپنا موبائیل، باپ کے پاس گاڑی ہو نہ ہو بیٹوں کے پاس گاڑیاں بھی ہیں اور شکر ہے کہ سعودیہ میں تو عورتوں کو گاڑی چلانے اور بغیر عبایہ کے باھر نکلنے پر پابندی ہے، ورنہ یہاں بھی عورتیں گاڑی دوڑاتی نظر آتیں،

نہ ہم یہاں کے رہے نہ اپنے ملک کے رہے، بس یہاں ایک خوش قسمتی سے عمرہ اور حج کرنے کی سہولت اور روضہ مبارک(ص) کی زیارت تو ممکن ہے جس سے اب تک بہت سے لوگوں کا ایمان اب تک تازہ ضرور ہے، اور کچھ نہیں تو کم از کم زیادہ تر لوگ پانچوں وقت کی نمازیں تو ادا کرتے ہیں،!!!!!!!!!!!

چلئے پھر وہیں سے اپنی یادوں کو سمیٹتا شروع کرتا ہوں، جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا،!!!!!!

ادہر ھمارا سیکنڈری اسکول میں میٹرک کا دور ختم ہوا اور ادھر جنگ کے آثار شروع ہوگئے، والد صاحب کا بھی بلاوا آگیا، وہ بھی کمپنی سے مختصر چھٹی لے کر چلے گئے، سب نے انہیں بڑی گرم جوشی سے رخصت کیا، بہرحال جنگ ختم ہوئی اور ساتھ ہی والد صاحب بھی واپس آگئے اور پھر سے جنگ کے پعد زندگی معمول پر آگئی،

آج جب میٹرک سے فارغ ھوئے تو ایسا لگا کہ کھلی فضا میں سانس لے رہے ہوں، اس وقت تو میٹرک کرنا ایک بہت بڑی خوش نصیبی سمجھی جاتی تھی، میٹرک پاس کرنے والا تو ایسا مشہور ہوجاتا تھا کہ دور دور سے لوگ اسے مبارکباد دینے چلے آتے تھے، اور آج کل کوئی ماسٹر بھی کرلیتا ہے تو کوئی پوچھتا ہی نہیں!!!!!!

اب کالج میں داخلے کے لئے لوگوں سے مشورے شروع ہوگئے والد صاحب بضد تھے کہ میں کامرس اور اکاونٹس کو لے کر آگے چلوں اور میرا خیال آرٹ، مصوری، اور اردو ادب سے تھا، جس کے لئے میں آرٹس کونسل آف پاکستان میں داخلہ لینا چاھتا تھا، تاکہ اپنے شوق کو پروان چڑھاؤں، لیکن والد صاحب نے میری ایک نہ سنی بلکہ فوراً ہی اسلامیہ کامرس کالج میں صبح کی شفٹ میں داخل کرادیا -

مجبوری تھی ورنہ تو میرا بالکل بھی دل نہیں چاھتا تھا کہ کامرس گروپ لوں، خیر کیا کرتا اباجی کے آرڈر تھے، ماننا پڑا اور چل دئیے دوسرے دن سے اسلامیہ کالج، والد صاحب کو یہ کالج کا نام اچھا لگا، جبکہ اور بھی اچھے اچھے کالج تھے، ویسے اس کالج کی بلڈنگ بہت خوبصورت اور بہت بڑی تھی، اس کالج میں کامرس کے علاؤہ سائنس اور آرٹس گروپ بھی تھے، اور ان کے رخ اور گیٹ بھی الگ الگ تھے، ساتھ ھی مزارِ قائدآعظم چند قدم کے فاصلے پر تھا، اور کالج کے میں گیٹ کے سامنے روڈ پر ایک چوراہے کے بیچ دنیا کا بہت بڑا گول گلوب بنا ہوا تھا، جب چاہو اس کے گرد گھوم کر بغیر ٹکٹ دنیا کی سیر کرلو اور اس سے اسلامیہ کالج کا نظارہ بھی بہت ہی خوبصورت لگتا تھا، ہمارے کالج کے سامنے ایک انجیرنگ کالج بھی تھا جس کا نام شاید داؤد انجینئر کالج تھا،

پہلے دن میں کچھ زیادہ ہی اسکول کی طرح کتابیں اور کاپیاں کا بوجھ لاد کر لے آیا جبکہ دوسرے لڑکے صرف ایک ہی پلاسٹک کی فائیل لے کر آئے تھے، مجھے یہ دیکھ کر تعجب بھی ہوا، بہرحال پہلا دن تھا تعارفاتی پروگرام میں ہی سارا دن گزر گیا، ہاف ٹائم میں بھی بس اکیلا ہی گھومتا رہا، کینٹین گیا ایک شوقیہ طور پر چائے منگوائی، مگر کوئی دوست نہ بنا پایا، اور کوئی بھی میرے اسکول سے یہاں داخلہ لینے نہیں آیا، بس مختصر سی علیک سلیک ہوئی اور کوئی خاص لفٹ نہیں ملی، کلاس میں کرسی سے ہی ایک جڑی ھوئی صرف فائیل رکھنے کی ایک چوڑی سی جگہ بنی ہوئی تھی، اور اسکول کی طرح کوئی ڈیسک وغیرہ نہیں تھی،

دوسرے دن سے باقائدہ طور سے کلاسس شروع ہوگئی تھیں،ایک اور چیز نے پھر مجھے تعجب میں ڈال دیا کہ اسکول میں ہر پیریڈ کے بعد تو ٹیچرز کلاس روم میں آتے تھے، لیکں یہاں اسٹوڈنٹس کو لیکچرار کے کمرے میں جانا پڑتا تھا، ہر ایک کے پاس ہر کلاس کا ٹائم ٹیبل بھی تھا، یہ بھی میرے لئے ایک نئی چیز تھی، اس کے علاؤہ لڑکیاں بھی ساتھ ہی پڑھتی تھیں مجھے اس بات کی حیرانگی بھی ہوئی کہ پرائمری اسکول میں بھی لڑکیوں کا ساتھ تھا اور پھر کالج میں بھی لڑکیوں کا ساتھ دیکھا لیکن سیکنڈری اسکول میں لڑکیوں کو ایک ساتھ پڑھتے نہیں دیکھا، ہوسکتا ہے کہ اس میں بھی کوئی منطق شامل ہو، ہمیں کیا، ہمیں تو پڑھائی سے ہی غرض رکھنا تھا -

مجھے تو اور بھی زیادہ خوشی ہوئی کہ صرف ایک ہی فائیل لے کر جانا پڑتا تھا، اور سب سے بڑی بات یہ کہ کوئی حاضری بھی نہیں لگتی تھی اسکے علاؤہ بغیر یونیفارم کے، میرا مطلب ہے کہ کوئی بھی ڈریس پہن کر اسکول جاسکتے تھے ، ہر کسی کو دیکھا نئے نئے اسٹائیل کے کپڑے، ہیرو کے اسٹائیل کے بال سیٹ کئے ہوئے، دھوپ کا بلیک چشمہ لگائے جیمز بونڈ کی طرح چلتے ہوئے کالج میں داخل ہوتے تھے، اور لڑکیاں تو ان سے دو ہاتھ آگے تھیں، ان لڑکوں کو زیادہ تر لڑکیوں کے گروپ کے ساتھ یا تو کالج کے کینٹین میں یا کالج کے درمیان کے پارک میں گھومتے پھرتے یا پھر کامن روم میں شور مچاتے ہوئے کیرم بورڈ یا ٹیبل ٹینس کھیلتے ہوئے دیکھا تھا، کبھی کبھی لڑکیوں کے ساتھ بھی کھیلتے ہوئے پایا اور قائد کے مزار پر بھی حاضری دیتے ہوئے دیکھا، وہاں کالج سے زیادہ رش ہوتا تھا، شاید سب قائد کی پیروی کرنے وہاں ان کا اثر لینے جاتے ہونگے -

میں اپنے آپ کو ان سب کے سامنے احساس کمتری میں مبتلا محسوس کر رہا تھا، کیونکہ ایک تو میرے کپڑے اور خاص طور سے میرے بالوں کا اسٹائیل کو تو والد صاحب اپنے فوجی کٹ کے حساب سے ہی رکھواتے تھے، اسکول کی حد تک تو صحیح تھا لیکن کالج میں مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ مجھے کچھ وہاں پر لفٹ نہیں مل رہی تھی، گھر پر آکر اباجی کے بجائے اماں سے کہا کہ میں یہ کپڑے پہن کر کالج نہیں جاؤنگا، مجھے بازار سے اچھے درزی کے پاس سے کپڑے سلوا کر دیں اور ساتھ ایک اچھا سا باٹا ایک کا جوتا، ایک نہیں کم سے کم چار جوڑے تو ہوں، (کیونکہ کالج میں تو ہر روز لڑکے نئے نئے جوڑے ہی پہن کر آتے دیکھتا تھا) اور یہ میرے بال اباجی سے کہیں کہ سولجر کٹ نہ کٹائیں، مجھے اس طرح ان کپڑوں میں کالج جاتے ہوئے شرم بھی آتی ہے، اور اگر اسکا بندوبست نہ ہوا تو میں کل سے کالج نہیں جاونگا، یہ الٹی میٹم اماں کو تو سنا دیا، اور ڈر ڈر کر ابا حضور کا انتطار کرنے لگا -

شام کو جب اباجی دفتر سے گھر پہنچے تو ہماری اماں نے میری یہ شکایت والد صاحب کے حضور رکھ دی، ارے باپ رے والد صاحب بہت گرم ہوئے، انکا فوجی مزاج، کبھی زندگی میں تو کالج گئے نہیں، اور بس انگریزوں کے زمانے میں انہوں نے شاید میٹرک پاس کیا ہوگا، انہیں کیا پتہ کہ کالج میں کیسے پڑھا جاتا ہے، کس طرح رہا جاتا ہے میں بستر پر فوجی کمبل اوڑھے اپنے آپ سے ہی بکتا جارہا تھا،

ایک اور زور کی آواز سنائی دی کہ میرے پاس کوئی قارون کا خزانہ نہیں کہ اس لاٹ صاحب کو یہ نوابی چیزیں خرید کر دوں،!!!!! مارے گئے کچھ ایسے ہی کچھ مکالمات سے انہوں نے آغاز لیا اور اختتام اس جملے سے کیا کہ،!!!! اس نواب صاحب کو کہہ دو کہ اگر کالج میں پڑھنا ہے تو اسی حالت میں جانا ہوگا ورنہ کوئی ضرورت نہیں ہے کالج جانے کی، اس کو میں کسی مکینک کے ساتھ ہی لگا دونگا، جہاں کپڑے بھی کالے، منہ بھی کالا!!!


اور میں نے دل میں روتے ہوئے کہا کہ وہاں میکینک کے پاس تو منہ دھونے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی، کیا پتہ لگے گا کہ منہ دھویا بھی ہے یا نہیں، پانی کی بھی بچت ہوجائے گی!!!!!!!!!!!!
---------------------------------------

کچھ دیر بعد خودبخود ہی والد صاحب کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا، مجھے کہا کہ، کل کسی طرح گزارلو اور شام کو میرے دفتر آجانا وہاں سے سیدھا بازار چلیں گے اور جو تمھیں پسند ہوں خرید لینا، یہ کہہ کر وہ باھر کہیں چلے گئے اور میرا خوشی کے مارے ٹھکانا ہی نہ رہا، اب کل تک وقت گزارنا بہت مشکل تھا، شام کو ملکہ باجی کو بتایا اور وہ بھی بہت خوش ہوئیں، ان کے بس میں نہیں تھا ورنہ وہ بھی مجھے ایک سے ایک اچھے جوڑے بناکر دیتی، انہوں نے کالج میں تو داخلہ نہیں لیا لیکن پرائیویٹ امتحان دینے کا ارادہ ضرور تھا، وہ بھی مجھے بہت چاہتی تھیں اور ھمیشہ مجھے اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دلاتی رہتیں، اور وہ مجھے ھمیشہ والدین کا حکم ماننے پر بہت نصیحتیں کرتی رہیں -

دوسرے دن میں تیار ہو کر کالج پہنچا لیکن بالکل دل نہیں لگا، کیونکہ وہاں کے لڑکوں کے ساتھ میرا کچھ دل نہیں مان رہا تھا بہت تیز اور طرار تھے اور لگتا تھا کہ زیادہ تر امیر خاندان کے بگڑے ہوئے نواب تھے، کچھ اچھے بھی لڑکے تھے، خیر اب مجبوری تھی کہ اسی کالج میں پڑھنا تھا، دوپہر کو کالج سے واپسی ہوئی اور کھا پی کر فارغ ہوا اور پھر والد صاحب کے دفتر جانے کی تیاری کی اور کچھ اپنی شکل ضرورت کے مظابق ٹھیک ٹھاک کرلی اور دو بسیں بدل کر تقریباً ایک گھنٹہ میں وہاں پہنچا، اب تو میرا قد پہلے سے کافی لمبا ہوگیا تھا مگر دبلا پتلا تھا،!!!!!!

والد کے آفس کافی عرصہ کے بعد گیا تھا، وہاں پر والد کے تمام دوست مجھے اچھی طرح جانتے بھی تھے، مگر وہاں اب ان کے نئے باس تھے، وہ بھی بہت اچھے اور ملنسار طبعیت کے مالک تھے، لیکن کمپنی کے بہت پرانے افسران میں سے تھے والد صاحب میرے پہنچتے ہی مجھے ان کے پاس لے گئے اور انہوں نے مجھے بہت مبارکباد دی اور اچھا پڑھنے کیلئے مجھے کافی ساری معمول کے مطابق نصیحتیں بھی کیں، جس کا کہ میں پہلے ہی سے سننے کا عادی تھا جہاں بھی جاو خیر خیریت کے بعد یہی نصیحتیں ملتی تھیں، شاید لگتا تھا کہ اباجی نے ان سے ہی کوئی ایڈوانس میرے لئے لیا ہوگا -

اباجی کا آفس ساڑے چار بجے ہی بند ہو جاتا تھا، چھٹی ہوتے ہی کمپنی کی گاڑی میں بیٹھے اور مین صدر بازار کے نزدیک اتر گئے ان کے ساتھ ان کے ایک دوست بھی اتر گئے، حالانکہ وہ دفتر کے نزدیک ہی رہتے تھے لیکن وہ والد صاحب کی مدد کیلئے ساتھ آئے تھے اور میرے لئے انہوں نے ریڈی میڈ تین پینٹ قمیض کے جوڑے اور ایک باٹا کے جوتے کا جوڑا بھی دلوایا انہیں کافی تجربہ تھا اسلئے ابا جی انہیں ساتھ لے آئے تھے،!!!!

مجھ سے اپنی خوشی چھپائے چھپ نہیں رہی تھی، زندگی میں پہلی مرتبہ اتنے اچھے اور مہنگے کپڑے دیکھنے کو ملے تھے، والد صاحب کو ان کے دوست نے زبردستی یہ ایک اچھی ریڈی میڈ دکان سے یہ کپڑے دلوائے تھے ورنہ اگر والد صاحب کی پسند ہوتی تو شاید ایسے نہ ہوتے ان کا بھی کیا قصور وہ بھی اپنا ہر کام بجٹ میں ہی رہ کر کرتے تھے لیکن شاید یہ پہلی مرتبہ وہ بجٹ سے باہر آگئے، کچھ پریشان بھی تھے، شاید کچھ پیسے کم پڑنے کی وجہ سے انہیں اپنے دوست سے کچھ قرض بھی لینا پڑا اور شاید یہ انکا پہلا موقع تھا-

گھر آکر تو بس مت پوچھئے کہ کیا حال ہوا، دوسرے بہن بھائیوں کو تو بہت مشکل سے والد صاحب نے سمجھایا کیونکہ وہ بھی نئے کپڑوں کے لئے ضد کررہے تھے، اور پھر رات کو تمام کپڑے گھر کی کوئلے کی استری سے تمام کپڑوں کو استری کئے اور جوتے تو ویسے ہی نئے تھے پھر بھی خوب کپڑے اور برش سے چمکا لئے تھے، اور میں ویسے بھی کپڑے استری کرنے میں اور جوتے چمکانے میں ماسٹر تھا گھر کے سب بہن بھائیوں کے کپڑے بھی میں خود ہی استری کرتا تھا، کیونکہ کوئلے کی استری کو گرم کرنا اور استری کرنا انکے بس کا روگ نہیں تھا-

صبح صبح کچھ جلدی اٹھ گیا اور دوسر بچوں کے ساتھ میں بھی تیار ہو گیا، ائینہ میں اپنی شکل دیکھی تو بالکل اپنے آپ کو بدلا ہوا پایا، اور میں نے آہستہ آہستہ پہلے سے ہی بال بڑھانے شروع کردئیے تھے، جس کیلئے والد صاحب کئی دفعہ بال کٹوانے کو کہہ چکے تھے، مگر میں ھمیشہ چکر ہی دے دیتا، کل ہی کالج سے واپسی پر نائی کی دکان پر جاکر صرف استرے سے سایڈ کی قلمیں ہی بنوا کر بال سیٹ کروا لئے تھے، اور والد صاحب کے سامنے خوب بالوں میں پانی اور تھوڑا سا تیل لگا کر بالوں کو چپکا کر گیا تھا تاکہ وہ کہیں ڈانٹیں نہ، لیکن شکر ہے ان کی نظر میرے بالوں پر گئی نہیں اس لئے انہوں نے کچھ محسوس ہی نہیں کیا،!!!!!

بہرحال جب نیا جوڑا پہنا اس پر نئے چمکتے ہوئے بوٹ چڑھا کر خود کو آئینے کے سامنے دیکھ کر اتراتا ہی رہا، اوپر سے ایک خوبصورت سا گھر کا بنا ہوا نیا سویٹر بھی چڑھا لیا، کیونکہ سردی کا موسم تھا، کالج کی فائیل پکڑی اور جیسے ہی باھر نکلا تو مجھے بہت شرم سی کچھ جھجک سی محسوس ہوئی، باھر سب کو سلام کرتا ہوا نکلا تو گھر کے بعد فوراً اپنی ملکہ باجی کے پاس گیا وہ خود بھی مجھے دیکھ کر حیران ہوگئیں اور فوراً ماتھے پر پیار کیا اور میری نظر اتاری اور کہا کہ آج تو واقعی لاٹ صاحب لگ رہے ہو، انکی چھوٹی بہن زادیہ، امی اور نانی جان بھی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں،

میں جب اس محلے سے نکل رہا تھا تو ھر کوئی مجھے ایک عجیب ہی طریقے سے دیکھنے لگا، جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں اور میں بھی شرماتا ہوا جارھا تھا اور بار بار اپننی قمیض اور پینٹ کو راستے میں ٹھیک کرتا جارھا تھا اس کے علاوہ کالج پہنچنے سے پہلے کئی دفعہ اپنے جوتوں کو بس میں ہی، کچھ نہ ملا تو دوسروں کے ہی کپڑوں سے ہی کھڑے کھڑے صاف کرلئے تھے، اور صبح صبح رش میں کسی کو کیا پتہ چلتا، مگر اب جب سوچتا ہوں تو بہت افسوس ہوتا ہے کہ کالج کے زمانے میں بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے!!!!!!!!!!

اس وقت کو تو چھوڑیں اب بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت ہی نہیں کرسکتے، اور اخراجات صرف کالج کی فیس تک ہی محدود نہیں ہوتی آپ کے بچے کے اسٹینڈرڈ کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں آپکا بچہ کالج میں اپنے لباس اور رکھ رکھاؤ کے لحاظ سے اپنے آپ کو احساس محرومی یا کمتری کا شکار تو نہیں سمجھ رہا ہے، ہمیں معلوم ہے کہ والد صاحب نے ہم بہن بھائیوں کو بہت کم وسائل میں بھی کتنی محنت اور تکلیفوں سے پڑھایا، ہمارے اسٹینڈرڈ کا بھی خیال رکھا اور کتنے قرض میں ڈوبتے چلے گئے، لیکن یہ ہر ایک کی بس کی بات نہیں ہے، ہمارے ملک کی تعلیمی پالیسی بالکل غریبوں کے حق میں نہیں ہے، اور ناخواندی کا ہمارے ملک میں کیا تناسب ہے یہ سب کو پتہ ہے، کسی بھی غریب کا بچہ میٹرک سے زیادہ تعلیم حاصل ہی نہیں کرسکتا اور ہماری ہر حکومت یہی کہتی ہے کہ ہمیں اپنے مستقبل کے معماروں کے لئے ایک نئی تعلیمی پالیسی مرتب کررہے ہیں جس سے ہر عام شخص بھی فائدہ اٹھا سکے گا -

ہمیں آج تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ وہ عام شخص کون ہے اور سرکاری تعلیمی پالیسی کونسی ہے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی محکمہ سے تعلق رکھنے والے خود معیاری تعلیم کے تعلیم یافتہ نہیں ہیں تو وہ کیا تعلیمی پالیسی بنائیں گے، یہ تو سب جانتے ہیں کہ وہاں پر کیا کیا بدعنوانیاں ہوتی ہیں، خود وہاں کے برسوں سے کرسیوں سے چمٹے ہوئے ذمہ دار اہلکار ہمارے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے والے معمار، کیا کبھی آپ نے ان کو اپنی سیٹوں پر بیٹھے کوئی کام کرتے ہوئے دیکھا ہے، کیا کبھی کسی بھی علاقے کے تعلیمی معیار کا انہوں نے سروے بھی کیا ہے، ان سے صرف سروے، اور پلاننگ کا اصل مطلب ہی پوچھ لیں تو انہیں واقعی معلوم نہیں ہوگا اس کے علاؤہ پالیسی کیسے مرتب کی جاتی ہے، شاید ہی کسی کو پتہ ہو،


ہاں یہ بات ضرور ہے کہ یہی تعلیمی محکمے کا ہی نہیں ہر کسی سرکاری محکمے میں زیادہ تر ملازمیں تنخواہ تو سرکار سے لیتے ہیں، مگر نوکری کسی اور کی کرتے ہیں!!!!

ہمارے یہاں اسی طرح کے تعلیمی خرچے صرف اعلیٰ افسران ہی برداشت کرسکتے ہیں، جن کے بچوں کے لئے گاڑی سرکار کی، تعلیمی خرچ بھی سرکار کے، لانے لے جانے کیلئے نوکر سرکار کے، گھر کے سارے کام سرکاری کھاتے میں، اور یا جو اوپر سے اتنا پیدا کرلیتے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو پورے علاقے کے سارے بچوں کے تعلیمی اخراجات آسانی سے پورے کرسکتے ہیں، اچھے اور معیاری اسکولوں میں اوٌل تو داخلہ نہیں ملتا اور اگر ملتا بھی ہے تو ایک اچھے خاصے چندے کا مطالبہ ہوتا ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے، کئی لوگ پھر مجبوری میں ناجائز ذرائع اور وسائل کو استعمال میں لاتے ہیں،

کاش کہ ایسے مخلص لوگ ہماری حکومت یا اپوزیشں میں آئیں، جو خلوص نیٌت سے ملک اور عّوام کی خدمت کرسکیں، کوئی ایسی پالیسی بنا سکیں جو صرف اپنے ملک اور عوام کے مفاد میں ہو نہ کے انکے خود کے مفاد میں، جو وعدے کریں ان پر عمل بھی کریں، سب سے پہلے کرپٹشن کو ختم کریں ان کی جڑوں کو بالکل مٹا دیں، اور یہ سب ہم جانتے ہیں کہ کہاں کہاں بدعنوانیاں ہورہی ہیں -

کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم ان عوام کی خدمات کے سرکاری اداروں کے محنت کش غریب ملازمین کو اتنی مراعات دیں کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کو پرسکون طریقے سے چلاسکیں، اور وہ اپنی زندگی کی مشکلات کے حل کےلئے ناجائز ذرائع اور وسائل کا شکار نہ بنیں!!!!
------------------------------------------
جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-11-10), پاکستانی (13-11-10), منتظمین (02-11-10)
پرانا 02-11-10, 06:10 PM   #25
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جوانی کی طرف رواں دواں سفر-2

میں جب اس محلے سے نکل رہا تھا تو ہر کوئی مجھے ایک عجیب ہی طریقے سے دیکھنے لگا، جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں اور میں بھی شرماتا ہوا جارھا تھا اور بار بار اپننی قمیض اور پینٹ کو راستے میں ٹھیک کرتا جارھا تھا اس کے علاوہ کالج پہنچنے سے پہلے کئی دفعہ اپنے جوتوں کو بس میں ہی، کچھ نہ ملا تو دوسروں کے ہی کپڑوں سے ہی کھڑے کھڑے صاف کرلئے تھے، اور صبح صبح رش میں کسی کو کیا پتہ چلتا، مگر اب جب سوچتا ہوں تو بہت افسوس ہوتا ہے کہ کالج کے زمانے میں بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے!!!!!!!!!!

آج کچھ کالج کے لڑکوں کے ساتھ میں کچھ تو برابری محسوس کر رہا تھا، میں بہت خوش تھا، مگر جوتا بہت تنگ کرنے لگا، شام تک کلاسوں میں گھومتے گھومتے جوتے نے کاٹنا شروع کردیا، تھوڑی سی لنگڑاہٹ پیروں میں آگئی اور ساری اسمارٹنس دھری کی دھری رہ گئی، اسی طرح لنگڑاتے ہوئے گھر پہنچے، جوتے اتارے پیروں میں چھالے پڑچکے تھےَ، خیر مرھم وغیرہ لگاکر چارپائی پر پیر پھیلا کر بیٹھ گئے،!!!!

ہم غریبوں کو تو کوئی خوشی بھی راس نہیں آتی، اب کل کیسے کالج جائیں، دوسرے دن آرام کیا ایک دن تک جوتوں کو کچھ نرم کرنے کیلئے کچھ قوت آزمائی کی اور تیسرے دن روئی وغیرہ جوتے میں پھنسا کر پیروں کو اس میں ڈال کر خراماں خراماں ایک اور نئے جوڑے کو پہن کر کچھ اتراتے اٹھلاتے گھر سے باھر کالج کیلئے نکلے، اس سے پہلے چمڑے کے جوتے نہیں پہنے تھے ھمیشہ کینویس کے جوتے جنہیں پی ٹی شو کہتے ہیں، اسی کی شروع عادت رہی، خیر کیا کرتے، چال میں تو فرق آنا ہی تھا -

وہ کیا کہتے ہیں کہ کوا چلا ھنس کی چال تو اپنی چال بھی بھول گیا !!!!!!

