واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > میری ڈائری > عبدالرحمن سید کی کہانی



عبدالرحمن سید کی کہانی عبدالرحمن سید کی کہانی ان کی زبانی


میرے بچپن، لڑکپن اور جوانی کے سنہرے اور شرارتی ادوار،!!!!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-10-10, 06:09 PM  
میرے بچپن، لڑکپن اور جوانی کے سنہرے اور شرارتی ادوار،!!!!!
عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید آف لائن ہے 25-10-10, 06:09 PM

میری کہانی میں میرے بچپن سے لے کر اب تک کے تمام زندگی کے نشیب و فراز پر محیط حالات کی روشنی میں جو بھی میری بھولی بسری یاداشتیں تھیں، انہیں میں نے سمیٹنے کی کوشش کی ہے، اپنی اچھی اور بری عادات کو بھی سامنے لایا ہوں، تاکہ اس سے قارئین کچھ تو نصیحت اور استفادہ حاصل کرسکیں، اس میں کہاں تک میں کامیاب ہوا ہوں، یہ تو پڑھنے والے ہی اپنی صحیح رائے دے سکتے ہیں،!!!!!

مجھے دراصل بچپن سے ہی ادب اور آرٹ کا جنون کی حد تک شوقین تھا اور یہ شوق مجھے راولپنڈی کے کینٹ پبلک اسکول، صدر سے شروع ہوا جہاں پر میں نے پرائمری تعلیم حاصل کی تھی اور میں اس اسکول کو کبھی نہیں بھول سکتا جہاں میرا یہ شوق پروان چڑھا - یہ 1955 سے 1958کا زمانہ تھا- اسکی چند مخصوص وجوھات بھی تھیں کاش کہ ھمارے تمام تعلیمی ادارے بھی ان ہی خصوصیات کے حامل ہوتے۔

اُس وقت کے دور میں اتنی سہولتیں تو نہیں تھیں لیکن لوگوں کے پاس دوسروں کے لئے وقت تھا اپنی ہر دکھ تکلیف ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے کام آتے تھے-

اس وقت کی وہ سادہ سی، قناعت پسند اور پرسکون زندگی جہاں پر ایک محدود اپنی ضروریات تھیں - اور لوگ اپنی زندگی بہت ہی خوش و خرم طریقے سے گزار ریے تھے!!!!!!
__________________

اس کہانی کے سلسلے میں آپ اپنی اچھی یا بُری جو بھی رائے ھو، بلا جھجک دے سکتے ہیں تاکہ میں اپنی تحریر کو اپنے پڑھنے والوں اور قدردان دوستوں کے مشوروں کے مطابق کچھ کہانی کی ترتیب میں یا کسی درستگی کے لئے کوئی تبدیلی لاسکوں تو مجھے بہت خوشی ہوگی!!!!!!!!!!!!!!

خوش رہیں،!!!!

Last edited by عبدالرحمن سید; 31-10-10 at 11:30 AM..

 
عبدالرحمن سید's Avatar
عبدالرحمن سید
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3037
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (25-10-10), یاسر عمران مرزا (13-11-10), ڈاکٹرنور (11-11-10), موجو (17-05-11), محمد عاصم (04-11-10), محمدخلیل (25-10-10), حیدر (26-10-10), سیپ (05-12-10), شاہ جی 90 (01-11-10), عبداللہ آدم (25-10-10), عبداللہ حیدر (14-11-10)
پرانا 25-11-10, 01:18 PM   #46
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جوانی کی طرف رواں دواں سفر-21

میرا کوئی خاص ہی امتحان اوپر والا لے رہا تھا، سب گاڑیاں ساتھ بینڈ باجے والوں کی پک اپ بھی چلنے کو تیار، بس دولہے کی کار کا انتظار، اخر وہ انتطار کی گھڑی ختم ہوئی اور شامیانے کے عیں سامنے کار کو لایا گیا اور مجھے اٹھانے کی کوشش کی گئی، لیکن ایسا لگتا تھا کہ میرا سارا جسم ہی سن یعنی ساکت ہوگیا ہو بڑی مشکل سے اٹھا، اور بھائیوں نے سہارا دیتے ہوئے اٹھایا اور کار کی پچھلی سیٹ میں بٹھا دیا گیا، سامنے ڈرائیور کے ساتھ شاید مجھ سے چھوٹا بھائی بیٹھ گیا، اور میرے ساتھ بیٹھنے کیلئے باہر جھگڑا ہو رہا تھا کہ دولہے کے ساتھ کس کو بٹھایا جائے، نہ جانے کیا فیصلہ ہوا کہ ایک دروازے سے اسلام آباد سے آئی ہوئی میری کزن بیٹھی اور دوسرا دروازہ کھلتے ہی مجھے ایک جانی پہچانی سی خوشبو آئی، میں نے اپنے سہرے کے جھروکوں سے جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ زادیہ ہی میرے ایک سائڈ پر بیٹھنے کی کوشش کر رہی تھی،!!!!!!!!!

مجھے تو بہت ہی تعجب ہوا کہ یہ اچانک میرے برابر میں زادیہ کیوں آکر بیٹھ گئی اور دوسری طرف میری کزن، جس کا نام نور تھا اور اسلام آباد سے ہی خاص طور سے میری شادی میں شرکت کرنے کیلئے ہی آئی تھی، یہ تو شاید کچھ گھر والوں کی شرارت ہوگی ورنہ کم از کم ان حالات میں زادیہ تو کبھی بھی بیٹھنے کی جرٌت نہیں کرسکتی تھی، میں سچ بتاؤں تو کچھ کچھ دل میں اسے دیکھ کر خوشی بھی محسوس ہو رہی تھی کہ زادیہ کے ساتھ شادی تو نہ ہو سکی لیکن کم سے کم آج وہ کافی عرصہ بعد میرے ساتھ بیٹھی تو ہے، وہ بھی ایک دولہے میاں کے ساتھ، وہ بیٹھ تو گئی مگر راستے بھر اس نے کوئی ایک بات تک نہیں کی، جبکہ میں نے راستہ میں ایک مرتبہ اسکا ہاتھ پکڑا تو اس نے بری طرح جھٹک کر اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا، اب بھی اس میں بہت طاقت تھی،!!!!!

جب میں نے دیکھا کہ وہ کچھ بات کرنا ہی نہیں چاھتی تو میں اپنی کزن نور کے ساتھ ہی اپنی گفتگو جاری رکھی، اور اپنے اسلام آباد کے ان سنہرے دور کے بارے میں ہی باتیں کررہا تھا، جب میں اپنی راولپنڈی میں ان کے ساتھ گھومنے پھرنے جاتا تھا، وہ بھی خوب مزے مزے سے ان یادوں کو دھرا رہی تھی، اور میں بھی زادیہ کو تنگ کرنے کیلئے کچھ زیادہ ہی نور کو یاد دلا رھا تھا، میں نور کو بھی اپنے بچپن سے جانتا تھا، اور زادیہ سے پہلے ہی ہمارے پرانے محلے میں اسی زادیہ کے گھر میں ہی نور اور اسکے گھر والے رہتے تھے، مگر ان کے والد کو ان کی کمپنی کی طرفسے مکان مل گیا تھا، اس لئے اپنا مکان زادیہ کے گھر والوں کے حوالے کرگئے تھے، کاش کہ نور وہاں سے نہ جاتی، لیکن نہ جانے قسمت کوکیا منظور تھا، نور تو چلی گئی لیکن زادیہ کو میرے سپرد کرگئی، اس وقت میں شاید پانچویں جماعت میں تھا، مگر اکثر بیشتر نور اپنے والدین کے ساتھ ہمارے گھر آتی جاتی تھیں، اور زادیہ اور ان کے گھر والے بھی ایک ساتھ ہمارے گھر ایک اچھا وقت گزارتے تھے، نور اور انکے گھر والے بھی بہت اچھے تھے،بعد میں ان کے والد کے تبادلے کی وجہ سے وہ لوگ اسلام آباد ہی شفٹ ھوگئے، جب تک میں راولپنڈی میں رہا ان سب نے میرا بہت خیال بھی رکھا تھا، !!!!!!

ہاں بات ہو رہی تھی اپنی بارات کی جس میں دولہا بنے اپنے گھر سے ایک پوری بارات کے ساتھ ایک سجی سجائی کار میں جارہے تھے، ایک طرف میری کزن نور اور دوسری طرف زادیہ تھی، زادیہ ویسے بھی اس بدانتظامی سے بہت پریشان تھی اور پروگرام کے مطابق اسے تو شام کو چار بجے ہی دلہن کے گھر پہنچنا تھا، اور وہاں پر اس نے دلہن کو تیار کرنا تھا، میک اپ اور دوسرے انتظامات بھی کرنے تھے، زادیہ ہی دونوں طرف کے گھر کے اندر کے انتظامات دیکھ رہی تھی، کیونکہ یہ ایک شادی کی اتنی بڑی تقریب پہلی ہی مرتبہ ہی ہو رہی تھی اور دونوں گھر والوں کے لوگ بہت ہی سیدھے سادے پر خلوص لوگ تھے اور انہیں شادیوں کا کوئی خاص تجربہ بھی نہیں تھا اس لئے زادیہ دونوں ہی طرف کے اندر کے تمام معاملات کو اچھی طرح سنبھال بھی رہی تھی، !!!!

زادیہ کی ان خدمات کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اس نے ایسے وقت میں دونوں فیملیوں کا بہت ساتھ دیا، جبکہ شادی کی تیاریوں کے بارے میں کوئی کسی کو خاص تجربہ نہیں تھا، بارات کی ترتیب ایسے تھی کہ میری کار کے آگے کچھ اور دوستوں اور عزیز و اقارب کی اپنی اپنی سواریوں میں تھے، میرے پیچھے ہماری خاص فیملیز دو وین میں تھی، اس کے پیچھے بینڈ باجے والوں کی وین تھی اور اسکے پیچھے تین بسیں کھچاکھچ بھری ہوئی تھیں پتہ نہیں اتنے باراتی کہاں سے آگئے تھے، لگتا تھا کہ سارے علاقے کا بلاؤہ تھا، بڑی مشکل سے اس علاقے میں تقریباً رات کے 9 بجے پہنچے اور پتہ چلا کہ ایک بس اور بینڈ باجے والے کسی اور طرف نکل گئے، تو سب کو کچھ دور پہلے ہی رکنا پڑا،!!!!!

دور سے ہی ایک بہت بڑا شامینہ رنگ برنگی قمقموں سے روشن جھل مل کرتا نطر آرہا تھا، اور سڑک کی دوسری طرف دور سے سمندر کی شور مچاتی ہوئی موجیں دھندلا سا ایک عجیب سا ہی تاثر دے رہی تھیں، شکر ہے کہ چند لڑکے موٹر سائیکلوں پر جاکر اسی بس اور بینڈ باجوں کو پکڑ لائے، شاید بینڈ باجے والے بھی سوئے ہوئے تھے، فوراً ہی انکھیں ملتے ہوئے اپنی وین میں سے نکلے اور میری کار کے آگے ہی تیں لائنوں میں کھڑے ہوکر نغمے الاپنے لگے، اور پھر آہستہ آہستہ چلنے لگے سب سے آگے اب کا لیڈر ایک ڈنڈا ھاتھ میں گھماتا ہوا چل رہا تھا، اور پھر دور سے وہیں دلہں کے علاقے کے لوگ بھی بھاگ کر آگئے اور بینڈ باجے والوں کے ساتھ ہی رقص کرتے ہوئے، ہم سب کو اپنی منزل کی طرف لے کر چلے!!!!!

شکر ہے کے ساڑے نو بجے تک ہم سب وہاں پہنچ ہی گئے، میری کار کے رکتے ہی چاروں طرف سے دنیا پہنچ گی اور اندر ایسے جھانک رہے تھے، جیسے کوئی کار میں عجوبہ بیٹھا ہو، ادھر دونوں زادیہ اور نور مجھے اکیلا چھوڑ کے کار سے ایسے بھاگیں کہ جیسے کسی جیل سے چھٹکارا ملا ہو، اور ساتھ ہی اچانک دونوں طرف سے میرے ساتھ میری دلہں کے بھائی گھس کر بیٹھ گئے اور مجھ سے نیک شگون مانگنے لگے، میں نے کہا بھائی اب تک یہاں پہنچتے پہنچتے جیب خالی ہوگئی ہے آج معاف کردو کل دیکھ لیں گے، لیکن دونوں بلکل ٹس سے مس نہیں ہوئے، پھر آگے بیٹھے ہوئے بھائی نے سو سو کے دو نوٹ نکال کر دئے تو جان خلاصی ہوئی،!!!!!

کار کے چاروں طرف ایک تو بچوں نے اور دوسری طرف بینڈ والوں نے دماغ خراب کیا ہوا تھا، کچھ ہمارے لوگ کچھ اس طرف کے لوگوں نے ایک اور تماشہ بنایا ہوا تھا کچھ تو ہوا میں گورنمنٹ کے سکے لٹا رہے تھے اور کچھ تو باری باری میرے سر پر نوٹ رکھ رہے تھے اور بینڈ کا سرغنہ باجے کی دھن کے ساتھ لکڑی گھماتا ہوا آتا اور نوٹ کو میرے سر کے سہرے پر سے اُٹھاتا رہا، اس نے اور دیر کردی مجھے ہلنے ہی نہ دیا، اور کہا کہ دولہا میاں ہماری روزی روٹی کاسوال ہے کچھ دیر رک جاؤ، کیونکہ ان کی کمائی جو ہورہی تھی، میں بڑی مشکل سے اپنے بھائیوں اور دوستوں کے سہارے آہستہ آہستہ پنڈال کی طرف بڑھتا رہا سہرا اتنا گھنا تھا کہ ہاتھ سے کھولنا بھی مشکل تھا، مجھے تو کچھ نظر نہیں آرہا تھا، بڑی مشکل سے مجھے انہوں نے اسٹیج کی ظرف چڑھایا، اسٹیج تو بہت ہی خوبصورت طریقے سے سجایا ہوا تھا لیکن اسٹیج پر فرشی انتظام تھا ایک دری کے اوپر قالین بچھا ہوا تھا، وہیں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا، اور پھر سہرے کو ہاتھوں سے بڑی مشکل سے تھوڑا سا ھٹا کر دیکھا، تو ایک بہت ہی بڑا مہمانوں کا مجمع کرسیوں پر برجمان تھا اور اسکے آگے سامنے صوفوں پر ہماری کمپنی کے ڈائریکٹر اور اعلیٰ افسران بیٹھے ہوئے تھے اور دونوں پارٹی کی طرفسے دعوت پر آئے ہوئے تھے، کیونکہ ہم باپ بیٹا اور دلہن کے بھائی اور والد بھی اسی کمپنی میں سروس کرتے تھے، اور سب نے شکر ادا کیا کہ تین گھنٹے کی تاخیر سے ہی لیکن پہنچ تو گئے، !!!!!

میرے ساتھ میرے دوست بیٹھے ہوئے تھے، مولوی صاحب کو فوراً بلایا گیا، دونوں کے والدین کی ڈھنڈائی مچ گئی، دونوں پتہ نہیں کہاں غائب تھے، میں نے سوچا کہ میں نے بھی کافی دیر سے ان کی آواز نہیں سنی تھی، پتہ لگا کہ وہ دونوں اس شادی سے بےخبر دور ہی بیٹھے گپ شپ مار رہے تھے، کیونکہ دونوں بھی کافی عرصہ کے بعد ایک دوسرے سے ملے تھے، مولوی صاحب نے اپنے نکاح کے رجسٹر اور فارم نکالے اور دونوں کے والدین سے پوچھ پوچھ کر تمام کوائف، گواہ اور دلہن کے وکیل کے نام اور شرائط، وغیرہ لکھنے لگے، جوں جوں وقت گزرتا جارہا تھا میری حالت غیر ہوتی جارہی تھی، پھر کچھ دیر خاموشی رہی، میں نے پریشانی میں برابر بیٹھے ہوئے دوست سے پوچھا، کہ یہ مولانا نکاح کیوں نہیں پڑھا رہے، اس نے جواب دیا کہ چند لوگ ابھی لڑکی سے اقرار کرانے دلہن کے وکیل گھر پر گئے ہیں، پہلے لڑکی اقرار کرے گی پھر بیٹا تم سے پوچھا جائے گا، اور میں نے اس سے یونہی مذاقاً پوچھا کہ اگر لڑکی نے انکار کردیا تو،؟؟؟ اس نے جواب دیا پھر تو بیٹا بغیر کھانا کھائے ہی یہاں سے بھاگنا پڑے گا،!!! دلہن کو تو میں نے صرف تصویروں میں ہی دیکھا تھا، شکل سے تو اچھی خوبصورت لگتی تھی، لیکن سیرت اور عادت کی کیسی تھی یہ تو بعد میں ہی پتہ چل سکے گا!!!!

شکر ہے وہ لوگ جلدی سے ہی دلہن کی رضامندی لے آئے اور شاید دستخط بھی لے لئے تھے، اور پھر مولانا صاحب نے کچھ تلاوت کی اور بعد میں ساری تفصیل فلاں صاحب کی فلاں لڑکی بمعہ دو فلاں فلاں گواھان اور وکیل کے، مہر مبلغ 163 روپے کے آپکی زوجیت میں دیا جاتا ھے کیا آپ کو قبول ہے، جواب دیجئے کہ کیا آپ کو قبول ہے، مجھے ایک دوست سے کہا کہ ابے بولتا کیوں نہیں!!! میں نے کہا کیا مجھ سے کچھ کہہ رہے ہیں،!!!!اس نے جواب دیا کہ اور کس سے دولہا تو ہے یا اور کوئی ہے،!!!!، میں نے بھی اس سے مذاقاً ہی کہا کہ کیا کہنا ہے،!!!!

پھر مولوی صاحب نے ذرا تنک کے کہا دولہے میاں جواب دیجئے، قبول ہے ، اس سے پہلے کہ دوست کا تھپڑ پڑتا میں کہہ دیا “جی ہاں قبول ہے“ پھر انہوں نے دو دفعہ اور دھرایا میں نے بھی اسی طرح “قبول ہے، قبول ہے“ دو مرتبہ کہہ دیا، ذرا زور سے کہئے پھر میں نے کچھ بلند آواز میں کہا تو پھر مولانا دعاء مانگنے لگے،!!!!

اور اس طرح میں بھی کنواروں کی فہرست سے نکل کر شادی شدہ لوگوں میں شامل ہوگیا تھا اور شکر ہے کہ سہرے کو اُٹھانے کی اجازت مل گئی تھی، پھر کچھ جان میں جان آئی، اس وقت جتنے بھی میرے دوست ساتھ تھے کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی تھی، چھوارے بٹنے شروع ہوگئے اور ساتھ ہی لوگ مجھ سے گلے مل کر باری باری مبارکباد بھی دینے لگے، دوست سارے چھواروں میں ہی مگن تھے، میں نے کہا کہ کیا کررہے ہو ابھی کھانا بھی کھانا ہے، چھوارے بعد میں کھا لینا!!!! ایک دوست نے کہا کہ تم نہیں جانتے دوست کی شادی کے نکاح کے فوراً اگر چھوارے کھائے جائیں تو شادی کے امکانات بہت قریب ہوجاتے ہیں، !!!!
--------------------------------------------------------
جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-11-10, 04:02 PM   #47
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جوانی کی طرف رواں دواں سفر-22

اور اس طرح میں بھی کنواروں کی فہرست سے نکل کر شادی شدہ لوگوں میں شامل ہوگیا تھا اور شکر ہے کہ سہرے کو اُٹھانے کی اجازت مل گئی تھی، پھر کچھ جان میں جان آئی، اس وقت جتنے بھی میرے دوست ساتھ تھے کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی تھی، چھوارے بٹنے شروع ہوگئے اور ساتھ ہی لوگ مجھ سے گلے مل کر باری باری مبارکباد بھی دینے لگے، دوست سارے چھواروں میں ہی مگن تھے، میں نے کہا کہ کیا کررہے ہو ابھی کھانا بھی کھانا ہے، چھوارے بعد میں کھا لینا!!!! ایک دوست نے کہا کہ تم نہیں جانتے دوست کی شادی کے نکاح کے فوراً اگر چھوارے کھائے جائیں تو شادی کے امکانات بہت قریب ہوجاتے ہیں، !!!!

نکاح تو ہوگیا تھا اس کے بعد کھانے کی طرف لوگوں کا رجحان ہوگیا، رات کے بارہ بجنے والے تھے، کافی دیر ہوچکی تھی، ہماری کمپنی کے افسران اور تمام اسٹاف کیلئے ایک علیحدہ ہی کھانے کا مخصوص انتظام کیا گیا تھا، اور ان کی بیگمات کا بھی عورتوں کی طرف الگ ہی انتظام تھا اور خاص رشتہ داروں اور باراتیوں کیلئے بھی عورتوں اور مردوں کا الگ الگ خاص جگہ پر ہی بندوبست کیا ہوا تھا، اور ان کے عام لوگ جو محلے کے اور دور کے رشتہ دار تھے سب کیلئے ایک علیحدہ انتظام کیا گیا تھا، بہت ہی اچھا اور اس وقت کے لحاظ سے بہت ہی منظم طریقے سے انتظام دیکھنے میں آیا اور اس میں تمام محلے دار اور ان کے تمام بھائیوں کے علاوہ دفتر کے تمام دوستوں کی محنت اور لگن ہی نے اس ایک بہت بڑی تقریب کے نظام کو بہتر سے بہتر بنایا، جس کی وجہ سے کسی کو بھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی، اور انہوں نے خاص کر کھانے کا انتظام ایک فائیو اسٹار ہوٹل کو دیا تھا، جس کی وجہ سے کھانے کے دوران ایک بہترین نطم ضبط بھی تھا، کھانا وہیں تیار بھی ہوا تھا اور شاھی طریقے سے پیش کیا گیا تھا، اس ھوٹل کے بیرے بھی اپنے مخصوص لباس میں بہت ہی اچھے لگ رہے تھے، اور کھانا بھی بہت ہی ذائقہ دار تھا، مجھے اور میرے دوستوں کو تو اسٹیج پر ہی کھانا پیش کیا گیا تھا، کھانے میں شاھی بادامی قورمہ، روغنی نان اور مغلئی تافتان اور اس کے ساتھ اسپیشل چکن پریانی جس کا ذائقہ میں تو آج تک نہیں بھولا، اسکے علاؤہ اسپشل سلاد، دہی کا رائتہ اور میٹھے میں کوئی پہت ہی مزیدار کچھ کھیر ٹائپ کی چیز بھی تھی، اور تمام دوست بھی آج تک وہ شادی کےکھانے کو یاد کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ بھی تھی کے ان کے تعلقات وہاں کے کیٹرنگ منیجر سے ایک خاص فیملی کی طرح تھے، اور وہ بھی بمعہ فیملی کے یہاں مدعو بھی تھے اور انہوں نے خاص طور سے یہ سارا انتظام اپنی ہی نگرانی میں کرایا بھی تھا، اور خاص رعایت بھی ان کی وجہ سے ہوئی تھی، !!!!!

کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مجھے زنان خانے میں بلوایا گیا تاکہ کچھ رسومات کے بعد دلہن کو رخصت کیا جائے، مگر جانے سے پہلے دوستوں نے سمجھا دیا تھا کہ اس وقت کچھ مذاق بھی ہوتا ہے ذرا سنبھل کر جانا، مگر شکر ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی، بہت ہی زیادہ رش تھا، دلہن کے بھائی ہی اس رش میں سے مجھے ساتھ لے کر اوپر کی منزل پر پہنچے جہاں دو کرسیاں تھیں مجھے وہاں ایک کرسی پر بٹھا دیا، اور دوسری کرسی شاید دلہن کیلئے ہی تھی، میں بھی بہت احتیاط سے بیٹھا کہ کہیں مذاق کا نشانہ نہ بن جاؤں، بہرحال بعد میں میری بہنیں اور دوسرے دلہن کی خالہ اور ماموں زاد بہنیں اور سہیلیاں بھی میرے آس پاس جمع ہوگئیں، ہماری دلہن کی بہنیں تو ابھی بہت ہی چھوٹی تھیں، ان کو تو ہماری شادی کی کوئی بات یاد بھی نہیں ہے اور اب تو کئی بچوں کی امٌائیں ہیں، بس وہ اُس وقت کی تصویریں دیکھ کر حیران ہوتی ہیں کہ کیا جوڑی تھی،!!!!!

سب لڑکیاں مجھ سے ویسے ہی باتوں باتوں میں ہی مذاق کررہی تھیں، اور میں بھی سب سے اپنے اسی انداز میں باتیں کررہا تھا، مگر میری نظریں تو کسی اور کو بھی ڈھونڈھ رہی تھیں، مگر وہ نظر آکر نہیں دے رہی تھی کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا، رخصتی کا وقت ہو چلا تھا کہ اچانک تھوڑے سے وقفے کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ زادیہ ہی دلہن کو پکڑے ہوئے، اور سنبھالتی ہوئی میری طرف آرہی تھی،!!!!!!!

دلہن کو میرے ساتھ والی کرسی پر بٹھا دیا گیا جو کہ مکمل سہرے میں ڈوبی ہوئی تھی، کچھ رسومات کے بعد رخصتی کی تیاری شروع ہوئی، رونا دھونا مچ گیا، دلہن کے بھائی اور والدین اور تمام سہیلیاں، اور ماموں خالہ زاد بہنیں باری باری گلے مل کر رورہی تھیں اور ایک دلہن قران شریف کے سائے میں اپنے بابل کا گھر چھوڑ رہی تھی، اسی کار کو ان کے گھر کے مین دروازے کے نزدیک لایا گیا، سب سے ملتی ملاتی ہوئی دلہن کو سہارا دیتے ہوئے کار تک لایا گیا تو ان کے والد نے اپنی لاڈلی بیٹی کو گلے لگایا، جو ان سے آج رخصت ہو رہی تھی اور خوب رو رہے تھے، جیسے ہی ان کی بیٹی کار میں بیٹھی وہ ایک دم بےھوش ہوکر گر پڑے، میں نے فوراً انہیں سہارا دیا اور اپنے گلے لگایا، میں نے کہا کہ خالو آپ کیوں پریشان ہورہے ہیں آپکی بیٹی ہمارے گھر جارہی ہے کسی غیر کے ہاں نہیں، !!! پھر انہوں نے مجھے اپنی بیٹی کے بارے میں کہا کہ بیٹے،!! وہ اس گھر کی بڑی ہی لاڈلی تھی، اس سے کوئی بھول چوک ہوجائے تو معاف کردینا اور نہ جانے بے چارے اپنی بیٹی کی جدائی میں صدمہ سے نڈھال کیا کچھ کہتے رہے، اور میں ان کی ہر ممکن دل جوئی اور یقین دلاتا رہا، اور پھر میرے والد صاحب نے بھی گلے لگا کر ان کی کافی ہمت بندھائی،!!!!!

پھر باری باری میں نے دلہن کے بھائیوں کو گلے لگایا، اور ان کے باقی رشتہ داروں سے بھی ملا اور آخر میں ان کی والدہ کے پاس گیا انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، وہ کچھ کہہ تو نہیں سکتی تھیں کیونکہ ان کی بھی ھچکی بندھی ہوئی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کہہ رہی ہوں کہ بڑے لاڈ پیار سے پلی ہوئی بیٹی کو تمھارے حوالے کررہی ہوں، اس کا خیال رکھنا، ان کی ھچکیوں میں ہی اپنی بیٹی کے لئے بہت سی التجائیں چھپی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں، جس کا وہ اظہار نہیں کر پا رہی تھیں، سارا ماحول غمزدہ تھا ہر طرف ھچکیاں ہی بندھی ہوئی تھیں، لگتا تھا کہ سارے محلے کی لاڈلی بیٹی کو میں لئے جارہا تھا، پھر مجھے بھی دوسری طرف سے کار میں بٹھا دیا اور دلہن کے ساتھ میری والدہ بیٹھ گئیں، سامنے ایک دوست جو گاڑی چلا رہا تھا اور اس کے ساتھ مجھے کچھ یاد نہیں کون بیٹھا تھا، اور سارے ساتھ آئے ہوئے بھی بسوں اور دوسری گاڑیوں میں بیٹھ چکے تھے والد صاحب اور میرے بھائی تمام اپنے لوگوں کو اکھٹا کرتے ہوئے بسوں میں سوار کرا رہے تھے!!!!!!

وھاں سے پھر یہ سارا قافلہ اس محلے کی لڑکی کو دلہن بنا کر لے کر نکلا اور وہاں کی گلی کو سونا کرتا ہوا چلا گیا، بیچ میں سمٹی ہوئی دلہن کے ایک طرف میں تھا، دوسری طرف والدہ بیٹھی ہوئی تھیں اور دلہں شاید گرمی سے بے چین تھی، والدہ نے اسے اپنی طرف کندھے میں ہاتھ ڈال کر سہارا دیا ہوا تھا، اور شاید کسی چیز یا گتے سے دلہن کو ہوا جھل رہی تھیں، مجھے خوشی ہوئی کہ ہماری اماں کے دل میں اپنی بہؤ کے لئے بہت پیار امڈ رہا تھا، دعاء یہی کر رہا تھا کہ ھمیشہ ان کے دل میں اسی طرح اپنی بیٹی کی طرح پیار اور محبت قائم رہے، رات کے تقریباً ڈھائی بجے ہم اپنے گھر پر پہنچے، تو کچھ سکون ملا لڑکیاں تو دلہن کو لے کر دلہن کے سجے سجائے کمرے میں لے گئیں، اور میں اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ محو گفتگو رہا، اور اب تک میں نے اپنی دلہن کی شکل تک نہیں دیکھی تھی، !!!!

زادیہ بھی دلہن کے کمرے میں دلہن کے ساتھ مصروف گفتگو تھی، مجھے یہ بعد میں ہی پتہ چلا کہ زادیہ منگنی سے لے کر رخصتی تک زیادہ تر دلہن کے ساتھ ہی رہی تھی اور اس نے میری عادتوں کے بارے میں تفصیل سے میری دلہن کے گوش گزار کردی، ساتھ یہ بھی کہا کہ “تم بہت ہی خوش قسمت ہو کہ تمھیں ایک بہت ہی پیار اور محبت کرنے والے شوھر کے ساتھ ساتھ ایک بہتریں دوست مل رہا ہے،“ میرے کیا کیا شوق ہیں، مجھے کھانے میں کیا کیا پسند ہے، اور مجھے کس طرح وہ اپنے دل میں بٹھا سکتی ہے، زادیہ نے اپنی ہر ممکن کوشش کی کہ میری دلہن کو میرے مزاج کے بارے میں ہر چیز واضع کردی تاکہ مجھے سمجھنے میں اور میرے دل میں جگہ پانے کیلئے اسے کوئی مشکل پیش نہ آئے، میری بیگم نے یہ ساری تفصیل مجھے بعد میں بتائی کہ “ہم دونوں میں جو ایک اعتماد اور ایک دوسرے پر بھروسہ، پیار اور محبت ہے، اسکا سہرا زادیہ کے سر ہی جاتا ہے“، انہوں نے اس بات کا بھی اضافہ کیا کہ، “پہلے یہ شک بھی ہوا تھا، کہ کیا وجہ ہے کہ جو خوبیاں آپکی مجھے یہ بتا رہی ہے، اور مجھ پر ہی اتنا اس نے یہ کرم کیوں کررہی ہے، مجھے تو زادیہ نے آپ کے متعلق اتنا کچھ بتا دیا تھا کہ ایسا لگتا تھا کہ میں اور آپ ایک دوسرے کو برسوں سے بہت اچھی طرح جانتے ہیں، مگر مجھے یہ بھی تعجب ہوا کہ پھر کیا وجہ تھی کہ زادیہ نے آپ کو حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی، ایسا لگتا تھا کہ وہ آپ کو بہت چاہتی تھی، اور آپ کو پانے میں ناکام رہی، اور اب صرف وہ چاہتی تھی کہ آپ کی زندگی میں کوئی بھی غم نہ آئے، اور ہمیشہ خوش رہیں“،!!!!!!

شادی کے دوسرے دن دلہن کے گھر والے صبح پہنچ گئے، اور ان کیےیہن بھائی اور خالہ زاد ماموں زاد بہنیں بھی ساتھ تھیں نے، سب نے مجھے اس دن بہت اچھی طرح سے دیکھا، گپ شپ کی اور بہت ہی خوش ہوئیں، انکے چھوٹے بہن بھائی بھی بہت خوش تھے، اور میں بھی سب کے ساتھ خوب گھل مل گیا تھا اس لئے کوئی بھی اجنبیت محسوس نہیں ہو رہی تھی، دلہن کی خاص سہیلی بھی ان کے ساتھ ہی آئی تھیں، وہ بھی اپی سہیلی سے مل کر بہت خوش ہوئی، کیونکہ دلہن بہت خوش اور سب سے خوب ھنس ھنس کر باتیں بھی کررہی تھیں، ان سب کے آنے سے پہلے ہی زادیہ نے دلہن کو اچھی طرح تیار کیا تھا، اور مجھے بھی محترمہ نے ہدایت کی کہ فوراً تیار ہوجاؤ، کیونکہ دلہن کے گھر والے آتے ہی ہونگے،!!!!!!!

زادیہ بھی گھر میں سب کی دادی اماں بنی ہوئی تھی، اور ہر بات میں روک ٹوک کر رہی تھی، کافی ھدایتیں بھی دیتی جا رھی تھی، سارے گھر پر ہی اس کا رعب چل رہا تھا، اور ساتھ سب اس کی تابعداری بھی کر رہے تھے، کیونکہ اس شادی کے ہر کام کی ذمہ داری ہمارے اباجان نے زادیہ ہی کے سپرد کی ہوئی تھی اور والد صاحب کی طرف سے خاص حکم بھی تھا کہ سارے انتظامات زادیہ ہی کے ھدایت پر ہونے چاہئے، اور اگر میں بھی کوئی کسی کام کیلئے اپنے گھر میں کسی سے کہتا تو یہی جواب ملتا کہ زادیہ سے پوچھ لو، اور پھر کیا مجھے خود ہی وہ کام کرنا پڑتا، میں نہیں چاہتا تھا کہ میں کسی کام کیلئے زادیہ کو کہوں، اور اگر اسے یہ پتہ چل جاتا کہ اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام ہوا ہے تو وہ شور مچادیتی !!!!!!

آج شام کو ولیمہ کی دعوت تھی، میرے چھوٹے بھائیوں اور دوستوں نے تمام باہر کا انتطام سنبھالا ہوا تھا، اور گھر کے اندر کا کام زادیہ کی ہی نگرانی میں ہورہا تھا، اور اس نے ہی شام کے ولیمہ کیلئے دلہن کو تیار کیا تھا اور دن بھر وہ بار بار دلہن کے پاس آتی جاتی رہی، مجھے تو اس نے سارے دن دلہن سے کچھ بات چیت بھی کرنے نہیں دیا اور مجھے جب بھی موقع ملتا میں اپنی دلہن کے سامنے بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگ جاتا لیکن زادیہ مجھے اپنی دلہن کے پاس بیٹھنے ہی نہیں دیتی تھی، پتہ نہیں اسے کیسے پتہ چل جاتا تھا فوراً ہی مجھے بھگا دیتی اور کہتی کہ “ابھی پوری زندگی پڑی ہے باتیں کرنے کیلئے، جاؤ نیچے بہت کام ہیں، آج پتہ نہیں تمھیں کیا کیا انتظامات کرنے ہیں،“ مجھے غصہ تو آتا تھا لیکن کسی مصلحت کی وجہ سے خاموش ہو جاتا، زادیہ کی والدہ میرا ساتھ دیتی تھیں، ملکہ باجی تو اپنے چچا کے پاس ابوظہبی میں ہی تھیں،!!!!!!!

مجھے آج باجی کی بھی یاد آرہی تھی، کاش آج وہ ساتھ ہوتیں تو میری اس شادی کی تقریب میں شریک ہوکر کتنی خوش ہوتیں، کیونکہ میں نے ایک دن ان سے وعدہ بھی کیا تھا کہ میں تمھارے بغیر کبھی سہرا نہیں باندھوں گا، لیکن افسوس کہ میں ان سے کیا ہوا اس وعدہ کا مان نہ رکھ سکا تھا، آج کے ولیمہ کے لئے بقول میرے بھائی اور دوستوں کے سب تیاریاں مکمل تھیں، اور مجھے کہا گیا کہ کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ادھر والد صاحب بھی ساری تیاریوں کی دیکھ بھال کررہے تھے، گھر کے سامنے دو حصوں میں شامیانہ لگ رہا تھا ایک میں کھانے کا بندوبست تھا اور دوسرے میں مہمانوں کے بیٹھنے کا انتطام تھا، اور ایک شامیانہ گلی میں لگایا گیا تھا، جس میں عورتوں کے بیٹھنے کے لئے اھتمام تھا، اور ایک چھوٹا سا اسٹیج بھی تھا شاید دلہن کے رونمائی کے لئے ہو،!!!!!

مجھے بھی حکم مل گیا کہ شام ہونے سے پہلے تیار ہوجاؤں، اور آج کیلئے ایک سفاری سوٹ کا انتظام تھا، میرے وقفے وقفے سے دوست ملنے آتے رہے اور انتظامات کی تیاری میں مدد بھی کرتے رہے گھر تو روشنیوں سے ایک ھفتے پہلے ہی سے روشنیوں سے جگمگا رہا تھا، آج شامیانے نے ایک اور رونق کا اضافہ کردیا تھا، شامیانے میں بھی کرسیاں ایک قرینے اور ترتیب سے لگ چکی تھیں اور روشنی کا بھی خاص انتظام تھا، ایک طرف کھانا بھی پک رہا تھا، والد صاحب کے ایک دوست نے خاص طور سے اسپیشل حیدرآبادی پکوان بنوانے والوں کو بلوایا ہوا تھا، بقول انکے کہ ہر کھانے کا ذائقہ بھول جاؤ گے، اگر یہ پکوان کھا لیا تو، میں نے احتیاطاً پوچھ ہی لیا کہ بھئی آج کے کھانے میں کیا کیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ میاں آج حیدرآبادی مغلئی پکوان پک رہا ہے، جس میں کچے گوشت کی دم کی بریانی، بادامی قورمہ، بگھارے بیگن، لوکی کی کھیر، خوبانی کا میٹھا، اور اسپیشل حیدرآبادی رائتہ ساتھ رنگ برنگی سلاد کے علاؤہ بھی بہت کچھ ہے، !!!!!!!

شام ہونے والی تھی میں تمام انتظامات سے مطمئین ہو کر اپنی تیاری میں لگ گیا، نہا دھوکر سفاری سوٹ پہنا، اچھا لگ رہا تھا، میں نے سوچا کہ اپنی دلہن کو ذرا اپنا چہرہ تو دکھا دوں، بڑی مشکل تھی، نہ جانے زادیہ کون کوں سے جنم کے بدلے رہی تھی، اُوپر مجھے جانے ہی نہیں دیتی تھی، ساری دنیا اوپر نیچے جارہی تھی مگر میرے لئے تو اس نے کرفیو لگایا ہوا تھا، لگتا تھا کہ اس نے میرے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑے ہوئے تھے، جیسے ہی میں اوپر دلہن کے کمرے میں جانے کی کوئی کوشش کرتا تو فوراً زادیہ نہ جانے کہاں سے آ ٹپکتی اور مجھے اشارے سے واپس جانے کے لئے کہتی، مجھے مجبوراً واپس ہونا پڑتا، اس بار میں نے کہا کہ اب تو جانے دو شام ہوگئی ہے،!!!اس نے جواب دیا کہ، نا، نا، نا، دلہن اب تیار ہونے جارہی ہے، اس لئے اب تو سب کا داخلہ بند، آپ واپس جا سکتے ہیں اور ویسے آج ماشااللٌہ آپ کچھ زیادہ ہی اسمارٹ لگ رہے ہیں،!!!! اور یہ کہہ کر دروازہ اندر سے بند کردیا اور جتنے بھی دلہن کے کمرے میں موجود تھے سب کو وہ پہلے ہی کمرے سے باھر بھیج چکی تھی،!!!!

بہت ہی سخت دل ہے، میں یہ کہتا ہوا نیچے سیڑھیوں سے اترنے لگا، سامنے انکی امی نے مجھے گھیرلیا اور پھر ماشااللٌہ کہتے ہوئے بلائیں لینے لگیں اور حسب عادت ماتھے پر پیار کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں، وہ زیادہ تر میری والدہ کے ساتھ ہی بیٹھی رھتیں اور دونوں نیچے فرش پر دری بچھائے چھوٹے موٹے ہاتھ سے کام کرتی ہوئیں آپس میں گپ شپ کرتی رہتیں، مجھے خوشی بھی ہوئی کہ کتنے عرصے بعد یہ دونوں آج پھر اسی طرح سے ھنسی خوشی بات کررہی ہیں، وہ ویسے بھی بھی بہت دکھی تھیں، ایک بڑی بیٹی ابوظہبی میں اور شوھر کا ساتھ نہیں رہا، چھوٹی بیٹی کے غم کو سینے سے لگائی ہوئی تھیں، ان کا ایک بہت بڑا ارمان تھا کہ کاش انکی زادیہ کی شادی میرے ساتھ ہوجاتی، اس کا انہیں بہت ہی ایک دلی صدمہ تھا کہ حالات کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ اپنی اس خواھش کو پائےتکمیل تک نہ پہنچا سکیں،!!!!!!!

زادیہ کی والدہ مجھے بچپن سے ہی بہت چاھتی تھیں اور زادیہ کی نانی جان جب تک وہ حیات تھیں، مجھ پر تو وہ جان چھڑکتی رہیں، اور اکثر وہ تو زادیہ کو میری مناسبت سے چھیڑتی بھی تھیں، وہ بچپن کی یادیں اب کہیں بہت دور تنہائیوں کے ساتھ ہی گم ہوچکی تھیں، اب مجھے اس بچپن کی یاد اسی وقت آتی ہے جب میں پاکستان جاتا ہوں اور اس اپنے پرانے محلے کی طرف اپنے کسی پرانے دوستوں سے ملنے جاتا ہوں، اب تو میری شادی ہوچکی تھی اور میری بیگم نے میرا اتنا خیال رکھا، کہ میری ہر ضرورت میرے خیالات، مجھے کیا پسند ہے، ان سب کا شروع دن سے ہی اپنے خلوص اور محبت سے میرا دل جیت لیا، تمام تر ان کی خدمات میرے عین مزاج کے مطابق ہی ہوتی تھیں، مجھے تعجب بھی تھا کہ یہ دلہن تو میرے بالکل عیں توقعات سے بھی زیادہ خوب تر نکلی، کبھی اس نے مجھے کسی شکایت کا موقع نہیں دیا،!!!!!!

بعد میں مجھے میری بیگم نے ساری تفصیل بتائی تھی کہ جب تک زادیہ ان کے پاس رہی، اس نے میرے متعلق تمام حالات، عادات و اطوار سے مکمل آگاہی کردی تھی کہ وہ میرے مزاج کو سمجھتے ہوئے میرا کس ظرح خیال رکھے گی، میری ہر اچھی بری عادت کی شناخت کرادی تھی، اس نے ایک قسم کی ٹریننگ دے دی تھی اور واقعی وہ اس میں کامیاب بھی رہی اور میں اسکا بہت ہی ممنون ہوں اور اسکا یہ احسان میں زندگی بھر نہیں اتار سکتا، جس طرح اس نے میری خوشیوں کو میری جھولی میں ڈال دیا ہے کہ آج تک میرے دل سے اس کیلئے دعائیں ہی نکلتی ہیں، میری بیگم کو میری اس تمام کہانی کے بارے میں پوری طرح علم ہے، میں نے بھی اپنی بیگم سے پرانی کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی اور انہوں نے آج تک کبھی بھی کسی بات کو دل پر نہیں لیا، اور برا نہیں مانا، اب بھی اکثر کوئی پرانا ذکر چھڑتا ہے تو وہ مجھ سے ضرور پوچھتی ہیں، کہ کہیں زادیہ تو یاد نہیں آرہی،!!!!!!

ولیمہ کی تیاری بڑے زور شور سے جاری تھی، ہماری گلی کے ہر فرد نے اس تیاری میں خوب مدد کی اس کے علاوہ والد صاحب کے تمام مسجد اور دفتر کے ساتھی بھی ساتھ ساتھ ہر ممکن پوری اور صحیح طرح انتظامات کی دیکھ بھال میں لگے رہے، اور ساتھ ہی چھوٹے بھائی کے دوست بھی بالکل آگے آگے ہر کام میں پیش پیش تھے، گھر کے اندر تو زادیہ نے اپنی ہر ممکن کوشش کی اور کوئی بھی کسی قسم کی پریشانی نہیں آنے دی اور تمام گھر کی اور محلے کی لڑکیوں نے زادیہ کے ہر حکم پر خوب محنت سے کام کیا، جتنے بھی لوگ تھے سب ایسا لگتا تھا کہ سب اپنے قریبی رشتہ دار ہیں، ساری تیاریاں ہوچکی تھیں بس اب دلہن والوں کا انتظار تھا، ہماری طرف کے تقریباً سارے مہمان تو آچکے تھے، !!!!!

عشاء کے کچھ دیر بعد ہی پنڈال کے سامنے ہی ایک بس آ کر رکی اور اس میں سے سب چھوٹے بڑے مرد حضرات، زرق برق لباس میں ملبوس بچے بچیاں اور لڑکیاں ساتھ بڑی بوڑھی عورتیں بھی لکڑی ٹیکتی ہوئی بس سے اتریں اور سب کا میرے بھائی، میں خود اور والد صاحب ہی استقبال کررہے تھے اور ساتھ ساتھ سلام دعاء بھی کہہ رہے تھے، اور سارے آنے والے زیادہ تر مجھے ہی دیکھ رہے تھے، ایک بڑی بی میرے نزدیک یہ کہتی ہوئی آئیں ارے بھئی ھٹو،!!! مجھے بھی تو دیکھنے دو ھماری بٹیا کس لڑکے سے بیاھی گئی ہے، اپنے موٹے موٹے چشموں میں سے مجھے دیکھا اور کہا کہ ماشااللٌہ شکل سے تو ٹھیک ٹھاک ہی لگتا ہے، اللٌہ ہماری بٹیا کو خوشیاں دکھائے اور دعائیں دیتی ہوئی آگے بڑھ گئیں، میں اس وقت ان کے رشتہ داروں کو صحیح طرح پہچانتا نہیں تھا، کوئی کہتا ارے مجھے پہچانا، میں بس ہاں میں ہاں ہی ملا دیتا تھاَ!!!!!!

دفتر کے مہمان زیادہ تر کچھ اپنی ہی گاڑیوں میں اور کچھ بسوں اور رکشہ ٹیکسیوں میں پہلے ھی پہنچ چکے تھے، اور سب دفتر کے دوست احباب تو دونوں ہی کی طرف سے مدعو تھے، یہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ شادی دفترمیڈ تھی یعنی اس شادی کی کوششوں میں تمام دفتر والوں ‌کا ہاتھ تھا، کیونکہ ہم دونوں کے والد اور مجھ سمیت دلہن کے بھائی بھی اسی کمپنی میں سروس کرتے تھے، اور یہ ایک اتفاق تھا کہ میرے سسر میرے ساتھ اسی کمپنی میں سعودیہ میں تھے، اور میرے والد اور دلہن کے بڑے بھائی کراچی میں ایک ہی ساتھ اسی کمپنی کے ڈویژنل آفس میں کام کرتے تھے، جس کا کہ ایک بہت اچھا ماحول تھا اور مجھے اس بات پر فخر بھی تھا کہ سعودیہ میں یہ پاکستانی کنسٹرکشن کمپنی خود ہی کفیل تھی اور ویزے بھی اسی کمپنی کے نام سے جاری ہوتے تھے، اور اس کمپنی کے پاس خود ہی لوگوں کو سعودیہ بھیجنے کے ساتھ ساتھ لائسنس کا اختیارنامہ بھی تھا،!!!!

ارے پھر کدھر میں آفس کی باتیں لے کر بیٹھ گیا، سارے مہماں تقریباً آچکے تھے ساتھ کافی تحفے تحائف بھی تھے کچھ تو سلامی کے نوٹ لفافے میں رکھ کر بھی دے رہے تھے، کچھ لوگ مجھے بھی پکڑا رھے تھے، لفافے تو میں خود ‌اپنی جیب میں رکھ رہا تھا اور عورتین دلہن کے ساتھ بیٹھی ہوئی میری بہنوں‌کو دے رہی تھی، یہاں بھی کافی مہمان آئے تھے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کھانا کم نہ پڑ جائے، مگر جنہوں نے انتظام کیا ہوا تھا انہوں نے یہ یقین دلادیا تھا کہ فکر نہ کریں اوٌل تو کھانا کم نہیں پڑے گا اور اگر خدانخواستہ کم پڑجائے تو ایمرجنسی کھانے کا بھی انتظام ہے، ایک نئے اسٹائیل اور حیدرآبادی ذائقہ کے ساتھ یہ کھانا لوگوں کو بہت پسند ایا، مگر چند ایک قورمے اور بگھارے بیگن میں تمیز نہ کرسکے، انہوں نے بگھارے بیگن کو چن چن کر بوٹیاں سمجھ کر ڈال لیں اور جب دیکھا کہ یہ تو بیگن ہیں ‌تو بہت شرمندگی بھی ہوئی، بہرحال خیرخیریت سے ولیمے کی یہ دعوت اختتام کو پہنچی، اور پھر آھستہ آھستہ لوگ اپنے اپنے گھروں کے لئے رخصت ہونے لگے، !!!!!

آخر میں میرے کچھ خاص دوست ہی باقی رہ گئے تھے، اور ہم سب خالی پنڈال میں ہی کرسیوں پر بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے، اور کچھ بچے بھی وہیں روشنی کی وجہ سے کھیلتے ہوئے دھما چوکڑی مچائے ہوئے تھے، اور بھائی اور ان کے دوست سب ڈیکوریشن کا سامان کراکری سنبھالنے لگے، ساتھ ہی ڈیکوریشن کے بندے بھی اپنی کرسیاں اور شامینے میں لگی ہوئی تمام چیزیں اکھٹا کررہے تھے، آدھی رات ہونے کو تھی، دوستوں نے بھی اجازت لی اور میں گھر میں گھسا، وہاں ابھی بھی عورتوں کی محفل لگی ہوئی تھی، کچھ تو خاص کر باتیں سننے کیلئے ہی بیٹھی تھیں کہ دلہن کے گھر والوں نے کیا جہیز دیا، کتنا سونا لڑکی کو چڑھایا، اور آج دولہا دلہن کو سلامی میں کتنا مال ملا اور جب تک سارے تحفے کھل کر دیکھے نہ گئے ان ھمدرد عورتوں نے جان نہیں چھوڑی، اور ساری کہانی سمیٹتی ہوئی بڑی مشکل سے گھر سے نکلیں، دلہن اُوپر ہی میری بہنوں اور ان کی سہیلیوں کے ساتھ ان عورتوں کے جھنجھٹ سے الگ تھلگ گپ شپ میں مصروف تھیں، لگتا تھا کہ بہت خوش ہے، مجھے دیکھتے ہی دلہن کچھ خاموش سی ہوگئی، میں بھی ان سب کے ساتھ گپ شپ میں لگ گیا اور خوب ھنساتا رہا،اور زادیہ تو اتنی تھک چکی تھی کہ وہ دلہن کے برابر والے کمرے میں ہی سو گئی تھی، اسکے ساتھ اور بھی لڑکیاں جو پورے دن کی تھکان کی وجہ سے بے خبر سورہی تھیں،!!!!!

اتنے میں والدہ آئیں اور مجھے سلامی کے پیسے ایک پوٹلی میں باندھ کر تھما گئیں، جب میں نے دیکھا کہ یہ کیا اس میں تو نوٹ شاید سلامی کے اکھٹا کئے ہوئے تھے، میں کیا کرتا واپس ہی ان کو دینے نیچے گیا تو ایک دو عورتوں کی باتیں سننے کو مل گئیں، ایک کہہ رہی تھی کہ ارے سیٌد کی اماں!!! تمھارا دماغ خراب ہے جو ساری سلامی دلہن کو دے آئیں، یہ تو تمھارا حق ہے، دیکھو ابھی سے اگر تم کنٹرول کروگی تو اچھا ہوگا ورنہ تو تمھاری بہو سب کچھ سمیٹ کر تمھارے بیٹے سمیت یہ جا اور وہ جا،!!!!!!! میں نے دل میں یہ سوچا دیکھو آج دلہن کو آئے ہوئے دوسرا دن ہے اور باھر کی عورتوں نے والدہ کے کان بھرنا شروع کردیئے، جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوا اور میں نے ان خاتون کو گھور کر دیکھا تو فوراً ہی وہی بڑی بی نے اپنا برقعہ سنبھالا اور والدہ سے اجازت لیتی ہوئی اپنا راستہ لیا،!!!!!!

نیچے کمرے میں سارے تحفے تحائف بکھرے ہوئے تھے، اور جو عورتیں باقی بچ گئی تھیں، انہوں نے بھی مجھے دیکھ کر وہاں سے کھسکنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی، میں نے سارے پیسوں کی سلامی والی پوٹلی اور جو میری جیب میں بھی تھے وہ سب نکال کر والدہ کو دے دئے، اتنے میں والد صاحب بھی باہر کے تمام کاموں سے سے فارغ ہوکر گھر کے اندر آگئے وہ بھی بہت تھکے ہوئے تھے، مگر خوش بہت تھے کہ سارے کام ان کی خواھش کے مطابق ہی ہوگئے، مجھے بھی خوش دیکھ کر میری پیٹھ تھپ تھپائی اور دعائیں دیں، انکے پیچھے میرے چھوٹے بھائی بھی داخل ہوئے اس نے بہت ہی کام کیا تھا سارے باہر کا انتظام اسی کے ہاتھ میں تھا اور بخوبی سارے کام کامیابی سے نبٹ چکے تھے، اس میرے بھائی نے میرا بہت ساتھ دیا، یہ میری دو چھوٹی بہنوں کے بعد تھا اور ہر وقت میرا اور اپنی بھابھی کا بہت خیال رکھتا رہا، !!!!

سب تھکے ہوئے تھے، سب باری باری جہاں جس کو جگہ ملی سو گیا، میں بھی اپنی دلہن کی طرف اپنے کمرے میں چل دیا، اور وہاں پر اب بھی میری سب سے چھوٹی بہنیں اپنے بھانجے سمیت اپنی بھابھی کے ساتھ محو گفتگو تھیں، اور انکی بھابھی بھی انہیں کوئی شہزادی کی کہانی بہت پیار سے سنا رہی تھی، مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی بھی ہوئی کہ اس گھر میں دلہن کی شروعات بچوں کے ساتھ ایک پیار محبت کی کہانی سے ہی شروع ہونے جارہی تھی، اور ایک بھولی بسری یادوں کی ایک کبھی نہ بھولنے والی کہانی اختتام کو پہنچ چکی تھی !!!!!!!

زادیہ ایک بہت ہی بہادر اور صبر اور تہمل کے کردار کی مالک تھی، اور انہوں نے ھمیشہ اپنوں اور دوسروں کے لئے بھی اپنی خوشیاں قربان کی ہیں، اور کسی کو یہ احساس بھی نہیں دلاتی تھیں، کہ وہ کسی کی کوئی مدد کررہی ہیں یا کوئی احسان کرنے والی ہیں، بعد میں حالات ہی اس قسم کے ہوگئے تھے، اور انہوں اپنی چھوٹی فیملی ساتھ بہت سے مشکل وقت دیکھے تھے لیکن کسی پر اپنی پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا، والد کا انتقال ہوا اور 6 مہینے سرطان کے موذی مرض سے وہ لڑنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے، انکی خدمت اس بیماری میں لازمی بات ہے ان تینوں ماں بیٹیوں نے ہی کی ہوگی، بعد میں زادیہ نے مجبوراً اپنے گھر کی بہتری کے لئے شادی بھی کی، اور اس میں دھوکہ کھایا، اور بات طلاق تک پہنچ گئی تھی،!!!!

گھر کو چلانے کیلئے دونوں بہنوں نے سروس کرلی، بعد میں زادیہ کی دوسری شادی ہوئی، اور پھر بڑی بہن کی بھی شادی ہوگئی، اور دونوں کو اچھے محبت کرنے والے شوھر اور سسرال ملے، مگر اولاد سے دونوں محروم رہیں، بڑی بیٹی نے اپنی نند کی بیٹی کو گود لیا، ان دونوں کی شادی کے بعد میرا صرف باجی سے ہی کچھ ہی عرصہ رابطہ رہا، میں اور میری شریک حیات، ملکہ باجی کے گھر جاتے رہے اور اس وقت انکی والدہ باجی کے ساتھ ہی رہتی رہیں، انکے دونوں داماد بہت اچھے نفیس انسان اور خلوص و محبت والے ہیں اور سسرال بھی اچھی ملی تھی، لیکن ان کی والدہ نے باجی یعنی انکی بڑی بیٹی کے پاس ہی رہنا پسند کیا، جب میں نے دیکھا کہ اب دونوں زادیہ اور انکی باجی اپنے اپنے گھر میں خوش ہیں، تو میں نے بار بار باجی کے گھر میں جانا مناسب نہیں سمجھا اور آہستہ آہستہ باجی کے یہاں جانا بہت کم کردیا، سال دو سال میں کبھی چلاجایا کرتا تھا، ہمارے تین بچوں کے بعد ہم میاں بیوی بھی کچھ مشکلات کا شکار رہے، کئی ناگہانی پریشانیوں نے آگھیرا، تو باجی کے یہاں جانا بھی ختم ہوگیا، آخری خبر ایک دوست نے مجھے دی کہ انکی والدہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہیں، میں یہ خبر سنتے ہی باجی کے گھر پہنچا، واقعی وہ بہت بہکی بہکی باتیں کررہی تھیں، ان سے مل کر مجھے بہت دکھ ہوا، مگر انکے داماد نے انکو اپنے ساتھ رکھا اور انکی بہت خدمت کی، میرے باہر ہی رہنے کی وجہ سے اور کچھ ایسی مصروفیات زیادہ بڑھ گئی، وقفہ وقفہ سے بھائی بہنوں کی شادیوں کی تیاری اور دوسرے معاملات میں اتنا مصروف رہا کہ ان سے بعد میں رابطہ نہ ہوسکا، آخری خبر مجھے اپنے ایک رشتہ دار سے یہ ملی کہ انکی والدہ کی حالت کچھ زیادہ اتنی بگڑی کہ مجبوراً والدہ کو ایدھی سینٹر میں داخل کرنا پڑا، وہ کافی عرصہ تک بڑی بیٹی کے پاس رہی تھیں مگر نہ جانے ایسی کیا وجوھات تھیں کہ انہیں یہ قدم اُٹھانا پڑا تھا،!!!

اللٌہ تعالیٰ انکی والدہ محترمہ کو صحت اور تندرستی دے اور ان کی دونوں بیٹیوں کو اپنے اپنے گھروں میں خوشیاں دکھائے، آمین!!!!
ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــ

جاری ہے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (25-11-10)
پرانا 25-11-10, 05:16 PM   #48
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! پہلے حصے کا اختتام،!!!!

واقعی یہ کل کی ھی بات لگتی ہے، ریاض شہر میں مئی 1978 کے شروع میں آیا تھا جب میری شادی بھی نہیں ہوئی تھی، ایک سال پہلے تک اسی شہر میں تھا اب جدہ میں ہوں اور اس وقت میرے پانچ جوان بچے ہیں، جن میں سے بڑے دو بچوں کی شادی بھی ہوچکی ہیں،

مجھے تو اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک پل کی طرح میری زندگی گزرگئی، اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا، اس بات سے ہم یہ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری زندگی ایک پانی کے بلبلہ کی طرح ہے اور ہمیں یہاں پر اس دنیا میں ایک امتحان سے گزرنا ہے، اصلی مقام تو ہمارا اُوپر ہے، اور اوپر ایک اچھا مقام حاصل کرنے کیلئے تیاری ہمیں اس دنیا میں ہی کرنی ہے، جیسے اعمال ہونگے ویسا ہی مقام ملے گا، اور تیاری ہمیں اسی زندگی کے بلبلہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی کرنی ہے،!!!!

آج میں یہ سوچتا ہوں کہ میری زندگی تو لگتا ہے کہ ایک پلک جھپکتے میں ہی گزر گئی اور میں اپنے ماضی کی طرف دیکھتا ہوں، کہ میں نے کیا کھویا اور کیا پایا، کاش مجھے کچھ اور محلت مل جاتی، مگر اب کیا ہوسکتا ہے، وقت تو گزر گیا، بس امتحان کا وقت اب ختم ہوا چاہتا ہے،؟؟؟؟؟؟

اور ہمیں جو اُوپر اصلی مقام حاصل کرنے کیلئے اس دنیا میں جس امتحان کی تیاری کرنی ہے وہ ہم سب بہت بہتر طریقے سے جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے،!!!!!

انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے، اور جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس میں اُوپر والے کی مرضی ہی شامل ہوتی ہے، !!!!!

جیساکہ لوگ کہتے ہیں کہ جوڑے اسمانوں پر بنتے ہیں، اور اُوپر والا جو بھی کرتا ہے، اس میں کچھ بہتری ہی ہوتی ہے، اس کے علاؤہ میں سمجھتا ہوں کہ والدین کی رضامندی اور ان کی خواھش کے آگے سر جھکا دینا ہی عقلمندی ہے، انہیں ناراض کرکے کوئی قدم اٹھانا سراسر بےوقوفی ہے، ان کی دعائیں ہی آپ کی زندگی میں خوشیاں لاسکتی ہیں،!!!!

میری زادیہ کی شادی اسی صورت میں ممکن تھی کہ میں اپنے گھر سے علیحدہ ہوجاتا، کیونکہ ان کا اللٌہ کے سوا اور کوئی سہارا بھی نہیں تھا، اور میرے والدیں کو اسی بات سے ہی ڈر تھا کہ میں ان سے جدا نہ ہوجاؤں، ہوسکتا تھا کہ میں اپنی مرضی ہی کرتا، اور آخر تک میں یہی چاھتا بھی تھا کہ کسی بھی طریقے سے مجھے زادیہ کا قرب حاصل ہوجائے، لیکن ہر دفعہ مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور حالات نے بھی ہر دفعہ کچھ ایسے موڑ لئے کہ آخرکار مجھے مجبوراً والدین کے فیصلے کو ہی قبول کرنا پڑا، اور اب اللٌہ کا شکر ہے کہ میری ایک چھوٹی سی خوشحال فیملی میری جنٌت میرے ساتھ ہے اور ہم بیوی بچے سب ماشااللٌہ بہت ہی زیادہ خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہیں،!!!!!

ایک وقت وہ تھا کہ دلہن کو آخر تک کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی آج کی طرح دلہن کو نکاح کے بعد پنڈال میں دولہا کے ساتھ منہ کھول کر بٹھایا جاتا تھا، اور نہ ہی ولیمہ کے دن اور نہ کوئی موؤی وغیرہ کا زمانہ تھا بس کیمرہ سے تصویریں ضرور کھینچی جاتی تھیں، اور ایک یادگار کے طور پر ایک البم تیار کی جاتی تھی، اور اب تو وہ رسم و رواج بھی ختم ہوتے جارہے تھے جو کہ ہمارے کلچر سے جڑی تھیں، دولہے دلہن کا سہرا، بینڈ باجا اور وہ شادی بیاہ کے گیت جو لڑکیاں گھر کے اندر بیٹھ کر گاتی تھیں اور علاقائی رقص کرتی تھیں، جہاں مرد حضرات پر مکمل طور پر پابندی ہوتی تھی، اور دلہن کے مائیوں کی رسم کے بعد سے لے کر رخصتی ہونے تک کوئی غیر مرد یا دولہا تک دلہن کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا، اس کے علاؤہ میک اپ صرف گھر کے اندر ہی کیا جاتا اور اُس وقت مائیوں کی رسم کے بعد دلہن کو باہر نکالنا بہت ہی معیوب سمجھا جاتا تھا، !!!!!!

اب تو دلہن پہلے ہی ہر رسم میں مائیوں، مہندی ہو اور شادی ہو یا ولیمہ ہو سب میں بیوٹی پارلر سے میک اپ کرا کے، سج سجا کر گھر کے بجائے سیدھا شادی حال میں پہنچتی ہے، باراتیوں کے بیچ ہی سے میک اپ سے تھپی ہوئی زرق برق لباس میں، چہرہ کھولے ہوئے، سب کو ہاتھ ہلاتی ہوئی سیدھے ڈائس پر جا بیٹھتی ہے، سہرے کا تو ذکر ہی نہیں ہوتا، صرف ایک چھوٹا سا ھار کبھی کبھی گلے میں کافی ہوتا مگر وہ بھی نکال دیا جاتا ہے کہ اس سے جوڑا خراب ہوجاتا ہے، بس اب تو ہاتھوں میں ہی گلدستے لے کر بیٹھنے کا رواج ہے، کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیوٹی پارلر کے میک اپ سے دلہن کا اپنا چہرہ اتنا بدل جاتا ہے، کہ دلہن کی اپنی اصل شناخت بھی ختم ہو جاتی ہے، اور جب دولہا دوسرے دن اپنی دلہن کا منہ دہلا ہوا دیکھتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ کیا اسی سے میری شادی ہوئی تھی، یہ تو وہ نہیں لگتی،!!!!

میری آپ بیتی لکھنے کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ میں اپنی کوئی پبلسٹی چاہتا ہوں، بلکہ میرا اصل مقصد یہ ہے کہ میں اپنی ان اچھائیوں اور برائیوں اور ان کے اچھے برے نتائج کو سامنے لاسکوں تاکہ کوئی بھی شخص اگر بہتر سمجھتا ہے تو اس سے کوئی سبق یا نصیحت حاصل کرسکے، اس کے علاوہ میں اپنے وقت کی قدروں اور اصولوں کی یادھانی کرانا چاہتا ہوں، جنہیں شاید ہم بھولتے جا رہے ہیں، جن میں بذات خود میں بھی شامل ہوں اور جو اس ترقی کے دور میں ہم بہت ہی ایڈوانس اور ماڈرن ظریقوں کو اختیار کرتے جارہے ہیں، یہ بہت اچھی بات ہے کہ ہمیں ان نئی ٹیکنیک اور ایجادات سے فائدہ اٹھانا چاہئے مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے، تمدن کے بنیادی اصولوں کو نہیں چھوڑنا چاہئے، اور اتنا بھی آگے نہیں نکل جانا چاہئے کہ ہم اپنی شرم اور حیا کو بازاروں کی رونق بنا دیں،!!

اور یہ حقیقت ہے کہ اکثر ماڈرن بیوٹی پارلر ایسے بھی ہیں، کہ آپکی اصلی صورت کی شناخت بالکل ہی بدل دیتے ہیں، جب پنڈال میں دلہن سب کے سامنے بیٹھتی ہے تو سب لوگ اپنے ہوں یا پرائے واہ واہ کررہے ہوتے ہیں، اور دلہن ہر ایک کی اچھی بری نظروں کا نشانہ بنتی ہے، بعض اوقات اسی شادی کی مووی مختلف گھروں میں نمائشی طور پر دیکھ کر ہر کوئی خوش ہورہا ہوتا ہے، اور لڑکے ایک دوسرے کے دوستوں کو خاص طور پر لڑکیوں کو دکھانے کیلئے دعوت بھی دیتے ہیں ، ساتھ ہی صرف لڑکیوں اور دلہن پر اچھے اور برے ریمارکس دیئے جارہے ہوتے ہیں، جیسے کسی فیشن شو کا مقابلہ ہورہا ہو،!!!

میں میک اپ کے خلاف نہیں ہوں، مگر میک اپ اتنا ہو کہ آپ کی شکل بدل نہ جائے، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ جو سادگی میں حسن ہے وہ اس میک اپ میں نہیں، جو ایک مختصر سے وقت تک محدود رہتا ہے، مگر سادگی کا حسن ھمیشہ ایک ہی جیسا قائم و دائم رہتا ہے، !!!!

اس وقت میری اپنی فیملی کی خوشیاں ان دنوں کے صبر ہی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے بعد اور بھی بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جو بہت صبر اور تہمل سے وہ دور گزارا، جس کا پھل ہمیں کافی برداشت اور تکلیف کے بعد ملا، ہم دونوں میاں بیوی نے مل جل کر ہر دور میں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کی، اور ایک دوسرے کا ہر دکھ اور سکھ میں ساتھ دیا، اور ہر پریشانی کا بہت اچھی طرح مقابلہ کیا، ورنہ ہمیں تو دنیا والوں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ہمیں الگ کرنے کی، یہ سب اللٌہ تعالیٰ کا کرم اور اسکے پیارے حبیب (ص) کا صدقہ ہی ہے کہ ہر مشکل وقت اور صبرو تحمل کے بعد ہی ہمیں بہت سکون ملا اور دلی راحت نصیب ہوئی، یہ جب آپ میری کہانی کا دوسرا حصہ جو شادی کے بعد شروع ہوگا اسے جب آگے پڑھیں گے تو ہر تفصیل سے آگاہی بھی ہو جائے گی،!!!!!!

میں صرف یہ اپنے پڑھنے والے سے درخواست کروں گا کہ کبھی بھی کسی کے کہنے اور سننے میں نہ آئیں، صرف اپنی بہتری کیلئے اپنے آپ کو ایک دوسرے کا بھروسہ اور اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کریں، یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو آپ کو خوش دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اکثریت اں لوگوں کی ہے جن کا کام صرف یہی ہوتا ہے، کہ دوسروں کی ہنستی بستی زندگی میں نفرتوں کا زہر بھر کر آپس میں اختلافات پیدا کردیں، اور یہ لوگ آپ کے اپنے ہی نزدیکی رشتہ داروں یا اڑوس پڑوس کے ہی مہربانوں میں سے ہوتے ہیں، جو آپکے گھروں میں جھوٹی ھمدردی اور محبت جتا کر آپ سب کا بھروسہ قائم کرتے ہیں اور پھر آھستہ آھستہ اپنا کام ایسا کر جاتے ہیں کہ آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا اور آپ کا ہنستا بستا گھر بربادیوں کے کنارے پر پہنچ جاتا ہے، اور یہی آپکے ھمدرد لوگ آپکی بربادی کے بعد ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ،!!!!!

یہ وہ لوگ ہیں کہ جو نہ تو خود خوش رہتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ سکتے ہیں، آپ ان لوگوں کو بہت اچھی طرح پہچان سکتے ہیں، مثال کے طور پر جب آپ دیکھیں کہ کوئی آپ کے سامنے آپکے ساتھ رہنے والے دوسرے گھر والوں کی برائی کرتا ہے، تو سمجھ لیجئے کہ یہ شخص آپ کا ھمدرد نہیں ہے، اور ہماری ماؤں اور بہنوں کو بھی ان لوگوں سے بچ کر رہنا چاہئے، ان کی سنیں ضرور، لیکن ان کی باتوں پر کان نہ دھریں، ان سے دشمنی بھی اور خطرناک ثابت ہوتی ہے، اس لئے خاموشی سے ہاں میں ہاں ملائیں، اور ان کی کسی بھی برائی کی ظرف توجہ نہ دیں، وہ جب دیکھیں گے کہ ان کے لاکھ کوشش کے باوجود اس گھر میں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا تو وہ خود بخود آپ سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے، !!!

صرف ایک بات جو حقیقت ہے کہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ ہر نئے آنے والے کو بہت مشکل سے خوش آمدید کہتا ہے، اور ہر نیا آنے والا یہ امید رکھ کر آتا ہے کہ اس کی خوب آؤ بھگت ہو، اور اسی طرح ایک دوسرے کی امید پر ہی ایک دوسرے کے قریب جانے سے گریز کرتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تیسرا شخص دونوں کے بیچ میں آکر مزید ایک دوسرے کے درمیان طویل فاصلہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، جس کا کہ کسی کو بھی پتہ نہیں چلتا، پھر زندگی بھر اپنی غلطیوں پر پچھتاتے رہتے ہیں،!!! اب پچھتاوئے کیا ہوت، جب چڑیا چُگ گئی کھیت،!!!!!!

ہر ماں اپنی مامتا کی وجہ سے مجبور ہے، وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس کا بیٹا اب اپنی ماں کے بجائے اپنی بیوی کی طرف زیادہ دھیان دے رہا ہے، اور اس کے یقین کو باہر کے لوگ اور بھی پختگی میں بدل دیتے ہیں، اور بے چاری بہنیں تو معصوم ہوتیں ہیں وہ یہ سوچتی ہیں کہ پہلے بھائی تو ہمیں خوب گھمانے پھرانے لے جاتے تھے، اور جب سے بھابھی آئی ہیں، وہ بھابھی کو اکیلے ہی لے جاتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے، جبکہ ایسا نہیں ہے، وہ اپنے گھر والوں کو بھی وقت دیتے ہیں لیکن کبھی کبھی شادی کے بعد تو میاں بیوی کو ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے کچھ تنہائی کی ضرورت بھی ہوتی ہے، اس لئے گھر ہو یا باہر انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے کیلئے کچھ وقت تو درکار ہوتا ہی ہے لیکن جب بہن کی شادی ہوجاتی ہے تو اسے اس بات کا احساس کچھ کچھ ہوجاتا ہے،!!!!

اور پھر جب بیٹی میکہ میں واپس آتی ہے تو وہی دوسرے لوگ اسے گھیرا ڈال کر کہتے ہیں کہ ارے تم کیا گئی تمھاری بھابھی نے اس گھر پر تو جیسے قبضہ ہی کرلیا، تمھاری اماں کو تو چائے تک نہیں پوچھتی اور دیکھو تمھاری اماں کی کیا حالت ہوگئی ہے، سارا گھر کا کام کرتی ہے، وہ تو نواب زادی عیش کررہی ہے،!!! پھر کیا وہ بہن اپنی بھابھی کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے کہ کوئی بھی بیچ میں صلح صفائی کرنے نہیں آتا اور جب اس گھر کے سپوت گھر پر نوکری کرکے تھکے ھارے گھر آتے ہیں تو وہی بہن اپنی اماں کے سامنے بھابھی کا دکھڑا روتی ہے، اور جب وہ اپنی بیوی کے سامنے جاتا ہے تو وہاں دوسری کہانی شروع ہوجاتی ہے، اب بتائیں کہ بے چارہ شوھر جائے تو جائے کہاں کس کی سنے اور کس کی ان سنی کردے، اباجی بھی اس وقت خاموشی اختیار کرلیتے ہیں،!!!!!!!

اور میں نے کئی خوش قسمت گھرانے ایسے بھی دیکھے ہیں، جو اپنی تمام بہووں اور بیٹیوں کو ایک ساتھ لے کر چلتے ہیں، اس کے علاؤہ سب ایک ہی دستر خوان پر کھانا بھی کھاتے ہیں، ساتھ ہی سب مل جل کر گھر کے تمام کام ہنسی خوشی کرتے ہیں، اور اں کے بڑوں کے ساتھ ہمیشہ بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں،اللٌہ تعالیٰ ہم سب کو مل جل کر رہنے اور ہر ایک کے ساتھ خلوص اور محبت کا سلوک رکھنے کا سلیقہ دے، آمین،،، !!!!

اکثر عورتیں یہ کیوں نہیں سمجھتیں، کہ وہ ایک بہن ہے، بیٹی ہے اور بیوی بھی ہے، ساتھ بعد میں اسے ہی ماں کا اعلیٰ عظمت کا درجہ بھی ملتا ہے، اور ہر ایک رشتہ اپنی جگہ ایک مقدس حیثیت رکھتا بھی ہے، اور اگر ہر کوئی ان رشتوں کے تقدس کو پہچان لے تو کوئی بھی یہ حوا کی بیٹی گھر سے بے گھر نہیں ہوسکتی،!!!!!!!!!

سبحان اللٌہ، یہی تو میں چاہتا ہوں، کہ یہ بات ہر گھر تک پہنچے، کاش کہ لوگ سمجھ جائیں، اور اللٌہ تعالیٰ پر یقین، سنت نبوی کی پیروی اور اپنے ایمان کو پختہ رکھیں، تو کوئی بھی کسی کی بھکائے میں نہیں آسکتا، اور یہی ہماری دنیا میں ہمارا امتحان بھی ہے، مگر لوگ دینی تعلیم کی کمی کی وجہ سے ذہنی انتشار کا شکار ہیں،!!!!

میری یہ شادی بھی بالکل ارینج میریج ہی تھی اور والدین کی مرضی سے ہی ہوئی تھی، اور میں نے کبھی بھی اپنی بیگم کو دیکھا بھی نہیں تھا، اور نہ ہی ہمارے کوئی فیملی تعلقات ان کے ساتھ تھے، بس ایک آفس میں کام کرتے ہوئے ایک دوسرے سے تعلقات پیدا ہوئے، ان کے خاندان اور محلے کے عزیز و عقارب کے رشتے بھی تھے لیکن ان کے والدین نہیں چاہتے تھے، اور اسی ظرح ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی تھا، ہر کوئی میرے ساتھ ہی اپنی بیٹی سے رشتہ کرنا چاہتا تھا، اور اسی طرح میری بیگم کی عادت اور صورت سیرت کی وجہ سے سب ان کے خاندان اور عزیز اقارب بھی یہی چاھتے تھے کہ یہ لڑکی ان کی بہو بنے، اور اللٌہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا،!!!!

میرے ساس سسر بھی بہت محبت کرنے والے تھے اور میرے والدین بھی، اور اس پاک پروردگار کا احسان ہے کہ انھوں نے اپنی لڑکیوں کو ہمیشہ ہی اچھی تربیت دی، اب صرف میری والدہ ہی حیات ھیں اور وہ میری بیگم اور بچوں کو بہت چاہتی ہیں اور ان کی مثالیں دوسروں کو دیتیں ہیں، ہمارے ساس سسر اللٌہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے بہت ہی مخلص تھے، اور ان کی باقی تمام اولاد بھی اسی طرح محبت کرنے والے ہیں، اور ہر مشکل وقت میں ان سب نے ہمارا بہت ساتھ دیا، اور اب تک ہر وقت ہر خدمت کیلئے پیش پیش رہتے ہیں، جن کا میں بہت ہی احسان مند ہوں، اور اسی طرح میرے بہن بھائیوں کی قربانیاں بھی بہت ہیں انہوں نے بھی ہمارا بہت ساتھ دیا ہے، سب لوگ ہمارے گھر والے ہوں یا میری سسرال ہو، ہمارے پاکستان آنے کا بہت بے چینی سے انتظار کرتے ہیں، اور بہت سی تقریبوں کو ہمارے ہی آنے کے شیڈول کے مطابق ہی منعقد کرتے ہیں، یہ سب ان لوگوں کا پیار ہی تو ہے جسے میں کسی قیمت پر بھول نہیں سکتا، !!!!!!!!

میرے والدین اور میرے ساس اور سسر بہت ہی شریف النفس اور پرخلوص انسان رہے ہیں مگر وہ بھی کبھی کبھی کسی نہ کسی کی چکنی اور چپڑی باتوں میں بھی آجاتے تھے، لیکن انہیں بہت جلد یہ احساس بھی ہوجاتا تھا کہ یہ سب بھکاوئے کی ہی باتیں ہیں، وہ جب ہمیں خوش وخرم دیکھتے تو بہت ہی زیادہ خوش ہوتے تھے، اور پھر کسی کی طرف کان نہیں دھرتے، ان کی طرف سے تو ہمیں بہت پیار اور محبت ملا لیکن دشمن زمانہ جو جو اس شادی سے خوش نہیں تھے انہوں نے ہم سب کو بہت تنگ کیا، یہ اللٌہ کا شکر رہا کہ ہم دونوں میں کبھی کوئی اختلاف کسی دوسرے کی وجہ سے نہیں آیا اور ہم نے اپنے اس شادی کے مقدس بندھن کو پیار اور محبت سے ایک مضبوط حصار کے دائرے میں مقید رکھا، چھوٹی موٹی آپس کی نوک جھوک کبھی کبھی چل جاتی تھی، لیکن وہ فوراً ہی ختم بھی ہو جاتی تھی، وہ بھی ایک ہماری ازدواجی زندگی کا حصہ ہے، لیکن لوگوں کے تیر اور نشتر کے شکار ہونے سے ہمیں ہمارے پیار اور محبت کی ڈھال نے ہر قدم پر بچایا، !!!!!

کبھی کبھی ہم دونوں میں کوئی گھریلو بات کی وجہ سے کچھ خفگی ہو بھی جاتی ہے تو ہمارے بچے مل کر ہم دونوں کو خوب ھنسا کر اپنے معصوم حرکتوں سے ہمیں منا بھی لیتے ہیں، اور میں تو کبھی کبھی جب کچھ زیادہ دن تک کوئی ناراضگی نہیں ہوتی تو میں کبھی کبھی بیگم کے ساتھ مذاق کرکے یہ شوق بھی پورا کرلیتا ہوں، اور وہ بھی آخر سمجھ ہی جاتیں ہیں، اور وہ بھی ناراض ہو کر تفریح لیتیں ہیں، مگر میرے بچے واقعی ہر مشکل گھڑی کو بہت ہی پیار اور محبت کے ساتھ سنبھال لیتے ہیں،!!!!

میرا مقصد یہ کہنے کا نہیں ہے کہ بچے اپنی پسند سے شادی نہیں کر سکتے مگر انہیں اپنے والدین کو یہ بھروسہ اور اعتماد دلانا ضروری ہے کہ ان کی پسند کا معیار ہر لحاظ سے زندگی کی ہر کسوٹی پر پورا اترتا ہے، کیونکہ بچوں کو شادی کرکے اپنی ازدواجی زندگی میں خوشیاں سمیٹنی ہوتیں ہیں، والدین کا ساتھ کب تک رہے گا، اور تقریباً ہر والدین یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کی زندگی بہتر سے بہتر ہو،!!!!!!

دنیا میں ایسے بھی ماں باپ ہیں، جو اپنے بچوں کی زندگی کا سودا بھی کرتے ہیں، کہیں جہیز کی لالچ میں اور کہیں تو بزنس میں حصہ کی غرض، تو کہیں بیٹے کو گرین کارڈ حاصل کرنے کا خواب، اور کہیں اسٹیٹس، برابری یا برادری کا سوال، ان سب کو لے کر بھی کئی بچے اپنی والدین کی خواھش کے بھینٹ چڑھ جاتے ہیں،!!! جس کی کہ ہمارا مذہب اسلام اس بات کی اجازت بھی نہیں دیتا،!!!!!

میری کہانی میں بھی میں نے بہت چاہا کہ زادیہ کو کسی طرح بھی اپنا لوں لیکن جیساکہ آپ نے پڑھا کہ حالات اور واقعات نے مجھے موقعہ ہی نہیں دیا اور کہیں کہیں میری بھی کمزوری رہی ہے کہ میں اپنے والدین کے دل میں جو لوگوں نے غلط فہمیاں ڈال دی تھیں، میں ان کو دور کرنے میں بھی ناکام رہا، اور کہیں انکے والد صاحب مرحوم کی طرف سے بھی اتنی پابندیاں ہوگئی تھیں، جس کی وجہ سے ایک اچھا خاصہ وقت ضائع ہو چکا تھا، اور اس وقت جب میں ان سے ملا تو حالات بالکل ہی بدل چکے تھے، اور اب آخری وقت تک میں بھی اسی کوشش میں تھا کہ اگر زادیہ کے شوھر نے طلاق کی جو دھمکی دی تھی، اگر وہ واقعی دے دیتا ہے تو میں اس وقت بھی اس سے شادی کیلئے تیار تھا، لیکن زادیہ اتنی خود دار قسم کی لڑکی تھی کہ اس نے میری اس پیشکش کو ھمدردی اور ایک احسان کا روپ دیے کر انکار کردیا تھا، جسکی وجہ سے میں نے والدین کو اپنے دوست کی بہن کی طرف شادی کیلئے ہاں کہہ دیا کیونکہ میرے پاس اس سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں تھا،!!!!!!!

آپ کو سن کر یہ شاید تعجب بھی ہو کہ میں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کا نکاح ان دونوں کی پسند سے ہی کیا ہے اور مجھے یہ بھی یقین کہ ان کی پسند ایک معیاری حیثیت رکھتی ہے، انہوں نے یہ فیصلہ اپنی پوری زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے اور اس میں ان پر کوئی بھی زبردستی نہیں کی گئی، ساتھ ہی ہم دونوں میاں بیوی کو بھی ان کی پسند پر فخر ہے کہ انہوں نے ہماری توقعات سے بھی زیادہ بڑھ کر یہ فیصلہ کیا ہے،!!!!!

ہماری تو ماشااللٌہ بہت ہی کمال کی زندگی گزر رہی ہے، دیکھیں اب تو تقریباً 32 سال ہوچکے ہیں اور ہم دونوں میاں بیوی کی زندگی خوب مزے سے گزرہی ہے، اور ماشااللہ چار بچوں کے ساتھ، ایک بیٹی اب اپنے دونوں بچوں کے ساتھ پاکستان میں اپنی خوش وخرم زندگی گزار رہی ہے اور ہم یہاں سب بالکل ایک دوستوں کی طرح ہی یہاں رہتے ہیں، اللٌہ نظر بد سے بچائے، دونوں فیملیوں میں ماشااللہ اب تک تو بہت اچھے تعلقات ہیں، بس بزرگوں میں میری والدہ ہی حیات ہیں، اور میرے والد، ہماری ساس اور سسر کا تو انتقال ہو چکا ہے،( اللٌہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے) جو مجھے اور میرے بچوں کو دل و جان سے چاھتے تھے اور بہت سی خوبیوں کے مالک بھی تھے، میرے ساتھ تو میرے سسر نے ایک ساتھ ایک ہی آفس میں کام بھی کیا اور جتنا پیار انہوں نے مجھے دیا میں کبھی بھول نہیں سکتا، وہ ایک عظیم انسان تھے، مجھے اس بات کا بھی فخر ہے کہ میری ساس صاحبہ اور سسر جی اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ، میرے ساتھ میری بیگم اور میرے بچوں کے ساتھ عمرہ اور حج اور روضہ مبارک کی زیارت کی سعادت بھی حاصل کی، اور میں ان کی کچھ خدمت کرنے کا شرف بھی حاصل کر سکا، والد صاحب اپنی زندگی میں ہی، اسی کمپنی کے توسط سے ہی جب سعودیہ میں تھے غالباً 1967 یا 1968 کے دور میں عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کرچکے تھے اور والدہ صاحبہ نے اب تک میرے ساتھ عمرہ ادا کیا ہے اور روضہ مبارک کی زیارت کر سکی ہیں انہوں نے حج کیلئے یہی کہا تھا کہ جب تک انکی آخری بیٹی یعنی میری بہن کی شادی نہیں ہو جاتی وہ حج نہیں کرسکتیں اب اللٌہ کا شکر ہے کہ بہن کی شادی کی ذمہ داری کے فرائض سے اللٌہ تعالیٰ نے فارغ کردیا ھے، اور انشااللٌہ ان کے ویزے کے لئے کوشش جاری ہے، اللہ تعالیٰ جلد ہی ان کے حج کی سعادت کی دعاء قبول فرمائے، !!!!!! آمین،!!!

یہ اللٌہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں تمام ہمارے اور بیگم کے خاندان کے لوگ بمعہ تمام رشتہ داروں کے سب بہت عزت کرتے ہیں، اور میری فیملی کے ساتھ سب لوگ بہت انجوائے بھی کرتے ہیں، اور وہاں پاکستان میں ہم سب کا آنے کا سب لوگ بہت بے چینی سے انتطار بھی کرتے ہیں، اور میں ان سب کا شکر گزار ہوں کہ میری غیر حاضری میں سب میری والدہ کی دیکھ بھال اور میرے بہن بھائیوں کی بھی ہمیشہ خیریت معلوم بھی کرتے رہتے ہیں اور ہمارے گھر کی ہر تقریب شادی بیاہ یا اور کسی بھی تقریب میں خوشی سے حصہ بھی لیتے ہیں اور ہر ممکن مدد بھی کرتے ہیں، ان سب کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ہیں، اور میرا ہر مشکل وقت میں ان سب نے ہر وقت ساتھ بھی دیا ھے،!!!!!!!

میری شادی ہونے تک کی میری اپنی کہانی کو میں نے قلم بند تو کیا ہے، لیکن کہاں تک کامیاب ہوا ہوں یہ سب آپ پڑھنے والے ہی بتا سکتے ہیں،!!!!!

مجھے امید ہے کہ آپ سب پڑھنے والوں کو میری زندگی کی یہ ٹوٹی پھوٹی تحریر جو میرے ذہن کے ایک گوشے میں اپنی بھولی بسری یادوں کو لئے موجود تھی، پسند آئی ہوگی،!!!

اگر میری تحریر میں لکھتے ہوئے کسی قسم کی کوئی بھی غلطی سرسزد ہوئی ہو یا کسی کو میری کسی بھی بات سے دکھ پہنچا ہو تو میں دست بستہ معذرت خواہ ہوں،!!!!

مجھے خوشی ہے اور میں آپ سب کا ممنون و مشکور ہوں کہ آپ سب نے مجھ خاکسار کو میری اپنی تحریروں کے لئے اپنا قیمتی وقت دیا،!!! انشااللٌہ آئندہ میں اپنی شادی کے بعد کی جو بھی اچھی یا بری کہانی ہے، وہ آپ سب کے سامنے پیش کروں گا،!!!! اگر آپ سب کی اجازت ہو تو،!!!!

بہت شکریہ خوش رہیں،!!!!
زندگی کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ابھی جاری ہے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-11-10), منتظمین (25-11-10)
پرانا 12-12-10, 10:25 AM   #49
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بھولی بسری یادیں،!!!!! شادی کے بعد، دوسرا حصہ

سب تھکے ہوئے تھے، سب باری باری جہاں جس کو جگہ ملی سو گیا، میں بھی اپنی دلہن کی طرف اپنے کمرے میں چل دیا، اور وہاں پر اب بھی میری سب سے چھوٹی بہنیں اپنے بھانجے سمیت اپنی بھابھی کے ساتھ محو گفتگو تھیں، اور انکی بھابھی بھی انہیں کوئی شہزادی کی کہانی بہت پیار سے سنا رہی تھی، مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی بھی ہوئی کہ اس گھر میں دلہن کی شروعات بچوں کے ساتھ ایک پیار محبت کی کہانی سے ہی شروع ہونے جارہی تھی، اور ایک بھولی بسری یادوں کی ایک کبھی نہ بھولنے والی کہانی اختتام کو پہنچ چکی تھی !!!!!!!

!!!!!!!

ہر دن کوئی نہ کوئی رسم ہوتی ہی رہتی تھی، اور اسی سلسلے میں تیسرے یا چوتھے روز میرا بھی سسرال آنا جانا رہا، اور وہ بھی اسی طرح گھر آتے جاتے رہے، دوستوں کے یہاں‌، رشتہ داروں میں بھی دعوتوں اکثر اہتمام رہتا تھا، میری چھٹیاں بھی ڈیڑھ مہینے تک ہی تھیں، اور دن بہت جلدی جلدی گزر رہے تھے، زادیہ اور اسکی امی بھی چار یا پانچ دن تک رہیں اسکے بعد ان دونوں نے ہم سب کی اپنے گھر پر دعوت کا کہہ کر گھر والوں سے اجازت لی، ان دنوں میں انہوں نے اپنی کافی خدمات انجام دیں، خاص کر زادیہ نے کچھ زیادہ ہی کیا، وہ تو زیادہ تر دلہن کو ہر رسم کیلئے تیار ہونے اور میک اپ وغیرہ میں مدد کرتی رہی، اور زیادہ تر اپنا وقت دلہن کے ساتھ ہی گزارا اور تمام ہمارے گھر کے طور طریقوں سے روشناس بھی کرایا اور ہر ایک رشتہ دار کا بھی ساتھ ساتھ تعارف کراتی رہی،!!!!!!!

دن بھی بہت جلدی جلدی گزرتے جارہے تھے اور اب ہم دونوں میاں بیوی اپنے اوقات میں بھی آگئے تھے، اور جو بھی جمع پونجی تھی وہ بھی ختم ہونے جارہی تھی، وقت بھی اتنا نہیں تھا کہ مری یا سوات وغیرہ گھومنے جاسکتے، اور کچھ پیسوں کی بھی اتنی گنجائیش نہیں تھی، جبکہ زادیہ نے جاتے جاتے مجھے خاص طور سے مری یا سوات اپنی دلہن کو لے جانے کیلئے بہت زور دے کر گئی تھی، لیکن اسکی یہ خواھش میں پوری نہ کر سکا، جسکا مجھے آج تک افسوس ہے، خیر کراچی میں اپنی بیگم کو جہاں جہاں لے کر جاسکا لے گیا، اور خوب گھومایا پھرایا بھی، اور اسی طرح ہم دونوں میں ایک اچھی طرح سے بھروسہ اعتماد کے علاوہ پیار اور محبت کا جذبہ بھی جاگ اٹھا، اور اتنا پیار بڑھ گیا کہ آخری دنوں میں ایک دوسرے کو ایک پل کے لئے بھی انکھوں سے اوجھل نہیں کر سکتے تھے،!!!!!

جہاں بھی جانا دونوں نے مل کر ساتھ ہی نکل پڑنا، گھر کاسودا لانے اگر وہ میری امی جان کے ساتھ جارہی ھیں تو میں بھی خاموشی سے ان کے پیچھے پیچھے مارکیٹ پہنچ جاتا اور سودا وغیرہ سنبھالنے میں مدد کرتا تھا، میری بیگم بھی ہنس پڑتی، اور اگر جس دن بیگم کو ان کی والدہ یا بہن بھائی اپنے گھر لجاتے تو میرا تو گھر پر وقت گزارنا بہت ہی مشکل ہو جاتا، اور میرے اپنے بہن بھائی کبھی کبھی میری اس بے چینی کو دیکھتے ہوئے میرا مذاق بھی اُڑاتے، اور مجھے بہت تنگ کرتے کہ بھائی آپکے سسرال والے تو بھابھی کو ایک ہفتے کیلئے لے گئے ہیں، اب کیا ہوگا پھر جب مجھ سے رہا نہیں جاتا تو میں ایک دو کو اپنے ساتھ لے کر یا کبھی اکیلا بھی اسی دن شام کو اپنے سسرال بن ٹھن کر پہنچ جاتا تھا، اور وہاں پر تو میں کچھ زیادہ ہی رونق لگاتا، کیونکہ بیگم کی سہیلیاں اور خالہ ماموں زاد بہنیں بھی وہیں پہنچ جاتیں، اور مجھ سے تو ساری ہی خوب مذاق وغیرہ کرتی رہتی، یہ سب کچھ اتنا فری ہو کر اپنے گھر میں مذاق وغیرہ نہیں کرسکتا تھا،!!!!!

واپسی میں اپنی دلہن کو ساتھ ہی لے کر آتا تھا، اسلئے کہ چھٹیاں اب ختم ہوتی جارہی تھیں، اور اگر رات زیادہ ہوجاتی تو مجھے وہیں رکنا پڑتا، جس کا کہ والدین کچھ اچھا محسوس نہیں کرتے تھے، کیونکہ میری غیر حاضری میں وہ خواتیں گھر پر آجاتیں اور ساتھ ہی اپنی عادت کے مطابق والدہ کو خبردار بھی کرتیں کہ دلہن کو بیٹے کے ساتھ زیادہ دیر باہر رہنے سے منع کرو ورنہ تمھیں ایک دن اپنے بیٹے سے ہاتھ دھونا پڑے گا، وہ جورو کا غلام ہوجائے گا اور نہ جانے کیا کیا میری والدہ کا دماغ خراب کرتی رہتیں لیکن شکر ہے کہ والدین نے ان لوگوں کی باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیا،!!!!!!

ڈیڑھ مہینہ کا پتہ ہی نہیں چلا، سب کچھ دعوتوں اور مہمان نوازی کے ہی نذر ہوگئے، دن اور رات انہیں مصروفیت میں گزرتے چلے گئے، وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا، ڈیوٹی بھی ضروری تھی جولائی 1979 کے درمیان اب وہ وقت آگیا تھا، کہ سب سے وداع لینا تھا، اب تو زندگی کے ساتھ ایک اور میری ہمسفر میری شریک حیات بھی تھی، شادی کے بعد چھٹیوں کے مختصر سے دن اور یہ چند دنوں کی ملاقات میں ہم ایک دوسرے کے اتنے نزدیک آگئے تھے، کہ یہ جدائی بہت مشکل نظر آرہی تھی، اور مجھے یہ امید نہیں تھی کہ میں اس شادی کے بعد اپنی دلہن کے ساتھ اتنا خوش رہ سکوں گا لیکن یہ اللٌہ تعالیٰ کا کرم ہی ہوا کہ ہم دونوں کو ایک دوسرے سے اتنی محبت ہوگئی کہ ایک پل بھی ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے اور اب واپس جانا بھی تھا،!!!!

جی بھر کر دیکھ بھی نہ پائے تھے ان کو
کہ جانے کب سحر ہوگئی جاگتے جاگتے

ہماری ساس صاحبہ، بہت ہی اللٌہ والی تھیں اور ہر وقت ذکر الٰہی، میں مصروف رہتی تھیں، اللٌہ تعالیٰ انہیں جنت الفروس میں جگہ دے، اکثر کہا کرتی تھیں کہ نکاح کے دو بول ہی دلوں میں خودبخود ایک محبت کا چراغ روشن کردیتے ہیں، پھر میاں بیوی دونوں کا فرض بن جاتا ہے کہ اس روشنی کو ہمیشہ قائم و دائم رکھیں اور اسی طرح زندگی بھر محبت کے اس روشن چراغ کو جلائے رکھیں، ساتھ ہی اپنے ہاتھوں کے گھیرے سے اسکی حفاظت بھی کرنی ہے کہ یہ چراغ بجھ نہ پائے چاہے کتنے ہی طوفان اور بادوباراں کیوں نہ آئیں،!!!!!!!

آخر وہ دن آہی گیا جس دن سب سے رخصت ہونا تھا، زادیہ کے گھر بھی آخری دنوں میں ہم دونوں مل کر آگئے تھے، اور ان دونوں کا خدمت اور خلوص کا شکریہ بھی بہت ادا کیا جو کہ ہماری شادی کے دوران انہوں نے ہم دونوں کا ساتھ اپنوں سے بڑھ کر دیا، یہ میں آج تک بھول نہیں سکتا، آج سب گھر والے بمعہ میری بیگم کے مجھے ائرپورٹ چھوڑنے جارہے تھے،!!!!!!!

اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا میں اب ان سب کے بغیر پھر مزید ایک سال تک رہ پاؤں گا،؟؟؟؟؟؟؟

جاری ہے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (12-12-10)
پرانا 19-12-10, 12:00 PM   #50
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ-2- شادی کے بعد کی مصروفیات،!!!!!!

آخر وہ دن آہی گیا جس دن سب سے رخصت ہونا تھا، زادیہ کے گھر بھی آخری دنوں میں ہم دونوں مل کر آگئے تھے، اور ان دونوں کا خدمت اور خلوص کا شکریہ بھی بہت ادا کیا جو کہ ہماری شادی کے دوران انہوں نے ہم دونوں کا ساتھ اپنوں سے بڑھ کر دیا، یہ میں آج تک بھول نہیں سکتا، آج سب گھر والے بمعہ میری بیگم کے مجھے ائرپورٹ چھوڑنے جارہے تھے،!!!!!!!

اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا میں اب ان سب کے بغیر پھر مزید ایک سال تک رہ پاؤں گا،؟؟؟؟؟؟؟


ائرپورٹ پر تین گھنٹے پہلے ہی پہنچ گئے تھے، کیونکہ سب لوگوں سے ملنے ملانے میں کافی وقت لگ جاتا اور اندر امیگریشن اور سامان کی کاونٹر پر بھی ایک اچھا خاصہ وقت لگ جاتا ہے، وہاں ائرپورٹ پر کافی رش تھا اور مجھے الوداع کہنے کافی لوگ آئے ہوئے تھے، اور سب سے مختصراً مختصراً ملاقات بھی کررہا تھا، زادیہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ مجھے الوداع کہنے آئی ہوئی تھی اور وہ شاید میری بیگم کو سمجھانے کی کوشش کررہی تھی، کیونکہ وہ ایک کونے میں کھڑی آنسوں سے ھچکیاں لے کر رو رہی تھی، اور دوسرے اسکی سہیلیاں اور رشتہ دار بھی اسے دلاسہ دے رہے تھے، انکے والد کی چھٹیاں ابھی باقی تھی، اس لئے انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ شاید مزید ایک ماہ اور رہیں گے، انہوں نے تو ریاض جانا تھا اور میں اب دھران جارہا تھا، !!!!!!

اور ہماری والدہ، والد اور بہن بھائی بھی کافی اداس تھے، ان سب سے مل ملا کر آخیر میں اپنی بیگم سے ملنے گیا، اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے، اسے میں نے سمجھایا کہ فکر نہ کرو، میں جلد ہی چھ مہینے کے اندر اندر دوبارہ چھٹی لے کر آجاؤنگا، بہرحال مجبوراً سب کو ہاتھ ھلاتا ہوا ائرپورٹ کی عمارت کے اندر داخل ہوگیا، بورڈنگ پاس لیتا ہوا ایمیگریشن کاونٹر سے پاسپورٹ پر خروج کی مہر لگواتا ہوا جلدی جلدی لاؤنج میں پہنچ گیا کیونکہ میری فلائٹ کی روانگی کا اعلان ہوچکا تھا، اور آھستہ آھستہ لوگ اپنا بورڈنگ پاس چیک کراتے ہوئے بس میں بیٹھ رہے تھے، جو ہمیں جہاز کے پاس لے گئی، وہاں سیڑھی پر چڑھتے ہوئے جہاز میں داخل ہوا اور نظریں جماتے ہوئے اپنی سیٹ کو تلاش کرلیا اور بیٹھ گیا، آج مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا، بس کھڑکی سے باہر اپنے ملک کی پاک سر زمین کو ایک بار پھر سے جدا ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا، اور جہاز کراچی شہر کو چھوڑنے کیلئے رن وے پر دوڑ لگا رہا تھا!!!!!!!!

اسی ظرح اپنی یادوں میں گم تھا، ائرھوسٹس کھانا لے کر آئی مگر دل نہیں چاہا، اسے منع کردیا، پچھلی دفعہ جب آیا تھا تو میں بہت خوش تھا، جہاز میں ہر چیز کو بڑی حسرتوں سے دیکھ رہا تھا، کیونکہ وہ میرا پہلا سفر تھا، اور آج تو کسی چیز کو بھی دل نہیں چاہ رہا تھا، تقریباً ڈھائی گھنٹے کا سفر تھا، سیٹ کو پیچھے کرکے سونے کی کوشش بھی کی لیکن نیند نہیں آئی، دھران ائرپورٹ پر اترتے ہی جب تمام ائرپورٹ کی کاروائی کے بعد سامان لے کر باہر نکلا تو دیکھا کہ میرے آفس کے دوست مجھے لینے آئے ہوئے تھے انہوں نے شادی کی مبارکباد دی اور مجھے کمپنی کی کار میں لیتے ہوئے کمپنی کے رھائشی کمپاونڈ میں مجھے اپنے کمرے تک چھوڑ کر یہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے کہ آرام کرو اور پھر شام کو ملاقات ہوگی، میرا کمرہ تو بالکل کاٹنے کو دوڑ رہا تھا، باہر نکلا تو ہر طرف سناٹا تھا کیونکہ سارے لوگ ڈیوٹی پر گئے ہوئے تھے، میں بھی ریکریشن ہال میں گیا اور وھاں ٹی وی کھول کر پروگرام دیکھنے لگا، وھاں کچن میں جاکر چائے اپنے لئے ایک چائے بنوائی، اور چائے پیتے ہوئے سب کو باری باری یاد کررہا تھا، وہ تمام شادی کے ھنگامے، ملنا جلنا، گھومنا پھرنا اب بالکل ایک خواب سا لگ رہا تھا،!!!!!!

شام کو تمام ساتھیوں نے ڈیوٹی سے واپس آکر مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا، میں اب تک اسی لباس میں ویسے ہی ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا، سب لوگ مجھے مبارکباد دے رہے تھے، اور پھر اس ہال میں کافی رونق ہوگئی، کچھ لوگ کیرم کھیلنے میں مصروف ہوگئے اور کچھ ٹیبل ٹینس کی طرف کھیل میں لگے ہوئے تھے، مگر میرا ذہن ابھی تک پاکستان میں ہی تھا کہیں بھی دل نہیں لگ رہا تھا، کچھ دوستوں نے کہا بھی کہ چلو ذرا الخبر شہر گھوم کر ہی آتے ہیں، لیکن میں نے منع کردیا، اتنے میں رات کا کھانا ٹیبل پر لگ چکا تھا، بھوک اب بھی نہیں لگ رہی تھی، پھر بھی بڑی مشکل سے دو چار نوالے کھائے اور اپنے کمرے میں سونے چلا گیا، کچھ دوست آئے بھی لیکن بس کمرے میں ہی ان سے کچھ گپ شپ کی اور ان کے جانے کے بعد سونے کی بہت کوشش کی، لیکن آنکھوں میں نیند کا دور دور تک کوئی اتا پتہ نہیں تھا،!!!!!!!

میرا یہاں ایک ایک دن بہت مشکل سے گزر رہا تھا، اب وہاں زادیہ کے گھر کی بھی اتنی فکر نہیں تھی، کیونکہ باجی کے چچا جو ابوظہبی میں تھے انہوں نے بھی انکے ماہانہ اخراجات کا بندوبست کردیا تھا، باجی بھی وہیں پر تھیں، اور وہ اپنے والد کےحق کیلئے اپنے چچا سے وہاں لڑ رہی تھیں، شاید ہوسکتا ہے کہ ان کے دادا نے کوئی وصیت یا جائداد ان کے لئے چھوڑی ہو اور اس کا حصہ انہیں نہ ملا ہو، اس لئے چچا نے بھی مجبوراً ان سب کی کفالت کی ذمہ داری بھی لے لی تھی، بقول انکی والدہ کے، میں نے پھر بھی یہی کہا کہ اگر کسی بھی مدد کی ضرورت ہو تو میں ھمیشہ حاضر ہوں لیکن زادیہ نے کسی قسم کی کوئی بھی مدد لینے سے انکار کردیا تھا،!!!!!!!

میرا ذہن بھی آہستہ آہستہ زادیہ کے رویہ کی وجہ سے ان کی طرف سے ہٹتا ہی چلا گیا، اور پھر شادی کے بعد اللٌہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیونکر میری ساری دل میں چھپی ہوئی ایک محبت جو کبھی زادیہ کےلئے تھی وہ رفتہ رفتہ اپنی شریک حیات کی طرف منتقل ہوتی جارہی تھی، اور میرے لاکھ چاہنے کے باوجود بھی میرا ذہن زادیہ کی طرف بالکل بھی مائل نہیں ہو رہا تھا، اور میرے لئے بھی یہی بہتر تھا کہ جس طرف کا اب راستہ ہی بند ہوگیا ہو تو اس گلی سے اب گزرنے کا کیا فائدہ، میں نے بھی اب اپنی تقدیر کے فیصلے کو قبول کرلیا تھا، اور یہ میری تقدیر میرے حق میں ہی نکلی، کیونکہ شادی کے بعد میری بیگم کے مراسم کچھ ایسے دوستانہ سے ہوگئے کہ میں سب کچھ بھول گیا، اس نے میرے یہ مختصر قیام کے دوران میرا اتنا خیال رکھا کہ مجھے خود تعجب ہو رہا تھا، مجھے تو لگتا تھا کہ بیگم سے برسوں سے ہی بہت ہی خوبصورت مراسم ہیں، ان چند دنوں میں اس نے میرے دل میں جگہ بنا لی تھی،!!!!!!!

اسی طرح بہت ہی مشکل سے میں چھ مہینے ہی گزار پایا تھا کہ مزید اور مجھے یہاں رہنا مشکل ہو رہا تھا، یہاں دھران میں ان چھ مہینوں میں تقریباً ہر ہفتے میری بیگم ہر کسی آنے والے کے ہاتھ جو پاکستان سے آرہا ہوتا تھا اسکے ہاتھ کچھ مزیدار پکوان بنا کر ضرور بھیجتی تھیں، اور کراچی میں انکےبھائی جو تھے، وہ سارے بھیجنے کے انتظام کردیتے تھے، کیونکہ جو بھی یہاں آرہا ہوتا تھا، وہ انکے بھائی کے پاس ضرور آتا تھا وجہ یہ تھی کہ کراچی کے آفس میں لوگوں کے یہاں آنے جانے کا محکمہ بھی انکے پاس ہی تھا، اور ساتھ ہی مجھے تازہ ترین اپنی بیگم کے خطوط بھی مل جاتے تھے، اور ان کا ہر خط خوشبوں سے بھرپور اور اتنے منتخب اشعار وہ لکھ کر بھیجتیں کہ دل تڑپ اٹھتا تھا، اور خط کا مضمون ایسا رومانی انداز میں ہوتا تھا کہ دل بار بار پڑھ کر بھی مچل جاتا تھا، اور اسی طرح میں بھی خطوط کے جوابات بھی دیتا تھا!!!!!!

فروری یا مارچ 1980 کے بہار کے موسم کا دور تھا، میں نے فوراً ہی دلبرداشتہ ہوکر ایمرجنسی کی چھٹی کے لئے درخواست دے دی اور وہ اتفاقاً منظور بھی ہوگئی، بس ٹکٹ اپنا ہی لینا تھا، مجھے تو اپنی خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی، بہت ہی میں بے چینی سے ایک ہفتہ گزارا کیونکہ ایک ہفتہ بعد ہی مجھے اپنے پیارے وطن میں اپنے گھر کے لئے روانہ ہونا تھا، جہاں کوئی میرا انتظار کر رہا تھا،!!!!!!!!

پھر چھ ماہ بعد ہی ہم گھر پہنچ گئے، ائرپورٹ پر کافی لوگ مجھے لینے آئے تھے، اس دفعہ کچھ زیادہ ہی سامان ساتھ تھا، دو ٹرالی فل بھری ہوئی، تین بیگ اور چند بڑے بڑے ڈبوں میں پیکینگ، سب میں زیادہ تر تحفے تحائف ہی تھے اور اس کے وزن کا کرایہ بھی ایک اچھی خاصی رقم دے کر آیا تھا، شادی کے بعد پہلی بار گھر جارہا تھا، اس لئے خوب دل کھول کر خریداری کی اور اس کے لئے ایک کمیٹی بھی ڈال دی تھی، پہلی کمیٹی لے کر سال بھر کا قرضہ چڑھا کر پھر پہنچے سرکار اپنے گھر کے دربار میں، جہاں بڑی واہ واہ ہوئی، سب چیزیں سب کے سامنے کھول کر رکھ دیں، سب بہنوں اور ہماری بیگم نے تمام نزدیکی رشتہ داروں کے لئے حصہ باٹی کردی، اور کچھ بہن کی شادی کےلئے بھی رکھ لیا تھا جو اسی ہفتے میں طے ہورہی تھی، اس طرح سارے بیگ بھی اور دوسرے پیکنگ کے ڈبے بھی خالی ہوگئے، اور گھر والوں کے ہر ایک کے حصہ میں ایک دو چیزیں ہی آئیں، جہاں جہاں ملنے گئے ساتھ کچھ لے کر بھی گئے، کیونکہ یہ شادی کے بعد پہلا ہی موقعہ تھا کہ چھٹی پر آیا تھا، اس لئے ہر ایک کے نصیب میں جو تھا وہ دے دیا،!!!!!!

اسی چھٹی کے دوران دوسری بہن کی شادی بھی طے ہوگئی تھی، اور کچھ دن شادی کی مصروفیت میں ہی نکل گئے، اور ایک ہفتہ بچا تھا وہ میں نے زیادہ تر وقت اپنی بیگم کے ساتھ گزارنے کی کوشش کی، اس مختصر سے دنوں میں میری بیگم نے پہلے کی طرح بہت ہی خدمت کی اور بہن کی شادی میں بھی کافی مصروف رہیں، اور ساری تیاری بھی انہوں نے ہی کی، سب گھر والے بھی میری بیگم سے بہت خوش تھے کیونکہ اس بہن کی شادی کے موقعہ پر بہت ہی تمام کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انہوں نے اس گھر کی بڑی بہو کا حق بھی ادا کر دیا، میں بھی خوش تھا اور سارے بہن بھائی اور ہمارے اماں اباجی بھی بہت ہی خوش تھے میں بھی یہی چاھتا تھا کہ ہمارا یہ گھرانا والدین کی نگرانی میں خوش و خرم رہے،!!!!

آخر پھر وہی دن واپس جانے کا آ گیا، پھر وہی غم زدہ دلوں میں آنکھوں میں آنسو دے کر واپس ہو لئے، پھر شادی کا ایک سال بھی اسی رنج غم میں بیت گیا، شادی کی سالگرہ میں نے اپنے کمرے مین خاموشی سے بیگم کے رومانوی خطوط اور شادی کے سالگرہ کے خوبصورت کارڈ دیکھ دیکھ کر ہی منائی، پاکستان سے ہر ہفتے کوئی نہ کوئی سے آتا رہتا تھا اور ساتھ اپنے دفتر سے میرے گھر کا پارسل بھی لے آتا تھا اور گھر کے بنے ھوئے تازہ اور لذیذکھانوں کے ساتھ ساتھ خطوط بھی مل جاتے تھے، اور میں اپنے ان خطوط میں سے سب سے پہلے اپنی بیگم کا ہی خط پڑھتا تھا، دوسروں کے خطوط کے ساتھ تو واقعی کچھ زیادہ ہی نا انصافی ہوتی تھی، وہ سب سے آخیر میں ہی پڑھتا تھا، میں جب تک اپنی بیگم کا خط پڑھتا میرے دوست میرے کھانوں کے پارسل کچن میں گرم کرنے کیلئے لے جاتے، جب تک میں بیگم کا تازہ ترین خط پڑھ کر فارغ بھی ہوجاتا، اور پھر میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنی بیگم کے تازہ ذائقے دار کھانوں میں مصروف ہوجاتا، مگر میرا خیال تو وہیں اپنی بیگم کے خیالوں میں ہی رھتا، !!!!!!!

میرے دوست بھی اس دن کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے جب کوئی پاکستان سے آرہا ہوتا تھا، میرے تین چار ہی خاص دوست تھے، جنہیں میری بیگم کے ہاتھ کے کھانے بہت پسند تھے اور یہ تو طے تھا کہ ہر ہفتے میں دو تیں بار کسی نہ کسی کی آمد ضرور ہوتی تھی، اور شاید کوئی ایسا بندہ ہوگا جسے میرے گھر سے پارسل نہ ملتا ہو اور آُدھر بھی میرے سالے صاحب جیسے ہی کسی دں کوئی جانے والا ہوتا فوراً ہی گھر میں خبر دے دیتے اور پھر ہماری بیگم اسی دن ہی کھانے تیار کردیتیں اور ان کے بھائی صاحب شام کو یا صبح کے وقت جو بھی فلائٹ کا ٹائم ہوتا سب سے چیزیں کھانے اور خطوط اکھٹا کرتے اور اس آدمی تک پہنچا دیتے یا وہ خود وہ دفتر آجاتا، جس نے اس دن دھران جانا ہوتا تھا اور ساتھ ہی ٹکٹ اور پاسپورٹ بھی حوالے کرتے تھے، کیونکہ انہی کی پاسپورٹ اور ٹکٹ کی ذمہ داری بھی تھی، میرا ہی نہیں اور بھی دوسرے لوگوں کا یہ ہمارے سالے صاحب گھر گھر جاکر پیغام بھی دیتے کہ فلاں آدمی ریاض یا دھران جارہا ہے اگر کچھ ساماں یا خط بھجوانا ہو تو دفتر پہنچانا دیں، اگر کوئی پہچانے والا نہ ہو تو یہ ہمارے سالے صاحب خود ہی گھر سے لے آتے تھے، انہوں نے بھی لوگوں کی بہت خدمت کی ہے، اور کافی دعائیں لی ہیں، میں تو آخر انکا بہنوئی تھا وہ بھی اکلوتا، اور دوست بھی تھا، میرے ساتھ تو انہوں نے بہت کچھ مہربانیاں کی، میں ان کا کس کس بات کا شکریہ ادا کروں !!!!!

اسی سال 1980 میں میری سالانہ چھٹی بھی نزدیک ہی تھی،پھر میں نے اس موقعہ کو بھی غنیمت جانا اور جولائی یا اگست کا مہینہ تھا اور رمضان مبارک کے آخری روزے چل رہے تھے، میری چھٹی منظور بھی ہوگئی، اور میں نے اپنا پھر ایک اور سفر کی تیاری کی، کچھ اور قرض پھر بڑھ گیا اور عید الفطر سے دو دن پہلے کراچی پہنچ گیا، یہ میری خوش قسمتی بھی تھی کہ مجھے شادی کے بعد سال میں دو دفعہ گھر جانے کا موقعہ ملا تھا، میں بھی خوش اور میری بیگم بھی خوش،!!!!!

اس دفعہ میں نے کچھ زیادہ ساماں نہیں خریدا تھا، بس ایک ہی سوٹ کیس لے کر گیا تھا، جس میں صرف بچوں کی چاکلیٹ اور سویٹ وغیرہ اور کچھ اپنی بیگم اور بہن بھائیوں کے لئے چھوٹی موٹی چیزیں تھیں، اس دفعہ بھی تقریباً دیڑھ مہینے تک چھٹیاں گزاری ایک فائدہ یہ ضرور ہوا کہ عید الفطر گھر پر سب کے ساتھ منائی، پچھلی دفعہ جب چھٹی آیا تھا تو تقریباً تمام رشتہ داروں اور خاص خاص جان پہچان کے لوگوں کے لئے کافی سامان لے کر گیا تھا، اور کوشش کی تھی کہ سب کو کچھ نہ کچھ مل ہی چائے، مگر بعد میں مجھے یہ سن کر بہت ہی افسوس ہوا کہ زیادہ تر لوگوں کو ان تحفوں سے کوئی خوشی نہیں ہوئی، بس ہر ایک کے طعنے ہی سننے کو ملے کہ اس کو یہ دیا تو ہمیں یہ دیا، فلانی چیز تو یہاں بھی ملتی ہے، اس کی کیا ضرورت تھی، کسی نے کہا کہ ہمارے ایک بچے کو دیا تو دوسرے کو نہیں ‌دیا، اتنی ساری شکایتیں سن کر مجھے بہت ہی افسوس ہوا، میں نے جو چیزیں خریدیں وہ تو ایک طرف لیکن اس سامان کا زائد کرایہ بھی ادا کیا تھا، اسی لئے اس دفعہ میں کسی کیلئے کچھ نہیں لے گیا، علاؤہ صرف اپنے گھر والوں کےلئے،!!!!!!!

تقریباً سارے لوگ ائرپورٹ پر آئے تھے، کچھ تو حیران ہی رہ گئے کہ میں اس دفعہ تو بس ایک ہی چھوٹا سا سوٹ کیس لے کر آیا ہوں، کچھ تو شاید انتظار میں تھے کہ شاید پیچھے اور کوئی ٹرالیاں آرہی ہونگی، اور جب میں ایک سوٹ کیس لے کر سب کے ساتھ پارکنگ کی طرف چلا تو کچھ لوگوں کو بہت مایوسی ہوئی تھی، مگر پھر بھی میری بیگم نے اپنی تمام چیزیں جو میں بڑے شوق سے ان کے لئے لایا تھا، وہ بھی بانٹ دیں، اور میرے اعتراض کرنے پر مجھ سے کہا کہ مجھے کچھ نہیں چاہئے آپ آگئے میرے لئے بہت ہے، اور ساتھ ہی میرے سسرال والوں نے کبھی بھی کسی قسم کی شکایت کا موقعہ نہیں دیا، بلکہ انہوں نے ہمیں بہت کچھ دیا اور اب تک ان کے سارے بہن بھائی ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں، اس کے علاوہ وہ سب میری والدہ اور میرے بہن بھائیوں کا بھی ہر طرح سے خیال رکھنے کے ساتھ ان کی ہر ضرورت کو بھی مد نظر رکھتے ہیں، کیونکہ میں یہاں پردیس میں ہوں،!!!!

میری بیگم کے چھ بھائی اور دو چھوٹی بہنیں ہیں اور ماشااللٌہ سب ہی شادی شدہ ہیں، میرے ساس سسر کا تو انتقال ہوچکا ہے وہ دونوں بھی میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک روا رکھتے تھے، ان دونوں نے بھی خاص طور سے مجھے اپنے بچوں سے بھی زیادہ پیار اور خلوص سے نوازا، اللٌہ تعالیٰ ان دونوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے، آمین اور مجھے اس بات کا بھی فخر حاصل ہے کہ انہوں نے بمعہ انکی چھوٹی بیٹی کے ہم سب بیوی اور بچوں کے ساتھ مل کر حج عمرہ اور زیارت نبوی (ص) کی سعادت بھی حاصل کی، وہ دونوں میرے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے آخر کو وہ میرے بچوں کے نانا نانی تھے اور میرے بچے بھی ان پر جان چھڑکتے تھے، اور بچوں کے چھ ماموں بھی ہیں، اس وقت ایک سعودیہ میں اور ایک دبئی میں ہے اور چار پاکستان میں ہیں اور سب شادی شدہ اور بچوں والے ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں ماشااللہ بہت خوش ہیں!!!!

مین نے ان تمام بہن بھائیوں میں ایک خاص بات دیکھی کہ وہ سب الگ الگ لیکن ھمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت پیار سے رہتے ہیں، ہر تقریب میں ‌سب ساتھ اکھٹا ہوتے اور سب مل جل کر کبھی کبھی گھومنے یا پکنک منانے بھی جاتے ہیں، کبھی کسی نہ کسی کے گھر میں اکھٹا ہوکر اپنے اپنے گھروں سے کچھ نہ کچھ پکا کر لاتے ہیں اور اکھٹے بیٹھ کر انجؤائے بھی کرتے ہیں، کوئی اگر کسی بات سے ناراض بھی ہو جاتا ہے تو سب ملکر اسے منانے بھی چلے جاتے ہیں، اور سب بہن بھائی ایک دوستوں کی طرح مذاق بھی کرتے رہتے ہیں اور جب اکھٹا ہوتے ہیں تو کافی لظف آتا ہے، جب ہم لوگ یہاں سے پاکستان جاتے ہیں تو یہ سب مل کر ہمارے اعزاز میں خوب ھلہ گلہ اور خوب رونقیں لگاتے ہیں اور سب خاص خاص پکوان سے ہماری خوب خاطر تواضع بھی کرتے ہیں، اور اسی ظرح ہمارے گھر میں بھی سب بہنیں اور بھائی اکھٹا ہوتے ہیں اور کافی رونق رہتی ہے والدہ اور بہنیں بھی خوب خاطر تواضع کرتی ہیں، اور بھائی اور انکی فیملیاں بھی شرکت کرتی ہیں، ویسے بھی ہمارے جانے کے شیڈول کے مطابق ہی سب ملکر ہی کوئی نہ کوئی شادی بیاہ کی تقریب،کہیں سالگرہ تو کہیں بچوں کی رسم بسم اللٌہ یا پھر کوئی عقیقہ کی ہی تقریب منعقد کر لیتے ہیں، تاکہ ہم بھی ان خوشیوں میں شریک ہوسکیں اور باقی جگہوں سے بھی سب رشتہ دار پہنچ جاتے ہیں، جس سے رونقوں میں چار چاند لگ جاتے ہیں، اور سب سے ملاقات کا ایک بہانہ بھی ہو جاتا ہے،!!!!!!

مگر ان تمام تقریبات سے ہم دونوں میاں بیوی بعض اوقات بہت تھک بھی جاتے ہیں، لیکن سب لوگ اپنی محبتوں سے ہمارے آنے کے وقت ہی تمام تیاریاں کرتے ہیں، تو ان کی خلوص کی خاطر ہمیں ہر تقریب میں شرکت کرنا لازم ہو جاتا ہے، اپنی چھٹیوں میں ہم دونوں گھر پر کم اور دوسرے گھروں میں زیادہ ہی مدعو رہتے ہیں، اور رات اگر زیادہ ہو جاتی تو وہیں پر ٹھرنا بھی پڑ جاتا ہے، اور اسی طرح میری چھٹیاں بھی بہت جلد ہی ختم ہو جاتیں اور ہماری بیگم کو مجھ سے شکوہ ہی رہتا لیکن اس دفعہ یہ وعدہ کیا تھا کہ انشااللٌہ آپ سعودی عرب ضرور آئیں گی، اور پھر چھٹیاں بھی ختم ہوگئیں اور میں یہاں دھران واپس آگیا، اس دفعہ بھی واپس آنے کا کافی دکھ ہوا، اور سب کی بہت یاد آئی اور بیگم کی تو خاص طور سے کہ بس چھٹی گئے تو مہمانوں کی طرح ہی خاطریں ہوئیں اور پھر چھٹیاں ختم،!!! اور پھر میں نے یہاں آکر اپنی بیگم کو بلانے کے لئے ویزے کے انتظامات شروع کردئیے، کیونکہ اس طرح آنا جانا اپنی بیگم کے ساتھ زیادتی ہی تھی،!!!!!!

گھر پر تو ھمیشہ ہر مہینے باقائدگی سے اپنی والدہ کے نام پر ہی بنک ڈرافٹ بنا کر بھیجتا رہا تھا، مگر سال میں دو دفعہ چھٹی جانے کی وجہ سے دوکمیٹیاں ڈالنی پڑیں، اور آدھی تنخواہ تو اب کمیٹیوں میں ہی چلی جاتی تھی، اور اب اُوپر سے یگم کو بلانے کا بھی مسئلہ تھا، مکان کا تو کوئی پرابلم نہیں تھا، کمپنی کی فیملی رھائش موجود تھی، اور نہ ہی کوئی ویزے کی قیمت دینی پڑتی، لیکن ٹکٹ تو خریدنا ہی پڑتا، اس طرح تو اور مزید قرضہ پر قرضہ چڑھتا جائے گا، اور بیگم کے آنے کے بعد تو اور مزید اخراجات بڑھ جائیں گے، کیونکہ خرچہ بھی تو دو جگہ تقسیم ہوجائے گا، مگر مجھے اسکی اس وقت کوئی پروا نہیں تھی، کیونکہ دل و دماغ پر تو بیگم ہی چھائی ہوئی تھیں !!!!!

میں نے بیگم کے لئے وزٹ ویزے کے لئے کمپنی کو درخواست دے دی تھی، اور اس کی منظوری بھی ہوگئی، اور ویسے بھی مشکل نہیں تھی، کیونکہ ہمارے آفس کے مرکزی دفتر ریاض میں ہمارے سسر صاحب جو موجود تھے، ویزے کے اجراء میں کچھ دو تین مہینے لگ گئے تھے، کچھ دستاویزات کی تصدیق مکمل نہیں تھی اور پھر نکاح نامہ کا عربی میں ترجمہ اور اس کی تصدیق میں کچھ وقت اور لگ گیا اور مجھے اتنی معلومات بھی نہیں تھیں، آخر کار نئے سال 1981 کے شروع ہوتے ہی موسم بہار کے شروع ہونے سے پہلے ہی سردیوں کے اختتام سے پہلے ہی ویزا مل گیا، اور میں تو خوشی سے دیوانہ ہی ہوا جارہا تھا،!!!!!!!

فوراً ہی یہ خوشخبری پاکستان بمعہ ویزے کی رسید کے پہنچا دی، شادی کو ڈیڑھ سال بھی ہوچکا تھا، اور لوگوں کو ایک اور پریشانی لاحق ہوچکی تھی کہ اب تک کوئی ننھا مہمان کیوں نہیں آیا، جس کو دیکھو وہی پوچھتا چلا آتا تھا کہ بھائی سید کیا ہوا، ابھی تک کوئی خوشخبری نہیں آئی، کوئی یہ کہتا ہوا آتا کہ یار کوئی مٹھائی وغیرہ کب کھلاؤ گے، میں تو یہاں تنگ تھا اور اُدھر ھماری بیگم کے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی صورت حال تھی، وہ بھی سب کو جوابات دے دے کر تنگ آچکی تھیں، جب تک اللٌہ کا حکم نہ ہو تو کیا کرسکتے ہیں، لوگوں کو تو بہانہ ملنا چاہئے، تنگ کرنے کیلئے،!!!!!

بہرحال ادھر ہمارے بڑے سالے صاحب کو ویزے کی رسید پہنچ چکی تھی، انہوں نے سارے انتظامات کئے، ایک تو ان کی بہن کا معاملہ تھا، اور ویسے بھی دفتر میں ہماری ہی کمپنی کے تمام لوگوں کے لئے سعودی عرب آنے جانے والوں کے پاسپورٹ ویزے اور ٹکٹ کی ذمہ داری بھی انہی کے سر تھی، ادھر سعودی عرب کے سنٹرل آفس ریاض میں ہمارے سسر صاحب تھے اور کراچی کے آفس میں ہمارے سالار آعظم تھے، فکر کس بات کی تھی، فوراً ہی بیگم کے بھیا نے ویزے اور ٹکٹ کا بندوبست کیا، اور ہماری بیگم کو الرٹ کردیا، کہ تیار رہیں کبھی بھی سعودی عرب جانا ہوسکتا ہے، ہماری بیگم بھی خوش اور ہماری بھی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا، اب تو ایک ایک دن گزارنا مشکل ہورہا تھا،!!!!!

آخر وہ دن بھی آہی گیا، غالباً مارچ 1981 کے شروع کے دن تھے، اور مجھے کراچی کے دفتر سے ایک ٹیلکس بذریعہ ریاض آفس کے ملا کہ آپکی زوجہ محترمہ آج رات کو دھران ائرپورٹ پہنچ رہی ہیں، ہماری کمپنی کے فیملی کمپاونڈ میں ایک مکان کا پہلے ہی بندوبست کر چکا تھا، اور صفائی وغیرہ بھی کرالی تھی، وہاں پہلے ہی سے کمپنی کی طرف سے تمام ضرورت کے استعمال کی سہولتیں موجود تھیں، گیس کا چولہا، ریفریجریٹر، ائرکنڈیشنڈ اور تمام فرنیچر بھی موجود تھا، بس کچھ ضروری برتن، کراکری وغیرہ اور کھانے پکانے کا سامان، روزمرہ کی استعمال کی چیزیں، ساتھ کچھ سودا وغیرہ جو بھی سمجھ میں آیا، پہلے ہی سے لے کر رکھ لیا تھا، لیکن آج کا دن تو ایسا لگتا تھا کہ وقت رک گیا تھا، سب لوگ مبارکبادیں بھی دے رہے تھے اور میرے دوست چھیڑ بھی رہے تھے، کہ بھئی اب کہاں نظر آؤ گے،!!!!!!

آج کے دن میں دفتر میں بیٹھا بس بار بار وقت کو ہی دیکھ رہا تھا، کام میں بالکل دل ہی نہیں لگ رہا تھا، ادھر ڈرائیور کو بھی کہہ دیا تھا، اور اسے بار بار یاد بھی دلارھا تھا وہ بھی میرا بہت خیال رکھتے تھے، انہوں نے کہا بھی کوئی فکر نہ کرو، میں رات کو آپکو وقت سے پہلے ہی لے جاونگا، خیر بڑی مشکل سے شام ہوگئی، اور اپنے آفس کام وغیرہ سمیٹا، سیدھا نئے گھر میں گیا اور اسکی حالت کا تسلٌی بخش جائزہ لیا اور ہر ایک جگہ کی سیٹنگ وغیرہ دیکھی، جب اظمنان ہوگیا تو باھر نکلا، فلائٹ کے آنے کا ٹائم بھی نزدیک ہی تھا اور وہ ڈرائیور صاحب بھی کار کو چمکا کر لے آئے، اس وقت دھران ائرپورٹ، یہاں کے ائر فورس بیس میں ہی تھا اور ہماری کمپنی ائر فورس کے بیس کا کام بھی کررہی تھی، ہمارے پاس وہاں کے اجازت نامہ کے شناختی کارڈ بھی تھے جو ہم دونوں نے خاص طور پر اپنی سامنے کی جیبوں پر لگائے ہوئے تھے جس سے ائرپورٹ کے اندر جا سکتے تھے، رھائشی کمپاؤنڈ بھی ائرپورٹ کے نزدیک ہی تھا!!!!!!

دھران ائرپورٹ پہنچے تو ابھی فلائٹ آنے میں ابھی بھی کچھ وقت باقی تھا آج کا دن ایسا لگتا تھا کہ ایک سال کا دن ہے جو گزرتا ہی نہیں تھا، بہرحال فلائٹ کے زمین پر لینڈ کرنے کا وقت ہو گیا تھا، جیسے ہی جہاز نے رن وے کو چھوا اِدھر میرے دل نے دھڑکنا شروع کردیا، میری بیگم انکے بھائی کے دوست کی فیملی کے ساتھ ہی آرہی تھیں، اس لئے مجھے کوئی اتنی زیادہ فکر نہیں تھی، مگر پھر بھی انکے لئے تو جہاز کا یہ پہلا پہلا سفر تھا، فلائٹ کے آنے کے ایک گھنٹہ بعد ہی اپنی بیگم کو دیکھا تو وہ انہی فیملی کے ساتھ خراماں خراماں باھر آرہی تھیں، اور مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا لگتا تھا کہ کہ کوئی ایک خوبصورت خواب دیکھ رہا ہوں،!!!!!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (19-12-10)
پرانا 21-12-10, 12:13 PM   #51
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،- 3- شادی کے بعد پہلی مرتبہ بیگم کی پردیس میں آمد،!!

دھران ائرپورٹ پہنچے تو ابھی فلائٹ آنے میں ابھی بھی کچھ وقت باقی تھا آج کا دن ایسا لگتا تھا کہ ایک سال کا دن ہے جو گزرتا ہی نہیں تھا، بہرحال فلائٹ کے زمین پر لینڈ کرنے کا وقت ہو گیا تھا، جیسے ہی جہاز نے رن وے کو چھوا اِدھر میرے دل نے دھڑکنا شروع کردیا، میری بیگم انکے بھائی کے دوست کی فیملی کے ساتھ ہی آرہی تھیں، اس لئے مجھے کوئی اتنی زیادہ فکر نہیں تھی، مگر پھر بھی انکے لئے تو جہاز کا یہ پہلا پہلا سفر تھا، فلائٹ کے آنے کے ایک گھنٹہ بعد ہی اپنی بیگم کو دیکھا تو وہ انہی فیملی کے ساتھ خراماں خراماں باھر آرہی تھیں، اور مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا لگتا تھا کہ کہ کوئی ایک خوبصورت خواب دیکھ رہا ہوں،!!!!!!!!!

وہ ہماری دلہن، اپنے بڑے بھائی کے دوست کی فیملی کے ساتھ ہی چلی آرہی تھیں، ماشااللٌہ ساڑی پہنے اُوپر سے سنہرے جال سے بنی ہوئی شال اوڑھے واقعی ایک نئی دلہن کی طرح سجی سجائی لگ رہی تھیں، انہیں دیکھ کر تو مجھے یہ یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ آج اس طرح میری دلہن اس عرض مقدسہ پر قدم رکھ رہی تھیں، ساتھ دور سے ہی وہ مسکراتی ہوئیں اپنی ہمسفر کو اشارے سے شاید میرا تعارف بھی کرارہی تھیں، جیسے ہی وہ نزدیک پہنچی، تو سلام دعاء کے بعد انکے ساتھ آنے والی فیملی کا میں نے بہت شکریہ ادا کیا، اور ساتھ آنے والی محترمہ نے جواباً یہ کہا کہ ماشااللٌہ آپ کی بیگم تو لاکھوں میں ایک ہیں، آپ لوگ ہمارے گھر ضرور تشریف لائے گا ہم دمام میں رہتے ہیں، اور میں نے بھی ہاں میں ہاں ملادی کہ ضرور آئیں گے پھر ان سے اجازت لے کر اپنی کار کی طرف بڑھ گئے آگے آگے میرے دوست جو ڈرائیور بھی تھے، سوٹ کیس پکڑے ہوئے آگے آگے چل رہے تھے، اور میں بیگم کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے انکے پیچھے پیچھے پارکنگ کی طرف چل رہا تھا،!!!!!!

کار میں بس باتیں کرتے ہوئے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب گھر آگیا فوراً ہی چونکتے ہوئے کار کا دروازہ کھولا اور پھر سوٹ کیس اٹھاتے ہوئے اپنے دوست کا شکریہ ادا کیا، کاش میرے پاس بھی ایک کار ہوتی اور ساتھ لائسنس بھی ہوتا، مگر میں نے آج تک موٹر سائیکل کے سوا اور کوئی گاڑی نہیں چلائی، اور نہ ہی اس کے بارے میں کبھی سوچا، بہرحال بیگم نے گھر کا پہلے باہر جو ایک چھوٹا سا خوبصورت لآن تھا اس کابخوبی جائزہ لیا اور پھر گھر میں داخل ہوکر ہر چیز کو قرینے اور سجاوٹ کے ساتھ دیکھ کر بہت ہی زیادہ خوش ہوئیں، اور میں بھی کچھ ذرا فخر اور رعب سے اپنی گردن کو اکڑا کر انہیں سب کچھ دکھا رہا تھا جبکہ یہ مکاں ہمارے استاد محترم کے نام پر کمپنی نے دیا ہوا تھا، اور اس کا ایک حصہ انہوں نے مجھے دے دیا تھا، وہ اس وقت وہاں کے چیف اکاونٹنٹ تھے اور میں اکاونٹس ڈپارٹمنٹ میں سینئیر اکاونٹنٹ کی حیثیت سے ان کا اسسٹنٹ تھا، اور سارے اکاونٹس سیکشن کی ذمہ داری میرے ہی سپرد کی گئی تھی، اور اتفاق سے وہ میرے والد اور میرے سسر صاحب کے دوستوں میں سے بھی تھے اور والد صاحب اور ہمارے سسر جی نے ان کے ساتھ پہلے ایک ساتھ مختلف اوقات میں کام بھی کیا تھا، اور اسی لئے بھی میرا بہت خیال رکھتے تھے، اور اپنے بچوں سے زیادہ مجھے چاہتے تھے، !!!!!!

اور اس کے علاؤہ بھی پہلے اسی کمپنی میں جو میرے سینئر استاد تھے وہ سب بھی میرے والد صاحب اور میرے سسر جی کے ساتھیوں میں سے تھے، اور یہی وجہ تھی کہ ہر جگہ مجھے اپنے والد کی وجہ ہی سے کافی لوگوں نے عزت دی اور سب ان کے ساتھی مجھے اپنے بچوں کی طرح ہی پیش آتے تھے، ان ہی تعلقات کی وجہ سے مجھے کافی فائدہ ہوا، جہاں بھی میرا تبادلہ ہوا مجھے میرے والد صاحب اور سسر صاحب کی وجہ سے ہی بہت زیادہ عزت ملی کیونکہ دونوں نے شروع سے ہی ان سب کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا تھا اورسب لوگ ان دونوں کی بہت عزت کرتے تھے!!!!!!!

ہماری بیگم بھی زندگی میں پہلی بار پاکستان سے باھر نکلی تھیں، اور وہ بھی بہت ہی زیادہ خوش تھیں، انکی والدہ تو ان سے بھی زیادہ خوش اور مجھے ہمیشہ بہت ہی دعائیں دیتی رہتی تھیں، اور گھر بھی ماشااللٌہ بہت اچھا تھا ہر کمرے میں ائرکنڈیشنڈ لگے ہوئے تھے، جوکہ پاکستان میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے، لیکن یہاں شدید گرمی کے باعث اسکے بغیر گزارا بھی نہیں تھا، اور ُپٹرول سستا ہونے کی وجہ سے بجلی کے نرخ بھی بہت کم تھے، کیونکہ زیادہ تر یہاں بجلی کے جنریٹر وغیرہ بھی ڈیزل سے چلتے تھے اور ڈیزل تو پٹرول کے مقابلے میں اور بھی بہت سستا تھا،!!!!!!

گھر تو پہلے ہی سے مکمل طرح سے فرنشڈ تھا، بس کچھ ذرا اُوپر اُوپر سے تھوڑا بہت اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ٹپ ٹاپ کرلیا تھا، کچھ دو چار گلدستے ڈائیننگ ٹیبل اور ڈرائینگ روم میں سجا دیئے تھے، اور ایک دو اچھی پینٹنگ بھی بازار سے لاکر دیواروں پر ٹانگ دی تھیں، اور برتنوں کو کیبنٹ میں قرینے سے صاف کرکے رکھ دیئے تھے ساتھ ہی ریفریجریٹر میں تازہ پھل، سبزیاں، چکن اور مٹن قیمہ وغیرہ دھو دھا کر بھر دیئے، اس کے علاؤہ جو جو سمجھ میں آیا مصالے جات اور گھر میں استعمال ہونے والی چیزیں بھی لے آیا تھا، اور یہ سب کچن میں اپنی اپنی جگہ پر رکھ دی تھیں ، یہ تو ایک ہفتہ پہلے سے ہی تیاری کررہا تھا، کچھ نہ کچھ روزانہ ہی لے آتا تھا بس سبزی، پھل، گوشت اور تازہ پکانے کی چیزیں تو آج ہی لے آیا تھا، یہی چیزیں ہماری بیگم دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں، کہ مجھ میں یہ گھر گرھستی کا قرینہ کب سے پیدا ہو گیا، !!!!!!

بیگم کے آنے کے بعد پہلا ھفتہ تو بہت ہی مصروف ترین گزرا اور اڑوس پڑوس میں جو ہماری کمپنی میں کام کرنے والے افسران کی فیملیز رھتی تھیں، ان کے یہاں بھی تقریبآً ہر روز کسی نہ کسی کے گھر دعوتوں میں ہی رہے، اس کے علاؤہ ہر شام کو انہیں دھران کے آس پاس نزدیکی شہر الخبر اور دمام کی سیر کراتا رہتا اور جان پہچاں کی جو ان شہروں میں رھتی تھیں ان فیملیز نے بھی ہم دونوں کی دعوتیں کیں، اور اس ظرح سے پہلا ھفتہ تو ملنے ملانے اور گھومنے پھرنے میں لگ گیا، دوسرے ھفتے کیلئے عمرہ اور روضہ مبارک کی زیارت کیلئے میں نے پہلے سے ہوائی جہاز کی سیٹیں بک کرادی تھیں، دھران سے طائف، طائف سے مدینہ، مدینہ سے واپسی ریاض جہاں ہمارے سسر صاحب اور ہمارے ماموں سسر بھی تھے، ریاض سے پھر واپسی کیلئے دھران کی سیٹیں اسی ترتیب سے ہی بک کرائیں تھی، اور ایک ھفتہ کی چھٹی بھی لے لی تھی اور سفر کا شیڈول بھی اسی کے مطابق تھا، !!!!!!!

جمعہ کادن تھا، ہم دھران سے بذریعہ فلائٹ طائف پہنچے وہاں باھر نکلے تو ہماری کمپنی کا ڈرائیور موجود تھا، وہاں پر ہمارے پہنچنے کی اطلاع جانے سے پہلے ہی میں دے چکا تھا، اس بات کی ہمیں بہت ہی سہولت تھی کہ طائف میں بھی ہماری کمپنی کا ایک پروجیکٹ چل رہا تھا اور وہاں کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے خاص طور سے تمام کمپنی کے ملازمین کے لئے عمرہ اور حج کی سہولت کی خاطر کئی گیسٹ ہاؤس اپنے ہاوسنگ کمپاونڈ میں بنائے ہوئے تھے اور ہر آنے جانے والوں کی وہاں پر کافی خاطر مدارات بھی ایک ہوٹل کی طرح بغیر کسی اجرت کے فراھم کیا کرتے تھے، کتنی بڑی سعادت اور ثواب حاصل کرتے تھے، سبحان اللٌہ، !!!!

ہمارے لئے بھی ایک گیسٹ ہاؤس کھول دیا گیا تھا، ڈرائیور نے ہمیں چابی دی، اور کہا کہ آپ لوگ کھانا وغیرہ سے فارغ ہو کر عمرہ کیلئے احرام کی تیاری یہیں سے کرلیں، پھر مجھے بلالیں تاکہ آپ دونوں کو میں مکہ مکرمہ لے جاؤں گا، کیونکہ مجھے ہی آپ کو عمرہ کرانے کی ذمہ داری پر معمور کیا گیا ہے، اور مجھے خوشی بھی ہوگی کہ میں آپ دونوں کو عمرہ کراؤں کیونکہ آپ دونوں کے والد صاحبان میرے اچھے دوست بھی ہیں !!!! سبحان اللٌہ یہ اللٌہ کی شان اور کرم ہی رہا اور اسکے حبیب کے صدقہ ہر جگہ اللٌہ تعالیٰ نے ہمیں ہر سہولت عطا فرمائی، جس کا کہ ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے،!!!!!!

میں تو پہلے بھی اسی طرح حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کر چکا تھا اور یہ میرا اپنی بیگم کے ساتھ یہ پہلا اتفاق تھا، احرام کی تیاری کے بعد وہاں کی مسجد میں اس وقت عصر کی نماز پڑھی اور دو رکعت نفل پڑھ کر عمرہ کی نیٌت کی، اور فوراً ہی عمرہ کیلئے تیار ہوکر گاڑی میں بیٹھ گئے جو گاڑی چلارہے تھے وہ بھی احرام کی حالت میں تھے، بیگم پیچھے بیٹھی ہوئی ذکر الٰہی میں مصروف تھیں اور میں آگے بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے کچھ ہی دیر میں ہم مکٌہ مکرمہ پہنچ گئے اور راستہ بھر تلبیح پڑھتے رہے، جیسے ہی کعبۃ اللٌہ کے میناروں کو بیگم نے دیکھا تو برداشت نہ کر سکیں اور خوب رونے لگیں، میں نے بھی جب پہلی مرتبہ ان میناروں کو دیکھا تھا، تو خود بخود آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے، ایک اللٌہ تعالیٰ کے جاہ و جلال کا منظر دکھائی دیتا تھا اور ایک الگ سی ہی بدن میں ایک اللہ تعالیٰ کا ایک ڈر خوف سے رقعت کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی،!!! سبحان اللٌہ،!!!!!

اور پھر جیسے ہی ہم دونوں کعبۃاللٌہ کے اندر پہنچے تو کعبہ کو غلاف کعبہ میں دیکھ کر روح تڑپ سی گئی، آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے، دو نفل ادا کئے اور پھر ان صاحب کے پیچھے پیچھے وہ جو دعائیں پڑھ رھے تھے، ھم بھی ساتھ ساتھ دھراتے ہوئے خانہءکعبہ کا طواف کررہے تھے اور طواف کے بعد مقام ابراھیم کے نزدیک ہی دو دو نفل ادا کئے اور پھر وہ صاحب ہمیں آب زم زم کے پاس لے گئے وہاں آب زم زم پیا اور پھے سعی کرنے کیلئے صفا مروہ کی طرف گئے اور سعی سے فارغ ہوکر م نے بال ترشوائے اور پھر نفل ادا کئے اس سے پہلے عمرہ کے دوران ہی مغرب کی نماز ادا کی عمرے کے مکمل ہونے کے بعد ہی عشاء کا وقت ہو چلا تھا، عشاء کی نماز پڑھ کر ہمیں ان صاحب نے کہا جو ہمیں لے کر آئے تھے کہا کہ کیا آپ لوگ کچھ ٹھنڈے مشروبات نوش فرمائیں گے،؟؟؟، کھانا دیر سے ہی کھایا تھا اس لئے کچھ زیادہ بھوک نہیں تھی اور پھر ھماری رات کے کھانے کی دعوت بھی طائف میں ہی تھی، تو اس لئے ان کی بات سے انکار کرنا ہم نے مناسب نہیں سمجھا،!!!!!!!

مکہ سے عمرہ کی سعادت کے بعد ہم واپس طائف کے لئے روانہ ہوئے، دل تو چاھتا تھا کہ بس خانہءکعبہ سامنے بیٹھے رہیں اپنے رب کی حمد و ثنا کرتے رہیں، سبحان اللٌہ، کیا شان ہے،!!!!

وہان سے سیدھا ظائف میں اپنی ہی کمپنی کے پروجیکٹ کے اسٹاف ھاوسنگ کمپاونڈ پہنچ کر اپنے گیسٹ ھاؤس میں احرام بدلا اور کچھ تازہ دم ہوئے، رات کے کھانے کا اچھا انتظام تھا، اس سے فارغ ہوکر رات بھر آرام کیا، اور پھر صبح ہی ہماری فلائٹ مدینہ منورہ کے لئے تھی، سب دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے فوراً ناشتے سے فارغ ہو کر وہاں کے مقامی ائرپورٹ پہنچے، اور جو صاحب ہمیں رخصت کرنے آئے تھے ان کا شکریہ ادا کیا اور ائرپورٹ کی بلڈنگ میں داخل ہوگئے، فلائٹ بالکل تیار تھی، سیدھے وہیں سے ساماں کاونٹر پر حوالے کیا، وہاں سے دو بورڈنگ پاس حاصل کئیے لاونج میں سے ہوتے ہوئے بس میں جا بیٹھے، وہ ہمیں جہاز کے نذدیک لے گئی، سیڑھی پر چڑھتے ہوئے جہاز کے اندر داخل ہوگئے، جیسے ہی اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھے تو دیکھا کہ میری بیگم کے آنکھوں میں آنسو تھے، میں نے وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ“ میں اپنی خوش قسمتی پر جتنا ناز کروں کم ہے، کہ آللہ نے مجھے یہ دن دکھایا کہ میں نے آپ کے ساتھ عمرہ کیا اور اب مدینہ شریف کی زیارت کیلئے جا رہی ہوں“، !!!!!!!

مجھ گنہگار پر تو اللٌہ نے خاص طور سے کرم کیا ہوا تھا، ہر جگہ جہاں کی خواھش دل میں جاگی وہ پورا کرتا چلا گیا، اور پھر بیگم بھی بہت ہی زیادہ خوش تھیں کہ شادی کے فوراً ڈیڑھ سال بعد ہی انہیں یہ سعادت نصیب ہوگئی تھی، اور اب بھی جب ہم مکہ مدینہ کیلئے روانہ ہوتے ہیں تو راستے بھر ہماری بیگم کی آنکھوں میں آنسو ہی تیرتے رہتے ہیں، یہاں پر ہماری سب سے بڑی خواھش یہی رھتی ہے کہ جیسے ہی موقع ملتا ہے ہم فوراً ہی مکہ مدینہ جانے کی ٹھان لیتے ہیں، جب بھی ہم نے جانے کی نیت کی اللٌہ تعالیٰ نے فوراً ہی اس کی منظوری دلوادی،، جدہ میں جب تک تھے تو تقریباً ہر مہینے ہی اللٌہ تعالیٰ ہماری سن لیتا تھا، ریاض میں چھ مہینے یا سال میں ایک دفعہ ضرور جاتے ہیں، اب تو ہم دوبارہ واپس جدہ آچکے ہیں،!!!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-12-10, 05:03 PM   #52
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،- 4- شادی کے بعد بیگم کی ارض مقدس کی زیارتیں،!!!!!!!

مجھ گنہگار پر تو اللٌہ نے خاص طور سے کرم کیا ہوا تھا، ہر جگہ جہاں کی خواھش دل میں جاگی وہ پورا کرتا چلا گیا، اور پھر بیگم بھی بہت ہی زیادہ خوش تھیں کہ شادی کے فوراً ڈیڑھ سال بعد ہی انہیں یہ سعادت نصیب ہوگئی تھی، اور اب بھی جب ہم مکہ مدینہ کیلئے روانہ ہوتے ہیں تو راستے بھر ہماری بیگم کی آنکھوں میں آنسو ہی تیرتے رہتے ہیں، یہاں پر ہماری سب سے بڑی خواھش یہی رھتی ہے کہ جیسے ہی موقع ملتا ہے ہم فوراً ہی مکہ مدینہ جانے کی ٹھان لیتے ہیں، جب بھی ہم نے جانے کی نیت کی اللٌہ تعالیٰ نے فوراً ہی اس کی منظوری دلوادی،، جدہ میں جب تک تھے تو تقریباً ہر مہینے ہی اللٌہ تعالیٰ ہماری سن لیتا تھا، ریاض میں چھ مہینے یا سال میں ایک دفعہ ضرور جاتے ہیں، اب تو ہم دوبارہ واپس جدہ آچکے ہیں،!!!!!!!

1978 سے پہلے مجھ گنہگار کی دل میں سب سے بڑی خواھش یہ یھی تھی کہ میں ایک دفعہ یہاں ارض مقدسہ کی زیارت کرلوں، لیکن اس نے تو لگتا ہے کہ مجھے یہاں مستقل ہی بلالیا ہے، سبحان اللٌہ، یہ اللٌہ تبارک و تعالیٰ کا احسان ہے کہ میں نے یہاں سے تین مرتبہ نوکری چھوڑی بھی لیکن اس کی قدرت مجھے واپس یہاں لے آئی،!!!!!!

ایک واقعہ جو میں شاید پہلے بھی تحریر کرچکا ہوں کہ جب میں کسی وقت پینٹنگ کا شوق رکھتا تھا تو ایک بڑے بزرگ سے صاحب میری پینٹنگ کی دکان پر تشریف لائے تھے، اور مجھے اپنے گھر پر لے گئے اور کہا کہ یہاں دیوار پر کعبہ شریف اور گنبد خضرا کی تصویریں بنادو اور انہوں نے مجھے ایک اخبار پکڑا دیا جس میں دونوں مقدس جگہوں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں، میں نے پہلے کبھی ایسی مقدس مقامات کی تصویریں بنائی نہیں تھیں، میں نے پھر بھی ھامی بھر لی، اور واپس دکان جاکر ضرورت کا سامان مختلف رنگ اور برش وغیرہ لئے اور واپس سیدھا ان کے گھر آیا اور اخبار کو سامنے رکھ کر شروع ہوگیا، دیوار کو صاف کرکے پہلے چاک سے اسکیچ بنایا اور اس میں برش سے رنگ بھرنا شروع ہوگیا، میں کوئی اتنا مشاق یا ماھر پینٹر یا آرٹسٹ تو نہیں تھا، لیکن جب تصویر مکمل ہوگئی، تو مجھے خود حیرانگی ہوئی کہ اخبار میں چھپی ہوئی تصویر سے زیادہ خوبصورت دونوں لگ رہی تھیں، اور وہیں اسی جگہ شاید 1970 یا 1971 کا دور ہوگا، پھر سے ایک دلی خواھش بھی جاگ اٹھی تھی، کہ کاش اللٌہ تعالیٰ مجھے اس ارض مقدصہ پر پہنچادے، اس وقت وہ بزرگ بھی بہت ہی زیادہ خوش ہوئے تھے، وہ اس کمرے میں عبادت کیا کرتے تھے،!!!!!

شاید ان کی دعاء ہی تھی کہ اللٌہ تعالیٰ نے مجھے 1971 میں ہی ایسی کمپنی میں نوکری دلادی جس کے توسط سے 7سال بعد مئی 1978 میں میرا تبادلہ سعودیہ کردیا گیا، جبکہ والد صاحب اور میرے ہونے والے سسر بھی اسی کمپنی میں تھے، لیکن انہوں نے کبھی بھی میرے ٹرانسفر کی بات ہی نہیں کی تھی، اور وہ ابھی مجھے اپنے سے الگ بھی نہیں کرنا چاہتے تھے، اور مجھے قدرتی ایک دن سعودی عرب سے آئے ہوئے ڈائریکٹر صاحب نے زونل آفس میں بلوایا، جو یہاں‌ کے ڈائریکٹر صاحب کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے میرا تعارف کرایا، کہ میرے پاس یہ لڑکا سید ہے جو آپ کے معیار پر پورا اترے گا گو کہ میں اسکو خود نہیں چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن آپ نے مجھ سے سعودی عرب کے ایک نئے پروجیکٹ کیلئے ایک اکاونٹنٹ مانگا ہے، اس نے یہاں دو پروجیکٹ پر کام کیا ہے، اور ابھی اس وقت اس نے پورٹ قاسم کے پروجیکٹ کو شروع کیا ہے، پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم سعودی عرب جاؤ گے میں نے جواباً خوشی سے ہاں کردی، اور انہوں نے فوراً کہا کہ جاؤ تیاری کرو، میں تو حیران پریشان رہ گیا، کیونکہ ایک اکاونٹنٹ کی جگہ تھی اور پورے پاکستان میں اسی کمپنی میں مجھ سے بہت بہتر اور قابل لڑکے بھی موجود تھے، اور ہر ایک کی لازمی خواھش بھی تھی،!!!!!!

میں واقعی اپنی قسمت پر رشک کرتا ہوں، کہ اس سعودی عرب میں آنے کے بعد میری شادی ہوئی، اور اب اپنے بچوں کی شادیاں ہو رہی ہیں، اور اب تک میں یہیں ہوں، جبکہ تین دفعہ چھوڑ کر بھی گیا لیکن ہر بار واپس یہیں پہنچ گیا اور بس اب تو یہی ایک آخری ارزو ہے کہ موت بھی آئے تو حضورپاک(ص):saw: کے روضہ مبارک کی چوکھٹ پر آئے،،، آمین،!!!!!

بہار کا موسم، گرمیوں کی آمد آمد تھی اور سال 1981 کا تھا، اور ہم دونوں میاں بیوی ارض مقدسہ پر عمرہ اور زیارتوں کی سعادت حاصل کررہے تھے، اور اللٌہ تعالیٰ ہمیں تمام تر سہولتیں دئیے چلا جارہا تھا، جہاز میں یہی سوچتے سوچتے وقت گزر گیا، اور کچھ دیر بعد ہی ہمارا جہاز مدینہ منورہ کے ائرپورٹ پر اتر رہا تھا، وہاں سے ٹیکسی کے ذریئے ہم مسجد نبوی (ص) کے لئے روانہ ہوئے، دور سے جیسے ہی مسجد نبوی(ص) کے مینار نظر آئے، آنکھوں سے پھر ایک بار آنسوؤں کی جھڑ لگ گئی، راستے بھر درود شریف پڑھتے ہوئے حرم نبوی شریف (ص) پہنچے اور نذدیک ہی ایک ھوٹل جس کا نام “فندق الحرم“ تھا ابھی تک مجھے یاد ہے، وہاں ایک کمرہ کرایہ پر لیا، ھوٹل بہت اچھا تھا، سامان وغیرہ رکھ کر وضو کیا اور فوراً ہی نیچے اتر گئے، اور ہمارے قدم سامنے ہی مسجد نبوی (ص) کی طرف تیز تیز چلنے لگے، بیگم تو عورتوں کی جانب چلی گئیں اور میں دوسری ظرف سے اندر داخل ہوگیا اور سیدھا چلتا ہوا روضہ مبارک (ص) کے سامنے بیٹھ گیا، جہاں ایک کھلا صحن تھا اور وہاں سے گنبد خضریٰ بھی نظر آرہا تھا، اور نفل نمازؤں کے ساتھ ساتھ درود شریف کا ورد بھی زبان پر جاری تھا،!!!!

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
الصلوۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم

اللٰھمَ صلِّ علیٰ سیدنا ومولانا محمدوعلیٰ آلہ و صحبہ و بارک وسلم

اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید ہ
اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم انک حمید مجید ہ

اور ابھی بھی کوشش یہی کرتا ہوں کہ وہاں ہی جاکر بیٹھوں کیونکہ سامنے روضہ مبارک (ص) کی جالیاں اور نگاہ اوپر دوڑاؤ تو گنبد خضریٰ نظروں کے سامنے ہوتا ہے، سبحان اللٌہ،!!! وہاں ہم نے مغرب اور عشا کی نماز پہلے دن اور دوسرے دن فجر کی نماز کے بعد بیگم نے روضہ مبارک(ص) پر عورتوں کے اوقات میں سلام پڑھا اور درود شریف کا ورد کرتی رہیں، اور نوافل ادا کئے، میں نے تو مغرب اور عشاء کی نمازوں کے وقفہ میں ہی زیارت کرلی تھی، جب بیگم روضہ مبارک کی زیارت کی سعادت سے واپس آئیں تو پہلے سیدھا جنت البقیع کے مقام پر گئے، وہاں درود اور سلام ادا کرتے ہوئے تمام قبروں کی زیارت کی پھر ناشتے سے فارغ ہوکر وہاں سے شہر مدینہ کی اطراف کی باقی مقدس مساجد اور غزوات کے مقامات کی زیارتوں کے لئے ایک ٹیکسی کرایہ پر لی تاکہ ایک ہی وقت میں تمام زیارتوں کی سعادت بھی حاصل ہوجائے، مسجد قبا، مسجد قبلتین، سات مساجد غزوہ قندق کا مقام، غزوہ احد کا مقام کی زیارتوں کے وقت بھی ہمیں ایک عجیب سی روحانی تسکین اور سکون قلب حاصل ہو رہا تھا، سبحان اللٌہ،!!!!!

واپس آئے تو سیدھا ھوٹل گئے اور تازہ دم ہو کر دوپہر کے کھانے کے لئے پاکستانی ریسٹورنٹ میں گئے، کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو ظہر کی اذان ہو رہی تھی، اسلئے فوراً مسجد نبوی (ص) میں داخل ہوگئے، نماز پڑھ کر بازار سے کچھ تسبح اور جاءنمازیں خریدیں ساتھ ہی کھجور بھی وہاں کی تبرکات کے طور پر لیں، کیونکہ پاکستان میں اکثر لوگ وہاں کی تبرکات کی خواھشات رکھتے ہیں، اسی اثناء میں عصر کا وقت ہوگیا تھا فوراً ہی جلدی جلدی سارا سامان ھوٹل کے کمرے میں رکھا اور مسجد نبوی (ص) میں ‌عصر کی نماز پڑھی اور ساتھ ہی روضہ مبارک (ص) کی جالیوں کے ساتھ الوداعی سلام پڑھا اور درود شریف کاورد کیا ساتھ ہی تمام مقدس جگہوں پر نوافل ادا کئے، اور کیونکہ اسی روز شام کی ہماری وہاں سے ریاض کیلئے واپسی کی فلائٹ تھی، اس لئے ھوٹل میں جاکر سامان پیک کیا اور ھوٹل کا بل ادا کرکے ائرپورٹ بذریعہ ٹیکسی روانہ ہو گئے،!!!

راستے میں ہمیں افسوس ہو رہا تھا، کہ مسجد نبوی (ص) میں ہم صرف پانچ وقت کی ہی نمازیں ہی ادا کرسکے، یہ اللٌہ تعالیٰ کا کرم ہی رہا کہ کہ عمرہ اور زیارت بہت ہی سکون اور آرام سے ہوگیا جبکہ ہماری بیگم امید سے تھیں، اور انہیں اس بات کی یہ بھی خوشی تھی کہ پہلی اولاد کی امید کو اپنے بطن میں لئے عمرے اور زیارت کی سعادت حاصل کی، اور ہم دونوں نے بہت دعائیں کیں اس پہلی اولاد کی سلامتی کیلئے، کیونکہ اس سے پہلے تین دفعہ مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا تھا، لیکن اس دفعہ اپنے حبیب کے صدقے ہمیں کامل یقین تھا کہ اس دفعہ ہمیں اللٌہ تعالی اولاد کی نعمت سے محروم نہیں کرے گا، اور اللٌہ کی رحمت اور برکت سے ہی ہمارے گھر میں 21 دسمبر 1981 کو پہلے مہمان یعنی لڑکے کی ولادت ہوئی اور جس کا نام ہمارے والد صاحب نے “سید حبیب الرحمن“ رکھا،!!!!!!!

جاری ہے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-12-10, 05:23 PM   #53
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،- 5- شادی کے بعد نئے مہمان کی آمد اور حج کی تیاری، !

[B]راستے میں ہمیں افسوس ہو رہا تھا، کہ مسجد نبوی (ص) میں ہم صرف پانچ وقت کی ہی نمازیں ہی ادا کرسکے، یہ اللٌہ تعالیٰ کا کرم ہی رہا کہ کہ عمرہ اور زیارت بہت ہی سکون اور آرام سے ہوگیا جبکہ ہماری بیگم امید سے تھیں، اور انہیں اس بات کی یہ بھی خوشی تھی کہ پہلی اولاد کی امید کو اپنے بطن میں لئے عمرے اور زیارت کی سعادت حاصل کی، اور ہم دونوں نے بہت دعائیں کیں اس پہلی اولاد کی سلامتی کیلئے، کیونکہ اس سے پہلے تین دفعہ مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا تھا، لیکن اس دفعہ اپنے حبیب کے صدقے ہمیں کامل یقین تھا کہ اس دفعہ ہمیں اللٌہ تعالی اولاد کی نعمت سے محروم نہیں کرے گا، B]

غالباً اپریل یا مئی 1981 کا زمانہ تھا، موسم تقریباً خوشگوار ہی تھا، کچھ اتنی تپش بھی نہیں تھی، ریاض ائرپورٹ پر ہمارے سسر صاحب ساتھ ماموں سسر بھی موجود تھے، انکے ساتھ ہم اپنے ماموں سسر کے گھر پہنچے، آپ اس وقت سٹی بینک جو اب سعودی امریکن بینک ھے ،وہاں کے جنرل منیجر کے گھر پر ملازم تھے، انہیں بہت ہی اچھا گھر ملا ہو تھا، ہمیں انہوں نے سٹی بنک کے کمپاونڈ کے گیسٹ ھاؤس میں ٹھرایا تھا، بہت خوبصورت کمپاؤنڈ تھا، ہمارے سسر صاحب نے اپنے جاننے والے دوستوں کی فیملیز سے ہمارا تعارف کرایا، ساتھ ہم ان کے یہاں دعوتوں میں ‌بھی مدعو تھے اور خوب گھومایا پھرایا، بھر دوسرے دن ہماری فلائٹ دھران کے لئے تھی، ائرپورٹ پہنچے اور تقریباً ایک ہفتہ بعد ہم اپنے گھر پہنچے گئے، ہماری بیگم تو بہت خوش تھیں اور اپنی خوش قسمتی پر بہت ناز کررہی تھیں کہ شادی کے ڈیڑھ سال بعد ہی انہوں نے عرض مقدسہ جاکر عمرہ اور زیارات کرلیں، جو وہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھیں،!!!!!!

مجھے بھی اپنے آپ پر فخر تھا کہ اس سروس کی بدولت مجھے یہ سب کچھ اللٌہ تعالیٰ کے کرم سے نصیب ہوا، اور وہ دن آگیا جس دن ہماری بیگم کو واپس جانا تھا، اور پھر ہماری بیگم کو بہت احتیاط بھی کرنی تھی اور یہاں پر دیکھنے بھالنے کیلئے کوئی نہ تھا، اس لئے انہیں واپس جانا ضرور تھا، اور یہ وعدہ ضرور کیا تھا کہ میں خوشخبری والے دن پاکستان میں ہوں گا، اسی وعدے پر اپنی بیگم کو رخصت کیا، اور پھر یہاں تین مہینے گزار کر پاکستان واپس چلی گئیں، اس دوران ہمارے سسر صاحب بھی یہاں ہمارے ماموں سسر کے ساتھ تشریف لائے بھی تھے، اب تو ان کے بغیر تو یہاں پر میرا ایک ایک دن گزارنا مشکل ہوگیا تھا، !!!!

آخر وہ خوشخبری کا دن بھی آگیا کہ جس دن ہمارے گھر ایک ننھا مہمان کے آنے کی امید تھی، مجھے تو بہت ہی مشکل سے چھٹی ملی، میں تو فوراً ہی وہاں سے ایمرجنسی چھٹی پر پاکستان پہنچ گیا، پہچنے سے ایک دن پہلے ہی یعنی 21 دسمبر 1981 کو بیٹے کی ولادت ہوچکی تھی، مجھے نہیں بتایا گیا، کیونکہ میں ننھے مہمان کی آمد سے پہلے پہنچنا چاہتا تھا، خیر کراچی ائرپورٹ پر سب موجود تھے، وہاں پر سب لوگ مجھے مبارکباد دینے لگے، میرا تو خوشی کے مارے کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا، !!!!!!!!

ائرپورٹ سے گھر تو مجھے سب لے آئے، مگر اسپتال جانے کیلئے کہا گیا کہ شام تک چلیں گے، ابھی کھانا وغیرہ تو کھا لیں، اور کچھ تازہ دم بھی ہوجائیں، سردی بھی اچھی خاصی تھی، مگر میں تو بے چین تھا کہ پہلے اپنے بیٹے کو دیکھوں، ایک عجیب سا احساس انجانی سی خوشی میں اپنے اندر محسوس کررہا تھا، پہلی اولاد کی خوشی کا وہ احساس آج بھی مجھے یاد ہے، کتنا خوشگوار وہ حسین دن تھا کہ میں بیان نہیں کرسکتا، ہر ایک کے چہرے پر مسکراھٹ اور ہر کوئی خوشیوں سے پھولا نہیں سما رہا تھا، والدہ تو شاید اسپتال میں اپنی بہو کے پاس تھیں، والد کو تو بس میں کیا کہوں انکی خوشی سے کھلے ہوئے چہرے کو دیکھ کر میں بھی بہت خوش تھا، اور کیوں نہ ہو ان کے یہاں پہلا پہلا پوتا جو اللٌہ نے دیا ہے،!!!!!

کھانا بھی خوشی کے مارے کھایا نہیں گیا، مجھے تو شرم آرہی تھی کہ میں والد سے کہوں کہ مجھے اسپتال لے چلو، اور سب بہن بھائی مجھے کہہ رہے تھے، کہ اباجی سے پوچھو اور چلو، میری تو ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی، اور دل تو ویسے بہت بے قرار تھا، ایک اور محلے کی خالہ آئیں اور کہا، ارے بیٹا تم ابھی تک اپنے بیٹے کو دیکھنے کے اسپتال نہیں گئے، !!!! ابھی میں کچھ کہتا ادھر اباجی فوراً بول پڑے، اسپتال میں شام کو ملنے کے اوقات ہوتے ہیں، بس تھوڑی دیر میں چلتے ہیں،!!!

میں تو اس وقت بھی والد صاحب سے بہت ڈرتا تھا، میں تو مجبور تھا اور سارے میرے پیچھے پڑے تھے، آدھے تو پہلے ہی سے اسپتال میں ہماری والدہ کے پاس تھے، اور ہم یہاں بیٹھے ابا جی کے حکم کا انتظار کررہے تھے، آخر بڑی بی نے تنک کر کہا کہ،!!!! تم تو اب ایک بیٹے کے باپ ہوگئے ہو، اب ایسا بھی کیا ڈرنا، چلو میرے ساتھ چلو،!!!!

میں نے کہا کہ نہیں اباجی کے ساتھ ہی سب کو لے کر جاؤنگا،!!!! اور پھر تو وہ بڑی بی خود ہی یہ کہتی ہوئی نکل پڑیں، کہ میں خود ہی چلی جاؤنگی،!!!! اور وہ کسی ایک میرے بھائی کو لے کر چلی گئیں اور گھر پر شاید میرے ساتھ ایک بہن اور بھائی ہی گھر میں موجود تھے،باقی سب اسپتال ہی میں رونق جمائے ہوئے تھے، اور ہم تینوں یہاں اباجی کے حکم کا انتظار کر رہے تھے،!!!!

ہم سب تو تیار ہی تھے، ابا جی بڑی مشکل سے اٹھے، اور کہا کہ،!!! میں کہے دیتا ہوں میرے پوتے کا نام میں اپنی مرضی سے رکھونگا، کیونکہ سب لوگ نئے نئے ماڈرن نام رکھنے کے چکر میں ہیں،!!!! میں تو کچھ نہ بولا خاموشی سے گردن ہی ہلا دی، اور پھر بس اسٹاپ کی طرف چل دہیے، دو بسیں بدل کر ہم سب تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں اسپتال پہنچے، وہاں پر مجھے باھر باغیچہ میں سب لوگ مل گئے، خوب گھما گھمی لگی ہوئی تھی، سب کے مزے آرہے تھے، رونق لگی ہوئی تھی، میں تو بھائی کے ساتھ ہی زچہ بچہ وارڈ میں پہنچ گیا، وہاں ہماری اماں اور ساس صاحبہ کو دیکھا اور بچہ تو ایک جھولے میں تھا فوراً ہی بچے کی نانی نے اُٹھا کر مجھے دکھایا، اور میں تو بس دیکھتا ہی رہ گیا، کہ آج دیکھو میں بھی صاحب اولاد ہوگیا کل یہ بڑا ہوگا مجھے ابو ابو کہہ کر پکارے گا، ان چند لمحات میں نہ جانے اپنی سوچوں کو کہاں سے کہاں لے گیا،!!!!!

اسی بچے کو دیکھتے ہوئے بیگم کی طرف دھیان بالکل نہیں گیا، فوراً ہی ادھر اپنی بیگم کو دیکھا، انہوں نے تو اپنا چہرے کو چادر میں ہی چھپایا ہوا تھا، شاید وہ مجھ سے ناراض لگتی تھیں، یا شرما رہی ہونگی، میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ہم سے کس بات کا پردہ، !!!!! تو انکی ایک سہیلی نے جواباً کہا کہ،!!! جناب کچھ خبر بھی ہے آپ نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا،،!!! میں نے پوچھا کہ وہ کونسا وعدہ، !!!! جواب ملا کہ،!!! آپ جو تاخیر سے پہنچے ہیں،!!!! میں نے کہا کہ،!!! بھئی کیا کرسکتا ہوں مجبوری تھی، سیٹ ہی آج کی ملی تھی اور مجھے کیا خواب آیا تھا کہ صاحبزادے میرے آنے سے پہلے ہی وارد ہوجائیں گے،!!!!!!

سامنے سے والد صاحب وارڈ میں داخل ہوئے، اور سب طرف خاموشی ہوگئی، آتے ہی انہوں نے اپنا اعلان صادر فرما دیا، کہ میں نے اس بچے کا نام آج سے “سید حبیب الرحمٰن“ رکھا دیا ہے، مجھے تو یہ نام اچھا ہی لگا تھا اور سب لوگوں کو بھی بہت پسند آیا، جبکہ کچھ تو پہلے ہی اسکا نام “سید ذیشان“ رکھنے کا سوچ رہے تھے، لیکن والد صاحب نے جو نام رکھا تھا وہ سب کو ہی پسند آیا، ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں بکھری ہوئی تھیں، ہمارے ساس اور سسر بھی اپنے پہلے نواسے کو دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے اور والدین بھی پہلے پوتے کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے، آخر کار بیگم سے رہا ہی نہیں گیا اور انکی نطریں میری طرف جیسے ہی گھومیں میں نے بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں انہیں بیٹے کی مبارکباد دے دی،!!!!!!!

دسمبر 1981 کے آخری دن تھے اور سردی میں کچھ شدت بھی زوروں پر تھی، گھر میں خوشیاں ہی خوشیاں بکھری ہوئی تھیں، بیگم اسپتال سے گھر پر منتقل ہو چکیں تھیں، مگر وہ بہت ہی زیادہ غمزدہ تھیں، کیونکہ وہ نہیں چاھتی تھیں کہ میں اس طرح باہر رھوں، اور سال میں ایک دفعہ چھٹی میں ملاقات ہو، اور اب تو ایک بچے کی ذمہ داری بھی تھی، میں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ کچھ عرصہ مزید انتظار کرلو یا تو میں تمھیں مستقل ویزے پر بلوا لوں گا، یا پھر میں خود واپس اپنا تبادلہ پاکستان کرالونگا، اور میرا بھی اب بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا کہ واپس جاؤں، لیکن کیا کروں مجبوری تھی نوکری کا معاملہ تھا، اور بیگم نے بھی ڈھائی سال میں اب تک ایک دفعہ سعودی عرب کا چکر لگا چکی تھیں اور میں بھی یہ تیسری یا چوتھی مرتبہ پاکستان آیا تھا، لیکن پھر بھی ایک ایسا لگتا تھا کہ کچھ تشنگی باقی ہے،!!!!!!

شادی کے بعد ڈھائی سال میں اگر ڈھائی مہینے ساتھ رہیں تو یہ بھی ایک زیادتی ہے، میں نے یہ بھی سوچا کہ اگر کوئی بھی 20 سال کا عرصہ اگر باہر گزارتا ہے اور سالانہ چھٹی بھی آتا ہو تو اس 20 سال کے عرصہ میں صرف 20 مہینے یعنی کہ صرف دو سال سے بھی کم عرصہ وہ بھی قسطوں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزارنا بہت ہی زیادہ افسوس کی بات ہے،!!!!

میں نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی لیکن بیگم بضد ہی رہیں کہ اب اور اس سے زیادہ بالکل بھی نہیں!!!!، بیگم بھی اپنی جگہ ٹھیک تھیں اور میں اپنی نوکری کی وجہ سے بھی مجبور تھا، کوئی دوسری نوکری ملنا بھی مشکل تھا، اور گھر والے بھی یہی چاھتے تھے کہ میں واپس چلا جاؤں، اپنی کشتی تو ایک منجھدار میں ‌پھنسی ہوئی ھچکولے کھارہی تھی، مگر بیگم اپنی ضد پر ہی اٹکی ہوئی تھیں، مجبوراً مجھے قسم کھانا پڑی، کہ میں اب تمھیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگا، لیکن افسوس کہ میں حالات کے پیش نظر اپنی قسم کو برقرار نہ رکھ سکا، جس کا مجھے آج تک افسوس ہے، اور مجھے واپس جانا پڑا، اور اپنی بیگم کی آنکھوں میں آنسو دے کر رخصت ہوگیا، لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ میں جلد ہی بلوالونگا،!!!!!

لیکن جو میں نے قسم توڑی تھی اسکا بہت ہی افسوس ہوا، بہرحال اللٌہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے، واپس آکر چوتھے مہینے ہی میں نے دوبارہ بیگم اور بچے کا ویزا داخل کردیا اور بیگم اب دوسری مرتبہ اپنے بچے حبیب کے ساتھ پہنچ چکی تھیں، اور اس دفعہ سب سب بڑی بات کہ انہوں نے عمرہ کے ساتھ ساتھ حج کی سعادت بھی نصیب ہوگئی، اور ساتھ ہی انکی کچھ ناراضگی بھی کسی حد تک ختم ہو چکی تھی،!!!!!

اور ایک خاص بات کہ ہمارے بچے حبیب نے 6 یا 7 مہینے کی عمر میں ہم دونوں کے ساتھ 1982 میں سخت گرمیوں کے موسم میں حج کی سعادت بھی حاصل کی،!!!! میرا تو دوسرا حج تھا لیکن بیگم کا 6 مہینے کے بچے کے ساتھ یہ پہلا حج تھا، سخت ترین گرمیوں کے دن تھے، اور واقعی ہماری بیگم کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے اس بچے کے ساتھ اور دھران سے مکہ مکرمہ تک بزریعہ کار تقریباً 26 گھنٹے کا سفر کیا جو ہم دوستوں نے مل کر ایک حج کا قافلہ ترتیب دیا تھا، اور سب کی فیملیوں کے ساتھ مل کر تقریباً چار گاڑیوں کا انتظام کیا تھا، !!!!!

بعض اوقات تو یہ چھوٹا چھ سات مہینے کا بچہ حبیب الرحمٰن گرمی سے بے چین ہو کر بہت چیخ و پکار کرتا تھا، اور نماز پڑھتے ہوئے خانہء کعبہ میں حج کے دوران یہ تپتے ہوئے فرش پر تڑپ رہا ہوتا تھا، کئی دفعہ تو اسے گود میں اٹھا کر بھی نماز پڑھنی پڑی، حج کے مکمل ہونے کے فوراً بعد ہی حبیب کی والدہ برداشت نہ کر سکیں اور بے ھوش ہوگی تھیں، جنہیں میں اپنے دوست کی گاڑی میں اسی بے ھوشی کے عالم میں طائف لے آیا تھا، جہاں ہماری کمپنی کا رھائیشی کمپاونڈ تھا، وہاں پر جاکر کچھ دوائی وغیرہ کھلائیں اور پورا دن آرام کیا تب کہیں جاکر وہ کچھ سنبھل گئیں، !!!!!!

یہ اللٌہ کا کرم و مہربانی ہی کی وجہ سے اور پیارے حبیب (ص) کے صدقے انکا حج مکمل ہوچکا تھا، اور حج کے بعد تو ہمارا بیٹا اور بھی صحت مند اور سب کی آنکھوں کا تارا ہوگیاا، اس کی معصوم شراتیں آج بھی مجھے یاد ہیں!!!!!


جاری ہے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-12-10, 05:53 PM   #54
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،- 6- سعودیہ سے تبادلہ اور ایک بیٹی کی خوشخبری،!!!!

یہ اللٌہ کا کرم و مہربانی ہی کی وجہ سے اور پیارے حبیب (ص) کے صدقے انکا حج مکمل ہوچکا تھا، اور حج کے بعد تو ہمارا بیٹا اور بھی صحت مند اور سب کی آنکھوں کا تارا ہوگیاا، اس کی معصوم شراتیں آج بھی مجھے یاد ہیں!!!!!

اگست کا مہینہ تھا اور 1982 کا سال، گرمیوں کے دن اور ارض مقدسہ پر اپنے پہلے بیٹے اور بیگم کے ساتھ ایک ایسی خوشی جو شاید میں نے کبھی اپنی زندگی کبھی محسوس نہیں کی تھی، پہلی اولاد کو اپنے سامنے معصوم سی شرارتیں کرتے ہوئے دیکھنے میں جو مسرت ہوتی ہے کہ میں بتا نہیں سکتا، تین مہینے بھی دیکھتے ہی دیکھتے گزر گئے، اور بیگم اور بیٹے کا ویزا بھی ختم ہو رہا تھا، اور ان کو واپس جانا تھا، واسی کیلئے مجھے دھران سے ریاض واپس آنا تھا، کیونکہ وہاں سے ہماری بیگم کے بڑے بھائی جو ایک سال پہلے ہی اسی کمپنی میں ٹرانسفر ہوکر آچکے تھے۔ اور وہ اب چھٹی واپس جارہے تھے، ان کے ساتھ ہی میں نے سوچا کہ واپس بھیج دوں، اسی لئے ایک دن پہلے ہی میں ریاض پہنچ چکا تھا، ہمارے سسر بھی وہیں پر تھے انہیں کے ساتھ سارا دن گزارا اور رات کے وقت کی فلائٹ تھی،!!!

جب رات کو ائرپورٹ سے واپس چھوڑ کر آئے تو میرا دل بہت اداس تھا اسی اداسی میں دوسرے دن میں بھی دھران واپس پہنچ گیا، یہاں پر بھی کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا، تین مہینے بعد میری بھی چھٹی جانے کا وقت آرہا تھا، بڑی مشکل سے وقت گزرا ادھر ہماری بیگم بھی پاکستاں میں بہت ہی اداس تھیں، مگر ان کے ساتھ تو ہمارا بیٹا بھی تھا، جس کے سہارے وہ اپنا کچھ جی کو بہلا بھی رہی تھیں، اور یہ بھی امید تھی کہ میں بھی پہنچ جاؤنگا، مگر ان کی ضد بھی تھی کہ یا تو میں پاکستان واپس آجاؤں یا پھر میں انہیں یہاں سعودیہ بلوالوں، جوکہ ابھی فی الحال ممکن نہیں تھا، ایک تو میں ابھی کمپنی میں اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ اپنے ساتھ فیملی رکھ سکوں، اور اس کے علاؤہ سارے اخراجات بھی مجھے خود کرنے پڑتے اور اس تنخواہ میں گزارا بھی مشکل ہوتا،،!!!!!

میں خود بھی اپنے آپ کو سمجھا نہیں پا رہا تھا، اور دھران کا بھی پروجیکٹ مکمل ہوچکا تھا، اور تقریباً کافی اسٹاف جدہ کے نئے اسٹیڈیم کے پروجیکٹ پر ٹرانسفر بھی ہوچکے تھے، یہاں بھی مجھے چار سال سے زیادہ قیام کو ہوچکے تھے، اور مجھے بھی آخر میں یہاں سے تمام حساب کتاب ختم کرکے واپس جانا تھا، لیکن ایک دو نئے پروجیکٹ یہاں کے ایک نذدیکی کے علاقے الہفوف میں مل جانے کی وجہ سے مجھے کچھ عرصہ کیلئے یہاں دھران میں ہی روک دیا گیا تھا، مگر میرا دل اب بالکل ہی نہیں لگ رہا تھا، میں نے فوراً ہی وہاں پر اپنی کمپنی کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ میرا تبادلہ واپس پاکستان کردیا جائے، لیکن انتظامیہ نے منظوری نہیں دی بلکہ انھوں نے مجھے مستقل فیملی ویزے کی پیشکش دے دی اور ساتھ ہی فیملی کے سال میں آنے جانے کا ہوائی جہاز کا ٹکٹ اور ساتھ ہی رھائش اور میڈیکل کی سہولت بھی دینے کا وعدہ کیا، مگر تنخواہ میں اضافے کیلئے نئے ایگریمنٹ تک انتظار کرنے کیلئے کہا گیا جس کیلئے شاید ابھی ایک سال اور باقی تھا، میں نے انکار کردیا، میں مزید ایک سال تک انتظار نہیں کرسکتا تھا،!!!!!

آخر میں یہی فیصلہ ہوا کہ میں اپنی اس سال کی چھٹی گزار کر آجاؤں اس کے بعد تنخواہ کے بارے میں فیصلہ کریں گے، میں نے بھی اسی کو بہتر جانا اور چھٹی چلا گیا، اور پھر اپنے بچے اور بیگم کے ساتھ اور والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ کچھ دن ھنس بول کر گزارے، لیکن اس دفعہ چھٹیوں میں وہ بات نہیں تھی، کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ پھر واپس اکیلے جانا ہے اور نہ جانے وہاں پر کیا فیصلہ ہو، شادی سے پہلے تو انسان کسی نہ کسی طرح گزار لیتا ہے، لیکن شادی کے بعد اکیلے کہیں بھی رہنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے، لیکن کئی لوگ ایسے بھی میں نے دیکھے جو اپنے بچوں سے ملنے کئی کئی سال تک اپنے گھر نہیں جاتے، اور نہ جانے کس مجبوری کے تحت اتنا بڑا دل کر لیتے ہیں،!!!!!

اس دفعہ بھی چھٹی گزار کر آ تو گیا لیکن دل بالکل نہیں لگ رہا تھا، 1982 کے سال کا آخیر تھا سردیوں کے دن تھے، اور بس میں نے آتے ہی جب بالکل برداشت نہیں ہوسکا، تو انتظامیہ کو ایک اپنے پاکستان تبادلے کی درخواست دے دی، جواب یہ ملا کہ کہ متبادل اسٹاف کے آتے ہی آپ کی درخوست پر غور کیا جائے گا، اور اسی طرح کرب و الم کے عالم میں تین مہینے مزید گزر گئے، مجبوری تھی اور ادھر اپنی بیگم سے بھی گلہ شکوے سے بھر پور خط و کتابت جاری تھی، والدین نے بھی یہی کہا کہ بہتر ہے کہ اپنا تبادلہ پاکستان کروالو،

میری کچھ طبعیت بھی بہتر نہیں تھی، نیا سال 1983 کا مڈل بھی شروع ہونے والا تھا لیکن انتظامیہ پر میری تبادلے کی درخواست پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا، اب میں نے ہفتہ میں دو تین وہیں پر ڈاکٹر سے میڈیکل چھٹیاں لینی شروع کردی، اور دیر سے دفتر جانے لگا، وہاں کے پروجیکٹ مینیجر کو شاید میری حالت پر رحم آیا، انھوں نے بھی سفارش کردی کہ میں اس حالت میں یہاں کام کرنے کے کہ قابل نہیں ہوں فوراً ہی پاکستان ٹرانسفر کیا جائے، اللٌہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور تھا مجھے کہا گیا کہ آپکا ٹرانسفر راولپنڈی کردیا گیا ہے کیا آپکو منظور ہے، وہاں کے افسران بالا حضرات یہ سمجھے کہ شاید میں راولپنڈی جانے سے انکار کردونگا، کیونکہ میرے تمام گھر والے مکمل طور پر کراچی میں ہی رھائش پزیر تھے، مگر میں نے فوراً حامی بھر لی، اور اس ظرح سال کے مڈل تک میں نے اپنا حساب کتاب لے کر کراچی پہنچ کر ہی سکون کا سانس لیا،!!!!!

کراچی پہنچتے ہی میں نے تیزگام سے راولپنڈی کیلئے ائرکنڈیشنڈ سلیپر کے تیسرے دن کی دو ٹکٹ کی سیٹیں کرالی، بیگم اور اپنے بیٹے کے ساتھ پھر ایک اور اتفاق کہ کافی دنوں بعد پھر اپنی پسندیدہ ٹرین تیزگام سے سفر کرنے کا اتفاق ہورہا تھا،!!!!

آج پھر میں تیزگام سے راولپنڈی کیلئے سفر کررہا تھا، مگر اپنی بیگم اور بچے کے ساتھ، 1983 کا سال اور مہینہ شاید مئی یا جون کا تھا، گرمیوں کے دن تھے، اس لئے ائرکنڈیشنڈ سلیپر میں سفر کررہا تھا، مجھے اپنے بچے کی زیادہ فکر تھی، میں کبھی خود کبھی بچپن سے اسی تیزگام میں اپنے والدین کے ساتھ سفر کرتا رہا، اور آج میرا بیٹا جو تقریباً ڈیڑھ سال کا ہونے والا تھا آج وہ اپ ہمارے ساتھ اسی تیزگام میں سفر کررہا ہے، مگر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ کہ وہ ائرکنڈیشنڈ بوگی میں سفر کررہا ہے، جس میں بہت سکون ہے، کوئی بھی باھر کی آوازیں نہیں آرہی، کھڑکی مکمل طور پر بند ہے، بس باھر کا منظر دیکھ ہی سکتے ہیں، کوئی آواز سن نہیں سکتے، اور نہ ہی کھڑکی سے کسی کو آواز دے سکتے ہیں، بس ٹرین جب چلتی ہے تو بہت ہی آھستہ اسکی مدھم سی کھٹ کھٹا کھٹ کے سر سنائی دیتے ہیں، !!!!!

خیر وہ بات نہیں تھی، کیونکہ مجھے تو باھر کی آوازوں میں دلچسپی تھی، ایک چھوٹا سا ایک کمپارٹمنٹ ہی تھا، دروازے کو بھی لاک کرکے رکھا ہوا تھا، مسافروں کا بھی کوئی شور نہیں تھا، لگتا تھا کہ اپنی ہی ایک دنیا ہے، بس اپنے بچے سے کھیلتے خوش گپیاں کرتے ہوئے وقت کو پاس کررہے تھے، کبھی دروازے پر دستک ہوتی تو سامنے یا تو ٹکٹ چیکر ہوتا یا ڈائیننگ کار کا ویٹر، اور کوئی شور شرابا نہیں تھا، ضرورت کی چیزیں سب موجود تھیں، بس ویٹر سے کھانے کے وقت کچھ لنچ ، ڈنر ایک دفعہ صبح کا ناشتہ منگوالیا تھا، ایک دو دفعہ چائے بھی منگوالی تھی، دوسرے دن تیزگام لاھور کے اسٹیشن پر تھی، اور جب وہاں سے چلی تو مزید چھ یا سات گھنٹے میں راولپنڈی پہنچ گئی،!!!!!!

آج میں تیزگام کے سفر کو زیادہ طول نہیں دونگا، کیونکہ اس سفر میں اپنی ایک پہچان، اپنی سوچ، اپنی ایک امنگ نہیں نظر آئی، وہ خوشی وہ مسرت مجھے دکھائی نہیں دی، میں خود حیران پریشان تھا کہ مجھے وہ اس سفر میں اپنا پن نظر نہیں آرہا تھا جبکہ میرے ساتھ میری بیگم اور ایک ھنستا مسکراتا سا بچہ بھی تھا لیکن نہ جانے کیوں ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہورہی تھی، !!!!

وجہ جو مجھے نظر آئی وہ یہ تھی کہ میں آج سب سے الگ تھلگ سفر کررہا تھا، ایک ائرکنڈیشنڈ سلیپر کے کمپارٹمنٹ میں، جو کہ چاروں طرف سے سیل بند تھا، سوائے ٹرین کی ھلکی سی کھٹ کھٹا کھٹ سنائی دے رہی تھی، لوگوں کا ھجوم بھی آس پاس نہیں تھا، شیشے کی کھڑکی بھی بند، باھر کی آواز اندر نہیں آسکتی تھی، اسٹیشن کی گھما گھمی نظر تو آتی تھی لیکن بے آواز تھی، چیزیں بیچنے والے باھر آوازیں لگا رہے تھے لیکن بند شیشے سے ہم باھر تو دیکھ سکتے تھے لیکن باھر سے وہ لوگ ہمیں دیکھ نہیں سکتے تھے، اپنے لوگوں سے یہ کیسی دوری تھی اپنی ثقافت سے جڑے ہوئے ان سادہ لوح لوگوں سے ہم لوگ بہت ہی دور ہوتے جارہے تھے،!!!!

آج کیونکہ اب اتنی حیثیت بڑھ گئی تھی، کہ ھر باحیثیت آدمی کو صرف اپنی سہولت نظر آتی تھی، کسی عام آدمی کی زندگی سے کوئی غرض نہیں تھا، وہی عام ادمی جو غریب ضرور ہے، لیکن اس کے دل میں ایک عزم ایک جوش ہے، اسکی زندگی میں ایک خوشی ہے وہ جس بھی حالت میں ہے ہر لمحہ کو دوسروں کیلئے وقف کردینا چاھتا ہے، وہ ھر اپنی خوشی کو دوسروں میں بانٹنا چاھتا ہے ھر ایک کو عزت اور احترام سے ادب سے دیکھتا ہے، لیکن آج جس کے پاس کچھ تھوڑا سا بھی پیسہ آجائے تو وہ ان سب خوشیوں سے اپنا منہ موڑ لیتا ہے اور ھر کسی کی خوشی کو چھین کر اس پر قبضہ کرنا چاھتا ہے، اور جب انہیں ان لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ انہی عام لوگوں کے گھروں پر دستک دیتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں، صرف ایک ایک ووٹ کیلئے،!!!!

خیر بات ہورہی تھی راولپنڈی کے اسٹیشن کی جہاں تیزگام پہنچ چکی تھی، میرا ایک دوست مجھے لینے آیا ہوا تھا، جسے میں نے پہلے سے ہی اطلاع دی ہوئی تھی، جبکہ ابھی تک کوئی رھائش کا بندوبست نہیں ہوا تھا، مگر اس نے وعدہ کیا تھا کہ جب میں وہاں پہنچ جاؤں تو مکان تلاش کرلیں گے، فی الحال وہ ھمیں اپنے گھر لے گیا، اور کچھ دن تک ان کے گھر ویسٹریج کے ایک علاقے میں ٹہرے رہے، اور وہاں سے میں مکان کی تلاش کے ساتھ ساتھ ڈیوٹی پر بھی جارھا تھا، بڑی مشکل سے ایک مکان ٹینچ بھاٹہ میں ایک چھوٹا اچھا مکان مل گیا، نیچے مکان مالک اور انکی فیملی رھتی تھی اور اوپر ہم نے500 روپے کرایہ پر مکان لے لیا تھا، جو آج کل چھ ہراز تک کرایہ پر مل جائے تو بھی غنیمت ہے، اور اس وقت تنخواہ 2500 تک تھی، 1983 میں بھی کہتے تھے کہ مہنگائی ہے، کیونکہ جب 1972 میں میرا ٹرانسفر یہاں ہوا تھا تو اس وقت یہی مکان 50 روپے کرائے پر باآسانی سے مل جاتا تھا، مگر اس وقت تنخواہ 200 سے 300 تک مل جاتی تھی اور آرام سے گزارا ہوجاتا تھا، لیکن اب تو 20 ہزار روپے بھی تنخواہ ہو تو گزارا نہیں ہوتا،!!!!!

بہرحال اس تنخواہ میں گزارا مشکل سے ہوتا تھا، جو کچھ بھی ساتھ سعودیہ سے پیسے ملے تھے، یہاں سب برابر ہی ہوگئے، وہاں پہنچنے کے ایک سال بعد 1984 فروری میں ایک ہماری بیٹی کا اضافہ ہوگیا، اسی دوران ایک دوسرے مکان جو دفتر کے نذدیک تھا شفٹ ہوگئے، جس کا کرایہ 600 روپے تک تھا اور تنخواہ میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا تھا، شاید 300 روپے تک بڑھ چکے تھے، اور اب تو چھوٹا بھائی بھی یہیں ساتھ ہی تھا اسے بھی یہاں ایک ادارے میں سروس مل گئی تھی،!!!!! اور وہ ھمارے ساتھ ہی رہ رہا تھا،!!!!!

لیکن 1985 کے درمیان ایک چھوٹی سی بات پر غصہ میں آکر یہاں 15 سال کی اچھی خاصی نوکری چھوڑ دی، اور مجھے واپس کراچی واپس آنا پڑا اور ایک رینٹ اے کار میں ملازمت ملی لیکن تنخواہ 2500 روپے تھی، اس دفعہ مجھے بہت تکلیف اٹھانی پڑی، مجھے اپنی پچھلی نوکری کو چھوڑ کر بہت ہی پریشانیاں اٹھائیں، لگی لگائی روزی کو اس طرح چھوڑنا اللٌہ کو بھی ناگوارگزرتا ہے، میں چار سال تک بہت ہی مشکلات اور تکلیفوں سے دوچار رہا جو میں اگلی نشست میں بیان کرونگا، اپنے دوستوں سے یہی التجا ہے کہ بغیر کسی وجہ کہ نوکری چھوڑ دینا اچھی بات نہیں ہے، کہ میں نے چار سال تک جو پریشانیاں اٹھائیں، وہ میرا دل ہی جانتا ہے،!!!!!

میں نے یہ بہت غلطی کی تھی کہ جذبات میں آکر اتنی پرانی سروس چھوڑدی، مگر جس دن نوکری چھوڑی اسی دن شام کو دفتر میں اسلام آباد سے ایک دوست کا ٹیلیفون آگیا، کہ انکے آفس کی کراچی کی برانچ میں ایک اکاونٹنٹ کی جگہ خالی ہے، یہ دوست بھی میرے ساتھ اسی کمپنی میں تھا اور بہت پہلے ہی یہاں سے جا چکا تھا، نہ جانے اسے کیسے پتہ چلا کہ میں نے یہ سروس چھوڑ دی ہے،!!!!!

میں اسی دن دوست کے ہیڈ آفس اسلام آباد پہنچا اور اس نے اپنے اکاونٹس منیجر سے ملا دیا، بس انہوں نے دو چار باتیں کیں اور تنخواہ 2500 روپے پتائی اور انکی کمپنی جو ایک انٹرنیشنل رینٹ-اے- کار کمپنی تھی، اور اتفاق دیکھئے اسی دن انہوں نے مجھے تقرری کا لیٹر بھی دے دیا اور ساتھ ہی اسلام آباد سے کراچی کا ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھی تھما دیا، اور تاکید کی کہ میں فوراً ہی کراچی پہنچتے ہی وہاں کے منیجر کو رپورٹ کروں، میں نے کہا کہ مجھے یہاں سے اپنا فائنل حساب کتاب بھی لینا ہے اور اس کے لئے مجھے کم از کم دو دن درکار ہیں، لیکن وہ نہیں مانے کہنے لگے کہ وہاں پر آپکا کل پہنچنا بہت ضروری ہے ورنہ کسی اور نے اگر ڈیوٹی پر رپورٹ کردی تو پھر مشکل ہو جائے گی، کیونکہ ہم نہیں‌چاہتے کہ وہاں پر ہماری مرضی کے بغیر کسی کی تقرری ہو،!!!!!

بیگم اور دونوں بچے تو ایک ہفتہ قبل ہی کراچی کسی تقریب کے سلسلے میں جاچکے تھے، اور مجھے یہاں چھٹی نہیں مل رہی تھی، اور ایک یہ وجہ بھی تھی کہ مجھے نوکری چھوڑنی پڑی، دوسرے دن صبح پرانی کمپنی سے جلدی جلدی حساب کتاب لے کر، اور اپنے چھوٹے بھائی کو جو میرے ساتھ ہی رھتا تھا، اسکے حوالے تمام سامان کیا، اس ہدایت پر کہ اگر اچھی قیمت ملتی ہے تو بیچ دینا ورنہ کراچی کارگو کروا دینا، جلدی جلدی میں دو سوٹ کیس میں جو کپڑے اور ضروری چیزیں تھیں، انہیں پیک کیا، اور اسلام آباد ائرپورٹ پہنچ گیا، سب کو اظلاع پہلے ہی دے چکا تھا، اور سب وہاں حیران تھے، کہ میں بذریعہ ہوائی جہاز آرہا تھا، کیونکہ اندرونی ملک یہ میرا پہلا ہوائی سفر کا اتفاق تھا،!!!!

کراچی ائرپورٹ سے جیسے باھر نکلا تو دیکھا کہ ایک باوردی ڈرائیور اس رینٹ-اے-کار کا ایک بورڈ لئے کھڑا تھا، جس پر میرا نام لکھا تھا، میں نے اسے ہاتھ سے اشارا کیا اس نے فوراً ہی مجھے سلام کیا اور مجھ سے سامان کی ٹرالی لے لی، اور پارکنگ کی طرف چل پڑا، میں بھی اسکے پیچھے، اور تمام گھر والے بھی ائرپورٹ پر موجود تھے، سب سے ملا، اور سب حیران کہ میں نے پہلی مرتبہ سوٹ اور ساتھ ٹائی لگا رکھی تھی، سب گھر والے بھی پریشان کہ ایک تو سوٹ ٹائی میں ملبوس اور دوسرے کسی کمپنی کی گاڑی مجھے لینے آئی تھی، گھر والے تو سوزوکی پک اپ میں آئے تھے، کچھ تو میرے ساتھ بیٹھ گئے، اور میرا سامان کو ڈرائیور نے ایک سوٹ کیس تو اپنی کار میں ڈالا اور دوسرا سوٹ کیس اور باقی سامان پک اپ میں رکھ دیا، اور پھر گھر کی طرف روانہ ہوگئے،!!!!!

جاری ہے،!!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-12-10, 06:35 PM   #55
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default بھولی بسری یادیں،!!!!! دوسرا حصہ،- 7- نئی ملازمت اور دوسرے بیٹے کی پیدائش اور مشکلات

کراچی ائرپورٹ سے جیسے باھر نکلا تو دیکھا کہ ایک باوردی ڈرائیور اس رینٹ-اے-کار کا ایک بورڈ لئے کھڑا تھا، جس پر میرا نام لکھا تھا، میں نے اسے ہاتھ سے اشارا کیا اس نے فوراً ہی مجھے سلام کیا اور مجھ سے سامان کی ٹرالی لے لی، اور پارکنگ کی طرف چل پڑا، میں بھی اسکے پیچھے، اور تمام گھر والے بھی ائرپورٹ پر موجود تھے، سب سے ملا، اور سب حیران کہ میں نے پہلی مرتبہ سوٹ اور ساتھ ٹائی لگا رکھی تھی، سب گھر والے بھی پریشان کہ ایک تو سوٹ ٹائی میں ملبوس اور دوسرے کسی کمپنی کی گاڑی مجھے لینے آئی تھی، گھر والے تو سوزوکی پک اپ میں آئے تھے، کچھ تو میرے ساتھ بیٹھ گئے، اور میرا سامان کو ڈرائیور نے ایک سوٹ کیس تو اپنی کار میں ڈالا اور دوسرا سوٹ کیس اور باقی سامان پک اپ میں رکھ دیا، اور پھر گھر کی طرف روانہ ہوگئے،!!!!!

تمام گھر والے حیران پریشان ہوگئے کہ یہ کیا ماجرا ہے، ایسی آؤ بھگت اور وہ بھی نئی کمپنی کی جانب سے، شاید کوئی بڑی افسری کی نوکری مل گئی ہے، مجھے تو صرف اکاونٹنٹ کی ہی نوکری ملی تھی، میں نے بھی سب کے سامنے ذرا اپنی گردن اکڑا لی، گھر پہنچ کر میں نے کمپنی کے ڈرائیور کو کچھ دیر رکنے کے لئے کہا، گھر پر ایک پیالی چائے پی کر اور سب سے مل کر اسی کار میں بیٹھ کر آفس پہنچ گیا، وہاں کے منیجر سے ملاقات ہوئی، بہت ہی نفیس انسان تھے،!!!

باقی اسٹاف سے بھی ملاقات ہوئی، کوئی زیادہ اسٹاف نہیں تھا 20 کے قریب ڈرائیور حضرات تھے، اور ہر ایک پاس شیڈیول کے مطابق کاریں تھیں ایک ہمارا کاونٹر 5 اسٹار ھوٹل میں تھا، منیجر اور اکاونٹنٹ کے علاوہ ایک ایڈمن اسٹنٹ ایک اکاونٹس کلرک، اور ایک سپروائیزر اور 6 کاونٹر اسٹنٹ تھے، اور ایک چوکیدار بھی تھے جو رات کو تمام کاروں کی دیکھ بھال پر مامور تھے، جو مختلف اوقات میں ڈیوٹی انجام دیتے تھے، بہرحال سب سے ملاقات کرائی گئی سب پہت اچھے تھے، مجھے سب سے مل کر خوشی ہوئی،!!!!

کافی رات تک وہاں کا نطام دیکھا اور سمجھنے کی کوشش کرتا رہا اور اسلام آباد سے بھی کچھ تھوڑا بہت سمجھ کر آیا تھا، سارے سسٹم کو سمجھنے میں مجھے ایک ھفتہ لگا، اور پھر شروع ہوگیا، اور اللٌہ کے کرم سے وہاں کا بزنس بھی بڑھتا گیا، میری تنخواہ ایک سال میں بڑھا دی گئی اور ساتھ ھی عہدہ بھی بڑھا دیا گیا، میرے کام سے انتظامیہ بھی خوش تھی، بس خوش وہ لوگ نہیں تھے، جن کی اوپر کی آمدنی میری وجہ سے کھٹائی میں پڑگئی تھی، انہیں میری ترقی سے بھی کچھ حسد سی ہو گئی تھی اور مجھے یہ بالکل قطعی علم نہیں تھا کہ مجھ سے کچھ لوگ نالاں بھی ہیں، اور میرے خلاف سازشوں کا جال بن رہے ہیں، اور گروپ بندی خاموشی سے ہو رہی تھی، اور میں بالکل بے خبر اپنے کام میں مصروف تھا!!!!!

اسی دوران 5 نومبر 1985 ہمارے یہاں ایک اور بیٹے کی پیدائش ہوئی، جس کا نام سید دانش رکھا گیا، لیکن افسوس کہ اس کی پیدائش کے فوراً بعد ہی وہ بہت سخت بیمار ہوگیا جسے شاید سوکھے کی بیماری کہتے ہیں، اور اس کی پیدائش کے تقریباً 6 مہینے تک ہم دونوں میاں بیوی اسے گود میں اٹھائے اٹھائے نہ جانے کتنے ڈاکڑوں حکیموں، یہاں تک کہ عالموں اور مولویوں سے رجوع کیا اس کے علاوہ دو تین اسپتال میں بھی یہ ننھی سی جان داخل رہی، لیکن ھر طرف سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا آخرکار سب نے صاف جواب دے دیا کہ اس کا بچنا پہت مشکل ہے بس اللٌہ سے دعاء کریں،!!!!!!

جہاں تک بیماری کا تعلق ہے، اسکے لئے علاج اور معالجہ کی سہولت کو بروئے کار ضرور لانا چاھئے، علاج سنت بھی ہے، اور دل کو ایک اطمنان بھی حاصل ہوجاتا ہے، لیکن کئی دفعہ بہت سے واقعات ایسے بھی رونما ہوئے ہیں کہ بغیر علاج کے بھی شفا ملی ہے اور کئی ایسے بھی واقعات دیکھنے میں آئے ہیں، جو کافی علاج کے بعد بھی افاقہ نہ ہوا، اور اللٌہ توکل سے ہی وہ بیماری ختم ہوگئی، اور کئی تو وفات بھی پا گئے، جہاں علاج معالجہ کا حکم ہے، وہاں بعض علاج میں ناکامی کے بعد اللٌہ تعالیٰ کے مکمل یقین اور دعاؤں کے ساتھ عقیدت سے بھی شفا ملی ہے !!!

میرا دوسرا بیٹا جو پیدا ہونے کے چھ ماہ بعد تک مسلسل بیمار رہا اور ہم نے ان چھ مہینوں کے دوران تمام بڑے اسپتالوں، بہترین ڈاکڑوں، مستند طبیبوں، کے علاؤہ عاملوں، مولویوں، دیسی ٹوٹکے اور جو کچھ بھی ہم سے ہوسکتا تھا ہم نے سب آزمالئے، لیکن کہیں بھی اسکی صحت بہتر نہ ہو پائی اور روز بروز وہ بلکل کمزور ہوگیا، دو تین دفعہ تو کئی کئی دن اسپتالوں میں داخل بھی رہا اور سب نے بالآخر یہ شبہ ظاھر کردیا، کہ یہ اس کا بچنا بہت مشکل ہے بس کوئی اللٌہ تعالیٰ کی طرف سےمعجزہ یا دعاء ہی اس کو بچا سکتا ہے، اور سونے پر سہاگہ کہ آخر میں اسے خسرہ کے دانے نکل آئے، جس سے تو رہی سہی امید بھی ختم ہوگئی تھی، اور ہم بس کرگئے اور جو علاج چل رہا تھا ہم نے بند کردیا اور یہ واقعہ میری زندگی کا سب سے بڑا صبر آزما دور تھا، مگر ہم میاں بیوی پھر بھی اللٌہ کی ذات سے مایوس نہیں ہوئے، اور ہم نے بس اللٌہ تعالیٰ سے دعاؤں پر ہی اکتفا کیا،!!!!!

اور آپ یقین جانے کہ خسرہ کے دوران اسکی بے ھوشی اور سکتے کا عالم ایسا تھا کہ اکثر نے تو اس کے لئے موت کی دعاء مانگی کہ اس کو اس مشکل سے اللٌہ تعالیٰ نجات دلادے، مگر اگر اسے کچھ ہوجاتا تو یہ ہم دونوں کے لئے یہ بہت مشکل تھا کہ اپنے آپ کو سنبھال سکتے، شاید پاگل ہی ہوجاتے، میری بیوی کی حالت تو پہلے سے ہی بالکل غیر تھی، مگر ہم دونوں نے صرف اور صرف اللٌہ تعالیٰ کی ذات سے ہی امید رکھی اور اس بات کا مکمل یقین بھی رکھا کہ وہ ہمارے بیٹے کو اپنے حبیب (ص) کے صدقے شفا ہی دے گا،!!!!!

اور جیسے ہی خسرہ کے دانے مندھم پڑے میرا بیٹا آھستہ آھستہ ٹھیک ہونا شروع ہوگیا، اور چند ہی دنوں میں بالکل صحت مند ہوگیا، سبحان اللٌہ کیا اللٌہ کی شان تھی، جو کسی علاج سے ٹھیک نہیں ہو سکا وہ اللٌہ کی دی ہوئی ایک دوسری بیماری کے بعد ایک معجزے کی طرح ٹھیک ہوگیا، اس نے ہم سب کی تڑپ آہ اور فریاد سن لی تھی،!!!!!

اس مشکل کے وقت میں مجھے اپنی نئی نوکری کو بھی دیکھنا پڑتا تھا، بیٹے کے ٹھیک ہونے کے بعد آھستہ آھستہ سروس پر بھی کنٹرول ہوتا چلا گیا، اور اچھی خاصی کامیابی بھی حاصل کرلی تھی اور 1986 کے درمیان میں ایک سال مکمل ہونے کے بعد تنخواہ میں بھی مزید اضافہ ہوگیا، اور 1989 میں مجھے وہاں کا اسسٹنٹ منیجر بنا دیا گیا لیکن کچھ لوگوں کو میری اس ترقی سے حسد اور مایوسی بھی ہوئی، کیونکہ کچھ لوگوں کی آوپر کی آمدنی میں بہت کچھ کمی ہوگئی تھی، اس لئے انہوں نے میرے خلاف ایک مہم کا آغاز بھی کردیا، جس کی وجہ سے مجھے بعد میں بہت سے نقصانات بھی اٹھانے پڑے، نوکری چھوڑنی پڑی اور ساتھ ہی معاشی حالات بہت خراب سے خراب ہوتے چلے گئے، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میرے پاس میرے اسی چھوٹے بچے کیلئے دودھ کے پیسے بھی نہیں تھے،!!!!!!

1985 کا سال میرے لئے بہتر ثابت نہیں ہوا، اور یہ حالات میرے ساتھ 1989 تک تقریباً 4 سال بہت ہی پریشان کن رہے، ایک تو وجہ جو میرے سمجھ میں آئی کہ ایک لگی لگائی 15 سال کی بہترین سروس کو جذبات میں آکر چھوڑ دی، اور دوسری بات 1983 میں سعودی عرب سے واپسی کے بعد روزہ اور نماز کی پابندی بھی چھوڑ دی، صرف جمعہ کی نماز مسجد میں جاکر پڑھ لیتے تھے، باقی اگر موڈ ہوا تو پڑھ لی ورنہ نہیں،!!!!

بیٹے کی پیدائش کے بعد اسکی 6 ماہ تک بیماری میں پریشانی کے دن گزرے، اسکے ٹھیک ہوتے ہی آفس میں سازشوں کا جال میرے خلاف چلا، کیونکہ سب کے کھانے پینے کا سلسلہ بند ہوچکا تھا، کمپنی کو اس کی وجہ سے فائدہ ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے تین چار لوگ اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس میں سے ایک منیجر صاحب جو نئے نئے آئے تھے ان کا بھی پتہ صاف ہوگیا، جبکہ وہ ان لوگوں میں قطعاً شامل نہیں تھے، اور بہت ہی اچھے ایماندار انسان تھے اور ایک اچھے گھرانے سے تعلق بھی تھا، اور میرے اچھے دوست بھی تھے، جس کا مجھے بہت ہی زیادہ افسوس ہوا،!!!!

اور پھر مجھے ان کی جگہ وہاں کا منیجر بنادیا، جس کی وجہ سے چند اور پرانے مالکان کے منہ چڑھے لوگ جو ابھی تک کمپنی میں موجود تھے، اور اچھی پوزیشن میں بھی تھے، وہ میرے سامنے تو بہت اچھے تھے لیکن میرے پیچھے مجھ سے میری ترقی ہونے پر حسد کرنے لگے تھے، اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جو لوگ نکالے جاچکے تھے، وہ ان کی اوپر کی آمدنی کا ایک ذریعہ بھی تھے، میں تو بس اپنی اس پریشانیوں کو اپنے ساتھ لئے صبر اور شکر کے ساتھ نوکری کرتا جارہا تھا،!!!!

اس کے علاؤہ اسی سروس کے دوران گھر کے حالات کچھ ایسے خراب ہوئے کہ والد صاحب اور ایک مجھ سے چھوٹے بھائی کے علاؤہ سب لوگ مجھ سے ناراض رہنے لگے، بچے کی بیماری میں کچھ اتنا زیادہ قرض چڑھ گیا تھا کہ آدھی سے زیادہ تنخواہ تو آفس سے جو قرضہ لیا ہوا تھا اس میں ختم ہوجاتی تھی، باقی جو باھر سے بھی کافی قرضہ لیا ہوا تھا، وہ بھی ساتھ ساتھ اتار رہا تھا، گھر میں کچھ بھی اپنی تنخواہ سے نہیں دے پاتا تھا، جس کی وجہ سے ایک بھائی اور والد کے علاوہ سب بہن بھائی اور ساتھ دوسرے رشتہ دار بھی مل کر مجھے برا بھلا اور طعنے دینے لگے تھے، والدہ بے چاری خاموش تھیں لیکن دوسروں کی باتوں ‌میں آچکی تھیں اور سارا الزام میری بیوی اور میرے تینوں بچوں پر آرہا تھا، میں اسی پریشانی میں بہت سخت بیمار ہوگیا جس کے لئے ذمہ دار بھی میری بیوی اور بچوں کو ٹہرایا گیا، جس کی وجہ سے میری بیگم اپنے تینوں بچوں کو لے کر واپس اپنے والدین کے گھر منتقل ہوگئیں، دفتر سے مجھے چھٹی لینا پڑی، ایک دن میری کچھ زیادہ ہی طبیعت خراب ہوئی اور ساتھ ہی مجھ سے چھوٹے بھائی کی شادی بھی طے پاگئی، تو والد صاحب فوراً ہی میرے سسرال گئے اور میری بیگم اور بچوں کو ساتھ لے آئے،!!!!!

میری طبیعیت بھی کچھ سنبھلنے لگی تھی، اور میرے بچے بھی میرے ساتھ تھے میں اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا تھا، گھر میں ایک بار پھر چھوٹے بھائی کی شادی کا زور شور تھا، اس گھر میں ایک بہو اور آگئی وہ رشتہ میں پھوپھی زاد بھی تھی، اسکی بہت آؤبھگت ہو رہی تھی، میری بیگم بھی اس کی خدمت میں لگی رہی، اور ساتھ سب کا خیال رکھنا اپنے بچوں کو سنبھانا، ھر کام وہ بہت ہی سلیقے سے کررہی تھی گھر کا ماحول ایک بار پھر بہت اچھا ہوچکا تھا، مجھے بھی سکون تھا دفتر کی پریشانی الگ تھی لیکن گھر میں ھنسی خوشی دیکھ کر مجھے بہت اطمنان تھا، اور دونوں بہویں گھر میں بہت خوش تھیں دونوں مل جل کر اپنی نندوں اور دیوروں کے ساتھ گھر میں ایک خوشگوار ماحول بنائے ہوئے تھیں،!!!

اس وقت میں، والد صاحب اور مجھ سے دو چھوٹے بھائی سروس کررہے تھے اور ایک بھائی ابھی پڑھ رہا تھا اور دو چھوٹی بہنیں بھی زیرتعلیم تھی، باقی دو بہنوں کی شادیاں ہوچکی تھیں، ہم سب ملا کر آٹھ بہن بھائی تھے، اور گھر میں سب ھنسی خوشی سے رہ رہے تھے، لیکن باھر کے رشتہ داروں اور اڑوس پڑوس کی عورتوں کو یہ ھنستا بستا گھر دیکھا نہ گیا، وہ حیران پریشان کہ اتنا آگ لگانے کے باوجود بھی اس گھر میں اب تک جھگڑا کیوں نہیں ہوا،!!!!

جیسے ہی میں آفس سے گھر پہنچتا گھر میں پہلے سے موجود کچھ تو مجھ سے کہتیں کہ،!!! ارے بیٹا تمھاری بیوی تو اس طرح مشقت کرتے کرتے اپنی حالت خراب کر لے گی، دیکھو نا چھوٹی بہو تو گھر کا کوئی بھی کام کاج نہیں کرتی، بس ہم نے یہی دیکھا کہ سارا دن بے چاری لگی رھتی ہے اور ہم سے تو بات کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا ہے بےچاری کو ،!!!!

اور مجھے اپنی بیگم سے پتہ چلتا کہ وہی عورتیں دوسری بہو کو پرانی بہو کے خلاف اکساتی رہتیں ہیں اور کچھ تو ہماری اماں کے کانوں میں دونوں بہوؤں کے خلاف کاروائی کررہی ہوتیں تھیں، مگر میں اور میری بیگم نے آپس میں یہی تہیہ کیا ہوا تھا کہ کسی کی بھی باتوں کا کوئی اثر نہیں لیں گی، اور اسی طرح وقت گزرتا رہا، دفتر کے حالات میں اور بھی خرابی آتی جا رہی تھی، گھر میں کچھ بھی پیسے میں نہیں دے پا رہا تھا، جس کی وجہ سے کچھ حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ دفتر میں میرے خلاف لوگوں کی سازش مکمل طور سے کامیاب ہوگئی، اور ادھر گھر میں ایسے حالات کشیدہ ہوئے کہ مجھے والد صاحب نے اجازت دے دی کہ میں باھر کہیں اور مکان کرایہ پر لے لوں، میں اور میری بیگم تو یہ بالکل نہیں چاھتے تھے، لیکن مجبوری بھی تھی، ایک دن تو کچھ زیادہ ہی جھگڑا ہوا، ایک تو میں دفتر سے پریشان گھر پر آیا ادھر گھر کا ماحول بگڑا ہوا تھا،!!!

مجبوراً میں نے اپنے ایک دور کے رشتہ دار کے یہاں ٹیلیفون کیا کہ مجھے چند دنوں کیلئے ایک اپنا کمرہ دے دیں، انہوں نے فوراً حامی بھر لی اور میں نے اپنی بیگم کے ساتھ ملکر تین سوٹ کیسوں میں ضرورت کے کپڑے وغیرہ ڈالے اور کچھ ضروری سامان سمیٹا اور والد صاحب سے اجازت لی اور مجھ سے چھوٹے بھائی نے میرے سامان کو پیک کرنے میں مدد کی اور ٹیکسی لے کر آیا اور ہمارے ساتھ نئے گھر تک چھوڑنے بھی آیا، وہاں اوپر کی منزل میں ایک اچھا خاصہ کمرہ تھا، اسی میں کچھ صاف صفائی کرکے کہیں سے دو گدے اور چادریں دو تکئے لے کر آیا اور زمیں پر بچھا دیئے رات کا کھانا بازار سے لے کر آیا اور چھوٹے بچوں کے لئے دودھ ڈبل روٹی اور کچھ ضرورت کی چیزیں لے کر آیا، اور رات کسی نہ کسی طریقے سے گزاردی، اور صبح صبح دفتر چلا گیا،!!!!

1986 کے سال کا آخیر دور چل رہا تھا، پہلی دفعہ اپنے گھر سے علیحدہ ہونا پڑا، تین چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا، بڑا بیٹا 5 سال کا ہونے والا تھا، اس سے چھوٹی بیٹی جو 3 سال کی تقریباً ہوچکی تھی اور اس وقت چھوٹا بیٹا ایک سال کے لگ بھگ ہوگا،!!!!

سب سے پہلے اپنے بیٹے کو ایک نزدیکی پرائویٹ اسکول جس کا نام فلبرائیٹ گرامر اسکول تھا، اس میں داخل کرایا، یہاں آنے کے دوسرے دن ہی میرا چھوٹا بھائی میرا سارا سامان بمعہ فرنیچر اپنے دوستوں کی مدد سے یہاں ایک ٹرک میں لے آیا، جبکہ میری بیگم اس بات سے راضی نہیں تھیں، کہ ایک آدھ ہفتے کے بعد ہم واپس گھر چلے جائیں گے، لیکن والد صاحب اس بات پر راضی نہیں تھے، انہوں نے یہی کہا کہ یہ ھمیشہ کا مسئلہ رہے گا بہتر ہے کہ میں گھر سے دور ہی رہوں، کیونکہ انہوں نے پہلے بھی اپنی تمام تر کوششیں کرڈالیں، کہ دوسری بہو بیگم کے آنے بعد گھر کا ماحول بہتر ہوجائے، لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا اور گھر میں جھگڑے بڑھتے چلے گئے،!!!!!

اور مجھے یہاں گھر پر سب کچھ سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا، والدین سے الگ ہوکر رھنا بہت مشکل مرحلہ تھا، صبح صبح اپنے بیٹے کو اسکول چھوڑنا اور پھر بس میں بیٹھ کر دفتر جانا، دوپہر میں بیگم ہی بیٹے کو اسکول سے لے آتی تھیں، میں شام کو گھر آتا تو کچھ نہ کچھ پریشانی سامنے کھڑی ہوتی تھی، تنخواہ ایڈوانس میں ہی لے لیتا تھا اور مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی سب تنخواہ برابر ہوجاتی تھی، روز بروز قرضہ بھی بڑھتا جارھا تھا، سودا سلف خود ہی لے کر آنا، بچوں ‌کے دودھ اور کھانے پینے کا خاص طور پر خیال رکھنا، اور کبھی کوئی بیمار ہے تو کبھی کوئی، ہفتہ میں تین چار دن ڈاکٹر کے کلینک پر رات کو لائن میں کسی نہ کسی بچے کو گود میں لئے بیٹھا ہی رھتا تھا، ساتھ بیگم بھی اکثر بیمار رھتی تھیں، اور چھوٹے بچوں کا ساتھ بچوں کی شرارتیں بھی اس وقت اچھی نہیں لگتی تھیں،!!!!!

اکثر رات کو میں دفتر سے دیر تک ہی گھر پہنچتا تھا، دفتر میں بھی ایک ٹینشن چل رہی تھی، گھر آتے ہی کوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش رھتا، میں بہت ہی تھک جاتا تھا، دفتر سے آتے آتے ڈیڑھ گھنٹہ بھی لگ جاتا تھا، اس تھکن کے باوجود بھی مجھے مجبوراً کبھی کبھی بچوں پر ترس آجاتا اور مجبور ہو کر بچوں کو کسی نزدیکی پارک میں گھما پھرا کر لے آتا، بیگم کی طبیعیت کچھ زیادہ ہی خراب رھنے لگی تھی، 1987 کا سال شروع ہو چکا تھا اور پھر ایک نئے مہمان کی آمد آمد بھی تھی، بیگم کو اس حالت میں ‌سنبھالنا بھی مشکل تھا، کبھی کبھی ہماری ساس صاحبہ آکر دیکھ جاتی تھیں، اور ہماری دو چھوٹی سالیاں ایک شاید 10 سال کی تھی اور دوسری تقریباً 12 سال کی تھی وہ دونوں اپنے اسکول سے چھٹی کرکے یہاں آجاتیں اور گھر کو اور بچوں کو سنبھالتی تھیں، بہت ہی مشکل آن پڑی تھی،!!!!!

ہمارے گھر سے صرف چھوٹا بھائی اور والد صاحب کبھی کبھی آجاتے تھے، اس کے علاوہ اور کوئی نہیں آتا تھا، بہت ہی سخت رنجشیں چل رہی تھیں، اور دوسرے رشتہ دار اور محلہ دار سب بہت خوش تھے، کیونکہ وہ ہمیں گھر سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے، مکان مالک جو ہمارے رشتہ دار تھے وہ بھی تھوڑا بہت خیال کرلیتے تھے، لیکن کہاں تک ان کے بھی چھوٹے چھوٹے بچے تھے، اب تو روز بروز بیگم کی طبیعیت کچھ زیادہ ہی بگڑنے لگی تو میں نے یہی فیصلہ کیا کہ سسرال کے نزدیک ہی مکان لے لوں، تاکہ بیوی بچوں کی طرف سے کچھ تو بے فکر ہوجاؤں، اور پھر وہاں سے دفتر بھی نزدیک تھا،!!!!!!!

انسان ایک طرف کی جنگ لڑسکتا ہے اگر چاروں طرف سے پریشانیاں کا رخ اپنے طرف ہو تو سنبھالنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب انسان اپنے رب سے دور ہوتا چلا جاتا ہے تو تمام مشکلات گھیرے میں لے لیتی ہیں، اور کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے،!!!!!

یہی کچھ صورتِ حال میری بھی تھی، اب تو یہ حال ہوگیا تھا کہ جو جمعہ کی نماز پڑھتا تھا، اس سے بھی غافل ہونے لگا، پریشانیوں میں الجھ کر بس شاید پاگل ہونے کی حد تک تجاوز کرچکا تھا، میں اب اپنے سسرال کے نذدیک شفٹ ہوچکا تھا، اس طرح مجھے ایک طرف سے کچھ تھوڑا بہت سکون حاصل ہوا، اب میں نے دفتری معاملات میں جو مشکلات پیش آرہی تھیں، اس کی طرف میں نے تھوڑا سا دھیان دینے کی کوشش کی تو پتہ لگا کہ چند ایک لوگوں کا رویہ میرے ساتھ کچھ بدلا بدلا سا نظرآرہا تھا،اور کچھ زیادہ غور سے جائزہ لینا تو معلوم ہوا کہ میرے خلاف ہی انہوں نے آہستہ آہستہ ایک محاذ بنانا شروع کردیا ہے،!!!!!

یہ سب کچھ ایک ڈرائیور نے جو انتہائی ایماندار اور میرے بھروسے کا آدمی تھا، اس نے مجھے ساری روداد سے آشنا کرایا، میں نے بھی اس سے یہی کہا کہ اگر تم میرا بھلا چاھتے ہو تو تم بھی انہی میں شامل رہو، ایک تو اس میں ‌تمھاری بھی بہتری ہے کہ وہ تمھیں تنگ نہیں کریں گے، دوسرے کہ ان کی ھر حرکت پر نظر رکھو، اور مجھے خاموشی سے ان کی ھر اچھی بری حرکت کے بارے میں مجھے اطلاع دیتے رہو، میں یہ چاھتا ہوں کہ کم از کم کمپنی کو کسی قسم کا نقصان نہ ہو، چند لوگ اپنے مستقل گاھکوں سے مل کر کمپنی کو نقصان پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں، جس کا میں نے اندازہ لگایا کہ وہ اپنی تنخواھوں سے چار گنا زیادہ پیسہ کما رہے ہیں، مگر مجھ سے نالاں اس لئے ہیں کہ میں ان کی اس اوپر کی آمدنی کی راہ میں ایک رکاوٹ بنتا چلا جارہا تھا،!!!!!

دو ایک نے مجھے ایک اچھی خاصی رقم ھر مہینے دینے کا لالچ بھی دیا، اور اس کے علاوہ تحفے تحائف بھی دینے کی کوشش کی، لیکن میں نے مکمل طور سے انکار کردیا، ایک دو دفعہ تو مجھے دوپہر کے کھانے کی دعوت پر بھی لے گئے، اور مجھے سمجھانے کی کوشش بھی کی، کہ اس طرح پابندی لگانے سے کوئی فائدہ نہ ھوگا، اور بھی دوسرے طریقے کار ہیں، جس میں آپ کچھ نہیں کرسکتے، لیکن آپ کی وجہ سے کچھ آسانیاں پیدا ہو جائیں گی، کچھ مہربانی کریں، میں نے ان سے کہا کہ میں نوکری چھوڑ سکتا ہوں لیکن مگر انتظامیہ کا بھروسہ توڑ نہیں سکتا،!!!!!!

وہ لوگ بھی مجھ سے تنگ آگئے، آخرکار انہوں نے مجھے کئی طریقوں سے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، لیکن قدرتی کامیاب نہ ہوسکے، ادھر گھر پر ہمارے یہاں ایک اور مہمان کا اضافہ بیٹی کی صورت میں ہوا، اور ادھر میری تنخواہ میں بھی اضافہ ہوگیا، میری اپنی پوری کوشش تھی کہ محنت اور ایمانداری سے اس ادارے کو چلاؤں، لیکن میرے راستے میں رکاوٹیں بہت تھیں،!!!!

اسی مشکل اور تکلیف دہ سازشوں سے بچتا بچاتا میں اپنی ھر ممکن کوششوں کے ساتھ کام کو لے کر چل رہا تھا، اور ساتھ ہی میں نے چند نئے ایماندار لوگوں کی بھرتی بھی کرائی، لیکن ان لوگوں نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا، بلکہ چند ایک کو اپنی سازش میں ‌شریک بھی کرلیا، میرے اپنے بھروسے کے آدمی ان کے ساتھ شامل ہوگئے، مگر میں نے ھمت نہیں ہاری، اور انہی لوگوں کی نئی نئی چالبازیوں کے درمیان اپنے آپ کو لے کر چلتا رہا،!!!!

ایک بڑے پروجیکٹ کے لئے ہماری کمپنی کو ایک کام ملا، جس میں ھر ایک اپنی اپنی ڈیوٹیاں ہمارے ایک منیجر صاحب نے سمجھا دیں تھیں، اور وہ بہت ہی اچھے انسان تھے، میں اس وقت سینئر اکاونٹنٹ کے عہدے پر فائز تھا، اور میرے ساتھ دو اسٹنٹ تھے، ایک باھر کی وصولی میں لگا رھتا اور دوسرا میرے ساتھ میری مدد کرتا تھا اور دونوں ‌بھی بہت اچھے تھے، باقی فیلڈ میں کافی لوگ تھے جو مختلف دمہ داریوں پر اپنی ڈیوٹیاں نبھا رہے تھے، اس پروجیکٹ پر ہمارے منیجر صاحب اور انکی پوری ٹیم شامل تھی، جس میں سے چند ایک نے گھپلا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور کامیاب بھی رہے جس کا اندازہ مجھے ہوگیا تھا، میں نے منیجر صاحب کو اس بات کی اطلاع بھی دی لیکن انہوں نے میری بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا، وہ سب کو ہی ایماندار سمجھتے تھے، یہ پروجیکٹ تو زبردست کامیاب بھی ہوا، مگر چند ایک نے بدنظمی اور بے احتیاطی کی وجہ سے کافی فائدہ بھی اٹھایا،!!!!!!!

جب میرے پاس ان تمام ٹھیکیداروں کے بل آئے، تو میں نے دیکھا کہ ان بلوں کے ساتھ تمام شواھدات کی مستنند دستاویزات نہیں تھیں اور جس پر میں نے اعتراض کیا اور رقوم کی ادائیگی کرنے سے انکار کردیا، بلکہ اس کی مکمل تحقیقات کے لئے انتظامیہ کے علم میں ایک رپورٹ پیش کردی، اس کے نتیجے میں انتظامیہ کی طرف سے ایک تحقیقاتی ٹیم پہنچ گئی اور انہوں نے تمام اپنی مکمل تحقیقات اور شواھدات کے ساتھ اعلیٰ انتطامیہ کو پیش کردیں، اور تمام بلوں کی رقوم کی ادآئیگی کو روکنے کا حکم دے دیا، اور سارے بل وغیرہ شاید عدالتی کاروائی کیلئے انتظامیہ نے اپنے قانونی مشیر کے حوالے کردیئے گئے، اور ساتھ ہی کچھ چند ایک فیصلوں کے ساتھ منیجر صاحب اور ان کے ایڈمن اسسٹنٹ کو معطل کردیا گیا جبکہ دونوں ‌بالکل بے قصور تھے، اور جن کی حرکتیں تھیں وہ اس ادارے میں موجود ہی رہے، بلکہ انکو تو اس پروجیکٹ کی شاندار کامیابی پر اسپیشل بونس دئے گئے، مجھے بھی بونس سب سے زیادہ ملا اور اس کے علاوہ مجھے وہاں کے اسسٹنٹ منیجر کے عہدہ پر ترقی دے دی گئی اور ساتھ ہی منیجر کے عہدے کے مطابق تنخواہ میں مزید اضافہ کردیا گیا اور مجھے اپنی مرضی سے اپنے اسٹاف میں بھرتی کی اجازت دے دی گئی،!!!!!

میں نے مزید اچھے اچھے ایماندار اور مہنتی لڑکوں کو اس ادارے میں روشناس کرایا، کچھ کو نکال بھی دیا لیکن ان لوگوں کے ساتھ میں کچھ نہیں کر سکتا تھا جو فیلڈ میں تھے اور کمپنی کے بزنس کا دارومدار بھی انہی لوگوں کی وجہ سے تھا، اور وہ ساتھ ساتھ کمپنی کو لوٹ بھی رہے تھے اور ساتھ ہی کمپنی کے نفع میں کمی بھی پہنچا رہے تھے، مگر ان لوگوں کو میری ترقی دیکھی نہیں گئی، اور وہ تو پہلے ہی میرے خلاف تھے اب اس میں کچھ مزید اضافہ ہوگیا تھا، مجھے انہوں نے تنگ کرنا شروع کردیا تھا،!!!!!!

اسی طرح اسی ماحول میں رہتے ہوئے میں نے1988 ستمبر کے مہینے تک وقت گزارا اور اپنی سروس کے دوران سالانہ چھٹی تک نہیں‌ لی اب میں بہت تھک چکا تھا، میں نے چھٹی کی درخوست پیش کی جو منظور ھوگئی، اپنی ذمہ داریاں ایک اپنے فیلڈ کے سپروائزر کو دے کر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں اپنی بیگم اور بچوں سمیت کمپنی کے خرچے پر چھٹیاں گزارنے کیلئے پھر اسی میری پسندیدہ ٹرین تیزگام سے لاھور روانہ ہوگیا، میرے ساتھ چار بچے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، اور اس دفعہ میرا پروگرام لاھور شہر گھومنے کے علاوہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سوات کالام اور مری نتھیا گلی ایبٹ آباد بھی گھومنے کا تھا،!!!!!!! ‌

جاری ہے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-05-11, 03:57 PM   #56
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 12
کمائي: 428
شکریہ: 0
11 مراسلہ میں 20 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی سید رحمان صاحب آپ نے بچپن کے واقعات کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے باقی کہانی آئندہ انشااللہ
گل بانو آف لائن ہے   Reply With Quote
گل بانو کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-05-11, 08:04 PM   #57
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گل بانو مراسلہ دیکھیں
جی سید رحمان صاحب آپ نے بچپن کے واقعات کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے باقی کہانی آئندہ انشااللہ
بہت بہت شکریہ آپ کا،!!!!!

خوش رہیں،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-05-11, 08:08 PM   #58
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,576
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں نے ابھی تک اس کہانی کو آگے اس لئے نہیں بڑھایا کہ کوئی مجھےصرف گل بانو صاحبہ کے علاوہ،!!!! کسی کے بھی تاثرات نظر نہیں آئے،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کراچی, پاکستان, پسند, ورزش, قرآنی, قران, نماز, مکمل, ماں, محبت, انگلش, انسان, اردو, اسلامی, استاد, اعلیٰ, بہترین, بھائی, بچپن, بچوں, تعلیم, سیرت نبوی, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی گلاب خان خبریں 0 21-02-11 06:52 AM
Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ Real_Light شعبہ طب 3 03-05-09 12:52 PM
سڈنی ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام،تاریخ بدلنے کے بھارتی کے بھارتی دعوے کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 07-01-08 08:30 AM
واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:46 AM
جنرل پرویز ڈوبتی کشتی میں سوار ہیں، جسٹس وجیہہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 08:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger