| عبدالرحمن سید کی کہانی عبدالرحمن سید کی کہانی ان کی زبانی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 3037
|
||||
| 14 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا | shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (25-10-10), یاسر عمران مرزا (13-11-10), ڈاکٹرنور (11-11-10), موجو (17-05-11), محمد عاصم (04-11-10), محمدخلیل (25-10-10), حیدر (26-10-10), سیپ (05-12-10), شاہ جی 90 (01-11-10), عبداللہ آدم (25-10-10), عبداللہ حیدر (14-11-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
میرے بچپن کا سنہری دور-1
مجھے دراصل بچپن سے ہی ادب اور آرٹ کا جنون کی حد تک شوقین تھا اور یہ شوق مجھے راولپنڈی کے کینٹ پبلک اسکول، صدر سے شروع ھوا جہاں پر میں نے پرائمری تعلیم حاصل کی تھی اور میں اس اسکول کو کبھی نہیں بھول سکتا جہاں میرا یہ شوق پروان چڑھا - یہ 1955 سے 1958کا زمانہ تھا- اسکی چند مخصوص وجوھات بھی تھیں کاش کہ ھمارے تمام تعلیمی ادارے بھی ان ہی خصوصیات کے حامل ہوتے۔ - سب سے پہلے تو میں یہ کہونگا کہ جتنے بھی وہاں استاد اور منتظمین تھے سب کے سب تجربہ کار اور پرخلوص تھے اور انہیں یہ اچھی طرح علم تھا کہ بچوں کی بنیادی تعلیم و تربیت کیسی ہونی چاہئے - - اس وقت کے لحاظ سے اتنے اعلیٰ ذوق رکھنے والے استاد شاید ہی کہیں خوابوں میں ملیں، یہ احساس مجھے بعد میں بڑی کلاسوں میں جانے کے بعد ہوا ، کیونکہ اس وقت 5 سے 8 سال کی عمر تک کے بچوں کو اتنا شعور کہاں ہوتا ہے، جو اچھے برے میں کوئی تمیز کر سکیں، پھر اتنی عمر کے بچوں کا مستقبل بھی تو صرف استادوں اور والدیں کے ھاتھوں میں ہی ہوتا ہے - میں یہ بتا رہا تھا بچوں کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں اور میری یہ خوش قسمتی تھی کہ میری ابتدائی تعلیم ایک اچھے تعلیمی ادارے سے شروع ہوئی، کبھی کڑاکے کی سردی اور کبھی شدید گرمیوں کی تپش، میں اس سے بےخبر روزانہ گلے میں بستہ ٹانگے ہاتھ میں لکڑی کی تختی اٹھائے، صبح سویرے ناشتہ کرکے چھوٹی بہن کا ھاتھ پکڑے، اپنے اسکول کی طرف پیدل جانا میرا یہ روز کا معمول تھا - اسکول سے واپسی بھی اسی انداز سے رہتی تھی - اور روز پیدل تقریباً 6 یا 7 کلو میٹر کا آنا جانا رہتا تھا - گھر پر دوپہر کا کھانا کھا کر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اسکول کے گھر کا کام کیا اور پھر ھم اپنے والد صاحب کا انتظار بہت بےچینی سے کرتے رہتے تھے، کہ وہ ہمیں کب باھر گھومانے لے جائیں کیونکہ وہ ہم بہن بھائی کو بلا ناغہ روزانہ دفتر سے واپس آکر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ھمیں پیدل گھومانے ریس کورس گراونڈ میں گھومانے لے جاتے تھےجو کہ گھر سے بہت قریب تھا، اس دوراں والدہ صاحبہ کھانے وغیرہ کی تیاری کرتیں اور ھمیں والد صاحب مغرب کی نماز سے پہلے واپس گھر لےآتے، نماز سے فارغ ھو کر ھمیں کچھ پڑھاتے اور اسکول کا کام دیکھتے - اسی اثناء مین عشاء کی نماز کا وقت ہو جاتا، والد صاحب تو عشاء کی نماز پڑھنے باہر چلے جاتے اور ہم بہن بھائی کچھ دیر اپتی والدہ کے ساتھ خوب لاڈ پیار کرتے اور والدہ بھی ہمارے ساتھ خوب ہنستی بولتی، کھیلتی رہتیں، بعد میں جیسے ھی والد صاحب عشاء کی نماز پڑھ کر واپس آتے، والدہ فوراً دستر خوان لگاتیں اور کھانے کے بعد والد اور والدہ ھماری ضد کرنے پر روزانہ کہانی سناتے اور ھمیں پتہ ھی نہ چلتا کہ کب ھم سو گئے صبح ھو نے پر والدہ ھمیں اُٹھاتیں اسکول جانے کے لئے، اور روز کی طرح پھر زندگی اسی طرح رواں دواں رہتی - وہ ماں کا دُولار اور لاڈ پیار جب بھی یاد آتا ہے تو آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں، وہ بچپن کی ہماری معصومیت اور ماں کا گلے لگانا، کھیلنا مسکرانا ہمارے پیچھے بھاگنا وہ کیا دن تھے، جب بھی وہ دن یاد آتے ھیں کلیجہ منہ کو آتا ہے، آج میری والدہ جو اب کافی ضعیف ہیں، وہ کراچی میں اپنے گھر میں مجھ سے چھوٹے اور منجھلے بھائی اور انکے بیوی بچوں کے ساتھ ہیں، اور میں اور سب سے چھوٹا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ پردیس میں ہیں، اور اپنی والدہ کی خدمت کیا کریں بس ٹیلیفوں پر گفتگو کر لیتے ھیں، ایک دفعہ عمرے کی سعادت آنہیں حاصل ھوئی، مگر حج وہ نہیں کر سکیں کیونکہ انکا کہنا یہ تھا کہ جب تک آنکی سب سے چھوٹی بیٹی یعنی میرے چھوٹی بہں کی شادی نہیں ہو جاتی، اس وقت تک وہ حج نہیں کر سکتیں- بہن کی شادی پچھلے سے پچھلے سال نومبر میں ہو گئی - اب انشااللٌہ انہیں ہم دونوں بھائی انہیں اس سال حج کرانے کا ارادہ ہے اللٌہ تعالیٰ ھمیں انکی خدمت کا موقع دے، آمین- اب میں یہ سوچتا ہوں کہ میں کتنے عر صہ سے باہر ہوں، کیا میں نے اپنی ماں کے ساتھ انصاف کیا، ہر سال چھٹی جانے سے یا کچھ پیسے ان کے ہاتھ میں رکھنے کیا میرا فرض پورا ہوگیا، جبکہ والد صاحب کو بھی گزرے ہوئے بھی تقریباً 20 سال بیت چکے ھیں، اور اتنا بدقسمت ہوں ان کے جنازے کو کاندھا بھی نہ دے سکا کیونکہ میں اس وقت 1990 میں جدہ میں تھا اور مجھے والد کی انتقال کی خبر گھر والوں نے نہیں دی تھی، اور دوسروں کو منع بھی کیا ہوا تھا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ والد صاحب اور میں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے اور دوسرے 12 دن ہی ہوئے تھے مجھے پاکستاں سے آکر اور میرے بچے اس وقت پاکستان میں تھے آج تک مجھے اس بات کا دکھ ہے- ان تمام باتوں کے باوجود بھی میری والدہ مجھ سمیت تمام بہن بھائیوں اور انکے تمام بچوں سے بہت محبت کرتی ہیں، جب بھی میں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹی پاکستان جاتا ہوں، وہ مجھے اور میرے بچوں کو گلے لگا کر خوب روتی ہیں ، میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ زیادہ تر وقت ان کے ساتھ گزاروں،!!!! ان کے ساتھ رہ کر مجھے وہ اپنے تمام بچپن کی باتیں یاد آجاتی وہ اُن کا لاڈ کرنا گلے سے لگانا، ہمارے ساتھ گھر میں کھیلنا ہمارے پیچھے پیچھے بھاگنا کبھی ہم میں سے کوئی بیمار ہوجائے تو ساری ساری رات انکا جاگنا، بس یہ سب آنکھیں بند کئے سوچتا رہتا ہوں - میں بس چھٹیوں میں ان کو دیکھتا ہی رہتا ہوں، ساتھ بچپن کی باتیں اُن سے پوچھتا بھی رہتا اور اپنے بچپن کی تصویریں بھی دیکھتا رہتا، جو انہوں نے اب تک سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں، کئی باتیں میرے بچپن کی مجھے خود انکی زبانی ہی پتہ چلی ہیں اور پھر تمام بچپن کی باتیں ذہن میں ایک فلم کی طرح گھومنے لگتی ہیں،!!!!! والدین کی خدمت جتنی بھی کی جائے کم ہے یہ احساس ہمیں اس وقت ہوتا ہے کہ جب ہمارے بچے بڑے ہو کر ہماری باتوں کو اور نصیحتوں کو رد کردیتے ہیں -!!!!!!! بچپن، لڑکپں، جوانی اور بڑھاپا، انسان ان ہی تمام ادوار سے گزرتا ہوا اپنی آخری منزل کی طرف بڑھتا ہے،!!!! - بچپن گھر کے حوالے - لڑکپں باھر کے حوالے - جوانی خود کے حوالے - بڑھاپا اللٌہ کے حوالے میری کوشش یہی ہوگی کہ ہر ایک دور کو انکے تمام مثبت اور منفی حقائق سے روشناس کراؤں، جن سے ماضی میں خود دو چار ہوا ہوں - ویسے یہ بہت مشکل ھے کہ اپنے گزرے ہوئے کل کو سامنے لانا، خاص طور سے منفی پہلو کو - اکثر ہم اپنی بری عادتوں اور نقصانات سے پردہ نہیں اٹھاتے، جو کہ بالکل غلط ہے کم از کم ہمیں ان اپنی تمام برائیوں اور نقصانات سے لوگوں کے علم میں لانا چاہئے تاکہ جو تکلیفیں آپ نے ان برائیوں اور نقصانات سے اٹھائی ہیں، تاکہ دوسرے لوگ ان سے بچیں اور خسارہ نہ اٹھائیں - ہاں تو دوستوں بات ہو رہی تھی بچپن کی معصومیت کی، اس دور میں ہر ایک کا بچپن دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، چاہے تو اسے بگاڑ دیں چاہے تو سنوار دیں- ہم سب کا یہ فرض ہے کہ ہر کسی کے بچپن کی معصومیت سے نہ کھیلیں بلکہ اپنا فرض سمجھتے ہوئے ان کی تربیت ایک اچھے ماحول میں ترتیب دے کر ان کے مستقبل کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ آج کے یہ معصوم کل کے ہمارے ملک کا روشن مستقبل ہیں،!!!!!! میں اپنے بچپن کی کچھ یادداشت کے حوالے سے خود پر گزرے ھوئے اصل حقائق کی روشنی میں چند اھم نکات کو پیش کرنے کی کوشش کررہا ہوں - تاکہ پڑھنے والوں کو صحیح حقیقت کا علم ہو اور وہ اپنی سمجھ کے مطابق بہتر سے بہتر کوشش اپنی آنے والی نئی نسلوں کی تربیت کیلئے کرسکیں - میں نے ابھی اوپر اپنے پرائمری اسکول کے بارے میں تحریر کیا ہے، جو ایک واقعی مثالی اسکول تھا وہاں میں نے اپنے بچپن کے تین سال بہت ہی ایک منظم اور صحیح تربیت کے دائرے میں گزارے، جسکا فائدہ مجھے اپنے ہر اچھے برے دور میں ہوا - وہاں اسلامی تعلیمات کے لیے روزانہ ایک مخصوص پیریڈ ہوا کرتا تھا، جس میں قران کی تعلیم بہت عمدہ طریقے سے بمعہ ترجمہ اور تفسیر کے دی جاتی تھی، جو قرآنی سورتیں مجھے اب تک یاد ہیں یہ وہیں کی عنایت ھے، اس کے علاوہ سیرت نبوی اور تمام اسلامی اصولوں کو اتنے خوبصورت طریقوں سے ہر بچے کے ذہن میں اس طرح بٹھادیا جاتا تھا کہ شاید ہی کوئی بھول سکے- دوسرے اس اسکول میں پانچویں جماعت تک لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم سے اردو رسم الخط کی تربیت دیتے تھے - اور ہر کام کالی سلیٹ پر بچے چاک سے لکھا کرتے، اس کے علاوہ انگلش کے لئے چار لائنوں والی کاپی پر پنسل سے پریکٹیس کرائی جاتی تھی، وہاں پر پانچویں جماعت تک کوئی فاونٹین پین استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی- اور حساب کے کام کیلئے بھی صرف اور صرف پنسل ہی کی اجازت تھی - تیسری خصوصیت جو سب سے اچھی یہ تھی کہ روزانہ اسمبلی کے دوران ہر کلاس کے بچوں کے ہاتھ کے ناخونوں، بالوں کو، لباس کو اور جوتے تک بہت سختی سے چیک کئے جاتے تھے، اگر کسی بچے میں کوئی بھی ذرہ سی بھی چیکنگ کے دوران غلطی پائی گئی تو فوراً لائن سے نکال دیا جاتا تھا اور سب کے سامنے اسی وقت غلطی کے مناسبت سے سزا ملتی تھی اور ایسا بہت کم ہوتا تھا، کیونکہ ہر بچہ گھر سے مکمل طور سے تیار ہو کر آتا کرتا اور اس میں والدیں خود بچے کو تمام تیاریوں کے ساتھ بچوں کو صاف ستھرائی کے ساتھ اسکول میں بھیجا کرتے تھے اور بچوں کو بھی فکر رہتی تھی- چوتھی بات بچوں کی صحت کے اعتبار سے ہر کلاس کا ایک الگ سے پی ٹی کا بھی پیریڈ لازمی تھا، جہاں بچوں کو ورزش کی تربیت دی جاتی تھی، اور سکھانے والے بہترین ماھرین چنے ہوئے تھے، اور بہت سے کھیلوں کی تربیت بھی دی جاتی تھی جن سے بچے بھی خوشی سے سالانہ کھیلوں میں حصہ بھی لیتے تھے- ایک اور خوبی ان استادوں میں یہ تھی کہ وہ خود بھی باقاعدہ ڈسپلین کی پابندی کرتے تھے میں نے کبھی انھیں آپس میں بیہودہ مذاق یا گالی گلوچ کرتے نہیں پایا اور اس کے علاوہ کبھی اسکول کے احاطے میں یا کلاس روم میں سگریٹ پیتے ہوئے نہیں دیکھا،!!!!! اب آپ یہ بتائیے کہ کیا اب ہمارے بچوں کی بنیادی تعلیم کیلئے کیا یہ تمام خصوصیات ہمارے بچوں کے اسکولوں میں موجود ہیں، کیا ہمارے بچون کے اُستاد حضرات ان اصولوں پر گامزن ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟ 1958 میں اس اسکول کو مجھے مجبوراً الوداع کہنا پڑا، کیونکہ والد صاحب کا تبادلہ کراچی ہوچکا تھا، اس اسکول کو چھوڑتے وقت مجھے یاد ہے کہ بہت دکھ ھوا تھا، جبکہ میری عمر صرف 8 سال کے لگ بھگ تھی اور آج تک مجھے اس کا بہت ملال ہے، کیونکہ اسکے بعد مجھے ایسے اسکول کا ماحول نہیں مل سکا - اُس وقت کے دور میں اتنی سہولتیں تو نہیں تھیں لیکن لوگوں کے پاس دوسروں کے لئے وقت تھا اپنی ہر دکھ تکلیف ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے کام آتے تھے- وہ سادہ سی، قناعت پسند اور پرسکون زندگی جہاں پر ایک محدود اپنی ضروریات تھیں - اور زندگی بہت خوش و خرم سے گزری رہی تھی،!!!!!! __________________ میرے بچپن کا سنہری دور-2 1958میں اس اسکول کو مجھے مجبوراً الوداع کہنا پڑا، کیونکہ والد صاحب کا تبادلہ کراچی ہوچکا تھا، اس اسکول کو چھوڑتے وقت مجھے یاد ہے کہ بہت دکھ ہوا تھا، جبکہ میری عمر صرف 8 سال کے لگ بھگ تھی اور آج تک مجھے اس کا بہت ملال ہے، کیونکہ اسکے بعد مجھے ایسے اسکول کا ماحول نہیں مل سکا - تیزگام اپنی منزل کی طرف تیزی سے رواں دواں تھی اور میں ٹرین کی کھڑکی کے پاس بیٹھا، باھر سامنے کے مناظر کو بہت تیزی کے ساتھ مخالف سمت کی طرف بھاگتے ہوئے بڑے انہماک سے دیکھ رہا تھا، عمر تقریباً آٹھ برس کے لگ بھگ ہوگی، ویسے بھی مجھے، کوئی بھی سواری ہو بس ہو کوئی کار یا ٹیکسی یا پھر کوئی گھوڑا گاڑی ہی کیوں نہ ہو ھمیشہ ایک کنارے بیٹھنے کا شوق رہا ہے، کیونکہ مجھے شروع بچپن سے ہی سفر کے دوران باہر کا منظر دل کو بہت اچھا لگتا تھا اور یہ ھمیشہ خواہش رہی کہ یہ سفر کبھی ختم نہ ہو، جو اب تک قائم ہے، اور اب تک سفر میں ہی ہوں - پہلے تو والدیں سے ضد کرکے ایک کونا پکڑ کر بیٹھا کرتا تھا اور اب درخواست کرکے کونے کی سیٹ لینے کی کوشش کرتا ہوں، کھڑکی کے پاس بیٹھنے کا ایک الگ ہی مزا ہے، کیونکہ اس سے چاہے کوئی بھی سواری ہو، اندر کے ماحول سے نکل کر انسان باہر کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہم بھی باہر کا ایک حصہ ہیں، شاید سب لوگ بھی میری طرح ایسا ہی سوچتے ہوں گے - ایک بات کا تو میں یہاں ذکر ضرور کرونگا کہ میری اللٌہ تعالیٰ نے دیر یا سویر لیکن تقریباً تمام خواہشات کو پورا ضرور کیا، اور مجھے اس کا تو مکمل یقین ہے کہ اگر آپ نیک نیتی سے کوئی دل سےخواھش کریں تو اس کی تعبیر حقیقت میں ضرور ملتی ہے - اس وقت تیزگام سے راولپنڈی سے کراچی کا سفر تقریباً 24 سے 25 گھنٹے میں مکمل ھوتا تھا، والدین کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ ٹرین کا میرا یہ پانچواں سفر ہے، کیونکہ والد صاحب کا ہر دو تین سال بعد تبادلہ ضرور ہوتا رہتا تھا، کراچی اور راولپنڈی کے درمیان، پچھلے سفر کا کچھ کچھ دھندلا سا یاد ہے شاید 5 سال کی عمر ہوگی اور کراچی کا اپنا گھر بھی ہلکا ہلکا ذہن میں خاکہ بھی ہے،!!!!! خیر بات ہورہی تھی اپنے تیزگام کے سفر کی، ہر سفر میں ہر مختلف موسموں کا لطف اٹھانے کو بھی ملا، سرسبز لہلہاتے کھیت خاص طور سے گندم اور مکئی کے سرسبز شاداب کھیت، تو کبھی پیلے پیلے سرسوں کے لہراتے ھوئے کھیت، کبھی کبھی فصلوں کی کٹائی کے وقت سب مردوں، عورتوں اور بچوں، چھوٹے بڑوں کو دیکھ کر اتنی خوشی ہوتی تھی کہ میں بتا نہیں سکتا، اکثر وہ ٹرین کو دیکھ ہاتھ ہلاتے، تو میں بھی خوشی سے ہلاتا، ایسا لگتا جیسے وہ مجھے الوداع کہہ رہے ہوں اس وعدے پر کہ میں دوبارہ واپس آؤں، وہ سب مجھے اپنے سے لگتے تھے،!!!!! میں ھمیشہ اسی انتطار ہی میں رہتا تھا کہ دوبارہ ٹرین کا سفر کب ہوگا کیونکہ سرسبز کھیتوں کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں مجھے بار بار یاد آتی تھین، موسمبی مالٹے سنگتروں کے باغات جب سامنے سے گزرتے تو دل چاہتا تھا کہ کود جاؤں اور باغوں میں جاکر خوب کھیلوں اور موسمبیوں مالٹوں کو توڑ توڑ کر کھاؤں، اس کے علاوہ دریاؤں اور انکے پلوں پر سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی اور ٹرین کی ایک مخصوص آواز کھٹ کھٹا کھٹ مختلف جگہاؤں پر اپنی مخصوص آوازوں کے سر بدل دیتی تھی کھیتوں میں ایک الگ آواز، دریاؤں کے پلوں پر کوئی اور طرز، اور شہروں کے بیچ میں سے گزرتی ہوئی ایک نئے سروں میں سیٹی بجاتی شور مچاتی گزر رہی ہوتی تھی - کیا خوبصورت لگتا تھا کبھی کبھی تو ایک خوف سا بھی لگتا تھا جب ہماری ٹرین کسی سرنگ میں سے گزر رہی ہوتی تھی، ایک دم اندھیرا ہو جانا، اور ٹرین کی آواز میں بھی ایک ہلکا سا ڈراونی تاثر، ساتھ ہلکی سی لایٹ بھی کمپارٹمنٹ میں آن ہو جاتی، اور سب کے چہرے ایک عجیب سا ڈرا ڈرا سا ماحول بن جاتے، اور میں پھر بھی اس ماحول میں ہلکے خوف کے ساتھ لطف اندوز بھی ہوتا رہتا - اس وقت تیزگام صرف بڑے بڑے اسٹیشن پر ہی رکا کرتی تھی، مجھ پر وہاں کے مختلف حاکروں اور قلیوں کی آوازیں بھی ایک خوشی کا تاثر چھوڑتی تھیں، چاہے رات کا وقت ہو یا دن کی روشنی ہو ہر وقت ٹرین کے رکتے رکتے وہی ایک ہی قسم کی آوازیں شروع ہو جاتیں - کبھی “ چائے گرم “ تو ساتھ ہی “ کھانا گرم“ اور کبھی“ آلو چنے کی چاٹ“ کسی اسٹیشن پر “ملتانی حافظ جی کا سوہن حلوہ“ تو کہیں “حیدراباد کی چوڑیاں“ اور گرمیوں میں “ ٹھنڈی بوتل “ تو کبھی “لسی اور دودھ کی بوتلیں“ بھی لوگ بیچتے نظر آتے، میرا دل تو بہت چاہتا تھا کہ یہ چیزیں خرید کر کھاؤں لیکن والد صاحب کی ڈانٹ کی وجہ سے مجبور تھا، بس وہ ھمیشہ گھر سے ساتھ لائی ہوئی چیزوں پر ہی گزارا کرتے- اور کبھی بھی مجھے اسٹیشن پر اترنے بھی نہیں دیا - مگر یہ سارے شوق بعد میں ضرور پورے کئے جب کچھ بڑ ا ہوا اور دوستوں کے ساتھ ٹرین میں سفر کی اجازت ملی،!!!!!! گھر کی بنائی ہوئی چیزوں میں زیادہ تر قیمہ، پراٹھے اور اچار یا چٹنی دوپہر یا رات کے کھانے کیلئے اور چھوٹے بہن بھائی کیلئے علیحٰدہ سے دودھ اور ان کے مطلب کی چیزوں کا بھی انتظام ہوتا تھا، اس کے علاوہ جب کبھی میں باہر کی چیزوں کیلئے ضد کرتا یا پھر والد صاحب کی فرمائش پر، کچھ پھل، چیوڑہ دال سیو اور خشک میوہ جات راستہ بھر میں والدہ اپنی ایک ٹوکری سے وقفے وقفے سے نکالتی رھتیں مگر مجھے کبھی بھی باہر کی چیزیں کھانے نہیں دیتے تھے،!!!!!! تیزگام سندھ کے صحراؤں کو عبور کرتی ہوئی اپنی مخصوص سُروں میں سیٹیاں بجاتی ھوئی کھٹ کھٹا کھٹ بہت تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی - دوسرے دن کی روشنی چاروں طرف پھیل چکی تھی، چلتی ٹرین میں منہ ہاتھ دھونا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن والد کسی نہ کسی طرح سے منہ ہاتھ دھلوا ہی دیا، پھر ڈبل روٹی اور شاید مکھن یا جام وغیرہ سے ناشتہ کرکے فارغ ہوئے ، کسی اسٹیشن سے والد صاحب نے کیتلی میں چائے بھروا لی تھی، اور شاید دودھ بھی ایک بڑے گلاس میں ٌلے چکے تھے، جو ہم چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے تھا - میں یہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ اس تیزگام کا سفر کبھی ختم ہو، والد صاحب کی زبانی ہی پتہ چلا کہ اب ہم کراچی پہتچنے والے ہیں، کراچی کے کینٹ اسٹیشن کے نزدیک پہنچنے سیے پہلے ٹرین کی رفتار کچھ دھیمی ہو رہی تھی اور والد اور والدہ اپنا سارا سامان سمیٹنے میں مصروف تھے، ہم بہں بھائی ٹرین کی کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مگن تھے، اور میں کسی فلاسفر کی ظرح اپنی بہن کو شہر کی باتیں بنا کر اسے مرعوب کرنے کی ناکام کوشش کررہا تھا ،جبکہ مجھے خود کچھ معلوم نہیں تھا، وہ بھی میری کسی بات کو تسلیم ہی نہیں کرتی تھی کیونکہ وہ مجھ سے کہیں زیادہ سقراط کی بھتیجی تھی،!!!! اکثر ہم دونوں کے درمیان جھگڑا ہی رہتا تھا ہاں اگر کوئی کام پڑ جائے تو خوش آمد کرنے سے نہیں چوکتی تھی، وہ مجھ سے تقریباً دو سال چھوٹی تھی - ویسے ہم دونوں بہن بھائی میں محبت بھی بہت تھی، ساتھ کھیلتے ساتھ لڑتے جھگڑتے پھر ایک دوسرے کو منا بھی لیتے تھے، تیسری تو بہت چھوٹی تھی - ٹرین پلیٹ فارم پر آہستہ آھستہ رک رہی تھی باھر لوگوں کا ایک ہجوم تھا، قلی اپنے چکروں میں پھر رہے تھے اور کچھ اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو لینے آئے ہوئے تھے، کچھ ھاتھ ھلا رہے تھے کچھ ٹرین میں جھانک کی کوشش کررہے تھے کہ شاید جاننے والے پر نظر پڑ جائے، میں بھی سوچ رہا تھا کہ ہمیں بھی کوئی لینے والا آیا ہوگا، لیکن میرا اندازہ غلط نکلا، ابا جی نے کسی کو اطلاع ہی نہیں دی تھی، بہرحال اتنا زیادہ سامان اور صرف دو قلی، جو ہمارا سارا سامان اٹھائے ہوئے تھے، ان کے پیچھے پیچھے ہم سب چلتے ھوئے اسٹیشن کے باہر نکل آئے،!!!! باہر کا منظر بھی معمول کی طرح لوگوں کا ایک ھجوم اور اس وقت تانگے والے، سائیکل رکشہ والے، گدھا گاڑی والے، آواریں لگا لگا کر اپنے پاس بلا رہے تھے، دو چار تو والد صاحب کے آگے پیچھے بھی منڈلانے لگے، مگر والد صاحب بچتے بچاتے ان سے اول فول بکتے ہوئے، ایک گدھا گاڑی کے پاس جاکر رک گئے، قلیوں کو کچھ دے دلا کر فارغ کیا اور بھر گدھا گاڑی والے سے بات کرنے لگے شاید سامان لے جانے کیلئے،!!!! میری نظریں تو سامنے کھڑی ہوئی ٹراموں پر ٹکی ہوئی تھیں، بالکل ٹرین کی طرح سڑک کے اوپر باری باری پٹری پر ٹن ٹن کرتی ہوئی چل رہی تھیں، میں حیران بھی تھا اور شاید یہ سوچ رھا تھا کہ اگر والد صاحب ا اس ٹرام میں بیٹھ کر گھر جائیں تو کتنا مزا آے، باھر اس کے علاوہ اس وقت کی ٹیکسیاں جو بہت بڑی بڑی تھیں اور کچھ بسیں بھی نظر آرھی تھیں، جن کے آگے پیچھے سے دھواں بھی اٹھ رہا تھا اور پوری بس تھرتھراتی ھوئی کانپ بھی رہی تھی اور جو بسیں خاموش تھیں انکے ڈرائیور شاید بس کو اسٹارٹ کرنے کیلیئے آگےایک سریہ سا ڈال کر بار بار گھمارہے تھے، اس وقت ہر موٹرگاڑی کو اسی طرح اسٹارٹ کیا جاتا تھا، مگر میری امیدوں پر پانی پھر ہی گیا جب ابٌا حضور نے چلا کر کہا چلو بیٹھو، میں نے گھبرا کر جو مڑ کے دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں سارا سامان گدھا گاڑی پر جم چکا تھا اور والدہ اپنا کالا برقعہ سنبھالتی ہوئی اوپر سامان کےاوپر بیٹھنے کی کوشش کررہی تھیں پھر ابٌا جی نے گود میں اٹھا کر ہم بہن بھائی کو اوپر بڑی مشکل سے بٹھایا اور خود گدھا گاڑی چلانے والے کے برابر بیٹھ گئے اور پھر چلاچل گدھا بیچارہ ساری مخلوق بمعہ سامان کو لئے گاڑی بان کے اشارے پر گاڑی کھینچنے کی کوشش کر رہا تھا، بڑی مشکل سے کچھ لوگوں نے گدھا گاڑی کو دھکا لگا کر بےچارے گدھے کو گاڑی کھینچنے میں مدد کی - بس پھر کیا تھا گدھے نے اپنی چال دکھائی اور آہستہ آہستہ دوڑنا شروع کردیا، گاڑی بان بھی اپنی ایک مخصوص بولی میں گنگناتا ھوا ساتھ ساتھ گدھے کو بھی لگام تھامے ہدایتیں دیتے ہوئے مست تھا، اس وقت اسے مشکل پیش آتی جب کوئی چوراھا سامنے آجاتا، اگر کوئی سپاھی ہماری طرف کا ٹریفک روک کر دوسری طرف کی گاڑیوں کے جانے کا اشارا کرتا، کیونکہ اسے گدھے کو روکنے اور دوبارہ بھگانے میں بہت مشکل درپیش آتی تھی،!!! اس زمانے میں کوئی بھی الیکٹرونک سگنل نہیں ہوا کرتا تھا ، بس آپ ہر چوراھے پر سفید وردی پہنے ہوئے ایک سپاھی خود ہی ٹریفک کنٹرول کرتے ہوئے ناچ رہا ہوتا تھا - ایک عجیب سا منظر تھا، ہماری گدھا گاڑی روڈ پر دوڑی جارہی تھی اور چاروں طرف بھی ساتھ ساتھ گھوڑا گاڑیاں گدھا گاڑیاں ساتھ اُونٹ گاڑیاں بھی، سائیکل والے، سائیکل رکشہ والے کچھ اس وقت کے ٹرک، بسیں، پوں پوں کرتی کھڑکھڑاتی ھوئی چل رھی تھیں، اس وقت کے سادے لوگ بس دیکھتے اور ھمیں دیکھ کر مسکراتے ہاتھ ہلاتے ہوئے گزر رہے تھے، کبھی کبھی کوئی گڑھا وغیرہ آجاتا تو ہم سب سامان سمیت اوپر اچھل جاتے،اگر آج کل کی نظروں سے دیکھو تو ایسا لگے جیسے کوئی “ٹام اینڈ جیری“ کی کارٹون فلم چل رہی ہو - چھوٹی چھوٹی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور ہر قدم پر مختلف قسم کے گڈھے، اس پر یہ خودکار سواریاں !!!!!!! بڑی مشکل سے یہ شاھی سواری منزل پر پہنچی، حالت خراب ہو چکی تھی سب بدن کے پرزے ڈھیلے ہو چکے تھے، پہنچنے سے پہلے ہی چند بچوں کو گدھا گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے دیکھ رھا تھا اور گاڑی کے رکتے ہی کئی لوگ بھی نزدیک آگئے اور سامان اتارنے میں مدد کرنے لگے دو تین عورتیں آئیں اور والدہ کو اور چھوٹی بہنوں کو ساتھ لے گئیں اور میں گدھاگاڑی کے سامنے ابٌاجی کے پاس لوگوں کو سامان اتارتے دیکھ رہا تھا اور مجھے بھی لوگ پیار سے بلارہے تھے شاید یہ سب والد صاحب کے دوست تھے،!!!!!! میں بھی بہت تھکا ھوا محسوس کر رہا تھا، شام ھونے والی تھی ابٌاجی میرا ہاتھ تھامے مجھے نئے گھر کی طرف لے جارہے تھے اور میں غنودگی میں ان کے ساتھ بڑی مشکل سے چل رہا تھا، پھر پتہ ہی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی، رات کے نہ جانے کس وقت والدہ نے کھانے کیلئے اُٹھایا دیکھا تو ایک لالٹین جل رہی تھی، شاید لوگوں کے گھروں سے کچھ کھانا آیا ھوا تھا ، سب کھانے میں مصروف تھے اور میں کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے اسکول کے بارے میں اور وہاں کے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ رھا تھا جنہیں میں بہت دور چھوڑ آیا تھا - !!!!! __________________ جاری ہے،!!!!!!! Last edited by عبدالرحمن سید; 31-10-10 at 11:00 AM. |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا | shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (13-11-10), ھارون اعظم (25-10-10), محمدخلیل (25-10-10), حیدر (26-10-10), سیپ (05-12-10), طاھر (04-11-10), عبداللہ آدم (25-10-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
میں بھی بہت تھکا ھوا لگ رہا تھا، شام ہونے والی تھی ابٌاجی میرا ہاتھ تھامے مجھے نئے گھر کی طرف لے جارہے تھے اور میں غنودگی میں ان کے ساتھ بڑی مشکل سے چل رہا تھا، پھر پتہ ہی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی، رات کے نہ جانے کس وقت والدہ نے کھانے کیلئے اُٹھایا دیکھا تو ایک لالٹین جل رہی تھی، شاید لوگوں کے گھروں سے کچھ کھانا آیا ہوا تھا ، سب کھانے میں مصروف تھے اور میں کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے اسکول کے بارے میں اور وہاں کے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جنہیں میں بہت دور چھوڑ آیا تھا - !!!!!!!!!
تھکان کے وجہ سے صبح اٹھنے میں مجھے بہت مشکل پیش آئی، ورنہ چاہے کچھ بھی ہوجائے صبح جلدی اٹھنے کی ایک عادت تھی، چاہے چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو، مگر دو دن کی تھکان کی وجہ سے اٹھتے اٹھتے کافی دور ہو چکی تھی، چاروں طرف ساماں بکھرا ہوا تھا، والدہ ہماری کچھ اور محلےکی عورتوں کے ساتھ مل کر ساماں کو ترتیب دے کر قرینے سے رکھ رہی تھیں، اور چند چھوٹے بڑے بچے میرے چاروں طرف مجھے اپنی طرف توجہ دلانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے تاکہ ان کی دوستی کے حلقے کا ممبر بن جاؤں، کچھ بچے دور سے ہی کھڑے مجھے دیکھ کر ہنس رہے تھے، جیسے میں کوئی کسی اور دنیا کی مخلوق ہوں - مجھے کچھ کچھ تین سال پہلے کی دھندلی سی تصویر نمایاں ہوتی نظر آرہی تھی، جب میں شاید تقریباً پانچ سال کا تھا، اور والدہ اور دوسرے بھی مجھے یاد دلانے کی کوشش میں مصروف تھے، جو مجھے آھستہ آھستہ ذہن کے ایک گوشے میں کچھ بھولی بسری باتیں کروٹ لے رھی تھیں - بہرحال کچھ جاننے کی کوشش میں باہر کی طرف رخ کیا اور اس نئی جگہ کو اپنا پن دینے کے لئے آس پاس کا نظارہ کرنا شروع کیا، کچھ میرے ھم عمر بچے بھی ساتھ رہے، جیسے وہ مجھے گائیڈ بن کر کسی کھنڈرات کی سیر کرارہے ہوں اور ساتھ ساتھ کمنٹری بھی چل رہی تھی، آٹھ سال کی میری عمر اور نئی جگہ نئے لوگ نئے شہر میں ایک پرانا محلہ، نہ بجلی، نہ پانی کی سہولت، میں تو کچھ پریشان سا ہوگیا،!!!!! کیونکہ جہاں سے ہم سب آئے تھے وہاں پکے دو کمرے کا سرخ اینٹوں کا بنا ھوا کوارٹر تھا، پانی اور بجلی کا آرام تھا چمنی والی انگیٹھیاں دونوں کمروں میں تھیں، کیونکہ وہاں سردی بہت ہوتی تھی، سردیوں میں ہم سب انگیٹھی کے چاروں طرف بیٹھ کر ٹھنڈ سے بے فکر خوب والدین کے ساتھ لاڈ پیار میں لگے رہتے، کیا سہانا وقت تھا - اب نہ جانے کیوں رہنے کیلئے اس جگہ کو ابا جی نے منتخب کیا، ایک کچی آبادی میں، شاید سرکار سے مکان کا کرایہ وصول کرنے کیلئے انہوں نے اپنے لئے گورنمنٹ کی دیوار کے کنارے ایک مٹی کا کچا سا مکان بنایا تھا - وہاں پر چند اور بھی اسی طرح کے گھر تھے، لیکن سب سہولتوں سے محروم تھے - گلیاں بھی ٹیڑھی میڑھی، کچھ گھروں کی دیواریں ٹوٹی پھوٹی اور اوپر سے شور مچاتے بچے، اس ماحول کا تو میں بالکل عادی نہیں تھا - اب کرتے کیا نہ کرتے مجبوری تھی جہاں والدین وہاں ہم، میں دو تین دن تک تو پریشان ہی رہا، اور اپنے آپ کو بہلانے کی بھی کوشش کرتا رہا، نہ کوئی مطلب کا دوست تھا، اور نہ دل مانتا تھا کہ کسی سے دوستی کروں، ایک چرچڑا پن محسوس کرنے لگا - لیکن بعد میں مجھے اس جگہ سے ایسی محبت ہوئی کہ اب جب بھی پاکستان چھٹی جاتا ہوں میں وہاں کا ضرور ایک چکر لگاتا ہوں اور اپنے کھوئے ہوئے معصوم بچپن سے لیکر جوانی تک کی حسین یادوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں - وہ علاقہ اب بھی گلیوں اور کوچوں کے حساب سے ویسا ہی ہے لیکن کافی بہتری بھی آگئی ہے، پانی بجلی اور سوئی گیس کی سہولت موجود ہے، اور تقریباً تمام مکان پکے سمنٹ کے بن چکے ہیں اور ہمارا مکان اب کسی اور کی ملکیت ہے اس نے بھی اچھا خاصا مکان بنا لیا ہے - کاش کہ وہ مجھے یہ میرا مکان مجھے بیچ دیں، کاش کہ میرے پاس اتنا پیسا ہو کہ اس مکان کو خرید سکوں،!!!!!! میں جب بھی اس اپنے پرانے محلے کی طرف جاتا ہوں، تو میں اپنے آپ کو چاروں طرف وہی خوشبو سے بھری ہوئی یادوں میں گھرا ہوا پاتا ہوں - یہاں میں نے تقریباً اپنی زندگی کے خوبصورت اور حسین یادوں کے ساتھ دس سال گزارے ہیں، مجھے اس علاقہ کو والدیں کی خواھش کی مطابق 18 سال کی عمر میں چھوڑنا پڑا، لیکن میں اب تک ذہنی طور پر وہیں ہوں - کاش کہ وہ وقت دوبارہ واپس آجائے کاش !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!! جاری ھے،!!!! Last edited by عبدالرحمن سید; 26-10-10 at 12:15 PM. |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا | shafresha (25-10-10), فیصل ناصر (25-10-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (13-11-10), ھارون اعظم (25-10-10), محمدخلیل (25-10-10), حیدر (26-10-10), طاھر (04-11-10), عبداللہ آدم (25-10-10), عبداللہ حیدر (14-11-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
میں جب بھی اس اپنے پرانے محلے کی طرف جاتا ہوں، تو میں اپنے آپ کو چاروں طرف وہی خوشبو سے بھری ہوئی یادوں میں گھرا ہوا پاتا ہوں - یہاں میں نے تقریباً اپنی زندگی کے خوبصورت اور حسین یادوں کے ساتھ دس سال گزارے ہیں، مجھے اس علاقہ کو والدیں کی خواھش کی مطابق 18 سال کی عمر میں چھوڑنا پڑا، لیکن میں اب تک ذہنی طور پر وہیں ہوں -
کاش کہ وہ وقت دوبارہ واپس آجائے کاش !!!!!!!! نئی جگہ نئے محلہ میں آئے ہوئے بھی ایک ھفتہ گزر چکا تھا، لیکن تمام کوششوں کے باوجود دل کا لگانا مشکل نطر آرہا تھا، پنڈی میں پانچویں جماعت کی پڑھائی ادھوری چھوڑکر آنا پڑا تھا، اس لئے والد صاحب میرے داخلے کیلئے بہت پریشان لگتے تھے، ان دنوں روزانہ وہ دفتر سے چھٹی لے کر آتے، جب تک والدہ مجھے تیار کراتیں اور پھر والد صاحب کے ساتھ انکے پیچھے پیچھے کچھ کتابوں اور کاپیوں سے بھرا بستہ گلے میں لٹکائے چل کیا دیتا بلکہ بھاگنا پڑتا، کیونکہ ان کی رفتار بہت تیز تھی، شاید اس لئے کہ انہیں واپس دفتر بھی جانا ہوتا تھا، راستے میں محلٌے کے بچے بھی مجھے دیکھ کر مسکراتے، اور مجھے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش بھی کرتے تاکہ میں بھی انکی “بچہ کمیٹی“ کا ممبر بن جاؤں مگر والد نے تو بہت سختی سے پابندی لگائی تھی کہ خبردار اگر ان بچوں کے ساتھ اگر میں کھیلا تو،!!!! میری ٹانگیں ٹوٹنے کا اندیشہ تھا، مجھے انکے غصہ سے ویسے بھی بہت ڈر بھی لگتا تھا، لیکن آہستہ آہستہ ان بچوں کی حرکتیں بھی مجھے اچھی لگنے لگی تھی اور باوجود والدہ کے منع کرنے پر روزانہ کسی نہ کسی بہانے خاموشی سے کھسک لیتا تھا اور انکے ساتھ اس زمانے کے کھیل کھیلتا رھتا کبھی گلی ڈنڈا کبھی کنچہ کی گولیاں، پٹھو گرم، اور کبھی پتنگ بازی وغیرہ وغیرہ اور جیسے ہی اباجی کو دفتر سے واپس آتا دیکھتا ایسی دوڑ لگاتا کہ شاید اگر اسی طرح کسی ریس میں حصہ لوں تو اوٌل پوزیشن پر رہوں،!!!! گھر پہنچتے ہی ہاتھ پیر دھوئے اور فوراً کوئی بھی کتاب اٹھا کر اس طرح پڑھنے لگتا جیسے میں ہی دنیا کا سب سے بڑا پڑھاکو بچہ ہوں ، اباجی جیسے ہی گھر پہنچتے اور مجھے پیار سے دیکھتے ہوئے والدہ سے کہتے دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ ہمارا یہ بیٹا ہمارا نام ضرور روشن کریگا، والدہ معنی خیز نگاھوں سے مجھے دیکھتیں اور مسکرا کر والد صاحب کی ہاں میں ہاں ملاتیں، جبکہ انہیں پتہ تھا کہ میں ابھی ابھی باھر سے بھاگ کر آیا ہوں،!!!!! میری والدہ میری ہر شرارتوں کو اباجی سے ھمیشہ چھپا کر مجھے پٹنے سے بچا لیتی تھیں اور ہر دفعہ خبردار بھی کرتی تھیں کہ اگر آئندہ تم نے کوئی شرارت کی یا دوبارہ گندے بچوں کے ساتھ کھیلے تو تمھارے ابا جی سے شکایت لگادوں گی، لیکن میں انکی تمام نصیحتوں کو رد کردیتا کیونکہ مجھے والدہ کی عادت معلوم تھی کہ وہ مجھے ھمیشہ میری تمام حرکتوں کو اباجی سے پوشیدہ رکھتی تھیں- والدصاحب چاہتے تھے کہ کہیں نزدیک اسکول میں میرا داخلہ ہو جائے، لیکن مشکل یہ تھی کہ ہر اسکول میں تقریباً داخلے بند ہو چکے تھے اور وہ مجھے دور بھیجنا نہیں چاہتے، اسی چکر میں ایک مہینہ گزرچکا تھا اور میرا دل بھی پڑھائی سے آھستہ آھستہ اُچاٹ ہوتا جارہا تھا، کیونکہ اب ایک مہینے کے اندر ہی باہر بچوں کے ساتھ کھیلنے میں زیادہ دلچسپی لینے لگا تھا، دل میں اب یہی خواھش جنم لے رہی تھی کہ داخلہ نہ ہو تو بہتر ہے - آخر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی ایک دن چھری کے نیچے آنا ہی تھا، اور مجھے ایک گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخلہ مل ہی گیا، اور کھیلنے کودنے کے میرے تمام خواب چکنا چور ہوکر رہ گئے، مجھے دکھ تو بہت ہوا، لیکن مرتا نہ کیا کرتا اسکول میں جانا شروع کردیا لیکن بالکل بے دلی کے ساتھ، وہاں اسکول میں ایک الگ ہی بھیڑچال دیکھنے کو ملی، کوئی بھی ڈھنگ کا بچہ نظر نہیں آیا، اور اس پر سارے استاد بھی سونے پر سھاگہ تھے اور اسکول کی تو نہ ہی پوچھیں کوئی بھی کل سیدھی نہیں تھی، ٹوٹی پھوٹی دیواریں اور جھولتی کھڑکیاں، میز کرسیاں بالکل غائب، کلاسوں میں پھٹی ہوئی دریاں وہ بھی بے ترتیبی سے بچھی ہوئی، باہر کا مین گیٹ سرے سے ہی ندارد، اور کیا کیا تعریف کروں، قسمت میں جو لکھا تھا بھگتنے کو تیار، اب کیا کرتے روز اسکول جانے لگے،!!!! میں تو اب بُری طرح پھنس چکا تھا، نہ چاہتے ہوئے بھی اسکول جارہا تھا اور وہاں کے شیطان بچوں سے واسطہ، کلاس میں بیٹھتے ہی ایک ھنگامہ شروع ہوجاتا، کلاس ٹیچر کی تو کیا کہیئے، انھیں کوئی فکر نہیں تھی، آتے ہی حاضری لیتے، پھر کہتے کہ فلاں صفحہ کھولو اور زبانی یاد کرو، بس یہ کہہ کر باہر نکل جاتے اور دوسرے پیریڈ میں ہی واپس آتے، اُس وقت تک کلاس کا حال بےحال ھوجاتا، آتے ہی چھڑی دکھا کر سب کو ڈانٹنے لگتے اور ایک دو کو سزا بھی ملتی، کسی کو مرغا بنا دیتے اور کسی کو چھڑی سے ہی دو چار لگادیتے اور ہر دفعہ میں ہی پھنس جاتا تھا، کیونکہ اس پانچویں کلاس کے تمام بچے صحیح منجھے ہوئے فنکار تھے، شرارت کوئی اور کرتا اور ھمیشہ مجھے ہی پھنسا دیتے، آپس میں سارے ملے ہوئے تھے کیونکہ سب مل کر میری طرف اشارہ کرکے گواھی بھی دیتے، ماسٹرصاحب کو میں کیا یقیں دلاتا، ان کا شکار میں بن ہی جاتا اور پھر تمام کلاس مجھ پر ہنس رہی ہوتی تھی،!!!! اگر ایک ایک ان کی حرکتیں لکھنے بیٹھوں تو سب کچھ ان سب کی شرارتوں کے ہی نطر ھوجائے، گھروں سے وہ لوگ ربڑ بینڈ اور چھوٹے چھوٹے پتھر اپنے اپنے بستوں میں بھر کر لاتے تھے اور پھر کلاس روم میں ہی دوسروں کو غلیل کی طرح نشانہ لگا کر خوب وار کرتے، اور زیادہ تر میں ہی نشانہ بنتا بھی اور سزا کیلئے بھی ان ہی لڑکوں کی وجہ سے مجھے کھڑا ہونا پڑتا،!!!! اکثر لڑکے تو ایک دوسروں کی کاپیاں اور کتابیں بھی چھپا دیتے، میرے ساتھ تو کچھ زیادہ ہی ہوتا تھا اور ایک دن تو ان لڑکوں نے مل کر حد ہی کردی، کہ کلاس ٹیچر نے مجھے کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو یہاں لے کر آؤ تو کلاس میں داخل ھونا ورنہ نہیں،!!!!! کیونکہ میرے پاس وہ مطلوبہ کاپی نہیں تھی، جبکہ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میں نے تمام ھوم ورک مکمل کرکے اپنے بستے میں ہی رکھی تھی، یقیناً یہ لڑکوں کی ہی شرارت تھی، !!!!!!!! کہاں لا بٹھایا مجھے یہاں، گھورتے لڑکے شکاری جیسے کیسی جماعت ہے یہاں، چھیڑتے بچے مکاری جیسے ہمارے لئے فرشی پیوند دری، اُنھیں عرشی میز کرسی لگے شاھی دربار کا میلہ، اوپر شاہ نیچے درباری جیسے ڈنڈا ہاتھوں میں وہ گھماتے، غصٌہ غضب کا وہ دکھاتے دیکھو لگے وہ دور سے جٌلاد، تلوار لئے دو دھاری جیسے میری حالت تو خراب ہوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رہا اور روتا رہا، سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں گا، ان سے تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا،!!!!!! جاری ہے،!!!!!! |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
میری حالت تو خراب ہوگئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رہا اور روتا رہا، سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں گا، ان سے تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا،!!!!!!
مجھے بچپن سے ہی اردو میں لکھنے کا بہت شوق تھا، جسکی وجہ خاص طور سے میرا وہ راولپنڈی کا اسکول تھا جہاں پر لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم سے اردو رسم الخط لکھنے کا فن سکھایا گیا اور ساتھ ہی انگلش اور اسلامی تعلیمات بمعہ قران شریف کا مطالعہ اسکے صحیح تلفظ اور تشریح و ترجمہ کے ساتھ جو اوٌل جماعت سے لے کر جماعت پنجم تک باقاعدگی سے درس و تدریب دی جاتی تھی جو کہ ماہرین اساتذہ کی نگرانی میں تربیت دی گئی، جسکا کہ میں اس تعلیمی ادارہ کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ہمارے تمام تعلیمی ادارے بھی اسی طرح کے منظم انتظامیہ کے اصولوں کو اپنایں اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن کرنے کی کوشش کریں - آج کل تو پہلی جماعت سے ہی بچوں کو سستے قسم کے کے بال پین پکڑا دئیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اردو کی لکھائی میں خوشخط نہیں ہوتی اور کوئی اسلامی تعلیم بھی صحیح طریقہ سے نہیں دی جاتی، جب ہمارے بچوں کی بنیادی تعلیم ہی مضبوط نہیں ہوگی تو ہمارے بچے مستقبل کے بہترین معمار کیسے بن سکیں گے - بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیسے میرے ساتھ ہوا کہ اسکول بدلتے وقت یا نئے داخلے کے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ اس کا معیار انکے بچے کی تعلیم کیلئے کیسا رہے گا اور نہ ہی والدین اسکول جاکر اپنے بچوں کی پڑھائی کے بارے میں معلومات کرتے ہیں - اسی وجہ سے میرے پانچویں جماعت کا ایک پورا سال ضائع ہوا، جس کا اثر میری سیکنڈری اسکول کی تمام تعلیم پر بہت خراب پڑا اور جب اگر ایک اچھی عادت بگڑ جائے تو اسکا سدھارنا بہت مشکل ھوتا ھے - اس زمانے میں زیادہ تر سرکاری تعلیمی ادارے بہت اچھے معیار کے تھے لیکن بدقسمتی سے مجھے تمام سرکاری اسکولوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ داخلہ نہ مل سکا اور مجبوراً والد صاحب نے ایک گورنمنٹ کے ٹاؤن کمیٹی کے سب سے نچلے درجے کے اسکول میں داخل کرادیا، ان کا یہ مقصد تھا کہ میرا سال ضائع نہ ہو، مگر اس ایک سال کی وجہ سے مجھے اسکا خمیازہ اپنی زندگی پر ایسا اثرانداز ہوا کہ میں اپنے تعلیمی معیار کو صحیح مقام نہیں دے سکا اور والد صاحب کی خواھش کے مطابق اپنی اعلیٰ تعلیم کو مکمل نہ کرسکا، وہ چاھتے تھے کہ میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ بنوں یا اکاونٹس میں ماسٹر کروں، جوکہ نہ ھوسکا، لیکن شکر ہے اس مالک کا کہ اب تک عزٌت کے ساتھ بات بنی ہوئی ہے جبکہ میں واقعی اس قابل نہیں ہوں - والد صاحب نے ایک تو اس اسکول میں داخل تو کرادیا لیکن پورا سال خبر نہ لی کہ میں اسکول میں کیا کررہا ہوں، اور دوسرے انکا غصٌہ اتنا شدید تھا کہ کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی اور اسی ڈر کی وجہ سے میں ان سے جھوٹ پہ جھوٹ بولتا چلا گیا اور جھوٹ کو نبھانے کیلئے مزید لاکھوں جھوٹ اور ساتھ یہی جھوٹ کی عادت چوری کی شکل میں تبدیل ہوگئی اور بہت سی خراب عادتوں نے بھی جنم لے لیا - ایک بات کا میں اضافہ کرنا چاہوں گا، کہ یہ اللٌہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ھے کہ یہ چوری کی عادت گھر تک ہی محدود رہی، مثلاً جھوٹ بول کر والدہ سے کوئی بھی مجبوری بنا کر پیسے اینٹھ لینا یا گھر کا سودا لاتے وقت سودے میں چھوٹی موٹی ہیرا پھیری سے پیسے بچا لینا، کیونکہ یہ صرف ایک جھوٹ کئی جھوٹ کو جنم لیتا ھے اور پھر آھستہ آھستہ دوسری ہی غلط ضروریات کی طرف لے جاتا ہے جسے پورا کرنے کیلئے انسان غلط وسائل کی طرف بھی راغب ہو جاتا ھے،!!!!! میرا مقصد ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے والدین کو بس یہی پیغام پہنچانا ہے کہ وہ کچھ اس سے سبق سیکھیں اور اپنے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچائیں،!!!!!!!!!!!!!!!!!! ہاں تو کہانی وہیں سے شروع کرتا ہوں جہاں پہلے ختم کی تھی،!!!!!! اکثر لڑکے تو ایک دوسروں کی کاپیاں اور کتابیں بھی چھپا دیتے، میرے ساتھ تو کچھ زیادہ ہی ہوتا تھا اور ایک دن تو ان لڑکوں نے مل کر حد ہی کردی، کہ کلاس ٹیچر نے مجھے کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو یہاں لے کر آو تو کلاس میں داخل ھونا ورنہ نہیں،!!!!! کیونکہ میرے پاس وہ مطلوبہ کاپی نہیں تھی، جبکہ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میں نے تمام ھوم ورک مکمل کرکے اپنے بستے میں ہی رکھی تھی، یقیناً یہ لڑکوں کی ہی شرارت تھی، !!!!!!!! میری حالت تو خراب ہو گئی، کلاس سے نکل کر ایک قریبی پارک میں بیٹھ کر سوچتا رہا اور روتا رہا، سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ گھر جاکر اباجی سے کیا کہوں گا، کیونکہ ان سے تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا،!!!!!! پارک جو گھر اور اسکول کے قریب تھا، وہ ایک بہت بڑے گول سے چوراھے کے درمیان میں بنا ہوا تھا اور چاروں طرف سے موٹرگاڑیاں، تانگے،سائیکل رکشہ وغیرہ یعنی ہر قسم کی سواریاں اپنی مخصوص آوازوں کے ساتھ چکر لگاتی ہوئی اپنی سمت کی طرف چلی جارہی تھیں - مگر میں تمام گاڑیوں کے شور شرابے سے بےخبر اپنا بستہ سر کے نیچے دبائے، سبز گھاس پر آنے والی مشکل گھڑی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اب میں گھر پر کیا کہونگا، کلاس ٹیچر نے تو کلاس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ اپنے والد کو بلا کر لاؤ تو اسکول میں داخل ہوسکتے ہو ورنہ نہیں !!!!!!!!! کوئی حل سمجھ میں نہیں آرہا تھا، والد کا خوف ہی اتنا تھا کہ کچھ سوچنے کی گنجائش ہی نہیں تھی، اگر کلاس ٹیچر کا پیغام سناتا ہوں تو ابا جی پہلے مجھے مارتے اور پھر اسکول کی طرف رخ کرتے، اور واپسی پر بھی میری زبردست پٹائی ہونے کی پیشین گوئی بھی تھی، والدہ کو کہہ کر میں ان کی مزید پریشانیوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا تھا، پہلے ہی میں نے انہیں بہت پریشاں کیا ہوا تھا - سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی، ایک دم میری آنکھ کھلی جب مالی نے پانی کے چھیٹے میرے منہ پر مارے، نہ جانے وہ کیا سمجھ بیٹھا تھا، میں گھبرا کے آٹھا تو اس کے جان میں جان آئی، اس نے ہاتھ کے اشاروں سے میری خیریت پوچھی اور اپنے کام پر لگ گیا، اور میں نے اپنے کپڑے وغیرہ اچھی طرح جھاڑے، سورج کے رخ سے وقت کا اندازہ لگایا، اپنے بستہ کو کاندھے پر لٹکایا اور گھر کی طرف خراماں خراماں چلنے کی ناکام سی کوشش کی کیونکہ آج تو اپنے قدم بھی ساتھ نہیں دے رہے تھے، ساتھ ساتھ منصوبہ کی پلاننگ بھی کرتا جارہا تھا کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہئے - گھر پہنچتے ہی والدہ گھبرا گئیں اور مجھ سے کئی سوال ایک دم پوچھ ڈالے، کہ آج اتنی جلدی کیوں آگئے، طبعیت تو ٹھیک ہے کیا ہوا کیا نہیں ہوا، میری پہلے ہی سے مسکین شکل بنی ہوئی تھی اور پھر میرا فوراً ہی شیطانی دماغ کا سوئچ بھی آن ہوگیا، اور پھر جھوٹ کی پٹاری کھل گئی، جواباً عرض کیا کہ کلاس میں سردی لگ رہی تھی، بخار چڑھ گیا تھا،!!!!! اور کچھ چہرے پر غصہ کا لبادہ بھی چڑھا لیا، والدہ کے سامنے تو میں شیر بن جاتا تھا اور ابٌاجی کے سامنے تو بالکل بھیگی بلی کی طرح میاؤں، منہ سے آواز نہین نکلتی، والدہ پریشان ہوگئی اور کچھ گھریلو دوائی دی اور کمبل اوڑھا کر لٹا دیا،!!!!!! لیٹ تو گیا لیکن بہت سخت بھوک لگی ہوئی تھی، والدہ نے بڑے اسرار کے بعد ساگودانے کی کھیر بنا کر دی اور پھر بعد میں کڑوا سا جوشاندہ بھی لے آئیں، مجبوراً یہ دن بھی دیکھنا پڑا، والدہ ہماری اباجی کا انتظار کرنے لگی کہ وہ آئیں تو ڈاکٹر کے پاس لےجائیں - اباجی کی آواز آئی تو میری تو جان ہی جیسے نکل گئی، اب کیا کروں، والد صاحب اکثر دوپہر کے تین بجے تک آتے تھے، کھانا کھا کر کچھ دیر کیلئے سوجاتے پھر شام کو دوسری مصروفیات میں مشغول ہو جاتے، جو آگے چل کر تفصیل سے لکھونگا، جس میں میرا بھی بہت بڑا کردار ہے - اب کیا کروں خاموش ہی رہا، مجھے کچھ احساس ہوا کہ انہوں نے ڈاکٹر کی طرح نبض ٹٹولی اور والدہ سے کہا، کچھ نہیں ہے طبیعت بالکل صحیح ہے، ایسے ہی ڈرامہ کررہا ہے، اسے کھانا دو، ابھی ٹھیک ھوجائےگا، میری کچھ طبعیت بحال ہوئی کیونکہ بہت سخت بھوک لگ رہی تھی، اور شیطانی دماغ کی مکمل پلاننگ ہو چکی تھی کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہئے - کھانا وغیرہ کھایا اور روز کی طرح کتاب کھول کر پڑھنے بیٹھ گیا تاکہ اباجی کو کسی بات کا احساس نہ ہو، اب مکمل پلاننگ تو ہو چکی تھی وہ یہ کہ روز اسکول کیلئے تیار ہو کر جانا تو ہے لیکن اسکول کے بجائے کہیں اور کا چکر لگاؤں اور اسکول کے واپسی کے وقت گھر آجاؤں، شکر اس بات کا یہ تھا کہ میرے اسکول میں اپنے محلے کا کوئی بچہ نہیں پڑھتا تھا، کہ کہیں سے بھی کسی بات کا پتہ چل سکے، آگے کیا ھوتا ھے وہ کچھ زیادہ ہی ہولناک ہے، کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ میں پورے دس مہینے تک اسکول کے بجائے کہیں اور گل چھرے اڑاتا رہا، اور اتفاق سے والد صاحب نے ایک دن بھی اسکول میں آکر کوئی بھی خبر نہ لی !!!!!!!!!!! جاری ھے--------- |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
سر جی بہت اچھا لگا آپ کے بارے میں جان کراور بہت ہی کارآمد باتیں بیان کیں ہیں آپ نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے جو کہ یقینا سیکھنے والوں کے لئے بے حد فائدہ مند ہونگی۔
جس طرح کے ٹیچرز کا ذکر آپ نے کیا ہے اس طرح کے ٹیچرز اب واقعی خواب وخیال کا حصہ ہیں کیونکہ آج کل ہم لوگوں نے ایجوکیشن کو ایک بزنس بنا لیا ہے اور اساتذہ بھی بچوں کے ساتھ مخلص نہیں ہوتے ان کی بس یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ان کی کلاس کے تمام بچے سکول سے فراغت پانے کے بعد ان کے ہاں ٹیوشن کے لئے پہنچ جائیں۔تو ایسی صورت میں وہ سکولوں میں کیا پڑھاتے ہونگے ۔ میں اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کے والد صاحب کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں ان کے درجات بلند فرمائے اور آپکی والدہ کو صحت و تندرستی عطا کرے۔ آمین
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بہت شکریہ عدنان جی،!!!!! والدین کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بچوں کی طرف پیار اور محبت سے نگاہ رکھیں اور ان کی ہر حرکات پر نظر بھی رکھیں، جب تک کہ مکمل طور سے شعور حاصل نہیں کرلیتے، ڈانٹنے اور مار پیٹ سے بچوں کے معصوم اعصاب پر بہت برا اثر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے معصوم جذبات کوئی بھی غلط رنگ اختیار کرسکتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ والدین کو بچوں کی تربیت کے بھی پرانے انداز کو بدلنا ہوگا، اپنا مکمل بھروسہ ان کے ساتھ رویہ بالکل دوستانہ ہونا چاہئے، نئی ایجادات جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے بھی روشناس کرانا ان کا اولین فرض ہے، مگر گھر میں بچوں کی تربیت ایسی ہونی چاہئے کہ وہ نئی ایجادات سے کوئی غلط رنگ یا کسی برائی کی طرف توجہ نہ دے سکیں، بلکہ بچوں میں ایسے شوق پیدا کریں جو ان کی تعلیم و تربیت اور ان کی مثبت نشونما میں ایک بہترین مددگار ثابت ہوں، مگر بہت پیار اور محبت سے ایک دوستانہ ماحول میں!!!! خوش رہیں،!!!! |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی (13-11-10), عبدالرحمن سید (26-10-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
آگے کیا ہوتا ہے وہ کچھ زیادہ ہی ہولناک ہے، کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ میں پورے دس مہینے تک اسکول کے بجائے کہیں اور گل چھرے اڑاتا رہا، اور اتفاق سے والد صاحب نے ایک دن بھی اسکول میں آکر کوئی بھی خبر نہ لی !!!!!!!!!!!
اس وقت غالباً 1959 میں میری عمر تقریباً نو یا دس سال کے لگ بھگ ہوگی، میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس طرح کا واقعہ میری اس عمر میں پیش آسکتا ہے، رات بھر میں دوسرے دن کے بارے میں سوچنے لگا کہ کیا کروں اور یہی سوچتے سوچتے سو گیا، سونے سے پہلے میرے کان میں اباجی کی کچھ باتیں سنائی بھی دیں، جو وہ والدہ سے چپکے چپکے کہہ رہے تھے کہ آج ہمارے لاڈلے کے کچھ رنگ بدلے بدلے سے نظر آتے ہیں، کیونکہ کوئی کسی قسم کی شرارت یا آج کوئی ھنگامہ بھی نہیں ہوا، لگتا ہے کہ نواب صاحب کچھ سدھر گئے ھیں،!!! انہیں کیا معلوم کے ہم پر کیا قیامت گزر گئی، سدھرنا تو دور کی بات ہے، مجھے اپنی فکر لگ گئی کہ نہ جانے یہ اپنی زندگی کی ڈوبتی ناؤ کہاں تک بہا کر لے جائے گی، نہ تو کسی کو اپنا رازدار بنایا اور نہ ہی کسی نے مجھ سے پوچھنے کی زحمت گوارہ کی کہ آج بدلے بدلے سے سرکار کیوں نظر آتے ہیں، سب محلے کے بچٌے بھی میرا پوچھ کر چلے گئے آج سارے محلے کےمیرے ہم عمر کے بچے بھی اداس تھے کیونکہ میں ان سب کا لیڈر تھا اور آج پورا دن گھر سے باھر بھی نہیں نکلا اور نہ ھی کسی دوست کے ساتھ بات کی تھی، سب دوست تھک ہار کر اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے، گھر پر بھی کچھ کے والدین آئے اور اباجی سے میرے متعلق پوچھا بھی کہ آج میں انہیں نظر نہیں آیا، میں ذرا اپنے ہم عمر کے بچوں میں قدرتی کچھ مقبول تھا کہ وہ میرے بغیر کوئی کھیل کھیلتے نہیں تھے اور نہ ہی کوئی شرارت کا منصوبہ بناتے تھے ، چھوٹا سا محلہ تھا اور سب محلہ کے لوگ ایک دوسرے سے واقف بھی تھے، جہاں کچھ لوگ میری شرارتوں کی وجہ سے مجھ سے اپنے بچوں کو دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے، وہاں کچھ اور ایسی فیملیز بھی تھیں جو مجھے بہت چاہتے بھی تھے، اس زمانے میں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کے مین دروازے یا مرکزی دروازے کبھی بھی بند نہیں کرتے تھے، ہم تمام بچے اکثر رات کو آنکھ مچولی جس میں ہمارے ساتھ بڑے بچے بھی شامل ہو جاتے تھے، خوب کھیلتے اور کسی نہ کسی کے گھر میں چھپ جاتے تھے، ویسے بھی سب کے گھر کھلے ہوتے تھے، کبھی بھی کسی گھر سے کوئی چیز نہین اٹھائی یا چوری کی خبر کوئی سننے میں آئی اور سب لڑکیاں اور لڑکے مل کر کھیلتے تھے اور کبھی بھی کسی کے دل میں کوئے ایسا ویسا برا خیال نہیں آتا تھا، سب بڑے بوڑھے الگ میدان میں اپنے اپنے گھروں سے چارپائیاں لاکر بچھاتے اور ساتھ حقہ گڑگڑاتے ہوئے رات گئے تک چوپالوں کی طرح دنیا داری کی باتیں کرتے کبھی سیاست کی اور کبھی اسلام کے موضوع پر بھی بحث شروع ہوجاتی اور عورتیں الگ کسی نہ کسی کے گھر کے صحن میں بیٹھی اپنے معمول کے دکھڑے ایک دوسرے کو سناتی رہتی لیکن یہ ضرور تھا کہ گھر کی بڑی بوڑھی الگ بیٹھی ہوتیں اور ان کی بہویں الگ ساس بہو کے معمول کا رونا دھونا اور ایک دوسرے کی بہوؤں کی شکایات کرتی رہتیں جو ازل سے قائم ہے اور ابد تک رہے گا، دنیا بدل گئی زمانہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا لیکن ساس بہو کا نازک مسئلہ ابھی تک نہیں بدلا - اُس وقت لوگوں کے پاس اچھا خاصہ وقت تھا ایک دوسرے کے ہر دکھ درد میں کام آتے تھے، کوئی ناراض ہوجائے تو گھر جاکر ایک دوسرے کی غلط فہمیاں دور کرتے، اور گلے لگاتے تھے اور ایک خاص بات تھی کہ اذان کے ھوتے ھی تمام مرد حضرات جو بھی محلہ میں موجود ہوں، وہاں کی ایک چھوٹی سی مسجد میں چلے جاتے اور ایک ساتھ باجماعت نماز بھی پڑھتے تھے اور ساتھ پیچھے ہم بچوں کی بھی ایک صف بن جاتی، عورتیں اپنے اپنے گھروں میں اپنی لڑکیوں کو ساتھ لے کر نماز پڑھتیں، اس محلے میں پاکستان کے تمام صوبوں پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ کے تقریباً تمام شہروں کے لوگ آباد تھے اور مھاجر بھی تھے، ساتھ ہی کچھ غیر مسلم بھی تھے، لیکن کبھی بھی کسی کا کوئی جھگڑا یا آپس میں اختلاف نہیں دیکھا گیا، سب بہت پیار اور محبت سے رہتے تھے، جو آجکل ایک خواب سا لگتا تھا - کچھ یکجہتی اور آپس کے خلوص کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ اس زمانے میں کسی کے پاس ریڈیو تک نہیں تھا نہ ہی آج کی طرح کمپیوٹر تھا اور نہ ہی پاکستان میں کوئی ٹیلیویژن اسٹیشن تھا ، اکثر لوگ کبھی کوئی خاص مسئلہ ہو تو ایک نزدیکی ایک ہوٹل میں جاکر کے خبریں سن لیا کرتے تھے، کئی لوگوں کو یہ تک پتہ نہیں تھا کہ مارشل لاء کیا ہوتا ہے، (جبکہ ان دنوں جرنل ایوب خان کا مارشل لاء لگا ہوا تھا) - اور کسی کو رات میں کوئی تکلیف یا پریشانی ہو جائے تو سب ایک جگہ جمع ہوکر ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے - بات کیا ہو رہی تھی کہاں پہنچ گئی، ہاں تو میں لکھ رہا تھا کہ دوسرے دن حسب معمول اسکول جانے کیلئے والدہ نے اٹھایا، تیار ہو کر ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہوا اور بستہ گلے میں لٹکا کر باہر نکلنے سے پہلے والدہ سے اسکول کی فیس جو اس وقت 5 پانچ آنے تھی انہوں نے مجھے 6 چھ آنے ایک رومال میں باندھ کر دئیے، اور کہا سنبھال کر لے جانا گما نہیں دینا، یہ اگلے مہینے کی فیس تھی، پیسے رومال کے ساتھ جیب میں ڈالے اور باہر نکل گیا - والد صاحب تو صبح تڑکے ہی نکل جاتے - ان سے صبح ملاقات نہیں ہوتی تھی ورنہ وہ مجھے پہلے اسکول چھوڑتے، بعد میں دفتر جاتے، جو کہ میرے حق میں بہتر نہ تھا ورنہ ساری پول ہی کھل جاتی- بہرحال میں بمعہ بستہ، اسکول کی یونیفارم پہنے اسکول کیلئے نکلا، محلے کی چھوٹی چھوٹی گلیوں سے ہوتا ہوا لوگوں سے علیک سلیک کرتا ہوا بڑی سڑک پر آگیا سب دوسرے اسکول کے بچے بھی میرے ساتھ تھے ہر ایک کے مختلف اسکول تھے، میرا اسکول چونکہ کچھ دور تھا، اس لئے میں آخر میں ہی رہ جاتا تھا کیونکہ کوئی بھی ھمارے محلے کا بچہ میرے اسکول میں نہیں پڑھتا تھا، اب کہاں میرا اسکول، وہاں جاتے ہوئے ڈر بھی رہا تھا - کیونکہ ٹیچر نے سختی سے منع کردیا تھا کہ والد کے بغیر اس اسکول میں داخل نہ ہونا ورنہ !!!!!! پتہ نہیں کیا کیا کہا تھا - اسی ڈر سے فوراً میں نے ایک فیصلہ کرتے ہوئے اپنا راستہ بدل لیا اور ایک چاٹ کے ٹھیلے پر رک گیا، ایک آنے کی اس وقت اسپشل چنے اور دھی بڑے کی چاٹ آتی تھی، آرڈر دیا، اور مزے لے کر کھاتا رھا، آج میں بہت مالدار تھا، کیونکہ میرے پاس چھ 6 آنے تھے، چاٹ کھا کر آگے بس اسٹاپ پر پہنچا وہاں ایک صدر جانے کی بس آئی بس میں چڑھ گیا کنڈکٹر نے ٹکٹ کا پوچھا تو ایک آنہ تھما دیا، اس وقت ایک طرف کا ٹکٹ کم سے کم ایک آنہ تھا یعنی ایک روپے میں 16 مرتبہ آ جا سکتے تھے، ایک جگہ بس رکی جہاں میلہ لگا ہوا تھا، جھولے، سرکس وغیرہ، فوراً بس سے اتر گیا، میں خود حیران تھا کہ یہ میلہ تو شام کو شروع ہوتا ہے آج صبح سے ہی شروع ہوگیا، معلوم ہوا کہ بہت زیادہ رش ہونے کی وجہ سے وقت بڑھا دیا گیا ہے، پہلے تو باہر اسٹیج کے ساتھ کھڑا ناچ گانا دیکھتا رہا، اس سے پہلے بھی والدین کے ساتھ یہاں سرکس دیکھنے آچکا تھا - میرے پاس 4 چار آنے اب بھی بچے ہوئے تھے ، دو 2 آنے کا بچوں کا آدھا ٹکٹ لیا اور سرکس دیکھنے کیلئے اندر ڈرتے ڈرتے گھس گیا ادھر ادھر بھی دیکھ رہا تھا کہ کہیں کوئی جاننے والا تو نہیں ہے، اسی گھبراھٹ میں پورا سرکس دیکھا سب کچھ وہی تھا جو پہلے والدین کے ساتھ دیکھ چکا تھا، سرکس ختم ہوا تو فوراً میں نے واپسی کا سوچا اسی نمبر کی بس میں واپس ہوا اور اپنے اسٹاپ پر اتر گیا، ایک آنہ اور ختم ھوگیا باقی ایک آنہ اب بھی بچہ ہوا تھا سوچا کہ یہ کل کام آئے گا اور جلدی جلدی گھر کی طرف میں قدم بڑھا رہا تھا، کیونکہ اسکول کا وقت بھی ختم ہونے ہی والا تھا!!!!!!!!! جاری ہے،!!!!! |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
سرکس ختم ہوا تو فوراً میں نے واپسی کا سوچا اسی نمبر کی بس میں واپس ہوا اور اپنے اسٹاپ پر اتر گیا، ایک آنہ اور ختم ہوگیا باقی ایک آنہ اب بھی بچہ ہوا تھا سوچا کہ یہ کل کام آئے گا اور جلدی جلدی گھر کی طرف میں قدم بڑھا رہا تھا، کیونکہ اسکول کا وقت بھی ختم ہونے ہی والا تھا، !!!!!!!!
جلدی جلدی قدم بڑھاتا ہوا گھر پہنچا، اور وقت پر گھر پہنچ کر سکون کا سانس لیا، لیکن میں ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھا کہ آگے کیا ہوگا، کب تک میں اسکول سے بھاگتا رہوں گا، یہ بھی مجھے علم تھا کہ آخر ایک نہ ایک دن تو پکڑا ہی جاؤں گا، مگر کیا کرتا والد کا ڈر دل میں ایسا بیٹھا ہوا تھا کہ ہمت ہی نہیں پڑی کہ ان سے کسی بھی معاملے میں کوئی شکایت یا کوئی رائے دے سکوں- اسی طرح روز ہی گھر سے بستہ گلے میں ڈال کر نکلتا، سب سے روز کی طرح سلام اور دعائیں لیتا ہوا، اور راستہ ہی میں سوچ کر کسی نہ معلوم منزل کی طرف روانہ ہو جاتا، کبھی سمندر کے کنارے، کبھی بسوں اور ٹراموں میں سفر کرتا ہوا مختلف جگہوں کی سیر کرتا رہا، اس ظرح تقریباً تمام کراچی کی مشہور جگہوں سے بھی واقف ہو چکا تھا، اور ویسے بھی اس وقت کراچی اتنا بڑا نہیں تھا، کئی دفعہ دیر بھی ہوئی، والدہ سے ڈانٹ بھی کھائی، لیکن کوشش یہی رہتی تھی کہ اباجی کے آنے سے پہلے پہلے گھر واپس پہنچ جاؤں - اب روز بروز فکر بھی لگی رہتی تھی کہ اگر کسی بھی وقت اباجی کو پتہ چل گیا تو قیامت آجائے گی، اسکے علاوہ روز مجھے جھوٹ بول کر والدہ سے کچھ پیسے اینٹھ لیا کرتا تھا کہ آج فلاں فنکشن ہے ٹیچر نے چندہ منگوایا ہے، کبھی پکنک کے بہانے سے، کبھی کتابیں اور کاپیاں کبھی پنسل اور ربڑ کبھی اور ماہانہ فیس میں تو میں نے خود ہی اضافہ بھی کردیا تھا، اسکول کی ضرورتوں کا بہانہ کرکے کچھ نہ کچھ والدہ سے وصول کرلیتا تھا جسکی بعد میں والد صاحب سے رضامندی بھی مل جاتی تھی، کیونکہ والد صاحب یہی سمجھتے تھے کہ میں بہت شوق سے پڑھ رہا ہوں،!!!!!!!!!!!! ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں ایک دلدل میں پھنستا چلاجارہا ہوں، ایک دن یا دو دن کی بات تو تھی نہیں، ہر روز جھوٹ پہ جھوٹ کا اضافہ ہوتا جارہا تھا، لیکن کمال کی بات تھی کہ میں نے گھر پر کسی کو کسی قسم کا شک بھی نہیں ہونے دیا، اور گھر پر وہی تاثر کہ معمول کے مطابق اسکول کا کام گھر پر کرنا، کتابیں پڑھنا، جس سے والد صاحب کو تسلی رہتی تھی، یونہی سلسلہ چلتا رہا، اور میں نے اس دوران پورے شھر کو اچھی طرح کھنگال بھی لیا، جسکا مجھے بعد میں مالی فائدہ بھی ھوا، مجھے یہ مکمل طور پر پتہ چل گیا تھا کہ کون سی چیز کہاں ملتی ہے اور کون کون سی مشہور عمارتیں، بازار، اور گھومنے پھرنے کی جگہ کہاں کہاں پر ہیں، اور میری عادت اتنی بگڑ چکی تھی کہ میں تو اب بغیر گھومنے پھرنے کے رہ بھی نہیں سکتا تھا، ایک اور شوق سینما دیکھنے کا بھی لگا لیا تھا، مگر اس کے لئے خاص طور سے کوئی بہانہ کرنا پڑتا تھا، کہ آج اسکول میں فنکشن ہے یا اسکول پکنک پر جارہا ہے وغیرہ وغیرہ !! اس زمانے میں سنیما کا ٹکٹ چار آنے سے لے کر ایک روپے تک ہوتا تھا اور بلیک اینڈ وہائٹ انڈین اور پاکستانی فلمیں دکھائی جاتیں تھیں اور فلموں کا معیار بھی بہت اچھا تھا، لیکن عموماً بچوں کا فلمیں دیکھنا بہت ہی بُرا سمجھا جاتا تھا، اس وقت عام اوسط طبقہ کی تنخواہیں بھی 50روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 150روپے ہوا کرتی تھی، اور لوگ بہت خوش تھے اور اچھی طرح گزارہ بھی کرلیتے تھے، ہمارے والد صاحب کی تنخواہ بھی تقریباً 125 روپے تھی، اس میں سے بھی اس وقت کچھ پیسے وغیرہ لوگ ہر مہینے جمع کرلیتے تھے، اس زمانے میں لوگ پوسٹ آفس کے سیونگ اکاونٹ میں پیسہ جمع کراتے تھے، اس کی خاص وجہ ہمارا رھن سہن تھا جو کہ بہت سادہ تھا، عام طور سے لوگ مٹکوں کا پانی پیا کرتے، گھر میں لکڑی کے چولہوں پر اور مٹی کی ہانڈیوں میں ہی کھانا پکا کرتا تھا، پانی ہم لوگ دور سے بھر کر لاتے تھے یا ماشکی کمر کے پیچھے چمڑے کی مشکیزہ اٹھائے چار آنے میں بیچتے تھے - اور جلانے کی لکڑی ٹال والے دو روپے فی من کے حساب سے گھر پہنچا کر جاتے تھے - گرمیوں میں ہاتھوں کے بنے پنکھوں سے اپنا پسینہ خشک کرتے اور صحن میں مچھردانی لگا کر سوتے تھے- اس بات سے ہم یہ خوب اچھے طرح اپنی بجت کا اندازہ لگا سکتے ھیں کہ اس وقت دودھ کی قیمت 6 آنے سیر ، بڑے گوشت کی قیمت ایک روپے اور چھوٹے گوشت کی قیمت دو سے ڈھائی روپے سیر ہوتی تھی اور چھوٹے بکرے کا گوشت بہت ھی کم کھایا جاتا تھا، مرغی بھی بہت سستی تھی یعن تقریباً شاید دو یا ڈھائی روپے سے زیادہ کی نہیں ہوگی اسکے علاوہ میرا اسکول کا یونیفارم پانچ روپے سے لیکر زیادہ سے زیادہ دس روپے کا آتا تھا، اور والد صاحب صرف سال میں شاید دو دفعہ سے زیادہ نئے کپڑے نہیں بنائے وہ بھی عید یا بقرعید پر بس، اور سال بھر وہی کپڑے چلتے تھے، اس سے ہم اپنی اس وقت کی سادہ سی پرسکون زندگی کے بارے میں اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کم وسائل، کم ضرورتیں، اور محدود خواھشات میں کتنی خوشیاں پوشیدہ تھیں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!! بات پھر کہاں سے کہاں نکل گئی، معذرت چاھتا ہوں، میں اس لئے بار بار ساتھ چند ایک ایسے حوالے بھی دیتا ہوں تاکہ لوگ میرے متعلق کوئی غلط رائے نہ قائم کرلیں، جبکہ اس کہانی سے چاہے کوئی بھی ہو منفی انداز میں سوچ سکتا ہے، میرا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت کیلئے ان تحریروں سے کچھ حاصل کرسکیں - شاید ہی کوئی اس بات پر یقیں کرے، کہ میرے بچپن کے حالات نے ایسا ایک الگ ہی رُخ موڑا کہ صرف وہی میری یہ حقیقت کو مان سکتے ھیں جو اس وقت میرے ساتھ تھے، اگر وہ اسے پڑہیں تو شاید انہیں یاد بھی آجائے- اس محلے میں اب تک وہ پرانے میرے ساتھ کے چند لوگ اب تک موجود بھی ہیں، جو میری اس حقیقت کو جانتے بھی ہیں اور جب بھی میں وہاں جاتا ہوں تو بہت گرمجوشی سے ملتے ہیں اور ہم پرانی باتوں کو یاد بھی کرتے ہیں، زیادہ تر تو لوگ اس محلے کو چھوڑ کر یا تو باہر چلے گئے ہیں یا پھر کہیں دوسری جگہ شفٹ ہو گئے ہیں، لیکن مجھے امید ہے کوئی نہ کوئی تو ضرور پڑھ رہا ہوگا، کچھ رشتہ داروں نے تو پڑھنا بھی شروع کردیا ہے، اور انہیں میرے ان کارناموں پر بہت حیرت بھی ہے، کہ کوئی ایسا بھی دنیا میں موجود ہے جس نے اپنی زندگی کے ہر اچھے اور برے پہلو کو لوگوں کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح رکھ دیا ہے - بات ہو رہی تھی کہ میں روز بہ روز ایک جھوٹ کی وجہ سے مشکلات میں دھنستا چلا جارہا تھا، اور اس جھوٹ کو نبھانے کیلئے، مزید جھوٹ پہ جھوٹ بولتا چلا گیا، والدین بالکل اس بات سے بےخبر مطمئن بیٹھے تھے، اور میں ان کے اس اطمنان ہی کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کئے ہوئے تھا، کیونکہ والد کا خوف اتنا تھا کہ یہ سچ کہنے کے قابل نہیں تھا کہ کلاس ٹیچر نے اسکول سے نکال دیا ہے اور بغیر اباجی کے وہ اسکول میں داخل نہیں ہونے دیں گے جبکہ میں بالکل بے قصور تھا یہ سب دوسرے لڑکے جو مجھے نہیں چاھتے تھے، اور ان سب کی یہی کوشش رہی کہ میں بس ٹیچر کا پسندیدہ اسٹوڈنٹ نہ بنوں اور وہ سب مل کر مجھے اپنی کی ہوئی شرارت میرے نام کردیتے تھے اور اس طرح مجھے اسکول سے وہ سب نکالنے میں کامیاب بھی ہوگئے اور یہ بات میں اپنے والد سے بالکل نہیں کہہ سکا اور ان مشکلات میں پھنس گیا - اب تو روز کی ایک عادت سی ہو گئی تھی، گھر سے اسکول کے لئے نکلنا، کچھ نہ کچھ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے والدہ سے پیسے لے لینا روز کا معمول بن چکا تھا، کیونکہ راستہ کے خرچے جو پورے کرنے تھے، ہر رات دوسرے دن کا منصوبہ تیار کرنا اور صبح ہوتے ہی نئی منزل کی طرف روانہ ہوجاتا تھا، کبھی کبھی تو میرے پاس پیسے بھی نہیں ہوتے تھے مگر یہ شیطانی دماغ کوئی نہ کوئی چکر ضرور چلالیتا، کئی دفعہ بس میں اگر کسی کنڈکٹر نے ٹکٹ کا پوچھتا تو فوراً معصوم شکل بنا کر کہتا کہ لیڈیز میں اماں کے پاس ہے، کئی شریف تو یقین کرلیتے لیکن کچھ تو کیکر کے کانٹے سے بھی زیادہ تیز نکلتے وہ تو فوراً تصدیق کیلئے لیڈیز میں چلے جاتے، میں تو ہر وقت، ہر موقع کیلئے بالکل تیار رہتا، فوراً اس سے پہلے کہ کنڈکٹر واپس آئے میں پچھلے گیٹ سے رفوچکر، بعض دفعہ تو میں چلتی بس سے چھلانگ بھی لگا لیتا تھا اگر بس کی رفتار کم ہوتی جب ورنہ نہیں ، اب تو عادت سی ہوگئی تھی چلتی بس میں چڑھنے اور اترنے کی، کئی دفعہ تو کنڈکٹر کو میں سچ ہی بتا دیتا، کئی شریف ہوتے تو چھوڑ دیتے مگر کئی تو اتنے ظالم ہوتے کہ بس سے ھی اتار کر دم لیتے، مجھے بھی کافی اندازہ ھوگیا تھا کہ کون سی بس میں کونسا کنڈکٹر ہے اس لئے مین خود بھی احتیاط کرتا تھا کہ کسی خرانٹ کنڈکٹر کے دوبارہ ھتٌے نہ چڑھ جاؤں، ایک دفعہ ایک بس کے کنڈکٹر نے مجھے پکڑ لیا اور ساتھ ایک پولیس والے کے حوالے بھی کردیا یہہ کھ کر کہ یہ لڑکا اسکول سے بھاگا ہوا ہے، بس پھر کیا تھا اپنی تو جان ہی نکل گئی، بڑی منت سماجت کی لیکن اس پولیس والے نے نہیں چھوڑا، مجھے لئے لئے پھرتا رہا اور ساتھ ساتھ ٹھیلے والوں سے بھتہ بھی وصول کرتا رہا، اور پھل وغیرہ بھی سمیٹتا رہا، اور مجھے بالکل خاموش رھنے کیلئے کہا، لوگ شاید مجھے اسکا بیٹا سمجھ رہے تھے اور مجھے بھی پیار سے لوگ شاید پولیس والے کے خوف سے یا شاید ترس کھا کر کوئی نہ کوئی چیز کھانے کیلئے دے رہے تھے، میرے تو اور مزے آگئے مگر ساتھ گھبراہٹ بھی تھی کہ اگر یہ واقعی مجھے میرے گھر لے گیا تو میری تو شامت ہی آجائے گی، کافی اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس نے تو میرا ہاتھ بہت مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ چھڑانا میرے بس کی بات نہیں، اس نے مجھے بھی دھمکی دی تھی کہ ایک روپے کا نوٹ اپنے گھر سے دلادے ورنہ تھانے میں بند کردونگا،!!!!! ارے بھئی کس مشکل میں جان اٹک گئی، آخر ایک بیت الخلا نظر آیا، میں نے موقع جان کر رفع حاجت کی درخواست کی، اس نے اجازت دے دی اور کہا فوراً جلدی سے فارغ ہوکر آؤ، اور وہ گیٹ پر کھڑا ہوکر وہاں کے خاکروب سے بھی کچھ اینٹھنے کے چکر میں لگ گیا کیونکہ وہاں لوگ کچھ نہ کچھ پیسے خاکروب کو دیتے رہتے تھے، اور خاکروب پولیس والے کو ایک دوسرے کونے میں لے گیا شاید بھتہ دینے کے چکر میں، میں یہ سب اندر راہداری سے سب کچھ دیکھ رہا تھا، موقع کو غنیمت جانا اور چپکے سے نکل لیا اور آگے تھوڑا جاکر سرپٹ دوڑنا شروع کردیا کافی دور جاکر پیچھے دیکھ کر یہ اطمنان کر لیا کہ پولیس والا تو کہیں پیچھے نہیں آرھا، پھر سکون کا سانس لیا اور جب کچھ سانسیں بحال ہوئی تو میں یہ سوچنے لگا کہ یہ پولیس والے تو بھنگیوں کو بھی نہیں بخشتے تو دوسروں کو کہاں چھوڑتے ہونگے !!!!!!!!!!!!!!! اسکے بعد میں نے اس راستہ پر جانا ہی چھوڑدیا اور ساتھ اپنا بستہ بھی کہیں نہ کہیں چھپا کر جاتا تھا کہ کہیں دوبارہ پھر سے اس پولیس والے سے ٹاکرا ہی نہ ھوجائے اور دوسرا راستہ اختیار کرلیا کہ اس اسٹاپ کے بجائے اب میں نے کینٹ اسٹیشن کی طرف جانا شروع کردیا جو کچھ فاصلہ پر تھا، وہاں بس کے بجائے ٹرام میں سفر کرنے لگا، مگر میں جب بھی کسی پولیس والے کو دیکھتا تھا تو میری جان ہی نکل جاتی کیونکہ تمام پولیس والے مجھے ایک جیسے ہی لگتے تھے!!!! جاری ہے،!!!!! |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (26-10-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (13-11-10), منتظمین (26-10-10), عبداللہ حیدر (14-11-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
اسکے بعد میں نے اس راستہ پر جانا ہی چھوڑدیا اور ساتھ اپنا بستہ بھی کہیں نہ کہیں چھپا کر جاتا تھا کہ کہیں دوبارہ پھر سے اس پولیس والے سے ٹاکرا ہی نہ ہوجائے اور دوسرا راستہ اختیار کرلیا کہ اس اسٹاپ کے بجائے اب میں نے کینٹ اسٹیشن کی طرف جانا شروع کردیا جو کچھ فاصلہ پر تھا، وہاں بس کے بجائے ٹرام میں سفر کرنے لگا، مگر میں جب بھی کسی پولیس والے کو دیکھتا تھا تو میری جان ہی نکل جاتی کیونکہ تمام پولیس والے مجھے ایک جیسے ہی لگتے تھے -!!!!!!!
اس وقت اسٹوڈنٹ سفری کارڈ کی سہولت نہیں تھی ورنہ میری سفر کی رینج اور کافی حد تک آگے بڑھ جاتی - اگر میرے پاس اس وقت چار آنے یعنی اُس وقت کے 16 پیسے اور اب کے 25 پیسے ھوتے تھے تو میں پورے کراچی کے شہر کا چکر لگا سکتا تھا اور اگر ایک آنہ مزید ہوتا تو ایک چھوٹا موٹا لنچ کسی بھی تندور والے ڈھابے پر کرسکتا تھا اور اگر لنچ نہ بھی کرتا تو کم از کم اپنے مطلب کی چار چیزیں چاٹ، چورن اور ٹافی وغیرہ چار پیسے میں گزارا ضرور کر لیتا - اسکول کے جیب خرچ کے لئے اس وقت ھمیں دو پیسے مشکل سے روزانہ ملتے تھے، اگر ایک آنہ مل جاتا تو ھم خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے، دوسرے بچوں کو وہ ایک آنہ دکھا کر شو بھگارتے رہتے، اور عید بقر عید پر اگر کوئی مہمان اگر عیدی دے تو وہ فی کس دو آنے یا چار آنے سے زیادہ کوئی نہیں دیتا تھا، لیکن وہ بھی والدہ ہم سے واپس لے لیتی تھیں، اسکے بدلے میں صرف ایک آنہ ملتا تھا، اسی میں ہم بہن بھائی اس وقت خوش رھتے تھے- اس وقت کی زندگی میں ایک سکون تھا، ہر کوئی خوش اور مطمئن نظر آتا تھا، کم آمدنی تھی کم خرچہ تھا، پورے سال نئے کپڑے بنے یا نہ بنے لیکن عید کے لئے والدین اپنے بچوں کو نئے کپڑ ے ضرور بنواتے تھے، پورا سال ہم تمام بچے رمضان کی عید اور بقر عید کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے، کیونکہ ہم سب بچوں کو نئے کپڑوں کے ساتھ عیدی اور اس کے علاوہ اس دن کچھ آزادی بھی ملتی تھی، اس عید کے دن ہم بچے ایک دوسرے کو اپنے نئے کپڑے دکھاتے پھرتے ہر گھر میں گروپ کی شکل میں بھاگتے پھرتے، بڑے بزرگوں کی دعائیں لیتے، پورا محلہ بچوں کی وجہ سے ایک رونق میلہ کی طرح جگمگا رہا ہوتا، جیسے کسی شادی کا سماں ہو -!!!! عیدالفطر کے دن ایک دوسرے کے گھروں میں مختلف قسم کی شیرینیاں تقسیم ھوتیں، سیویاں، شیر قورمہ۔ حلوہ جات وغیرہ، اور ساتھ مہمانوں کی ایک دوسرے کے گھر آمد، لوگ مہمانوں کے آنے سے خوش ہوتے تھے اور کافی خاطر مدارات کرتے، اسی طرح بقر عید پر بھی ھوتا تھا فرق صرف اتنا ہوتا کہ مٹھائیوں کے بجائے گوشت گھروں میں تقسیم ہورہا ہوتا، تقریباً ہر محلہ میں جھولے والے، مداری اور دوسرے کھلونے بیچنے والے آجاتے، جس سے محلے کی رونقیں دوبالا ہوجاتیں-!!!!! ہر گھر میں لوگ اپنے چھوٹے سے صحن میں کیاریاں ضرور لگاتے اور کوئی نہ کوئی جانور یا پرندے پالنے کا بھی بہت شوق تھا ، کچھ تو کبوتربازی کا بھی شوق رکھتے تھے اپنی نازک اور کمزور چھتوں پر اس شوق کو پروان چڑھاتے تھے، ساتھ ڈانٹ بھی پڑ رہی ہوتی تھی - غرض کہ اس وقت یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہم سب کو میسر تھی، اکثر جھگڑا بھی ہوتا تھا کبھی کبھی زیادہ بھی ہوجاتا تھا، گالی گلوچ، مار پٹائی تک کی نوبت آجاتی تھی لیکن یہ بھی ایک زندگی کا حصہ تھی، اسکے بغیر بھی زندگی پھیکی لگتی، مگر لوگ فوراً مل جل کر پھر سے ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور پھر وہی خوشیاں چہکنے لگتیں، بچے بھی لڑتے شرارتیں کرتیں لیکن بچوں کی وجہ سے والدین یا انکے بڑے کبھی ایک دوسرے سے جھگڑا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اپنے بچوں کو پیار سے مناتے اور دوسرے بچوں کو بلا کر آپس میں صلح بھی کرادیتے تھے - میں بھی اسی رونق کا حصہ تھا اور محلے کے سب لوگ دوسرے بچوں کی طرح مجھے بھی پیار بہت کرتے تھے، بلکہ اپنے بچوں کو میری مثال دے کر ڈانٹتے تھے کہ دیکھو وہ بھی تو بچہ ہے اسکول روزانہ جاتا ہے اور کتنے اچھے نمبر لاتا ہے، کیونکہ میں نے ہر ماہانہ ٹیسٹ اور سہہ ماہی، ششماہی امتحانات کو یقینی بنانے کیلئے اپنی طرف سے بازار سے سادہ رزلٹ کارڈ خرید کر ساتھ باہر ہی اپنے ہاتھ سے ہر مضمون میں اچھے نمبر لگاکر اچھی پوزیشن لکھ کر ساتھ ہی اپنی طرف سے کلاس ٹیچر اور ہیڈ ماسٹر کے دستخط کرکے والدہ کو پہلے دکھاتا تو وہ بہت خوش ہوتیں اور پھر والد کو دکھاتیں، میں چھپ کر سنتا کہ کیا بات ہورہی ہے کہیں والد کو شک تو نہیں ہوا مگر کمال ہے اپنی ہنرمندی کی کہ ہر مضمون میں مختلف نمبر لکھتا بلکہ ایک دو مضمون میں نمبر کم بھی کردیتا اور ساتھ لکھتا کہ ( اس مضمون میں سخت محنت کی ضرورت ہے) جسکی ڈانٹ ابا جی سے مجھے پڑتی بھی لیکن اس وعدہ پر جان چھوٹ جاتی کہ اگلی دفعہ اچھے نمبر لاؤنگا اور واقعی اس وعدہ کو پورا بھی کرلیتا اور یہ سب کچھ میرے ہی ہاتھ میں تھا، کیونکہ اسکول بھی میں،!!! اسٹوڈنٹ بھی میں،!!! ھیڈماسٹر بھی میں!!! اور استاد بھی میں،!!!! اور سب سے بڑھ کر استادوں کا استاد بھی میں،!!!!!! تعجب اس بات کا تھا کہ والد صاحب کو کبھی شک بھی نہیں ہوا کہ اسکول کی مہر کہاں ہے اور لکھائی بھی میری وہ پہچان نہیں سکے، جبکہ وہ یہ کہتے بھی تھے کہ میں تمھارے اسکول تمہارے ٹیچر کا شکریہ ادا کرنے ضرور آؤنگا، مگر میں گھبرا جاتا اور دعا کرتا کہ وہ اسکول کبھی نہ آئیں، یہ سوچ کر میری جان ھی نکل جاتی- لیکن اس وعدہ پر جان چھوٹ جاتی کہ اگلی دفعہ اچھے نمبر لاؤنگا اور واقعی اس وعدہ کو پورا بھی کرلیتا،!!!!! میں نے تو اسکول کے بہانے کہیں اور ہی رونق لگائی ھوئی تھی، اور محلے میں کسی کو بھی اس بات کی خبر نہ تھی کہ میں باہر کیا گل کھلا رہا ہوں جبکہ مجھے اس کا انجام کا پتہ تھا کہ جس دن کسی نے دیکھ لیا اور اباجی کو پتہ چل گیا تو میرا حشر کیا وہ کریں گے اس کا اندازہ مجھے بخوبی تھا، مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، اتفاق یہ دیکھیں کہ جب سالانہ امتحان کے نتیجہ کا وقت آیا تو جب جاکر ہمارے ابا جی کو کچھ شک ہوا اور انہوں نے خاموشی سے جاکر اسکول میں معلومات حاصل کی، انہیں وہاں کیا ملتا، وہاں تو میرا نام و نشان ہی نہ تھا !!! نہ جانے اسکول کا ایک پورے سال کا پانچویں کلاس کا مکمل سیشن اتنی جلدی کیسے گزر گیا کہ پتہ ہی نہ چلا، اب وہ وقت سامنے تھا کہ کبھی بھی کچھ بھی میرے لئے ایک خطرناک صورتحال پیش آسکتی تھی - اب تو روز بروز میری پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا کہ نہ جانے کس وقت میرا سارا بھانڈا پھوٹ جائے، سالانہ امتحانات ختم ہوچکے تھے، میں نے بھی جعلی طریقوں سے پچھلے سہ ماہی اور ششماہی امتحانات کی طرح یہ سالانہ امتحانات بھی دے چکا تھا، اس وقت امتحانات کے پیپر سائکلواسٹایئل کی مشین سے پرنٹ ہوتے تھے، بس ایک دفعہ سائکلواسٹائل پیپر کو ٹائپ کرکے مشین میں ڈالدیں اور اپنے حساب سے جتنی بھی کاپی چاہئں، نکال سکتے تھے- اور اکثر بک اسٹالز پر پرانے امتحانات کے پیپرز وغیرہ پریکٹس کے لئے ملتے تھے، اسی کا میں نے فائدہ اٹھایا، اور انہیں مختلف مضامیں کے پیپرز کر خرید کر اسکے پرانے سال کو احتیاط کے ساتھ کالی سیاھی سے نئے سال میں تبدیل کرکے اور لڑکوں سے مکمل امتحانات کا ٹائم ٹیبل پوچھ کر باقائدہ تمام امتحانات ایک پارک میں بیٹھ کردیئے اور ساتھ ہی انکے نمبرز بھی خود دیئے اور بعد میں وہی نمبر بازار سے سادہ کارڈ پر لکھ کر گھر پر دکھاتا رھا، ابا جی نے بھی کوئی شک نہ کیا، جبکہ اگر وہ کسی کو دکھاتے یا تھوڑا سا بھی دماغ پر زور ڈالتے، تو انہیں معلوم ہو جاتا، وہ باقائدہ ان پیپرز کا دوبارہ مجھ سے ہر سوال کا جواب چیک کرتے رہے، جسکی میں پہلے ہی سے تیاری کرلیتا تھا اور وہ مطمئین ہوجاتے، میں اتنے بھروسے اور یقین کے ساتھ ان کو جواب دیتا کہ کبھی کبھی تو وہ میرے غلط جواب کو بھی صحیح مان لیتے، اسکے علاوہ وہ تمام محلے کے لوگوں سے بھی میری بہت تعریف کرتے رہتے، ساتھ ہی انہیں مجھ جیسی اولاد پر فخر بھی تھا، اور دوسری طرف میں انکے بھروسے اور انکے خوابوں کی تعبیر کو چکنا چور کرتا چلا جارہا تھا !!!!! آخر وہ دن آہی گیا جس کا ڈر تھا، میرے سالانہ امتحان کے رزلٹ کارڈ بنانے سے پہلے ہی والد صاحب اچانک اسکول پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر پانچویں کلاس میں پہلے مجھے ڈھونڈتے رہے، میں وہاں ہوتا تو ملتا نا، کسی کو بھی میرے بارے میں معلوم نہیں تھا، پھر سیدھا ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں پہنچ گئے، اور وہ بھی سیدھا دفتر سے اپنی فوجی وردی میں پہنچے، ہیڈ ماسٹر بھی گھبرا گئے کیونکہ اس وقت مارشل لا کا دور چل رہا تھا، یہ ساری تفصیل کا علم مجھے بعد میں اپنے والد کی زبانی ہی معلوم ہوا، وہ جب تک فوج سے ریٹائر نہیں ہوئے اس واقعہ کا ذکر بار بار کرتے رہے، جب تک کہ میرے سدھرنے کا انکو مکمل یقین نہیں ہوگیا - ھیڈماسٹر نے فوراً کلاس ٹیچر کو اپنے کمرے میں بلوایا اور تمام تفصیل بتائی، تمام رکارڈ پانچویں کلاس کا طلب کیا، تمام تحقیق کے بعد والد صاحب کو بتایا گیا کہ جناب آپ کے صاحبزادے کا تو داخلے کے ایک مہینے بعد ہی غیرحاضری اور نامناسب رویہ کی وجہ سے اسکول سے نام خارج کردیا گیا تھا اور تعجب ہے کہ آج اتنے عرصہ کے بعد اپنے بچے کی خیریت معلوم کرنے آئے ہیں، جبکہ سالانہ امتحان کے نتیجہ کو بھی نکلے ہوئے بھی ایک ہفتہ سے زیادہ گزر چکا ہے، بہت افسوس کی بات ہے اور نہ جانے انہیں کیا کیا کہتے رہے، اور میں نے شاید دو دن کے بعد کا کہا تھا کہ پرسوں تک نتیجہ نکلے گا - وہ اس وقت ساری روداد ھیڈماسٹر اور کلاس ٹیچر کی زبانی سنتے رہے اور اندر ہی اندر غصہ کو برداشت بھی کرتے رہے، اور ان سے کہا کہ میں اسی وقت اسے ڈھونڈ کر لاتا ہوں اور آپ اسے میرے سامنے یہ تمام تفصیل بتائیے گا، وہاں سے سیدھا وہ گھر پر آئے، اور اتفاق سے میں کچھ ناساز طبیعت کا بہانہ کرکے گھر پر ہی موجود تھا، والد صاحب گھر پر پہنچے اور حسب معمول میں نے کوئی خاص تاثر نہیں لیا کیونکہ کبھی کبھی دفتر سے گھر کسی کام سے آکر واپس چلے جاتے تھے، ویسے میری چھٹی حس مجھے خبردار کررہی تھی کہ بیٹا آج کل میں چھری کے نیچے آئے ہی آئے، بہت خیر منالی - والد صاحب نے واقعی نہ جانے کس طرح اپنے غصٌہ کو قابو میں کیا ہوا تھا، بالکل بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ ان پر کیا بیت رہی ہے، میرے پاس بڑے پیار سے آئے اور کہنے لگے کہ کیوں بیٹا آج اسکول نہیں گئے، میں نے بھی جواباً کہا کہ اباجی آج کچھ طبعیت ٹھیک نہیں ہے اور ویسے بھی آج کل سالانہ رزلٹ کی تیاری کی وجہ سے بھی کوئی پڑھائی نہیں ہو رہی، اباجی نے بڑے اطمناں سے جواب دیا کوئی بات نہیں، چلو ذرا میرے ساتھ بازار، کچھ تمہیں گھر کا سودا دلادوں، پھر میں واپس دفتر چلا جاؤنگا، میں نے کپڑے تبدیل کئے اور ان کے ساتھ چل پڑا، لیکن راستہ میں یہی سوچ رہا تھا کہ اباجی کی آواز میں کچھ تبدیلی سی لگ رہی تھی اور جو وہ کہہ رہے تھے زبان انکا ساتھ نہیں دے رہی تھی، وہ بالکل خاموش آگے آگے چل رہے تھے اور میں انکے پیچھے، دل نے ویسے گھبرانا شروع بھی کردیا اور مجھے ان کی چال اور خاموشی سے کچھ کچھ یہ یقین ہوتا جارہا تھا کہ آج دال میں کچھ کالا ضرور ہے - جیسے ہی انہوں نے میرے اسکول کی طرف رخ موڑا، اور میں اس سے پہلے کہ بھاگنے کی کوشش کرتا فوراً انہوں نے مضبوطی سے میرا ہاتھ پکڑ لیا، کہاں میرے نازک ہاتھ اور کہاں انکے فوجی ہاتھ، کوشش کے باوجود چھڑا نہ سکا اور وہ مجھے اپنی تیز رفتاری سے اسکول کے ھیڈماسٹر کے کمرے میں اجازت لیئے بغیر ہی اندر داخل ہو گئے!!!!!!!!، ھیڈماسٹر کے کمرے سے واپسی کا سفر اپنے گھر تک اور گھر پر میرے والد صاحب کے ہاتھوں سے میرا جو حشر ہوا وہ بہت ہی دردناک اور خوفناک حدکے پار تھا، اور سونے پر سہاگہ یہ کہ تمام محلے والوں کو بلا کر اور میرے تمام محلے کے دوستوں بمعہ انکے پورے خاندان کے، گھر کے صحن کے عین درمیان میں، میں اور اباجی اور چاروں طرف تمام محلے کا مجمع، جیسے کوئی مداری کا تماشہ ہورہا ہو - مجھے اس وقت اپنی وہ تمام حرکتیں ایک اسکرین کی طرح سامنے یاد آتی جارہی تھیں، جسکی وجہ سے مجھے آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا تھا؛ اور سب سے زیادہ شرمندگی اس بات کی تھی کہ سب لوگوں کے سامنے میری کیا عزت رہ جائے گی، کتنا محلے والوں کو مجھ پر فخر تھا، اپنے بچوں کو ان کی ہر غلطی پر میری مثالیں دیتے تھے - آج وہی مثالی بچے کی ساری عزت اترنے والی تھی!!!!!!!!!!!!!! دس پندرہ منٹ تک سب محلے والوں کا انتظار بھی کیا اور سب کے سامنے میری تمام حرکتوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ اگر کوئی بھی میرے بیٹے پر اگر ترس کھا کر اگر بچانے آئے گا تو وہ بھی ساتھ اسکے سزا پائےگا، ساری دنیا خاموش تھی لیکن میری والدہ اور بہنیں زور زور ست چیخ چیخ کر رو رہی تھی، جنہیں اباجی نے گھر میں بند کردیا تھا مگر وہ کھڑکی سے سب کچھ دیکھ رہی تھیں ، اور لوگوں سے رو رو کر یہی کہہ رہی تھی کہ خدارا میرے بچے کو بچاؤ ورنہ وہ مر جائے گا !!! ماں ماں ہوتی ہے اس کی عظمت کو سلام، میں تو اپنے کئے ہوئے حرکتوں کی سزا بھگتنے کو تیار تھا، لیکن ماں کو اپنے بیٹے کی ایک ذرا سی بھی تکلیف برداشت نہیں تھی!!!!!!!!! سارے لوگ خاموش تھے اور اس میں سے بھی کئی لوگوں نے کوشش بھی کی مجھے بچانے کیلئے مگر اباجی کا غصہ دیکھ کر واپس پیچھے ہوگے اور تماشہ دیکھنے کو تیار کھڑے ہوگئے ایک دائرہ بنا کر !!!!!!!!! آج اس وقت بھی میری آنکھوں میں آنسو آرہے ہیں، سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے نظر آرہا ہے، جب ھیڈماسٹر صاحب کے کمرے سے ساری اپنی روداد سن کر نکلے تو اب تو یہ طے تھا کہ جو حشر اپنا ہونا تھا، واپسی پر سارے راستے میں پٹتا ہوا آیا، ساتھ بہت سی بڑی بڑی گالیاں سنائی دیں جو میں نے زندگی میں کبھی نہین سنی تھیں، مگر میں بالکل خاموشی سے پٹتا ہوا گرتے پڑتے جارہا تھا ساتھ اوئی ہائے کی آوازیں بھی منہ سے نکل رہی تھیں، اب تو شکنجہ میں آہی گئے تھے، اور بکری کی ماں کی خیر کا وقت بھی ختم ہوچکا تھا ، کچھ اتنے عرصہ میں ڈھیٹ پنا بھی آچکا تھا، آخر کب تک، ایک نہ ایک دن تو یہ وقت آنا ہی تھا، جس کے لئے میں پوری طرح تیار تھا، بھاگنے کا بھی پروگرام تھا لیکن بھاگ کر کہاں جاتا، اس چھوٹی سی عمر میں بہت مشکل تھا - بس گھر پہنچتے ھی اباجی نے مجمع لگالیا، جیساکہ میں نے پہلے لکھا تھا اور زندگی میں، میں کبھی بھی اس واقعہ کو بھول نہیں سکتا، شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس کے ساتھ یہ سلوک ہوا ہوگا، بہرحال میں مجمع کے درمیان صحن کے بیچوں بیچ اور اُوپر سے والد صاحب کا شدید ترین غصہ جو شاید ہی میں نے کبھی دیکھا ہو، اور ان کے ہاتھ میں ایک اچانک پتہ نہیں کہاں سے چھڑی آ گئی، میری تو جان ھی نکل گئی، پھر میرے نزدیک جیسے ہی آئے میری تو چیخ ہی نکل گئی، فوراً ہی میرے کپڑے زبردستی اتاردیئے اور اوپر سے پانی کا چھڑکاؤ کردیا، ساری مٹی کیچڑ میں تبدیل ہوگئی اور پھر انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، چھڑی کی برسات مجھ پر کردی، ساتھ پانی کا چھڑکاؤ بھی جاری رہا اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید واقعی مر ہی جاتا،!!!!! اتفاقاً باہر سے کوئی دو تین آدمی بھاگتے ہوئے آئے اور والد صاحب کو برا بھلا کہتے ہوئے مجھے آن کے ہاتھوں سے چھڑاکر عورتوں کے حوالے کردیا اس وقت میں کیچڑ میں لت پت اور بری طرح سسکیاں لے رہا تھا، ان آدمیوں نے شاید تمام مجمع کو بھی خوب لعن طعن کی اور سب کو بھگا دیا اور وہ والد صاحب کو باہر لے گئے اور مجھے بعد میں پتہ چلا کہ والد صاحب بھی آنسوؤں سے رو رہے تھے، وہ لوگ تو میرے لئے فرشتے نکلے ورنہ تو میرا کام تمام ہو ہی جانا تھا - مجھے اس وقت تھوڑا سا ھوش آیا جب مجھے چند عورتیں مل کر نہلا رہی تھیں اور پھر مجھے نہلا دھلا کر بستر پر لٹا دیا گیا، والدہ مجھے اپنے گود میں سر رکھ کر بہت رو رہی تھیں ساتھ چند خاص محلے کی عورتیں بھی تھیں اور وہ سب والدہ کو دلاسہ بھی دے رہی تھیں اور اندر کمرے میں آنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں تھی جبکہ باہر پورے محلےکا مجمع لگا ہوا تھا، انہیں فرشتہ صفت لوگوں نے فوراً قریبی ڈاکٹر کو بلوایا، اس نے اایک انجکشن لگایا، ساتھ جگہ جگہ دوائی بھی لگائی اور کچھ دوائیاں بھی اسی وقت پلائیں، ڈاکٹر صاحب یہ سمجھے کے شاید میرا کوئی حادثہ وغیرہ ہوگیا ہے، کیونکہ میری حالت ہی کچھ ایسی تھی، آنکھیں سوجی ہوئی، جسم پر ہرطرف چھڑی کے مار کے نشان، منہ بھی سوجا ھوا ایسا لگتا تھا کہ جیسے باکسنگ کے رنگ سے کوئی باکسر ناک آوٹ ہو کر نکلا ہو ، میرا پورا جسم بری طرح درد کررہا تھا، آنکھیں کھل نہیں رہی تھیں، بہرحال ڈاکٹر نے تسٌلی دے دی تھی کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے - باہر سب کو مجھ سے ملنے کی بےچینی لگی ہوئی تھی، کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں تھا کہ میں ایسا بھی کر سکتا ہوں، کیونکہ میں تقریباً ہر گھر میں مقبول تھا اور ہر کوئی میرے ساتھ ہی کھیلنا چاھتا تھا، اور میں اس وقت تک سب بچوں کا ایک ھیرو تھا، میں جب ان کے ساتھ نہیں ہوتا تو کوئی منظم کھیل نہیں ھوتا تھا، سب میرے لئے افسردہ تھے - رات کو والد صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلے سے لگالیا ساتھ انکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے، میں بھی انہیں دیکھ کر رو پڑا !!!!! اس سے پہلے کہ میں اپنی کہانی کو اگلے موڑ میں داخل کروں، میں چاھتا ہوں کہ اس وقت کے چند مختصراً سخت قسم کے رسم و رواج بتاتا چلوں، جو اب اس معاشرے میں بہت ہی کم نظر آتے ہیں!!!!!!!!!! آج والد صاحب کو ہم سے بچھڑے ہوئے تقریباً 20 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں، لیکن ان کی یاد اکثر بہت تڑپاتی ہے، وہ جتنے غصہ والے تھے اتنا ہی وہ دل کے اندر سے بہت ہی نرم تھے، لیکن غصہ کے وقت انہیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا جو کہ بالکل غلط تھا مگر اس وقت کے لحاظ سے آج کی بنسبت لوگوں کا رجحان اپنے بچوں کی تربیت کے لئے بالکل ہی مختلف تھا، اس وقت ہر خاندان میں جو بھی بزرگ تھے سب انکا بہت احترام کرتے تھے اور ہر کوئی انکے ہر فیصلے پر اپنا سر جھکا دینا ہی اپنی سعادتمندی سمجھتا تھا، چاہے وہ فیصلہ غلط ہی کیوں ہی نہ ہو، یہاں تک کہ خود والدین اپنے بچوں یا کسی اور مسلئے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے تھے اگر بچوں کے دادا حیات ہوں، اب بھی کئی خاندانوں میں یہی رواج چل رہا ہے، اسوقت میں نے اپنے بچپن کے دور میں والدہ کو بھی سب کے ساتھ کھانا کھاتے نہیں دیکھا، سب سے پہلے وہ ہم سب بہن بھائیوں اور ساتھ والد کےلئے کھانا لگاتی تھیں اور خود ھاتھ کا پنکھا لئے سب کو اپنے ھاتھوں سے ہر ایک کی پلیٹ میں ضرورت کے مظابق دال یا گوشت کا سالن ڈالتی رہتیں، اور ہم سب ان ہی کی ہدایت پر بہت ہی کفایت شعاری سے کسی بھی سالن کو روٹی یا چاول کے ساتھ استعمال کرتے تھے، وہ ہر ایک کو برابر برابر کھانا تقسیم کرتی تھیں، اور ضرورت سے زیادہ مانگنے پر ڈانٹ بھی پڑتی، مگر میں کچھ زیادہ ہی اسرار کرتا اور اکثر کہہ بھی دیتا “وہ ہانڈی میں سالن بچا ہوا تو ہے وہ مجھے کیوں نہیں دیتیں“ بعض اوقات وہ بھی مجھے اپنی مامتا کی محبت میں وہ ہانڈی بھی صاف کر کے میری پلیٹ میں ڈال دیتیں، مگر میں اس سے بےخبر رہتا کیونکہ وہ سب سے آخر میں سب کو کھانا کھلانے کے بعد اکیلی چولھے کے پاس بیٹھ کر کھانا کھاتیں، اگر کچھ بچ گیا تو ورنہ وہ خالی کل کی باسی سوکھی روٹی ہی اچار یا چٹنی سے لگا کر کھاتیں، مگر وہ کبھی کسی سے کچھ نہیں کہتی تھیں !!!!!!!!!! اور ہم سب اس سے بےخبر اپنی ہی دھں میں مگن رہتے - کیا ماں کی ممتا کی عظمت ہے، اسے لاکھوں سلام !!!! اُس وقت ماں کے اوپر ہی سارے گھر کا دارومدار ہوتا تھا گھر کی ساری صفائی سے لیکر کھانا پکانے اور کھلانے تک، بمعہ شوھر اور بچوں کی ہر ضرورت اور خدمت کو پورا کرنے میں سارا سارا دن وہ مشغول رھتیں، چاہے وہ کتنی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہو، ابھی بھی کئی مائیں اپنی اسی پرانی ڈگر پر چل رہی ہیں، جس کی وجہ سے کئی گھروں کا سکون ابتک قائم ہے، ورنہ اجکل کی زیادہ تر عورتیں تو بچوں کے سامنے ہی طلاق کا مطالبہ کرتیں ہیں، دوسری باتیں تو چھوڑیں، انہیں نہ اپنے شوھر سے کوئی غرض ہوتی ہے نہ ہی اپنے بچوں سے جس کے ذمہ دار مرد حضرات بھی ہیں، چاہے غلطی کسی کی بھی ھو - پہلے ایسا بہت یی کم ہوتا تھا کہ بچوں کے سامنے کوئی بھی میاں بیوی آپس میں لڑائی جھگڑا کریں، بڑوں کی اگر کوئی بات بھی ہورہی ہو تو ہمیں بھگا دیا جاتا تھا، لیکن میں اکثر اسی فراق میں لگا رہتا تھا کہ کیا بات ہورہی ہے، اکثر یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر میاں بیوی کے بڑے بزرگ اگر ساتھ موجود ہوں تو مجال ہے کہ گھر کی بہو ان کے سامنے اپنے شوھر کے ساتھ بیٹھ جائے یا زور زور سے باتیں کرے، بلکہ دیکھا گیا کہ اکثر گھر کی عورتیں بزرگوں کے سامنے بیٹھتی تک نہیں تھیں اور بس ہاتھ کا پنکھا لئے انھیں گرمیوں میں جھلا کرتیں تھیں، اور بچے بالکل ادب سے ان سب کا احترام کرتے اور باھے نکلتے ہی اپنی اوقات میں آجاتے یعنی شور ھنگامہ شروع ہوجاتا،!!!!! میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اُس وقت کے دور میں کوئی خرابی ہی نہیں تھی، کچھ اچھائیاں تھیں تو کچھ یقیناً برائیاں بھی ہونگی، لیکن جو کچھ بھی مجھ پر گزری یا جو کچھ بھی میں نے اس وقت دیکھا اور جو بھی مجھے یاد ہے میں پوری ایمانداری سے اپنی اس تحریر میں منتقل کرتا جارہا ہوں، میں کچھ ماضی کے خوابوں سے جڑے چند یادوں کا مختصر سا تعارفی خاکہ پیش کررہا ہوں، جو آگے تفصیل سے بیان کرونگا - ایک وقت وہ بھی تھا جب میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر ااپنے اردو ادب اور آرٹ کے شوق کو اپنے مستقبل کے کیرئیر کی طرف راغب کرلیا تھا، میرے دوستوں میں ایک دوست جو بہتریں اردو اور انگلش کے ھر قسم کے رسم الخط لکھنے میں ماہر تھے، ان کے ساتھ مل کر “حسنی آرٹس اینڈ پینٹرز“ کے نام سے ایک دکان کھولی اور وہ ایک معاش کا بھی ذریعہ بھی بن گیا، جہاں ہمیں دکانوں کے مختلف سائن بورڈ، سینماوں کے فرنٹ اور چھوٹے اشتہاروں کے بورڈ، سینما سلائڈز وغیرہ بنانے کے کافی آرڈر ملتے تھے اور خاص طور سے الیکشن کے زمانے میں تو ہماری چاندی ہوجاتی تھی، کیونکہ اس وقت ہمیں انکے بڑے چھوٹے بینرز اور پمفلٹ لکھنے کے منہ مانگے دام ملتے تھے، اس وقت تمام لکھائی زیادہ تر اردو میں ہی ہوتی تھی، اردو لکھائی سے زیادہ تو میں تصویریں بڑے بڑے بورڈز پر اپنے ہاتھ سے ہی پینٹ کیا کرتا تھا، جو کہ بچپن سے ہی مجھے اردو خوشخطی کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی بنانے کا بے حد شوق تھا مگر والد صاحب کو میرا یہ شوق پسند نہیں تھا، اس کے ساتھ ایک اور بھی شوق اسٹیج ڈرامے ترتیب دینا اور منعقد کرنا بھی بچپن سے ہی شوق رہا، اس کے علاؤہ کالج کے میگزین میں بھی کوشش رھی کچھ افسانے لکھنے کی، لیکن وہ بھی زیادہ دن نہ چل سکا اور کچھ اخباروں اور دوسرے ادبی اور فلمی رسالوں کی زینت بننے کی بھی کوشش کی اس کے علاوہ ایک آدھ فلم کے اسکرین پلے لکھنے کا موقع بھی ہاتھ لگا لیکن وہ بھی والد صاحب کے غصہ کی نذر ہوگیا، یہ بھی ایک لمبی کہانی ہے، جو اپنے تسلسل کے ساتھ ہی منظرعام پر آئے گی- اور ساتھ ہی اپنے پیار اور محبت سے جڑی ایک لمبی داستان جس کے خواب کی تعبیر نہ مل سکی، اس دور سے جب میں گزرونگا تو شاید سب کو اس میں اپنے اپنے خواب بھی نظر آجائیں - پہلے گلی محلوں میں بچوں کے ساتھ مل کر چھوٹے چھوٹے مزاحیہ خاکوں کی ابتدا کی پھر ساتھ ہی تمام محلے کے بچوں اور بہن بھائیوں کو لے کر ریڈیو پاکستان جاتا رہا، جہاں پہلے ہی سے “انٹری پاس“ لے کر بچوں کے پروگراموں میں حصہ بھی لیتا تھا اور اپنے علاؤہ تمام بچوں کی آواز کا آڈیشن یعنی ٹیسٹ کرواکر پروگرام میں قومی نغمے، حمد اور نعتیں سنانے میں حصہ دلواتا بھی تھا جو براہ راست نشر بھی ہوتے تھے اور تمام محلہ کے لوگ ریڈیو پر ہم سب کو براہ راست سنتے بھی تھے یہاں تک تو اجازت ملی، لیکن جب بڑے ہوکر ہم سب دوستوں نے مل کر شوقیہ اسٹیج شوز شروع کئے تو بہت ہی مشکل پیش آئی کیونکہ والد صاحب کو یہ قطعی ناپسند تھا -!!!!! جسے مجبوراً والد صاحب کی تنبیہ پر ھر اپنا ادب آرٹ اور مصوری کو 20 سے 22 سال کی عمر کے درمیان میں خیر باد کہنا پڑا اور انہیں کے پیشے سے منسلک ہوکر رہ گیا اور اب تک حساب کتاب کے پیشے میں ہی الجھا ہوا ہوں، کہانی پھر سے وہاں سے شروع کررہا ہوں جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا،!!!!!! رات کو والد صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلے سے لگالیا ساتھ انکی آنکھوں میں آنسو بھی تھے، میں بھی انہیں دیکھ کر رو پڑا !!!!!!!!!!!!! میری اس وقت بھی سسکیاں نکل رھی تھیں، پورے جسم میں بہت درد تھا، لیکن جب اباجی نے گلے لگایا تو اس درد کا احساس کچھ قدرے کم ہوا، انکی آنکھوں میں جو آنسو امڈ رھے تھے اس سے پہلے کبھی میں نے انہیں اس حالت میں نہیں دیکھا، وہ اپنی گھُٹی ھوئی آواز میں یہی بول رہے تھے کہ “ تو مجھے کیوں تنگ کرتا ہے، مجھے آج سے اپنا دوست سمجھ اور ہر بات مجھے اچھی یا بری بات ضرور بتایا کرو“ اور شاید یہ بھی کہ رہے تھے کہ مجھے معاف کردینا بیٹا،!!!!! اس دن کے بعد انہوں نے مجھے ڈانٹا ضرور لیکن کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا، اسی وجہ سے میرے اندر بھی شاید ایک تبدیلی سی آگئی تھی-!!!!!!! اب مسلئہ یہ تھا کہ محلے میں مجھے کسی کے گھر جاتے ہوئے بھی ایک شرمندگی محسوس ہوتی تھی - کافی دنون تک اپنے آپ کو گھر میں ہی مقیٌد رکھا آہستہ آہستہ جب کچھ طبعیت سنبھلی، تو والد صاحب بہت پیار سے مجھے اسی پرائمری اسکول میں لے گئے اور پانچویں کلاس میں داخلہ دلادیا - شاید کوئی پھر سے مجبوری رہی ہوگی یا کہیں داخلہ نہ مل سکا ہو - وہاں جاکر میں نے دیکھا کہ حالات کچھ بدل سے گئے ہیں، شکر ادا کیا جب میں نے ان لڑکوں کو وہاں نہ پایا، کیونکہ سب وہاں سے رخصت ھوگئے تھے یعنی چھٹی کلاس کیلئے انہیں دوسرے سیکنڈری اسکول میں داخلہ لینا پڑا ہوگا، اور یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ خوشی ھوئی کہ وہاں کا ماحول بھی بہت بہتر نطر آرہا تھا، لیکن بعد میں مجھے کلاس کے مانیٹر شعیب، جو میری پچھلے سال کی کہانی جانتا تھا، اس نے مجھے بہت تسلی دی اور میں اس لڑکے کا شکر گزار ہوں کہ اس نے اس کلاس میں میرے علاوہ کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہونے دی اور بعد میں میرا اچھا دوست بن گیا، اس کے علاوہ اور بھی دوست تھے لیکن یہ مجھے سب سے اچھا لگا، بعد میں دو اور دوست حسیب بیگ اور حفیظ اللٌہ بھی بنے تھے جو میرے لئے ایک مشعل راہ ثابت ہوئے اور خوش قسمتی سے انکا ساتھ دوسرے سیکنڈری اسکول میں بھی رہا، دوبارہ میں نے ایک بالکل نئے جذبے کے ساتھ پڑھائی شروع کی وہاں کے کلاس تیچر شفیع صاحب نے خوب محنت سے پیار سے اور ایک منظم طریقہ کار سے ہمیں پڑھانا شروع کیا جس کےلئے مجھے خود حیرانگی ہورہی تھی کہ کیا یہ وہی اسکول ہے یا کوئی خواب دیکھ رہا ہوں اللٌہ کا شکر تھا کہ جن سے پہلے میں نظریں چرارہا تھا اب کچھ نظریں ملا کر بات کرنے لگا تھا، لیکن کچھ ایسے بھی تھے کہ مجھ سے اب تک نالاں تھے اور اپنے بچوں کو مجھ سے دور رکھتے تھے، جس کا مجھے بہت دکھ ہوتا تھا، جن بچوں کا میں ھیرو کہلاتا تھا اب میں ان کے لئے بالکل زیرو تھا، وہ اکثر میرا مذاق اڑاتے اور میں اپنی گردن نیچے کئے خاموشی سے انکے سامنے نکل جاتا، میرا دل تو بہت چاہتا تھا کے پھر سے پہلے کی طرح میں ان کے ساتھ کھیلوں، لیکن اب ان کی نظر میں میری وہ عزت نہیں رہی تھی، یہ اللٌہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر تھا کہ اب پڑھائی بہت اچھی چل رہی تھی اور روزانہ باقاعدگی سے اسکول بھی جارہا تھا اور ساتھ ساتھ ماہانہ ٹیسٹ اور دوسرے سہہ ماہی اور ششماہی امتحانات بھی اچھے نمبروں سے اچھی پوزیشن حاصل کی شاید کلاس مین ساتویں یا آٹھویں پوزیشن پر رہا، میرے کلاس کے دوستوں نے بھی میرا بہت اچھا ساتھ دیا، اب تو والد صاحب بھی اسکول کا چکر لگاتے تھے اور کلاس ٹیچر اور ھیڈ ماسٹر صاحب سے ملکر میری طرف سے تسلی پا کر چلے جاتے تھے، اور اکثر ہر دوسرے تیسرے روز گھر پر مجھے وہ پڑھاتے بھی تھے، مگر اب تک محلے میں چند ایک کو میرا اب تک یقیں نہیں آیا تھا کہ واقعی میں اب سدھر گیا ہوں، چھ مہینے گزرنے کے بعد بھی میں اپنے محلے میں اپنا اعتماد بحال نہیں کرسکا تھا، شام کو میرا دل بہت چاہتا کہ میں سب کے ساتھ کھیلوں اور خوب باتیں کروں جو بھی میرے ساتھ بات بھی کرنے آتے تو سب انکا بھی مذاق اڑانے لگتے، والدین اس سے بے خبر تھے اور میں نے بھی انہیں کچھ نہیں بتایا تھا اور اب گھر پر پہلے کی طرح کوئی محلے کے بچوں کی رونق نہیں تھی، بہرحال مجھے اس بات کا بہت دکھ تھا، والدہ مجھے کافی وقت دیتی تھیں اور ھمیشہ میرے بجھے ہوئے دل کو بہلانے کی کوشش میں لگی رہتیں لگتا تھا کہ میری ماں کو میرے اندرون دل کی حالت پتہ تھی - اب تو میں کتابوں اور اسکول کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا تھا، میں نے اب گھر آکر باہر نکلنا بھی چھوڑدیا تھا صرف والد صاحب کے ساتھ ہی باہر سودا وغیرہ لینے نکلتا تھا، کیونکہ ان کے سامنے محلے کے بچے مجھے چھیڑنے سے گریز کرتے تھے، میرے دل میں اہستہ آہستہ ایک بزدلی کا خوف بیٹھتا جارہا تھا، اسکول جاتے وقت اور واپسی پر بھی میں ڈرتا ڈرتا باہر نکلتا تھا اور تیز تیز چلتا تھا تاکہ کوئی مجھے کوئی پیچھے سے آواز نہ کسے یا چھیڑے، اور اس طرح روز بروز مجھے لگتا تھا کہ میں ایک نفسیاتی مریض بنتا جارہا ہوں، سوتے سوتے میں اکثر چیخ مار کر اٹھ جاتا تھا اور والدہ میرے پاس دوڑ کر آتیں اور گود میں میرا سر رکھ کر مجھ پر پڑھ کر دم بھی کرتی تھیں اور پھر میں انکی گود میں سر رکھ کر سوجاتا تھا- پھر مجھے سلا کر چادر اڑھا کر پھر وہ بھی سو جاتی تھیں، بعد میں سب کچھ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو گیا لیکن وہ خواب میں چیخ کر ڈر کے اٹھنے کی بیماری ابھی تک نہیں گئی -!!!!! خیر اب تو میں دس سال کی عمر میں داخل ہورہا تھا اور دل اب تک بےچین تھا کئی دفعہ کوشش بھی کی باہر جاؤں لیکن ہمت نہیں پڑتی تھی، والدہ بھی باہر بھیجنے کی کوشش کرتیں لیکن دروازے سے جاکر واپس آجاتا، آخر ایک دن کچھ ہمت پکڑی اور باہر نکلا اور جیسے ہی بڑی گلی میں داخل ہوا تو کچھ شرارتی بچوں نے مجھے دیکھ لیا اور شروع ہوگئے میرا مذاق اڑانے اور ایک نے تو میرے نزدیک آکر کچھ برے الفاظ کہے اور مجھے دھکا دے کر لگا میرے گریبان میں ہاتھ ڈالنے،!!!!! اس سے پہلے کہ وہ میرے گریبان کو چھوتا ایک لڑکی میرے اور اسکے درمیان آگئی اور زور کا چانٹا اس لڑکے کے منہ پر دھر دیا اور وہ لڑکا اپنے گال سہلاتا ہوا بھاگ کھڑا ہوا، میں ایک دم گھبرا گیا کہ یہ کون سی ہستی آگئی، پہلے تو یہ چہرہ یہاں کبھی نہیں دیکھا تھا، مجھ سے عمر میں بڑی بھی لگ رہی تھی اور الٹا مجھے ڈانٹنے لگی کہ تم کتنے بزدل ہو اس لڑکے کا مقابلہ نہیں کرسکتے، میں کیا جواب دیتا میں تو پہلے ہی ھکا بکا ہو کر اسے دیکھ رہا تھا کہ اسے مجھ سے ھمدردی کیسے ہو گئی جان نہ پہچان شاید کسی کہ مہمان آئے ہوئے ہوں، اس سے پہلے کہ میں کچھ اور ذہن پر زور ڈالتا، اس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑا اور وہ جیسے ہی مڑی اسکے پہچھے شاید اسکی چھوٹی بہن کھڑی نظر آئی جو مجھے دیکھ کر مسکرارہی تھی، وہ چھوٹی سی مجھے بڑے غور سے اور مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی اور جسے دیکھ کر ایک عجیب سی میرے دل میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی، !!!!!!!!!!!!! وہ بڑی میرا ہاتھ پکڑے آگے آگے چل رہی تھی اور چھوٹی پیچھے پیچھے مسکراتی چل رہی تھی میں حیران پریشان، سوچتا ہوا ان کے ساتھ چل رہا تھا کہ یہ دونوں کون ہو سکتی ہیں؟؟؟؟؟ جاری ہے،!!!! |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا | shafresha (26-10-10), فیصل ناصر (26-10-10), کنعان (30-10-10), پاکستانی (13-11-10), عبداللہ حیدر (14-11-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,222
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,166 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم
سارے کام چھوڑ کر میں یہ پڑھنے بیٹھی اور یقین کریں بھائی بہت اچھا لگا پڑھ کر بہت اچھا لکھا ہے آپ نے
__________________
![]() |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
وہ بڑی میرا ہاتھ پکڑے آگے آگے چل رہی تھی اور چھوٹی پیچھے پیچھے مسکراتی چل رہی تھی میں حیران پریشان، سوچتا ہوا ان کے ساتھ چل رہا تھا کہ یہ کون ہو سکتی ہیں ؟؟؟؟؟؟
میں تو پہلے ڈر ہی گیا کہ کہیں یہ مجھے پکڑ کر میرے گھر شاید میری شکایت کرنے جارہی ہیں، اور واقعی وہ بڑی مجھے پکڑے میرے گھر ہی لے گئی، وہاں ان کی والدہ میری والدہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کررہی تھیں اور بڑی تو فوراً تنک کر بولی کہ،!!!!! خالہ اپنے اس لاڈلے بیٹے کو سمجھا دیں کہ گلی میں فالتو لڑکوں کے منہ نہ لگا نہ کرے، چھوٹی تو اپنی اماں کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئی اور میں اپنی والدہ کے کہنے پر ہاتھ منہ دھونے اور کپڑے بدلنے چلاگیا کیونکہ اس لڑکے کی مڈبھیڑ کی وجہ سے کچھ کپڑوں کی حالت خراب ہوگئی تھی -!!!!! ًمیں بالکل شش و پنج میں تھا کہ یہ آخر ماجرا کیا ہے اور یہ کون ہیں کہاں سے آئی ہیں اور مجھے کیسے جانتی تھیں کہ راستے میں ہی مجھے پکڑ اس لڑکے سے جان چھڑا کر گھر لے آئیں، مجھے بعد میں والدہ ہی سے معلوم ہوا کہ جو پچھلے مہینے میں دوسری گلی کے نکڑ والے مکان میں نئی فیملی آئی ہے، یہ وہی لوگ ہیں، میں زیادہ پنچایت میں بھی نہیں گیا، اس وقت مجھے کسی کے تعارف کا بھی کوئی شوق نہیں تھا میں اور کوئی مزید تفصیل میں پڑے بغیر اپنی پڑھائی کی طرف لگ گیا،!!!!! اب تو بالکل باہر جانے کو دل نہیں کرتا تھا، سب پرانے دوست اب ویسے ہی مجھ سے دور رہتے تھے، حالانکہ میرا دل بہت چاہتا تھا کہ میں دوبارہ سے ان کے ساتھ مل کر کھیلوں اور پہلے کی طرح محلے کی رونق بنوں، والدین میری خاموشی سے بہت پریشان تھے، کیونکہ میرا اب روز کا معمول صرف اسکول جانا، گھر پر کھانا کھانا اور کچھ دیر اپنے ہی بہن بھائیوں کے ساتھ صحن میں کھیل کر اپنی پڑھائی میں لگ جانا، اس کے علاوہ بس اپنے اوپر ایک خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا تھا اور ایک چپ سی لگا لی تھی، بس یہی سوچتا رھتا تھا کہ اب میں سب کی نظروں میں کیوں اتنا گر گیا ہوں، اور روز بروز ایک نفسیاتی مرض کا شکار ہوتا جارہا تھا ساتھ کمزوری بھی محسوس کررہا تھا اکثر سوتے میں ڈر کر اٹھ جانا روز کا معمول بن چکا تھا -!!!!! اباجی ھمیشہ گھر میں دو تیں بکریاں اور کئی مرغیاں ضرور پالتے تھے، اوراس وقت ہم بچوں نے بکری کا دودھ کثرت سے پیا، ان ہی میں سے جب بکری کے بچے جب بڑے ہوجاتے تو ایک بکرا قربانی کے لئے تیار کرتے تھے، لیکن قربانی کے وقت ہم سب کو رونا آجاتا تھا کیونکہ پورا ایک سال ہم ان بکری کے بچوں سے اتنا مانوس ہوجاتے تھے کہ ان کی کوئی تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی، اسکے علاوہ اباجی خود ہی شام کو بکریاں چرانے چلے جاتے تھے اور کبھی کبھی ہم بچے بھی مل کر ساتھ ہو لیتے تھے،!!!! لیکن جب سے میں نے خاموشی اختیار کی وہ کچھ زیادہ پریشاں ہوگئے اور بعض اوقات تو میرے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ جاتے اور میں والدہ کی گود سر رکھ کہتا امی دیکھو مجھے کیا ہورہا ہے، سورہ یاسین پڑھنے کیلئے کہتا کبھی زیادہ طبیعت خراب ہوتی تو ہمارے نئے محلے دار کے یہاں سے ان دونوں کو بلوالیتی، وہاں سے دونوں لڑکیاں اور ان کی اماں ساتھ کبھی کبھی ان کی نانی اماں بھی لاٹھی ٹیکتی ہوئی پہنچ جاتیں، پھر دیسی ٹوٹکوں سے علاج شروع ہوجاتا، ہماری والدہ بھی ان لوگوں کے آنے سے کچھ سکون میں نطر آتیں، اور قدرتی میری طبعیت بھی ٹھیک ہو ہی جاتی،!!!!! آھستہ آھستہ میں اور ہمارے سب گھر والے اس فیملی سے مانوس ہوتے جارہے تھے اور بالکل ایسا لگنے لگا تھا جیسے آپس میں ہم لوگ کوئی بہت قریبی رشتہ دار ہوں!!! شاید ایک وجہ یہ بھی رہی ہو کہ والدہ کو ان سے ایک بہت میری طبعیت کے حوالے سے ایک فکر ختم ہوگئی تھی کیونکہ ان کے ساتھ کی وجہ سے میں کچھ بہتر ہوتا جارہا تھا اور زیادہ تر ہمارے گھر پر وقت گزارتیں دوسری وجہ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور شاید ان کی والدہ کو میرے روپ میں ایک بیٹا دکھائی دے رہا ہو - پھر بڑی باجی کے اصرار پر ہم تینوں باہر بھی کھیلنے کیلئے نکلنے لگے لیکں شروع شروع میں مجھے بہت ڈر لگا تھا باہر کے لڑکوں کی وجہ سے میں کچھ احساس محرومی کا شکار تھا، لیکن بڑی باجی کی وجہ سے بہت کچھ ہمت آگئی تھی اور دوبارہ میں اس قابل ہوگیا تھا کہ کسی بھی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر سکتا تھا، اس طرح آھستہ آھستہ مجھ میں خود اعتمادی بھی آگئی تھی اور اب ہمارے گروپ میں اور لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہو گئے، جو کبھی میرے خلاف چلے گئے تھے، لیکن پھر بھی چند لڑکے اب تک مجھ سے نالاں تھے، مگر انکی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ ہمارے گروپ کو پریشان کریں، یہ مکمل تبدیلی ان دونوں نئی لڑکیوں کی بدولت ہی تھا کیونکہ ان کا رویٌہ بہت اچھا تھا اور وہ بہت ہی سلجھی ہوئی باتیں کرتیں تھیں اس کے علاوہ انہوں نے تمام بچوں میں نئے نئے کھیلوں کا تعارف بھی کرایا، اس محلے میں اس وقت صرف دو یا تین گھروں میں ریڈیو ہوا کرتا تھا جن میں ان کا بھی گھر شامل تھا، اور ہم سب بچے شام کو کھیل کود کے بعد ان کے گھر ریڈیو سننے جاتے تھے، خاص طور سے اس وقت ھفتہ کی رات کو “اسٹوڈیو نمبر9“ رات کے 9 بجے ھی ریڈیو پاکستان سے ایک نیا ڈرامہ نشر ہوتا تھا اور ہر منگل کی شب 9 بجے یا ساڑے 9 بجےمختلف مزاحیہ خاکوں پر مبنی ایک پروگرام “دھنک“ آیا کرتا، جس کا نام بعد میں “کہکشاں“ ہوگیا تھا، یہ ہم تمام پروگرام ان کے گھر بیٹھ کر سنتے تھے، ٹیلیویژن کے بارے میں اس وقت کوئی تصور بھی نہیں تھا، لیکن یہ ضرور بڑے تعجب سے یہ سنا کرتے تھے کے ولایت میں ایک ریڈیو ایسا بھی ہے جس کے سامنے فوٹو بھی نظر آتی ہے، ہماری بڑی باجی تو اب سب کی لیڈر بن چکی تھیں اور انکی زبان سے جو الفاظ نکلتے تھے وہ بہت ہی زیادہ شائستہ اور مودب ہوتے تھے، اس کے علاوہ ان دونوں کے رکھ رکھاؤ اور ان کے نفیس اور صاف ستھرے لباس، جس کی وجہ سے سب بچے ان سے مرعوب بھی تھے، ان کی دوسری پوزیشن میں انکی چھوٹی بہن تھی، وہ بھی باتیں بہت کرتی تھی اور ساتھ وہ بھی اپنی بڑی بہن کی طرح خوش مزاج مگر تھوڑی سی خودار قسم کی یعنی کسی کو زیادہ خاطر میں میں نہیں لاتی تھی، بہرحال کم از کم اس بات کی تو خوشی تھی کہ ان کی وجہ سے اس محلے کے بچوں کو ایک سدھرنے کا موقعہ مل گیا تھا اور ان کے والدین بھی خوش تھے، اس کے علاوہ وہ بچوں کو بنیادی تعلیم کا بھی درس پڑھاتی بھی رہیں، غرض کہ وہ ہر ایک کو بولنے کا صحیح طریقہ کار اس کے صحیح تلفظ بیانی پر بہت زیادہ زور دیتی تھیں، بچوں کو تفریحی طور پر چھوٹے چھوٹے ڈرامے کھیل اور قومی نغمے کی پریکٹس بھی کراتیں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے بچوں کو ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگراموں میں لےجانا شروع کیا، جہاں پر اس وقت، بڑے بڑے فنکاروں ظفرصدیقی، منی باجی، ارش منیر، عبدالماجد، محمود علی، ظلعت حسین اور دوسروں کے ساتھ بچوں کے پروگراموں مین حصہ بھی لیتے رہے،!!!!! ہمارے محلے کی رونق بھی کچھ زیادہ بڑھ گئی بچوں کو ایک نئی طرز کے کھیلوں میں دلچسپیاں بڑھ رہی تھیں جس میں معلوماتی باتیں بھی ہوا کرتیں، بہت کم بچے تھے جو ھمارے ساتھ نہیں تھے، ہر عید پر بچوں کا ایک رونق میلہ لگ جاتا اور محلے کے بچوں کی ایک اکثریت سلیقہ شعار اور پڑھنے کی طرف رجحان زیادہ ہوگیا، پھر ہم تینوں ہی مل کر تمام بچوں کی ٹیم کی نگرانی کرتے اور کھیل کے وقت کھیل اور پڑھائی کے وقت پڑھائی کرنا شروع ہوگئے اور محلے والوں کی نظر میں وہی مقام جو پہلے کبھی تھا واپس مجھے مل گیا اور اب تو ہمیں بہت عزت دیتے تھے، لوگ پرانی باتوں کو بھول چکے تھے اور ہم تینوں ہی اس وقت سب کے استاد تھے،!!!!! اباجی اب بہت مطمئین تھے، والدہ بھی بہت خوش تھیں، اسی دوران والد صاحب نے ایک پرچون کی دکان کھول کر میری ذمہ داری میں ایک اور مزید اضافہ کردیا، جو عین محلے کی درمیان تھی، اسکول بھی ساتھ ساتھ بہت اچھا چل رہا تھا اور ہر چیز اپنے معمول پر آگئی تھی، ایک محلے میں اپنی ایک دکان کا اضافہ ہوگیا تھا اور جس کی وجہ سے میرا اب زیادہ تر وقت دکان پر ہی گزرتا اور کچھ بہت سی نئی کہانیوں نے کئی رخ موڑے جس کا آگے ذکر کرونگا-!!!!!! جب سے دکان کھلی، شروع میں تو کچھ دنوں تک والد صاحب کے ساتھ ٹریننگ کرتا رہا بعد میں جب ریٹ وغیرہ کا صحیح طور پر اندازہ ہوگیا تو میری ڈیوٹی کا ایک مستقل شیڈول بن گیا روزانہ اسکول سے گھر آتا کھانا وغیرہ کھاکر سیدھا دکان کھولتا، لکڑی کے کھوکے کی طرح دکان تھی، بیٹھتے ہی ہلکے سے جھکولے کھانا شروع کردیتی تھی پہلے دکان کے نیچے کا پلڑا کھولتا تھا جو اپنے دو پایوں پر ٹکتے تھے، پھر اوپر کا پلڑا نیچے والے پلڑے کا اوپر کھڑے ہوکر کھولتا تھا اور پھر نیچے کے پلڑے پر تمام بچوں کی ٹافیاں اور بسکٹ وغیرہ کی برنیاں ترتیب سے سجا دیتا اور ساتھ ہی ایک ترازو جو ایک اسٹینڈ کے ساتھ تھا اسی لکڑی کے پلڑے پر درمیان میں رکھ لیتا اور اندر دکان کے سارے سامان پر ایک دفعہ کپڑا مار کر صفائی بھی کرتا اور جب تک ایک اچھی خاصی بھیڑ لگ جاتی اور ایک شور مچ جاتا، سب اتنی جلدی میں ہوتے کہ ہر ایک یہی کہتا کہ میں پہلے آیا تھا مجھے پہلے دو -!!!! اس محلے میں یہ ایک ہی پہلی دکان تھی، جو لوگوں کی خواھش پر اباجی نے کھولی تھی، اباجی جب دفتر سے واپس گھر آتے تو سب سے پہلے سیدھا دکان پر ایک نظر مارتے ہوئے گھر پہنچ جاتے اور گھر جاکر کچھ دیر کیلئے آرام کرتے اور عصر کی نماز پڑھ کر دکان کا رخ کرتے تو جاکر کہیں میری جان چھوٹ جاتی، اس وقت تک اپنی بچوں کی ٹیم میرا انتطار کرتی رھتی اور دکان کے چاروں طرف منڈالاتی رہتی اس طرح ایک لالچ بھی ان کو دکان کے پاس رکھتی کیونکہ اکثر میں ان میں ٹافیاں اور بسکٹ وغیرہ تقسیم بھی کرتا رہتا، سارا دن ٹوٹے بسکٹ اور ٹافیاں وغیرہ جو ٹوٹ جاتیں میں الگ کرتا جاتا اور ابا جی کو دکھا کر لے جاتا اور ہم سب بچے مل جل کر کھاتے، لیکں تھوڑی ساتھ بےایمانی یہ کرتا کہ خود بھی ہاتھ سے بسکٹ ٹافیاں توڑ لیتا تاکہ تمام دوستوں میں پوری ہوجائے- عصر اور مغرب کے درمیان خوب کھیلتے اور مغرب کے بعد گھر پہنچ کر ہاتھ منہ دھو کر نماز پڑھ کر سیدھا کتابیں پڑھنے بیٹھ جاتے، محلے میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی تھی، جہاں چھوٹے بڑے سب پانچوں وقت کی نمازیں بھی پڑھتے تھے اور رمضان کے مہینے میں تو بہت ہی زیادہ رونق ہوتی تھی، ہر گھر سے کچھ نہ کچھ مسجد میں مغرب سے پہلے ہی مختلف قسم کے پکوان پکوڑے، سموسے، آلو چھولے، دہی بڑے اور روح افزا، نورس، اور لیمن اس کے علاوہ نہ جانے کیا کیا جمع ھو جاتا، اور روزہ کھولتے وقت اور نماز کے بعد بھی ہم سب بچے کھاتے ہی رہتے، پھر کھیل میں لگ جاتے، رمضان کے مہینے میں کچھ تھوڑی بہت آزادی مل جاتی تھی، جب تک عشاء اور تراویح کا وقت ھوجاتا پھر تراویح کے ختم ہوتے ہی فوراً گھر کا رخ کرتے کھا پی کر سو جاتے، صبح سحری میں خاص طور سے اٹھتا تھا کبھی روزہ رکھ لیتا کبھی نہیں مگر افطاری کے وقت بغیر کسی عذر کے پہنچ جاتا، اور سارے دوست بھی وہیں موجود ہوتے، رمضانوں میں دکان کے اوقات ذرا مختلف ہوتے تھے، دکان میں ابا جی نے ادھار لینے والوں کیلئے ایک الگ رجسٹر کھولا ہوا تھا، مجھے خاص طور سے یہ تاکید تھی کہ کبھی بھی ادھار کسی ایسے کو مت دینا جس کا کہ رجسٹر میں نام نہ ہو، مگر بعض اوقات چھوٹے بچے یا ان کی اماں اکر منت سماجت کرتیں جن کو ادھار دینے سے منع کیا ہوا ہوتا، مگر میں بالکل ان کی باتوں سے مجبور ہوکر ادھار سودا دے تو دیتا لیکن رجسٹر میں نہیں لکھتا تھا، بس اسی طرح اکثر لوگ مجھ سے ناجائز فائدہ اتھاتے، کوئی نہ کوئی دکھڑا سنا کر مجھ سے سودا لے جاتے، والد صاحب بھی اتنا زیادہ خیال نہیں کرتے تھے شام کو وہ آکر حساب کتاب بھی کرتے اور دن بھر کی جو بھی کمائی ہوتی کچھ ریزگاری چھوڑ کر باقی اپنی جیب میں رکھ لیتے، ایک ادھ دفعہ پکڑا بھی گیا کہ ایک دم وہ آگئے جب میں کسی کو بغیر لکھے ادھار سودا پکڑا رہا تھا، بس پھر دو چار ڈانٹ کھانی اور آیندہ کے لئے محتاط رھنے کے وعدہ پر جان چھوٹ جاتی، وہ بھی اکثر درگزر کردیتے تھے کیونکہ وہ خود بھی کافی لوگوں کی اسی طرح مدد کیا کرتے تھے مگر مجھے یہ ضرور تاکید کرتے کے بیٹا اگر کسی کو بغیر لکھے دیتے ھو تو مجھ سے پوشیدہ مت رکھو، اور کبھی جھوٹ مت بولا کرو - لیکن میں بھی اکثر نمکین بسکٹ اور کچھ پسندیدہ ٹافیاں چپکے چپکے کھاتا ہی رھتا تھا، اور میرے دکان پر گاہک سے زیادہ مفت خورے موجود ہوتے تھے ، میں بھی انہیں کچھ نہیں کہتا تھا بلکہ مجھے ان پر ترس آتا تھا اور میں ان کی مطلوبہ ضرورت پوری بھی کردیتا تھا، کیونکہ وہاں پر اکثریت کافی غریب لوگوں کی تھی - ایک دفعہ ایک کباڑی والا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ “تمھاری اماں نے ترازو منگایا ہے کیونکہ وہ کچھ ردی پیپر بیچنا چاہتی ہیں اور میرے پاس ترازو نہیں ہے میں نے بغیر تصدیق کئے ترازو اسے تھما دیا ادھر سودا تولنے کیلئے مجھے پریشانی ہورہی تھی، جب کافی دیر ہوگئی تو مجھے فکر ہوئی کہ کہیں کچھ گڑبڑ تو نہیں فوراً دکان سے اتر کر کسی دوست کو شاید بٹھا کر گھر بھاگا، اماں سے پوچھا کہ آپ نے ترازو منگایا تھا، انہوں نے کہا کہ نہیں، میری تو جان ہی نکل گئی اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں میں سرپٹ دوڑا اور اس کباڑئیے کو ڈھونڈنے نکل گیا، ایک محلے سے دوسرے محلے کافی دور نکل گیا لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں چلا، میں بہت پریشان اب کیا کروں اباجی کو کیا جواب دوں گا، میں اب گھر جانے سے بھی ڈر رہا تھا !!!!!!!!!!! وہاں اباجی اور دوسرے لوگ پریشان مجھے ڈھونڈتے پھر رہے تھے اور والدہ بےچاری گھر پر میرے لئے رو رہی تھیں !!!!!!!!!!!!! خوامخواہ ایک نئی مصیبت گلے لگالی، تھک ہار کر واپس اپنے گھر کی طرف واپس نکلا، اس کمبخت کباڑی والے کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جو میرا ترازو دھوکے سے میری دکان سے لے گیا تھا، شام ہونے کو آئی تھی اور میں کافی دور نکل گیا تھا، خیر واپس گھر پہنچتے پہنچتے تقریباً عشاء کا وقت ہوچلا تھا، کچھ تو سمجھے کہ میں ڈر کر شاید چھپ گیا ہوں، جب میں گھر پہنچا تو سب کی جان میں جان آئی، بہرحال والد صاحب کو غصہ تو نہیں آیا، میں تو ڈر ہی گیا تھا کہ کہیں گھر پر جا کر ڈانٹ ہی نہ پڑے، لیکن شکر ہے کہ سب نے گلے لگالیا، دوسرے دن اباجی نیا ترازو لے آئے، پھر سے وہی رات اور دن معمول کے مطابق گزرنے لگے، روزانہ کی طرح ہر شام کو پھر وہی دوستوں کے ساتھ کھیل میں مشغول ہوگئے، ساتھ گھر پر جو اباجی نے بکریاں پالی ہوئی تھیں، انھیں بھی نزدیکی میدان میں لے جاتا اور ساتھ ہی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتا بھی رہتا، مغرب ہوتے ہی بکریوں کو لے کر واپس گھر آجاتا - پانچویں کلاس کے سالانہ امتحاں بھی نزدیک تھے، اور ہم چند دوست جو پانچویں کاامتحان دے رہے تھے اپنی بڑی باجی کی نگرانی میں خوب زور شور سے امتحان کی تیاری میں لگ گئے وہ شاید اس وقت چھٹی کلاس میں تھیں اور چھوٹی شاید پانچویں کلاس میں پڑھ رہی تھی، ہم سب نے اب ایک اپنا کھیلنے اور پڑھنے کا شیڈول بنا لیا تھا، کھیل کا وقت ہم سب نے بہت مختصر کرلیا تھا، اور سب کچھ بڑی کی ہدایت پر ہی ہوتا تھا - سالانہ امتحان ہوگئے اور اس دفعہ میرے ساتھ ساتھ باقی سب بچے جو پڑھ رہے تھے بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوئے اور بہت کم ہی بچے تھے جو ناکام رہے اور ویسے بھی انہوں نے ہمارے ساتھ تیاری بھی نہیں کی تھی اور کئی تو بالکل پڑھنے جاتے ہی نہیں تھے، وہ کیا کامیاب ہونگے - دل میں ایک بہت خوشی تھی کہ اب میں نئے اسکو ل میں جاؤنگا اور والد صاحب بھی میرے اس نتیجہ کی وجہ سے بہت خوش تھے، چھوٹے بہن اور بھائی تو ابھی پرائمری میں چھوٹی کلاسوں میں ہی تھے والد صاحب مجھے سیکنڈری اسکول لے گئے اور وہاں دو تین دن کی تگ و دو کے بعد میرا ٹیسٹ ہوا اور میرا داخلہ چھٹی کلاس میں ہوگیا، مجھے بہت خوشی ھوئی، 1960 کا زمانہ اور10 سال کی عمر، ایک نیا اسکول، نئی کلاس، اور نئے دوست !!!!!! مگر چلو شکر ہوا کہ پرائمری اسکول کے ساتھ ساتھ بچپن کا دور بھی ختم ہوتا نظر آرہا تھا،!!!!!!!! __________________ جاری ھے،!!!!! Last edited by عبدالرحمن سید; 27-10-10 at 12:30 PM. |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
دل میں ایک بہت خوشی تھی کہ اب میں نئے اسکو ل میں جاؤنگا اور والد صاحب بھی میرے اس نتیجہ کی وجہ سے بہت خوش تھے، چھوٹے بہن اور بھائی تو ابھی پرائمری میں چھوٹی کلاسوں میں ہی تھے والد صاحب مجھے سیکنڈری اسکول لے گئے اور وہاں دو تین دن کی تگ و دو کے بعد میرا ٹیسٹ ہوا اور میرا داخلہ چھٹی کلاس میں ہوگیا، مجھے بہت خوشی ہوئی،
1960 کا زمانہ اور10 سال کی عمر، ایک نیا اسکول، نئی کلاس، اور نئے دوست !!!!!! مگر چلو شکر ہوا کہ پرائمری اسکول کے ساتھ ساتھ بچپن کا دور بھی ختم ہوتا نظر آرہا تھا،!!!!!!!! آج میرا چھٹی کلاس میں ایک نئے سیکنڈری اسکول میں پہلا دن تھا، گھر سے اسکول تو کچھ فاصلے پر تھا، لیکن خوشی میں پیدل آتے ہوئے اتنی جلدی اسکول پہنچ گیا کہ پتہ ہی نہیں چلا، پہنچتے ہی اپنے اسکول کی عمارت کی طرف دیکھا تو مجھے ایک فخر سا محسوس ہورہا تھا، کیونکہ ایک تو بہت بڑی ڈبل اسٹوری بلڈنگ اور دوسرے اس وقت کے لحاظ سے ایک بہت خوبصورت علاقے میں اس کا وجود تھا، ھر طرف خوبصورت بازار اور سجی سجائی دکانیں اور ساتھ ہی ایک سے ایک حسین بنگلے، اور نذدیک ایک ایرکنڈیشنڈ سینما گھر بھی تھا - نئے سیکنڈری اسکول میں جاکر تو ایک بالکل ہی نیا ماحول پایا، میں نے اپنی کلاس کے دروازے کے اوپر نام ششم (ب) لکھا دیکھا، کیا ایک عجیب سی خوشی تھی، میں خود کو بھی ایک بڑا بڑا محسوس کر رہا تھا، نیا نیا اسکول کا یونیفارم، قمیض کی جیب پر اسکول کا ایک خوبصورت مونوگرام بنا ہوا، نئے چمکتے کالے جوتے، بار بار ان جوتوں پر سے گرد بھی جھاڑتا رہتا، بچپن سے ایک عادت سی تھی اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنے کی، اس میں میری والدہ کا بہت ہاتھ تھا وہ ھمیشہ ہر شام کو میری اسکول کی تیاری مثلاً یونیفارم، جوتے وغیرہ کو اچھی طرح پہلے سے ہی چیک کرلیتی تھیں اور میں بھی ٹایم ٹیبل کے مطابق دوسرے دن کیلئے اپنے اسکول کے بستے کو تیار کرلیتا تھا - کلاس روم کی کرسیاں اور میزیں بھی ایک ترتیب سے چار لاٰئنوں میں لگی ھوئی تھیں، وہاں اسکول بلڈنگ کے درمیان ایک خوبصورت سرسبز پارک بھی تھا، غرض کہ اسکول کی ہر چیز مجھے اچھی لگی، ایک اچھی بات تھی کہ لڑکوں کے اسکول کا وقت دوپہر ایک بجے سے شروع ہوتا تھا اور لڑکیوں کو صبح صبح سات بجے کے قریب پہنچنا ہوتا تھا - اسکول کی بلڈنگ کے چاروں طرف ایک بہت لمبی چوڑی باونڈری وال تھی، جہاں ایک طرف کافی پھیلا ہوا صاف ستھرا میدان تھا جہاں ہاف ٹائم میں یا پی ٹی کے پیریڈ میں لڑکے مختلف کھیلوں سے لطف اندوز ہوتے تھے، میں نے اس اسکول میں کافی محنت سے پڑھائی کی یہاں پانچ سال کا عرصہ ایک مستقل مزاجی سے اور خوب محنت کرکے گزارا اور میٹرک سیکنڈ ڈویژن سے پاس کیا، جو میرا ایک رکارڈ رہا تھا کہ ایک ہی اسکول میں خوب دل لگا کر محنت سے 1960 سے لیکر 1965 تک بغیر کسی وقفہ اور کسی مشکل کے، پورے پانچ سال اطمنان سے مکمل کئے، کچھ تھوڑی بہت شرارتوں کا بھی ساتھ رہا لیکن وہ قابل قبول تھا - ان پانچ سالوں میں 10 سال کی عمر سے لیکر 15 سال کی عمر تک کس طرح میں نے اپنے لڑکپن کا سفر طے کیا، بچپن سے لڑکپن کی طرف میری زندگی نے کیا کیا دلچسپ موڑ لئے، وہ سب اگے لکھوں گا، مگر ہو سکتا ھے کہ وقت اور تاریخ کا صحیح اندازہ نہ ہو کیونکہ ذہن میں تو سب کچھ اچھی طرح محفوظ ہے، لیکن حالات اور واقعات کے صحیح وقت کا تعین کرنا ذرا مشکل ہوگا، میں اپنی کوشش ضرور کرونگا کہ ایک بہتر اور صحیح تسلسل کو قائم رکھ سکوں !!!!!!!!!!!!! پوچھتے پوچھتے جب اپنی نئی کلاس میں جیسے ہی اندر داخل ہوا، کیا دیکھتا ھوں کہ آگے کی تمام سیٹوں پر پہلے ہی سے لڑکوں نے قبضہ کیا ہوا تھا اور زیادہ تر بھاری بھرکم، شاید ان کا کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق تھا، اس لئے بغیر کچھ شکوہ کئے میں خاموشی سے پیچھے نکل گیا اور ایک مجھ جیسے ہی دبلے پتلے لڑکے کے اشارہ پر اسکے ساتھ بیٹھ گیا، اور وہ ھی وہاں پر میرا پہلا دوست بنا، ایک ایک ڈیسک پر تین لڑکے ایک ساتھ بیٹھنے کی گنجائش تھی، پھر ایک اور معصوم سا لڑکا ہماری ہی طرح چشمہ لگائے کلاس میں داخل ہوا، وہ بھی اگے جگہ نہ پا کر پیچھے ہماری ہی طرف آتا ہوا دکھائی دیا، اسے بھی ہم نے اشارہ کرکے اپنے پاس ہی جگہ دے دی - مگر افسوس کی بات یہ تھی کہ ہم تینوں کی ڈیسک سب سے پیچھے تھی اور سامنے بلیک بورڈ بھی صحیح طرح نطر بھی نہیں آرہا تھا، جو چشمے والا دوست تھا اسے بھی نظر نہیں آرہا تھا تو ہم دونوں کو کیا نظر آتا، خیر کچھ ہی دیر میں کلاس ٹیچر، جن سے پہلے ھی والد صاحب کے ساتھ ایک چھوٹا سا تعارف بھی ہوچکا تھا، جناب شیخ سعید صاحب ایک گرین سا گاؤن پہنے اندر تشریف لے آئے، فوراً تمام کلاس کھڑی ہوگئی، انہوں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور سب سے پہلے انہوں نے حاضری لی او پھر باری باری پوری کلاس کا تعارف لیا ساتھ ہی اپنا بھی مختصراً تعارف کرایا، لمبے سے قد اور سر کے اوپر آگے سے کچھ گنجا پن، مگر لگتے ھنس مکھ تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح ہنستے مسکراتے ہوئے اپنا تعارف کرایا ہم سب بہت خوش تھے، وہ کلاس ٹیچر کے ساتھ انگلش کے شعبہ کے انچارج بھی تھے - ھر ایک گھنٹے کے بعد ایک نئے مضمون کے ٹیچرز آتے گئے اور سب کے ساتھ اپنا بھی تعارف کراتے رہے، ہمیں اپنے حساب سے ایک اردو کے ٹیچر جن کا نام حسبٌر صاحب اور ایک تاریخ کے ٹیچر جنہیں شاہ صاحب کہتے تھے، دونوں بھی کلاس ٹیچر سعید صاحب کے بعد بہت زیادہ پسند آئے، کیونکہ یہ تینوں بہت زیادہ لڑکوں میں گھل مل جاتے اور ہنس ہنس کر باتیں کرتے تھے، باقی کچھ زیادہ تاثر نہ چھوڑ سکے، دو تین تو بالکل خرانٹ لگتے تھے اور کچھ تو بس نہ اچھے لگے اور نہ ہی برے بس درمیانے سے تھے، بیچ میں ایک وقفہ آدھے گھنٹہ کا بھی ہوا، جس میں ہم تینوں دوستوں نے باہر جاکر اپنی اپنی پسند کی چیزیں لیں اور اسکول کے گارڈن میں بیٹھ کر اپنا اپنا تفصیلی تعارف کرانے لگے !!!!!! --------------------------------- اب تو ہم تینوں بہت خوش تھے، کیونکہ ہم اب ایک ساتھ ایک ہی ڈیسک پر ایک لائن میں ہی بیٹھتے تھے، اور اتفاق سے ہم تینوں ہم عمر بھی تھے، اسکول ساتھ آنا، ساتھ اسکول میں ہی کھیلنا اور ساتھ ہی ہاف ٹائم میں ایک دوسرے کا ساتھ کھانا پینا اور واپسی میں بھی ساتھ رھتا تھا، ایک کا نام شاھد لطیف اور دوسرے کا نام انجم عارف تھا، بعد میں ھمارے ساتھ اور بھی اچھے دوستوں کا اضافہ ھوا جن کا نام کنور آفتاب احمد، فخرعالم، پرویز حمایت، حسیب بیگ، شعیب احمد، حفیط اللٌہ، بدرالمغیز، قابل ذکر ھیں، بعد میَں آہستہ آہستہ مزید دوست بھی بنے جن میں مسعود، ارشد، رفاقت، شجاعت، اور بہت سے دوسرے اچھے دوست بھی جنہیں میں کبھی بھی بھول نہیں سکتا،!!!، افسوس اس بات کا ھے کہ کچھ نے تو ھمارا ساتھ آٹھویں کلاس میں پہنچنے سے پہلے ھی چھوڑ دیا تھا اور کچھ ویسے ھی نویں کلاس میں اختیاری مضامین کے جوائن کرنے کی وجہ سے بھی کلاسیں الگ الگ ہوگئی، اور جو دو تیں اچھے دوست رہ بھی گئے تھے وہ بھی میٹرک کرنے کے بعد ایسے غائب ہوئے کہ آج تک مجھے ان سے ملنے کا شدید ارمان ہی رہا ہے، کچھ پرانے دوست ملے بھی لیکن بس کچھ شادی کے بعد اتنی کسی کو فرصت ہی نہ ملی کہ ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرتے، لیکن آگے کالجوں اور سروس کے بعد دوست بنے بھی اور بجھڑتے بھی رہے، لیکن جب بھی کسی وقت کا کوئی پرانا ساتھی ملتا ھے تو بہت ھی خوشی ہوتی ہے اور قلبی سکون ملتا ہے - ابھی کچھ دن پہلے ہی 45 سال بعد مجھے اسی اسکول کے زمانے کا میرا پرانا دوست کنور آفتاب احمد خان سے یہاں جدہ میں ہی ملاقات ہوئی، اتفاقاً میں نیٹ پر فیس بک میں دوستوں کو نام سے سرچ کررہا تھا کہ اچانک میرے دوست کے نام پر نظر پڑی، جو انجینئیر ہیں اور وہ بھی اس وقت میری 60 سال کے لگ بھگ ہونگے، 15 سال کی عمر کے بعد 60 سال کی عمر میں یہ ملاقات، اب آپ اندازہ لگائیں کہ کتنی حیرت انگیز بات ہوگی، ہم دونوں کو تو اب تک ایک دوسرے کے بچپن کے چہرے ہی یاد تھے، جب ایک دوسرے سے آمانے سامنے ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ ھمارے چہرے اس 45 سال کے عرصے میں کتنے بدل چکے تھے، ہم تو ملتے ہی اپنے اسی اسکول کے زمانے میں ہی کھو گئے، خوب اس وقت کی باتیں کیں، ان کی فیملی بھی گھر پر آئیں، ان کے دو بچوں کی بھی میرے بچوں کی طرح شادیاں ہوچکی تھیں، ہم دونوں ضیعف العمر شخص اپنے لڑکپن کے وقت کی باتیں کرتے ہوئے بھی بالکل بچے سے لگ رہے تھے،!!!! کنور آفتاب کے ذریعے ہی مجھے دو اور مزید دوستوں سے ملاقات ھونے کا شرف حاصل ھوگیا، جن میں مسعودالرحمن اور ارشد اعوان ھیں، مجھے تو بہت ھی زیادہ خوشی حاصل ہوئی، اب بہت بےچین ھوں ان سے ملنے کے لئے،!!!! بہرحال چلئے پھر چلتے ہیں اسی دور میں، 1960 سے 1965 کے وقت، اس اسکول میں آخر تک بہت ہی بہتریں دن گزارے، اس اسکول کی خاص بات یہ تھی کہ وہاں کی انتظامیہ بہت بہتر طریقہ سے طالب علموں کو بہتر پڑھائی اور بہتر سے بہتر تفریحات بھی فراہم کرتی تھی، دو چار کے علاؤہ باقی تمام ٹیچرز بہت زیادہ خوش مزاج ساتھ ہی پڑھانے کےبہترین ماہروں میں سے تھے، ان سب کے پڑھانے کا انداز اتنا شاندار ہوتا تھا کہ دل نہیں چاہتا تھا کوئی بھی ان کی کوئی کلاس مس کردیں اور انکا پڑھایا ہوا سبق ہم کبھی نہیں بھولتے تھے - اور ھر اسلامی تہواروں کے لئے خاص طور سے انتظام کیا جاتا تھا اور عید میلادالنبی کیلئے تو بہت ہی شاندار اور بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا تھا، بڑے بڑے عالم اور مشہور نعت خواں کے علاوہ اسکول سے بھی لڑکوں کو پڑھنے کی دعوت دی جاتی تھی اور مہمان خصوصی بھی آکر بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے - اس کے علاوہ اس اسکول کی انتظامیہ تفریحات کا ساتھ ساتھ مختلف مقابلوں میں حصہ لینے کیلئے قابل لڑکوں اور لڑکیوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی تھی اور ہر ضرورت بھی ساتھ پوری کرتے تھے۔ ہر قومی دن پر مارچ پاسٹ کی سلامی کیلئے سب کو تیاری کے ساتھ بھیجا جاتا تھا اسکول کا اپنا بینڈ گروپ بھی تھا، جو مارچ پاسٹ کے وقت سب سے آگے اپنے اسکول کی نمائندگی میوزک کے ساتھ سلامی کے چبوترے کا سامنے سلامی دیتے ھوئے گرر رہا ہوتا تھا، کیا خوبصورت اسپیشل یونیفانم تیار کئے جاتے تھے، لڑکیوں کا گروپ الگ ہی ہوتا تھا، اور اگر کسی باہر ملک سے کوئی سربراہ آتا تھا تو ہمیں مکمل بینڈ کے ساتھ سڑک کے کنارے اپنے ملک کی جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے ملک کی جھنڈیوں کو تھما کر آنے والے کے استقبال کیلئے کھڑا کردیا جاتا تھا، اور اس وقت تمام سربراہان اوپر سے کھلی لمبی کار میں آتے تھے، اور ھاتھ ہلا ہلا کر سب کو سلامی کا جواب دیتے تھے، بہت خوبصورت اور حسین منظر لگتا تھا، اس وقت مجھے اچھی طرح یاد ھے کہ کھلی کار میں ھم سب نے اپنے سامنے کئی دفعہ صدر فیلڈ مارشل جرنل ایوب خاں کے ساتھ تقریبا ھر ملک کے سربراہان کو دیکھا، کبھی کبھی تو وہ اپنے مہمان کے ساتھ کار رکوا کر ہم سے ہاتھ ملانے اور شکریہ ادا کرنے آجاتے تھے، اس وقت کتنی خوشی ہوتی تھی کہ ایک ملک کا صدر بالکل ہمارے روبرو کھڑے ہو کر ہم سب سے مل رہے ہیں اور ساتھ دوسرے ملک کے سربراہ بھی ساتھ ہوتے تھے، ہمیں کیا ہر اسکول کو پہلے ہی سے اطلاع دے دی جاتی تھی کہ سب نے مین روڈ پر استقبال کےلئے جانا ہے کوئی جگہ بھی خالی نہیں رہتی تھی، تمام سڑکوں پر رنگ برنگی جھنڈیاں لئے چھوٹے بڑے اپنے ملک میں آنے والوں کا عظیم الشان استقبال کرتے نظر آتے تھے- ----------------------------------- اب کچھ تھوڑا ذرا اسکول کے بعد محلے کے یک جہتی اور رہن سہن کے بارے میں کچھ روشنی ڈال لیں تاکہ کچھ تو ہم اس وقت اور اس زمانے کی اچھائیوں سے سبق لے سکیں، اس وقت بھی وہی لوگ تھے اور آج بھی ہم وہی ہیں، ہم کیوں نہیں اچھے بن سکتے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کیوں نہیں رہ سکتے، ایک دوسرے کی کیوں مدد نہیں کرسکتے، پہلے تو فقیر بھی ایک دوسرے فقیر کی مدد کیا کرتے تھے جبکہ اس وقت تو اتنے وسائل اور سہولتیں بھی موجود نہیں تھیں - اُس وقت کے لحاظ سے یہ بہت بڑی بات تھی کہ ہمارے لئے ایک ذرا سی خوشی بھی بہت معنی رکھتی تھی اگر ایک پل بھی اگر چھوٹی سی خوشی کا مل جائے تو وہ اپنے حصٌہ کی خوشی بھی لوگوں میں بانٹتے پھرتے تھے، ہم تو پورے محلے کو اطلاع دے دیتے تھے کہ کل بڑے مین روڈ سے صبح 10 بجے صدر صاحب فلانے ملک کے بادشاہ کے ساتھ کھلی کار میں گزریں گے اور ہمارا اسکول کا بینڈ، اسکاوٹس اور کیڈٹس کے ساتھ تمام اسکول وہاں پر موجود ہوگا - ہمارے سے پہلے ہی تمام محلے کے بچے اور بڑے یہاں تک کہ ضعیف لوگ بھی سڑک پر بن سنور کر پہنچ جاتے اور بازار سے جھنڈیاں بھی اپنے پاس سے خرید کر پہنچ جاتے، جیسے کے کسی میلے میں جارہے ہوں - چاہے کہیں میلہ لگا ہو، یا کہیں جشن عید میلاد النبی کی تقریب ہو، یا کہیں پر کوئی کسی قوالیوں کا مقابلہ ہو، یا کوئی جلسہ جلوس ہو، ہر کوئی یہی چاھتا تھا کہ یہ خبر سب سے پہلے محلے میں جاکر ہر گھر میں اعلان کرادے، اور وقت سے پہلے سب لوگ ایک دوسرے کو اکھٹا کرکےجوق در جوق، ہر محلے سے اکثریت میں پہنچ جاتے تھے، اس کے علاوہ عید اور بقرعید پر ہر خوشیاں ایک ساتھ بانٹتے تھے کوئی بھی فرقہ واریت یا تعصبیت کی کوئی وباء نہیں تھی، محرم کے مہینے میں ھر طبقے کے لوگ جوق در جوق جلسے اور جلوسوں میں اکثریت سے احترام اور ادب کے ساتھ شریک ھوتے تھے اور شہر میں بڑی بڑی بلڈنگوں میں رھنےوالے بھی اپنی اپنی چھتیں فیملیوں کے لئے کھول دیتے تھے اور عورتیں اور بچے آرام سے عَلم اور تعزیئے، زولجناح اور سوگواروں کے جلوسوں کو بہت احترام اور عقیدت سے دیکھا کرتے، پورے پورے محلے ان دنوں خالی ھو جایا کرتے تھے، جشن عید میلادالنبی (ص) کی رونق دیکھنے کے قابل ہوتی تھی، نعتوں اور سیرت نبوی (ص) کا سحر انگیز انداز لاؤڈ اسپیکروں پر ایک خوبصورت سماں دیتا تھا، بچے بڑے جوان بوڑھے عورتیں مرد حضرات جوق در جوق پہچتے، ہر مکتبہ فکر کے لوگ ایک دوسرے کی مذہبی، قومی رسومات اور تقریبات میں کثیر تعداد میں شرکت کرتے تھے،اور انتظامات میں حصہ لیتے تھے، قومی دن پر خاص کر 14 اگست کو تو ہر شہر ہر علاقے ہر گاؤں میں جشن چراغاں سے روشن تقریبات میں لوگ بھاری تعداد میں پہنچتے اور ملک کی سلامتی کیلئے دعاؤں کے ساتھ ایک دوسرے سے پیار اور محبت سے مل جل کر رہنے کی قسمیں کھاتے،!!!!! سب ایک دوسرے کو ایک پاکستانی کے روپ میں دیکھنے کے خواہش مند ہوتے تھے،!!!!! آپ اگر مساجد میں نمازیوں کی بات کریں تو، میری ذاتی مشاھدات میں جو بات ہے وہ یہ کہ ھمارے محلے کی اس چھوٹی سی مسجد میں تقریباً ہر نماز میں تمام محلے کے تمام مرد حضرات اور ساتھ بچے بھی باجماعت شامل ہوتے تھے اگر کوئی کسی وجہ سے حاضر نہیں ہوتا تھا تو نماز کے بعد لوگ اس کے گھر جاکر اسکی خیریت بھی دریافت کرتے تھے، ہم بچے چھوٹے بڑے سب سے پہلے مسجد جاکر وضو کرکے نماز کےلئے تیار ہوتے، کچھ تو وہیں کے مولوی صاحب سے قران کا درس اور اسلامی تعلیم لیا کرتے تھے فجر کے بعد ہر نماز سے پہلے اور بعد مسجد کے مولانا صاحب بچوں کو شیڈول کے مطابق درس دیا کرتے تھے اور مولوی صاحب کو تمام محلے والے مل کر ایک جگہ ایمانداری سے چندہ جمع کرکے اس میں سے ہر ماہ کچھ نہ کچھ انکے گزارے کیلئے دیا کرتے تھے، جو بچ جاتا تھا وہ مسجد کی اصلاح اور ضرورت کی چیزیں خریدی جاتی تھیں، اس کے علاوہ تینوں وقت کا کھانا کسی نہ کسی گھر سے پہنچ جاتا تھا اور بچوں کے ختم قران کی تقریب اور عید بقر عیدکے موقع پر مولانا صاحب کے لئے کپڑوں کےجوڑے بھی پہنچ جاتے تھے، اس وقت مولانا صاحب کی بہت عزت ہوتی تھی، محلے کی صفائی اور فلاح و بہبود کے لئے بھی بڑے بڑے بزرگ مل کر تمام فیصلے کرتے تھے، آپس کے جھگڑے وہیں پر ختم کردیتے اور کسی کو بھی ان بزرگوں کے کسی بھی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ھوتا تھا کیونکہ ہر کوئی تمام بزرگوں کا تہہ دل سے احترام کرتا تھا - ہمارے گھر کا صحن کچھ بڑا تھا اس لئے اکثر کسی کے ہاں اگر کوئی تقریب ہو تو اسکا اہتمام ہمارے صحن میں ہی ہوتا تھا اور والد صاحب زیادہ تر لوگوں کے ساتھ مل کر ہر تقریب کی رونق بڑھا دیتے تھے، آج تک اس محلے میں جو لوگ ہیں سب والد صاحب کو بہت یاد کرتیے ہیں، یہ سب کچھ ہمارے محلے کا ہی حال نہیں تھا اُس وقت پاکستان کے ہر شہے کے ہر محلے کی یہی حالت تھی اگر آپ میں سے کوئی بھی اپنے بزرگوں سے پوچھیں تو میرے اس ذکر کو وہ 100٪ صحیح قبول کریں گے، مہمانداری کے حساب سے اگر دیکھا جائے، تو ہر کسی کا مہمان پورے محلے کا مہمان ہوتا تھا اور کئی کئی دن تک مہمان ٹھرا کرتے لیکن کسی ایک کا بوجھ نہیں بنتے تھے وہ مہمان تقریباً ہر گھر کا ایک یا دو وقت کے کھانے پر مدعو ضرور ہوتا تھا، اور مجھے تو اگر کوئی گھر پر مہمان آئے تو کچھ زیادہ ہی خوشی ہوتی تھی اور والد صاحب تو اکثر کہتے تھے کہ مہمان اللٌہ کی رحمت ہوتا ہے اور مہمان کے آنے سے گھر میں برکت ہوتی ہے، اور یہ بھی ان کی زبانی سنا کرتے تھے کہ کسی بزرگ کے پاس ہر روز کھانے پر کوئی نہ کوئی مہمان ضرور ھوتا تھا کبھی کوئی مہمان ساتھ نہیں ھوتا تو ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی رزق میں کمی نہ ہوجائے، یہی حال سب کا اس وقت یھی یہی خواھش ہوتی تھی کہ ان کے ساتھ کھانے پر کوئی نہ کوئی مہمان ضرور ہو اور لوگ بھی مہمانوں کی خاطر مدارات میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے، اس زمانے میں لوگوں میں فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق ہوتا تھا اور ہر ملٹری کے علاقے میں ہر ھفتہ کی رات کو 4 آنے فی کس کے حساب سے ایک اردو یا پنجابی فلم ضرور دکھاتے تھے، اُس وقت کی فلمیں بہت ہی سلجھی ہوئی، اور سبق آموز، مگر بلیک اینڈ وہائٹ ہوتی تھیں، اور لوگوں کے پاس ان چیزوں کے علاوہ کوئی اورتفریح بھی نہیں تھی، ٹیلیوژن تو دور کی بات ہے، ریڈیو تک لوگوں کے پاس نہیں ہوتا تھا، کئی لوگ تو اس وقت بھی ریڈیو کے ڈراموں اور فلموں کے بارے میں بہت برا کہتے تھے اور فلمیں دیکھنے اور ریڈیو سننے پر بہت اعتراض بھی کرتے تھے اور حرام قرار دیتے تھے، لیکن دیکھنے والے ضرور دیکھتے تھے اس میں ہماری فیملی بھی شامل تھی اور ہم بھی والدیں کے ساتھ مہینے میں ایک دفعہ ضرور فلم دیکھنے ملٹری کے علاقہ میں جاتے تھے،!!!!! اس کہانی کے سلسلے میں آپ اپنی اچھی یا بُری جو بھی رائے ھو، بلا جھجک دے سکتے ہیں تاکہ میں اپنی تحریر کو اپنے پڑھنے والوں اور قدردان دوستوں کے مشوروں کے مطابق کچھ کہانی کی ترتیب میں یا کسی درستگی کے لئے کوئی تبدیلی لاسکوں تو مجھے بہت خوشی ہوگی!!!!!!!!!!!!!! جاری ھے،!!!!! Last edited by عبدالرحمن سید; 25-06-11 at 10:44 AM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, کراچی, پاکستان, پسند, ورزش, قرآنی, قران, نماز, مکمل, ماں, محبت, انگلش, انسان, اردو, اسلامی, استاد, اعلیٰ, بہترین, بھائی, بچپن, بچوں, تعلیم, سیرت نبوی, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی | گلاب خان | خبریں | 0 | 21-02-11 06:52 AM |
| Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ | Real_Light | شعبہ طب | 3 | 03-05-09 12:52 PM |
| سڈنی ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام،تاریخ بدلنے کے بھارتی کے بھارتی دعوے کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے | عبدالقدوس | کھیل اور کھلاڑی | 0 | 07-01-08 08:30 AM |
| واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 08:46 AM |
| جنرل پرویز ڈوبتی کشتی میں سوار ہیں، جسٹس وجیہہ | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 21-11-07 08:29 AM |