دو تین دن کے استعمال کے بعد جوتے بھی اپنے ساتھ کچھ مانوس سے ہوگئے، چال بھی کچھ ٹھکانے آگئی، بس ایک مشکل تھی کہ گھر سے بس اسٹاپ تک پہنچتے پہنچتے جوتوں پر اتنی دھول گرد جم جاتی کہ مجبوراً بس سے اترنے سے پہلے ہی بس میں دوسروں کے کپڑوں سے جوتوں کی صفائی کرلیتا، اگر بس میں رش نہ ہو تو، ورنہ پھر ایک چار آنے جیب خرچ میں سے بچاکر کالج پہنچنے سے پہلے ہی اپنے جوتے پالش کرالیتا، اور بڑے احتیاط سے قدم بڑھاتا ہوا کالج میں داخل ہوتا، کہتے ہیں کہ کپڑے کیسے ہی کیوں نہ پہنے ہوں، لیکن انسان کی شخصیت لباس سے زیادہ جوتوں کی چمک سے کچھ زیادہ ہی نکھر آتی ہے -

واقعی نئے نئے لباس چمکتے ہوئے جوتوں نے کمال تو دکھایا، کچھ لڑکے تو نزدیک آگئے اور ہر کلاس میں ساتھ ہی بیٹھنے لگے، اب ہماری بھی کچھ گردن اکڑ گئی، اور ایک اپنے بالوں کے اسٹائیل کے ساتھ ساتھ باتوں کا اسٹائیل بھی کچھ بدل گیا، کچھ فلموں کا اثر تھا اور کچھ نئے دور کے دوستوں کی سنگت نے اپنا کمال کر دکھایا، شروع شروع میں تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر کینٹین میں جاکر تو اپنے پاس سے چار آنے کی اسپشل چائے کا آرڈر ایسے کرتا تھا جیسے واقعی کوئی بگڑا ہوا نواب ہوں، اور کبھی کبھی ایک آنہ چائے لانے والے لڑکے کو بخشش بھی دے دیتا تھا،

وہاں ایک بات ضرور تھی کہ لڑکے اپنا اپنا ہی خرچا کرتے تھے، کبھی کبھی کوئی موڈ ہو تو چائے پلا دیتا تھا مگر وہ اسکے ڈبل ہی وصول کرکے چھوڑتا تھا، ایک بات تو بعد میں پتہ چلی کہ لڑکوں کے ٹھاٹ باٹ زیادہ تر لنڈابازار کے خریدے ہوئے کپڑوں سے ہوتی تھی، مگر والد صاحب کو پسند نہیں تھا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ سادہ اور سستے ہوں مگر اپنے ہوں، لیکن ایک دو دفعہ میں نے چپکے سے والدہ سے کچھ پیسے لے کر ایک دوست کے ساتھ لنڈابازار جاکر سردیوں کے لئے ایک سوٹ کا بھی بندوبست کرلیا تھا جو اس دکان والے نے دوسرے دن کچھ اپنے سائز کے مطابق فٹ کرکے دیا تھا جو اسی قیمت میں شامل تھا، اور ایک اور براؤن کلر کا جوتا بھی سیکنڈ ھینڈ خرید لیا تھا، گھر میں ایک سویٹر تو تھا ہی، ایک اور خوبصورت سا پٹیوں والا وہایٹ اور براؤن رنگ کا سویٹر اور ساتھ دو تین قمیضیں بھی وہیں لائٹ ھاؤس کے پاس لنڈابازار سے خرید لیں وہ دوست ان چیزوں میں ماسٹر تھا اور اس نے مجھ سے سختی سے منع کیا تھا کہ یہ راز کسی کو بھی نہیں ‌بتانا جبکہ سب لڑکے وہیں سے ہی کپڑے وغیرہ خریدتے تھے-

اب تو اس سوٹ نے کمال ہی کر دکھایا، بالکل لگتا ہی نہیں تھا کہ لنڈا بازار کا ہے، اب تو میں سوٹ بوٹ میں گھر سے نکلا کرتا اور اب تو کچھ عادت سی بھی ہو گئی تھی، بے چارے محلے کے لڑکوں کے ساتھ آہستہ آہستہ دوستی بھی ختم ہوتی جارہی تھی، اب زیادہ تر میں باہر ہی وقت گزارتا تھا، شام تک ہی گھر کا رخ کرتا اور بہانہ ٹیوشن کا کرلیتا تھا یا کسی پارٹی کا کہہ کر گھر سے اجازت لے لیتا تھا، مگر اسی دوست کے علاؤہ کسی کو بھی اپنے گھر کا ایڈریس پتہ نہیں تھا، ورنہ ساری پول پٹی کھل جاتی -

اور زیادہ تر رات کو کھانا کھا کر ہماری باجی کے ہاں ریڈیو کے پروگرام سننے چلے جاتا، میرے ساتھ میرے بہن بھائی بھی ہوتے کبھی کبھی میرے والدیں بھی ساتھ ہوتے اور ان سے گپ شپ کرکے ریڈیو کے کچھ اھم ڈرامے وغیرہ سنتے، والدین الگ گپ شپ میں مصروف اور ہم لوگ الگ انکے صحن میں ہی کھیلتے یا باتیں کرکے ٹائم پاس کرتے اور ہفتہ والے دن کافی رات گئے تک وہیں رہتے کیونکہ اب ان دونوں بہنوں پر باہر کھیلنے پر پابندی لگ چکی تھی، شاید وہ کچھ عمر کے ساتھ قد میں بھی بڑی ہوچکی تھیں، غرض کہ دونوں فیملیاں آپس میں بہت اچھے تعلقات رکھے ہوئے تھیں اسکے علاوہ ہمارے ساتھ کبھی کبھی دوسری فیملیز بھی شریک ہوجاتیں اور ساتھ ہی ہر ویک اینڈ پر باہر گھومنے کا پروگرام بھی بن جاتا، بہت ہی اچھے دن گزر رہے تھے،

ایک بات بتانا تو بھول ہی گیا اباجی نے بڑی مشکل سے ایک ہاتھ کی سیکنڈ ہینڈ گھڑی 35 روپے کی خرید کر بھی دی تھی، جسے ہر روز چابی بھی دینی پڑتی تھی، اس سے ہماری شان میں ایک اور اضافہ ہوگیا تھا، اب تو ایک سوٹ بوٹ اور اوپر سے گھڑی آستیں سے بار بار جھٹکا دے کر باہر نکالنا اور بالوں کے لئے ایک اسپشل کنگھی بھی خرید لی تھی، جیسے ہی کوئی موقع دیکھتا بالوں میں گھما لیتا، ویسے تھا میں دبلا پتلا لیکن سوٹ پہن کر میں کچھ بھرا بھرا سالگتا تھا، مگر ایک ہی سوٹ آخر کب تک ہماری شان بڑھائے رکھتا ایک اور صرف کوٹ بھی اسی مارکیٹ سے سستا ہی خرید لیا اور مختلف پتلوں کے ساتھ پہن لیتا ایک تین چارٹائیاں بھی ساتھ پہلے سے ہی خرید لیں تھیں اور بدل بدل کر میچنگ کے ساتھ چلا رہا تھا-

کیا بات تھی چھوٹے سیٌد صاحب کی، مجھے اکثر باہر اباجی کے دوست چھوٹے سیٌد صاحب ہی کہہ کر بلاتے تھے، اور اباجی بھی میرے روز کا کالج بڑے اھتمام سے جانا اور رکھ رکھاؤ دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے، اور گھر میں بھی ان کو دکھانے کیلئے کتابیں ہاتھ میں لے کر کچھ دیر والد صاحب کو مطمئین بھی کرلیتا، لیکن اب ایک اور عادت پڑ چکی تھی روز ایک آنے کرایہ پر کوئی نہ کوئی “ابن صفی“ کی جاسوسی ناول آفریدی یا عمران کی سیریز کی کتاب لے آتا اور رات کو بستر میں سوتے وقت اپنے کالج کی کسی بھی کتاب کے بیچ میں رکھ کر بستر کے کنارے ایک جھولتی ہوئی ٹیبل پر ایک لالٹین کی روشنی میں پڑھتا تھا -

ابا جی پھر ایک دفعہ میرے اپنے ہی بنائے ہوئے دھوکے کے چکر میں آکر بہت خوش تھے، کالج تو باقاعدہ جاتا لیکن بمشکل کوئی کلاس اٹینڈ کرتا بس ہر مہینے فیس ضرور بھرتا تھا اور ہر روز دوسرے دوستوں کے ساتھ یا تو کینٹین میں چائے پی رہا ہوتا یا کبھی کیرم بورڈ کھیلنے میں مشغول رہتا، اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا کالج میں بالکل آزادی تھی، حاضری ہوتی ہی نہیں تھی، اور مجھے ان لیکچرار سے بہت سخت نفرت تھی، صرف اردو کے ٹیچر کے علاؤہ، کیونکہ باقی سارے انگلش کے علاوہ کچھ منہ سے بولتے ہی نہیں تھے جو اپنے بالکل پلے پڑتی ہی نہیں تھی، اور وہ لوگ سوال بہت کرتے تھے اور وہ بھی انگلش میں، اور ھمیشہ میں ہی نشانہ بنتا تھا اور جواب کیا آتا جب سوال ہی نہیں سمجھ سکتا تھا -

یہ انگلش میری بہت بڑی کمزوری تھی اور شروع شروع میں تو اسی طرح جو بھی لیکچرار مجھ سے ایگلش میں سوال کرتا دوسرے دن سے اس کا پیریڈ میں جانا ہی چھوڑ دیتا تھا، صرف اردو اور اکنامکس اینڈ کمرشل جغرافیہ کے پیریڈ ہی اٹینڈ کرتا، کیونکہ ان مضمون کو وہ کم از کم اردو میں تو پڑھاتے تھے، یا ہوسکتا ہے کہ وہ بھی میری طرح انگلش سے دور ہی بھاگتے ہوں،!!!!!!!

1967 کے بہار کے موسم میں سال داخل ہورہا تھا، سردیاں بھی آہستہ آہستہ اپنی آخری ہچکیاں لے رہی تھی اور میں اپنی زندگی کے 17 سترویں بہار کے موسم میں ایک خوبصورت موڑ میں داخل ہو رہا تھا، مجھے وہ دن اپنی زندگی کا کبھی نہیں بھولتا، جب شام کا وقت اور آسمان پر بادلوں کی گھٹایں، گھرے ہوئے کسی ظوفانی بارش کے آثار دکھائی دے رہے تھے، جس دن میں نے پہلی بار کسی کی آنکھوں میں میرے اپنے لئے ایک عجیب سی بسنت کی ایک خوبصورت کہکشاں کے رنگ کے ساتھ چمکتی ہوئی شرماتی سی جھلک دیکھی، جو میں خود نہیں سمجھ سکا کہ یہ کون ہے، جو مجھے ایک حسیں خواب کی طرح ایک عجیب سے نشے میں ڈبوئے جارہی تھی، میں خود بخود اسکے نزدیک پہنچا اسے دیکھا، چند لمحے وہ آنکھیں میری آنکھوں کے سامنے تھیں جنہیں میں کبھی بھُلا نہیں سکتا تھا، یا یہ میری نظروں کا دھوکا تھا، مگر مجھے یقین تھا کہ وہ زادیہ ہی تھی،!!!!!!

اچانک اسے کسی نے آواز دی اور وہ دوڑتی ہوئی واپس اسی آواز کے ساتھ گم ہوگئی اور میں حیران پریشاں گم سم سا اس دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا رہا اور شام کا وقت ہلکی ہلکی خنکی سی کچھ بارش کی بوندا باندی شروع ہوچکی تھی، پانی کے قظرے میرے بالوں سے اترتے ہوئے میرے چہرے پر ٹپ ٹپ گر رہے تھے اور میں خاموش تھا، یہ کوئی خواب یا کوئی افسانوی ماحول نہیں تھا یہ واقعی زندگی میں پہلی بار مجھے کچھ محسوس ہورہا تھا جسکے بارے میں میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا‌!!!!!!

وہ دیوار آج بھی اسی جگہ موجود ہے، اور جب بھی میں اسی دیوار کے نزدیک اسی جگہ پر جاتا ہوں تو مجھے وہی حسیں منظر ایک وہی بھینی بھینی بسنت کی خوشبو کے ساتھ وہی پیارا سا خوبصورت حسین معصوم سا چہرہ یاد آجاتا ہے،!!!!!!!!
--------------------------------------
بارش تیز ہوچکی تھی، مجھ سمیت تمام گھر والے کمروں میں بند کھڑکی سے باھر طوفانی بارش کا منظر دیکھ رہے تھے، بادلوں کی گرجنے کی آوازیں بھی اس دفعہ کچھ زیادہ ہی دل کو دہلارہی تھیں، والدہ حسب معمول باورچی خانے میں مصروف تھیں اور والد صاحب بھی شاید بارش کی وجہ سے مسجد نہ جاسکے اور گھر پر ہی مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے، میں بھی ایک کنارے روز کی طرح کتاب اٹھائے پڑھ تو نہیں رہا تھا بلکہ یونہی ٹہل رہا تھا کہ بارش کم ہو تو باھر بھاگوں، ویسے بھی میں بہت بےچین تھا کچھ اپنے آپ کو یقین دلانے کیلئے، لیکن ایسی مجبوری تھی کہ والد صاحب گھر سے بالکل نکل ہی نہیں رہے تھے، اور ان کی وجہ سے میں بھی گھر میں قید تھا، ورنہ اگر اباجی گھر پر نہیں ہوتے تو میں تو ویسے بھی بارش ہو طوفان ہو گھر پر ٹکتا ہی نہیں تھا -

آج کی رات مجھ پر کچھ زیادہ ہی بھاری تھی، نہ والد صاحب کہیں ھل رہے تھے اور نہ ہی بارش بند ہورہی تھی، کراچی کا موسم بھی محبوب کے مزاج کی طرح ہی تھا، کبھی اچانک بے موسم کی طرح بارش ہوجاتی اور کبھی اتنی گرمی کے مت پوچھیں، کبھی ٹھنڈ تو کبھی سردیوں کے موسم میں گرمی اور کبھی گرمیوں میں بھی شام کو موسم ٹھنڈا ہوجاتا تھا، والد صاحب کو بارش کے دنوں میں بھی چین نہیں آتا تھا ذرا سی کہیں سے چھت ٹپکتی تو وہ فوراً ہی چھت پر چڑھ جاتے اور کوئی نہ کوئی چھت کی مرمت میں لگ جاتے تھے اور ہماری ڈیوٹی جہاں جہاں سے چھت ٹپک رہی ہوتی تھی، وہاں پر کوئی ڈرم یا بالٹی لگا کر رکھنے کی ذمہ داری اور ساتھ بارش کے پانی کو باہرخالی کرنے کی بھی ہوتی تھی، بارش کے دوران تو ہماری مت ہی ماری جاتی تھی، گھر کے اندر جمع ہوا پانی کو باہر نکالتے نکالتے کمر بھی دوہری ہوجاتی تھی، لیکں والد صاحب اوپر چھت سے ہی ہماری نگرانی بھی کرتے کہ ہم بہن بھائی کہیں باہر نہ نکل جائیں، خود تو بھیگتے رہتے مگر ہمارے لئے پابندی تھی -

آج تو میں کچھ زیادہ ہی بے چین تھا کہ ذرا سا بھی مجھے موقعہ ملے اور میں باہر بھاگوں، شاید عشاء کے وقت کچھ بارش کا زور ٹوٹا تو کچھ امید نظر آئی، والد صاحب جیسے ہی نماز کےلئے باہر نکلے ادھر میں فورآً منہ ہاتھ دھو کر کچھ اچھے کپڑے پہنے اور آئینہ کی طرف لاٹین کی مدھم سی روشنی میں رات کو پہلی بار شاید بالوں میں کنگھی کی اور کچھ “تبت ٹالکم پاوڈر“ وغیرہ چھڑکا اور اوپر چہرے پر “تبت سنو کریم لگائی، اس وقت زیادہ تر ہم غریبوں کے پاس یہی چہرہ چمکانے کیلئے تبت کی مصنوعات جو کہ سستی چیزیں ہوتیں تھیں، استعمال کے لئے گھر پر اماں چھپا کر رکھتیں تھیں اور مجھے تو خاص کر ان کی یہ جگہیں چھپی نہیں رہتی تھیں،

باھر نکلنے سے پہلے پھر ایک دو بار پھر اپنا چہرہ آئینہ میں دیکھا، کریم لگانے کے باوجود بھی کچھ اپنے چہرے کا رنگ اتنا صاف نہیں ہوسکا تھا، لیکن اتنا برا بھی نہیں لگ رہا تھا، یعنی گزارا تھا، یہ تو روز صبح کالج جانے سے پہلے اس طرح جوتے چمکانے کے ساتھ ساتھ کچھ چہرے کو بھی ان تبت کے پاوڈر اور کریم سے چمکا ہی لیتا تھا، مگر رات کو پہلی مرتبہ وہ بھی مدھم روشنی میں چہرے کو کچھ چمکاتے وقت کچھ عجیب سا لگ رہا تھا -

چپکے سے میں اس دن اکیلا ہی باھر نکلا، جب کہ سب بہن بھائیوں کو اکثر ساتھ لے کر ریڈیو سے رات کے ڈرامے اور مزاحیے خاکوں کے پروگرام سننے کے لئے ملکہ باجی کے گھر ضرور جاتا تھا اور کبھی کبھی والدین بھی وہاں آجاتے تھے اور اچھی خاصی ایک رونق رہتی تھی اور میرا دل بھی وہیں بہت لگتا تھا، مگر آج یہ اچانک اکیلے اکیلے چمک دمک کر جانے کی کہاں تیاری کرلی، میں ‌خود اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا -

جیسے ہی باھر نکلا تو دیکھا باقی بہن بھائی بھی میرے سے پہلے ہی تیار باھر کھڑے نظر آئے، میں نے غصہ سے ان سب کو دیکھا اور کہا کہ بارش ہورہی ہے باہر مت نکلو، ایک نے ڈرتے ہوئے جواب دیا کہ بھائی جان بارش تو رک گئی ہے اور آپ بھی تو جارہے ہیں میں نے فوراً کہا کہ میں وہاں نہیں جارہا ہوں، ادھر سے ہماری اماں باورچی خانے سے ہی چیخیں ارے جاتے جاتے ان سب کو ملکہ باجی کے گھر چھوڑتا ہوا چلا جا، میں بھی کام ختم کرکے تمھارے ابا کے ساتھ وہیں آتی ہوں، مجھے خیال آیا کہ آج تو واقعی کوئی خاص ہی ڈرامہ نشر ہونے کا دن تھا یہ تو بڑی مشکل ہوگئی، اب کیا کیا جائے !!!!!!!!!!!!!!

اب پوری ٹیم کو مجبوراً لے کر نکلنا پڑا، ارے بھیا آج یہ چمک چمکا کر کہاں نکلے ایک بہن نے مجھے ٹوکتے ھوئے کہا اور میں نے فوراً ڈانٹ دیا اور غصہ سے کہا تم سے مطلب، اور یہ کہتے ہوئے انہیں باجی کے گھر باھر دروازے پر چھوڑا اور ان ہی کے عیں گھر کے دروازے کا سامنے وہی ملٹری کی دیوار سے ٹک کر کھڑا ہوکر کچھ خیالات میں گم کچھ سوچنے لگا، جہاں کچھ دیر پہلے ہی بارش کے دوران شاید چند لمحات کے لئے میں نے ایک خوبصورت چہرے کی جھلک اپنی آنکھوں میں ایک سہانے خواب کی طرح دیکھی تھی،!!!!!!!!!

میں تو وہاں کھڑا انتظار ہی کرتا رہا، کہ شاید ایک اور جھلک کا کوئی معجزہ ہی ہوجائے لیکن وہ تو نہیں بلکہ والد صاحب وارد ہوگئے، پیچھے سے ہاتھ رکھ کر ہاتھوں سے اشارہ کیا کہ کدھر کھوئے ہوئے ہو، اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے، جب کافی انتظار کے بعد کچھ اِدھر اُدھر سے آگے پیچھے ہر طرف نظر دوڑائی کہیں بھی وہی چہرہ نظر نہیں آیا، مگر میں اسے گھر جاکر ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا تھا، اور یہ بھی ہو سکتا تھا کہ جو میں اپنے دل میں سوچ رہا تھا وہ خیال بالکل غلط ہو، مگر میرا دل دوسری طرف سے یہ بھی کہتا تھا کہ اس کی نظریں کچھ نہ کچھ تو کہہ رہی تھیں اور میری اندر ایک ھلچل سی مچی ہوئی تھی، اور اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اس سے جاکر کچھ پوچھ سکوں -

لیکن کچھ ہمت کی اور ان کے گھر میں چلا ہی گیا، وہاں پر ریڈیو پر ڈرامے کا آخری حصہ نشر ہورہا تھا، اور کسی نے بھی میری ظرف دھیان نہیں دیا، سب بہت انہماک سے ڈرامہ سننے میں مشغول تھے، بہن بھائی بھی موجود تھے اور والدہ نہیں تھیں، وہ شاید خالہ کے ساتھ مصروف گفتگو تھیں اور خالو بھی آنکھ میں ایک طرف جھوٹی دوربین لگائے لالٹین کی روشنی میں شاید ایک ہاتھ کی گھڑی کھولے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے، میں ایک کونے میں بیٹھا کسی اور سوچ میں گم تھا،

باجی نے کہا کہ کہاں تھے، اتنا اچھا ڈرامہ تھا، اور تم نے سارا ڈرامہ نکال دیا، میں نے آہستہ سے جواب دیا کہ ادھر میرے ساتھ ہی ڈرامہ ہوگیا تو کیا ڈرامہ سنتا، انہوں نے سنا نہیں اور میں دور سے ہی زادیہ کی ظرف ٹکٹی لگائے دیکھ رہا تھا کہ کوئی اشارا تو مل جائے مگر کوئی ایسے حالات یا کوئی اسکی طرف سے ایسی بات نظر نہیں آئی، بلکہ مجھے دیکھتی ہی بولی آج کیا بات ہے لگتا ہے کچھ تمھارا دماغ کام نہیں کررہا ہے، فوراً میرے پاس آئی اور کہنے لگی شاید وہ بالکل مجھے دیکھ کر سنجیدگی سے بولی کیوں کیا طبعیت خراب ہے، میں نے جواب دیا کہ نہیں !!! مگر تم یہ بتاؤ کہ تم باھر سخت بارش میں کیا کررہی تھی، اس نے جواب دیا کہ واقعی آج تمھارا دماغ چل گیا ہے، میں تو شام سے باھر نکلی ہی نہیں، مگر یہ تو پتاؤ کہ آج یہ چمک چمکا کر کہاں سے آرہے ہو یا جارہے ہو، آج تم نے ڈرامہ بھی پورا نہیں دیکھا -

میں اسے کیا بتاتا، وہ تو کوئی بھی بات سنجیدگی سے لے ہی نہیں رہی تھی، بلکہ مذاق پہ مذاق کئے جارہی تھی اور سب میرا ہی مذاق اڑا رہے تھے، اور ملکہ باجی بھی کسی اور کام میں مصروف تھیں، آج کوئی بھی میری بات سننے کو تیار نہیں تھا، جب کسی سے کوئی لفٹ نہیں ملی تو سیدھا خالو کے پاس ہی پہنچ گیا اور انھیں گھڑی بناتے ہوئے دیکھنے لگا وہ مجھے دیکھے بغیر ہی بولے!!!! کیا بات ہے بیٹا !!!!! آج لگتا ہے کہ کوئی بھی تمہیں لفٹ نہیں کرارہا، کیا کسی سے کچھ جھگڑا ہوا ہے، میں نے کہا نہیں تو !!!! بس آج میرے دل کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے، اکثر میں ان کے ساتھ بھی کافی فری ہوکر باتیں کرتا تھا اور واقعی جب باجی یا زادیہ سے کسی بھی بات پر جھگڑا ہوجاتا تو بس میں خالو کے پاس پہنچ جاتا وہ نہیں ہوتے تو انکی نانی کے پاس جاکر خوب دونوں کی شکایتیں لگاتا اور یہ بچپن سے ہی ایسا چلا آرہا تھا اور اب ہم سب بڑے بھی ہوگئے تھے لیکن حرکتیں وہی بچپن کی تھیں اور خالہ تو دونوں طرف سے ہی بولتی تھیں غرض کہ وہ پوری فیملی مجھے دل وجان سے چاہتی تھی اور میں بھی ان سب کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا -

اگر کالج سے آنے میں یا کہیں اور سے بھی اگر مجھے آنے میں دیر ہوجاتی تو یہ دونوں دروازے پر اپنی نانی یا امی کے ساتھ میرا بےچینی سے انتظار کرتی ہوئی ملتیں، اور باجی تو میرا لحاظ کئے بغیر کان سے پکڑ کر اندر لے جاتیں اور سب کے سامنے مجھے بہت ڈانٹتیں اور اس وعدہ پر کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا مجھے چھوڑ دیتی اور اس وقت یہ ضرور کہتیں !!!!! کہ جاؤ گھر کپڑے بدل کر آؤ آج تمھاری پسند کی ایک چیز بنائی ہے، اگر میں غصہ میں نہیں بھی آتا تو یہ دونوں میرے گھر پر ہی کھانا وغیرہ لے کر پہنچ جاتیں، خیر کے ہماری یہ دونوں فیملیز کے آپس میں بہت اچھے اور گہرے تعلقات تھے، اور میں تو خاص کر زیادہ تر وقت ان کے ہی گھر میں گزارتا تھا،

اب مجھے ایک اور بے چینی کھائے جارہی تھی اور جانے کیوں میرا دل یہ کہتا تھا کہ زادیہ بھی وہی میرے بارے میں تاثرات رکھتی ہے جو میرے دل میں ہے، دوسرے دن کالج بھی بے دلی سے گیا اور فوراً بغیر کسی پیریڈ میں گئے واپس گھر کی طرف پلٹا اور گھر میں آکر کپڑے وغیرہ تبدیل کرکے سیدھا ان کے گھر پہنچا باجی گھر پر ہی تھیں اور زادیہ اسکول گئی ہوئی تھی اس کا بھی یہ سال میٹرک کا ہی تھا، باجی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور مجھے خاموشی سے یہ کہا کہ تمھارے اباجی نے کل ہمارے گھر میں ایک بات کہی تھی!!! میں فوراً گھبرا گیا کہ اب یہ کونسی مصیبت آگئی تھی اور باجی کے چہرے پر بھی بہت ہی سنجیدگی کے آثار تھے !!!!!

وہ کہنے لگیں کہ تم اپنی اس بات پر اپنی بالکل دل سے رائے دینا اور کوئی زبردست کی بات نہیں ہے، اگر تمھیں کوئی اعتراض نہ ہو تو کہوں !!!!! میں تو اور ہی پریشانی کا شکار ہوگیا، دماغ پہلے کہیں اور بھٹک رہا تھا اور باجی بھی ایک نئے مسئلے کے ساتھ مجھ سے پہیلیوں میں بات کرہی تھیں، میں نے کہا!!!!! ارے کیا بات ہے کیوں مجھے پریشان کررہی ہو فوراً بولو !!!!! مگر وہ بار بار مجھے سسپنس میں ڈال دیتی تھیں اور ویسے بالکل سنجیدگی سے بات کررہی تھیں، اور میں تو بس ایک عجیب سی حالت سے دوچار تھا، اور دل میں یہی سوچ رہا تھا کہ کوئی بڑی ہی مصیبت کا شکار ہونے والا ہوں -

آخر کو انہوں نے بھی ایک لمبا سکوت توڑا اور اس وعدہ پر کہ یہ بات میں کسی سے نہ کہوں اور خاص طور سے زادیہ سے بھی نہیں، پھر یہ مجھے کہنے لگی کہ !!!!!!!!!!!!!!

کل تمھارے اباجی نے ہماری امی ابا سے مذاقاً یا سنجیدگی سے یہ کہا کہ میں آپکی چھوٹی بیٹی زادیہ کو اپنی بہو ضرور بناؤں گا، یہ سنتے ہی میں تو بالکل ہکابکا ہی رہ گیا، ساتھ ہی مجھ سے پوچھا کہ!!! تمھارا کیا خیال ہے،
میں نے کہا کہ باجی میں کیا کہہ سکتا ہوں، ابھی میں تو یہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، لیکن میں آپکی کسی بھی بات کو ٹال نہیں سکتا، جو بھی آپ کا مشورہ ہوگا میں اس پر عمل کرونگا، مگر کیا زادیہ اس کے لئے راضی بھی ہوگی یا نہیں !!!!!! باجی نے کچھ بھی جواب نہیں دیا !!!!!!!!

میرے تو دل میں بہت خوشی کے لڈو پھوٹ رہے تھے، اور جیسے ہی میں انکے گھر سے باھر نکلا تو وہ اسکول سے واپس آرہی تھی اور مجھے دروازے پر ٹکرائی، ارے آج تم کالج نہیں گئے !!!!! اس نے ذرا غصہ سے پوچھا !!!!ہم دونوں کی عمر میں کوئی خاص فرق نہیں تھا شاید وہ مجھ سے ایک یا دو سال چھوٹی ہوگی اور ہم دونوں زیادہ تر بچپن سے لڑتے ہی رہتے تھے، دل تو چاہا کہ کچھ بولوں موقعہ بھی تھا لیکن ہمت ہی نہیں ہوئی، اسکے غصہ کو دیکھتے ہوئے !!!! اور وہ بس فوراً چیختی ہوئی اپنے گھر میں داخل ہوئی کہ!!!!!!!!!!

دیکھ باجی آج پھر اس نے کالج کی چھٹی کی ہے یہ کہتے ہوئے اندر چلی گی اور میں نے دل میں یہ سوچا رہ گیا کہ آخر یہ لڑکی کب سنجیدہ ہوگی، !!!!!!!!!
------------------------------------
جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-11-10), پاکستانی (13-11-10), منتظمین (02-11-10)
پرانا 04-11-10, 06:04 PM   #26
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جوانی کی طرف رواں دواں سفر-3

دیکھ باجی آج پھر اس نے کالج کی چھٹی کی ہے یہ کہتے ہوئے اندر چلی گی اور میں نے دل میں یہ سوچا رہ گیا کہ آخر یہ لڑکی کب سنجیدہ ہوگی !!!!!!!!!!

اب گھر کے روزمرٌہ کے کام کاج کی فکر تو تھی ہی نہیں، کیونکہ اب سب چیزوں کی ذمہ داری بس اب چھوٹے بہن بھائی پر آگئی تھی، اور کچھ میری اب کالج کی مصروفیات زیادہ بڑھ گئی تھی، اور کچھ بڑے ہونے کے ناتے اب چھوٹے اس قابل ہوگئے تھے کہ وہ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹا سکیں، بس کبھی کبھی زیادہ راشن لانے اور ماہانہ سودے سلف کیلئے والد صاحب اپنے ساتھ مدد کےلئے تھوک کے بازار ضرور لے جاتے، گھر کے علاؤہ محلے کے لوگوں کا سامان بھی لے کر آتے تھے اور تھوک کے حساب سے ھی تقسیم کرتے تھے، مگر اب نہ جانے مجھے یہ سب کچھ اچھا نہیں لگتا تھا، ایک تو کالج کا اسٹوڈنٹ دوسرے ذرا سوٹ بوٹ پہن کر کچھ ایسی عادت سی ہوگئی تھی کہ اس طرح کمر پر راشن کا اٹھانا اور گدھا گاڑی پر سامان لاد کر، پھر اس کے اُوپر بیٹھ کر سرعام سڑک پر سرپٹ دوڑے چلے آنا، ایسا لگتا تھا کہ میں بھی ان گدھوں کے ساتھ ساتھ، تمام پبلک اور سڑک کے بیچوں بیچ دوڑتا چلا جارہا ہوں،

مجھے اب بہت شرم آتی تھی، پیدل سفر گوارا تھا لیکن گدھا گاڑی پر مجھے اچھا نہیں لگتا تھا، مجھے یہ بھی ڈر لگتا تھا کہ کہیں کالج کے دوست مجھے دیکھ نہ لیں، اور جب بھی کوئی بس گدھا گاڑی کا برابر سے گزرتی میں فوراً ہی گردن جھکا لیتا، کہ میرا چہرہ کوئی دیکھ نہ سکے، راشن شاپ سے جو سودا لانا ہوتا تھا وہ میں ایک کرایہ کی ایک سائیکل لے کر چار پانچ چکر لگا کر سودا گھر پہنچا دیتا تھا اور ایک گھنٹے میں سارا سامان جس میں زیادہ تر چینی، شکر، چاول، اور آٹا وغیرہ شامل ہوتے تھے، اور اسی طرح میں نے سائیکل چلانا بھی سیکھ لی تھی، اور ھفتہ میں ایک دفعہ کرایہ کی سائیکل کسی نہ کسی بہانے سے لے کر خوب گھماتا تھا اور بچوں کو اس پر سیر بھی کراتا تھا -

اب اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی سنوارنے میں لگا رہتا تھا بالوں کے نئے نئے اسٹائیل بنانا، آٹھ آنے میں اس وقت بہتریں بال کٹتے تھے لیکن اگر والد صاحب کے ساتھ جاؤں تو وہ تو بالکل چھوٹے چھوٹے اور پیچھے اور سایڈ سے استرے سے سولجر کٹ بنوادیتے تھے لیکن میں نے جب سے کالج جانا شروع کیا تو اباجی کے ساتھ بال کٹوانا بھی جانا بند کردیا وہ تو وہاں پر بھی تھوک کے بھاؤ ایک روپے کے چار کے حساب سے، اپنے سمیت سارے چھوٹے بھائیوں کے بال کٹوالیتے تھے اور ساتھ بال کاٹنے والے سےاسی دوران پوری دنیا کی باتیں بھی کرلیتے تھے، ویسے بھی جہاں جاتے وہ شروع ہوجاتے، یہاں تک کہ وہ گدھا گاڑی والے کے ساتھ بھی اپنی راستہ میں ہی رشتہ داری بنا لیتے تھے اور گھر پہنچنے پر اسے چائے پانی تو کم از کم پلا کر ہی چھوڑتے تھے، کبھی کبھی کھانے کا اگر وقت ہوتا تو اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے تھے -

اب تو میں اپنے اندر ہی ایک بڑے ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ایک ھیرو کی تصوراتی دنیا میں کھویا رہتا تھا اور اس محلے میں ایک میں ہی تھا جو کالج جارہا تھا اس کی وجہ سے بھی کچھ لوگ میری قدر بھی کرتے تھے، جیسے ایک مثال ہے کہ “اندھوں میں کانا راجہ“ اور چھوٹے تو مجھ سے اب مرعوب بھی رہنے لگے تھے، کچھ فلموں کا بھی اثر تھا، اپنے آپ کو اسی فلموں کے ھیرو کے اسٹائیل میں رکھتا تھا، ہر مہینے ایک نئے فیشن کا جوڑا ضرور ابا یا امی سے رو دھو کر ضرور بنوالیتا تھا چاہے وہ لنڈابازار کا پرانا ہی کیوں نہ سلا ہوا ہو، اب تو میں بھی کافی فیشن کا ماسٹر ہوگیا تھا، سیلیکشن ایک سے ایک، پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ یہ پرانا مال ہے، ایک آدھ بلیک چشمہ بھی جیمز بانڈ کی طرح آنکھوں پر چڑھا لیتا تھا، اور ہمیشہ باہر جانے سے پہلے اکیلے میں آینے آپ کو آئینے کے سامنے رکھ کر کافی دیر تک بناتا اور سنوارتا رھتا،

اور ایک چھوٹی کنگھی ضرور اپنی پتلون کی پچھلی جیب میں ضرور رکھتا تھا جہاں موقعہ ملتا کسی سائیکل والے کے شیشے میں یا کسی بھی مکان کے کھڑکی کے شیشے میں دیکھ کر بالوں کو دوبارہ سنوار لیتا اور کبھی کبھی کسی کی کھڑکی کے شیشے میں کنگھی کرتے کرتے پیچھے سے صاحب مکان سے مار بھی کھانی بھی پڑی، اگر وہ مجھے جانتا نہ ہو تب، کیونکہ پیچھے سے تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کون ہے بعض اوقات تو لگتا تھا کہ اندر جھانک رہا ہوں، بس ایک خراب عادت سی پڑ گئی تھی اور کیونکہ بالوں کو تو ھمیشہ سیٹ کر کے رکھنا پڑتا تھا، کہ نہ جانے کب، کہاں، کسی سے ملاقات ہوجائے، مگر کسی بھی لڑکی کو دیکھتے ہی اپنی تو سیٹی ہی گم ہو جاتی تھی-

گھر میں اب تو رات کو سونے سے پہلے فلموں کے ڈائیلاگ ضرور یاد کرنے کی کوشش کرتا جسکا کہ سب بہں بھائی میرا مزاق بھی اڑاتے، لیکن میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا سوائے اباجی کے، مگر اباجی کا یہ فیصلہ کہ وہ زادیہ کو اپنی بہو بنائیں گے، یہ انہوں نے گھر پر اپنا کبھی کوئی بھی اس قسم کا اظہار نہیں کیا تھا کئی دفعہ اماں سے پوچھنے کی کوشش بھی کی لیکن ہمت جواب دے گئی، ویسے وہ ھمیشہ ان دونوں بہنوں کی تعریف ضرور کرتے تھے وہ دونوں واقعی بہت خوبصورت اور ساتھ ہی خوب سیرت بھی تھیں، مین تو بس ایک دبلا پتلا سا اور بس کیا کہوں کہ گزارا ہی تھا، مجھے ان کے ساتھ اپنے آپ کو اس مناسبت سے رشتہ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ان کے رکھ رکھاؤ اور رھن سہن لباس کی نوعیت اور ان کا سیلکشن کا وہ خود بھی اور انکے والد بھی بہت خیال رکھتے تھے اور انکی آمدنی بھی اچھی خاص لگتی تھی، اسکے علاؤہ وہ ان کے والد ان دونوں کا بہت ہی ان کی ہر خواھش کا احترام کرتے تھے، اور ساتھ ساتھ میری بھی کئی خواھشیں ان کے کہنے پر پورا کرتے تھے، اور ویسے بھی مجھے اپنی اولاد کی طرح بہت زیادہ پیار بھی کرتے رہے -

مگر جیسے جیسے دن گذرتے جارہے تھے، میرے دل میں زادیہ کیلئے ایک کونے میں محبت تیزی سے پروان چڑہتی جارہی تھی، روز سوچتا تھا کہ آج اس سے کچھ نہ کچھ کہہ کر ہی رہونگا، لیکن جیسے ہی آمنا سامنا ہوتا سارے ڈائیلاگ ہی بھول جاتا اس کے سامنے نہ جانے کیوں ہمت ہی نہیں پڑتی تھی، ھالانکہ ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت زبردست بحث کرتے تھے اور خوب باتیں کرتے تھے کبھی کبھی میں موضوع کو فلموں کی طرف بھی موڑ لیتا تھا اور کسی بھی فلم کی کہانی بھی سنانا شروع کردیتا تھا، تمام فلموں کے ھیرو کے ڈائیلاگ بھی رومانی انداز میں بہت بہترین طریقے سے ادائیگی بھی کرتا اور مجھے اکثر وہ فلم اسٹار کمال سے ملا دیتے، اور یہ بھی کہتے کہ اگر تم تھوڑے سے موٹے ہوجاؤ تو کسی بھی فلمی اداکار سے کم نہیں ہوگے -

کیونکہ میں ڈائیلاگ ڈیلیوری میں شروع سے ہی ماسٹر تھا لیکن جب اصل زندگی میں جب کسی کے سامنے بولنے کا موقعہ ہاتھ آیا تو زبان ہی گنگ ہوگئی، نہ جانے کیوں !!!!!!!!!!!

وقت تیزی سے گزرتا جارہا تھا اور ایک ایک دن مجھ پر بھاری تھا اور مجھے اپنے آپ سے شرم آتی تھی کہ صرف ایک دو لفظ صرف کنفرم کرنے کیلئے اپنی زبان کھول نہیں سکتا تھا، ایک دفعہ تو ھمت کر ہی لی بہت اچھی طرح کچھ ڈائیلاگ یاد کرکے ان کے گھر پہنچ گیا اور ویسے بھی اس گھر کے ایک میں ممبر کی حیثیت سے ہی، زیادہ تر وہیں رہتا تھا، سب سے بہت زیادہ فری تھا خوب مذاق بھی کرتے تھے ایک دوسرے سے جھگڑا بھی کرتے تھے، لیکن جو میں اس سے کہنا چاہتا تھا وہ نہیں کہہ سکتا تھا، اس دن تو سوچ ہی لیا اور میں اس کے پاس بیٹھا ہوا اپنی تمام کوششیں کرڈالیں کہ کچھ کہوں مگر چہرہ سرخ ہوگیا پسینے آگئے مگر وہ ڈائیلاگ منہ سے بالکل نہیں نکلے، اس نے بھی مجھ سے بڑے پیار سے پوچھا کہ “میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ تم مجھ سے کچھ کہتے کہتے رک جاتے ہو اور آج بھی تمھاری حالت کچھ ایسی ہی لگ رہی ہے“، مجھ میں کچھ ھمت آئی اور!!!!!

کچھ کہنے کےلئے زبان کھولی ہی تھی کہ اچانک انکی اماں نے آواز دے ڈالی سارے موڈ کا ستیاناس ہوگیا، کچھ انتظار کے بعد پھر وہ بھاگ کر میرے پاس آئی اور پوچھا کہ اب بتاؤ کہ کیا بات ہے، پھر میں نے تھوڑی سی ھمت کی لیکن پھر زبان میرے جذبات کا ساتھ نہیں دے رہی تھی، پھر دوبارہ اس نے مجھ سے کہا دیکھو میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی اور نہ ہی تمہاری کسی بات کا برا مانوں گی، کہو تو سہی، یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ میرے کہنے سے پہلے ہی سمجھ چکی تھی لیکن وہ مجھ سے ہی کہلوانا چاہ رہی ہو،!!!

جب اس نے بہت ضد کی تو میرے دل نے کہا کہدے اور کہتے کہتے زبان کچھ ڈر کے پھسل گئی، اور کچھ منہ سے جملے نکلتے نکلتے کچھ یوں بدل سے گئے،

“ارے بس کچھ نہیں بس تمھارے بارے میں ایسے ہی سوچ رہا تھا کہ اگر تمھاری شادی ہوجائے گی تو تمھاری مجھے بہت یاد آئیگی“ کچھ تھوڑی سی ھمت اور پکڑی اور کہا کہ “ فرض کرو کہ اگر تمھیں کوئی یہ کہے کہ وہ تم سے شادی کرنا چاھتا ہے تو تمھارا جواب کیا ہوگا“

یہ کہہ تو دیا لیکن میری جان ہی نکل گئی اور میں اس کے جواب کا انتظار ایسے کررہا تھا جیسے میں نے کوئی پہیلی بوجھی ہو اور دماغ خراب سوال بھی تو ایسے ہی کیا تھا اپنے آپ کو اندر ہی اندر برا بھلا کہہ رہا تھا کہ باھر تو بڑا رومانٹک ھیرو بنتا ہے اور ادھر اسکے سامنے بالکل بھیگی بلی کی طرح ہو جاتا ہے -

اس نے ہنستے ہوئے بغیر کسی جھجک کے کچھ اس طرح کے ملے جلے الفاظوں میں کہا کہ “دیکھو بدتمیز!!! اوٌل تو میں شادی کرونگی ہی نہیں، جسکی وجہ سے تمھیں مجھے یاد کرنے کی نوبت آئے اور اگر کسی نالائق نے اگر اس قسم کی حرکت بھی کی اور یہ الفاظ کہنے کی ھمت بھی کی تو تم دیکھنا اس کے گال پر اتنے زور سے تھپڑ ماروں گی کہ وہ زندگی بھر یاد کرے گا اور ساتھ اسکا خاندان بھی ھمیشہ روتا ہی رہے گا“

“ارے باپ رے“ میں نے دل میں‌ کہا اور فورآً اپنے گال پکڑ لئے اور لگا اپنے گال سہلانے، اور جو ھمت پکڑی تھی وہ بھی کھڈے میں ہی چلی گئی !!!!!!!

اور وہاں سے بھاگنے کی ہی سوچ رہا تھا کہ اس نے اپنی باجی کو آواز دے ڈالی لو اب ایک اور مشکل آن پڑی اور جو رہی کسر باقی تھی وہ بھی پوری ہونے جارہی تھی، !!!!!!!!!!!!!!
---------------------------------------
اس وقت یہ کیا !!!!! میں نے اپنے ہی گلے میں بلی کی گھنٹی باندھ لی تھی، جیسے ہی اس نے باجی کو آواز دی، ادھر میں نے اس سے کہا کہ دیکھو تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کسی کو بھی کچھ نہیں کہو گی تو کیوں باجی کو بلا رہی ہو !!!!!!

اتنے میں باجی پہنچ گئی اور زادیہ کو موقعہ مل گیا کہ مجھے تنگ کرنے کا، وہ اکثر کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے نہیں دیتی تھی، بلکہ میں بھی اس کے معاملے میں کسی سے کم نہیں تھا اور ہم دونوں کو اگر کوئی بھی ایک دوسرے کے خلاف کچھ کہنے کا موقعہ مل جائے تو بس سمجھ لیجئے ایک قیامت آجاتی تھی، دونوں بہت لڑتے بھی تھے اور ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں پاتے تھے،!!!!!

باجی جیسے ہی پہنچیں، زادیہ نے کچھ کہنے کو منہ کھولا، اور میں نے کچھ اپنی مسکین سی صورت بنا کر دیکھا، اس نے اس وقت زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی بات کو پلٹ دیا اور دوسری طرف اس نے اسکا کوئی اور کچھ کہہ کر رخ موڑ لیا، ورنہ تو مجھے بہت باجی کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑتی، لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بال بال بچ گئے !!!!!!!!

آج کل کا تو پتہ نہیں لیکن اس وقت کوئی کتنا ہی کیوں نہ بہادر ہو سخت جان کیوں نہ ہو اور چاہے کتنا ہی بڑا اداکار یا ڈبیٹر ہی کیوں نہ ہو اس میدان میں وہ ہار ہی جاتا تھا، کبھی بھی کسی لڑکی سے خلوصِ دل سے اظہار محبت کردینا، میں سمجھتا ہوں کہ بڑے بڑے سورما حضرات کی بھی جان نکل جاتی ہوگی یہ کوئی اتنا آسان نہیں ہے، یہ واقعی ایک بہت بڑا مشکل مرحلہ ہے !!!!!!! چاہے کوئی بھی اس کو مانے یا نہ مانے ‌؟؟ لیکن شرط یہی ہے کہ خلوص دل سے اعتراف اور نیک نیتی سے اظہار ہو جب !!!!!!!!

اس کے بعد تو کچھ دنوں کے لئے میں ‌نے خاموشی اختیار کرلی، مگر اسے تو مجھے بلیک میل کرنے کا موقعہ ہی مل گیا، مجھے ہر وقت ڈراتی بھی رھتی تھی، میں اس وقت واقعی کچھ ڈرپوک بھی تھا اور اس معاملے میں تو کچھ زیادہ ہی، مگر ایک دن تو میں نے یہ بالکل طے ہی کرلیا کہ آج کے بعد خامخواہ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس دن کوئی شاید اسی قسم کی فلم دیکھ کر آیا تھا اور اس کے ھیرو کی طرح میں نے بھی سوچ لیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے اس دفعہ اس لڑکی سے اقرار کرا کے ہی رہوں گا،!!!!!

دوسرے دن یہ لڑکیوں کے ساتھ ھمارے گھر کے صحن میں کھیل رہی تھی اور اس کے ہاتھ میں ایک گیند تھی، اسکو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک مجھے ایک شرارت سوجھی اسکے ھاتھ سے گیند چھین کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگا اور وہ میرے پیچھے گیند واپس لینے کے چکر میں، اور باقی لڑکیاں بھی اسکو ایک کھیل کی ظرح تفریح لینے لگی، اور ان کا تو کھیل ختم ہوگیا اور ہم دونوں کا کھیل شروع، وہ بھاگتے بھگتے تھک گئی اور دیوار کے ساتھ ہانپتے ہوئے بیٹھ کر اپنا سر گھٹنوں پر رکھ کر زور زور سے اپنی سانسوں کو سمیٹنے لگی،!!!!!

اور جیسے ہی وہ کچھ اپنے آپ کی سانسوں کو درست کر پائی، ویسے ہی پھر وہ تیزی سے اٹھ کر میرے پیچھے بھاگی لیکں میں بھی ایک شاطر چھلاوہ تھا، میں نے بھی فوراً گیند کو جیب میں ڈال کر،ایک چھلانگ لگائی کھڑکی کو پکڑ، دیوار کو پھلاندتا ہوا اپنے گھر کی چھت پر جا پہنچا اور وہ مجھے دیکھتی ہی رہ گئی، اور وہ لڑکی ایسی تھی کہ کبھی ہار نہیں مانتی تھی اور اس میں خودی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، اور اسکی یہ عادت مجھے بہت پسند بھی تھی اور اسی کی کمزوری سے میں ناجائز تنگ بھی بہت کرتا بھی تھا اور بعد میں اسی کے حق میں دستبردار بھی ہوجاتا تھا، اور وہ بھی اس وقت تک مجھے نہیں چھوڑتی تھی کہ جب تک میں ہار مان نہیں جاتا !!!!!!!

میں چھت پر اور وہ نیچے، وہ بلکل بضد تھی کہ گیند لے کر ہی جائے گی اور میں نے بھی آج ایک اور موقعہ کو ہاتھ میں جکڑ رکھا تھا، باقی ساری اس کی ساتھی لڑکیاں تو تھک ہار کر چلی گئی،لیکن وہ نیچے ٹس سے مس نہیں ہوئی گرمیوں کے دن تھے، دونوں کا برا حال بھی تھا، اس نے کہا کہ دیکھو مجھے تنگ مت کرو اور تمھیں تو پتہ ہے کہ میں بہت ضدی ہوں، گیند تو میں لے کر ہی جاؤں گی، کوشش تو اس نے بہت کی اوپر چھت پر چڑھنے کی، لیکں کامیابی نہیں ہوئی اُدھر میرا ایک دوست اپنی چھت پر پتنگ اڑا تے آڑاتے ہم دونوں کا تماشا بھی دیکھ رہا تھا، اور وہ بھی میری حمایت میں مجھے خوش کررہا تھا،

اسی کشمکش میں کافی دیر ہوچکی تھی آخر کو میں نے ھمت کر کے کہا، ہاں ایک شرط پر گیند واپس کروں گا، !!! اس نے پوجھا کہ، وہ کیا!!!!! میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ تم ہاں کہو!!!!!!! اس نے غصہ سے کہا کہ کس بات کیلئے!!!! بس تم ہاں کہو، میرا بھی دماغ خراب کہ میں کس بات کیلئے اس سے ہاں کہلوا رہا ہوں، وہ الفاظ تو منہ سے نکلے ہی نہیں اور اتنے میں کچھ کہنے کی ہمت پکڑتا وہ غصہ میں پیر پٹکتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دی!!!

یہ آج پہلی بار ہوا کہ وہ اپنے مقصد کو پائے بغیر اپنی ضد کو پورا کئے بغیر ہی چلی گئی، جس کا مجھے آج تک افسوس ہے!!!!!

کیونکہ میں ھمیشہ سے اسکی جیت کو اپنی جیت ہی سمجھتا تھا اور اکثر و بیشتر ہم دونوں بہت بحث کرتے تھے اور وہ اپنی بات کو ھمیشہ مجھ سے منوا کر رھتی تھی اور میں آخر ہار جاتا تھا پھر اسکے چہرے پر جو مسکراھٹ آتی تھی وہ میرے لئے ایک کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی، بظاھر میں اس سے کتنا ہی کیوں نہ ناراض ہوں لیکن جب میں اسے خوش دیکھتا تھا میرا دل اندر سے جھوم رہا ہوتا تھا، اور پورے محلے میں ہم دونوں کی شرارتیں بہت مشہور تھیں، اور اکثر لڑکے مجھ سے ناراض بھی ہوتے کہ میں اس سے ڈر کر کیوں ہار مان جاتا ھوں، !!!!!!!!

ہاں تو بات ہورہی تھی کہ وہ زندگی میں پہلی بار ہار مان کر واپس جارہی تھی، جسکا مجھے بہت دکھ ہوا، میں بھی فوراً چھت سے کودا کچھ چوٹ بھی لگی لیکن چوٹ کی پرواہ کئے بغیر اس کے پیچھے بھاگا مگر جب تک وہ اپنے گھر میں داخل ہوچکی تھی، جیسے ہی میں نے ان کے گھر کے مین دروازے کا پردہ آٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں سامنے وہ اپنی باجی کے کان میں کچھ کہہ رہی تھی اور باجی کا تو غصہ سے چہرہ سرخ ہورہا تھا، نہ جانے اس نے باجی کو کیا کہہ دیا تھا میرے تو جیسے پیروں میں دم ہی نہیں رہا، اس سے پہلے کے میں کچھ کہتا باجی نے فوراً میرے کانوں کو پکڑ لیا اور لگی مروڑنے اور میں اوئی ہائے کرنے لگا، نہ جانے ان کو میرے کان اتنی جلدی اور فوراً کیسے قابو میں آجاتے تھے، کہ میں کسی طرح بھی جان چھڑا نہیں سکتا تھا، آج بھی جب باجی کی یاد آتی ہے تو میں اپنے کان ضرور سہلانے لگتا ہوں، !!!!!!!!

وہ میرے کان مروڑتی جارہی تھیں اور ساتھ پوچھتی بھی جارہی تھیں کہ مجھے بھی تو بتاؤ تم نے زادیہ سے کیا کہا، !!!! میں نے بھی نیچے تکلیف میں جھکتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی تو نہیں کہا، بس یہ گیند چھپائی ہوئی تھی لو یہ واپس لے لو!!!!!!!! مجھے نہیں چاہئے اس نے اپنے آپ کو مظلوم بناتے ہوئے کہا اور کہتے ہوئے اندر کمرے میں چلی گئی اور مجھے معلوم تھا کہ وہ بہت خوش ہوگی، کیونکہ مجھے سزا جو مل گئی، لیکن میں یہ سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ اس نے کیا کہا تھا، میں نے بہت کوشش کی کہ باجی سے پوچھوں لیکن انہوں ‌نے ٹال دیا اور سنجیدہ سی ہوگئیں، بس یہی کہا کہ تم گھما پھرا کر بات نہیں کیا کرو جو بھی ہو صاف صاف کہہ دیا کرو، اس ظرح کوئی بھی بات کا غلط مطلب لے سکتا ہے،

میں سوچتا ہی رہ گیا کہ میں نے کونسی غلط بات کہدی، صرف اتنا ہی کہا تھا کہ “ ایک شرط پر گیند واپس کرونگا اگر تم ہاں کہو گی“ اور کس بات کےلئے ہاں کہو گی وہ تو میں کہہ ہی نہیں سکا، کئی دنوں تک ہم تینوں میں سنجیدگی ہی رہی، میں بھی کافی پریشان سا ہی تھا، مگر پھر آھستہ آھستہ حالت معمول پر آگئے، میں نے معافی بھی مانگی، پھر سے وہی رونقیں بحال ہوگئیں اور ہم تینوں پہلے سے بھی زیادہ ایک جان ہوگئے، مگر میں نے توبہ کرلی کہ اب کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کہوں گا جس سے اسے کسی بات کا صدمہ پہنچے، میں بھی تو اتنا بےوقوف اور ڈرپوک تھا کہ میرے منہ سے کوئی ایسے سلجھے ہوئے الفاظ نہیں نکل سکتے تھے جس سے کہ وہ مجھ سے مرعوب ہوجائے، جبکہ میں فلموں کے رومانٹک ڈائیلاگ ایسے زبانی اور بالکل ھیرو کی طرح جذباتی انداز میں بولتا تھا کہ سب حیران ہوتے تھے اور وہ بھی ان دونوں کے سامنے لیکن ایسے ہی ڈائیلاگ اپنے دل سے اسے اکیلے میں کہتے ہوئے موت آتی تھی،!!!!!!!

بعد میں ایسی کوئی ہمت تو نہیں پڑی لیکن میں خوش تھا کہ وہ مجھ پر پہلے سے زیادہ بہت مہربان تھی اور بعض اوقات میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ وہ میرے بغیر کھانا بھی نہیں کھاتی تھی جبکہ باجی مجھے میرے گھر سے یا باھر کہیں سے بھی زبردستی پکڑکر لاتی پھر ہم تینوں مل کر کھانا کھاتے، اور ھمیشہ اپنی امی سے وہ میرے پسند کے کھانا پکواتیں، اب تو ناشتہ بھی ان کے گھر پر ہونے لگا تھا اگر مجھے کالج جانے کو دیر ہوجائے تو وہ دونوں دروازے پر آجاتیں اور دونوں کے ہاتھ میں الگ الگ ایک ایک ناشتہ کا پراٹھے میں انڈا سے لپٹا ہوا نوالا ہوتا اور دونوں بضد ہوتے کہ پہلے میرے ہاتھ کا نوالا کھاؤ،

کئی دفعہ تو میں دونوں کی ضد کے آگے پریشان بھی ہوجاتا کہ ایک کہتی کہ مجھے دیکھو تو دوسری کہتی کہ نہیں میں بڑی ہوں صرف تم مجھے دیکھو گے، جب کچھ تکرار زیادہ ہوجاتی تو فوراً نانی بول پڑتیں تھیں کہ ارے تم کہیں کسی کو نہیں دیکھو گے بس مجھے دیکھو نانی بیچ میں آجاتیں تھیں، وہ بھی ہم تینوں کو اس طرح ھنستے کھیلتے، ایک دوسرے پر جاں چھڑکتے، دیکھ کر بہت خوش ہوتیں تھیں اور ساتھ انکے والدیں بھی مجھے بہت چاھتے تھے، نانی جان اور ان کی امی تو مجھے ھمیشہ میرے ماتھے پر پیار کرتی رھتی تھیں اور نظر بھی اتارتی تھیں، اور انکے ابا کبھی کبھی ایسا بھی کہتے کہ اتنا بھی پیار نہ کرو کہ اگر یہ نہ ملے تو تم لوگ برداشت نہ کرسکو کیونکہ آخر کو یہ ھماری اولاد تو نہیں ہے، کہیں ان کے والدین کبھی اعتراض نہ کر بیٹھیں اور پھر سب کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور میں ہی کہتا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے میں آپلوگوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گا،

اب تو میں اپنے گھر میں سونے ہی جاتا تھا وہ بھی رات گئے تک ان کے ساتھ ہی رہتا، کالج جانا اور واپس آکر اپنے گھر میں کپڑے بدل کر ان کے پاس پہنچ جانا اور بس بہن بھائی کے ذرئیے امی کے بلاؤے پر گھر جانا اور جو بھی کام ہوا اسے پورا کرکے سیدھا پھر ان کے گھر پر پہنچ جاتا اور ہمارے گھر پر بھی کوئی اب تک امی ابا کی ظرفسے کوئی ناراضگی کا کوئی ایسا اظہار تو نہیں ھوا تھا لیکں ھماری امی کبھی کبھی یہ کہتی ضرور تھیں کہ کبھی اپنے گھر میں بھی ٹک جایا کرو، لیکن میں ان کی بات کو ھمیشہ نظر انداز کردیتا تھا، جو میرے لئے کچھ دنوں بعد میں بہتر ثابت نہیں ہوا،

اس کے علاؤہ گھومنے پھرنے اور انکے ساتھ فلمیں بھی دیکھنے جانے لگا اور انکی ہر باھر کی تقریبات اور دعوتوں میں بھی میں ان کے ساتھ ہی رہتا تھا، غرض کہ نہ ان کو میرے بغیر چین اور نہ ہی مجھے، میں کہیں بھی ہوتا تو وہ دونوں مجھے ڈھونڈ نکالتیں ایک دفعہ میں ان کے گھر جانے ہی والا تھا کہ وہ مجھے ڈھونڈتی ہوئی میرے گھر پہنچ گئی، وہاں میں ایک پڑوسی کی لڑکی کے ساتھ باتیں کررہا تھا کہ پیچھے سے یہ زادیہ پہنچ گئی اور کچھ کہے سنے بغیر ہی غصہ میں واپس پلٹ گئی،

اب ایک اور مجھے مشکل سامنے نظر آرہی تھی، میں تو گھبرا گیا کہ اب کوئی ایک اور نئی مصیبت کا سامنا ہونے والا ہے، کیونکہ جس لڑکی سے میں بات کررہا تھا، اس سے زادیہ بہت ہی زیادہ چڑتی تھی اور ھمیشہ مجھے اس سے دور رہنے کے لئے بھی کہتی تھی!!!!!!!!!!!!
-------------------------------------------------
ایسا میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے،؟؟ جیسے ہی جتنا حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہوں‌، کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے، خیر اب آنے والے طوفان کا تو مقابلہ کرنا ہوگا،!!!!! سوچو سید صاحب ورنہ تو موسم حد درجہ خراب ہونے کے امکان ہیں، لڑکیوں کی تو ایک مشکل یہ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر بغیر کچھ سمجھے ہوئے شک کرنے لگتی ہیں، ارے بھئی کسی کو صفائی کا تو موقع دو، مگر کسی کی بھی نہیں سنتی ہیں اور ان کی عدالت بھی ایک طرفہ ٹریفک کی طرح ہی ہوتی ہے!!!!

اب کر بھی کیا سکتے تھے ایک نیا مورچہ سامنے آرہا تھا، چلو اس کو بھی سنبھالتے ہیں، ان کی عدالت میں یعنی ان کے گھر ڈرتے ڈرتے پہنچے، موڈ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا، یا مجھ پر ہی فطری طور پر ہی کچھ نفسیاتی سا اثر ہوگیا تھا، پہنچتے ہی کچھ بات چیت تو نہیں ہوئی میں بھی جاکر سب سے معمول کے مطابق سلام کیا اور ویسے بھی روزانہ آگر نانی جاگ رہی ہوتی تو ان کو جھک کر آداب کرتا اور وہ مجھے دعائیں دیتی ہوئی ماتھے پر پیار کرتیں اور اپنے ہاتھوں سے بلائیں لیتیں، نانی اور خالہ دونوں ھمیشہ مجھے اسی طرح دعائیں دیتیں اور پیار کرتی تھیں اور پھر ان کی دعاؤں سے فارغ ہو کر باجی کی عدالت میں حاضری اور روزمرہ کی رپورٹ انکی خدمت میں پیش کرتا اور پھر چھوٹی کی طرف دیکھنا کہ اس کا کیسا موڈ ہے،

چھوٹی کا موڈ تو ھمیشہ موقع کی شاید تلاش میں رھتا ہے اور اب تو جناب انہوں نے مجھے اس لڑکی سے بات کرتے دیکھ لیا تھا جسے وہ پسند ہی نہیں کرتی تھی، خیر ہمیں کیا، شکر ہے کہ کسی سے شکایت نہیں کی تھی، ورنہ تو کچھ سنبھالنا مشکل ہوجاتا، ترکیب تو سوچ کر ہی آیا تھا، لیکن ضرورت نہیں پڑی مگر کسی اور طرف اسکا اٹیک ہو ہی گیا !!!!!!!

آج نانی کچھ مجھ سے بہت زیادہ خوش تھیں اور وہ اپنے پیارے انداز میں میری بہت زیادہ تعریف کررہی تھیں، کہ میں بہت ہی فرمانبردار، مودب اور بہت خدمت گزار بچہ ہوں اسکے علاوہ کہ جس لڑکی سے بھی اسکی شادی ہوگی وہ بڑی خوش قسمت ہوگی وغیرہ وغیرہ، وہ ہمیشہ ہی میرے لئے ایسے ہی پیارے خطابات سے نوازتی تھیں مگر آج کچھ ضرورت سے زیادہ ہی میری تعریف ہورہی تھی، اوپر والا میرے حال پر کرم کرے، جب مجھ پر کچھ زیادہ ہی مہربانیاں برسنے لگتی ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ آج کچھ گڑبڑ ہونے والی ہے ،

نانی تعریف کرتیں تو خالہ اس میں مزید اور اضافہ کرکے تعریفوں کے پُل باندھ دیتی تھیں اور باجی مجھے دیکھتی ہوئی خوشی سے مسکراتی اور مجھے معنی خیز نظروں سے بھی دیکھتی جاتیں، اور آج کل تو میری دلہن کے بارے میں اس موضوع پر ایک مزید بحث کا اضافہ ہوگیا تھا اور جیسے ہی نانی یس موضوع کو چھیڑتیں اور میری ہونے والی دلہن کی خوش قسمتی پر ناز کرتیں تو فوراً چھوٹی کہتی کہ !!!!! کوئی نہیں نانی اس لڑکی کی تو قسمت ہی پھوٹ جائے گی، اپنی شکل دیکھی ہے کبھی آئینے میں ؟؟؟؟؟؟

اور آج تو اسکا ویسے ہی میرے خلاف موڈ تھا، مگر نانی تو آج میری تعریف کے قصیدے پر قصیدے بیان کررہی تھیں، ہمارے والد صاحب بھی ان کو اپنی والدہ کا درجہ دیتے تھے اور شاید پہلے بھی نانی کو کہا بھی تھا کہ یہ چھوٹی کو تو میں اپنی بہو بناؤں گا، اور نانی کو بھی دیکھو اس کا ذکر آج ہی کرنا تھا، جیسے ہی نانی نے زادیہ کو مخاطب کرتے ہوئے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ابا تمھیں تو اپنے گھر کی بہو بنانا چاہتے ہیں، تمھارا کیا خیال ہے، یہ سنتے ہی چھوٹی بھڑک اٹھی !!!! کیا میں فالتو ہوں اور کبھی اپنی شکل آئینے میں دیکھی ہے، نانی تم نہیں سمجھتی یہ نہ جانے کن کن لڑکیوں کے چکر میں رہتا ہے، اور پتہ نہیں کس کس کو بے وقوف بناتا رہتا ہے !!!!!!اور نہ جانے کیا کیا کہتی رہی، میں نے بھی جواباً تنک کے کہا کہ!!!!! شکر ہے مالک کا جو بھی مجھے دیکھتی ہے فدا ہوجاتی ہے، ایک سے ایک پڑی ہے،!!!!! میرے یہ لفظ سنتے ہی اس نے کہا کہ!!!!! تو تم یہاں کیوں آتے ہو، جاؤ وہیں اپنی لاڈلیوں کے پاس !!!!! بس یہ کہا اور دوسرے کمرے میں یا باورچی خانہ میں اپنی اماں کے پاس جاکر میرے خلاف کھسر پھسر کرنے لگی،

ایک تو وہ ویسے ہی میری وجہ سے غصہ میں تھی اور اُوپر سے میں نے بھی خوامخواہ اس سے بےکار پنگا لے لیا، اب کیا کروں باجی کو پکڑلیا باجی نے کہا کہ،!!!! میں کیا کروں یہ تم دونوں کا معاملہ ہے میں کچھ نہیں کرسکتی،!!!! میں نے اچکتے ہوئے کہا کہ!!!!!! ارے باجی میں نے کچھ نہیں کیا کسی لڑکی سے تو میں کسی بھی طرح اور کسی بھی ظریقے سے جو وہ سمجھ رہی ہے کبھی اس طرح بات ہی نہیں کرتا، کچھ اسے سمجھاؤ !!!!!! باجی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ !!!مگر تم نے بھی تو مذاقآً یا حقیقت میں غلط جواب دیا ہے، اب بھگتو !!!!!!

اس کے بعد کچھ دن مجھے لگے حالات کو قابو میں لینے کیلئے اور شکر ہے کہ پھر سے گاڑی لائن پر دوبارہ چل پڑی اور شادی اور دلہن کا موضوع تو اب بالکل ختم کردیا تھا، جب سب راضی ہیں تو کیا غم ہے، بس میں چاہتا تھا کہ وہ کسی ظرح سے اقرار کرلے، مجھ سےاس طرح اس سے اس بات کا اقرار کروانا تو ایسے تھا جیسے لوہے کے چنے چبانا، سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم دونوں کبھی سنجیدہ ہی نہیں ہوئے اور ھمیشہ ہر موضوع پر خوامخواہ کی بحث اور لڑنا جھگڑنا ایک معمول تھا اور دونوں ہی ایک دوسرے سے لڑنے کے بہانے بھی ڈھونڈتے اور ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے !!!!!

میں نے اب یہ سوچ ہی لیا تھا کہ میں اب اس سے کبھی بھی نہیں لڑونگا اور ایسی بات سے ہمیشہ پرہیز کرونگا جس سے اسے کوئی پریشانی یا صدمہ پہنچے اور اپنی پوری کوشش کرونگا کہ اسکی ساری ھمدردیاں حاصل کرنے کی، اور اب تو حالات معمول پر تھے پھر سے ھم تینوں خوش تھے اور میں بھی اس سے کسی بات پر بحث ہی نہیں کررہا تھا اور اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا، مگر وہ پریشان ہوگئی اور باجی سے کہا کہ اس سے پوچھو مجھ سے اب تک کیوں ناراض ہے، لے بھیا!!! ایک اور مشکل، میں نے کہا کہ میں کب ناراض ہوں تو اس نے جواب دیا کہ !!!!! تو پھر مجھ سے اب بحث بھی نہیں کرتے ہو اور میری ہر غلط بات پر بھی لڑتے نہیں ہو !!!!!! میں نے پھر غصہ سے کہا کہ !!!!!!تم سے تو پیار سے بات کرو تو مشکل اور لڑو تو بھی مشکل !!!!! اور اسی طرح پھر دونوں میں تکرار اور بحث چل پڑی اور بہت مشکل سے باجی کی مداخلت پر معاملہ ٹھنڈا پڑا !!!!!!

کل تو وہ یہ کہہ رہی تھی کہ!!!! اسے سمجھادو باجی مجھ سے الجھا نہ کرے اور یوں خامخواہ الٹی سیدھی باتیں نہ کیا کریں، ورنہ ورنہ!!!!!! اور آج تو اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا گاجر کا حلوہ کھلا رہی تھی جیسے کہ کل کوئی بات ہی نہیں ہوئی، میں بھی خوش بس پھر میں بھی چپ، مگر کیا کریں یہ تو ہم دونوں کے ساتھ ساتھ تھا اور اسکے بغیر بھی گزارا نہیں تھا اور مجھے اسکا یہ موڈ بھی اچھا لگتا تھا اور اپنے آپ کو اسکے سامنے ہرانا اور بھی زیادہ اچھا لگتا تھا، اسکے جیتنے پر اسکے چہرے کی خوشی اور خفا ھونے کی صورت میں اسکا لال سرخ چہرہ، مجھے اسکے دونوں روپ بہت اچھے لگتے تھے !!!!!!

ایک دن جب کالج کے لئے نکلا اور حسب معمول ان کے گھر گیا تو اسے سخت بخار چڑھا ہوا تھا اور سب اسکی تیمارداری میں لگے ہوئے تھے، اور مجھ سے بھی دیکھا نہیں گیا اور میں کالج کے بجائے سیدھا اپنے والد صاحب کی کمپنی کے ڈاکٹر کے پاس گیا اور اسکی حالت بتا کر اسی کے نام سے دوائی لی اور فوراً جلدی جلدی اسکے پاس پہنچا وہ سخت بخار میں تھی اور باجی اور خالہ دونوں اسکے سر پر ٹھنڈی پٹیاں کررہی تھی، مجھے دیکھتے ہی ہانپتے ہوئے کہا کہ !!!!! دیکھو بدتمیز کو کہ جب اس کی طبعیت خراب ہوتی ہے تو میں اسکے بستر کے پاس سے ھٹتی نہیں ہوں اور یہ حضرت صبح سے غائب اور میری کوئی فکر نہیں ہے کہ میری یہاں کیا حالت ہے!!!!!! میں نے دل میں کہا کہ دیکھو اس کو بخار میں بھی چین نہیں ہے !!!!!!!!!!

اس سے پہلے کہ وہ مزید اور کچھ کہتی، میں نے فوراً دوائی کا لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا اور کہا کہ!!!! میں تو تمھاری دوائی لینے گیا ہوا تھا !!!!! میرے یہ کہتے ہی دیکھا کہ اسکی آنکھوں میں فوراً آنسو چھلک آئے اور اس نے اپنا منہ دوسری طرف کرلیا، باجی کے بھی ساتھ ہی آنسو نکل پڑے اور خالہ اور نانی نے مجھے باری باری گلے لگایا اور ماتھے پر پیار کیا اور بہت دعائیں دیں !!!!!!!!

اور اس دن میرا دل بھی اندر سے بہت خوش تھا کہ آج زندگی میں شاید پہلی بار زادیہ کو میری کسی حرکت سے اسکی آنکھوں میں جذبات میں ڈوبے ھوئے آنسو امڈ آئے تھے!!!!!!!!

--------------------------------------------------------------------------------
جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-11-10), پاکستانی (13-11-10)
پرانا 04-11-10, 06:43 PM   #27
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جوانی کی طرف رواں دواں سفر-4

اس سے پہلے کہ وہ مزید اور کچھ کہتی، میں نے فوراً دوائی کا لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا اور کہا کہ!!!! میں تو تمھاری دوائی لینے گیا ہوا تھا !!!!! میرے یہ کہتے ہی دیکھا کہ اسکی آنکھوں میں فوراً آنسو چھلک آئے اور اس نے اپنا منہ دوسری طرف کرلیا، باجی کے بھی ساتھ ہی انسو نکل پڑے اور خالہ اور نانی نے مجھے باری باری گلے لگایا اور ماتھے پر پیار کیا اور بہت دعائیں دیں !!!!!!!!

اور اس دن میرا دل بھی اندر سے بہت خوش تھا کہ آج زندگی میں شاید پہلی بار زادیہ کو میری کسی حرکت سے اسکی آنکھوں میں جذبات میں ڈوبے ہوئے آنسو امڈ آئے تھے!!!!!!!!!!!!!!!


آج تو میں بہت ہی زیادہ خوش تھا، یہ خوشی بھی کیسی خوشی تھی کہ کوئی بیمار تھا اور میں خوشی سے ناچ رہا تھا!!!!!!!!!

دوائی کا تو پتہ نہیں کہ اس نے پی تھی یا نہیں لیکن میں نے وہی دوائی کی بوتل کافی عرصہ تک سامنے والے طاق میں رکھی دیکھی، میں بھی روز دیکھتا تھا لیکن میں نے اس دوائی کے بارے میں اس سے کبھی نہیں پوچھا اور نہ ہی اس نے کوئی اس دوائی کے بارے میں بتایا کہ یہ دوائی اب تک کیوں رکھی ہے، اتنا سب کچھ ہوگیا اور یہ بھی دل کو یقین ہوگیا کہ وہ مجھے بہت دل و جان سے چاہتی ہے، لیکن جو میں اس کے منہ سے سننا چاھتا تھا، لاکھ کوشش کرلی مگر نہ میں کچھ کہہ سکا اور نہ اس نے کوئی اپنی زبان کھولی، کئی دفعہ ایسا ماحول بھی پیدا کیا کہ کچھ بول سکوں اور اس نے بھی چاہا کہ میں کچھ اپنے منہ سے کہوں لیکن افسوس کہ اس وقت ہی میری زبان گنگ ہوجاتی تھی، صرف اس ڈر سے کہ کہیں پھر وہ برا نہ مان جائے اور کہیں میں اسے کھو نہ دوں!!!!!!

اور یہ میں تو سب کچھ جانتا بھی تھا کہ کوئی بھی تو ایسا لڑکا نہیں تھا، ان کے جاننے والوں میں یا اور کوئی ہو جسے وہ پسند کرتی ہو، کیونکہ میں تو زیادہ تر وقت انہیں کے ساتھ گزارتا تھا!!!! میں تو بس اسی میں ہی خوش تھا، ادھر کالج کی ُپڑھائی پر بھی کافی اثر ہورہا تھا، اور اب کالج سے بھی جلدی آجانا اور ہم تینوں گھر میں ہی اُدھم بازی کرتے اور جب تک ہماری اماں کا بلاؤا نہیں آتا تھا، میں وہاں سے ہلتا نہیں تھا !!!!!!

ایک دن گھر پر اباجی جلدی آگئے ان کو شاید مجھ سے کچھ کام تھا یا بازار جانا تھا مجھے اپنی بہن کےذریئے بلوایا گیا، لیکن میں نے سنی ان سنی کردی، ابا نے اور زیادہ سختی سے پیغام بھجوایا کہ فوراً آؤ اور جب مجھے پتہ چلا کہ اباجی گھر پر آگئے ہیں، تو فوراً بھاگا وہاں گھر پر ایک دو اور محلے کی فیملیز بیٹھی تھیں اور مجھے دیکھتے ہی وہ لوگ چلے گئے اور میرا ماتھا ٹھنکا اور چھٹی حس نے کھا کہ بیٹا آج کچھ ضرور گڑبڑ ہے گھر میں کچھ سناٹا سا محسوس ہو رہا تھا، میری اندر سے جان نکلی جارہی تھی، والد صاحب کچھ زیادہ ہی غصہ میں لگتے تھے لیکن انہوں نے کچھ برداشت سے کام لیا ہوا تھا اور باقی بہن بھائی بھی ایک کونے میں خاموشی سے دبکے بیٹھے ہوئے تھے اور والدہ اسی وقت اٹھ کر باورچی خانہ میں چلی گئی تھیں،

میں کچھ سمجھ نہیں ‌پا رہا تھا کہ کیا گڑبڑ ہے، ابھی کچھ حالات کا دماغ میں جائزہ ہی لے رہا تھا کہ ابا جی نے سکوت کو توڑتے ہوئے مجھے اپنے پاس بلانے کا اشارہ کیا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کچھ یوں اپنے غصہ کے ملے جلے الفاظوں سے یہ کہا کہ “ بیٹا جو میں تم سے بات کہنے جارہا ہوں اسے ذرا غور سے سننا، اب تم بچے نہیں رہے ہو اب تم کافی بڑے ہوگئے ہو، تمہیں اب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے، گھر میں تمھاری ایک ماں ہے اور تمھارے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ہیں، تمھیں ان کے بارے میں بھی سوچنا ہے اور پڑھ لکھ کر ہم سب کا ایک مضبوط سہارا بننا ہے، ایک صرف تم سے درخواست ہے کہ اب تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے، اپنی تمام تر توجہ اپنی پڑھائی،اور اپنے اور صرف اپنے گھر پر ہی دوگے، اور اب تمھارا پرائی جوان لڑکیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اچھا نہیں لگتا، اس میں تمھاری اور ہمارے یہ ایک چھوٹے سے کنبے کی بدنامی بھی ہے، میں صرف یہی چاہتا ہوں کہ کل سے تم سیدھا کالج جاؤ گے اور واپسی پر سیدھے اپنے گھر، اور اس کے علاوہ اگر گھر کے کام کے سلسلے میں جانا ہو تو ٹھیک ورنہ تم ان کے گھر اب کبھی نہیں جاؤ گے آج میں یہ تمھیں یہ پیار سے سمجھا رہا ہوں، اور تم میرا غصٌہ جانتے ہو اور اگر آج کے بعد میں نے تمھیں اس گھر کے آس پاس بھی دیکھا تو مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ہوگا اور جو میں تمھارا حشر کرونگا پھر سے ایک مرتبہ پھر ساری دنیا دیکھے گی، شاید تمھیں یاد ہو !!!!!!!!

وہ کہتے جارہے تھے اور میرے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین نکلتی جارہی تھی، اور میرا دماغ بالکل معاؤف ہوتا جارہا تھا کہ یہ ایک دم اچانک کیسے ہوگیا کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا،!!!!!!!
----------------------------------------------
1967 کا زمانہ اور اُس وقت میری عمر جو تقریباً 17 سال کے لگ بھگ تھی، یہ عمر ایک ایسی جذباتی عمر ہوتی ہے کہ کوئی بھی مرضی کے خلاف بات ہو وہ بالکل برداشت نہیں ہوتی، لیکن والد صاحب کا غصہ بھی بالکل بجا تھا، اور میں بھی شاید اپنے طور پر اپنی جگہ بالکل صحیح تھا، !!!!!!!!!

اسی دوران سالانہ امتحانات بھی سر پر تھے، اور حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ امتحانات کی تیاری بالکل نہیں کرسکا تھا، روزانہ ایک آدھ پیریڈ کے علاوہ کوئی اور پیریڈ میں جاتا ہی نھیں تھا، ایک تو وہاں کی آزادی اور دوسرے لیکچرار جو انگلش میں اس وقت سوال کرتے تھے اور وہ بھی مجھے ہی نشانہ بناتے تھے، اول تو سوال ہی سمجھ میں نہیں آتا تھا، اگر سمجھ میں آتا تو جواب نہیں آتا تھا، کئی دفعہ اردو میں جواب دینے کی کوشش بھی کی لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا، پھر کیا کرتا ایسی ساری مضامین کی کلاسوں میں جانا ہی چھوڑ دیا جہاں پر اردو کا کوئی ذکر نہیں ہوتا، اور مجھے آج تک انگریزی زبان سے اتنا زیادہ لگاؤ بھی نہیں ہے، بعض اوقات مجبوری ہوجاتی ہے!!!!!!!

فرسٹ ائیر کامرس کے امتحان ہوچکے تھے، مگر افسوس کہ میں نے 5 مضامیں میں سے صرف 2 پیپر ہی کلئیر کئے تھے، اور پھر بھی سیکنڈ ائیر میں پہنچ گئے تھے، مگر بس اب کل آٹھ مضامین کے امتحانات کا سوال تھا، لیکن اس کالج میں افسوس اگلی کلاس میں جانے کی نوبت ہی نہیں آئی، کیونکہ اپنے ذاتی مسائل کی الجھنیں کچھ اتنی شدت اختار کرچکی تھیں، کہ اس کالج کی طرف دھیان ہی نہیں گیا،

والد صاحب کو جب پتہ چلا کہ میں نے صرف دو ہی پیبر کلئیر کئیے ہیں تو انکا تو اور بھی پارہ اوُپر چڑھ گیا، اور کچھ ہمارے مہربان لوگوں کو بھی میرے خلاف شکایات کرنے کا موقعہ مل گیا، اب تو میری ہر طرف سے سخت نگرانی کی جانے لگی تھی، میرے پیچھے جاسوس چھوڑدئیے گئے اور کچھ تو اپنی مرضی سے اور کچھ اپنی خوشی سے ہی میرے خلاف جہاد میں شریک ہوگئے اور مجھے بھی ان کا پتہ آسانی سے چل ہی گیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ کئی لوگوں کو میرے ان کے یہاں آنے جانے سے بہت تکلیف ہوتی تھی، کچھ تو یوں کہ ان کے گھر سے لفٹ نہیں ملتی تھی اور کچھ ایسے بھی تھے، جو چاہتے تھے کے میں ان کے تعلقات ان سے کرانے میں مدد کروں، جسکا کہ میں نے اس کا سختی سے نوٹس لیا، اور وہ میرے خلاف ہوگئے اور مجھے ان معصوم لوگوں سے دور کرنے کی مہم میں بلا معاوضہ شامل ہوگئے، مگر میں بھی کہاں باز آنے والا تھا،!!!!!!!!!

ادھر والد صاحب نے انکے والد کو اپنے گھر پر یا انہی کے گھر جاکر محلے والوں کی شکایت کی، جسکا مجھے انہیں کی زبانی بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے کچھ یوں کہا تھا کہ بھائی صاحب دیکھیں ہمیں اسی محلے میں رہنا ہے اور ہمارے آپس کے تعلقات اتنے اچھے اور مضبوط ہیں کہ میں نہیں چاھتا کہ اس میں کوئی دراڑ آئے، آپکی بیٹیاں بھی میری بیٹیوں سے زیادہ عزیز ہیں، اور میں یہ بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ ان میں کوئی بھی خرابی نہیں ہے بہت ہی اچھے کردار کی مالک اور خلوص دل اور عزت کے قابل ہیں، مگر آپ یہ سوچیں کہ اب وہ دونوں جوانی کے دھلیز پر قدم رکھ چکی ہیں اورمیرا بیٹا بھی اور اس کی بھی میں کیا آپ بھی ضمانت دے سکتے ہیں کہ وہ بھی کوئی ایسا غلط قدم اٹھا نہیں سکتا جس سے آپ کے اور میرے درمیان کوئی عزت کا مسئلہ یا بدنامی کا باعث ہو، مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے بلکہ میں آپ سب کا ھمیشہ ست احسان مند ہوں کے میرے بچوں کی آپ کی بیٹیوں نے بہت اچھی تعلیم اور تربیت کی اور بہت اچھا خیال رکھا،!!!!

اور یہ کہ اب آپ خود سوچیں کہ محلے والوں کی زبان کو کون پکڑ سکتا ہے آجکل یہ سب میرے بیٹے اور آپکی بیٹیوں کو لے کر اس کے موضوع کو ایک غلط شکل میں ڈھال رہے ہیں، جب یہ بچے چھوٹے تھے تو کوئی بات نہیں تھی اب یہ سب جوانی کی طرف قدم بڑہارہے ہیں، میں یہ نہیں چاھتا کہ کوئی بھی ذرا سی آنچ نہ آپ پر آئے اور نہ مجھ پر، آپ کو پتہ ہے بھائی صاحب آجکل دنیا کسی کے بھلے کا نہیں سوچتی جتنی عزت دیتی ہے تو اتنا ہی اپنے مفاد کی خاطر موقعہ ملے تو ذلیل کرنے سے باز بھی نہیں آتی، اور میں چاھتا ہوں کہ کچھ عرصہ کیلئے اپنے گھر میں سب کو کہہ دیں کہ میرے بیٹے کو آنے سے روک دیں اور ادھر میں اپنی پوری کوشش کرونگا کہ اسے آپ کی طرف نہ جانے دوں،

اور نہ جانے کیا کیا کہا ہوگا، جس کے جواب میں لازمی بات ھے کہ انکے والد نے بھی ہامی بھری ہوگی، اس کے علاوہ انکو بھی محلے کے کچھ عزت دار لوگوں نے بھی اسی طرح کی نصیحتیں کی تھیں کہ یہ سب ہمارے بچوں کی طرح ہیں، لیکن اس طرح کی غلط افواھوں سے بچنے کیلئے اس طرح انکا آزادانہ ملنا جلنا باھر گھومنا پھرنا اچھی بات نہیں ہے !!!!!!!!!!

بس پھر کیا تھا کہ ہمارے اور انکے درمیان میں ایک دراڑ کی لائن پڑ چکی تھی، ادھر میرے والد صاحب نے مجھے سختی سے نوٹس دے دیا اور ادھر ان کے والد نے بھی ان دونوں کو بری ظرح ڈانٹا بھی اور یہ کہا کہ اگر میں نے اس لڑکے کو اس گھر کے اندر یا باھر تم لوگوں سے باتیں کرتے دیکھا یا سنا تو تم لوگوں کی خیر نہیں ھے اور اگر میں نے اسے یہاں دیکھا تو اسکی میں ٹانگیں توڑ دونگا،!!!!!!

ادھر کچھ محلے والے بھی بہت خوش تھے اور میں شعلوں کی ایک اور جنگ کے لپیٹوں میں گھرا ہوا پریشان حال ایک اور مصیبت کے پہاڑ کو اپنے سر سے اتارنے کی سوچ میں لگا ہوا تھا !!!!!!!!!!!!!!
----------------------------------------------------------------
اب تو دن کا چین اور راتوں کی نیندیں حرام ہوچکی تھیں، نہ کوئی اس وقت ٹیلیفون تھا، نہ کوئی موبائیل قسم کی چیز، نہ کوئی انٹرنٹ ٹائپ کی کوئی ایجاد ہوئی تھی، بس ایک دوست جس کو ننھا کے نام سے بلاتے تھے، مجھ سے چھوٹا لیکن بہت پھرتیلا اور چالاک باقی سب دوستوں پر سے تو اعتبار اٹھ چکا تھا، سب کے سب مخالف پارٹی سے مل چکے تھے، اور اسی طرح ان دنوں ملک کی سیاست بھی کچھ یونہی ڈگمگا رہی تھی، خیر ہمیں سیاست سے کیا ہمیں تو اس محلے پر سے اپنی ہی حکومت ختم ہوتی نظر آرہی تھی، اس محلے کا اب وہ معیار نہیں رہا تھا ھر کوئی اب ایک دوسرے سے حسد کرنے لگا تھا اور آھستہ آھستہ اچھے لوگ یہ محلہ چھوڑتے جارہے تھے، اور نئے لوگ بسنا شروع ہوگئے تھے، لیکن ان میں اور پرانے لوگوں میں زمین اور آسمان کا فرق تھا،

اب تو ھر طرف سے مجھ پر نطر رکھی جارہی تھی، جاسوسوں کا بھی کیا منطم گروپ تھا، میرے گھر سے نکلنے سے لیکر بس اسٹاپ، اور جب تک بس میں نہ چڑھ جاؤں، میرا پیچھا ہوتا رہتا، لیکن میں نے بھی یہ کسی کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں مجھے اپنے پیچھا کرنے والوں کا علم ہے، کبھی کبھی تو وہ میرے ساتھ ہی چلتے رہتے اور پوچھنے پر بتاتے کہ بس ایسے ہی ذرا مارکیٹ جارہا تھا اور کبھی کوئی دوسرا بہانہ، مگر میں بھی انکی چالاکیوں کو جانتا تھا، یہ کل کے بچے آج ہمارے ساتھ مقابلہ کرنے چلے تھے، مگر انہوں نے مجھے بہت تنگ کیا، پیچھے سے آوازیں لگانا، اس کا نام لے کر مجھے برے الفاظوں کے ساتھ چھیڑنا، اس کے علاوہ دیواروں پر چاک سے اور کبھی کوئلے سے میرا اور اس کا نام لکھ کر اس کے ساتھ نازیبا الفاظوں کو لکھنا، جو مجھے بہت تکلیف دیتے تھے، اسے پھر میں اور میرا چھوٹا دوست ننھا مل کر پانی اور برش لے کر صاف بھی کرتے رہتے تھے،

اس کا نام ننھا تو تھا ہی اور عمر میں شاید مجھ سے کچھ چھوٹا ہی تھا، لیکں اس نے ان دنوں میرا بہت ساتھ دیا تھا، اور وہی میرا ایک زبانی واحد پیغام رسانی کا ذریعہ بھی تھا، اور اب وہی میرے ساتھ زیادہ تر رہتا تھا، اس کے پیچھے بھی کافی جاسوس لگے رہتے تھے مگر وہ تو مجھ سے کہیں زیادہ تیز تھا،

اکثر وہ اس ظرح پیغام لیتا کہ برابر والے کو پتہ نہیں لگتا تھا کبھی کبھی ہم اسی دیوار کے ساتھ گولیاں کھیلتے تو ساتھ جاسوس بھی ہمارے ساتھ چپکے رہتے اور ہماری ایک ایک حرکت پر نظر رکھتے تھے، لیکن گولی کھیلتے کھیلتے اسی دیوار کے ساتھ سامنے والے دروازے پر گولی وہ یونہی پھینک دیتا اور جیسے ہی وہ گولی اٹھانے، وہاں پہنچتا تو دروازے کی آڑ میں سے وہ میرے لئے پیغام سن بھی لیتا، وہ دروازہ انہیں کے گھر کا تھا اور وہ دونوں بھی اسی دروازے کی دراڑ میں سے ہمیں کھیلتے ہوئے دیکھتی رہتی تھیں، اور جیسے ہی وہ ننھا اس دروازے کے پاس کسی بھی بہانے سے پہنچتا اسے اپنا پیغام سنادیتی اور سن بھی لیتا اور بس کہتا چلو بھائی اپنا کام ختم،

اس کے علاوہ نزدیکی گھروں سے بھی عورتوں کی جاسوسی چل رہی ہوتی تھی، ان کی نطر صرف مجھ پر ہی ہوتی، مگر میرا ننھا اپنا کام کرجاتا اور کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا اور سب کو مایوسی ہوتی اور وہ ننھا واقعی میرا ایک مخلص ساتھی تھا، جس نے مجھے اس وقت سنبھالا، جس وقت میں ٹوٹنے والا تھا، وہ بہت بہادر تھا اور اس میں قدرتی بہت طاقت بھی تھی اس سے میں خود کئی دفعہ مار کٹائی میں ہار چکا تھا، جب کبھی اس سے میری دوستی نہیں تھی اور محلے والے بھی اس کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، جب اس نے دیکھا کہ مجھ سے تمام محلے کے لڑکے دور ہوتے جارہے ہیں، اور مجھے تنگ کرنے لگے ہیں تو وہ میرے سامنے آگیا اور پھر اس نے تمام مخالفتوں کے باوجود سب سے گن گن کر بدلا لیا، میں لڑائی سے بہت دور بھاگتا تھا، اور اسے بھی بہت روکتا تھا لیکن وہ میری ایک نہیں سنتا تھا اور ھر ایک سے لڑ پڑتا تھا اکثر لڑکے اس سے گھبراتے بھی تھے، کیونکہ وہ ایک تو پھرتیلا بہت تھا اور دوسرے وہ کسی کا بھی آسرا نہیں کرتا تھا، فوراً اسکے ھاتھ میں جو چیز بھی آجائے اٹھا کر ماردیتا تھا، اس کا نشانہ بھی بہت پکا تھا، ایک دفعہ اس نے تو میرا سر بھی پھاڑ دیا تھا جس وقت میری اور اسکی بات چیت نہیں تھی،

اور اب بھی وہ دونوں میرے لئے اتنی بےچین رہتیں کہ شاید روتی بھی ہونگی اور ان کی والدہ ان دونوں کے لےکر ان کی کسی سہیلی کے گھر پہنچ جاتیں جسکا مجھے ننھے دوست سے پہلے ہی خبر مل چکی ھوتی تھی، اور میں بڑی مشکل سے جاسوسوں کو چکما دے کر آخر وہاں پہنچ ہی جاتا تھا، گھر سے بس اسٹاپ تک میرے ساتھ رہتے تھے اور جیسے ہی میں بس میں بیٹھتا وہ واپس چلے جاتے، جب ننھا میرے ساتھ ہوتا تو کوئی بھی جاسوس میرے پیچھے نہیں ہوتا تھا، مگر افسوس کہ صبح کے وقت ننھا اسکول میں ہونے کی وجہ سے میرے جاسوسوں کو میرا پیچھا کرنے کا موقعہ مل جاتا تھا،

میں بس میں سوار تو ھہوجاتا لیکن اگلے اسٹاپ پر اتر کر واپس پیدل دوسرے محلے میں ننھے کے بتائے ہوئے گھر پر پہنچ جاتا، اور بس پھر گپ شپ شروع ھوجاتی، وہاں سب ھوتے اور حالات کا رونا ھی روتے رھتے اس طرح کی ملاقاتیں مجھے خود بھی اچھی نہیں لگتی تھیں، کسی دوسرے کے گھر او ڈر بھی لگا رھتا تھا اور ھم روزانہ اسی ڈر کی وجہ سے گھر بھی بدلتے رہتے تھے، جیسے خانہ بدوشوں کی طرح، آخر کچھ دنوں میں اس سے بھی عاجز آگئے، مگر میرے دوست ننھے نے بڑے بڑے ایسے کام دکھائے کے جاسوسوں کا ناک میں دم کردیا، اور وہ بھی آہستہ آہستہ میری مخالفت سے پیچھے ہٹتے جارہے تھے،

اب میں ان کے گھر پر ہی چھپ چھپا کر جانے لگا، گھر سے نکلنے سے پہلے ہی مجھے ننھے کی طرف سے ایک سیٹی کی صورت میں گرین سگنل مل جاتا اور میں گھر سے دوپہر کے بعد کھانا وغیرہ کھا کر نکلتا اور ننھے کی کو دیوار کے ایک کونے پر کھڑا ہوا پاتا اپنے گھر سے اس دیوار کے کونے تک پہنچتے پہنچتے وہ مجھے ہر خطرہ سے آگاہ کرتا رہتا وہ وہاں کونے پر کھڑا ٹریفک سپاھی کی طرح چاروں طرف سے دیکھتا ہوا مجھے اشارے کرتا رھتا وہ میرے پیچھے بھی دیکھ رہا ہوتا تھا اور دیوار کی دوسری طرف بھی اسکی نطریں ہوتی تھیں اس کے علاؤہ دائیں اور بائیں کی گلیوں کا تو وہ خاص خیال کرتا تھا اور ہمارے کچھ مخصوص کوڈ ورڈ بھی تھے، جسے ہم دونوں ہی سمجھ سکتے تھے، وہ اپنے اشاروں سے ہی مجھے گائیڈ کرتا رہتا اور اپنے گھر کے دروازے سے لیکر دوسرے کونے تک اس کے اشاروں کو سمجھتے ہوئے، بغیر آگے پیچھے دیکھے ہوئے، چلتے ہوئے اس کونے تک پہنچتا اور جیسے ہی ننھے کا اشارہ مثبت میں ھوتا تو میں خاموشی سے ان کے گھر میں ھوتا ورنہ دوسری طرف نکل جاتا،

اس طرح ڈر ڈر کر گھر میں داخل ہونا بھی بہت مشکل نظر آتا تھا اور چھپ چھپ کر ملنا بھی خطرناک ثابت ہوسکتا تھا، لیکن ہم تینوں ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے، اس دوراں بھی ہر بات ھوتی دنیا کی بحث ہوتی لیکن مجھے دو لفظ جسے اظہار محبت کہتے ہیں نہیں کرسکا، لاکھ کوشش کی لیکن بے سود اور ان حالات میں تو اور بھی مشکل تھا، یہی کافی تھا کہ ملاقات ہی ہو جاتی اور واپسی کا بھی ٹائم مقرر تھا، ننھے کی پہلی سیٹی پر میں تیار ہو جاتا دوسری سیٹی پر بالکل دروازے کے پاس الرٹ کھڑا ہوجاتا اور یہ دونوں بھی اِدھر اُدھر کھڑکی سے یا گھر کے صحن کی دیوار سے باھر جھانک کر لائن کلئیر کا سگنل ایک دوسرے کو دیتیں اور ننھے کی تیسری مخصوص سیٹی کی آواز پر میں فوراً خاموشی سے دروازے سے باھر اپنے گھر کے بجائے سیدھا باھر جانے والے راستے کی ظرف نکل جاتا،

آگے کچھ فاصلے پر پہنچ کر ایک چھوٹی سے نالے پر ایک پُلیا پر بیٹھ کر میں اپنے دوست ننھے کا انتظار کرتا وہ بھی بعد میں مجھے جوائن کر لیتا اور بعد میں ہم دونوں کہیں بھی گھومنے نکل جاتے اور اب میرا پہلا اور آخری رازدار ہی تھا، جسے میں اپنی ساری باتیں بتاتا تھا، اور اس نے جتنا میرا اس معاملے میں خیال رکھا ھے، اس نے ھر ایک سے میری خاطر دشمنی مول بھی لی، اگر یہ ننھا نہ ہوتا تو میری تو ھمت نہیں تھی کہ اس طرح میں ان لوگوں سے مل سکتا، ہم نے کبھی کوئی ایسا دل میں کوئی برا خیال یا کسی غلط نیت کے بارے میں نہین ‌سوچا، جیسا کہ لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ لڑکیاں مجھے غلط راستے پر لے جارہی تھیں، بس ایک مجبوری یہ تھی کہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے،

میری طرف سے لوگوں نے بہت کوشش کرلی لیکن میرے بارے میں کوئی ایسا سراغ نہ پا سکے کہ میں ان سے ملتا ہوں، لیکن نہ جانے کسی طرح یہ خبر والدہ کے کانوں میں پڑ گئی کہ میں اب بھی ان کے گھر پر چوری چوری جاتا ہوں، جس کا کہ والدہ نے مجھے خبردار بھی کیا کہ دیکھو جس دن تمھارے ابا جی کو پتہ چل گیا وہ تمھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے، میں نے صاف انکار کردیا نہیں ایسا ھوھی نہیں سکتا، مگر والدہ نے بہت عاجزی سے کہا کہ خدارا اب آئندہ ایسا مت کرنا ھماری عزت رکھ لینا وغیرہ وغیرہ !!!!! جس کی میں نے پھر بھی کوئی پرواہ نہیں کی اور پھر ایک دن ؟؟؟؟؟؟؟؟

اب تو اتنی پریکٹیس ہو گئی تھی کہ روز بلاجھجک بالکل اپنے ٹائم پر اسی ترکیب سے پہنچ جانا ہم تینوں کسی ڈر اور خوف کے بغیر بلکل اپنے آپ میں مگن رہتے، ساتھ ہماری نانی اور خالہ بھی ہوتیں اور باہر ہماری چوکیداری ننھا کرتا رہتا، مگر اس بات سے بے خبر کہ برابر والے گھر کی دیوار میں اوپر کی ظرف سے ایک سوراخ سا ہوگیا تھا اور کسی نے بھی اس ظرف توجہ نہیں دی یا تو پہلے سے ہی تھا، اور ان پڑوسن کا ہمارے گھر آنا جانا بھی تھا، ایک اور نئی ہماری جاسوسی شروع ہوگئی لگتا تھا کہ کئی دنوں تک انہوں نے مجھ پر نگرانی کی اور ایک دن جیسے ہی میں ان کے گھر پہنچا اور خبر میرے گھر پہنچا دی گئی!!!

کچھ ہی لمحے بعد دروازے پر دستک ہوئی اور جیسے ہی دروازہ کھلا سامنے میں نے اپنی والدہ کو پایا، اور زندگی میں پہلی مرتبہ ان کے منہ سے اُن کے خلاف غصہ میں جو کچھ کہہ سکتی تھی کہنا شروع کیا اور وہ سب خاموش انہیں تکتی رہی نہ جانے کیا کیا کہ تم لوگوں نے میرے بیٹے کی زندگی برباد کردی ہے ، تم لوگ ایسی ہو ویسی ہو، تم لوگ اس محلے میں رھنے کے قابل نہیں ہو، میں تمھیں اس محلے سے نکال کر رہونگی اور نہ جانے کیا کیا کہا، کوئی بھی ماں ہوتی تو شاید اس سے بھی زیادہ کہتی، بہرحال انہوں نے مجھ سے صرف اتنا ہی کہا کہ تم اپنی والدہ کو لے جاؤ اس سے پہلے کہ ہمارا دماغ خراب ہوجائے، اور انہوں نے ایک لفظ بھی میری والدہ سے کچھ نہیں کہا !!!!

میں نے بڑی مشکل سے انہیں پکڑ کر اپنے گھر لے گیا باھر لوگوں کا رش بھی جمع ہوگیا تھا اور وہ سب مجھے اور ان لوگوں پر کافی لعن طعن کررہے تھے!!!!!!!

اور اس کی خبر والد صاحب کو بھی گھر آنے سے پہلے ہوگئی تھی، لوگ تو پہلے سے ہی منتظر تھے کہ میرے ابا آئیں اور ان کے کان بھریں گھر آنے سے پہلے وہ بھی ان کے شاید گھر پہنچے اور نہ جانے ان کو کیا کیا کہا ہوگا !!!!! اور پھر گھر آتے ہی مجھ پر برس پڑے کہ تُو تو اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس گھر میں رہ سکے، اور میں کل سے تیرا یہ منحوس چہرہ دیکھنا ہی نہیں چاہتا، ہمیں بہت تو نے بدنام کردیا اب اللٌہ کے واسطے ہماری جان چھوڑ دے !!!!!!!!!!

کھانا تو دور کی بات ہے، پانی تک بھی پینے کا ھوش نہیں رہا، آخر محلے والے اپنی مکمل سازش میں کامیاب ہوچکے تھے، اور باہر سب خوشیاں منا رھے تھے دونوں فیملیز کو پریشان کرکے، اور پورے محلے میں صرف میرا دوست ننھا ایک کونے میں اسی دیوار کے ساتھ خاموش بیٹھا ایک میرے لئے سوگ منا رہا تھا!!!!!!!!!

دوسرے دن والد صاحب کے جانے کے بعد صبح اٹھا اور گھر میں ایک سودا لانے کی ٹوکری اٹھائی اس میں خاموشی سے اپنے چند پہنے کے کپڑوں کے جوڑے رکھے اور والدہ کی اسی خفیہ جگہ سے 500 روپے کے پرائز بانڈز آٹھائے، اور انہیں تین چار جگہ تقسیم کرکے الگ الگ جیبوں میں ڈالا اور سیدھا گھر سے نکل گیا، بغیر کسی کو بتائے ہوئے نامعلوم منزل کی طرف !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

--------------------------------------------------------------------------------
جاری ہے،!!!!

Last edited by عبدالرحمن سید; 07-11-10 at 03:28 PM.
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-11-10), پاکستانی (13-11-10)
پرانا 07-11-10, 03:16 PM   #28
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جوانی کی طرف رواں دواں سفر-5

دوسرے دن والد صاحب کے جانے کے بعد صبح اٹھا اور گھر میں ایک سودا لانے کی ٹوکری اٹھائی اس میں خاموشی سے اپنے چند پہنے کے کپڑوں کے جوڑے رکھے اور والدہ کی اسی خفیہ جگہ سے 500 روپے کے پرائز بانڈز آٹھائے، اور انہیں تین چار جگہ تقسیم کرکے الگ الگ جیبوں میں ڈالا اور سیدھا گھر سے نکل گیا، بغیر کسی کو بتائے ہوئے نامعلوم منزل کی طرف !!!!!!!

میں نے یہ بھی نہ سوچا کہ میرے جانے کے بعد میری ماں پر کیا گزرے گی، والد کا کیا حال ہوگا اور چھوٹے بہن بھائی میرے لئے کتنا روئیں گے اور اس فیملی کا کیا ہوگا جس کی وجہ سے میں جذبات میں آکر مقابلہ کرنے کے بجائے والد صاحب کی ایک چھوٹی سی دھمکی سے اپنا گھر چھوڑ رہا تھا، اور ان کو کس کے رحم و‌کرم پر چھوڑ کر جارہا تھا، اور میرے بعد ان کا کیا لوگ حشر کرتے، میرے بہانے سے لوگ ان پر کیا کیا لعن طعن کرتے، ان کا جینا حرام کردیتے، یہ میری اپنی زندگی کی ایک اور بہت بڑی غلطی کرنے جارہا تھا !!!!!!!!!

ٹوکری اٹھائے اور چپکے سے ایک عجیب سے بے قابو جذبات لئے، میں اپنا گھر چھوڑ رہا تھا، اسی دیوار کے کونے پر پہنچ کر دوسری طرف گھومنے سے پہلے ایک مرتبہ پیچھے مڑکر میں نے آخری بار اپنے گھر کا دیدار کیا اور ان دونوں کے گھر کا بھی جو اسی موڑ پر تھا، میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو بھی میری خبر ہو اور میں اس طرح خاموشی سے ٹوکری اٹھائے چلا جارہا تھا، جیسے کہ گھر کا سودا لینے جارہا ہوں، کسی کو بھی نہیں بتایا، مجھے معلوم تھا کہ اگر کسی کو بھی بھنک پڑجاتی تو شاید میں وہاں سے بھاگ نہیں سکتا تھا، میرا دوست ننھا بھی شاید اسکول گیا ہوا تھا، اس کو بھی پتہ نہیں تھا، کہ میرا کل کا کیا پروگرام ہے، ورنہ تو شاید وہ بھی میرے ساتھ نکل لیتا، یا مجھے جانے نہیں دیتا کیونکہ وہ کچھ زیادہ ہی طاقت رکھتا تھا،

ابھی تک میں یہ فیصلہ کر نہیں پایا تھا کہ مجھے جانا کہاں ہے اور بس غصہ اور جذبات حالت میں چلا جارہا تھا، راستے میں اپنے کچھ محلے کے لوگوں نے مجھ سے گزشتہ کل کے بارے میں سوال بھی کئے مگر میں نے کسی کا کوئی جواب نہیں دیا، میں گردن جھکائے اپنے محلے کی گلیوں سے ہوتا ہوا اس دیوار کو ایک بار پھر پیار سے دیکھتا ہوا اور الٹے ہاتھ میں ٹوکری اور سیدھے ہاتھ سے اس پکی پتھریلی اینٹ کی مضبوط ملٹری کی دیوار کو چھوتا ہوا گزررہا تھا، جبکہ مجھے محسوس ہی نہیں ہوا کہ اس سیدھے ہاتھ کی ھتیلی میں اس دیوار کی رگڑ سے چھل جانے کیوجہ سے ھلکا ھلکا خون بھی رس رہا تھا، جب کافی آگے نکل گیا تو ہاتھوں میں کچھ گیلا گیلا سا لگا میں تو پہلے یہ سمجھا کہ شاید پسینہ ہوگا جیب سے رومال نکالا اور بغیر دیکھے ہی پسینہ سمجھ کر پونچھنے لگا تو کچھ درد سا محسوس ہوا،

ایک جاننے والے کی دکان سے جہاں برف بھی بکتی تھی کچھ برف کے ٹکڑے لئے اور ھتیلی میں برف کے ٹکڑے رکھ کر کچھ دیر ان کو مسلا ، جس سے مجھے کافی آرام ملا، ھلکی سی خراش تھی راسنے میں ہی ٹھیک ھوگئی، لیکن پھر بھی ٹوکری کو سیدہے ہاتھ سے پکڑنے میں تکلیف ہورہی تھی -

اور پھر ایک انجان منزل کی طرف خود بخود میرے قدم بڑھتے جارہے تھے، ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتا جارہا تھا کہ کہاں جانا چاہئے، مگر مجھے میرے قدم کینٹ ریلوے اسٹیشن پر لے گئے، جو ہمارے محلے سے کچھ قریب ہی تھا، اور اکثر میں وہاں سے ہی شہر کیلئے بس پکڑتا تھا، جبکہ اس سے نزدیک بھی ایک اور بس اسٹاپ تھا لیکن بس مجھے کچھ بچپں سے ہی ٹرینوں کو آتے جاتے دیکھنے کا شوق رہا تھا، اسلئے ٹرینوں کو آتے جاتے دیکھتا ہوا اسٹیشن پہنچ کر ہی وہاں کے بس اسٹاپ سے بس پکڑتا تھا اور محلے کے لوگوں کی نظروں سے بھی دور رہتا تھا کیونکہ وہاں بس کیلئے شاید کوئی آتا ہوگا اور یقینی بات ہے کہ نزدیک والے بس اسٹاپ کو چھوڑ کر کسی کا کیا دماغ خراب ہے کہ وہ دور کے بس اسٹاپ پر جائے،

اب ریلوے اسٹیشن تو پہنچ گیا اور سیدھا رزرویشن کاونٹر پر جاکر آج کے شام کی تیزگام کا ٹکٹ لاھور کیلئے پوچھا، شاید اس نے کہا کہ 26 روپے اور کچھ آنے دو میں نے جیب مین دیکھا تو اسوقت میرے پاس دس یا بارہ روپے تھے، میں نے اس سے کہا کہ میں ابھی واپس آتا ہوں، اور سیدھا نزدیک کے بنک میں گیا اور 100 روپے کے بانڈز کیش کروائے، واپسی سے پہلے وہیں اسٹیشن کے نزدیک ہی سارے کپڑے جو ٹوکری میں تھے، ایک دھوبی کی دکان میں استری کیلئے دئیے، اور بازار گیا وہاں سے ایک خوبصورت سا چھوٹا سوٹ کیس اور کچھ مزید ضرورت کے استعمال کی چیزیں خریدیں اور ریلوے اسٹیشن کی رزرویشن کاونٹر سے لاھور کیلئے تیزگام کے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لے لیا، ان دنوں تیزگام میں سیکنڈ اور تھرڈ کلاس نہیں ہوتا تھا، اور یہ میری پسندیدہ ٹرین بھی تھی !!!!!!! اور یہ سوچئے کہ اس وقت تمام چیزیں، ٹکٹ کے ساتھ خرید کر بھی تقریباً 50 روپے کے لگ بھگ جیب میں بچے ہوئے تھے، اور چار سو روپے کے بانڈ الگ تھے،!!!!

یہ سب کچھ پلاننگ کے بغیر ہی وقت کے ساتھ ساتھ فیصلے ہوتے جارہے تھے، اب کچھ پتہ نہیں تھا کہ لاھور کا ٹکٹ تو لے لیا ہے، لیکن وہاں کس کے پاس جانا کہاں ہے یہ تو سوچا ہی نہیں !!!! بس اچانک خیال آیا کہ ایک میرا قلمی دوست لاھور میں رہتا ہے، اس سے اکثر بس خط وکتابت تک کی جان پہچاں تھی، اس کے گھر کا ایڈریس بھی مجھے زبانی یاد تھا، فوراً یہ یاد آتے ہی میں ریلوے اسٹیشن کے ٹیلیگراف آفس پہنچا اور اس دوست کو ایک ٹیلگرام دیا کہ میں کل تیزگام سے لاھور پہنچ رہا ہوں،

ٹیلیگرام تو دے دیا لیکن سوچنے لگا کہ میں اسے اور وہ مجھے کیسے پہچانے گا صرف ہم دونوں کے پاس ایک دوسرے کی تصویریں ضرور تھیں، اور اسوقت تو میرے پاس وہ بھی نہیں تھی، چلو دیکھا جائے گا، یہ سوچ کر چپ ہوگیا،

خیر سوٹ کیس میں دھوبی کی ہی دکان پر استری شدہ کپڑے ڈالے اور دوسری چیزیں بھی ساتھ ہی ڈال دیں اور ابھی تو تیزگام کے جانے میں کافی وقت تھا کیونکہ شام کے شید 4 یا 5 بجے ہی کینٹ اسٹیشن سے اسے روانہ ہونا تھا، ابھی تو دوپہر کا ایک بھی نہیں بجا تھا، بس سوچا کہ کسی ریسٹورنٹ میں جاکر کھانا کھاتے ہیں، کھانا تو منگا لیا لیکن حلق سے پہلا ہی نوالہ نہیں ‌اتر رہا تھا، میں پریشان ہوگیا کہ یہ کیا ہوا، بڑی مشکل سے چائے کی ایک پیالی دو تیں بسکٹ کے ساتھ کھائے، کھانا بالکل نہیں کھا سکا، اور واپس اسٹیشن کے فرسٹ کلاس کے ویٹنگ روم میں جاکر ایک صوفہ سیٹ پر بیٹھ گیا اور ساتھ ہی سوٹ کیس بھی ایک طرف رکھ لیا، ویسے بھی میں گھر سے تیار ہوکر ہی اچھے ہی کپڑے پہن کر نکلا تھا، اور واقعی ایک مسافر ہی لگ رہا تھا !!!!!!!!

بڑی مشکل سے وقت گزررہا تھا، ایک قلی نے بتایا تھا کہ اسی ویٹنگ روم کے سامنے والے ہی پلیٹ فارم پر تیزگام دو گھنٹے پہلے ہی لگ جائے گی اور ابھی ڈھائی بجنے میں کچھ منٹ باقی تھے، کسی کا بھی انتظار بہت مشکل ہوتا ہے، !!!!!

بہرحال وہ وقت بھی آگیا کہ تیزگام الٹی پلیٹ فارم کی طرف اپنی شان و شوکت کے ساتھ آھستہ آہستہ لگتی جارہی تھی، اور میں بھی اٹھا اور فرسٹ کلاس کے اپنے ڈبے میں جاکر بالکل کھڑکی کے پاس ہی قدرتی سیٹ ملی تھی، جاکر بیٹھ گیا !!!!!!!!!

آخر کو وہ وقت آہی گیا، سگنل ڈاؤن ہوگیا اور تیزگام کے انجن نے اپنی روانگی کی مخصوص سیٹی دی، ادھر گارڈ نے بھی ہری جھنڈی لہرانا شروع کردیا اور ساتھ ہی اپنی سیٹی بھی سنا دی، پھر بھی کچھ لوگ اتر رہے تھے کچھ جلدی جلدی چڑھ رہے تھے قلی بھی ساتھ شور مچا رہے تھے، کچھ لوگ پلیٹ فارم پر سے مسافروں کو ہاتھ ھلا ھلا کر الوداع کہہ رھے تھے اور میں اکیلا ہی کھڑکی سے یہ سب مناظر دیکھ رہا تھا مجھے الوداع کہنے والا کوئی نہیں تھا اور تیزگام آھستہ آھستہ اپنے پلیٹ فارم کو چھوڑ رہی تھی !!!!!!!

--------------------------------------------
جیسے ہی اسٹیشن سے تیزگام نکلی، میں اپنی سیٹ کے پاس والی کھڑکی سے اپنے شہر کو پیچھے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا، ابھی اسپیڈ کچھ کم ہی تھی، تو سامنے سے ایک دم میرا علاقہ بھی نظر آگیا اور وہ جگہ بھی جہاں سے میں بیٹھ کر ٹرینوں کو آتے جاتا دیکھتا تھا، آج میرا دوست ننھا مجھے ڈھونڈ رہا ہوگا، اور نہ جانے گھر والے کیا سوچ رہے ہونگے اور اگر رات گئے تک میں گھر نہیں پہنچا تو ایک کہرام مچ جائے گا، یہ سوچتے ہی میری آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے، کہ اچانک سامنے ایک صاحب نے پوچھا کہ!!!! کیا بات ہے بیٹا !!! کیوں پریشاں ہو، اپنوں سے بچھڑ کر تو دکھ ہی ہوتا ہے، کہاں جارہے ہو !!! میں نے جواب دیا کہ!!!! ایک دوست سے لاھور ملنے جارہا ہوں!!!!! تو اس میں پریشانی کیا ہے، رو کیوں رہے ہو ، انہوں نے مجھے پیار سے پوچھا!!!! میں نے بس یہی کہا کہ گھر والوں سے بچھڑ کر دکھ ہو رہا ہے، !!!!!

اور اسی ظرح ان سے باتیں کرتے ہوئے مجھے کچھ سکون ملا ان کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ بھی لاھور ہی جارہے ہیں اور لاھور میں ہی رہتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی مشکل آئے تو اس پتہ پر مجھ سے رابظہ کرلینا، ٹرین بھی اب فل اسپیڈ سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی اور رات بھی ہونے کو تھی، کوٹری جنکش کا اسٹیشن آیا تو کچھ کھانے کیلئے میں نے ٹرین کے بیرے سے منگوایا، لیکن نہ جانے میرا بالکل ہی دل نہیں چاہ رہا تھا، کچھ بھی نہ کھا سکا حالانکہ کل سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا، سامنے سیٹ پر بیٹھے ہوئے صاحب نے کچھ کینو وغیرہ دیئے، تو وہ میں نے بڑی مشکل سے کھائے اور پھر سب نے اپنی اپنی برتھیں کھولیں اور سونے کی تیاری کرنے لگے،

میری برتھ نیچے ہی تھی، چادر پاس نہیں تھی نہ کوئی تکیہ تھا ویسے ہی میں لیٹ گیا، سوٹ کیس سیٹ کے نیچے ہی رکھا ہوا تھا، موسم بھی اچھا ہی تھا، سونے کی بہت کوشش کی مگر نیند نہیں آئی، بار بار گھر کا خیال آرہا تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہوگا اور آنکھوں سے ایک آنسووں کا دریا بہہ رہا تھا، واپس جانے کے خیال سے ہی دل کانپ جاتا، کیونکہ والد صاحب کا ڈر اور ان کے وہ ڈائیلاگ ذہن میں گونج رہے تھے، اسی رات کے سفر میں ہی اور ٹرین کی کھٹ کھٹا کھٹ میں تقریباً سارا سفر ختم ہونے کو تھا، صبح صبح کی روشنی میں پنجاب کی سہانی صبح دیکھ رہا تھا وہی لہلہاتے کھیت اور باغات اسی اسپیڈ سے میرے سامنے سے گزر رہے تھے!!!!!!!

صبح کے تقریباً 8 بجے کے قریب ٹرین نے اپنی رفتار کچھ دھیمی کی، تو یہ اندازہ ہوا کہ لاھور آنے والا ہے، سب لوگ اپنا اپنا ساماں سمیٹنے لگے، میرے پاس تو سمیٹنے کے لئے ایک چھوٹے سے ہی سوٹ کیس کے علاؤہ کچھ بھی بھی نہیں تھا، جیسے ہی اسٹیشن کے اندر ٹرین داخل ہوئی ایک الگ ہی گونجتا ہوا شور سنائی دیا لاہور کا ایک واحد اسٹیشن ہے جو چاروں طرف ہی بند اور گھرا ہوا ہے اور شاید پاکستاں کا بہت بڑا اسٹیشن ہے، اگر یہاں کوئی گم ہوجائے تو ملنا بہت مشکل ہے، بہرحال اسٹیشن پر گاڑی تو رک گئی، لیکن میں ابھی کھڑکی میں ہی بیٹھا رہا، تاکہ کچھ رش کچھ کم ہوجائے اور میں کھڑکی سے ہی اپنے دوست کو پہچاننے کی کوشش کرتا رہا، اتفاق سے کھڑکی کی طرف ہی پلیٹ فارم تھا، اتنے رش میں کسی کو تلاش کرنا اور وہ بھی بغیر دیکھے ہوئے، صرف ایک تصویر کا ایک دھندلا سا دماغ میں خاکے سے کیسے اتنے رش میں پہچانا جاسکتا ہے، اور ویسے بھی میری حالت غیر ہوچکی تھی !!!!!

تھوڑی دیر بعد میں ٹرین کی بوگی سے اترنے کیلئے گیٹ پر کھڑا ہی تھا کہ ایک لڑکے کو جو تقریباً میرا ہی ہم عمر ہوگا، ایک ہاتھ میں تصویر لئے ہوئے کسی کو ڈھونڈرہا تھا، اس کی نظر اچانک مجھ پر پڑی اور وہ مجھے پہچان گیا لیکن میں اسے پہچاں نہیں سکا تھا، اس نے بڑی گرم جوشی سے مجھے گلے لگایا اور مجھ سے میرا سوٹ لیا اور مجھ سے باتیں کرتے، حال احوال پوچھتے ہوئے باھر نکلا، میں اس کے ساتھ ساتھ ہی چلتا رہا، اس ڈر سے کہ کہیں ادھر ادھر نہ ہوجاؤں، وہاں سے ٹانگے میں بیٹھ کر اس دوست کے گھر پہنچے، گھر کیا ایک بہت شاندار حویلی لگتی تھی،

سب گھر والوں نے بہت اچھی ظرح سے استقبال کیا، ناشتے کا بہترین بندوبست کیا ہوا تھا، میں ہاتھ منہ دہو کر کچھ تازہ دم ہوا اور پھر ناشتہ کی میز پر کافی سارا مختلف قسم کے پکوان کے ساتھ سجی ہوی تھی اور انکی یہ ایک بہت ہی خوبصورت حویلی لگتی تھی اور ناشنے کی ٹیبل پر تقریباً تمام گھر والے موجود تھے، سب کا باری باری تعارف کرایا گیا لیکن میری ظبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی، بس ایک جوس کا ہی گلاس بہت مشکل سے پی سکا، اور سب سے معذرت کی، میرا دماغ معاوف ہو رہا تھا اور گھر کی بہت شدت سے یاد آرہی تھی !!!!!!

کھانے کا بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا اور جو کچھ بھی پیتا تھا وہ باہر آجاتا تھا، چکر بھی آرہے تھے، لیکن اس دوست نے ایک ڈاکٹر سے دوائی بھی دلائی لیکن کچھ افاقہ نہیں ہوا، کچھ دیر آرام کیا لیکن بار بار آنکھ کھل جاتی اور بہت زیادہ پریشان تھا، شام کو وہ مجھے راوی کے کنارے لے گیا اور ایک کشتی کرائے پر لے کر مجھے سیر کراتا رہا اور اسی دوران اس نے گانے بھی سنائے اور اس سے یہی پتہ چلا کہ اس کے سارے چچا اور تایا کا موسیقی سے ہی تعلق ہے، مجھے اس کے دو تیں گانے اب تک یاد ہیں مجھے بہت اچھے لگے تھے، اور اسکی آواز بھی بہت اچھی تھی،
ہم تم سے جدا ہوکر، مرجائیں گے رو رو کر
اس کے علاوہ ایک اور گانا:
کھلونا جان کر تم تو، میرا دل توڑے جاتے ہو

میری طبعیت پھر بھی کسی طرح بھی بہل نہیں پا رہی تھی پھر شاید ڈاکٹر کے پاس گئے یا انہوں نے گھر کی ہی کوئی دیسی دوائی کھلائی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، وہ لوگ بھی پریشان ہوگئے تھے حالانکہ ان سب نے اس رات ایک موسیقی کا پروگرام بھی مرتب کیا ہوا تھا اور مجھے خاص طور سے وہاں لے گئے رات کے کھانے کے بعد مگر میں نے صرف سوپ کی ایک پیالی ہی پی تھی،!!!

آخر کو مجھ سے رہا نہیں گیا، اس حالت میں میں نے وہاں قیام کرنا مناسب نہیں سمجھا، میں نے اپنے دوست سے کہا کے مجھے واپس اسٹیشن لے چلو مجھے صبح راولپنڈی پہنچنا ہے وہاں پر میرے ایک رشتہ دار رہتے ہیں، ان کے ساتھ میں مری جاونگا کیونکہ میں کچھ بیمار ہوں اور ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہوا ہے کہ کچھ دن پرفضا مقام پر گزاروں تو بالکل ٹھیک ہوجاونگا، میرے کافی اصرار پر وہ مجھے اسٹیشن لے گئے اور وہاں پر ایک پسنجر ٹرین راولپنڈی جارہی تھی، مجھے انہوں نے ٹرین میں بٹھا دیا اور ٹرین کے چلتے ہی وہ مجھ سے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگئے کہ میں انہیں راولپنڈی پہنچ کر خط لکھونگا یا ٹیلیفون کروں، انہوں نے مجھے اپنے گھر کا نمبر بھی دیا تھا،

اب وہاں سے اس پسنجر ٹرین میں ایک خالی برتھ پر لیٹ گیا اور کچھ دیر کیلئے نیند بھی آگئی، پھر دوسرے دں بھی ٹرین ‌چلتی رہی کافی دیر بعد راولپنڈی پہنچی، وہاں سے ایک ٹانگے والے کو کہا کہ کسی سستے سے ھوٹل میں لے چل، وہ مجھے ایک چھوٹے سے علاقے جس کا نام بکرامنڈی تھا اور تیس روپے کرایہ لے لیا، جو کہ اس وقت کے لحاظ سے بہت زیادہ تھے اور ایک ھوٹل کے مالک سے ملوایا کہ یہ ایک شہری بابو ھے کراچی سے آیا ہے اس کو کوئی سستا اور اچھا کمرا دے دو، وہ یہ کہ کر چلا گیا، اس ھوٹل کے مالک نے دو چار سوال کئے اور میں نے بھی انہیں یہی کہا کہ موسم کی تبدیلی کے لئے آیا ہوں، اور اس نے مجھے ایک چھوٹا سا صاف ستھرا کمرا دے دیا اس وقت اس نے مجھے 5 روپے روزانہ پر 50 روپے ایڈوانس لے کر مجھے کمرے کی چابی دے دی،

وہاں بھی میری حالت غیر ہی تھی، تین دن ہوچکے تھے کچھ بھی کھایا نہیں جارہا تھا فوراً ہی کچھ خیال آیا فوراً ایک خط اپنے گھر پر ابا جی اور اماں کو لکھا اور معافی مانگی اور لکھا کے اب میں گھر اسی وقت آونگا جب تک میں کسی قابل نہ ہوجاؤں مجھے بہت شرمندگی ہے وغیرہ وغیرہ، اور خط پوسٹ کرکے واپس ھوٹل آیا تو کچھ پہلے سے طبعیت بہتر محسوس ہوئی، کچھ تھوڑا سا کھانا بھی کھا سکا اور دوسرے دں سے نوکری ڈھونڈنے کے چکر میں نکل پڑا، تین دن بعد گھر سے دو خط آئے ایک ھوٹل کے منیجر کے نام اور ایک میرے نام اور اتفاق سے دونوں خط اس ھوٹل کے مالک نے مجھے ہی پکڑا دیئے!!!!

شکر ہے کہ دونوں خط میرے ۃی ھاتھ لگے ورنہ بڑا مسئلہ ہوجاتا، کیونکہ منیجر کے خط میں یہ لکھا تھا کہ یہ میرا بیٹا گھر سے ناراض ہوکر آپ کے پاس ھوٹل میں ٹھرا ہوا ہے، اسے کسی طرح بھی پیار سے واپسی کراچی کی ٹرین میں بٹھا دیں اس کی ماں سخت بیمار ہے وغیرہ وغیرہ!!!!

اور میرے خط میں لکھا کہ بیٹا جو کچھ بھی ہو بھول جاؤ، مین قسم کھاتا ہوں کہ آئندہ تمھیں کچھ بھی نہیں کہونگا اور جہاں تم چاہتے ہو تمھاری پسند سے ہی تمھاری شادی ہوگی مگر شرط یہ ہے کہ تعلیم کو مکمل کرلو اور اچھی جگہ سروس ہونے کے بعد جو مرضی آئے کرنا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا، لیکن فی الحال گھر فوراً پہنچو تمھاری اماں کی طبعیت بہت خراب ہے، میں نے بھی جواباً بہت اچھا خط اماں اور اباجی کو لکھا کہ میری فکر نہ کریں میں بہت جلد لوٹ رہا ہوں !!!!!!

اس دن سے پانچوں وقت کی نماز شروع کردی اور وہاں کے اچھے بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر درس اور تدریس میں حصہ لینے لگا، اور ایک دن وہاں کے موذن مجھے اپنے ایک روہانی پیشوا بزرگ کے پاس “گجر خان“ کے ایک گاؤں جس کا نام “بانٹھ “ میں لے گئے، ان کے پاس جیسے ہی پہنچا تو انہوں نے سب سے کہا کہ دیکھو آج ہمارے پاس بہت دور سے ایک سٌید زادہ آیا ہے فوراً سارے کھڑے ہوگئے اور بڑے ادب سے ملے اور سب مجھے شاہ جی کہہ کر مخاطب کرنے لگے، ان بزرگ نے مجھے تین تسبیح 11 مرتبہ ھر فرض نماز کے بعد پڑھنے کو کہا اور پانچوں وقت کی نماز کےلئے تلقیں کی اور وہ واقعی مجھے کوئی بہت پہنچے ہوئے لگ رہے تھے، لمبی سفید داڑھی اور ان کی عمر اس وقت 100 سال سے اوُپر ہی ہوگی، مجھے ان سے ملکر بہت سکون بھی ملا اور اس دن کے بعد کھانا کھانے میں بہتری بھی آئے اور بھوک بھی لگنے لگی تھی،

اب تو گھر سے خط و کتابت شروع ہوگئی تھی والدہ کی طبعیت اب بہتر تھی لیکن وہ بضد تھیں کہ میں جلد گھر آجاؤں، لیکن میں تو کسی اور اُونچے خوابوں کے چکر میں تھا، مگر افسوس اس بات کی تھی کہ میں نے باجی اور زادیہ کو کوئی خط بھی نہیں لکھا اور نہ ہی کوئی خیریت معلوم کی !!!!!!!!

--------------------------------------------------------------------------------
میں نے اپنی زندگی کے یہ دن بہت ہی پریشانی اور تکلیف میں نکالے تھے، شاید یہ مجھے اللٌہ کی طرف سے سزا ملی تھی، جوکہ میں نے بعد میں اس کا اعتراف بھی کیا اور اس کا ازالہ بھی کرنے کی کوشش کی، کیونکہ جو میری شروع میں اپنا گھر چھوڑنے کے بعد حالت ہوئی تھی، اللٌہ کسی دشمن کو بھی ایسی تکلیف اور سزا نہ دے -

میرے لاھور سے راولپنڈی جانے سے پہلے ہی کراچی سے والد صاحب لاھور کے لئے روانہ ہوچکے تھے، حیرت کی بات ہے کہ انہیں نہ جانے اس بات کا کیسے پتہ چلا کہ میں لاھور چلا گیا ہوں، خیر صبح صبح وہ لاھور پہنچ گئے تھے اور بڑی مشکل سے وہ میرے دوست کے گھر پہنچ سکے اور وہ وہاں پر کافی میرے لئے یہ سن کر پریشان ہوئے کہ میں رات کو ہی راولپنڈی کیلئے نکل چکا ہوں، یہ سب مجھے میرے دوست کی زبانی بعد میں پتہ چلا جب وہ مجھ سے ملنے کراچی آیا ہوا تھا، انہوں نے سب کہانی انکو سنائی اور والدہ کا بھی ذکر کیا کہ وہ جب سے نہ کچھ کھا پی رہی ہیں اور لگاتار میرے لئے روتی جارہی ہیں، آخر ماں ماں ہی ہوتی ہے، چاہے کتنی ہی نافرمان اس کی اولاد ہو لیکن وہ ہمیشہ اس کے لئے تڑپتی اور دعائیں دیتی ہے، ماں کی عظمت کو لاکھوں سلام،!!!!!!

میرے گھر سے نکلتے ہی تمام محلے والوں نے اور ہمارے والدین نے سارا الزام ان دونوں بہنوں اور انکے والدیں پر لگا دیا تھا کہ ان سب نے ملکر مجھے ورغلایا اور گھر سے بھاگنے پر مجبور کیا، اور روز بروز انکو دھمکیاں اور گالیاں اور نہ جانے کیا کیا ان پر ستم نہ ڈھائے، ان سب کی زندگی اجیرن کردی تھی، یہ بھی تمام تفصیل مجھے گھر واپسی پر ہی معلوم ہوئی، مگر انہوں نے خاموشی ہی اختیار کی اور یہی کہا کہ جب میں واپس آجاؤنگا تو ہی سچ کا پردہ اٹھ جائے گا اور جس ظرح وہ آپ کا لخت جگر ہے، اُس سے زیادہ ہمیں بھی بہت پیارا ہے اور واقعی ان لوگوں نے وہ دن بھی بہت تکلیف اور مصیبتوں میں گزارے اور مجھے معلوم تھا کہ دونوں فیملیز میرے جانے کے بعد بہت ہی زیادہ تکلیفیں اٹھائیں گی، کیونکہ اب وہ محلہ ویسا نہیں تھا اور وہاں کے لوگ بھی ویسے ہی حاسد اور ایک دوسرے کو لڑانے میں خوش ہوتے تھے،

میں یہاں راولپنڈی میں دونوں خاندانوں کے لئے صدقِ دل سے دعائیں کررہا تھا اور اپنے گناہوں کی بھی ساتھ ساتھ رو رو کر معافی مانگ رہا تھا، آپ یقیں نہیں کریں گے کہ وہاں کے مقامی لوگ بھی جب مجھے روتے ہوئے دعائیں کرتے دیکھتے تو مجھے گلے سے لگاتے اور یہی کہتے کہ اللٌہ تعالیٰ تمھیں ہر پریشانی سے بچائے، ہر بیماری سے محفوظ رکھے اور شفا دے، وہ یہی سمجھتے تھے کہ میں اپنی بیماری کی وجہ سے ہی موسم کی تبدیلی کیلئے یہں آیا ہوا ہوں، کسی کو بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ میں گھر سے بھاگ کر آیا ہوں، اور انہوں نے مجھ پر رحم کھا کر مجھے مسجد کے ساتھ ہی ایک کمرے میں ہی موذن صاحب کے ساتھ رہنے کی اجازت بھی دے دی، تاکہ میرے ھوٹل کا خرچہ بھی بچ جائے، اور کھانا بھی اڑوس پڑوس سے آجاتا تھا،

اور موذن صاحب بہت اچھے قاری بھی تھے، اور انکی تلاوت کرنے کا انداز بہت پیارا تھا، وہ میرے اچھے دوست بن گئے تھے اور تقریباً میرے ہی ہم عمر تھے، ہم دونوں اکثر ساتھ ہی رہتے تھے ان کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا، ان سے میں نے یہ بھی وعدہ کرلیا تھا کہ میں ان کو کراچی لے جاؤنگا اور وہاں پر اپنے محلے کی ہی مسجد میں رکھوا دونگا، وہ بھی مجھ سے بہت خوش تھے، انھوں نے میرا بہت خیال رکھا، وہ میرے ساتھ اس وقت تو نہ جاسکے، لیکن میں نے انکے شوق کے مطابق انہی کی پسند سے قران شریف، ترجمے اور تفسیر کے ساتھ اور احادیث کی کتابیں خرید کردیں،

میں بھی مسجد میں بغیر کسی کرائے کے رہتا تو تھا لیکں مسجد میں موذن صاحب کے ساتھ ملکر سارے مسجد کی صفائی اور ستھرائی کا خیال رکھتا تھا اور تمام چیزوں اور جائے تماز کی تمام صفحوں کا اور قران شریف کے غلافوں کو دھونا اور قرینے سے رکھنا غرض کہ جتنا بھی مجھ سے ہوسکتا تھا میں موذن صاحب کےساتھ ملکر مسجد کی خدمت کرتا تھا، کہ شاید اللٌہ تعالیٰ میری اسی بہانے سن لے، مجھے بخش دے اور میری تمام تکلیفوں اور مصیبتوں سے جان چھڑا دے !!!!!!!!

اب تو گھر سے خط و کتابت چل پڑی تھی، ادھر اب والدہ کو بھی کچھ سکون تھا اور ان کی طرف سے بھی اب خط آنے لگے اور ہر خط میں یہی ایک بات تھی کہ جلدی سے واپس آجاؤ، میں جواباً انہیں خوب تسلی دیتا کہ سروس کی تلاش میں ہوں، اور جب تک آپ کے پیسے آپ کو واپس لوٹا نہیں دونگا واپس نہیں آؤنگا، میرے لئے شرمندگی کی بات ہے کہ خالی ہاتھ جاؤں، وہ بھی پلٹ کر یہی بار بار لکھتیں کہ ہمیں کوئی پائی پیسہ نہیں چاہئے، وہ پیسے بھی تمھارے لئے ہی تو رکھے تھے، بس تم خدارا واپس آجاؤ،!!!!!

اور میں میٹرک پاس، نوکری کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا، مگر ہر جگہ ناکامی ہوئی، آخر کو میں نے سوچا کہ چلو اپنے شوق کو ہی کیوں نہ آزمائیں، ایک دن ٹیلیویژن اسٹیشن پہنچ گیا، جو ان دنوں بالکل نیا نیا وجود میں آیا تھا، اور چکلالہ کے ایک ملٹری کے چھوٹی سی بیرک میں چل رہا تھا، وہاں پہنچتے ہی میں سیدھا پروگرام منیجر کے کمرے میں اجازت لے کر پہنچ گیا، اس وقت شاید پورے پاکستان میں وہیں سے بلیک اینڈ واہیٹ کلر میں ایک ہی چینل اپنے پروگرام براہ راست نشر کرتا تھا، صرف مختصر وقت کیلئے شاید آزمائیشی اور تعارفاتی پروگرام شروع کئے گئے تھے۔

میرا انہوں نے آڈیشن لیا اور ایک چھوٹی سی اسٹوری کو منظرنامے کے ساتھ ساتھ مکالمہ نگاری کے انداز میں لکھنے کو کہا اور کچھ سادے پیپر اور قلم ھاتھ میں تھما کر یہ کہتے ہوئے باھر نکل گئے، کہ میں ابھی آتا ہوں، جب تک آپ اس کہانی پر کام کیجئے، جسے کبھی بچپن میں نے ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگرام میں بھی ایک ڈرامہ نگار صاحب کی اسی طرح لکھنے میں مدد کی تھی، اسی انداز میں ہی ایک جلدی سے اس کہانی کے کرداروں کو ڈائیلاگ کے ساتھ اور ساتھ ہی منظرنامہ کو بھی اس میں پیش کرتا چلاگیا اس کہانی کا کچھ حصہ پیش کرنا چاھونگا جوکہ مجھے کچھ تھوڑا تھوڑا سا یاد ہے،

ایک فیملی کی کہانی جو جنگل مینں پکنک منانے آئی اور کسی مصیبت کا شکار ھوگئی!!!!!!

جنگل میں ایک گھپ اندھیرا اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو سجھائی نہیں دے رہا تھا، ہم ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ایک نامعلوم منزل کی طرف چلتے جارہے تھے ، ساتھ ہی ایک ندی کے پانی کے شور کی آواز اور کبھی مینڈکوں کی اچانک ٹرٹرانے کی آوز سے ایک دم دل کی دھڑکن ایک خوف کی وجہ سے اچھلنے لگتا، کبھی کسی جھاڑی یا درخت سے کسی بندر کی چھلانگ ایک اور ہوا میں ایک عجیب سی ھنگامی سرسراھٹ، ڈراونے سرتال کا رنگ پیش کردیتی اور کبھی نہ جانے کئی مختلف جانوروں کی آوازیں بھی قدم قدم پر دماغ میں ایک ھیبت ناک منظر پیش کرہی تھیں، چونکہ اندھیرا ہونے کی وجہ سے ہم آوازوں کا یہ ایک ڈراونی تاثر صرف محسوس ہی کر سکتے تھے، اگر دیکھ سکتے تو اتنا گھبرانے کی نوبت ہی نہیں آتی، کبھی کبھی تو ایک دوسرے کا ہاتھ اگر اتفاقاً بھی ایک دوسرے سے چھو جانے سے بھی ایک دوسرے کی چیخ نکل جاتی تھی!!!!!!!!

جاوید (کانپتی آواز میں !!!)
بھیا میرا ہاتھ پکڑلو، مجھے لگتا ہے کہ کوئی سامنے سے مجھے گھور رہا ھے،،،،،،،،،،
میں نے فورآً ہی دل میں ڈرتے ہوئے ہی جواب دیا ‌!!!!!!
ارے یار تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے، میں ہی تو تمھارے سامنے کھڑا ہوا ہوں،،،،،،،،،،،

اتنا ہی لکھا تھا کہ وہ پروگرام منیجر آگئے، میرے ہاتھ سے وہ پرچہ لے لیا اور لگے پڑھنے اور ساتھ ساتھ مجھے گھورتے بھی جارہے تھے، انہون نے پوچھا کہ کیا کرتے ہو!!!! میں نے کہا کہ!!!! ابھی انٹرکامرس میں پڑھ رہا ہوں، !!!! انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا ابھی اپنی تعلیم مکمل کرلو اور ابھی کچھ تھوڑی محنت اور پریکٹس کی ضرورت ہے، تم اپنا ایڈریس وغیرہ نوٹ کرادو، ہم آپ سے ضرور رابطہ کریں گے، اور ابھی ایسا کرو کہ ایک پروگرام آن ایئر جانے والا ہے اس میں اگر شرکت کرسکو تو بہتر ہے اسمیں آپکی آواز کا ٹیسٹ اور کارکردگی کا بھی پتہ چل جائے گا فوراً مجھے ایک فارم دیا اور اس پر میں نے دستخط کردئے

اس پروگرام کا نام “زینہ بہ زینہ“ تھا جو حبیب بنک کی طرف سے پہلی مرتبہ ہی ٹیلی کاسٹ ہونے جارہا تھا اور شاید ڈائریکٹ نشر بھی ہونے والا تھا،

جیسے ہی میں نے فارم بھرا اور دستخط کئے، اس کے بعد مجھے میک اپ روم میں لے جایا گیا جہاں کئی اور آرٹسٹ کا میک اپ ہورہا تھا، فورا میرے پہنچتے ہی ان منیجر صاحب نے میک اپ مین سے کچھ کہا اور اس نے مجھے اشارا کیا اور کرسی پر بیٹھنے کو کہا، وہ سمجھا کہ شاید میں کوئی خاص کردار کرنے باہر سے آیا ہوں اور یہ منیجر صاحب شاید میرے رشتہ دار ہیں، مجھ سے پوچھا کہ یہ آپکے کون ہیں، میں نے اسے جواب دیا کہ نہیں،!!!!!

میں نے ذرا اپنا ایک رعب ڈالتے ہوئے کہا کہ مجھے کراچی سے ایک یہاں پروگرام کرنے کےلئے بلایا گیا ہے،!!!! آپ وہاں کیا کرتے ھیں،!!!! میں نے کہا کہ میں وہاں کے ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر زیڈ یے بخاری کا رشتہ دار ہوں،

وہ تو بس کچھ زیادہ ہی مہربان ہوگیا اور کہنے لگا کہ آپ کا میک اپ میں اسپیشل کررہا ہوں !!! میں نے شکریہ کہہ کر خاموشی اختیار کرلی کہیں ایسا نہ ہو کہ باتوں باتوں میں پول ہی نہ کھل جائےََََ !!!!!

وہ بہت بولتا تھا، میک اپ سے فارغ ہو کر مجھے سیٹ پر لایا گیا جہاں پہلی مرتبہ حبیب بنک کی طرف سے پروگرام “زینہ بہ زینہ“ ایک معلوماتی کھیل ٹائپ کا پروگرام رکارڈ ہونے والا تھا یا ڈائریکٹ ہی نشر ھونے والا تھا، سامنے ٹی وی بھی تھا دو دو کیمرے لگے ہوئے تھے،

میں مہمانوں کی ساتھ بیٹھا تھا سامنے دو کمپئرئر تھے میرے ساتھ چار یا پانچ لوگ جو وہاں کے ہی آرٹسٹ تھے، پروگرام کے قوائد ضوابظ پہلے ہی بتا دیئے گئے تھے،

مجھے پہلی مرتبہ اتنی زیادہ خوشی ہو رہی تھی کہ جیسے میں کوئی بہت بہت بڑا پرانا آرٹسٹ ہوں اور کیمرا میرے سامنے اور مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ اور قدرتی میں بھی سوالات کا صحیح صحیح جواب دے رہا تھا اور پہلا سیشن میں جیت چکا تھا اور تالیوں سے مجھے دوسرے درجہ میں لے جایا گیا لیکن وہاں سے اگلی سیڑھی میں جانتے جاتے رہ گیا، !!!!!!!!!!!!!

پروگرام کے ختم ہوتے ہی میں ان صاحب کے پاس گیا تو انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے چند دنوں میں اگر ضرورت پڑی تو ضرور بلوالیں گے، میں نے اسی ھوٹل کا پتہ دے دیا لیکن جواب تو نہیں آیا لیکن گھر سے خطوط کا سلسلہ کچھ زیادہ چل پڑا اور بار بار میری واپسی کا مطالبہ ہی ہوتا رہا، اب میرا دل بھی بہت گھبرانے لگا تھا، کوئی نوکری کا سبب بھی نہیں بن سکا تھا، نوکری کی تلاش مین میں نے پنڈی سے لیکر پشاور تک کا سفر بھی کیا اور چھوٹے بڑے شہروں کا بھی رخ کیا لیکن مجھے ہر جگہ اپنی ماں کی یاد نے بہت تڑپایا اور آخر میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اب مجھے واپس جانا ھی چاہئے!!!!!

جانے سے پہلے میں اپنے اس علاقے میں پہنچا جہاں میں نے اپنا ایک شروع کا بچپن گزارا تھا، وہی اپنا ایک پرانا سا لال اینٹوں کا وہ مکان جو اب کافی بوسیدہ ہوچکا تھا، مجھے اپنی ماں کی یاد دلا رہا تھا، جہاں ہم تیں بہن بھائی اپنی ماں کے ساتھ خوب لاڈ کیا کرتے تھے، اور سامنے “ریس کورس گراونڈ“ کو بھی دیکھا جہاں 1956 سے 1958 کے دور میں ایک اپنے بچپں کا ایک خوبصورت دور گزارا تھا، اور اب تقریباً 10 سال بعد 17 سال کی عمر، 1967 میں وہاں آیا تھا، میری یادوں کے ہلکے ہلکے بچپن کے دریچے کھلنے لگے وہاں کا وہ منظر مجھے یاد آگیا جب اپنے والد کی انگلی پکڑے ہم دونوں بہن بھائی اس گراونڈ میں ہر شام کو جاتے تھے اور ہم کافی دیر تک کھیلتے رہتے تھے!!!!!

دو مہینے ہونے والے تھے اور آج میں پھر ریلوے اسٹیشن کی طرف جارہا تھا اور ساتھ موذن صاحب بھی مجھے اسٹیشن تک چھوڑنے آئے ان کی آنکھوں میں اس روز میں نے آنسوؤں کی جھلک دیکھی تھی، اس مسجد کے آس پاس کے لوگ بھی میرے جانے سے بہت افسردہ تھے، تمام لوگوں نے بھی مجھے بہت گرمجوشی سے رخصت کیا تھا، میں نے دو دن پہلے ہی تیزگام سے کراچی کیلئے سیٹ بک کرالی تھی، اور گھر پہنچنے کی اطلاع بھی دے دی تھی، آج میرا دل بہت خوش تھا کہ میں اپنی ماں کے پاس جارہا تھا، جو میرے لئے بہت تڑپتی اور بہت روتی بھی تھی !!!!!

آج پھر اسی تیزگام میں ایک کھڑکی کے پاس والی سیٹ میں بیٹھا میں بہت کچھ سوچ رہا تھا کہ اب میں کبھی بھی والدین کی بات ٹالوں گا نہیں اور ھمیشہ اپنی پوری زندگی انکی خدمت میں گزاردوں گا، پہلے تو میں سوچ رہا تھا کہ میں پنڈی میں ہی اپنا مستقبل سنواروں گا لیکن ماں کی دعاؤں کے بغیر یہ بالکل نہ ممکن تھا، تیزگام پھر اپنی اسی تیزرفتاری سے کھٹ کھٹا کھٹ کرتی ہوئی انجن کی ایک مخصوص سیٹی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی، مگر میرے لئے ایک ایک لمحہ بہت بھاری لگ رہا تھا، اور وقت لگتا تھا کہ گزر ہی نہیں رہا تھا، کتنے اسٹیشں آئے اور نکل گئے لیکن آج میری دلچسپی صرف اور صرف میری ماں ہی تھی جس کو میں نے ھمیشہ بہت دکھ ہی دئیے، آج جب میں ان سے دور ہوا تو مجھے اس کا شدٌت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا !!!

کراچی نزدیک آرہا تھا، لیکن پھر بھی یہ کہ سفر کاٹے نہیں کٹ رہا تھا، آخر وہ لمحہ آہی گیا، ٹرین کراچی کے شہر کے اندر مضافاتی بستیوں سے ہوتی ہوئی، غل مچاتی، سیٹیاں بچاتی ہوئی اسی رفتار کے ساتھ دوڑی چلی جارہی تھی!!!!!!!!!!
-----------------------------------------------------
جاری ہے،!!!!

Last edited by عبدالرحمن سید; 07-11-10 at 03:25 PM.
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-11-10), پاکستانی (13-11-10), منتظمین (07-11-10), طاھر (07-11-10)
پرانا 09-11-10, 05:01 PM   #29
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جوانی کی طرف رواں دواں سفر-6

کراچی نزدیک آرہا تھا، لیکن پھر بھی یہ کہ سفر کاٹے نہیں کٹ رہا تھا، آخر وہ لمحہ آہی گیا کہ ٹرین کراچی کے شہر کے اندر غل مچاتی سیٹیاں بچاتی ہوئی اسی رفتار کے ساتھ دوڑی چلی جارہی تھی!!!!!!
جیسے ہی تیزگام کراچی میں داخل ہوئی، اسکے ساتھ ساتھ میرے دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہوگئیں، اور ڈر بھی اس خوف کے ساتھ کہ کس طرح میں سب کے سامنے آپنے آپکو کتنی شرمندگی کے ساتھ پیش کرسکونگا، ٹرین کراچی کینٹ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر آہستہ آہستہ رک رہی تھی، اور میں کھڑکی سے جھانک رہا تھا کہ شاید کوئی مجھے لینے آیا ہوا ہو، دیکھا تو ایک دوست نظر آیا، اس نے مجھے دیکھتے ہی ہاتھ ہلایا، مین‌سمجھ گیا کہ یہی دوست مجھے لینے آیا ہوا ہے، کیونکہ اس کے علاوہ مجھے اور کوئی دکھائی نہیں دیا!!!!

خیر علیک سلیک کے بعد ہی میں اور وہ پیدل ہی گھر کی طرف نکل گئے، کیونکہ اتنی دور تو نہیں تھا ، سوٹ کیس بھی چھوٹا سا ہی تھا اور اتنا بھاری بھی نہیں تھا کہ اسے اٹھا کر چلنے میں کوئی مشکل ہوتی، آدھے گھنٹے کی مسافت طے کرتے ہی محلے میں جیسے ہی داخل ہوا، بچوں کے ساتھ بڑے چھوٹے، مرد عورتیں ، بچے اور بوڑھے، سب نے مجھے گھیر لیا اور سوالوں کی ایک بوچھاڑ کردی، میں نے علیک سلیک کے علاؤہ کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، اور سیدھے ہی چلتا رہا، اور سامنے کے گھر کی طرف ہی اچانک دیکھا کہ پردہ کے پیچھے سے دونوں، باجی اور زادیہ جھانک رہی تھیں، مگر میں نے بغیر دیکھے ہی کچھ کہے سنے ان کے سامنے سے نکل گیا، جس کا کہ مجھے بعد میں بہت افسوس ہوا، بہرحال بس پھر خاموشی سے اپنے دوست کے ساتھ ہی اپنے گھر میں داخل ہوا جہاں میری والدہ میرا بےچینی سے انتظار کررہی تھیں اور ساتھ بہں بھائی بھی اور اس وقت تک والد صاحب باھر ہی تھے، والدہ کو دیکھتے ہی میں ان سے گلے لگ کر بہت رویا اور سارے بہن بھائی بھی ساتھ ہی سب مجھ سے لپٹ گئے،

ا کھانا جلدی جلدی والدہ نے لگایا اور سب بہن بھائی کھانا کھانے میرے ساتھ ہی بیٹھ گئے اور والدہ مجھے پنکھا بھی جھل رہی تھیں اور ساتھ انکے آنسو بھی گرتے جارہے تھے، اور میری بھی آنکھیں نم تھی، آج کتنے دنوں کے بعد اپنے گھر کا کھانا کھا رہا تھا دل رو بھی رہا تھا کہ اپنا گھر بھی کیا ہوتا ہے دنیا کی ساری دولت ایک طرف اور اپنا گھر ایک طرف جہاں ماں کی پیار بھری دولت ہوتی ہے، والد صاحب بھی میری خبر سنتے ہی فوراً گھر آگئے، اور گلے لگایا مگر کچھ نہیں بولے اور میں بھی بس خاموشی سے کھانے کھانے میں مصروف ہوگیا!!!!

آج تقریباً دو مہینے بعد پھر مجھے سکون ملا، بہت تکلیف اور بے سکونی ہی اٹھائی، جس کا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، بس تھوڑی دیر میں ہی میرا دوست ننھا بھی پہنچ گیا، اور بہت ہی شکوہ شکایت کرنے لگا وہ بھی بہت بدل سا گیا تھا اور میرے بغیر اس نے کہا کہ اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا، کیونکہ ایک عرصہ سے وہ مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوا تھا اور ہم دونوں زیادہ تر ایک ساتھ ہی رہتے تھے، جب سے حالات خراب ہوئے تھے، اس نے میری کافی مدد کی تھی، واقعی وہ ایک مخلص دوست تھا!!!!!!!

باقی تمام باتیں مجھے اسی کی ہی زبانی معلوم ہوئیں کہ میری غیر حاضری میں کیا کیا ہوا تھا وہ بہت بے چین تھا مجھے تمام کہانی سنانے کیلئے اور میں بھی کچھ سننے کےلئے، مگر اس وقت مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ سب کو چھوڑ کر چلا جاؤں!!!!!!

کیونکہ دو مہینے بعد تو میں اپنے گھر والوں سے ملا تھا، اور بس میں یہی چاہتا تھا گھر میں سب کو جی بھر کر دیکھوں، اور کچھ نہ کروں، باہر جاکر بھی تو میں ہر ایک کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا اور ہر کوئی تمام حالات اور واقعات جو مجھ پر گزرے تھے ان کو معلوم کرنے کیلئے سب بےچین تھے، اور ہر ایک کو باری باری تمام تفصیل کو دہرانا میرے بس کی بات بھی نہیں تھی،!!!!

مجھے آئے ہوئے دو دن گزرچکے تھے، لیکن کسی سے کوئی رابطہ نہیں کیا، بس ایک بات تھی کہ نماز کیلئے اب پانچوں وقت مسجد میں جانے لگا تھا، اور اس دوران ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی کہ مجھ سے کچھ پوچھے لیکن میں خاموش ہی رہتا اور کوئی بہت زیادہ ہی ضد کرتا تو میں عاجزی سے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ لیتا، اور بعض اوقات تو میرے آنکھوں میں آنسو بھی آجاتے،!!!!!

کبھی کبھی تو میرے پیچھے لڑکے آوازیں کستے اور مذاق بھی اُڑاتے، لیکن اس وقت ان کی ہمت بھی نہیں پڑتی تھی جب میرے پیچھے میرا دوست “ننھا“ ہوتا، اس نے سب کو خبردار کیا ہوا تھا، اگر کسی نے کچھ بھی اگر مجھے ایک لفظ بھی کہا تو اس کی خیر نہیں، اور کئی دفعہ تو وہ کئی لڑکوں سے میری خاطر الجھ بھی چکا تھا، میں نے اسے سمجھایا بھی کہ تو میری خاطر کسی سے بھی جھگڑا نہیں کیا کر لیکن وہ باز نہیں آتا تھا، اور کئی لڑکے بہت اچھے بھی تھے جو مجھے ہر نماز میں باجماعت ملتے تھے، شروع شروع میں انہوں نے ازراہِ ہمدردی کچھ پوچھنا چاہا، لیکن میری خاموشی کے بعد تو انہوں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا،

ننھا بھی میرے ساتھ ہی نماز پڑھنے جاتا اور ساتھ ہی وہ میرے پیچھے پیچھے مجھے گھر تک چھوڑ کر چلاجاتا، اکثر وہ اذان کے وقت ہوتے ہی میرا باہر انتطار کررہا ہوتا تھا، میں اس سے بس ہاتھ ہی ملاتا اور کچھ بھی کہنے کی مجھ میں کوئی ہمت نہیں تھی، اور وہ بھی مجھ سے کوئی سوال نہیں کرتا تھا بس میں اس کو چلتے چلتے ہی دیکھ کر بس روایتاً ہلکا سا مسکرا دیتا تو وہ بھی کچھ مسکرا کر مجھے اس طرح دیکھتا کہ جیسے وہ مجھ سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہے، وہ اتنا بولنے والا بس اب تو میرے ساتھ خاموشی سے مسجد اور گھر تک، بس اتنا ہی ساتھ رہتا جیسا کہ وہ میرا کوئی باڈی گارڈ ہو، اور مجھے اسکا ساتھ بھی بہت اچھا لگتا، ایسا مجھے محسوس ہوتا کہ میں اس کے ساتھ ہر وقت ہر کسی پریشانی سے بالکل محفوظ ہوں، کبھی کبھی اگر نماز کیلئے اسے آنے میں دیر بھی ہوجاتی تو میں اپنے گھر کے باہر مین دروازے پر انتظار بھی کرتا، مجھے اس کی دور سے ہی اس کی آہٹ سے ہی اندازہ ہوجاتا کہ وہ آرہا ہے، وہ کبھی کبھی میرے پیچھے ہی سے ان دونوں زادیہ اور باجی کو ان کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے میری طرف سے خیریت کا پیغام دے دیتا اور خاموشی کی زبان میں ہی تسٌلی بھی دیتا کہ جیسے وہ بہت جلد میرا آمنا سامنا کرادے گا، وہ دونوں بھی میرے آنے جانے کے وقت ہی اپنے دروازے پر مجھے دیکھنے آجاتی تھیں، لیکن میں ایک لفظ بھی نہیں کہتا تھا اور نہ ہی اسطرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا تھا،!!!

نہ جانے بس مجھے ایک چپ سی لگ گئی تھی، اور مجھے عبادت کرنے میں بہت مزا آتا تھا اور بعض اوقات تو میں نماز کے بعد مسجد میں اکیلا ہی رہ جاتا تھا اور مسجد کے باہر ننھا میرا انتطار کررہا ہوتا تھا، اور لوگ اسے گھیر لیتے تھے بہت سارے میرے بارے میں سوالات لئے اور کچھ پوچھنے کیلئے کہ آج کل مجھے کیا ہوگیا ہے اور جیسے ہی میں مسجد سے باہر نکلتا وہ سب لوگ اِدھر اُدھر ہوجاتے، اور پھر ہم دونوں سیدھا گھر کی ظرف نکلتے، راستے میں ان دونوں کا گھر بھی پڑتا تھا اور وہ حسب معمول مجھے دیکھنے کیلئے پردے کی آڑ میں سے حسرت بھری نگاھوں سے مجھے تکتی رہتیں، اور میں اسی طرح خاموشی سے سر جھکائے ان کے گھر کا سامنے سے بھی گزر جاتا،

کئی لوگوں نے تو یہ افواہ بھی اُڑا دیی کہ مجھ پر کسی بھوت پریت وغیرہ کا سایہ ہوگیا ہے، مجھے ایک عادت تو بچپن سے ابا جی کے ہاتھوں پرائمری اسکول کے واقعہ کے بعد مار کھانے کی وجہ سے تھی کہ رات کو اکثر سوتے میں بری طرح چیخنے لگتا تھا اور جبتکہ مجھے کوئی اچھی طرح جھنجھوڑ نہ لے اور میں اٹھ نہ جاؤں، میرے ہوش ٹھکانے نہیں آتے تھے، اور یہ عادت مجھ میں اب تک ہے، جو مجھے اپنی وہ پانچویں کلاس سے پورے سال کے سیشن میں پرائمری اسکول سے بھاگ جانے والی اس حرکت کو ایک سبق کی طرح ھمیشہ یاد دلاتی ھے، لیکن اب کبھی کبھی کسی رات کو ایسا دورہ پڑ جاتا ہے،!!!!!!

کئی دفعہ ننھے نے مجھ سے کہا کہ یار اب تو ٹھیک ہوجاؤ کافی دن ہوگئے، مجھ سے تمھاری یہ خاموشی کی حالت دیکھی نہیں جاتی، میں جواباً اسے صرف یہی کہتا کہ دوست ننھے ابھی تک میری ندامت اور شرمندگی کے آنسو ختم نہیں ہوئے ہیں، جبتکہ میری اپنے اندر کی شرمندگی خود بخود باہر نکل نہیں جاتی، میں اپنی گردن اٹھا نہیں سکتا اور یہ ایک حقیقت بھی تھی کہ مجھے پہلے اسکول سے اور دوبارہ گھر سے بھاگنے کی حرکت کی وجہ سے جو شرمندگی اٹھانی پڑی تھی وہ میں شاید زندگی بھر نہ بھول سکونگا !!!!!!!!!

اب کچھ دنوں بعد ظبیعیت کچھ بہتر ہوگئی اور آہستہ آہستہ میں کچھ اپنے آپ میں سکون محسوس کررہا تھا، یہ تو واقعی ایک طے شدہ بات ہے کہ جب بھی آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت پڑہیں اور ساتھ ہی نوافل اور اذکار کثرت سے ادا کریں، تو جو بھی پریشانی دکھ یا کوئی بھی تکلیف ہو، بالکل ہی جاتی رہتی ہے، لیکن ہمارے میں یہ ایک بہت بڑی کمزوری ہے کہ جیسے ہی حالات بہتر یا کوئی بھی پریشانی، دکھ یا تکلیف دور ہوجاتی ہے تو اللٌہ کو ہم بھول جاتے ہیں!!!

آخر ننھے سے صبر نہیں ہوا اور اس نے میرے جانے کے بعد کی اسٹوری سنا ہی دی، جس کے بعد مجھے بہت افسوس ہوا کہ میری اس غلطی کی وجہ سے دونوں فیملیز کو کیا کیا پریشانیاں اٹھانی پڑیں، آپس میں بہت ہی زیادہ جھگڑے ہوئے، اور حالات کافی سے بہت زیادہ کشیدہ ہوچکے تھے، روزانہ کچھ نہ کچھ لڑائی رہتی تھی اور ان لوگوں کا محلے والوں نے ناک میں دم کیا ہوا تھا، جس کی وجہ سے ان کے والد نے یہ محلہ بھی چھوڑنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر میرے واپس آنے تک اس فیصلے کو روکا ہوا تھا، کیونکہ ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ہی مجھے گھر سے بھاگنے پر اکسایا تھا، اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں کس جگہ پر ہوں، یہ تو اچھا ہوا کہ میری خط و کتابت چل پڑی ورنہ نہ جانے کیا کیا مصیبتوں کے پہاڑ انہیں جھیلنے پڑتے، پھر بھی ان بےچاروں اور بےقصوروں کو میری وجہ سے کافی دھمکیاں بھی مل چکی تھیں کہ اگر کچھ دنوں میں میرا پتہ نہ چلا تو ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیں گے، اور یہ سب محلے کے چند افراد ہی ہمارے والدیں کو یہ مقدمہ کرنے کیلئے ورغلا رہے تھے، مگر والد صاحب نے پھر بھی اپنی عزت کے لئے اسطرح کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور میرے خط و کتابت شروع ہونے کے بعد ہمارے گھر والوں نے کسی اور کی باتوں کی طرف دھیان نہیں دیا، کیونکہ یہ میں اپنے خط میں مکمل طور پر واضع کرچکا تھا کہ میں کسی کے کہنے بہکانے یا اکسانے پر گھر سے نہیں گیا یہ صرف میرا اور صرف میرا ہی فیصلہ تھا،

پھر سے وہ رونقیں واپس آرہی تھیں، 1968 کا زمانہ تھا مجھے والد صاحب نے ایک اور دوسرے کالج جسکا نام عائشہ باوانی کامرس کالج میں سیکنڈ ائیر شام کی شفٹ میں میں داخلہ دلا دیا، اور گھر سے بھی کچھ قریب ہی تھا اور اس کالج کے پیچھے وہ پرائمری اسکول بھی تھا، جہاں سے کبھی پانچویں کلاس پاس کی تھی اور اس سے پہلے اسی اسکول سے بھاگا بھی تھا، وہ دن یاد آتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے، اس کالج میں کافی پابندی تھی، اور اچھے کالجوں میں سے ایک تھا اور ہمارے اکاونٹس اور اسٹیٹس کے لیکچرار جناب اسلم صاحب بہت ہی قابل استادوں میں سے تھے، اں کا پڑھانے کا دوستانہ انداز میں آج تک نہیں بھولا، یہ میں کہہ سکتا ہوں کہ آج جس اکاونٹس کی پوزیشن پر ہوں، بنیادی طور پر ان ہی کی محنت اور کاؤش کا نتیجہ ہے، وہ میرے صحیح معنوں میں اس فیلڈ کے پہلے استادوں میں سے ایک تھے اور میں اپنے تمام استادوں کو آج تک نہیں بھولا ہوں، چاہے وہ میرے اسکولوں یا کالجوں کے استاد تھے یا میری سروس کے دوران جن سے میں نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا تھا، ان سب کے لئے آج بھی میں صدقِ دل سے دعائیں کرتا ہوں،!!!!

مجھے اب سیکنڈ ایئرکامرس میں کل آٹھ پیپرز پچھلے سال کے 3 پیپرز ملا کر دینے تھے اور اس کے لئے مجھے کافی محنت بھی کرنی تھی، اس کے لئے والد صاحب نے بہت پیار سے یہی کہا کہ اب تمھاری مرضی ہے کہ کس طرح اور کس پوزیشن میں پاس کرتے ہو یہ تمھارے مستقبل کا سوال ہے، اگر اپنی زندگی میں کچھ بننا چاہتے ہو، تو تمھیں محنت تو ضرور کرنی پڑے گی، اور اب میں تمھیں کچھ نہیں کہوں گا اب تمہیں خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے اور وہ بھی بغیر سہارے کے اگر محنت کرو گے تو تمھاری قابلیت ہی تمھارا سہارا بنے گی ورنہ تمھارا کچھ بھی نہیں ہوسکتا، اور یہ بھی کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کمپنی میرا کچھ دنوں بعد ٹرانسفر سعودی عرب میں کردے تو تمھیں ہی پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہ اپنے گھر کو بھی سنبھالنا ہوگا، مجھے امید ہے کہ ہر لحاظ سے میری غیرحاضری میں اپنے گھر کا خیال رکھو گے!!!!

اب تو مین واقعی خوب اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دینے لگا، اور اب میرا دوست ننھا بھی اپنے والدیں کے ساتھ کسی اور اچھی جگہ جا چکے تھے، اور ہمارے والد صاحب بھی ایک اور کوئی چھوٹا سا مکان خریدنے کے چکر میں تھے، نہ جانے کیوں ہر کوئی اس علاقے سے بھاگ جانے کے حق میں تھا، رات کو جب کالج سے آتا تو روزانہ ان دونوں بہنوں کو انکے گھر کے صحن کی دیوار کے اوپر سے مجھے جھانکتے ہوئے دیکھتا تھا، لیکں میں اسی خاموشی کے ساتھ بغیر کسی قسم کا اشارا یا بات کئے ہوئے گزر جاتا، اور کوئی بھی دھیان نہیں دیا، لیکن بلاناغہ انہوں نے یہ اپنا ایک معمول بنا لیا تھا،

لیکن پتہ نہیں کیوں میرا دل اب بھی انہیں کی طرف تھا، ان کو میں بُھلا نہیں پایا تھا، لیکن والدین کی وجہ سے میں بہت مجبور تھا 1969 کا سال تھا اور سالانہ انٹر کامرس کے فائنل کے امتحانات شروع ہونے والے تھے، اور امتحانات کی تیاری کے دوران ہی میں نے سوچا کہ میں شاید کسی کا دل تو نہیں دُکھا رہا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کی بددعاء مجھے یا میرے گھر والوں کو نہ لگ جائے، کیونکہ جاتے جاتے ننھا مجھے یہ ضرور کہہ گیا کہ وہ سب تمھارے لئے خیریت کی دن رات دعاء کرتے تھے، اور وہ واقعی تمھیں بہت زیادہ دل و جان سے چاہتے ہیں، اس لئے ایک دں موقع پا کر تم ان سے ضرور ملکر معافی مانگ لینا،!!!

میں بھی یہی چاہتا تھا کہ ان سے کم از کم معافی تو مانگ لوں اور ایک دن چپکے سے باہر کے مین دروازے سے اندر جا کر ان کے گھر کے بڑے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی، دروازہ کھلا اور باجی دروازے پر تھیں اور بس وہ مجھے دیکھتے ہی شروع ہوگئیں، کہ “اب اتنے دنوں بعد کیوں آئے ہو، کیا کام ہے، تمھیں اتنے دن ہوگئے آئے ہوئے اور آج اپنی شکل دکھا رہے ہو، ہمارا کیا حال تھا تمھیں کسی بات کی خبر بھی تھی یا نہیں، تمھیں ذرا سی بھی شرم نہیں آئی“ اور نہ جانے وہ کیا کیا کہتی چلی گئیں، اور انکی امی نے باجی کو کافی روکنا چاہا مگر وہ غصہ میں بےقابو ہو کر بولتی ہی چلی گئیں لیکن میں بس یہ سب کچھ خاموشی سے سب کچھ سنتا رہا، مگر میری آنکھوں سے ایک آنسوؤں کا سیلاب جیسے امڈ رہا تھا جوکہ شید انہوں دیکھا نہیں تھا!!!

جب وہ کہہ کہہ کر تھک گئیں تو میرے بازوؤں کو پکڑ کر جیسے ہی جھنجھوڑا تو میری آنکھوں کے آنسو کے کچھ قطرے شاید ان کے چہرے پر پڑے تو فوراً انہوں نے مجھے بے اختیار اپنے گلے لگا لیا، اور انکی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے، ادھر زادیہ کی آنکھوں میں بھی نمی دیکھی اور خالہ نے بھی مجھے فوراً اپنے گلے لگایا اور ساتھ ہی نانی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور پیار کیا اور ادھر زادیہ اپنی باجی کے گلے سے لگ کر رورہی تھی یا پتہ نہیں پھر کوئی اور میری شکایت ہی کررہی ہوگی!!!!!!!!!

میں اب ایک اور شش و پنج میں تھا کہ کیا کروں، پھر ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ میں ان سب سے باہر ہی ملوں گا، کیونکہ انکے والد نے پہلے ہی سے انہیں یہ سختی سے نوٹس دے ہی دیا تھا کہ وہ اپنے گھر میں میری شکل دیکھنا نہیں چاہتے، اور میری ہی وجہ سے انکے والد سے آپس میں کافی جھگڑا بھی ہوا تھا، میں رات کو جب بھی کالج سے واپس آتا تو وہ دونوں میرا شدت سے انتظار کرہی ہوتی تھیں اور دیوار کے اُوپر سے جھانک کر مجھے اکثر میرے لئے شامی کباب یا کوئی بھی کھانے کی چیز پکڑا دیتی تھیں جو بھی مجھے پسند تھی، اور ایک دو لفظ کہہ کر واپس نیچے اتر جاتیں مگر ھمیشہ وہ دونوں امتحانات کی اچھی طرح تیاری کرے کا حکم صادر فرماتی تھیں، اور میں اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی اسے شامی کباب ہوں یا کچھ اور سب کچھ کھا کر ختم کرلیتا تھا، اور گھر پہنچ کر بھی کچھ تھوڑا بہت اپنے گھر کا بھی کھا لیتا تھا کہ کہیں گھر والوں کو شک نہ ہوجائے!!!

اسی طرح دن گزرتے رہے اور کئی دفعہ باھر ملاقات بھی ہوئی لیکن زادیہ سے تو اکیلے میں بات کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملا کہ کچھ اظہار وفا ہی کرلیتے کئی دفعہ موقعہ نکالنے کی کوشش بھی کی اور اس نے بھی پہلے ہی کی طرح پوچھا کہ تم کچھ کہنے والے تھے، لیکن بس اس وقت اپنے گال سہلاتا ہوا بات کو ٹال دیتا، اور جب وقت گزرجاتا تو اپنے آپ کو بزدل ہی کہتا لیکن ساتھ ہی سوچتا کہ چلو اچھا ہی ہوا کہ کچھ نہیں کہا، کہنے سے پہلے میری جان نکلی ہی ہوئی ہوتی تھی اور جب کہہ نہیں سکتا اور بات ٹل جاتی تو شکر بھی ادا کرتا کہ شکر ہے بال بال بچ گئے، میرے ساتھ ایک عجیب سی ہی ایک سچیویشن تھی، کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لوگ کس طرح اتنی بڑی ہمت کرلیتے ہیں، یا تو میں ڈرپوک تھا،

جبکہ ریڈیو پاکستان میں ایک دفعہ آڈیشن کے وقت میں نے بہت اچھی طرح ایک ڈرامے کی رہل سہل کے وقت ایک اپنے سامنے والی لڑکی جو اس وقت ڈرامے کی ہیروئین کا ٹیسٹ دے رہی تھی اور مجھے بھی ہیرو کا اسکرپٹ پکڑا دیا تھا، جس میں ایک لڑکا ایک لڑکی سے محبت کا اظہار کرتا ہے، وہ تو میں نے بہت ہی بہتریں طریقے سے ادا کیا تھا اور اس لڑکی نے مجھ سے بھی شاندار طریقے سے ڈائیلاگ کی ڈلیوری کی تھی، وہ بات دوسری ہے کہ میں سیلکشن میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا، کیونکہ میرے مقابلے میں اور بھی بہت اچھے منجھے ہوئے فنکار بھی موجود تھے، تو ہماری دال کہاں گلتی، بہرحال میں نے کم از کم ڈائیلاگ تو بہت ہی اچھی ظرح بولے تھے مگر اصل میں جب بھی موقع آتا تھا تو ٹیں ٹیں فش ہوجاتی تھی، نہ جانے میرے کالج کے دوست تو اپنی عشق کی داستان ایسے سناتے تھے کہ جیسے وہ خاندانی عاشق ہی ہوں، ان کی باتیں سن سن کر میں اپنے آپ کو بہت کوستا تھا،!!!!!!!!!!

آخر کو انٹر فائنل کے سالانہ امتحانات کے دن آہی گئے اور میں نے اپنی پوری کوشش کی کہ آٹھوں پیپرز اچھی طرح ہوجائیں اور شکر ہے کہ سیکنڈ ڈویژن کے بجائے تھرڈ ڈویژن کی پوزیشن آئی، میں نے بھی شکر کیا چلو انٹر سے تو جان چھوٹی، نتیجہ نکلنے کے بعد کچھ آزادی بھی ملی اور اب میں “بی کام“ میں بھی چلا ہی گیا، والد صاحب بھی خوش ہوگئے،!!!!!!!

اور نہ جانے ایک دن پتہ نہیں کیا ہوا کہ میں کسی شادی میں یا اور کسی تقریب میں شرکت کیلئے دوستوں کے ساتھ کراچی سے باھر دو یا تیں دن کیلئے اندرون سندھ سکھر گیا ہوا تھا، جیسے ہی واپس آیا تو اچانک مجھے خبر ملی کہ زادیہ اور باجی سب گھر والوں سمیت اپنا گھر بیچ کر نہ جانے کہاں جا چکی تھیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا اور میں پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر پوچھتا پھر رہا تھا مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی، اور لوگ مجھے یہ خبر اچھل اچھل کر سنارہے تھے، اور ساتھ میرا مذاق بھی اُڑا رہے تھے،!!!!!!!
-------------------------------------------
جاری ھے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-11-10), پاکستانی (13-11-10)
پرانا 09-11-10, 06:03 PM   #30
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 63
مراسلات: 366
کمائي: 9,151
شکریہ: 442
246 مراسلہ میں 760 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جوانی کی طرف رواں دواں سفر-7

اور نہ جانے ایک دن پتہ نہیں کیا ہوا کہ میں کسی شادی میں یا اور کسی تقریب میں شرکت کیلئے دوستوں کے ساتھ کراچی سے باہر دو یا تیں دن کیلئے اندرون سندھ سکھر گیا ہوا تھا، جیسے ہی واپس آیا تو اچانک مجھے خبر ملی کہ زادیہ اور باجی سب گھر والوں سمیت اپنا گھر بیچ کر نہ جانے کہاں جا چکی تھیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا اور میں پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر پوچھتا پھر رہا تھا مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی، اور لوگ مجھے یہ خبر اچھل اچھل کر سنارہے تھے، اور ساتھ میرا مذاق بھی اُڑا رہے تھے !!!!!!!
مجھے تو ایک دم سے ہی پریشانی لاحق ہوگئی کہ میری یہ تین دن کی غیر حاضری میں اچانک کیا سے کیا ہوگیا، میرا دوست ننھا بھی مجھ سے دور چلا گیا تھا، مگر وہ کبھی کبھی چکر لگا لیا کرتا تھا، دوسرے ہی دن وہ مجھ سے ملنے آیا تو میں نے ساری روداد سنادی وہ بھی شش و پنج میں رہ گیا، اس نے بھی اپنی ساری کوشش کر ڈالی کہ کہیں سے پتہ چل جائے، مگر کوئی بھی کامیابی نہیں ہوئی، لوگوں کو اور موقعہ مل گیا تھا، راہ چلتے میرا مزاق اڑاتے رہتے اور میں خاموشی سے سنتا رہتا اور دل ہی دل میں کڑھتا بھی رہتا،

اسی دوران والد صاحب نے بھی کافی دور دراز علاقے میں ایک مکان کا بندوبست کرلیا تھا، جو بہت ہی دور تھا، اور جس کے لئے انہوں نے اپنے کسی دوست اور دفتر سے کچھ قرض بھی لیا تھا، تقریباً دس ہزار روپے میں یہ مکان خریدا تھا، اور یہ اپنا کچا سا مکان صرف ایک ہزار روپے میں بیچ دیا تھا، جو شہر کے ساتھ ہی تھا، نیا مکان اچھا تھا بجلی پانی اور گیس کی سہولت بھی تھی لیکن یہاں سے بس میں جانے کیلئے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگتا تھا، اور یہ میرے حق میں ہر لحاظ سے بہتر بھی ہوا، کیونکہ پانی اور جلانے کیلئے لکڑی لانے کا بندوبست بھی مجھے ہی کرنا پڑتا تھا، اس سے تو جان چھوٹ گئی اور شفٹ ہوتے ہی کچھ دنوں کے بعد وہاں کے ایک نزدیکی علامہ اقبال کامرس کالج میں بی کام میں شام کی شفٹ میں داخلہ بھی لے لیا،

انہی دنوں قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ والد صاحب کا ٹرانسفر سعودی عرب ہوگیا، مجھے اس لحاظ سے اس بات کی خوشی ہوئی کہ پابندیوں سے کچھ آزاد ہوگیا تھا، بس دن بھر میرا یہی کام کہ ان لوگوں کو تلاش کرنا، ہر ایک ممکنہ جگہ جاکر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ان کے جاننے والے عزیزوں کے گھر بھی گیا انہوں نے بھی یہی شکایت کی کہ ان کو بھی کچھ نہیں بتایا گیا، میں اور میرا دوست دونوں روزانہ کرایہ کی سائیکل لے کر ہر ایک علاقے کا چکر لگاتے اور وہاں پر ہر ایک سے کسی نئے آنے والی فیملی کے بارے میں پوچھتے، میری حالت روزبروز خراب ہوتی جارہی تھی ایک سال کا عرصہ بیت گیا، والدہ بھی میری طرف سے پریشان تھیں، ہوسکتا ہے کہ انہیں میری پریشانی کا علم ہو، لیکن نہ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا اور نہ ہی میں نے مناسب سمجھا کہ ان کو کسی بات کیلئے خوامخواہ پریشان کروں،

آخر ننھے کی کوششیں تقریباً چھ مہینہ بعد رنگ لے آئیں، اس نے فوراً مجھے ساتھ لیا اور مجھے کہا کہ ان کی والدہ فلانے بازار سے سبزی گوشت خریدتی ہیں، میں تو اس جگہ کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ لوگ وہاں پر ہوسکتی ہیں وہ ایک اچھا ماڈرن علاقہ تھا، میں فوراً وہاں پر پہنچا اور خالہ سے بازار میں ملا وہ فوراً مجھے دیکھ کر گھبرا گئیں اور مجھ سے پوچھا کہ تمھیں یہاں کا پتہ کس نے بتایا، میں نے کہا کہ کسی نے بھی نہیں میں نے آپکو اچانک یہاں پر ہی دیکھا تو چلا آیا اور میں تو چھ مہینے سے لے کر اب تک ہر جگہ آپ لوگوں کو تلاش کرتا پھر رہا ہوں اور آپ نے کسی کو بھی اپنا پتہ نہیں بتایا، اور پھر انہوں نے مجھے خاموش رہنے کیلئے کہا اور کہا کہ میرے ساتھ خاموشی سے چلے آؤ، میں نے انکی سبزی اور سودے سے بھری ٹوکری اٹھا لی اور ان کے ساتھ ساتھ چل دیا، ایک دو منزلہ گھر کی سیڑھیوں پر چڑھیں، میں بھی انکے پیچھے پیچھے اُوپر چڑھنے لگا!!!!!

میرا دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا، اچھے خاصے موسم میں بھی پسینے آرہے تھے اندر سے دل خوشیوں سے جھوم بھی رہا تھا کہ آج پھر وقت نے ایک پلٹا کھایا ہے اور کسی سے ملاقات ہونے والی ہے،راستے میں خالہ نے کچھ بھی نہیں بتایا، دروازے پر دستک دی تو فورا دروازہ کھلا تو سامنے اپنی باجی کو پایا، اور میں راہداری سے ہوتا ہوا ایک کمرے میں ایک صوفے پر بغیر پوچھے ہی بیٹھ گیا، اور میرے بیٹھتے ہی باجی مجھ سے سوال پر سوال کئے جارہی تھیں کس نے تمھیں یہ پتہ بتادیا، کتنی مشکل سے ہم تمھاری ہی وجہ سے اپنی عزت بچاکر یہاں کرایہ کے مکان میں آئے ہیں، اس جگہ پر تمھاری وجہ ہی سے تمھارے گھر والوں اور محلے والوں نے تمھاری غیر حاضری سے فائدہ اٹھا کر ہمارا ناک میں دم کردیا تھا، ایک تو ہم تمھاری وجہ سے پریشان تھے اور لوگوں نے تمھارے حوالے سے ہمیں بدنام بھی کردیا، جس کی وجہ سے ہمیں وہ مکان چھوڑنا پڑا، اب ہم نے کافی ذلت اٹھا لی، اور مزید اب ذلت برداشت نہیں کرسکتے اور اگر تمھارے خالو نے تمھیں یہاں اگر دیکھ لیا تو ھمیں جان سے ہی مار دیں گے!!!!!

میں تو ان دونوں کی شکل ہی دیکھ رہا تھا اور وہ مجھ سے شکایتیں ہی کئے جارہی تھیں، اور یہ بھی باجی نے کہا کہ تم پھر بغیر بتائے کہاں چلے گئے تھے، میں نے کہا کہ میں تو صرف ایک دن کے لئے ہی ایک کسی دوست کی تقریب میں گیا تھا لیکن مجھے دودن مزید انہوں نے روک لیا، میں تو تیسرے روز ہی آگیا تھا، مگر مجھے کسی نے بھی کچھ نہیں بتایا، میں ابھی جاتا ہوں اور جاکر اپنی اماں سے پوچھتا ہوں کہ یہ آخر ماجرا کیا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ خبردار اب دوبارا ہمارے متعلق کسی سے کوئی ذکر کیا یا کسی کو یہاں لانے کی کوشش بھی کی، تو ہمارے لئے اچھا نہیں ہوگا، اب ہماری یہاں بہت عزت ہے اور ہم نے اُس علاقے کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا ہے، مجھے انہوں نے اپنی قسم بھی دی کہ اب تم یہاں دوبارہ نہیں آؤ گے، اگر تمھارے خالو نے یہاں دیکھ لیا تو ہمارے لئے بہت مشکل ہوجائے گی، تمھارے خالو ہمیں جاں سے مار دیں گے، خدارا اب دوبارا یہاں کا رخ بھی نہ کرنا، اس سے پہلے کہ یہاں کسی کو تمھارے بارے میں پتہ چلے، یہاں سے فوراً چلے جاؤ!!!!

میں تو پریشان اور ہکا بکا ہی رہ گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا مشکل پیش آئی ہوگی کہ یہ اتنی مصیبت زدہ دکھائی دے رہی تھیں، میں نے پوچھا کہ زادیہ کہاں ہے انہوں نے جواب دیا کہ کالج گئی ہوئی ہے، میں نے پوچھا کہ کیا میں زادیہ کے آنے تک بھی یہاں انتظار نہیں کرسکتا،

انھوں نے جواب دیا کہ پھر تم بے وقوفوں والی کیوں بات کرتے ہو، تم خدارا کیوں نہیں سمجھ رہے ہو، تمھارے خالو ہماری ھڈی پسلی ایک کردیں گے اور تمھیں ہماری قسم ہے اگر تمھیں ہماری زندگی عزیز ہے تو تم یہاں آس پاس بھی نظر نہیں آؤ گے، میں نے کہا کہ خدارا مجھے کالج کا پتہ تو بتا دو میں صرف اسے دور سے ہی دیکھ لونگا، ان دونوں نے اس سے بھی انکار کردیا، اور مجھے نہ جانے کس کس کے واسطے دے کر مجبور کردیا کہ میں وہاں سے نیچے اتر گیا !!!!!!!

میں نیچے تو اتر گیا لیکن مجھے یہ مکمل یقیں تھا کہ وہ اس وقت گھر پر ہی تھی، مگر ان دونوں نے اسے برابر کے کمرے میں بٹھایا ہوا تھا یا وہ خود ہی میرے سامنے نہیں آنا چاھتی تھی، میری کچھ سمجھ میں نہیں آریہا تھا، آج اتنے عرصہ بعد ملاقات بھی ہوئی تو بغیر اس کو دیکھے ہوئے واپس جارہا تھا، نیچے اتر کر آخری بار پلٹ کر میں نے دیکھا کہ وہ کھڑکی میں پردے کے پیچھے سے اپنا ہاتھ ھلا کے مجھے الوداع کہہ رہی تھی، میں نے بھی اپنا ہاتھ ھلا دیا، میں ابھی صرف اسکی ایک ہی جھلک دیکھ پایا تھا کہ کسی نے فوراً ہی پردہ صحیح کردیا، اور وہ چہرہ بس میری آنکھوں کے ایک پلک جھپکتے میں ہی ایک دم غائب ہوگیا اور میں پھر خاموشی سے اپنے قدم بڑھاتا ہوا آگے نکل گیا دو تین دفعہ میں نے پھر کوشش کی کہ کسی کی کچھ جھلک ہی دوبارہ دیکھ لوں، مگر افسوس صرف پردے کو ہی ہوا سے ہلتے ہوئے دیکھا اور بس !!!!!!!

اب تو ایسا لگتا تھا کہ جینے کا زندگی کا اب کوئی مقصد ہی نہیں رہا، میں اپنے آپ کو بہت احساسِ محرومی کا شکار اور شکست خوردہ انسان سمجھ رہا تھا، حالانکہ میں نے اب تک اسے کسی بھی طرح سے اپنے دل کی بات نہیں کرسکا تھا نہ جانے وہ کونسا ڈر یا خوف تھا جسکی وجہ سے میں اسکے سامنے بالکل اس معاملے میں گونگا ہوجاتا تھا، مگر میں اسی میں خوش تھا کہ اس نے بھلے اپنے منہ سے کچھ بھی نہ کہا ہو لیکن یہ بات تو طے تھی کہ وہ پھر بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتی تھی اور اس کے علاوہ کبھی کبھی میں اس میں بھی خوش تھا کہ کسی کے بارے میں یا کوئی اور ایسا لڑکا ہو جو اسے پسند کرتا ہو، کوئی بھی تو ایسا نہیں تھا، کیونکہ میں نے اس سب کے ساتھ بچپن سے لیکر ابتک کافی نزدیک اور اکثر ان ہی کے ساتھ رہا!!!!

اور پھر میرا دل کہتا تھا کہ اسکی آنکھیں کبھی جھوٹ بول ہی نہیں سکتی، کیونکہ دل کی آنکھیں سب کچھ پڑھ لیتی اور سن بھی لیتی ہیں، مگر پھر بھی میرا دماغ ہمیشہ کچھ الٹا ہی سوچتا تھا، کہ تُو کہاں اور وہ کہاں وہ تو اتنی خوبصورت اور حسین ہے تُو تو اسکے ساتھ کھڑے ہونے کے بھی لائق نہیں ہے، دبلا پتلا کمزور سا اور عام سا لڑکا جو اس معاملے میں بالکل ڈرپوک اور بزدل تھا وہ کیسے کسی لڑکی کو اپنے طرف پرکشش اور جذباتی مقناطیسی قوت سے کھینچ سکتا تھا، مگر دوسری طرف باتوں میں مذاق اور کھیل کود میں سب کو اپنا دیوانہ ضرور بنالیتا تھا، مجھ سے اکثر تمام محلے کی چھوٹی بڑی سب لڑکیاں بہت مذاق کرتیں اور فری رہتی تھیں اور کسی دوسرے لڑکوں کے ساتھ انہیں اتنا فری نہیں دیکھا کیونکہ میرا ایک ان پر ایک بھروسہ اور اعتماد جو تھا، اور میں کبھی کسی کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھا تھا،

مگر پھر میں یہ سوچتا تھا کہ دوسری لڑکیاں بھی تو تھیں، جنہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ تمھیں آس پاس کوئی اور لڑکی نہیں نظر آتی جو اس مغرور لڑکی کے دیوانے بنے پھرتے ہو، وہ لڑکیاں بھی اچھی خوبصورت تھیں، جو میرے نذدیک آنا چاہتی تھیں، مگر نہ جانے کیوں وہ مجھے ایسی باتیں کرتی ہوئی اچھی نہیں لگتی تھیں اور میں انہیں ہمیشہ جھڑک کر جواب دیتا تھا اس کے جواب میں وہ مجھے یہ ضرور کہتی تھیں کہ فکر نہ کرو یہی مغرور لڑکی تمہیں ایک دن خوب رُلائے گی، لیکن ایک تو زادیہ مجھے ان کے نزدیک جانے نہیں دیتی تھی اور اگر مجھے وہ کسی لڑکی سے بات بھی کرتے ہوئے دیکھ لیتی تھی تو ایک قیامت آجاتی تھی، بہت مشکل ہوتا تھا اس وقت اسکو کچھ سمجھانا !!!!!!!! نہ تو مجھے کسی کے نذدیک جانے دیتی تھی اور نہ ہی مجھ سے کوئی اس قسم کی بات کرتی تھی کہ میرا حوصلہ بڑھے تو میں کچھ کہنے کی ہمت بھی کروں !!!!!

میرے دوست ننھے نے بار بار یہی کہا کہ بیٹا کوئی بھی لڑکی اپنے منہ سے کبھی بھی نہیں کہے گی، جب تک کہ لڑکا اسے اپنی محبت کا اظہار اپنی زبان سے نہ کرلے، میں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی ایسا کیا ہے!!!! اس نے پلٹ کر کہا کہ ابھی وہ منحوس وقت نہیں آیا اور نہ آئے تو اچھا ہی ہے، کیونکہ میں تیری حالت جو دیکھ رہا ہوں،!!!! پھر وہ مجھے یہ ضرور کہتا کہ کیا ہوجائے گا صرف ایک بار اس سے کہہ تو دے وہ کیا کرے گی یا تو وہ بھی اقرار کرلے گی یا زیادہ سے زیادہ وہ انکار ہی کردے گی اور ناراض ہوجائے گی، اور کیا ہوگا تجھے کھا تو نہیں جائے گی، یا مجھے اجازت دے، میں تیرا پیغام اس تک پہنچا دیتا ہوں، پھر دیکھی جائے گی،!!!! میں فوراً اسے اس بات پر سختی سے منع کردیتا اور تاکید کرتا کہ خدارا ایسا کبھی نہ کرنا، وہ بس مجھے ایسے ہی اچھی لگتی ہے، کم از کم وہ مجھ جان تو چھڑکتی ہے،!!! اس کا پھر آخر میں یہی جواب ہوتا کہ بیٹا ایک دن تو بہت پچھتائے گا!!!

ہم دونوں کی عمر ان دنوں شاید 19 یا 20 سال کے قریب ہی ہوگی، اور وہ مجھ سے ایک یا دو سال چھوٹا تھا،!!!!

میں اس سے یہی کہتا کہ یار میں اسی بات سے تو ڈرتا ہوں کہ کہیں میں اس سے اس دوستی سے بھی نہ چلا جاؤں، جب مجھے موقعہ ملے گا میں خود ہی کسی دن کہہ دوں گا، تیری نصیحت کی کوئی مجھے ضرورت نہیں ہے !!! اکثر میری اس سے یہی بحث ہوتی تھی، آج وہ مجھے بہت شدت سے یاد آرہا تھا، نہ جانے کیا بات ہے ، اس دن سے مجھے ملا ہی نہیں جب سے اس نے مجھے انکا پتہ بتایا تھا اور اس نے میرے ساتھ جانے پر بھی انکار کردیا تھا !!!!!

اب تو لگتا تھا کہ اب تمام ھی راستے بند ہوگئے ہیں، اسی طرح جب سے نئے گھر میں شفٹ ہوئے، ایک تو اتنا دور ہے کہ پہنچتے پہنچتے شام ہوجاتی ھے اور دوسرے سارے کام بھی ادھورے ہی رہ جاتے ھیں، اب دماغ میں کچھ سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ہوچکی تھی، نئی جگہ نئے لوگ، اور کچھ نئے دوست بھی بن گئے، اچھا صاف ستھرا ماحول تھا، علاقہ بھی اچھا تھا، لیکن میرے دل اور دماغ پر تو کچھ اور ہی چھایا ہوا تھا، اتنی بےعزتی کے باوجود بھی دل ادھر ہی اٹکا ہوا تھا !!!!!!!
----------------------------------------------------------
جاری ھے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-11-10), پاکستانی (13-11-10), منتظمین (09-11-10)
جواب

Tags
فرض, کراچی, پاکستان, پسند, ورزش, قرآنی, قران, نماز, مکمل, ماں, محبت, انگلش, انسان, اردو, اسلامی, استاد, اعلیٰ, بہترین, بھائی, بچپن, بچوں, تعلیم, سیرت نبوی, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی گلاب خان خبریں 0 21-02-11 07:52 AM
Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ Real_Light شعبہ طب 3 03-05-09 12:52 PM
سڈنی ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام،تاریخ بدلنے کے بھارتی کے بھارتی دعوے کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 07-01-08 09:30 AM
واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 09:46 AM
جنرل پرویز ڈوبتی کشتی میں سوار ہیں، جسٹس وجیہہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 09:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:25 PM

cpanel hosting 

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2014,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger